مطابق دوبارہ شائع کیا جائے نیز ایک ایسی ویب سائٹ کو بھی لانچ کیا جائے جہاں نہ صرف آپ کی تمام مطبوعہ کتب موجود ہوں بلکہ آپ کی شخصیت پر لکھی گئی کتب، رسائل و مقالات بھی دستیاب ہوں۔
علامہ فیض احمد اویسی نے خدمات اسلام سے پر زندگی گزارنے کے بعد 15 رمضان المبارک 1431ھ/ 26 اگست 2010ء کو انتقال فرمایا، مزار مبارک دارلعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں مرجع خلائق ہے۔
(فیض ملت ایک مثالی معلم، صفحہ9)
از قلم:-
ابو الابدال محمد رضوان طاہر فریدی
(فاضل جامعة المدینہ,فیضان مدینہ اوکاڑہ)
علامہ فیض احمد اویسی نے خدمات اسلام سے پر زندگی گزارنے کے بعد 15 رمضان المبارک 1431ھ/ 26 اگست 2010ء کو انتقال فرمایا، مزار مبارک دارلعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں مرجع خلائق ہے۔
(فیض ملت ایک مثالی معلم، صفحہ9)
از قلم:-
ابو الابدال محمد رضوان طاہر فریدی
(فاضل جامعة المدینہ,فیضان مدینہ اوکاڑہ)
حـجـۃ الاسـلام حـضـرت امـام غـزالـی رحـمـۃ اللہ عـلیـہ کـی شہرۂ آفـاق تصنیف احیـاء عـلـوم الـدین الـمعـروف احیـاء العـلوم کا ابـوصـالـح عـلامہ فـیـض احـمـد اویـسـی رضـوی مـحـدث بـہـاولـپـوری رحمۃ اللہ علیہ نے اردو میں ترجمہ فرمایا جو
’’انطاق المفھوم ترجمہ احیاءالعلوم‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں پہلی بار شبیر برادرز لاہور سے شائع ہوا، حضور فیض ملت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی جلد کے 688 صفحات میں تصوف کے حوالے سے ایک مقدمہ تحریر فرمایااور حضرت امام غزالی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر کئے گئے اعتراضات کےمدلل ومحقق جوابات تحریر فرمائے،
میرے پاکستان سُنّیِ بھائیوں کو یہ جان کر بڑی خوشی ہونگی کہ یہ ترجمہ انڈیا کے دو بڑے اداروں سے شائع ہوچکا ہے۔
پہلی مرتبہ ادبی دنیا دہلی سے چار جلدوں میں شائع ہوا تھا۔
اور الحمدللہ حال ہی میں دوسری مرتبہ انڈیا سے ’’الکبیر پبلیکشنز‘‘ کے تحت شائع ہوا ہے۔
ویسے ہمارے انڈیا سے حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین المعروف احیاء العلوم
کے اور دو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔
پہلا ترجمہ استاذ العلماء حضرت علامہ صدیق ہزاروی صاحب کا ترجمہ فاروقیہ بکڈپو دہلی سے شائع ہوا ہے۔
اور دوسرا دعوت اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ سے احیاء العلوم کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔
’’انطاق المفھوم ترجمہ احیاءالعلوم‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں پہلی بار شبیر برادرز لاہور سے شائع ہوا، حضور فیض ملت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی جلد کے 688 صفحات میں تصوف کے حوالے سے ایک مقدمہ تحریر فرمایااور حضرت امام غزالی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر کئے گئے اعتراضات کےمدلل ومحقق جوابات تحریر فرمائے،
میرے پاکستان سُنّیِ بھائیوں کو یہ جان کر بڑی خوشی ہونگی کہ یہ ترجمہ انڈیا کے دو بڑے اداروں سے شائع ہوچکا ہے۔
پہلی مرتبہ ادبی دنیا دہلی سے چار جلدوں میں شائع ہوا تھا۔
اور الحمدللہ حال ہی میں دوسری مرتبہ انڈیا سے ’’الکبیر پبلیکشنز‘‘ کے تحت شائع ہوا ہے۔
ویسے ہمارے انڈیا سے حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین المعروف احیاء العلوم
کے اور دو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔
پہلا ترجمہ استاذ العلماء حضرت علامہ صدیق ہزاروی صاحب کا ترجمہ فاروقیہ بکڈپو دہلی سے شائع ہوا ہے۔
اور دوسرا دعوت اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ سے احیاء العلوم کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔
حـجـۃ الاسـلام حـضـرت امـام غـزالـی رحـمـۃ اللہ عـلیـہ کـی شہرۂ آفـاق تصنیف احیـاء عـلـوم الـدین الـمعـروف احیـاء العـلوم کا ابـوصـالـح عـلامہ فـیـض احـمـد اویـسـی رضـوی مـحـدث بـہـاولـپـوری رحمۃ اللہ علیہ نے اردو میں ترجمہ فرمایا جو
’’انطاق المفھوم ترجمہ احیاءالعلوم‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں پہلی بار شبیر برادرز لاہور سے شائع ہوا، حضور فیض ملت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی جلد کے 688 صفحات میں تصوف کے حوالے سے ایک مقدمہ تحریر فرمایااور حضرت امام غزالی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر کئے گئے اعتراضات کےمدلل ومحقق جوابات تحریر فرمائے،
الحمدللہ حضور فیض ملت کا یہ ترجمہ ترجمہ انڈیا کے دو بڑے مکتب سے شائع ہوچکا ہے۔
پہلی مرتبہ ادبی دنیا دہلی سے چار جلدوں میں شائع ہوا تھا۔
اور الحمدللہ حال ہی میں دوسری مرتبہ انڈیا سے ’’الکبیر پبلیکشنز‘‘ کے تحت شائع ہوا ہے۔
اسکے علاوہ حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین المعروف احیاء العلوم
کے اور دو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔
پہلا ترجمہ استاذ العلماء حضرت علامہ صدیق ہزاروی صاحب کا ترجمہ فاروقیہ بکڈپو دہلی سے شائع ہوا ہے۔
اور دوسرا دعوت اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ سے احیاء العلوم کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔
’’انطاق المفھوم ترجمہ احیاءالعلوم‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں پہلی بار شبیر برادرز لاہور سے شائع ہوا، حضور فیض ملت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی جلد کے 688 صفحات میں تصوف کے حوالے سے ایک مقدمہ تحریر فرمایااور حضرت امام غزالی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر کئے گئے اعتراضات کےمدلل ومحقق جوابات تحریر فرمائے،
الحمدللہ حضور فیض ملت کا یہ ترجمہ ترجمہ انڈیا کے دو بڑے مکتب سے شائع ہوچکا ہے۔
پہلی مرتبہ ادبی دنیا دہلی سے چار جلدوں میں شائع ہوا تھا۔
اور الحمدللہ حال ہی میں دوسری مرتبہ انڈیا سے ’’الکبیر پبلیکشنز‘‘ کے تحت شائع ہوا ہے۔
اسکے علاوہ حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین المعروف احیاء العلوم
کے اور دو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔
پہلا ترجمہ استاذ العلماء حضرت علامہ صدیق ہزاروی صاحب کا ترجمہ فاروقیہ بکڈپو دہلی سے شائع ہوا ہے۔
اور دوسرا دعوت اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ سے احیاء العلوم کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM