🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.84K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
diwali jo k hinduon ki eid hai uspar kuch hamare musalman bhayion ka mamool hai k wo kuch apne hindu classmates ko mubarak badi dete hain, aisa karna kaisa hai?

http://jamiaturraza.com/session/7Nov10/27.mp3
kuch log telephone operator ka kaam karte usme unhe festival k waqt Costomer ko Happy diwali , happy chritmas wagera kehna padhta hai agar koi ye kehna se inqaar kare tou company usko job se nikaal deti tou kya job bachane ki surat me aesa keh sakte hai?

http://jamiaturraza.com/session/7Nov10/29.mp3
What do the great scholars of Islam say regarding Muslims saying "Merry Christmas" or "Happy Diwali" to non-Muslims without taking part in any of their kufr activities. Is it permissible?
http://jamiaturraza.com/session/5Jan14/10.mp3
Mein ek ghair Muslim ki company mein mulazmat karta hoon. Diwali, Christmas wagherah par company ki taraf se Jo mithai wagherah milti hai, uske khane ke bare mein kya hukm hai. Agar khane ki ijazat nahin hai to us cheez ka kya Karen?
http://jamiaturraza.com/session/27Apr14/1.mp3
Diwali ki Mubarak badi kisi kafir ko dil me bura samjh kar dena kesa hai? sirf us say hikmatan dosti rakane ki waja say dil me tu bura janta hai.
http://jamiaturraza.com/session/14Dec14/2.mp3
*Silsilawar Post Radd E Qadyaniyat*

*Az Qalam*
Munazir E islam Mufti Sufi Kaleem Hanfi Razvi, *Qasre Abu Hanifah رضی اللہ تعالٰی عنہ* Kurla (W) Mumbai-400072 India.
📱 0091-9820672770

Mirzaiyon Par ALLAH Ki SAB Se Badi Maar Ye Hai Ki Unki Aadhi Umr Khud Ko Musalman Sabit Karne Me Guzar Jati Hai 😀

Aur AADHI Dusron Se Apne Ko Musalman Manwane Me 😀

Aur Hota Kya Hai
Na Khud Ko YAQEEN Hota Hai Na Dusron Ko Qa'il Kar Pate Hain. 😂

Aur Aakhri Me Mulhid (Atheist/La Deen) Ho Kar BATHROOM Me Mar Jate Hain. 🤑

🔹 *MSG FROM* 🔹
💎 *MISSION KHATME NABUWWAT FOUNDATION MUMBAI INDIA* 💎
1
جنید حسن:
http://waqfeya.com/book.php?bid=547


اس لنک پر تاریخ بغداد عربی ہے...
👆👆👆
سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی الله عنه
کا نعتیہ دیوان حدائقِ بخشش شریف
کا تُرکش Turkish میں ترجمہ ⬆️
🌹🌹 *احکام مسجد کا بیان* 🌹🌹**************************************
*حدیث* ۱ تا ۴: *بُخاری و مُسلِم و ابو داود وترمذی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’مرد کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ، گھر میں اور بازار میں پڑھنے پچیس درجے زائد ہے اور یہ یوں ہے کہ جب اچھی طرح وضو کر کے مسجد کے لیے نکلا تو جو قدم چلتا ہے اس سے درجہ بلند ہوتا ہے اور گناہ مٹتا ہے اور جب نماز پڑھتا ہے، تو ملائکہ برابر اس پر دُرود بھیجتے رہتے ہیں جب تک اپنے مصلّے پر ہے اور ہمیشہ نماز میں ہے جب تک نماز کا انتظار کر رہا ہے۔‘‘* ( ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ، الحدیث: ۶۴۷، ج۱، ص۲۳۳۔ و ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء في فضل المشي إلیٰ الصلاۃ، الحدیث: ۵۵۹، ج۱، ص۲۳۲)
امام احمد و ابو یعلیٰ وغیرہ کی روایت عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : *’’ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جب سے گھر سے نکلتا ہے واپسی تک نماز پڑھنے والوں میں لکھا جاتا ہے۔‘‘* (’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، مسند الشامیین، حدیث عقبۃ بن عامر الجہني، الحدیث: ۱۷۴۴۵، ج۶، ص۱۴۶) انھیں روایتوں کے قریب قریب ابن عمر و ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے بھی مروی ہے۔

*حدیث* ۵: نسائی نے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جو اچھی طرح وضو کر کے فرض نماز کو گیا اور مسجد میں نماز پڑھی، اس کی مغفرت ہو جائے گی۔‘‘ ( ’’سنن النسائي‘‘، کتاب الإمامۃ، باب حد إدراک الجماعۃ، الحدیث: ۸۵۳، ص۱۴۹)

*حدیث* ۶: مُسلِم وغیرہ نے روایت کی کہ جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ، مسجد نبوی کے گرد کچھ زمینیں خالی ہوئیں ، بنی سلمہ نے چاہا کہ مسجد کے قریب آجائیں ، یہ خبر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پہنچی، فرمایا: ’’مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب اٹھ آنا چاہتے ہو۔‘‘، عرض کی، یا رسول اﷲ (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! ہاں ارادہ تو ہے، فرمایا: ’’اے بنی سلمہ! اپنے گھروں ہی میں رہو، تمھارے قدم لکھے جائیں گے۔ دوباراس کو فرمایا، بنی سلمہ کہتے ہیں ، لہٰذا ہم کو گھر بدلنا پسند نہ آیا۔‘‘
( ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب المساجد۔۔۔ إلخ، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المسجد، الحدیث: ۲۸۰۔(۶۶۵)،۲۸۱۔(۶۶۵)، ص۳۳۵)

*حدیث* ۷: ابن ماجہ نے باسنا د جید روایت کی، کہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں : ’’انصار کے گھر مسجد سے دُور تھے، انہوں نے قریب آنا چاہا۔‘‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
{ وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْۣؕ}جو انہوں نے نیک کام آگے بھیجے، وُہ اور ان کے نشانِ قدم ہم لکھتے ہیں ۔
( ’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب المساجد۔۔۔ إلخ، باب الأبعد فالأ بعد من المسجد أعظم أجرا، الحدیث: ۷۸۵، ج۱، ص۴۳۲۔ پ۲۲، یٰسٓ: ۱۲)

*حدیث* ۸: بُخاری و مُسلِم نے ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’سب سے بڑھ کر نماز میں اس کا ثواب ہے، جو زیادہ دور سے چل کر آئے۔‘‘( ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب المساجد۔۔۔ إلخ، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المسجد، الحدیث: ۶۶۲، ص۳۳۴)

*حدیث* ۹: مُسلِم وغیرہ کی روایت ہے، ابی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : ’’ایک انصاری کا گھر مسجد سے سب سے زیادہ دُور تھا اور کوئی نماز ان کی خطا نہ ہوتی، ان سے کہا گیا، کاش! تم کوئی سواری خرید لو کہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آؤ، جواب دیا میں چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کو جانا اور پھر گھر کو واپس آنا لکھا جائے، اس پر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ (عزوجل) نے تجھے یہ سب جمع کر کے دے دیا۔‘‘
(’’صحیح مسلم‘‘، کتاب المساجد۔۔۔ إلخ، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المسجد، الحدیث: ۶۶۳، ص۳۳۴)

*حدیث* ۱۰: بزارو ابو یعلیٰ باسناد حسن حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’تکلیف میں پورا وضو کرنا اور مسجد کی طرف چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا، گناہوں کو اچھی طرح دھو دیتا ہے۔‘‘ ( ’’مسند البزار‘‘، مسند علي بن أبي طالب، الحدیث: ۵۲۸، ج۲، ص۱۶۱)

*حدیث* ۱۱: طبرانی ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’صبح و شام مسجد کو جانا از قسم جہاد فی سبیل اﷲ ہے۔‘‘( ’’المعجم الکبیر‘‘، ، الحدیث: ۷۷۳۹، ج۸، ص۱۷۷)

*حدیث* ۱۲: صحیحین وغیرہ میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جو مسجد کو صبح یا شام کو جائے، ﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں مہمانی طیار کرتا ہے، جتنی بار جائے۔‘‘( ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب المساجد
۔۔۔ إلخ، باب المشي إلی الصلاۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۶۶۹، ص۳۳۶)

*حدیث* ۱۳تا۲۳: ابو داود و ترمذی بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جو لوگ اندھیریوں میں مساجد کو جانے والے ہیں ، انھیں قیامت کے دن کامل نور کی خوشخبری سُنا دے۔‘‘( ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء في المشي إلی الصلاۃ في الظلم، الحدیث: ۵۶۱، ج۱، ص۲۳۲) اور اسی کے قریب قریب ابو ہریرہ و ابودرداء و ابو امامہ و سہل بن سعد ساعدی و ابن عباس و ابن عمر و ابی سعید خدری و زید بن حارثہ و ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے مروی۔

*حدیث* ۲۴: ابو داود و ابن حبان ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’تین شخص اﷲ عزوجل کی ضمان میں ہیں اگر زندہ رہیں ، تو روزی دے اور کفایت کرے، مر جائیں تو جنت میں داخل کرے، جو شخص گھر میں داخل ہو اور گھر والوں پر سلام کرے، وہ اﷲ کی ضمان میں ہے اور جو مسجد کو جائے اﷲ کی ضمان میں ہے اور جو اﷲ کی راہ میں نکلا وہ اﷲ کی ضمان میں ہے۔‘‘(’’الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان‘‘،کتاب البروالإحسان، باب إفشاء السلام۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۴۹۹، ج۱،ص۳۵۹۔ )

*حدیث* ۲۵: طبرانی کبیر میں باسناد جید اور بیہقی باسناد صحیح موقوفاً سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں : ’’جس نے گھر میں اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کو آیا وہ اﷲ کا زائر ہے اور جس کی زیارت کی جائے، اس پر حق ہے کہ زائر کا اکرام کرے۔‘‘( ’’المعجم الکبیر‘‘، باب السین، الحدیث: ۶۱۳۹، ج۶، ص۲۵۳)

*حدیث* ۲۶: ابن ماجہ ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ’’جو گھر سے نماز کو جائے اور یہ دُعا پڑھے: اَللّٰھُم َّ اِنِّی ا َسْئَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْکَ وَ بِحَقِّ مَمْشَایَ ھٰذَا فَاِنِّی لَمْ اَخْرُجْ اَشِرًا وَّلَا بَطِرًا وَّلَا رِیَاءً وَّلَا سُمْعَۃً وَّخَرَجْتُ اِ تِّقَاءَ سَخْطِکَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِکَ فَاَسْئَلُکَ اَنْ تُعِیْذَنِیْ مِنَ النَّارِ وَاَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہ‘ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ ۔ (اے اللہ (عزوجل) میں تُجھ سے سوال کرتا ہوں اس حق سے کہ تُو نے سوال کرنے والوں کا اپنے ذمہ کرم پر رکھا ہے اور اپنے اس چلنے کے حق سے کیونکہ میں تکبر و فخر کے طور پر گھر سے نہیں نکلا اور نہ دکھانے اور سنانے کے لیے نکلا میں تیری ناراضی سے بچنے اور تیری رضا کی طلب میں نکلا، لہٰذا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جہنم سے مجھے پناہ دے اور میرے گناہوں کو بخش دے تیرے سوا کوئی گناہوں کا بخشنے والا نہیں ۔ ۱۲)
اس کی طرف اﷲ عزوجل اپنے وجہہ کریم کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے اور ستّر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں ۔( ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب المساجد و الجماعت، باب المشي إلی الصلوٰۃ، الحدیث: ۷۷۸، ج۱، ص۴۲۸)

*حدیث* ۲۷تا۲۹: صحیح مُسلِم میں ابوا سید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : جب کوئی مسجد میں جائے، تو کہے۔
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ ۔ ( اے اللہ (عزوجل)! تو اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے۔ ۱۲)
اور جب نکلے تو کہے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ ۔
( ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب صلاۃ المسافرین ۔۔۔إلخ باب ما یقول إذا دخل المسجد، الحدیث: ۷۱۳، ص۳۵۹۔ اے اللہ (عزوجل) ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔ ۱۲)
اور ابو داود کی روایت عبداﷲ بن عمر و بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے ہے جب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مسجد میں جاتے، تو یہ کہتے:
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ بِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔
( پناہ مانگتا ہوں اللہ عظیم کی اور اس کے وجہ کریم کی اور سلطان قدیم کی، مردود شیطان سے۔ ۱۲ )
فرمایا: ’’جب اسے کہہ لے، تو شیطان کہتا ہے مجھ سے تمام دن محفوظ رہا۔‘‘(’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الصلاۃ، باب ما یقول الرجل عند دخولہ المسجد، الحدیث: ۴۶۶، ج۱، ص۱۹۹) اور ترمذی کی روایت حضرت فاطمہ زہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے ہے، جب مسجد میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) داخل ہوتے تو دُرود پڑھتے اور کہتے۔
رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ ۔
( اے پروردگار! تُو میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ ۱۲)
اور جب نکلتے تو دُرود پڑھتے اور کہتے۔
رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ ۔
( ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء ما یقول عند دخولہ المسجد، الحدیث: ۳۱۴، ج۱، ص۳۳۹۔ اے رب! تو میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل
کے دروازے میرے لیے کھول دے۔ ۱۲)
امام احمد و ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ جاتے اور نکلتے وقت بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ کہتے اس کے بعد وہ دُعا پڑھتے۔ ( ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب المساجد۔۔۔ إلخ، باب الدعاء عند دخول المسجد، الحدیث: ۷۷۱، ج۱، ص۴۲۵)

*حدیث* ۳۰تا۳۳: صحیح مُسلِم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’اﷲ عزوجل کو سب جگہ سے زیادہ محبوب مسجدیں ہیں اور سب سے زیادہ مبغوض بازار ہیں ۔‘‘ ( ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب المساجد۔۔۔ إلخ، باب فضل الجلوس في مصلاہ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۶۷۱، ص۳۳۷) اور اسی کے مثل جبیر بن مطعم و عبداﷲ بن عمر و انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے اور بعض روایت میں ہے کہ یہ قول اﷲ عزوجل کا ہے۔

*حدیث* ۳۴: بُخاری و مُسلِم وغیرہما اونھیں سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’سات شخص ہیں ، جن پر اﷲ عزوجل سایہ کرے گا، اس دن کہ اس کے سایہ کے سوا، کوئی سایہ نہیں ۔ (۱) امام عادل، (۲) اور وہ جوان جس کی نشوونما اﷲ عزوجل کی عبادت میں ہوئی، (۳) اور وہ شخص جس کا دل مسجد کو لگا ہوا ہے، (۴) اور وہ دو شخص کہ باہم اﷲ کے لیے دوستی رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوئے، اسی پر متفرق ہوئے، (۵) اور وہ شخص جسے کسی عورت صاحبِ منصب و جمال نے بلایا، اس نے کہہ دیا، میں اﷲ سے ڈرتا ہوں ، (۶) اور وہ شخص جس نے کچھ صدقہ کیا اور اسے اتنا چھپایا کہ بائیں کو خبر نہ ہوئی کہ دہنے نے کیا خرچ کیا اور (۷) وہ شخص جس نے تنہائی میں اﷲ کو یاد کیا اور آنکھوں سے آنسو بہے۔‘‘ (’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ بالیمین، الحدیث: ۱۴۲۳، ج۱، ص۴۸۰)

*حدیث* ۳۵: ترمذی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’تم جب کسی کو دیکھو کہ مسجد کا عادی ہے، تو اس کے ایمان کے گواہ ہو جاؤ۔‘‘ کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے: ’’مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں ، جو اﷲ اور پچھلے دن پر ایمان لائے۔‘‘ ( ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الإیمان، باب ماجاء في حرمۃ الصلوٰۃ، الحدیث: ۲۶۲۶، ج۴، ص۲۸۰) ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے اور حاکم نے کہا صحیح الاسنادہے۔

*حدیث* ۳۶: صحیحین میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’مسجد میں تھوکنا خطا ہے اور اس کا کفارہ زائل کر دینا ہے۔‘‘( ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الصلاۃ، باب کفارۃ البزاق في المسجد، الحدیث: ۴۱۵، ج۱، ص۱۶۰)

*حدیث* ۳۷: صحیح مُسلِم میں ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : کہ مجھ پر میری اُمت کے اعمال اچھے بُرے سب پیش کیے گئے، نیک کاموں میں اذیت کی چیز کا راستہ سے دُور کرنا پایا اور بُرے اعمال میں مسجد میں تھوک کہ زائل نہ کیا گیاہو۔‘‘(’’صحیح مسلم‘‘، کتاب المساجد۔۔۔ إلخ، باب النھی عن البصاق في المسجد۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۵۵۳، ص۲۷۹)

*حدیث* ۳۸و۳۹: ابو داود و ترـمذی و ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’مجھ پر اُمت کے ثواب پیش کیے گئے، یہاں تک کہ تنکا جو مسجد سے کوئی باہر کر دے اور گناہ پیش کیے گئے، تو اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی کو آیت یا سورت قرآن دی گئی اور اس نے بھلا دی۔‘‘ ( ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الصلوٰۃ، باب کنس المسجد، الحدیث: ۴۶۱، ج۱، ص۱۹۱) اور ابن ماجہ کی ایک روایت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جو مسجد سے اذیت کی چیز نکالے، اﷲ تعالیٰ اس کے لیے ایک گھر جنت میں بنائے گا۔‘‘ ( ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب المساجد۔۔۔ إلخ، باب تطھیر المساجد وتطیبھا، الحدیث: ۷۵۷، ج۱، ص۴۱۹)

*حدیث* ۴۰تا۴۲: ابن ماجہ و اثلہ بن اسقع سے اور طبرانی اون سے اور ابودرداء و ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’مساجد کو بچوں اور پاگلوں اور بیع و شرا اور جھگڑے اور آواز بلند کرنے اور حدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ۔‘‘ ( ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب المساجد۔۔۔ إلخ، باب مایکرہ في المساجد، الحدیث:۷۵۰، ج۱، ص۴۱۵)

*حدیث* ۴۳: ترمذی و دارمی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جب کسی کو مسجد میں خرید یا فروخت کرتے دیکھو، تو کہو: خدا تیری تجارت میں نفع نہ دے۔‘‘ ( ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب البیوع، باب النھی عن البیع في مسجد، الحدیث: ۱۳۲۵، ج۳، ص۵۹)

*حدیث* ۴۴: بیہقی شعب الایمان میں حسن بصری سے مرسلاً راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مساجد م
یں دنیا کی باتیں ہوں گی، تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو کہ خدا کو ان سے کچھ کام نہیں ۔‘‘ ( ’’شعب الإیمان‘‘، باب في الصلوٰت، فصل المشي إلی المساجد، الحدیث: ۲۹۶۲، ج۳، ص۸۶)

*حدیث* ۴۵: ابن خزیمہ ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ایک دن مسجد میں قبلہ کی طرف تھوک دیکھا، اسے صاف کیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہو کر کوئی شخص اس کے مونھ کی طرف تھوک دے۔‘‘ ( ’’المسند‘‘ للإمام احمد بن جنبل، مسند أبي سعید الخدري، الحدیث: ۱۱۱۸۵، ج۴، ص۴۸)

*حدیث* ۴۶و۴۷: ابو داود و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جو قبلہ کی جانب تھوکے، قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا تھوک، دونوں آنکھوں کے درمیان ہوگا۔‘‘( ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الأطعمۃ، باب في أکل الثوم، الحدیث: ۳۸۲۴، ج۳، ص۵۰۵ ، عن حذیفۃ رضی اللّٰہ عنہ) اور امام احمد کی روایت ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ فرمایا: ’’مسجد میں تھوکنا گناہ ہے۔‘‘ ( ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حدیث أبي امامۃ الباھلی، الحدیث: ۲۲۳۰۶، ج۸، ص۲۹۲)

*حدیث* ۴۸: صحیح بُخاری شریف میں ہے سائب بن یزید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں : میں مسجد میں سویا تھا، ایک شخص نے مجھ پر کنکری پھینکی دیکھا، تو امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں ، فرمایا: جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، میں ان دونوں کو حاضر لایا، فرمایا: تم کس قبیلہ کے ہو یا کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے عرض کی، ہم طائف کے رہنے والے ہیں ، فرمایا: ’’اگر تم اہلِ مدینہ سے ہوتے تو میں تمھیں سزا دیتا (کہ وہاں کے لوگ آداب سے واقف تھے) مسجد رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں آواز بلند کرتے ہو۔‘‘( ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الصلاۃ، باب رفع الصوت في المسجد، الحدیث: ۴۷۰، ج۱، ص۱۷۸۔ رواہ بلفظ ’’ کنت قائما ‘‘ وفي نسخۃ ’’ نائما ‘‘ (’’ ارشاد الساري ‘‘شرح ’’صحیح البخاري‘‘، ج۲، ص۱۴۸))
Like & Share👉 www.facebook.com/ilamedeenofficial
سلسلہ#05:
موضوع: "ختم نبوت اور ردقادیانیت" تمام کتب و رسائل مفت حاصل کرنے کیلئے سامنے دیئے گئے لنک پر کلک فرمائیں.
👇👇👇
🔰 آیات ختم نبوت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2678
🔰عقیدہ ختم نبوت دلائل و مسائل:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2674
🔰ختم نبوت پر چہل حدیث:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2646
🔰دشمن خدا کے ختم نبوت کا انکار پر خدائی جزاء:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2650
🔰منکرین ختم نبوت کا ردِ بلیغ:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2681
🔰ہفت روزہ رضوان کا ختم نبوت نمبر:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2649
🔰احادیث ختم نبوت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2652
🔰عقیدہ ختم نبوت 15 جلدوں میں:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2654
🔰مسئلہ ختم نبوت قرآن و سنت کی روشنی میں:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2670
🔰نظریہ ختم نبوت اور تخذیرالناس:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2676
🔰ختم نبوت اور ختم نبوت کوئز:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2684
🔰مرزا قادیانی کی کذب بیانی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2689
🔰مرزا قادیانی کی عبارات کفریہ کا ردِ بلیغ:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2694
🔰ردِ قادیانیت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2696
🔰قادیانیوں کا مسلمانوں سے کیا تعلق؟:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2698
🔰برصغیر کا مسیلمہ کذاب مرزاقادیانی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2700
🔰ردِ قادیانیت اور سنی صحافت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2702
🔰مقدمہ مرزائیہ بہاولپور تاریخی فیصلہ:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2707
🔰قادیانی مرتد پر قہرخداوندی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2710
🔰آئینہ مرزا نما:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2712
🔰لانبی بعدی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2714
🔰اربعین ختم نبوت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2584
🔰سیف چشتیائی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2287
🔰عقیدہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2568
🔰ختم نبوت سے متعلق عقیدے کی مضبوطی کیلئے تمام مستند کتب و رسائل کا مطالعہ فرمائیں اورثواب و اخلاص کی نیت سے پیغام کو عام کریں.
📚 *_برکاتی مشن لائبریری_* 📚
*_ اصول و ضوابط _*

1⃣ لہذا اس گروپ میں کوئی بھی مذہب باطلہ و عقائد باطلہ سے تعلق رکھنے والا شامل نہ ہو ۔نہ ہی اسے قطعی شامل کیا جائے گا
2⃣ ا گر کوئی بھی ایسا شخص گروپ میں نظر آ گیا جس کے دل میں مسلک اعلٰی حضرت کے بارے میں ذرہ برابر بھی حسد و بغض , اور دشمنی پاى جا رہی ہے تو اسے اہل گروپ کے سامنے شرمندہ کر کے گروپ سے خارج کر دیا جائے گا
3⃣ گروپ کا مقصد لوگوں تک اچھی کتابیں پہنچانا ہے۔ مثلاً دینی۔ فقہی۔ ملی۔ سماجی۔ معاشرى۔ استفادہ کے لئے حضور صلی ا للہ علیہ و سلم کی سنت و تعلیمات کے مطابق علم دین کو عام کرنا ۔
4⃣ یہ گروپ مسلک اعلٰی حضرت کا ناشر ہے ، اس میں تمام ممبران پر لازم و ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی ویڈیو، جاندار کی تصویر، ریکاڈر وغیرہ قطعی ارسال نہ کریں ہاں کوئی بہت ضروری پیغام ہو تو ایڈمن حضرات کی اجازت کے بعد بھیج سکتے ہیں, ،
5⃣ گروپ کے ممبران فقط ارسال کتب کے جواز رکھتے لہٰذا جس کسی کے پاس کوئی کتاب ہو وہ شخص ضرورت مند حاجت روائی کے لئے کتابیں ارسال کرسکتا ہے،
6⃣ گروپ میں آپسی بات چیت، تنز و مزاح ،مشربی ،ذاتی، و فروعی اختلافات پر گفتگو کرنا قطعی منع ہے نہ ماننے کی صورت میں فوراً گروپ سے خارج کر دیا جائے گا
7⃣ کتابوں کے علاوہ ہر قسم کا میسیج پیغام خواہ کتنا ہی ضروری اور اہم کیوں نہ ہو اس گروپ میں بھیجنا سخت منع ہے ،
8⃣ گروپ میں اکثریت علماء حضرات کی ہے لہذا علماء کے ادب رکھنا بیحد ضروری ہے ،
9⃣ گروپ سے متعلق گروپ کا نام پروفائل کی تصویر اور قوانین میں تبدیلی کرنے کا جواز محظ انتظامیہ رکھتے ہیں خلاف ورزی ہرگز برداشت نہ کی جائے گی ،
🔟 کسی کتاب کی ضرورت ہو تو تحریری پوست سے ایک بار بیان کریں بار بار تکرار نہ کریں اس لئے کتاب موجود نہ ہو نے کی صورت میں downlod net سے کرنا پڑتا ہے جس کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے کتاب کے مطالبہ سے پہلے بالا خانوں میں ضرور جانچ لیں طلب کردہ کتاب پہلے ارسال کی گئی ہے یا نہیں اوپری خانوں میں مطلوبہ کتاب دستیاب ہو مطالبہ ناجائز ورنہ حرج نہیں ،
1⃣1⃣ یہ گروپ خاص کر اردو داں حضرات کے لئے بنایا گیا ہے جن حضرات کو اردو نہیں آتی وہ اس میں شامل نہ ہوں ،
2⃣1⃣ مطالبہ کے بعد کتاب نہ ملنے پر ٢٤ کھنٹہ کے بعد ہی توجہ دلائیں ،
3⃣1⃣ ایک وقت میں ایک ہی کتاب طلب کریں ایک ساتھ چند کتابیں طلب کرنے کی صورت میں آپ کی فرمائش پوری نہیں بھی کی جاسکتی ہے لھذا اس بات کا خاص خیال رکھیں
*نوٹ* گروپ کا اصول توڑ نے پر بغیر خبردار کئے گروپ سے خارج کر دیا جائے گا دیگر ایڈ من حضرات کو بھی یہ حق ہے کہ جو گروپ اصول کے خلاف کام کرتا ہو اسے فوراً خارج فرما دیں ،
*_🔐 جمعة المباركة کو برکاتی مشن لائبریری مغلق یعنی بند رہتا ہے اس لئے کوئی بھی ممبر جمعہ کو کسی طرح کا میسج نہ بھیجیں شکریہ_*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹گروپ میں
امیدھے کی آپ س.پر.عمل.كرينگے

📚 📚📖📚 📖📚📙📘📕📒📙📚
گروپ ایڈمن *حافظ غلام مرتضیٰ رضوی برکاتی* 97477981556+ 📖📚📖📚📖📙📖📚📖📚📖📚📖📚📖
گروپ ایڈمن *مولانا بلال برکاتی* 📱📱97431418731+ 📚📙📘 📚📖📚📖📚📖📚
من جانب *برکاتی مشن لائبریری* سےاپنے احباب واقارب اور محبین ومتعلقین کو گروپ *برکاتی مشن لائبریری* سے جوڑ نے کے لئے مذکورہ بالا نمبروں پر رابطہ کریں

--------------------=======------------------
*منجانب*

*مرکزی ادارہ برکاتی مشن*

https://chat.whatsapp.com/HO7mc4eBicvC7dwUxiWjy7
Forwarded from Deleted Account
کیا مرید ہونا فرض ہے اگر اس پر کوئی کتاب ہو تو مہربانی کر کے جلدی سے بھیج دو بہت ضروری ہے
Forwarded from Deleted Account
اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب فتاویٰ رضویہ، جلد 12، فتاویٰ افریقہ میں سوال نمبر 83,84 ملاحظہ کیجیے.....اس سوال کا تسلی بخش تفصیلی جواب موجود ہے___
میں نے بہت پہلے اس پر ایک تحریر لکھی تھی , اگر مل گئی تو گروپ میں پوسٹ کر دوں گا____

مختصر میں چند باتیں عرض ہیں:

مرید ہونا فرض ہے نہ واجب بل کہ مستحب و مستحسن عمل ہے_

واضح رہے کہ "مٙن لا شیخہ فشیخہ الشیطٰن " اس قول سے مرید ہونے کو لازم قرار دینا غلط ہے کہ اس میں شیخ (پیر و مرشد) سے مراد شیخِ عام ہے خاص نہیں___
*شیخِ عام چار ہیں:*
کلامِ خدا
کلامِ مصطفیٰ
کلامِ ائمہ شریعت و طریقت
کلامِ علماے دین

عوام کا ہادی کلامِ علما, علما کا ہادی کلاِ ائمہ, ائمہ کا مرشد کلامِ رسول , رسول کا پیشوا کلام اللہ
فلاحِ ظاہر ہو خواہ فلاحِ باطن اسے اس مرشد سے چارہ نہیں جو اس سے جدا ہے بلا شبہ کافر ہے یا گم راہ اور اس کی عبادت برباد و تباہ (فتاویٰ افریقہ , ص: 146)

اور ہم جو کسی مخصوص شیخ سے مرید ہوتے ہیں یہ ہمارے شیخِ خاص ہیں عام نہیں
اگر کوئی جامع شرائط پیر مل جائے تو مرید ہو جانا بہتر ہے واجب و ضروری نہیں


اگر فتاویٰ رضویہ/ فتاویٰ افریقہ بر وقت موجود نہیں ہیں تو مولانا تطہیر احمد صاحب کی کتاب " عوامی غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح " دیکھ سکتے ہیں, اس میں بھی اس سوال کا جواب موجود ہے___

تحریر: __منظر محسن کان اللہ لہ