Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
فلاح دارین کا مبارک و مسعود موسم!
*رمضان المبارک*
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/186860093269186/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
ماہِ صیام رمضان المبارک کی بہاریں جلوہ نما ہیں۔ بلکہ پہلا عشرہ برکتوں کی صبح طلوع کر گیا- ہر سال یہ موسمِ بہار آتا ہے۔ اپنی برکتیں لُٹاتا ہے۔ سعادتوں کے توشے بٹتے ہیں۔ رحمتوں کی بادِ بہاری چلتی ہے۔ برکتوں سے دامنِ مراد بھر بھر دیے جاتے ہیں۔ اِس کی ہر ساعت افضل، ہر لمحہ قیمتی، ہر گھڑی نور نور۔ ایسے ماہِ مبارک کو غنیمت جانتے ہوئے اس کی عطا پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ اس کے حقوق کی ادائیگی کو وطیرہ بنائیں۔ اس ضمن میں چند نکات درج کیے جاتے ہیں جن پر عمل آوری سے ہم دارین کی سعادتیں پا سکتے ہیں، آخرت کو سنوار سکتے ہیں؛ اور عروج و بلندی کی منزلیں پا سکتے ہیں۔
[۱] اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کی نعمتوں سے نوازا۔ ان میں ایک عظیم نعمت ماہِ رمضان ہے۔ اس لیے اس کے ادب و احترام میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔ ادب سے زندگی کا وقار ہے۔ ادب سے خوش عقیدگی کی بہار ہے۔ ادب ہی شرف و فضل کے مقامِ بلند پر فائز کرتا ہے۔ اس لیے رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے سرفرازی کے لیے اکرام و احترام کا مظاہرہ کیجیے۔
[۲]تقویٰ کی راہ اپنائیے۔ ماہِ رمضان کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کو تقویٰ کا جوہر عطاہو۔ روزہ تقوے والی زندگی کی تربیت کرتا ہے۔ روزہ باطنی تطہیر کا سامان مہیا کرتا ہے۔ روزہ تزکیۂ روح، اصلاحِ قلب، تعمیرِ فکر کے ذریعے متقی بناتا ہے۔ اس لیے رمضان کا حق یہ ہے کہ اس سے تقویٰ کی فکر بیدار کی جائے۔
[۳]تزکیۂ نفس کا مرحلۂ شوق ہے رمضان المبارک۔ نفس- گناہوں کی عادت سے بڑا سخت ہوجاتا ہے، معاذاللہ! نیکیوں سے رغبت نہیں رہتی۔ روزہ روح کا علاج اور نفس کا محاسبا کرتا ہے؛ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎
اللہ اللہ کے نبی سے
فریاد ہے نفس کی بدی سے
دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی
لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے
اعلیٰ حضرت نے ان اشعار میں جو معروضہ پیش کیا ہے وہ احتسابِ نفس سے متعلق ہے۔دُنیا میں رہ کر دُنیا کی رنگینی اور شرارتِ نفس سے بچ جانا یقیناً مقبولیت کی دلیل ہے۔ بندۂ مومن کے لیے ماہِ رمضان اصلاح کا پروانہ ہے؛ جس میں باطنی تربیت سے اصلاحِ نفس کا مرحلۂ شوق طے ہوتا ہے۔اور کامیابی کی منزل ملتی ہے۔ بس دُعا یہی ہے کہ مولیٰ تعالیٰ نفس کی شرارتوں سے ہمیں محفوظ رکھے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
[۴]زکوٰۃ کا نظام معاشی اعتبار سے بہت جامع ہے۔ اس سے جہاں گداگری پر قابو پایا جا سکتا ہے؛ وہیں مفلسی کے شکار مسلمانوں کی داد رَسی بھی کی جا سکتی ہے۔ معاشرے کے دَبے کچلے افراد کے لیے زکوٰۃ ایک ایسا سہارا ہے جس کے ذریعے خود کفیل زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ ماہِ صیام میں ثواب کی زیادتی کی وجہ سے بڑی تعداد میں مسلمان زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ حالاں کہ اصولاً مالکِ نصاب پر نصاب کی مدت جب بھی پوری ہو زکوٰۃ نکالنی ضروری ہے۔ جن کے یہاں زکوٰۃ ماہِ صیام میں ہی نکالنے کی روایت ہے انھیں چاہیے کہ مستحقین کا جائزہ لے لیں۔ بڑی تعداد ان افراد کی بھی ہوتی ہے جو اہل ہوتے ہوئے بھی سوال نہیں کرتے اور صبر اختیار کر کے اپنی حاجت چھپاتے ہیں۔ ایسے افراد تک بھی مدَد پہنچائی جائے۔ زکوٰۃ دینے کا عمل احسان کی بجائے رضاے الٰہی کی خاطر انجام پذیر ہو۔زکوٰۃ کے اہل غیر اقامتی تعلیمی اداروں کے مقابل اقامتی مدارس کو ترجیح دی جائے۔ مفلوک الحال رشتہ داروں، متعلقین کا خاص خیال رکھا جائے۔
[۵] اللہ تعالیٰ ماہِ صیام میں رزق میں خاص برکت نازل فرماتا ہے۔ دستر خوان کشادہ ہو جاتا ہے۔ انواع و اقسام کی نعمتیں زینت بنتی ہیں۔ ان نعمتوں میں غربا و مساکین کو بھی عز و وقار کے ساتھ شامل کریں۔ جو انواع واقسام کے کھانوں سے محروم ہیں انھیں بھی حق دار سمجھتے ہوئے لذتِ کام و دہن کا موقع مہیا کریں۔
[٦]معاشرے میں ایسے افراد تلاش کریں جو بیمار ہوں یا ضعیف وناتواں و حق دار؛ ان کے علاج کے کفیل بنیں- ان کے لیے دوا کا نظم کریں۔ ویسے بھی بیماری میں مبتلا انسان یاسیت کا شکار ہوتا ہے؛ اگر ایسوں کو سہارا دے دیا جائے تو گویا- ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا۔
[۷]رمضان المبارک میں نمازوں کی پابندی بھی خوب ہوتی ہے، اسے پورے سال بلکہ ساری زندگی برقرار رکھنے کے لیے عزم کریں!
[۸]ہم نمازوں سے بڑی کوتاہی کرتے ہیں، اس لیے حساب لگائیں تو یقیناً قضا نمازیں ذمہ آئیں گی۔الا ماشاء اللہ۔ اس لیے شبِ رمضان میں قضا نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام بھی کریں۔ کوشش کریں کہ جو نمازیں باقی ہوں وہ جلد از جلد ادا ہو جائیں؛ آئندہ ہر نماز وقت پر باجماعت صحیح صحیح فکر کے حامل امام کی اقتدا میں ادا کریں۔
[۹]اوقاتِ سحر و افطار میں احتیاط سے کام لیں۔ بعض کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اذانِ فجر تک وقتِ سحر رہتا ہے یہ غلط ہے۔ اذانِ فجر نماز کے لیے ہے نہ کہ ختمِ سحر کے لیے۔
[۱۰] تراویح بڑی بابرکت نماز ہے۔ اس سے کوتاہی نہ کریں۔ آج یہ بہانہ تراش لیا گیا
*رمضان المبارک*
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/186860093269186/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
ماہِ صیام رمضان المبارک کی بہاریں جلوہ نما ہیں۔ بلکہ پہلا عشرہ برکتوں کی صبح طلوع کر گیا- ہر سال یہ موسمِ بہار آتا ہے۔ اپنی برکتیں لُٹاتا ہے۔ سعادتوں کے توشے بٹتے ہیں۔ رحمتوں کی بادِ بہاری چلتی ہے۔ برکتوں سے دامنِ مراد بھر بھر دیے جاتے ہیں۔ اِس کی ہر ساعت افضل، ہر لمحہ قیمتی، ہر گھڑی نور نور۔ ایسے ماہِ مبارک کو غنیمت جانتے ہوئے اس کی عطا پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ اس کے حقوق کی ادائیگی کو وطیرہ بنائیں۔ اس ضمن میں چند نکات درج کیے جاتے ہیں جن پر عمل آوری سے ہم دارین کی سعادتیں پا سکتے ہیں، آخرت کو سنوار سکتے ہیں؛ اور عروج و بلندی کی منزلیں پا سکتے ہیں۔
[۱] اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کی نعمتوں سے نوازا۔ ان میں ایک عظیم نعمت ماہِ رمضان ہے۔ اس لیے اس کے ادب و احترام میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔ ادب سے زندگی کا وقار ہے۔ ادب سے خوش عقیدگی کی بہار ہے۔ ادب ہی شرف و فضل کے مقامِ بلند پر فائز کرتا ہے۔ اس لیے رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے سرفرازی کے لیے اکرام و احترام کا مظاہرہ کیجیے۔
[۲]تقویٰ کی راہ اپنائیے۔ ماہِ رمضان کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کو تقویٰ کا جوہر عطاہو۔ روزہ تقوے والی زندگی کی تربیت کرتا ہے۔ روزہ باطنی تطہیر کا سامان مہیا کرتا ہے۔ روزہ تزکیۂ روح، اصلاحِ قلب، تعمیرِ فکر کے ذریعے متقی بناتا ہے۔ اس لیے رمضان کا حق یہ ہے کہ اس سے تقویٰ کی فکر بیدار کی جائے۔
[۳]تزکیۂ نفس کا مرحلۂ شوق ہے رمضان المبارک۔ نفس- گناہوں کی عادت سے بڑا سخت ہوجاتا ہے، معاذاللہ! نیکیوں سے رغبت نہیں رہتی۔ روزہ روح کا علاج اور نفس کا محاسبا کرتا ہے؛ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎
اللہ اللہ کے نبی سے
فریاد ہے نفس کی بدی سے
دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی
لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے
اعلیٰ حضرت نے ان اشعار میں جو معروضہ پیش کیا ہے وہ احتسابِ نفس سے متعلق ہے۔دُنیا میں رہ کر دُنیا کی رنگینی اور شرارتِ نفس سے بچ جانا یقیناً مقبولیت کی دلیل ہے۔ بندۂ مومن کے لیے ماہِ رمضان اصلاح کا پروانہ ہے؛ جس میں باطنی تربیت سے اصلاحِ نفس کا مرحلۂ شوق طے ہوتا ہے۔اور کامیابی کی منزل ملتی ہے۔ بس دُعا یہی ہے کہ مولیٰ تعالیٰ نفس کی شرارتوں سے ہمیں محفوظ رکھے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
[۴]زکوٰۃ کا نظام معاشی اعتبار سے بہت جامع ہے۔ اس سے جہاں گداگری پر قابو پایا جا سکتا ہے؛ وہیں مفلسی کے شکار مسلمانوں کی داد رَسی بھی کی جا سکتی ہے۔ معاشرے کے دَبے کچلے افراد کے لیے زکوٰۃ ایک ایسا سہارا ہے جس کے ذریعے خود کفیل زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ ماہِ صیام میں ثواب کی زیادتی کی وجہ سے بڑی تعداد میں مسلمان زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ حالاں کہ اصولاً مالکِ نصاب پر نصاب کی مدت جب بھی پوری ہو زکوٰۃ نکالنی ضروری ہے۔ جن کے یہاں زکوٰۃ ماہِ صیام میں ہی نکالنے کی روایت ہے انھیں چاہیے کہ مستحقین کا جائزہ لے لیں۔ بڑی تعداد ان افراد کی بھی ہوتی ہے جو اہل ہوتے ہوئے بھی سوال نہیں کرتے اور صبر اختیار کر کے اپنی حاجت چھپاتے ہیں۔ ایسے افراد تک بھی مدَد پہنچائی جائے۔ زکوٰۃ دینے کا عمل احسان کی بجائے رضاے الٰہی کی خاطر انجام پذیر ہو۔زکوٰۃ کے اہل غیر اقامتی تعلیمی اداروں کے مقابل اقامتی مدارس کو ترجیح دی جائے۔ مفلوک الحال رشتہ داروں، متعلقین کا خاص خیال رکھا جائے۔
[۵] اللہ تعالیٰ ماہِ صیام میں رزق میں خاص برکت نازل فرماتا ہے۔ دستر خوان کشادہ ہو جاتا ہے۔ انواع و اقسام کی نعمتیں زینت بنتی ہیں۔ ان نعمتوں میں غربا و مساکین کو بھی عز و وقار کے ساتھ شامل کریں۔ جو انواع واقسام کے کھانوں سے محروم ہیں انھیں بھی حق دار سمجھتے ہوئے لذتِ کام و دہن کا موقع مہیا کریں۔
[٦]معاشرے میں ایسے افراد تلاش کریں جو بیمار ہوں یا ضعیف وناتواں و حق دار؛ ان کے علاج کے کفیل بنیں- ان کے لیے دوا کا نظم کریں۔ ویسے بھی بیماری میں مبتلا انسان یاسیت کا شکار ہوتا ہے؛ اگر ایسوں کو سہارا دے دیا جائے تو گویا- ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا۔
[۷]رمضان المبارک میں نمازوں کی پابندی بھی خوب ہوتی ہے، اسے پورے سال بلکہ ساری زندگی برقرار رکھنے کے لیے عزم کریں!
[۸]ہم نمازوں سے بڑی کوتاہی کرتے ہیں، اس لیے حساب لگائیں تو یقیناً قضا نمازیں ذمہ آئیں گی۔الا ماشاء اللہ۔ اس لیے شبِ رمضان میں قضا نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام بھی کریں۔ کوشش کریں کہ جو نمازیں باقی ہوں وہ جلد از جلد ادا ہو جائیں؛ آئندہ ہر نماز وقت پر باجماعت صحیح صحیح فکر کے حامل امام کی اقتدا میں ادا کریں۔
[۹]اوقاتِ سحر و افطار میں احتیاط سے کام لیں۔ بعض کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اذانِ فجر تک وقتِ سحر رہتا ہے یہ غلط ہے۔ اذانِ فجر نماز کے لیے ہے نہ کہ ختمِ سحر کے لیے۔
[۱۰] تراویح بڑی بابرکت نماز ہے۔ اس سے کوتاہی نہ کریں۔ آج یہ بہانہ تراش لیا گیا
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ہے کہ ٦؍دن یا ۱۰؍ دن یا شبینہ پڑھ لیں تو بری الذمہ ہوجائیں؛ جب کہ رمضان کی ہر شب میں ۲۰؍رکعت تراویح کی نماز سنتِ مؤکدہ ہے جس کی پاسداری بہر حال ضروری ہے۔
[۱۱]حقوق العباد کی ادائیگی بھی کریں۔ ورنہ ہم عبادتوں کے پابند تو کہلوا لیں گے؛ لیکن حقوق ذمہ باقی ہوں گے تو آخرت میں مواخذہ ہوگا۔
[۱۲]روزہ میں صبر کا مظاہرہ کریں، غصہ سے روزے کا فیض کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ دوسروں پر روزے کا اثر ظاہر کرنے کی بجائے نارمل سلوک کریں تا کہ آپ کے صبر کا اظہار بھی ہو اور روزے کے برکات بھی حاصل ہوں۔
اللہ کریم عملِ صالح کی توفیق دے۔ اپنی اور اپنے پیارے محبوب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا و خوش نودی والی زندگی عطا فرمائے۔آمین بجاہ سیدالمرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم۔
٭٭٭
[۱۱]حقوق العباد کی ادائیگی بھی کریں۔ ورنہ ہم عبادتوں کے پابند تو کہلوا لیں گے؛ لیکن حقوق ذمہ باقی ہوں گے تو آخرت میں مواخذہ ہوگا۔
[۱۲]روزہ میں صبر کا مظاہرہ کریں، غصہ سے روزے کا فیض کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ دوسروں پر روزے کا اثر ظاہر کرنے کی بجائے نارمل سلوک کریں تا کہ آپ کے صبر کا اظہار بھی ہو اور روزے کے برکات بھی حاصل ہوں۔
اللہ کریم عملِ صالح کی توفیق دے۔ اپنی اور اپنے پیارے محبوب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا و خوش نودی والی زندگی عطا فرمائے۔آمین بجاہ سیدالمرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم۔
٭٭٭
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*اللہ دیکھ رہا ہے…!*
_{خشیتِ الٰہی کا دل کش نظارہ}_
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/183507906937738/
گرمی کے ایام ہیں... سورج غروب ہو چکا ہے... شام کی تیرگی چھا گئی ہے... افق پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں… اچانک فضا میں ارتعاش پیدا ہوا... پوری فضا پاکیزہ ہو اُٹھی… ایک صدا اُبھری… رمضان کا چاند نظر آگیا! مسرتوں کے دیپ جل اُٹھے... مسجدوں میں نئی رونق... سحر و افطار کے پر کیف نظارے... عالَم ہی بدل گیا… چمن میں بہار آ گئی… روحانی بہار … ایمانی بہار… اللہ اللہ! کردار چمکنے لگے… جذبات مچلنے لگے… چھوٹے بڑے سبھی خوشی و مسرت سے جھومنے لگے…
موسم گرما میں ویسے بھی دن بڑے ہو جاتے ہیں اور راتیں چھوٹی… سخت گرمی ہے… تمازت کا عجب عالَم… شمالی ہند کا علاقہ روہیل کھنڈ کے شہر بریلی میں گرمی کی شدت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے… ایسے میں بریلی کے ایک معزز گھرانے میں ایک کم سِن بچہ بھی روزے سے ہے… گرمی کی شدت سے بڑوں کا بھی حال عجب ہے… آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب سے روشن ہے… شدتِ گرمی سے ہر شے متاثر ہے... ایسے وقت میں اس روزہ دار بچہ کے والد؛ بچے کو ایک محفوظ کمرے میں لے جاتے ہیں… جہاں کوئی نہیں دیکھ رہا ہے… والد صاحب اندر سے دروازہ بند کر لیتے ہیں… والد صاحب کے ہاتھ میں ’’فیرنی‘‘ کا ایک پیالہ ہے… اور! بچے سے کہتے ہیں: ’’اسے کھا لو!‘‘… بچہ ادب سے کہتا ہے: ’’میرا تو روزہ ہے، کیسے کھاؤں؟‘‘… والد صاحب کہتے ہیں: ’’بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے‘‘… لو کھا لو! مَیں نے کواڑ بند کر دیے ہیں، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے!… بچہ کہتا ہے: ’’جس کے حکم سے روزہ رکھا وہ تو دیکھ رہا ہے‘‘… یہ سُنتے ہی والد صاحب کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو بہہ نکلے… بات ایمان افروز تھی… یہ بچہ بڑا عظیم تھا… والد صاحب نے امتحان کے طور پر ایسا کیا تھا… اور! بچہ والد صاحب کے معیار پر پورا اُترا… اہلِ خاندان اس طرح کے واقعات کا پہلے بھی مشاہدہ کر چکے تھے…اس سے بچے کی ثابت قدمی دیکھنی تھی… اللہ کی ذات پاک پر یقینِ کامل دیکھنا تھا…
یہ بچہ کون تھا؟… جس کے ایمان کی تازگی کا یہ عالَم! جس کا دل اللہ کی یاد سے روشن!… اس بچے نے بڑے ہو کر اسلام کی عظیم خدمت کی… مسلمانوں کو انگریزوں کی سازشوں سے با خبر کیا… ایمان کے لُٹیروں سے گلشن اسلام کی نگہبانی کی… شرک کے طوفان سے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی… وہ مسلمانوں کا ہم درد اور خیر خواہ تھا… وہ عاشقِ رسول تھا… محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی پہچان تھی... وہ علم و دانش کا سمندر تھا… اُس کی دینی بصیرت اپنے زمانے سے آگے دیکھتی تھی… اُس نے اسلام کی سرحد و سیما پر محبتِ رسول کی پختہ فصیل کھڑی کی… اُس نے بدعات کے خلاف سیکڑوں کتابیں لکھیں… اُس نے قرآن کریم کا ایمان افروز ترجمہ (بنام:کنزالایمان) کیا… اُس نے علم حدیث میں بہت سی کتابیں لکھیں… اُس نے علمِ تفسیر میں کام کیا… جانتے ہو وہ بچہ کون تھا؟ جس نے آگے چل کر عظیم کارنامے انجام دیے…اور ملتِ اسلامیہ کا سر فخر سے بُلند کیا… وہ بچہ ’’احمد رضا خان‘‘ تھا، جسے دُنیا ’’مفکر اسلام امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی‘‘ کے نام سے جانتی ہے…"اعلیٰ حضرت" کے لقب سے شہرت ہے... علماے عرب نے جسے ’’امام المحدثین‘‘ کہا… ’’مفسر شہیر‘‘ کہا…جس کی ریاضی میں مہارت کے جلوے دیکھ لینے کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد نے کہا تھا... ’’صحیح معنوں میں یہ ہستی نوبل پرائز کی مستحق ہے‘‘… بے شک یہ عظمت خوفِ خدا، خشیتِ الٰہی کے سبب ہی تھی؛ جس کا اظہار بچپن میں ہی ہو گیا تھا...
سچ ہے! اللہ والوں کا بچپن بھی شان والا ہوتا ہے… یہ خدائی اہتمام ہوتا ہے… اللہ جسے دین کی خدمت اور اسلام کی پاسبانی کو چُن لیتا ہے؛ اس کی ذات کو نکھار دیتا ہے… اُس کا بچپن بھی نرالا… شباب بھی نرالا… بڑھاپا بھی نرالا… اور زندگی نمونۂ عمل… اسوۂ نبوی پر عمل کی تصویر… اور وہ مردِ مومن اور مردِ حق آگاہ ہوتا ہے... اس کی نگہِ ولایت سے انقلاب برپا ہوتا ہے… اقبالؔ نے ایسی ہی ذات کے لیے کہا تھا ؎
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
***
_{خشیتِ الٰہی کا دل کش نظارہ}_
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/183507906937738/
گرمی کے ایام ہیں... سورج غروب ہو چکا ہے... شام کی تیرگی چھا گئی ہے... افق پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں… اچانک فضا میں ارتعاش پیدا ہوا... پوری فضا پاکیزہ ہو اُٹھی… ایک صدا اُبھری… رمضان کا چاند نظر آگیا! مسرتوں کے دیپ جل اُٹھے... مسجدوں میں نئی رونق... سحر و افطار کے پر کیف نظارے... عالَم ہی بدل گیا… چمن میں بہار آ گئی… روحانی بہار … ایمانی بہار… اللہ اللہ! کردار چمکنے لگے… جذبات مچلنے لگے… چھوٹے بڑے سبھی خوشی و مسرت سے جھومنے لگے…
موسم گرما میں ویسے بھی دن بڑے ہو جاتے ہیں اور راتیں چھوٹی… سخت گرمی ہے… تمازت کا عجب عالَم… شمالی ہند کا علاقہ روہیل کھنڈ کے شہر بریلی میں گرمی کی شدت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے… ایسے میں بریلی کے ایک معزز گھرانے میں ایک کم سِن بچہ بھی روزے سے ہے… گرمی کی شدت سے بڑوں کا بھی حال عجب ہے… آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب سے روشن ہے… شدتِ گرمی سے ہر شے متاثر ہے... ایسے وقت میں اس روزہ دار بچہ کے والد؛ بچے کو ایک محفوظ کمرے میں لے جاتے ہیں… جہاں کوئی نہیں دیکھ رہا ہے… والد صاحب اندر سے دروازہ بند کر لیتے ہیں… والد صاحب کے ہاتھ میں ’’فیرنی‘‘ کا ایک پیالہ ہے… اور! بچے سے کہتے ہیں: ’’اسے کھا لو!‘‘… بچہ ادب سے کہتا ہے: ’’میرا تو روزہ ہے، کیسے کھاؤں؟‘‘… والد صاحب کہتے ہیں: ’’بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے‘‘… لو کھا لو! مَیں نے کواڑ بند کر دیے ہیں، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے!… بچہ کہتا ہے: ’’جس کے حکم سے روزہ رکھا وہ تو دیکھ رہا ہے‘‘… یہ سُنتے ہی والد صاحب کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو بہہ نکلے… بات ایمان افروز تھی… یہ بچہ بڑا عظیم تھا… والد صاحب نے امتحان کے طور پر ایسا کیا تھا… اور! بچہ والد صاحب کے معیار پر پورا اُترا… اہلِ خاندان اس طرح کے واقعات کا پہلے بھی مشاہدہ کر چکے تھے…اس سے بچے کی ثابت قدمی دیکھنی تھی… اللہ کی ذات پاک پر یقینِ کامل دیکھنا تھا…
یہ بچہ کون تھا؟… جس کے ایمان کی تازگی کا یہ عالَم! جس کا دل اللہ کی یاد سے روشن!… اس بچے نے بڑے ہو کر اسلام کی عظیم خدمت کی… مسلمانوں کو انگریزوں کی سازشوں سے با خبر کیا… ایمان کے لُٹیروں سے گلشن اسلام کی نگہبانی کی… شرک کے طوفان سے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی… وہ مسلمانوں کا ہم درد اور خیر خواہ تھا… وہ عاشقِ رسول تھا… محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی پہچان تھی... وہ علم و دانش کا سمندر تھا… اُس کی دینی بصیرت اپنے زمانے سے آگے دیکھتی تھی… اُس نے اسلام کی سرحد و سیما پر محبتِ رسول کی پختہ فصیل کھڑی کی… اُس نے بدعات کے خلاف سیکڑوں کتابیں لکھیں… اُس نے قرآن کریم کا ایمان افروز ترجمہ (بنام:کنزالایمان) کیا… اُس نے علم حدیث میں بہت سی کتابیں لکھیں… اُس نے علمِ تفسیر میں کام کیا… جانتے ہو وہ بچہ کون تھا؟ جس نے آگے چل کر عظیم کارنامے انجام دیے…اور ملتِ اسلامیہ کا سر فخر سے بُلند کیا… وہ بچہ ’’احمد رضا خان‘‘ تھا، جسے دُنیا ’’مفکر اسلام امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی‘‘ کے نام سے جانتی ہے…"اعلیٰ حضرت" کے لقب سے شہرت ہے... علماے عرب نے جسے ’’امام المحدثین‘‘ کہا… ’’مفسر شہیر‘‘ کہا…جس کی ریاضی میں مہارت کے جلوے دیکھ لینے کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد نے کہا تھا... ’’صحیح معنوں میں یہ ہستی نوبل پرائز کی مستحق ہے‘‘… بے شک یہ عظمت خوفِ خدا، خشیتِ الٰہی کے سبب ہی تھی؛ جس کا اظہار بچپن میں ہی ہو گیا تھا...
سچ ہے! اللہ والوں کا بچپن بھی شان والا ہوتا ہے… یہ خدائی اہتمام ہوتا ہے… اللہ جسے دین کی خدمت اور اسلام کی پاسبانی کو چُن لیتا ہے؛ اس کی ذات کو نکھار دیتا ہے… اُس کا بچپن بھی نرالا… شباب بھی نرالا… بڑھاپا بھی نرالا… اور زندگی نمونۂ عمل… اسوۂ نبوی پر عمل کی تصویر… اور وہ مردِ مومن اور مردِ حق آگاہ ہوتا ہے... اس کی نگہِ ولایت سے انقلاب برپا ہوتا ہے… اقبالؔ نے ایسی ہی ذات کے لیے کہا تھا ؎
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
***
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء.... مثالی و پاکیزہ زندگی*
"خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..."
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=182044750417387&id=107640804524449
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلام کے کامل ترین نظام کا یہ حصہ ہے کہ طبقۂ نسواں کے لیے بھی زندگی کی تعمیر و تشکیل کا مکمل نظام اور قانون موجود ہے۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیاتِ طیبہ اس کی مثال ہے۔ آپ نے بارگاہِ نبوت سے جو فیض حاصل کیا؛ اُس کی اشاعت مدتوں کی۔ صحابیات کو مسائل سے آگاہ کرتیں، ان کی باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا ہے اُم المؤمنین نے۔ اسلام کے حقوقِ نسواں کے نظام کی ترسیل مؤثر طریقے سے اُم المؤمنین نے کی؛ اوران تمام پہلوؤں کو بھی اُجاگر کیا جن کے ذریعے ایک خاتون اپنی زندگی کو مقاصد تخلیق کے ضابطوں کی تکمیل کے ساتھ گزار سکے۔ اس طرح اسلام کے فطری نظام کی ترویج کا رول ماڈل پیش کیا ہے اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے... یوں ہی خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ بھی کئی جہتوں سے ممتاز، نمایاں، بے مثل، عدیم النظیر ہے؛ جن سے درس پا کر طبقۂ نسواں کا وقار بحال ہو سکتا ہے، حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے آپ کی ذات مشعلِ راہ بھی ہے اور نشانِ منزل بھی۔
*چند خصوصیات:*
[۱] سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی ذات ممتاز ہے؛ اس لیے کہ بنتِ رسول ہیں، صاحب زادیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[۲] تاج دارِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں رکھ کر مثالی خاتون بنایا۔ جن کی ذات پاک قیامت تک کے لیے وقارِ نسواں کی تابندگی کا مظہر بن گئی ۔
[۳] جب بھی تقدسِ نسواں اور عفتِ بنت حوا کی بات کی جائے گی تو سیرتِ فاطمۃ الزہراء مثال میں پیش کی جائے گی۔
[۴] خواتین کے لیے کامیاب زندگی کا سب سے نمایاں باب ہے سیرتِ فاطمۃ الزہراء۔ طبقۂ نسواں کے لیے عزم و یقیں کے بلند مینار کا نام ہے سیدۂ کائنات۔
[۵] باب العلم خلیفۂ چہارم شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ جیسی عظیم نسبت بھی سیدہ فاطمۃ الزہراء کو حاصل ہے۔
[٦] اسلام کی شرعی سرحدوں کی پاس بانی کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والی ذات "حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ" کی تربیت جس والدہ کی گود میں ہوئی؛ اسی کا نام حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہے۔ گویا صبر و استقامت کا درس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت سے دو دو نسبتوں سے امام حسین کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی و حضرت فاطمہ نے ریگزارِ کربلا میں دین کی اساس کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ اسلام پر جاں نثاری کا جو درس دیا تھا؛ امام حسین نے اس کی مکمل پاسداری کی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا ایثار، فکرو تدبر اور مثالی زندگی بھی سیدہ فاطمہ کی عظمت کا نقشِ جمیل ہے۔
[۷] جنتی خواتین کی سردار ہیں سیدہ فاطمۃ الزہراء؛ جن کے فیضانِ کرم سے طبقۂ نسواں اِس قدر نوازا گیا کہ جب بھی کسی خاتون کی دین کے لیے شجاعت و قربانی کا ذکر کیا جائے گا؛ اُس کی حیات کی تشکیل؛ اور فکر کی تعمیر میں درسِ فاطمی نمایاں دکھائی دے گا۔
[۸] بارگاہِ نبوی سے نسبت و قرب کے سبب جس قدر عظیم اختیارات و سربلندیوں سے آراستہ تھیں؛ اس کا اندازا ہماری معمولی عقلیں نہیں لگا سکتیں؛ ان سب کے باوجود سادہ زندگی، اور رضائے الٰہی کے لیے قناعت و صبر کا جو نمونہ آپ نے پیش کیا وہ مثالی بھی ہے؛ اور دُنیا میں بسنے والی ہر خاتون کی زندگی کو پاکیزہ بنانے کے لیے رول ماڈل بھی،
[۹] آپ کی ذات تمام ظاہری و باطنی خوبیوں سے آراستہ تھی؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے مقام تقدس اور خوبیوں کے بیان کو دفتر بھی ناکافی ہیں-
[۱۰] اسلام کے قوانین برائے نسواں کو چیلنج کرنے والے حیاتِ سیدہ فاطمۃ الزہراء کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر پاکیزہ و مطہر و عظیم مقام؛ اسلام نے خواتین کو دیا؛ اس کی مثال کسی بھی مذہب یا ازم یا نظریے میں نہیں پیش کی جا سکتی۔ تاریخ انسانی ایسی کم ہی مثالیں پیش کر سکتی ہے جن کے سرے پر کسی خاتون کی انقلاب بداماں زندگی نے تعمیر فکر ونظر کا فریضہ انجام دیا ہو! انقلاب آفریں ذات ہے سیدہ فاطمہ کی۔
سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے مناقب و شان میں یہ پیاری روایت ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا ہے کہ اللہ نے اس کو اور اس کے محبوبوں کو دوزخ سے جدا کیا ہے۔ (صواعق محرقہ،ص۱۵۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بے شک فاطمہ پاک دامن ہے اور اللہ نے اس کی اولاد پر دوزخ کو حرام فرمایا ہے۔ (ابونعیم المستدرک حاکم،ص۱۵۳)
پیکر صبر و حیا، استقامت و تقویٰ کی مظہر، نبوی آغوشِ تربیت کی پروردہ سیدہ طیبہ زاہدہ عابدہ ح
"خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..."
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=182044750417387&id=107640804524449
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلام کے کامل ترین نظام کا یہ حصہ ہے کہ طبقۂ نسواں کے لیے بھی زندگی کی تعمیر و تشکیل کا مکمل نظام اور قانون موجود ہے۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیاتِ طیبہ اس کی مثال ہے۔ آپ نے بارگاہِ نبوت سے جو فیض حاصل کیا؛ اُس کی اشاعت مدتوں کی۔ صحابیات کو مسائل سے آگاہ کرتیں، ان کی باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا ہے اُم المؤمنین نے۔ اسلام کے حقوقِ نسواں کے نظام کی ترسیل مؤثر طریقے سے اُم المؤمنین نے کی؛ اوران تمام پہلوؤں کو بھی اُجاگر کیا جن کے ذریعے ایک خاتون اپنی زندگی کو مقاصد تخلیق کے ضابطوں کی تکمیل کے ساتھ گزار سکے۔ اس طرح اسلام کے فطری نظام کی ترویج کا رول ماڈل پیش کیا ہے اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے... یوں ہی خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ بھی کئی جہتوں سے ممتاز، نمایاں، بے مثل، عدیم النظیر ہے؛ جن سے درس پا کر طبقۂ نسواں کا وقار بحال ہو سکتا ہے، حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے آپ کی ذات مشعلِ راہ بھی ہے اور نشانِ منزل بھی۔
*چند خصوصیات:*
[۱] سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی ذات ممتاز ہے؛ اس لیے کہ بنتِ رسول ہیں، صاحب زادیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[۲] تاج دارِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں رکھ کر مثالی خاتون بنایا۔ جن کی ذات پاک قیامت تک کے لیے وقارِ نسواں کی تابندگی کا مظہر بن گئی ۔
[۳] جب بھی تقدسِ نسواں اور عفتِ بنت حوا کی بات کی جائے گی تو سیرتِ فاطمۃ الزہراء مثال میں پیش کی جائے گی۔
[۴] خواتین کے لیے کامیاب زندگی کا سب سے نمایاں باب ہے سیرتِ فاطمۃ الزہراء۔ طبقۂ نسواں کے لیے عزم و یقیں کے بلند مینار کا نام ہے سیدۂ کائنات۔
[۵] باب العلم خلیفۂ چہارم شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ جیسی عظیم نسبت بھی سیدہ فاطمۃ الزہراء کو حاصل ہے۔
[٦] اسلام کی شرعی سرحدوں کی پاس بانی کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والی ذات "حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ" کی تربیت جس والدہ کی گود میں ہوئی؛ اسی کا نام حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہے۔ گویا صبر و استقامت کا درس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت سے دو دو نسبتوں سے امام حسین کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی و حضرت فاطمہ نے ریگزارِ کربلا میں دین کی اساس کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ اسلام پر جاں نثاری کا جو درس دیا تھا؛ امام حسین نے اس کی مکمل پاسداری کی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا ایثار، فکرو تدبر اور مثالی زندگی بھی سیدہ فاطمہ کی عظمت کا نقشِ جمیل ہے۔
[۷] جنتی خواتین کی سردار ہیں سیدہ فاطمۃ الزہراء؛ جن کے فیضانِ کرم سے طبقۂ نسواں اِس قدر نوازا گیا کہ جب بھی کسی خاتون کی دین کے لیے شجاعت و قربانی کا ذکر کیا جائے گا؛ اُس کی حیات کی تشکیل؛ اور فکر کی تعمیر میں درسِ فاطمی نمایاں دکھائی دے گا۔
[۸] بارگاہِ نبوی سے نسبت و قرب کے سبب جس قدر عظیم اختیارات و سربلندیوں سے آراستہ تھیں؛ اس کا اندازا ہماری معمولی عقلیں نہیں لگا سکتیں؛ ان سب کے باوجود سادہ زندگی، اور رضائے الٰہی کے لیے قناعت و صبر کا جو نمونہ آپ نے پیش کیا وہ مثالی بھی ہے؛ اور دُنیا میں بسنے والی ہر خاتون کی زندگی کو پاکیزہ بنانے کے لیے رول ماڈل بھی،
[۹] آپ کی ذات تمام ظاہری و باطنی خوبیوں سے آراستہ تھی؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے مقام تقدس اور خوبیوں کے بیان کو دفتر بھی ناکافی ہیں-
[۱۰] اسلام کے قوانین برائے نسواں کو چیلنج کرنے والے حیاتِ سیدہ فاطمۃ الزہراء کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر پاکیزہ و مطہر و عظیم مقام؛ اسلام نے خواتین کو دیا؛ اس کی مثال کسی بھی مذہب یا ازم یا نظریے میں نہیں پیش کی جا سکتی۔ تاریخ انسانی ایسی کم ہی مثالیں پیش کر سکتی ہے جن کے سرے پر کسی خاتون کی انقلاب بداماں زندگی نے تعمیر فکر ونظر کا فریضہ انجام دیا ہو! انقلاب آفریں ذات ہے سیدہ فاطمہ کی۔
سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے مناقب و شان میں یہ پیاری روایت ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا ہے کہ اللہ نے اس کو اور اس کے محبوبوں کو دوزخ سے جدا کیا ہے۔ (صواعق محرقہ،ص۱۵۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بے شک فاطمہ پاک دامن ہے اور اللہ نے اس کی اولاد پر دوزخ کو حرام فرمایا ہے۔ (ابونعیم المستدرک حاکم،ص۱۵۳)
پیکر صبر و حیا، استقامت و تقویٰ کی مظہر، نبوی آغوشِ تربیت کی پروردہ سیدہ طیبہ زاہدہ عابدہ ح
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا کردار اپنا کر حقوقِ نسواں کا تحفظ بھی کیا جا سکتا ہے اور خواتین کی عصمتوں، عظمتوں، آبروؤں کو موجودہ جدیدیت کی وحشی تہذیب کا لقمۂ تر بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ایسی باوقار خاتون کے کردار کو اُجاگر کر کے مغرب کے بے حیا کرداروں کی قلعی کھولی جا سکتی ہے؛ بکتی حیا، لٹتی عصمت کو بچایا جا سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء کے کردار کو موجودہ عہد کی خواتین میں نمایاں کیا جائے۔ خلافِ شرع کاموں سے بچ کر اسلام کے حکم پردہ کی پاس داری کی جائے۔ آج کا اَلمیہ یہ بھی ہے کہ پردے کی بات کرنے والے پیشہ وَر واعظین بھی اسکرینوں کے ذریعے خواتین میں خود کو نمایاں کر کے بے پردگی کی تعلیم دے رہے ہیں؛ انھیں فاطمی درسِ حیا و پاس داریِ پردہ سے سبق لینا چاہیے اور حضرات حسنین کریمین کی تعلیمات کی دعوت و تبلیغ کو مطمح نظر بنانا چاہیے تا کہ نبوی انقلاب کی تازہ ہواؤں سے دلوں کی کلیاں کھل اُٹھیں اور گلشنِ حیات مہک مہک اُٹھے ؎
کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
٭٭٭
٣ رمضان المبارک ١٤٤١ھ
کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
٭٭٭
٣ رمضان المبارک ١٤٤١ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ*
*اور کردار و عمل کا امتحاں*
"تحفظِ ناموس رسالت ﷺ کے لیے بریلی سے اُٹھنے والی آواز پوری دنیا میں گونج رہی ہے... ہمیں یقین ہے کہ علامہ محمد عسجد رضاخان قادری کی نوائے سحر عشاقِ رسول ﷺ کو عزمِ جواں عطا کرے گی..."
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=179010804054115&id=107640804524449
غلام مصطفٰی رضوی
(نوری مشن مالیگاؤں)
جماعت رضائے مصطفیٰ کے مرکزی قائد جانشین حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد عسجد رضاخان قادری صاحب نے بریلی شریف میں ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے آواز دی... سَروں کا سمندر اَمنڈ پڑا... 9 اپریل 2021ء جمعہ کا دن تاریخی بن گیا... رسول اللہ ﷺ کے فدائی؛ دو ٹوک موقف کے ساتھ گستاخ نرسنگھانند کی گستاخی کے خلاف بیداری کا پیام دے گئے... اس بیداری کی آواز سے ان شاء اللہ ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے حرارتِ ایمانی تیز ہوگی... فدا کاری کے قافلے تازہ دَم ہوں گے... غیرت و حمیت کے اسباق تازہ ہوں گے... اس پیغام کی بازِ گشت بریلی سے ساری دنیا میں سُنائی دے گی...
کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں دوجہاں فدا
دوجہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
جمعہ کو پوری فضا میں یہ نعرہ گونج اُٹھا... لبیک لبیک لبیک یا رسول اللہ ﷺ... مشرکین/شاتمین نے یہ سمجھ لیا تھا... کہ مسلمانوں کے بازو شل ہو گئے... ان کی غیرت رُخصت ہو گئی... بریلی شریف کے مظاہرے میں مسلمانوں کی بیداری... بیباکی و سرفروشانہ شرکت اور پرعزم مظاہرہ نے گستاخ طبقوں کا سکون غارت کر دیا.... ہاں! ابھی غیرتوں کے قافلے تازہ دَم ہیں... جو گستاخی کے پنجے مروڑ سکتے ہیں... عزیمتوں کے چراغ فصیلِ محبتِ رسول ﷺ پر روشن ہیں...
آج عالَم یہ ہے کہ سمتوں سے ناموسِ رسالت ﷺ میں بے ادبی و توہین کی جا رہی ہے... یہ سب حادثاتی معاملات نہیں... بلکہ اسلام و پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف منظم سازش کا حصہ ہے... بولہبی حلقے ہیں؛ جو لگاتار گستاخی کا زہر گھول رہے ہیں... کفر و شرک اور یہود و انگریز باہم بغل گیر ہیں... گستاخ کے پشت پناہ ہیں...
میڈیا میں آزادیِ اظہار رائے کے نام پر جھوٹ، تہمت، دروغ اور کذب کو رواج دیا جا رہا ہے... سرور کونین ﷺ کے وجود اقدس کی برکت سے دنیا گہوارۂ امن بنی... انسانیت کی صبح قدمِ نازِ مصطفیٰ ﷺ سے طلوع ہوئی... تمدن انسانی کا سویرا ہوا... اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کی توہین کے لیے ہر جھوٹ اور تہمت کو بے دھڑک بولا جا رہا ہے... توہین رسالت ﷺ کے مرتکب دُنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں... جو پیغمبر امن و محبت ﷺ کی بے ادبی کرتے ہیں... دہشت پھیلاتے ہیں...
حال ہی میں نرسنگھانند سرسوتی اور وسیم رِضوی کے گستاخانہ ریمارک سے اہلِ ایمان کے دل چھلنی ہیں... مشرکینِ ہند مسلم دُشمنی میں مسلسل زہر افشانی کر رہے ہیں... گستاخی کے مرتکب کو سپورٹ کر رہے ہیں... انھیں آسرا فراہم کر رہے ہیں... ایسے حالات میں اہلسنّت کے مرکز بریلی شریف سے تاریخ ساز پروٹسٹ اور احتجاج نے مسلم دُشمن مشنریز کی نیندیں اُڑا دی ہیں...
محافظینِ ناموسِ رسالتﷺ کی یہ بیداری و بیباکی اگر باقی رہ گئی تو صبح طلوع ہوگی... گستاخ کے لیے شامِ غم جلد وارد ہو گی... شرط ہے کہ ہم اپنے قائدین کے پیغام پر توجہ دیں...کردار و عمل کے امتحان میں کامیاب ہوں... گستاخِ بارگاہِ رسالت کے خلاف اُٹھ کر اپنی صفیں درست کر لیں... ہم جانشین تاج الشریعہ مفتی محمد عسجد رضا خان قادری کی بیباک قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں... ان کے مطالبات پاکیزہ ہیں... ان کے اقدامات جمہوری ہیں... ان کے کردار و عمل امن و امان کے مظہر ہیں... ایسے قائدین کے مبارک جذبات کی قدر کی جانی چاہیے... یہی جذبات امریکہ و اسرائیل کو کھٹکتے ہیں... یہی عشاقِ رسول کی جماعت ہے... جو ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے جب وقت آتا ہے؛ تو سروں سے کفن باندھ کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں... اُنھیں عشاق نے قربانیوں سے محبتوں کے لالہ و گُل کھلائے... اور مسلم آبادیاں نغمہ ہاے درود و سلام سے گونج گونج اُٹھیں...ان کے ہاتھوں میں محبت کی کنجیاں ہیں... یہ بارود و بموں سے نفرت کرنے والے لوگ ہیں... اسی لیے اسرائیل و امریکہ اور مشرکین کے دُشمن ہیں... انھیں کے اکابر نے ملکِ ہند کو انگریزی استبداد سے آزاد کرایا... انھیں کے قائد علامہ فضل حق چشتی خبیر آبادی نے انگریز کا ناطقہ بند کر دیا... اعلیٰ حضرت نے انگریز و مشرکین کی قلعی کھول کر رکھ دی... جہاں بانی و جہاں بینی کا فریضہ انجام دیا... یہ دیوانے ہیں... جن کی جدوجہد میں اخلاص ہے... سعی پیہم ہے... ان کا مطالبہ بھی درست ہے...ان کی فکر بھی تعمیری ہے... اسی لیے ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اُٹھنے والی آواز کو ساری دنیا کے مسلمانوں نے تائید و حمایت سے نوازا...
*امتحانِ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم:*
یہ دور بڑے کرب و ابتلا کا ہے... چہار جانب سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں آوازیں بلند کی جا رہی ہیں... ڈنمارک سے فرض
*اور کردار و عمل کا امتحاں*
"تحفظِ ناموس رسالت ﷺ کے لیے بریلی سے اُٹھنے والی آواز پوری دنیا میں گونج رہی ہے... ہمیں یقین ہے کہ علامہ محمد عسجد رضاخان قادری کی نوائے سحر عشاقِ رسول ﷺ کو عزمِ جواں عطا کرے گی..."
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=179010804054115&id=107640804524449
غلام مصطفٰی رضوی
(نوری مشن مالیگاؤں)
جماعت رضائے مصطفیٰ کے مرکزی قائد جانشین حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد عسجد رضاخان قادری صاحب نے بریلی شریف میں ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے آواز دی... سَروں کا سمندر اَمنڈ پڑا... 9 اپریل 2021ء جمعہ کا دن تاریخی بن گیا... رسول اللہ ﷺ کے فدائی؛ دو ٹوک موقف کے ساتھ گستاخ نرسنگھانند کی گستاخی کے خلاف بیداری کا پیام دے گئے... اس بیداری کی آواز سے ان شاء اللہ ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے حرارتِ ایمانی تیز ہوگی... فدا کاری کے قافلے تازہ دَم ہوں گے... غیرت و حمیت کے اسباق تازہ ہوں گے... اس پیغام کی بازِ گشت بریلی سے ساری دنیا میں سُنائی دے گی...
کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں دوجہاں فدا
دوجہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
جمعہ کو پوری فضا میں یہ نعرہ گونج اُٹھا... لبیک لبیک لبیک یا رسول اللہ ﷺ... مشرکین/شاتمین نے یہ سمجھ لیا تھا... کہ مسلمانوں کے بازو شل ہو گئے... ان کی غیرت رُخصت ہو گئی... بریلی شریف کے مظاہرے میں مسلمانوں کی بیداری... بیباکی و سرفروشانہ شرکت اور پرعزم مظاہرہ نے گستاخ طبقوں کا سکون غارت کر دیا.... ہاں! ابھی غیرتوں کے قافلے تازہ دَم ہیں... جو گستاخی کے پنجے مروڑ سکتے ہیں... عزیمتوں کے چراغ فصیلِ محبتِ رسول ﷺ پر روشن ہیں...
آج عالَم یہ ہے کہ سمتوں سے ناموسِ رسالت ﷺ میں بے ادبی و توہین کی جا رہی ہے... یہ سب حادثاتی معاملات نہیں... بلکہ اسلام و پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف منظم سازش کا حصہ ہے... بولہبی حلقے ہیں؛ جو لگاتار گستاخی کا زہر گھول رہے ہیں... کفر و شرک اور یہود و انگریز باہم بغل گیر ہیں... گستاخ کے پشت پناہ ہیں...
میڈیا میں آزادیِ اظہار رائے کے نام پر جھوٹ، تہمت، دروغ اور کذب کو رواج دیا جا رہا ہے... سرور کونین ﷺ کے وجود اقدس کی برکت سے دنیا گہوارۂ امن بنی... انسانیت کی صبح قدمِ نازِ مصطفیٰ ﷺ سے طلوع ہوئی... تمدن انسانی کا سویرا ہوا... اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کی توہین کے لیے ہر جھوٹ اور تہمت کو بے دھڑک بولا جا رہا ہے... توہین رسالت ﷺ کے مرتکب دُنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں... جو پیغمبر امن و محبت ﷺ کی بے ادبی کرتے ہیں... دہشت پھیلاتے ہیں...
حال ہی میں نرسنگھانند سرسوتی اور وسیم رِضوی کے گستاخانہ ریمارک سے اہلِ ایمان کے دل چھلنی ہیں... مشرکینِ ہند مسلم دُشمنی میں مسلسل زہر افشانی کر رہے ہیں... گستاخی کے مرتکب کو سپورٹ کر رہے ہیں... انھیں آسرا فراہم کر رہے ہیں... ایسے حالات میں اہلسنّت کے مرکز بریلی شریف سے تاریخ ساز پروٹسٹ اور احتجاج نے مسلم دُشمن مشنریز کی نیندیں اُڑا دی ہیں...
محافظینِ ناموسِ رسالتﷺ کی یہ بیداری و بیباکی اگر باقی رہ گئی تو صبح طلوع ہوگی... گستاخ کے لیے شامِ غم جلد وارد ہو گی... شرط ہے کہ ہم اپنے قائدین کے پیغام پر توجہ دیں...کردار و عمل کے امتحان میں کامیاب ہوں... گستاخِ بارگاہِ رسالت کے خلاف اُٹھ کر اپنی صفیں درست کر لیں... ہم جانشین تاج الشریعہ مفتی محمد عسجد رضا خان قادری کی بیباک قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں... ان کے مطالبات پاکیزہ ہیں... ان کے اقدامات جمہوری ہیں... ان کے کردار و عمل امن و امان کے مظہر ہیں... ایسے قائدین کے مبارک جذبات کی قدر کی جانی چاہیے... یہی جذبات امریکہ و اسرائیل کو کھٹکتے ہیں... یہی عشاقِ رسول کی جماعت ہے... جو ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے جب وقت آتا ہے؛ تو سروں سے کفن باندھ کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں... اُنھیں عشاق نے قربانیوں سے محبتوں کے لالہ و گُل کھلائے... اور مسلم آبادیاں نغمہ ہاے درود و سلام سے گونج گونج اُٹھیں...ان کے ہاتھوں میں محبت کی کنجیاں ہیں... یہ بارود و بموں سے نفرت کرنے والے لوگ ہیں... اسی لیے اسرائیل و امریکہ اور مشرکین کے دُشمن ہیں... انھیں کے اکابر نے ملکِ ہند کو انگریزی استبداد سے آزاد کرایا... انھیں کے قائد علامہ فضل حق چشتی خبیر آبادی نے انگریز کا ناطقہ بند کر دیا... اعلیٰ حضرت نے انگریز و مشرکین کی قلعی کھول کر رکھ دی... جہاں بانی و جہاں بینی کا فریضہ انجام دیا... یہ دیوانے ہیں... جن کی جدوجہد میں اخلاص ہے... سعی پیہم ہے... ان کا مطالبہ بھی درست ہے...ان کی فکر بھی تعمیری ہے... اسی لیے ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اُٹھنے والی آواز کو ساری دنیا کے مسلمانوں نے تائید و حمایت سے نوازا...
*امتحانِ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم:*
یہ دور بڑے کرب و ابتلا کا ہے... چہار جانب سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں آوازیں بلند کی جا رہی ہیں... ڈنمارک سے فرض
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ی خاکوں کی اشاعت توہین کی غرض سے کی گئی تھی... پھر درجنوں اسیرانِ مغرب نے خاکے شائع کیے... مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کیا... جذبات مجروح کیے گئے... پھر فرانس میں توہین کی گئی... ہند میں درجنوں گستاخوں کو پالا گیا... فرقہ پرستی نے انھیں حوصلہ دیا... اب ہمیں مکمل طور پر بیدار ہو لینا چاہیے... ظالموں کے روبرو عزم کا مظاہرہ کرنا چاہیے... جب دنیا کی کورٹیں انصاف کھو دیتی ہیں تو عقل ٹھہر جاتی ہے... عشق کا امتحان شروع ہوتا ہے... غازی علم الدین اور غازی ممتا ز قادری کے نقوش قدم ابھر کر سامنے آتے ہیں... تاج الشریعہ کا یہ شعر جاں نثاری کا تازہ پیغام دیتا ہے...
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں
***
11 اپریل 2021ء
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں
***
11 اپریل 2021ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*مسلمان کبھی بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی گستاخی و توہین برداشت نہیں کر سکتا*
*گستاخ نرسنگھانند کو گرفتار کر کے کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے، یہ شخص ملک کا اور امن کا دشمن ہے*
*گستاخ نرسنگھانند پر فوری کارروائی اور تحفظِ ناموس رسالت کی خاطر سنی تنظیموں نے مظاہرہ کیا اور گرفتاری دی*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=180093307279198&id=107640804524449
مالیگاؤں : مملکت کا نظام قانون سے چلتا ہے۔ ہر چیز کیلئے قانون موجود ہے۔ پھر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نرسنگھانند نامی شخص دھڑلے سے پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلام کی بے ادبی کرتا پھر رہا ہے، اس پر ملک بھر میں کتنی ہی ایف آئی آر درج کروائی جا چکی ہیں، لیکن اب تک وہ آزاد ہے، جب کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ ایسا شخص جو ملک کے امن کا دُشمن ہے؛ اسے فوراً گرفتار کرکے جیل بھیجا جاتا۔ سخت ترین قانونی کارروائی اور سزادلوانے کی کوشش کی جاتی۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت ایسے نازک معاملے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اِس طرح کا اظہار سنی تنظیموں کے نمائندگان نے ۱۲؍اپریل ۲۰۲۱ء پیر کی شام میں نئے بس اسٹینڈ کے پاس احتجاجی مظاہرہ میں کیا۔ یہاں غلام مصطفیٰ رضوی نے کہا کہ: آپ غور کریں کہ آپ کے والد یا والدہ کو کوئی گالی دیدے تو کیا آپ خاموش رہو گے؟ بالکل نہیں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمان اپنی جان و مال اور ہر قیمتی شے سے بڑھ کر محبت کرتا ہے؛ پھر کیوں کر ایک مسلمان اپنے رسولﷺ کی توہین و گستاخی برداشت کرے گا؟الحاج یوسف الیاس نے کہا کہ مسلمان کبھی بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ نرسنگھانند کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ ملک کو امن کا گہوارہ بنانے اور قانون کی بالادستی کیلئے اسے کورٹ کے ذریعے پھانسی کی سزا دی جائے ۔بریلی شریف میں جماعت رضائے مصطفیٰ کی طرف سے جانشین حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد عسجد رضا خان قادری قبلہ نے زبردست احتجاجی اقدام کیا، اس کی تائید میں ملک بھر میں گستاخِ رسول کے خلاف سنی مسلمان؛ گستاخ کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کوڈ۔۱۹؍کی حکومتی گائیڈ لائن کا خیال رکھتے ہوئے سنی ذمے داران کے ساتھ یہاں مسلمانوں کے جذبات کی نمائندگی کی گئی اور کہا گیا کہ اگر عام حالات ہوتے تو یہاں مجمع کثیر ہوتا۔بعدہٗ سنی تنظیموں کی طرف سے سٹی پولیس اسٹیشن میں ایڈیشنل ایس پی صاحب اورڈی وائے ایس پی میڈم صاحبہ کو مطالباتی مکتوب دیا گیا، اس میں درج ہے کہ نرسنگھانندنے پریس کلب دہلی میں اسلام و پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخانہ باتیں کہیں۔ جس کے خلاف پورے بھارت کے مسلمان غم و غصے میں مبتلا ہیں۔ کئی مقامات پر ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ افسوس کی بات ہے کہ اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مذکورہ گستاخ نرسنگھانند کو گرفتار کر کے کورٹ میں باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔ یہ شخص ملک کا بھی دُشمن ہے جو یہاں کے امن و سکون کو غارت کررہا ہے۔ فوری گرفتاری کے ذریعے ہی ایسی منافرت کا سدِ باب کیا جا سکتا ہے۔مذکورہ افسران نے مثبت اقدام کا تیقن دیا۔ اسی کے ساتھ ۳؍اپریل کو پائیدھونی ممبئی میں تحفظ ناموس رسالت فاؤنڈیشن و رضا اکیڈمی ممبئی نے جو ایف آئی آر درج کروائی اس کی کاپی بھی منسلک کی گئی۔ جس میں 295(A), 153(A), 505(2)کے تحت اندراج ہے۔ اسی کے تحت فوری کارروائی کی مانگ نوری مشن کی تحریک پر مالیگاؤں کی ان تنظیموں نے کی،جن کے نام میمورنڈم پر مندرج ہیں: سنی جمعیۃ العلماء( حاجی یوسف الیاس)، نوری مشن( غلام مصطفیٰ رضوی)، رضا اکیڈمی( ڈاکٹر رئیس احمد رضوی)،سنی کونسل(محمد عمران رضوی)، غلامان عسجد رضا فاؤنڈیشن، غریب نواز اکیڈمی ( رئیس احمد رضوی)، سنی وارئیر( شیخ شاداب رضوی)، دارالعلوم سیدنا امیر حمزہ، ادارۂ اصحابِ صفہ ( مفتی نورالحسن مصباحی)، دارالعلوم عظمت مصطفیٰ( مفتی عارف اشرفی )، ادارۂ فیضان اشرف، انجمن بہار اشرفی ،ادارۂ سید اظہار اشرف(عبدالکریم بوستانی )، مدرسہ غریب نواز(عقیل احمد منصوری)، ادارۂ مخدوم العلماء ( حسنین اشرفی)، اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن(مدثر رضوی) ،علاوہ ازیں مفتی محمد عرفان مصباحی، عمران تابانی، حافظ نوید، حافظ توصیف، حافظ جاوید، حافظ آصف،عتیق الرحمن رضوی، ڈاکٹر محمد ارشد، شہزاد عامر سمیت سرکردہ شخصیات موجود تھیں۔اس مظاہرہ کے انعقاد میں فرید رضوی، معین پٹھان،محمد عمران رضوی، غلام مصطفیٰ رضوی، یاسین رضا، سعد رضوی، اظہر رضا، شیخ آصف رضوی وغیرہ شامل تھے۔ ایسی پریس ریلیز نوری مشن مالیگاؤں نے جاری کی۔
***
12 اپریل 2021ء
*#ArrestNarsighanand*
*گستاخ نرسنگھانند کو گرفتار کر کے کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے، یہ شخص ملک کا اور امن کا دشمن ہے*
*گستاخ نرسنگھانند پر فوری کارروائی اور تحفظِ ناموس رسالت کی خاطر سنی تنظیموں نے مظاہرہ کیا اور گرفتاری دی*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=180093307279198&id=107640804524449
مالیگاؤں : مملکت کا نظام قانون سے چلتا ہے۔ ہر چیز کیلئے قانون موجود ہے۔ پھر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نرسنگھانند نامی شخص دھڑلے سے پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلام کی بے ادبی کرتا پھر رہا ہے، اس پر ملک بھر میں کتنی ہی ایف آئی آر درج کروائی جا چکی ہیں، لیکن اب تک وہ آزاد ہے، جب کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ ایسا شخص جو ملک کے امن کا دُشمن ہے؛ اسے فوراً گرفتار کرکے جیل بھیجا جاتا۔ سخت ترین قانونی کارروائی اور سزادلوانے کی کوشش کی جاتی۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت ایسے نازک معاملے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اِس طرح کا اظہار سنی تنظیموں کے نمائندگان نے ۱۲؍اپریل ۲۰۲۱ء پیر کی شام میں نئے بس اسٹینڈ کے پاس احتجاجی مظاہرہ میں کیا۔ یہاں غلام مصطفیٰ رضوی نے کہا کہ: آپ غور کریں کہ آپ کے والد یا والدہ کو کوئی گالی دیدے تو کیا آپ خاموش رہو گے؟ بالکل نہیں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمان اپنی جان و مال اور ہر قیمتی شے سے بڑھ کر محبت کرتا ہے؛ پھر کیوں کر ایک مسلمان اپنے رسولﷺ کی توہین و گستاخی برداشت کرے گا؟الحاج یوسف الیاس نے کہا کہ مسلمان کبھی بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ نرسنگھانند کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ ملک کو امن کا گہوارہ بنانے اور قانون کی بالادستی کیلئے اسے کورٹ کے ذریعے پھانسی کی سزا دی جائے ۔بریلی شریف میں جماعت رضائے مصطفیٰ کی طرف سے جانشین حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد عسجد رضا خان قادری قبلہ نے زبردست احتجاجی اقدام کیا، اس کی تائید میں ملک بھر میں گستاخِ رسول کے خلاف سنی مسلمان؛ گستاخ کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کوڈ۔۱۹؍کی حکومتی گائیڈ لائن کا خیال رکھتے ہوئے سنی ذمے داران کے ساتھ یہاں مسلمانوں کے جذبات کی نمائندگی کی گئی اور کہا گیا کہ اگر عام حالات ہوتے تو یہاں مجمع کثیر ہوتا۔بعدہٗ سنی تنظیموں کی طرف سے سٹی پولیس اسٹیشن میں ایڈیشنل ایس پی صاحب اورڈی وائے ایس پی میڈم صاحبہ کو مطالباتی مکتوب دیا گیا، اس میں درج ہے کہ نرسنگھانندنے پریس کلب دہلی میں اسلام و پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخانہ باتیں کہیں۔ جس کے خلاف پورے بھارت کے مسلمان غم و غصے میں مبتلا ہیں۔ کئی مقامات پر ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ افسوس کی بات ہے کہ اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مذکورہ گستاخ نرسنگھانند کو گرفتار کر کے کورٹ میں باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔ یہ شخص ملک کا بھی دُشمن ہے جو یہاں کے امن و سکون کو غارت کررہا ہے۔ فوری گرفتاری کے ذریعے ہی ایسی منافرت کا سدِ باب کیا جا سکتا ہے۔مذکورہ افسران نے مثبت اقدام کا تیقن دیا۔ اسی کے ساتھ ۳؍اپریل کو پائیدھونی ممبئی میں تحفظ ناموس رسالت فاؤنڈیشن و رضا اکیڈمی ممبئی نے جو ایف آئی آر درج کروائی اس کی کاپی بھی منسلک کی گئی۔ جس میں 295(A), 153(A), 505(2)کے تحت اندراج ہے۔ اسی کے تحت فوری کارروائی کی مانگ نوری مشن کی تحریک پر مالیگاؤں کی ان تنظیموں نے کی،جن کے نام میمورنڈم پر مندرج ہیں: سنی جمعیۃ العلماء( حاجی یوسف الیاس)، نوری مشن( غلام مصطفیٰ رضوی)، رضا اکیڈمی( ڈاکٹر رئیس احمد رضوی)،سنی کونسل(محمد عمران رضوی)، غلامان عسجد رضا فاؤنڈیشن، غریب نواز اکیڈمی ( رئیس احمد رضوی)، سنی وارئیر( شیخ شاداب رضوی)، دارالعلوم سیدنا امیر حمزہ، ادارۂ اصحابِ صفہ ( مفتی نورالحسن مصباحی)، دارالعلوم عظمت مصطفیٰ( مفتی عارف اشرفی )، ادارۂ فیضان اشرف، انجمن بہار اشرفی ،ادارۂ سید اظہار اشرف(عبدالکریم بوستانی )، مدرسہ غریب نواز(عقیل احمد منصوری)، ادارۂ مخدوم العلماء ( حسنین اشرفی)، اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن(مدثر رضوی) ،علاوہ ازیں مفتی محمد عرفان مصباحی، عمران تابانی، حافظ نوید، حافظ توصیف، حافظ جاوید، حافظ آصف،عتیق الرحمن رضوی، ڈاکٹر محمد ارشد، شہزاد عامر سمیت سرکردہ شخصیات موجود تھیں۔اس مظاہرہ کے انعقاد میں فرید رضوی، معین پٹھان،محمد عمران رضوی، غلام مصطفیٰ رضوی، یاسین رضا، سعد رضوی، اظہر رضا، شیخ آصف رضوی وغیرہ شامل تھے۔ ایسی پریس ریلیز نوری مشن مالیگاؤں نے جاری کی۔
***
12 اپریل 2021ء
*#ArrestNarsighanand*
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
الٓرٰ ۟ ... الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ۙ﴿۱﴾ اللهِ الَّذِیۡ ..... شَدِیۡدِ ۙ﴿۲﴾ پہلی آیت پر وقف کرنے پر لفظ اللہ کے ہ پر زیر پڑھا جائےگا یا پیش کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ زیر پڑھا جائےگا اور کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ پیش پڑھا جائےگا ـــ صحیح کیا ہے ؟ https://t…
السلام علیکم ورحمةاللّٰه وبرکاته
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سترہ پارہ کے آخری صفحہ پر جو سجدہ ہے جس پر عند الشافعی لکھا ہے کیا اس کو مسلک حنفی کر سکتے ہیں ؟ برائے کرم مدلل جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
المستفتی : شیخ مزمل اڑیشہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب احناف کے نزدیک سترہویں پارہ کے آخر پر جو سجدہ ہے جس پر عند الشافعی لکھا ہے اس آیت کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس میں سجدے سے مراد نماز کا سجدہ ہے ، البتہ اگر کسی حنفی نے شافعی مذہب سے تعلق رکھنے والے امام کی اقتداء کی اور اُس نے اس موقع پر سجدہ کیا تو اُس کی پیروی میں مقتدی پر بھی واجب ہے جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " ( منها أولى الحج ) أما ثانيته فصلاتية لاقترانها بالركوع ( و ص ) خلافاً للشافعي و أحمد ۔ ( قوله : لاقترانها بالركوع ) لأن السجدة متى قرنت بالركوع كانت عبارةً عن السجدة الصلاتية ، كما فی قوله تعالى : { و اسجدی واركعی } بدائع ( قوله : خلافاً للشافعي و أحمد ) حيث اعتبرا كلاً من سجدتي الحج ، و لم يعتبرا سجدة ص ، كما فی غرر الأفكار " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 2 ص 695 : کتاب الصلاۃ ، باب سجود التلاوۃ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور اسی میں ہے کہ " فثانية الحج ليست سجدة عندنا خلافا للشافعى لان السامع ليس بتابع للتالى تحقيقا حتى يلزمه العمل برايه لأنه لا شركة بينهما " اھ ( رد المحتار ج 2 ص 697 : دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " سورۂ حج کی آخر آیت جس میں سجدہ کا ذکر ہے اس کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب نہیں کہ اس میں سجدے سے مراد نماز کا سجدہ ہے، البتہ اگر شافعی المذہب امام کی اقتدا کی اور اس نے اس موقع پر سجدہ کیا تو اس کی متابعت میں مقتدی پر بھی واجب ہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 729 : سجدہ تلاوت کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
https://t.me/Makhdoomiya_Darulifta/2303
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سترہ پارہ کے آخری صفحہ پر جو سجدہ ہے جس پر عند الشافعی لکھا ہے کیا اس کو مسلک حنفی کر سکتے ہیں ؟ برائے کرم مدلل جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
المستفتی : شیخ مزمل اڑیشہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب احناف کے نزدیک سترہویں پارہ کے آخر پر جو سجدہ ہے جس پر عند الشافعی لکھا ہے اس آیت کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس میں سجدے سے مراد نماز کا سجدہ ہے ، البتہ اگر کسی حنفی نے شافعی مذہب سے تعلق رکھنے والے امام کی اقتداء کی اور اُس نے اس موقع پر سجدہ کیا تو اُس کی پیروی میں مقتدی پر بھی واجب ہے جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " ( منها أولى الحج ) أما ثانيته فصلاتية لاقترانها بالركوع ( و ص ) خلافاً للشافعي و أحمد ۔ ( قوله : لاقترانها بالركوع ) لأن السجدة متى قرنت بالركوع كانت عبارةً عن السجدة الصلاتية ، كما فی قوله تعالى : { و اسجدی واركعی } بدائع ( قوله : خلافاً للشافعي و أحمد ) حيث اعتبرا كلاً من سجدتي الحج ، و لم يعتبرا سجدة ص ، كما فی غرر الأفكار " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 2 ص 695 : کتاب الصلاۃ ، باب سجود التلاوۃ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور اسی میں ہے کہ " فثانية الحج ليست سجدة عندنا خلافا للشافعى لان السامع ليس بتابع للتالى تحقيقا حتى يلزمه العمل برايه لأنه لا شركة بينهما " اھ ( رد المحتار ج 2 ص 697 : دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " سورۂ حج کی آخر آیت جس میں سجدہ کا ذکر ہے اس کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب نہیں کہ اس میں سجدے سے مراد نماز کا سجدہ ہے، البتہ اگر شافعی المذہب امام کی اقتدا کی اور اس نے اس موقع پر سجدہ کیا تو اس کی متابعت میں مقتدی پر بھی واجب ہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 729 : سجدہ تلاوت کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
https://t.me/Makhdoomiya_Darulifta/2303
Telegram
✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰ in مخدومیہ دار الافتاء
السلام علیکم ورحمةاللّٰه وبرکاته
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سترہ پارہ کے آخری صفحہ پر جو سجدہ ہے جس پر عند الشافعی لکھا ہے کیا اس کو مسلک حنفی کر سکتے ہیں ؟ برائے کرم مدلل جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
المستفتی : شیخ مزمل…
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سترہ پارہ کے آخری صفحہ پر جو سجدہ ہے جس پر عند الشافعی لکھا ہے کیا اس کو مسلک حنفی کر سکتے ہیں ؟ برائے کرم مدلل جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
المستفتی : شیخ مزمل…
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
السلام علیکم ورحمةاللّٰه وبرکاته کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سترہ پارہ کے آخری صفحہ پر جو سجدہ ہے جس پر عند الشافعی لکھا ہے کیا اس کو مسلک حنفی کر سکتے ہیں ؟ برائے کرم مدلل جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی : شیخ مزمل اڑیشہ…
https://t.me/islaamic_Knowledge/13092
سترہ پارہ کے آخری صفحہ پر جو سجدہ ہے جس پر عند الشافعی لکھا ہے کیا اس کو مسلک حنفی کر سکتے ہیں ؟
https://t.me/Makhdoomiya_Darulifta/2303
سترہ پارہ کے آخری صفحہ پر جو سجدہ ہے جس پر عند الشافعی لکھا ہے کیا اس کو مسلک حنفی کر سکتے ہیں ؟
https://t.me/Makhdoomiya_Darulifta/2303
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM