پرواہ نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے عظمت مصطفی ﷺ میں ان کی ذات کیا حقیقت رکھتی ہے جو لوگ اہانت رسول ﷺ سے باز نہیں آتے ان سے وہ کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں تھے۔
(علامہ فیض احمد اویسی کی مذہبی اور تصنیفی خدمات ، صفحہ 27)
علامہ اویسی کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ تصانیف و تالیفات ہیں تدریس کے بعد یہی آپ کا محبوب مشغلہ تھا عالم دنیا میں ہم کسی دوسرے مصنف کو نہیں جانتے جس نے گوناں گو موضوعات پر پانچ ہزار سے زائد کتب کا ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہو، آپ نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ان کی تعداد چالیس سے زائد ہے
آپ سے جب سوال ہوا کہ اس قدر تیز رفتار علمی کام کا راز کیا ہے؟
تو ارشاد فرمایا ، فقیر نے بچپن سے اپنے اساتذہ کی نگرانی میں قلم کی تیز رفتاری سیکھی، سوائے حوائج ضروریہ اور مقاصد اصلیہ کے قلم چلتا ہی رہتا، سفر وحضر اور تنہائی و جلوت کی کوئی قید نہیں، بسوں، گاڑیوں، جہازوں کی سواری فقیر کے قلم کو نہیں روکتی صحت و عافیت کے ساتھ اولاد صالحہ سے نوازہ گیا ہوں، انہوں نے مجھے ہر کام سے فارغ البال رکھا ہوا ہے اسی لیے شب روز مشغلہ اپنے جوش و جوبن میں رہتا ہے۔
(علم کے موتی ، صفحہ 12)
آپ کی کتب صرف چھوٹے رسائل ہی نہیں بلکہ بعض ضخیم اور کئی کئی مجلدات پر مشتمل ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔
1۔ فیض القرآن فی ترجمۃ القرآن
2۔ فیوض الرحمن۔
علامہ اسماعیل حقی کی روح البیان کا ترجمہ،مطبوعہ ہے اور صفحات کی تعداد تقریبا دس ہزار ہے یہ ترجمہ آپ نے تقریبا 31 سال میں کیا جبکہ اس دوران بہت سی کتب و رسائل بھی تحریر کیئے
3۔ تفسیر اویسی، 15 مجلدات
4۔ فضل المنان فی تفسیر القرآن، 10 مجلدات
قرآن مجید کی یہ مکمل تفسیر عربی زبان میں ہے اس کے مختلف اجزاء مختلف جگہوں سے شائع ہوئے ہیں اور یہ بھی سننے میں آیا کہ اب یہ مکمل تفسیر بیروتی طرز پر دبئی سے طبع ہونے جا رہی ہے اللہ کرے یہ خبر درست ہو
5۔ فیض الرسول فی اسباب النزول، 10 مجلدات
6۔ الھلالین ترجمہ و شرح جلالین، 5 مجلدات
7۔ تفیسر بالرائے 3 مجلدات
8۔ احسن البیان فی اصول تفسیر القرآن ، 3 مجلدات
9۔ فیض القدیر فی اصول تفسیر
10۔ فیض القرآن فی تفسیر آیات القرآن
11۔ تاریخ تفسیر القرآن
12۔ الفیض الجاری شرح بخاری، مبطوعہ 10 مجلدات
13۔ انوار المغنی شرح سنن دار قطنی 10 مجلدات
14۔ شرح سنن دارمی، 8 مجلدات
15۔ شرح صحیح مسلم، 10 مجلدات
16۔ شرح جامع ترمذی، 5 مجلدات
17۔ الاحادیث السنیہ فی الفتاوی الرضویہ، 10 مجلدات
18۔ الاحادیث الموضوعۃ، 5 مجلدات
19۔ اللمعات شرح مشکوۃ، 4 مجلدات
20۔ تعلیقات علی المشکوۃ
21۔ شرح اربعین نووی
22۔ اصطلاحات علم الحدیث
23۔ اقسام الحدیث
24۔ فتاوی اویسیہ، 12 مجلدات
25۔ حاشیہ قدوری
26۔ شرح ہدایہ
27۔ شرح وقایہ
28۔ شرح اصول الشاشی
29۔ اصول فقہ
30۔ زینۃ القرطاس بالاجماع و القیاس
31۔ حقیقۃ الیاقوت شرح مسلم الثبوت
32۔ المیقاس فی ابحاث القیاس
33۔ سر المکتوم ترجمہ و شرح سلم العلوم
34۔ قواعد منطق
35۔ تعلیم المنطق
36۔ علم المناظرہ
37۔ شرح مناظرہ رشیدیہ
38۔ النجاح شرح مراح الارواح
39۔ نعم الحامی شرح شرح جامی
40۔ شرح کافیہ
41۔ فضائل میلاد النبی
42۔ تصانیف المیلاد
43۔ القول السداد فی بیان المیلاد
44۔ بارہ ربیع الاول کے جلوس کا ثبوت
45۔ انطاق المفہوم فی ترجمہ احیاء العلوم، 4 مجلدات
46۔ ترجمہ کیمائے سعادت
47۔ شرح حدائق بخشش، 25 مجلدات
48۔ ترجمہ و حاشیہ حلیۃ الاولیاء
49۔ احادیث تصوف
50۔ انوار مصطفی فی کرامات الاولیاء
51۔ تصوف اور اسلام
52۔ تصوف کی شرعی حثیت
53۔ بیعت کا جواز
54۔ تعارف سلاسل طریقت
55۔ صوفیاء کرام اور اشاعت اسلام
56۔ اصطلاحات تصوف
57۔ سلوک العارفین
58۔ القواعد الاویسیہ شرح عقائد نسفیہ
59۔ عقائد اسلامی
60۔ کشف الغمہ فی عقائد اہلسنہ
61۔ عنایۃ اللہ فی عقائد شاہ ولی اللہ
62۔ فیض اللغات
63۔ لغات القرآن
64۔ سائنس اور اسلام
65۔ قرآن اور سائنس
66۔ خاندانی منصوبہ بندی
67۔ گستاخ صحابہ کا انجام
68۔ کرامات صحابہ
69۔ صحابہ کرام اور علم غیب رسول ﷺ
70۔ فضائل نکاح
71۔ مناقب امام اعظم
72۔ امام اعظم اور علم الحدیث
73۔ امام احمد رضا اور علم الحدیث
74۔ مرزا قادیانی کے عقائد و اخلاق
75۔ آئینہ مرزا نما
76۔ امی، رد مودودی
77۔ اسلام اور عیسائیت کا موازنہ
78۔ ہمارے نبی ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں
79۔ تقابل ادیان
80۔ رد کیمونسٹ
علم کے موتی نامی کتاب میں آپ کی کتب کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے دے دی گئی ہے جہاں تفصیل دیکھی جا سکتی ہے آپ کی کتب کی اشاعت کے لیے کئی ادارے کام کر رہے ہیں جن کے تحت تقریبا پچیس سو سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں اس کے باوجود بھی ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جہاں پر آپ کی تمام چھوٹی بڑی کتب موجود ہوں اور اس کے تحت قلمی کتب کی بہرین انداز میں اشاعت ہو اور مطبوعہ کتب کو جدید طریقہ تحقیق کے
(علامہ فیض احمد اویسی کی مذہبی اور تصنیفی خدمات ، صفحہ 27)
علامہ اویسی کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ تصانیف و تالیفات ہیں تدریس کے بعد یہی آپ کا محبوب مشغلہ تھا عالم دنیا میں ہم کسی دوسرے مصنف کو نہیں جانتے جس نے گوناں گو موضوعات پر پانچ ہزار سے زائد کتب کا ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہو، آپ نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ان کی تعداد چالیس سے زائد ہے
آپ سے جب سوال ہوا کہ اس قدر تیز رفتار علمی کام کا راز کیا ہے؟
تو ارشاد فرمایا ، فقیر نے بچپن سے اپنے اساتذہ کی نگرانی میں قلم کی تیز رفتاری سیکھی، سوائے حوائج ضروریہ اور مقاصد اصلیہ کے قلم چلتا ہی رہتا، سفر وحضر اور تنہائی و جلوت کی کوئی قید نہیں، بسوں، گاڑیوں، جہازوں کی سواری فقیر کے قلم کو نہیں روکتی صحت و عافیت کے ساتھ اولاد صالحہ سے نوازہ گیا ہوں، انہوں نے مجھے ہر کام سے فارغ البال رکھا ہوا ہے اسی لیے شب روز مشغلہ اپنے جوش و جوبن میں رہتا ہے۔
(علم کے موتی ، صفحہ 12)
آپ کی کتب صرف چھوٹے رسائل ہی نہیں بلکہ بعض ضخیم اور کئی کئی مجلدات پر مشتمل ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔
1۔ فیض القرآن فی ترجمۃ القرآن
2۔ فیوض الرحمن۔
علامہ اسماعیل حقی کی روح البیان کا ترجمہ،مطبوعہ ہے اور صفحات کی تعداد تقریبا دس ہزار ہے یہ ترجمہ آپ نے تقریبا 31 سال میں کیا جبکہ اس دوران بہت سی کتب و رسائل بھی تحریر کیئے
3۔ تفسیر اویسی، 15 مجلدات
4۔ فضل المنان فی تفسیر القرآن، 10 مجلدات
قرآن مجید کی یہ مکمل تفسیر عربی زبان میں ہے اس کے مختلف اجزاء مختلف جگہوں سے شائع ہوئے ہیں اور یہ بھی سننے میں آیا کہ اب یہ مکمل تفسیر بیروتی طرز پر دبئی سے طبع ہونے جا رہی ہے اللہ کرے یہ خبر درست ہو
5۔ فیض الرسول فی اسباب النزول، 10 مجلدات
6۔ الھلالین ترجمہ و شرح جلالین، 5 مجلدات
7۔ تفیسر بالرائے 3 مجلدات
8۔ احسن البیان فی اصول تفسیر القرآن ، 3 مجلدات
9۔ فیض القدیر فی اصول تفسیر
10۔ فیض القرآن فی تفسیر آیات القرآن
11۔ تاریخ تفسیر القرآن
12۔ الفیض الجاری شرح بخاری، مبطوعہ 10 مجلدات
13۔ انوار المغنی شرح سنن دار قطنی 10 مجلدات
14۔ شرح سنن دارمی، 8 مجلدات
15۔ شرح صحیح مسلم، 10 مجلدات
16۔ شرح جامع ترمذی، 5 مجلدات
17۔ الاحادیث السنیہ فی الفتاوی الرضویہ، 10 مجلدات
18۔ الاحادیث الموضوعۃ، 5 مجلدات
19۔ اللمعات شرح مشکوۃ، 4 مجلدات
20۔ تعلیقات علی المشکوۃ
21۔ شرح اربعین نووی
22۔ اصطلاحات علم الحدیث
23۔ اقسام الحدیث
24۔ فتاوی اویسیہ، 12 مجلدات
25۔ حاشیہ قدوری
26۔ شرح ہدایہ
27۔ شرح وقایہ
28۔ شرح اصول الشاشی
29۔ اصول فقہ
30۔ زینۃ القرطاس بالاجماع و القیاس
31۔ حقیقۃ الیاقوت شرح مسلم الثبوت
32۔ المیقاس فی ابحاث القیاس
33۔ سر المکتوم ترجمہ و شرح سلم العلوم
34۔ قواعد منطق
35۔ تعلیم المنطق
36۔ علم المناظرہ
37۔ شرح مناظرہ رشیدیہ
38۔ النجاح شرح مراح الارواح
39۔ نعم الحامی شرح شرح جامی
40۔ شرح کافیہ
41۔ فضائل میلاد النبی
42۔ تصانیف المیلاد
43۔ القول السداد فی بیان المیلاد
44۔ بارہ ربیع الاول کے جلوس کا ثبوت
45۔ انطاق المفہوم فی ترجمہ احیاء العلوم، 4 مجلدات
46۔ ترجمہ کیمائے سعادت
47۔ شرح حدائق بخشش، 25 مجلدات
48۔ ترجمہ و حاشیہ حلیۃ الاولیاء
49۔ احادیث تصوف
50۔ انوار مصطفی فی کرامات الاولیاء
51۔ تصوف اور اسلام
52۔ تصوف کی شرعی حثیت
53۔ بیعت کا جواز
54۔ تعارف سلاسل طریقت
55۔ صوفیاء کرام اور اشاعت اسلام
56۔ اصطلاحات تصوف
57۔ سلوک العارفین
58۔ القواعد الاویسیہ شرح عقائد نسفیہ
59۔ عقائد اسلامی
60۔ کشف الغمہ فی عقائد اہلسنہ
61۔ عنایۃ اللہ فی عقائد شاہ ولی اللہ
62۔ فیض اللغات
63۔ لغات القرآن
64۔ سائنس اور اسلام
65۔ قرآن اور سائنس
66۔ خاندانی منصوبہ بندی
67۔ گستاخ صحابہ کا انجام
68۔ کرامات صحابہ
69۔ صحابہ کرام اور علم غیب رسول ﷺ
70۔ فضائل نکاح
71۔ مناقب امام اعظم
72۔ امام اعظم اور علم الحدیث
73۔ امام احمد رضا اور علم الحدیث
74۔ مرزا قادیانی کے عقائد و اخلاق
75۔ آئینہ مرزا نما
76۔ امی، رد مودودی
77۔ اسلام اور عیسائیت کا موازنہ
78۔ ہمارے نبی ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں
79۔ تقابل ادیان
80۔ رد کیمونسٹ
علم کے موتی نامی کتاب میں آپ کی کتب کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے دے دی گئی ہے جہاں تفصیل دیکھی جا سکتی ہے آپ کی کتب کی اشاعت کے لیے کئی ادارے کام کر رہے ہیں جن کے تحت تقریبا پچیس سو سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں اس کے باوجود بھی ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جہاں پر آپ کی تمام چھوٹی بڑی کتب موجود ہوں اور اس کے تحت قلمی کتب کی بہرین انداز میں اشاعت ہو اور مطبوعہ کتب کو جدید طریقہ تحقیق کے
👍1
مطابق دوبارہ شائع کیا جائے نیز ایک ایسی ویب سائٹ کو بھی لانچ کیا جائے جہاں نہ صرف آپ کی تمام مطبوعہ کتب موجود ہوں بلکہ آپ کی شخصیت پر لکھی گئی کتب، رسائل و مقالات بھی دستیاب ہوں۔
علامہ فیض احمد اویسی نے خدمات اسلام سے پر زندگی گزارنے کے بعد 15 رمضان المبارک 1431ھ/ 26 اگست 2010ء کو انتقال فرمایا، مزار مبارک دارلعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں مرجع خلائق ہے۔
(فیض ملت ایک مثالی معلم، صفحہ9)
از قلم:-
ابو الابدال محمد رضوان طاہر فریدی
(فاضل جامعة المدینہ,فیضان مدینہ اوکاڑہ)
علامہ فیض احمد اویسی نے خدمات اسلام سے پر زندگی گزارنے کے بعد 15 رمضان المبارک 1431ھ/ 26 اگست 2010ء کو انتقال فرمایا، مزار مبارک دارلعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں مرجع خلائق ہے۔
(فیض ملت ایک مثالی معلم، صفحہ9)
از قلم:-
ابو الابدال محمد رضوان طاہر فریدی
(فاضل جامعة المدینہ,فیضان مدینہ اوکاڑہ)
حـجـۃ الاسـلام حـضـرت امـام غـزالـی رحـمـۃ اللہ عـلیـہ کـی شہرۂ آفـاق تصنیف احیـاء عـلـوم الـدین الـمعـروف احیـاء العـلوم کا ابـوصـالـح عـلامہ فـیـض احـمـد اویـسـی رضـوی مـحـدث بـہـاولـپـوری رحمۃ اللہ علیہ نے اردو میں ترجمہ فرمایا جو
’’انطاق المفھوم ترجمہ احیاءالعلوم‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں پہلی بار شبیر برادرز لاہور سے شائع ہوا، حضور فیض ملت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی جلد کے 688 صفحات میں تصوف کے حوالے سے ایک مقدمہ تحریر فرمایااور حضرت امام غزالی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر کئے گئے اعتراضات کےمدلل ومحقق جوابات تحریر فرمائے،
میرے پاکستان سُنّیِ بھائیوں کو یہ جان کر بڑی خوشی ہونگی کہ یہ ترجمہ انڈیا کے دو بڑے اداروں سے شائع ہوچکا ہے۔
پہلی مرتبہ ادبی دنیا دہلی سے چار جلدوں میں شائع ہوا تھا۔
اور الحمدللہ حال ہی میں دوسری مرتبہ انڈیا سے ’’الکبیر پبلیکشنز‘‘ کے تحت شائع ہوا ہے۔
ویسے ہمارے انڈیا سے حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین المعروف احیاء العلوم
کے اور دو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔
پہلا ترجمہ استاذ العلماء حضرت علامہ صدیق ہزاروی صاحب کا ترجمہ فاروقیہ بکڈپو دہلی سے شائع ہوا ہے۔
اور دوسرا دعوت اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ سے احیاء العلوم کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔
’’انطاق المفھوم ترجمہ احیاءالعلوم‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں پہلی بار شبیر برادرز لاہور سے شائع ہوا، حضور فیض ملت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی جلد کے 688 صفحات میں تصوف کے حوالے سے ایک مقدمہ تحریر فرمایااور حضرت امام غزالی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر کئے گئے اعتراضات کےمدلل ومحقق جوابات تحریر فرمائے،
میرے پاکستان سُنّیِ بھائیوں کو یہ جان کر بڑی خوشی ہونگی کہ یہ ترجمہ انڈیا کے دو بڑے اداروں سے شائع ہوچکا ہے۔
پہلی مرتبہ ادبی دنیا دہلی سے چار جلدوں میں شائع ہوا تھا۔
اور الحمدللہ حال ہی میں دوسری مرتبہ انڈیا سے ’’الکبیر پبلیکشنز‘‘ کے تحت شائع ہوا ہے۔
ویسے ہمارے انڈیا سے حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین المعروف احیاء العلوم
کے اور دو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔
پہلا ترجمہ استاذ العلماء حضرت علامہ صدیق ہزاروی صاحب کا ترجمہ فاروقیہ بکڈپو دہلی سے شائع ہوا ہے۔
اور دوسرا دعوت اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ سے احیاء العلوم کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔
حـجـۃ الاسـلام حـضـرت امـام غـزالـی رحـمـۃ اللہ عـلیـہ کـی شہرۂ آفـاق تصنیف احیـاء عـلـوم الـدین الـمعـروف احیـاء العـلوم کا ابـوصـالـح عـلامہ فـیـض احـمـد اویـسـی رضـوی مـحـدث بـہـاولـپـوری رحمۃ اللہ علیہ نے اردو میں ترجمہ فرمایا جو
’’انطاق المفھوم ترجمہ احیاءالعلوم‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں پہلی بار شبیر برادرز لاہور سے شائع ہوا، حضور فیض ملت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی جلد کے 688 صفحات میں تصوف کے حوالے سے ایک مقدمہ تحریر فرمایااور حضرت امام غزالی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر کئے گئے اعتراضات کےمدلل ومحقق جوابات تحریر فرمائے،
الحمدللہ حضور فیض ملت کا یہ ترجمہ ترجمہ انڈیا کے دو بڑے مکتب سے شائع ہوچکا ہے۔
پہلی مرتبہ ادبی دنیا دہلی سے چار جلدوں میں شائع ہوا تھا۔
اور الحمدللہ حال ہی میں دوسری مرتبہ انڈیا سے ’’الکبیر پبلیکشنز‘‘ کے تحت شائع ہوا ہے۔
اسکے علاوہ حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین المعروف احیاء العلوم
کے اور دو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔
پہلا ترجمہ استاذ العلماء حضرت علامہ صدیق ہزاروی صاحب کا ترجمہ فاروقیہ بکڈپو دہلی سے شائع ہوا ہے۔
اور دوسرا دعوت اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ سے احیاء العلوم کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔
’’انطاق المفھوم ترجمہ احیاءالعلوم‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں پہلی بار شبیر برادرز لاہور سے شائع ہوا، حضور فیض ملت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی جلد کے 688 صفحات میں تصوف کے حوالے سے ایک مقدمہ تحریر فرمایااور حضرت امام غزالی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر کئے گئے اعتراضات کےمدلل ومحقق جوابات تحریر فرمائے،
الحمدللہ حضور فیض ملت کا یہ ترجمہ ترجمہ انڈیا کے دو بڑے مکتب سے شائع ہوچکا ہے۔
پہلی مرتبہ ادبی دنیا دہلی سے چار جلدوں میں شائع ہوا تھا۔
اور الحمدللہ حال ہی میں دوسری مرتبہ انڈیا سے ’’الکبیر پبلیکشنز‘‘ کے تحت شائع ہوا ہے۔
اسکے علاوہ حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین المعروف احیاء العلوم
کے اور دو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔
پہلا ترجمہ استاذ العلماء حضرت علامہ صدیق ہزاروی صاحب کا ترجمہ فاروقیہ بکڈپو دہلی سے شائع ہوا ہے۔
اور دوسرا دعوت اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ سے احیاء العلوم کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM