🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
برکت کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برکت کو بیان نہیں، محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ آمدن و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اور بنا کسی ٹینشن کے اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں۔ پھر چاہے آپ کی آمدن ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔ اس کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سیٹھوں اور سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔

اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں روڈ کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وه دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے، اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم الله پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔ اس کیفیت میں جو قرار اور دلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وه کسی لکھ پتی کو میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے مہنگے برگر کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ الله تعالى آپ کو اور آپ کے گھر کے افراد کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ انسان، اسپتال اور ڈاکٹروں کے چکروں سے بچا رہتا ہے۔ یوں اس کی آمدن پانی کی طرح بہہ جانے سے محفوظ ره جاتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔ وه تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو الله تعالى نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔ وه اپنے دوستوں کی دیکھا دیکھی، آئے دن آپ سے نئی نئی فرمائشیں (مثلاً موبائل، کپڑے، جوتے وغیره) نہیں کرتی بلکہ قانع اور شاکر رہتی ہے۔

برکت کا تعلق مادی ذرائع کے برعکس الله تعالى کی غیبی امداد سے ہے۔ ایسی غیبی امداد جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندراندر پوری ہوجائیں۔

یہ تو تھی مال اور آمدن میں برکت۔ اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔ وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیاده اور نتیجہ خیز کام کر سكيں، آپ کا وقت ادھرادھر فضول چیزوں میں ضائع نہ ہو۔ اسی طرح عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نہ ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔

کم کھانا، زیاده افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔ آپ کی کم محنت کا پھل زیاده آمدن یا پیداوار کی صورت میں نکلنا بھی برکت ہے۔

یوں سمجھیں کہ برکت الله تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’سپيشل انعام‘‘ ہے

برکت کے حصول کا نہایت آسان طریقہ صدقہ کرنا ہے یا کسی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔ آپ اپنے خاندان میں یا محلہ میں دیکھیں کوئی یتیم ہو، اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیں، اس کی پرورش اسی طرح کریں جیسے اپنی سگی اولاد کی کی جاتی ہے پھر دیکھیں کس طرح برکت آپ کے گھر چھپر پھاڑ کر آتی ہے۔

بھول جائیں کہ جس گھر میں لوگ دن چڑھے تک سوتے رہتے ہوں وہاں کبھی برکت آئے گی۔ کیوں کہ نبی كريم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ میری امت کے لیے دن کے اولین حصے میں برکت رکھ دی گئی ہے۔ اسی طرح شوقیہ کتا پالنا، تصویریں اور میوزک بھی برکت کے اٹھ جانے کے اسباب میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس اور جسم کی پاکی اور حلال ذریعہ آمدن برکت کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی سودی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو یا جسم اور کپڑوں کو ناپاک رکھتا ہو پھر برکت کا امیدوار بھی ہو تو اس کی ساده لوحی پر حیران ہی ہوا جا سکتا ہے۔منقول

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988790934733547&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسئلہ نمبر46:
*کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پان کھانا سنت ہے یاکیا؟ بیّنواتوجروا*
الجواب:
*پان کھانا نہ سنت ہے نہ مستحب صرف مباح ہے، ہاں بعض عوارض خارجیہ کے باعث مستحب ہوسکتاہے جیسے نہ کھانے میں میزبان کی دل شکنی ہو یابوسہ زوجہ کے لئے منہ کو خوشبودارکرنے کی نیت سے، بلکہ واجب بھی جیسے ماں باپ حکم دے اورنہ ماننے میں اس کی ایذا ہویونہی عارض کے سبب مکروہ بھی ہوسکتاہے جیسے تلاوت قرآن مجید میں بلکہ حرام بھی جیسے نمازمیں۔واﷲ تعالٰی اعلم*
📚(فتاویٰ رضویہ،جلد9، کتاب الحظر والاباحۃ،ص520، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی)📚
المرسلہ:
اسیر مفتی اعظم

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988790694733571&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معتصم بادشاہ کے زرخرید ، چہیتے غلاموں نے جب اہل بغداد کو تنگ کیا تو وہ شکایت لے کر اس کے پاس آئے اور کہا:

اپنے غلاموں کو روک لے ، ورنہ ہم تجھ سے لڑائی کریں گے ۔
معتصم نے پوچھا:
تم کس چیز سےلڑو گے ( تمھارے پاس تو اسلحہ ہی نہیں ) ؟
کہنے لگے:
ہم سَحر کے تیر چلائیں گے ( یعنی بہ وقت سَحر تیرے لیے بددعا کریں گے جو تجھے تباہ و برباد کرکے رکھ دے گی ) ۔

معتصم ( ڈر گیا اور ) کہنے لگا:

مجھ میں اس مقابلے کی سکت نہیں !

( انظر: تاریخ الخلفا للسیوطی ، ص 262 ، دارالارقم بن ابی الارقم بیروت)

پاکستان میں جو نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، ہم بھی ان کے خلاف سحر و افطار کے تیروں سے مدد لیں گے ۔
( مالک المک ﷻ کے حضور ظالم بادشاہ اور اس کے حواریوں کے خلاف شکایت کریں گے ) 😥😥

کہیں آہِ مظلوم خالی گئی ہے ؟؟
یہ درخواست ، تا بابِ عالی گئی ہے!

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3138787983068036&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جامِ شہادت نوش کرنے والے پیاروں کے پرسکون چہرے ، اور ایمانی جذبے ہمیں یہ پیغام دے گئے ہیں:

ہم تو سرخرو ہوکر اپنے حبیبﷺ کے پاس پہنچ گئے ۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی کبھی گرفتاریوں اور شہادتوں سے نہ گھبرانا ، وقت آنے پر پوری جرات کے ساتھ ناموس رسول پہ قربان ہوجانا ؎

جس دَھج سے کوئی مقتل میں گیا ، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

✍️لقمان شاہد
19-4-2021

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3139499589663542&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں:
ظالموں کے مدد گار اور پولیس والے ( جوظلم کرتے ہیں ) ، قیامت کے دن جہنم کے کُتے ہوں گے ۔

(کتاب الکبائر للذھبی ، الکبیرۃ السادسۃ والعشرون ، الظلم ، ص 112 ، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۔ کتاب الکبائر مترجم ازعلامہ صدیق ہزاروی ، کبیرہ 26 ، ظلم کرنا ، ص181 ، فرید بک سٹال لاہور )

سیاست دانوں اور افسروں کے کہنے پر بے قصوروں کو گرفتار کرنے اور مارنے والے سپاہیوں کو رب تعالیٰﷻ ہدایت دے ، یہ مرنے سے پہلے پہلے توبہ کرلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے مظالم انھیں جہنم کا کُتا بنا دیں ، اور جن کے کہنے پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں وہ اِن کی کوئی مدد نہ کرسکیں ۔

✍️لقمان شاہد
21-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3140875462859288&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی تھی تو ہزاروں عاشقانِ رسول گرفتار اور شہید ہوئے تھے ۔

اُس وقت غلام محمد گورنر جنرل ( یعنی موجودہ صدر ) کے عہدے پر فائز تھا ، جس نے تاجدارِ ختم نبوت کے نعرے مارنے والے نہتے مسلمانوں کو شہید کروایا ۔

تعجب کی بات ہے کہ غلام محمد نے یہ سب کچھ کروانے کے باوجود سعودی حکومت سے درخواست کی کہ:

مجھے مدینہ پاک میں رہائش دی جائے ۔
درخواست قبول کر لی گئی اور حکومت نے اسے باب جبریل سے قریبی علاقے میں رہائش دے دی ، جو پاکستان ہاؤس کے نام سے معروف ہوئی ۔
پھر اس نے یہ وصیت بھی کی کہ مجھے وہیں دفنایا جائے ۔

لیکن خدا کی قدرت کہ جب یہ‌مرا تو اس کی لاش کو امانتاً عیسائیوں کے قبرستان میں رکھا گیا ، جب کچھ عرصے بعد حسبِ وصیت لاش کو قبر سے نکال کر سعودی عرب روانہ کرنے کے لیے ایک ڈاکٹر ، فوج کے کیپٹن ، پولیس اہلکار ، دو گورکن اور غلام محمد کے قریبی رشتے دار قبر ستان پہنچے ، توگورکن نے جیسے ہی قبر کھود کر تختے ہٹائے تو تابوت کے گرد ایک سانپ چکر لگاتا دکھائی دیا ؛ گورکن نے لاٹھی سے اسے مارنے کی کوشش کی ، مگر وہ نہ مرا ۔
پولیس کے سب انسپکٹر نے پستول سے چھے گولیاں داغیں مگر سانپ کو کوئی گولی نہ لگی ۔
پھر ڈاکٹر کی ہدایت پر زہریلا سپرے کر کے قبر عارضی طور پر بند کر دی گئی ۔ جب دو گھنٹے بعد دوبارہ کھولی تو سانپ اسی طرح چکر لگا رہاتھا ۔
آخر باہمی صلاح مشورے سے قبر کو بند کر دیا گیا اور اگلے دن اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ:

’’سابق گورنر جنرل غلام محمد کی لاش سعودی عرب نہیں لے جائی جاسکی اور وہ اب کراچی ہی میں دفن رہے گی ۔ "

وہ لاش آج بھی کراچی کے گورا ( عیسائیوں کے ) قبرستان میں دفن ہے ۔

عرفان محمود برق صاحب کے مطابق:

اس قبر پر کتے آکر پیشاب کرتے ہیں اور وہاں کا عیسائی گورکن کہتا ہے کہ اس قبر سے چیخوں کی بھی آواز سنائی دیتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم اللہ پاک سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ، پروردگارﷻ ہمیں ذلت والی موت سے بچائے ۔ 😥😥

ہر ظالم کا برا حشر نہیں دکھایا جاتا ، عبرت کے لیے کسی کسی کا دکھا دیا جاتا ہے ۔

اللہ پاک ہمارے حکمرانوں کو بھی اس سابقہ صدر سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق دے !

✍️لقمان شاہد
22-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3141734012773433&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
غیر محرم لڑکی/ لڑکے سے عِشقیہ ، فِسقیہ چیٹنگ کرنا حرام ہے ، جو کہ ماہِ رمضان میں سخت حرام ہوجاتا ہے ۔
غیر محرم سے ایسی گفتگو کرتے وقت اللہ کے نام ، اُسﷻکی قَسمیں ، قرآن پاک ، انشاءاللہ ، ماشاءاللہ ، الحمد للہ ، سبحان اللہ والے اسٹیکرز ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اسلامی ڈی پیاں استعمال کرنا بھی بہت بڑی جسارت ہے ؛ اِن سب چیزوں سے فوراً توبہ کرلینی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ہماری زندگی بُلبلے کی طرح ہے جسے ہوا کا معمولی سا جھونکا نیست و نابود کر کے رکھ دیتا ہے ۔

کیا ہمیں معلوم نہیں کہ عنقریب موت کا ایک جھونکا آئے گا جو ہمارے خس و خاشاک اڑا لے جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور زمانہ کہتا پھرے گا ؎

نہ گَورِ سکندر ، نہ ہے قبرِ دارا
مِٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

نہ مُڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نِیم جاں کیسے کیسے

✍️لقمان شاہد
24-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3143343832612451&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قبلہ دادا جی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہمیں بچپن میں گھی کھانے اور دودھ پینےکی بڑی تاکید کرتے تھے ، کہتے تھے :

دودھ پیا کرو ، دودھ پینے سے حُسن بڑھتا ہے اور دیسی گھی کھایا کرو ، اس سے دماغ کو قوت ملتی ہے ۔

نیز ہمارے سرکے بال بھی نہیں بڑھنے دیتے تھے ، جیسے ہی کنگھی کرنے کے قابل ہوتے ، کٹوا دیتے تھے ؛ کہتے تھے:
بچوں کے سر پر بڑے بال نِرا بوجھ ہوتے ہی‍ں ۔
بچوں کے بال چھوٹے چھوٹے ہونے چاہییں اس سے ان کی گردنیں موٹی اور مضبوط ہوتی ہیں ۔

دودھ گھی والی بات تو ہم برادشت کرلیتے ، لیکن بال کٹوانا کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج امام بخاری رحمہ اللہ کی الادب المفرد پڑھتے ہوئے یہ روایت نظر سے گزری تو احساس ہوا کہ دادا جی ٹھیک ہی کرتے تھے:

امام بخاری نقل کرتے ہیں کہ:

بچوں کو ( اچھے اچھے) شعر یاد کروائیں تاکہ اِن کے عزت و وقار میں اضافہ ہو ۔
اِنھیں گوشت کھلائیں تاکہ ان کے دل مضبوط ہوں ۔
اِن کے بال کٹواتے رہیں تاکہ ان کی گردنیں مضبوط ہوں ۔
اور
اِنھیں ( عالی مرتبت اور ) بڑے لوگوں میں بٹھایا کریں تاکہ یہ ان سے سوال جواب کریں ( تو ان کی خود اعتمادی اور تجربے میں اضافہ ہو ) ۔

( انظر: الادب المفرد ، باب من قال ان من البیان سحرا ، ص 230 ، ر 877 ، ط دارالسلام مصر )

✍️لقمان شاہد
25-4-2021ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3144145532532281&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
فلاح دارین کا مبارک و مسعود موسم!
*رمضان المبارک*
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/186860093269186/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]

ماہِ صیام رمضان المبارک کی بہاریں جلوہ نما ہیں۔ بلکہ پہلا عشرہ برکتوں کی صبح طلوع کر گیا- ہر سال یہ موسمِ بہار آتا ہے۔ اپنی برکتیں لُٹاتا ہے۔ سعادتوں کے توشے بٹتے ہیں۔ رحمتوں کی بادِ بہاری چلتی ہے۔ برکتوں سے دامنِ مراد بھر بھر دیے جاتے ہیں۔ اِس کی ہر ساعت افضل، ہر لمحہ قیمتی، ہر گھڑی نور نور۔ ایسے ماہِ مبارک کو غنیمت جانتے ہوئے اس کی عطا پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ اس کے حقوق کی ادائیگی کو وطیرہ بنائیں۔ اس ضمن میں چند نکات درج کیے جاتے ہیں جن پر عمل آوری سے ہم دارین کی سعادتیں پا سکتے ہیں، آخرت کو سنوار سکتے ہیں؛ اور عروج و بلندی کی منزلیں پا سکتے ہیں۔
[۱] اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کی نعمتوں سے نوازا۔ ان میں ایک عظیم نعمت ماہِ رمضان ہے۔ اس لیے اس کے ادب و احترام میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔ ادب سے زندگی کا وقار ہے۔ ادب سے خوش عقیدگی کی بہار ہے۔ ادب ہی شرف و فضل کے مقامِ بلند پر فائز کرتا ہے۔ اس لیے رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے سرفرازی کے لیے اکرام و احترام کا مظاہرہ کیجیے۔
[۲]تقویٰ کی راہ اپنائیے۔ ماہِ رمضان کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کو تقویٰ کا جوہر عطاہو۔ روزہ تقوے والی زندگی کی تربیت کرتا ہے۔ روزہ باطنی تطہیر کا سامان مہیا کرتا ہے۔ روزہ تزکیۂ روح، اصلاحِ قلب، تعمیرِ فکر کے ذریعے متقی بناتا ہے۔ اس لیے رمضان کا حق یہ ہے کہ اس سے تقویٰ کی فکر بیدار کی جائے۔
[۳]تزکیۂ نفس کا مرحلۂ شوق ہے رمضان المبارک۔ نفس- گناہوں کی عادت سے بڑا سخت ہوجاتا ہے، معاذاللہ! نیکیوں سے رغبت نہیں رہتی۔ روزہ روح کا علاج اور نفس کا محاسبا کرتا ہے؛ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎

اللہ اللہ کے نبی سے
فریاد ہے نفس کی بدی سے
دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی
لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے

اعلیٰ حضرت نے ان اشعار میں جو معروضہ پیش کیا ہے وہ احتسابِ نفس سے متعلق ہے۔دُنیا میں رہ کر دُنیا کی رنگینی اور شرارتِ نفس سے بچ جانا یقیناً مقبولیت کی دلیل ہے۔ بندۂ مومن کے لیے ماہِ رمضان اصلاح کا پروانہ ہے؛ جس میں باطنی تربیت سے اصلاحِ نفس کا مرحلۂ شوق طے ہوتا ہے۔اور کامیابی کی منزل ملتی ہے۔ بس دُعا یہی ہے کہ مولیٰ تعالیٰ نفس کی شرارتوں سے ہمیں محفوظ رکھے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
[۴]زکوٰۃ کا نظام معاشی اعتبار سے بہت جامع ہے۔ اس سے جہاں گداگری پر قابو پایا جا سکتا ہے؛ وہیں مفلسی کے شکار مسلمانوں کی داد رَسی بھی کی جا سکتی ہے۔ معاشرے کے دَبے کچلے افراد کے لیے زکوٰۃ ایک ایسا سہارا ہے جس کے ذریعے خود کفیل زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ ماہِ صیام میں ثواب کی زیادتی کی وجہ سے بڑی تعداد میں مسلمان زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ حالاں کہ اصولاً مالکِ نصاب پر نصاب کی مدت جب بھی پوری ہو زکوٰۃ نکالنی ضروری ہے۔ جن کے یہاں زکوٰۃ ماہِ صیام میں ہی نکالنے کی روایت ہے انھیں چاہیے کہ مستحقین کا جائزہ لے لیں۔ بڑی تعداد ان افراد کی بھی ہوتی ہے جو اہل ہوتے ہوئے بھی سوال نہیں کرتے اور صبر اختیار کر کے اپنی حاجت چھپاتے ہیں۔ ایسے افراد تک بھی مدَد پہنچائی جائے۔ زکوٰۃ دینے کا عمل احسان کی بجائے رضاے الٰہی کی خاطر انجام پذیر ہو۔زکوٰۃ کے اہل غیر اقامتی تعلیمی اداروں کے مقابل اقامتی مدارس کو ترجیح دی جائے۔ مفلوک الحال رشتہ داروں، متعلقین کا خاص خیال رکھا جائے۔
[۵] اللہ تعالیٰ ماہِ صیام میں رزق میں خاص برکت نازل فرماتا ہے۔ دستر خوان کشادہ ہو جاتا ہے۔ انواع و اقسام کی نعمتیں زینت بنتی ہیں۔ ان نعمتوں میں غربا و مساکین کو بھی عز و وقار کے ساتھ شامل کریں۔ جو انواع واقسام کے کھانوں سے محروم ہیں انھیں بھی حق دار سمجھتے ہوئے لذتِ کام و دہن کا موقع مہیا کریں۔
[٦]معاشرے میں ایسے افراد تلاش کریں جو بیمار ہوں یا ضعیف وناتواں و حق دار؛ ان کے علاج کے کفیل بنیں- ان کے لیے دوا کا نظم کریں۔ ویسے بھی بیماری میں مبتلا انسان یاسیت کا شکار ہوتا ہے؛ اگر ایسوں کو سہارا دے دیا جائے تو گویا- ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا۔
[۷]رمضان المبارک میں نمازوں کی پابندی بھی خوب ہوتی ہے، اسے پورے سال بلکہ ساری زندگی برقرار رکھنے کے لیے عزم کریں!
[۸]ہم نمازوں سے بڑی کوتاہی کرتے ہیں، اس لیے حساب لگائیں تو یقیناً قضا نمازیں ذمہ آئیں گی۔الا ماشاء اللہ۔ اس لیے شبِ رمضان میں قضا نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام بھی کریں۔ کوشش کریں کہ جو نمازیں باقی ہوں وہ جلد از جلد ادا ہو جائیں؛ آئندہ ہر نماز وقت پر باجماعت صحیح صحیح فکر کے حامل امام کی اقتدا میں ادا کریں۔
[۹]اوقاتِ سحر و افطار میں احتیاط سے کام لیں۔ بعض کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اذانِ فجر تک وقتِ سحر رہتا ہے یہ غلط ہے۔ اذانِ فجر نماز کے لیے ہے نہ کہ ختمِ سحر کے لیے۔
[۱۰] تراویح بڑی بابرکت نماز ہے۔ اس سے کوتاہی نہ کریں۔ آج یہ بہانہ تراش لیا گیا
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ہے کہ ٦؍دن یا ۱۰؍ دن یا شبینہ پڑھ لیں تو بری الذمہ ہوجائیں؛ جب کہ رمضان کی ہر شب میں ۲۰؍رکعت تراویح کی نماز سنتِ مؤکدہ ہے جس کی پاسداری بہر حال ضروری ہے۔
[۱۱]حقوق العباد کی ادائیگی بھی کریں۔ ورنہ ہم عبادتوں کے پابند تو کہلوا لیں گے؛ لیکن حقوق ذمہ باقی ہوں گے تو آخرت میں مواخذہ ہوگا۔
[۱۲]روزہ میں صبر کا مظاہرہ کریں، غصہ سے روزے کا فیض کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ دوسروں پر روزے کا اثر ظاہر کرنے کی بجائے نارمل سلوک کریں تا کہ آپ کے صبر کا اظہار بھی ہو اور روزے کے برکات بھی حاصل ہوں۔
اللہ کریم عملِ صالح کی توفیق دے۔ اپنی اور اپنے پیارے محبوب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا و خوش نودی والی زندگی عطا فرمائے۔آمین بجاہ سیدالمرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم۔
٭٭٭
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*اللہ دیکھ رہا ہے…!*
_{خشیتِ الٰہی کا دل کش نظارہ}_
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/183507906937738/
    گرمی کے ایام ہیں... سورج غروب ہو چکا ہے... شام کی تیرگی چھا گئی ہے... افق پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں… اچانک فضا میں ارتعاش پیدا ہوا... پوری فضا پاکیزہ ہو اُٹھی… ایک صدا اُبھری… رمضان کا چاند نظر آگیا! مسرتوں کے دیپ جل اُٹھے... مسجدوں میں نئی رونق... سحر و افطار کے پر کیف نظارے... عالَم ہی بدل گیا… چمن میں بہار آ گئی… روحانی بہار … ایمانی بہار… اللہ اللہ! کردار چمکنے لگے… جذبات مچلنے لگے… چھوٹے بڑے سبھی خوشی و مسرت سے جھومنے لگے…

    موسم گرما میں ویسے بھی دن بڑے ہو جاتے ہیں اور راتیں چھوٹی… سخت گرمی ہے… تمازت کا عجب عالَم… شمالی ہند کا علاقہ روہیل کھنڈ کے شہر بریلی میں گرمی کی شدت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے… ایسے میں بریلی کے ایک معزز گھرانے میں ایک کم سِن بچہ بھی روزے سے ہے… گرمی کی شدت سے بڑوں کا بھی حال عجب ہے… آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب سے روشن ہے… شدتِ گرمی سے ہر شے متاثر ہے... ایسے وقت میں اس روزہ دار بچہ کے والد؛ بچے کو ایک محفوظ کمرے میں لے جاتے ہیں… جہاں کوئی نہیں دیکھ رہا ہے… والد صاحب اندر سے دروازہ بند کر لیتے ہیں… والد صاحب کے ہاتھ میں ’’فیرنی‘‘ کا ایک پیالہ ہے… اور! بچے سے کہتے ہیں: ’’اسے کھا لو!‘‘… بچہ ادب سے کہتا ہے: ’’میرا تو روزہ ہے، کیسے کھاؤں؟‘‘… والد صاحب کہتے ہیں: ’’بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے‘‘… لو کھا لو! مَیں نے کواڑ بند کر دیے ہیں، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے!… بچہ کہتا ہے: ’’جس کے حکم سے روزہ رکھا وہ تو دیکھ رہا ہے‘‘… یہ سُنتے ہی والد صاحب کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو بہہ نکلے… بات ایمان افروز تھی… یہ بچہ بڑا عظیم تھا… والد صاحب نے امتحان کے طور پر ایسا کیا تھا… اور! بچہ والد صاحب کے معیار پر پورا اُترا… اہلِ خاندان اس طرح کے واقعات کا پہلے بھی مشاہدہ کر چکے تھے…اس سے بچے کی ثابت قدمی دیکھنی تھی… اللہ کی ذات پاک پر یقینِ کامل دیکھنا تھا…

    یہ بچہ کون تھا؟… جس کے ایمان کی تازگی کا یہ عالَم! جس کا دل اللہ کی یاد سے روشن!… اس بچے نے بڑے ہو کر اسلام کی عظیم خدمت کی… مسلمانوں کو انگریزوں کی سازشوں سے با خبر کیا… ایمان کے لُٹیروں سے گلشن اسلام کی نگہبانی کی… شرک کے طوفان سے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی… وہ مسلمانوں کا ہم درد اور خیر خواہ تھا… وہ عاشقِ رسول تھا… محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی پہچان تھی... وہ علم و دانش کا سمندر تھا… اُس کی دینی بصیرت اپنے زمانے سے آگے دیکھتی تھی… اُس نے اسلام کی سرحد و سیما پر محبتِ رسول کی پختہ فصیل کھڑی کی… اُس نے بدعات کے خلاف سیکڑوں کتابیں لکھیں… اُس نے قرآن کریم کا ایمان افروز ترجمہ (بنام:کنزالایمان) کیا… اُس نے علم حدیث میں بہت سی کتابیں لکھیں… اُس نے علمِ تفسیر میں کام کیا… جانتے ہو وہ بچہ کون تھا؟ جس نے آگے چل کر عظیم کارنامے انجام دیے…اور ملتِ اسلامیہ کا سر فخر سے بُلند کیا… وہ بچہ ’’احمد رضا خان‘‘ تھا، جسے دُنیا ’’مفکر اسلام امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی‘‘ کے نام سے جانتی ہے…"اعلیٰ حضرت" کے لقب سے شہرت ہے... علماے عرب نے جسے ’’امام المحدثین‘‘ کہا… ’’مفسر شہیر‘‘ کہا…جس کی ریاضی میں مہارت کے جلوے دیکھ لینے کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد نے کہا تھا... ’’صحیح معنوں میں یہ ہستی نوبل پرائز کی مستحق ہے‘‘… بے شک یہ عظمت خوفِ خدا، خشیتِ الٰہی کے سبب ہی تھی؛ جس کا اظہار بچپن میں ہی ہو گیا تھا...

    سچ ہے! اللہ والوں کا بچپن بھی شان والا ہوتا ہے… یہ خدائی اہتمام ہوتا ہے… اللہ جسے دین کی خدمت اور اسلام کی پاسبانی کو چُن لیتا ہے؛ اس کی ذات کو نکھار دیتا ہے… اُس کا بچپن بھی نرالا… شباب بھی نرالا… بڑھاپا بھی نرالا… اور زندگی نمونۂ عمل… اسوۂ نبوی پر عمل کی تصویر… اور وہ مردِ مومن اور مردِ حق آگاہ ہوتا ہے... اس کی نگہِ ولایت سے انقلاب برپا ہوتا ہے… اقبالؔ نے ایسی ہی ذات کے لیے کہا تھا  ؎

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
***