🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
انکشاف حق کا مصنف خلیل احمد بریلوی ہے یا دیوبندی؟

افادات :
مفتی انس رضاقادری

گھمن دیوبندی لکھتا ہے:
مولانا خلیل احمد خان برکاتی جنہوں نے حق کے بیان کا حق ادا کر دیا اور بتایا کہ فاضل بریلوی نے تکفیر کے کے غلطی کی ہے وہ لکھتے ہیں:
دو مسئلے اعلیحضرت نے امت مرحومہ کے سامنے ایسے پیش کیے جو ان سے قبل کسی امام، عالم، کسی ولی کو نہ سوجھے۔ دونوں مسئلوں کی بناء پر ہندوستان کے مسلمین میں جابجا جھگڑے اور فساد، نا اتفاقیاں، بغض، کینہ، بوگوئی، ایذائے مسلمین و غیبت و بہتان بری طرح پھیلے۔ رب تعالیٰ رحم فرمائے گھر گھر اختلاف، بھائی بھائ کا دشمن و مخالف بن گیا۔ وہ دو مسئلے فاضل بریلوی نے پیش کیے وہ یہ ہیں:۔

1؛ تمام علماء دیوبند تمام علماء مدرسہ قادریہ بدایوں کی تکفیر۔

2: مسئلہ اذان ثانی یعنی جمعہ کی اذات خطبہ کا باہر یعنی مسجد سے خارج ہونا۔
📗انکشاف حق، ص 13۔14۔

ایک جگہ لکھتے ہیں:
ان کو قطع و برید و تحریف کا ایسا چسکا پڑگیا ہے کہ کوئی عبارت کسی کی پوری نقل نہیں فرماتے۔ علماء بدایوں فاضل بریلوی کے لیے صاف صاف بتا رہے ہیں کہ ان کو قطع و برید و تحریف عبارت غیر کا چسکا پڑگیا ہے۔
📗 انکشاف حق ص 189۔

قارئین ذی وقارہم نے اختصار سے حسام الحرمین کا جواب عرض کردیا ہے کہ جو سلیم الفطرت لوگوں کے لیے کافی ہے۔ مگر ہماری ٹکر جس گروہ سے ہے وہ سب بھیڑیں ہیں، اس لیے ہمیں تفصیل سے اس پر کچھ لکھنا ہے۔
📗 (حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 57)

گھمن صاحب! یہ تو ہم ثابت کریں گے کہ اصلی بھیڑیں دیوبندی ہیں اور یہ کس طرح جھوٹ اور تحریفات کا سہارا لیتے ہیں۔ آج قارئین بھی جان جائیں گے قطع برید کا چسکا اعلی حضرت کو نہیں دیوبندی مولویوں کو ہے۔
یہ جو دو حوالے دے کر گھمن صاحب نے بڑی چیخ و پکار کی ہے اور مفتی خلیل کا نام پیش کیا اور انکشاف حق کتاب کا حوالہ دیا ہے، اس کی اصل ہم قارئین کو بتاتے ہیں اور فیصلہ ان قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ جھوٹا کون ہے اور سچا کون ہے؟ انکشاف حق کتاب نری جھوٹ و فریب اور دھوکہ دہی ہے جو دیوبندیوں کی پرانی عادت ہے۔ مولوی خلیل احمدبدایونی بجنوری ایک بہروپیا شخص تھا جو درحقیقت دیوبندی تھا لیکن بریلوی بن کر دھوکہ دیتا رہا، خود اس کے بیٹے دیوبندیوں وہابیوں کے مدرسے میں پڑھتے تھے۔
بلکہ خود خلیل احمد بجنوری بھی اہل سنت کے کسی مدرسہ سے فارغ نہ تھا۔ جب علماء اہل سنت نے اس کی فریب کاریاں دیکھیں تو مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے اس کے متعلق ایک مدلل فتوی اس کے غیر سنی ہونے پر تحریر فرمایا جس کی تائید و تصدیق 180 مشہور علمائے کرام نے کی۔
جب خلیل بجنوری کا بھانڈا پھوٹا تو پھر اس کی دیوبندیت کھل گئی اور اس نے انکشاف حق کتاب لکھ کر واضح طور پر خود کو دیوبندی ظاہر کردیا۔ خلیل بجنوری کی یہ کتاب نری جاہلانہ تصنیف ہے۔ اس کا مقدمہ بھی تقریبا پچاس صفحات تک دیوبندی مولویوں کا ہے۔
دنیا کی یہ واحد کتاب ہوگی جو منسوب تو بریلوی عالم کی طرف ہے لیکن اس کے مقدمے دیوبندیوں نے لکھے ہیں اور یہ کتاب دیوبندی مکاتب سے ہی ملتی ہے اور انٹر نیٹ میں بھی دیوبندی سائیٹس پر ہے۔

مقالات شارح بخاری ج 2میں مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے خلیل احمد بجنوری کی مکاری کا پردہ چاک کیا ہے۔

اس کی انکشاف حق کا تفصیلی جواب بھی سنی عالم دین قبلہ غلام محمد خاں صاحب ناگپوری نے بنام عجائب انکشاف دیا۔
اس میں خلیل احمد بجنوری کی جہالتوں کا علمی رد کیا۔ اس کتاب کے مقدمہ میں مولانا محمد حسن علی رضوی صاحب نے مولوی خلیل بجنوری کا تعارف پیش کیا ہے، وہ مختصرا قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے:۔

مولانا محمد حسن علی رضوی صاحب میلسی لکھتے ہیں:
پاکستانی دیوبندیوں وہابیوں نے اپنی دانست میں کوئی بہت بڑا تیرمارا کہ ہندوستان کے ایک قطعی غیر معروف و غیر معتبر و غیر مستند مولوی خلیل بجنوری خود ساختہ بدایونی کی ایک پرفریب و شدید مغالطہ آمیز کتاب انکشاف حق پاکستان میں لا کر فیصل آباد سے شائع کردی اور بے چارے مولوی خلیل بجنوری کو بریلویوں کا مفتی اعظم اور اعلی حضرت کا پیروکار بنا کر پیش کیا اور شدید مغالطہ دینا چاہا، حالانکہ اکابرومشاہیر علماء و فقہاء و مشائخ اہل سنت شہزادہ اعلی حضرت شیخ الشیوخ امام العلماء مولانا شاہ محمد مصطفی رضا خان صاحب قبلہ نوری رضوی سجادہ نشین آستانہ عالیہ رضویہ بریلی شریف کو مفتی اعظم مانتے اور کہتے ہیں۔
مولوی خلیل بجنوری کو آج تک سنی بریلوی علماء تو کیا کبھی دیوبندی وہابی مولویوں نے بھی مفتی اعظم نہ مانا نہ لکھا۔الغرض مولوی خلیل کو رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کیا۔ کیونکہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی غنیمت ہوتا ہے۔ اور پھر مولوی خلیل کو سنی بریلوی اور سیدنا اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا پیروکار ظاہر کیا گیا، پاک و ہند کا کوئی مائی کا لال دیوبندی ثابت نہیں کرسکتا کہ مولوی خلیل بجنوری نے دارالعلوم جامعہ رضویہ منظر اسلام یا رضوی دارالعلوم مظہر
اسلام بریلی شریف میں تعلیم حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی ہو یا کسی سنی بریلوی، رضوی دارالعلوم میں تحصیل علم کی ہو یا امام اہل سنت سیدنا اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ یا آپ کے صاحبزادگان سیدنا حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خان صاحب بریلوی، سیدنا مفتی اعظم مولانا شاہ محمد مصطفی رضا خان صاحب بریلوی قدس سرہما یا خلفاء و تلامذہ اعلی حضرت میں سے کسی سے شرفِ بیعت و خلافت اور سند تحصیل علم اس کو حاصل ہو۔
البتہ ابتدائی تعلیم کچھ عرصہ بریلی شریف میں حاصل کی پھر علامہ سید محمد خلیل محدث امروہوی کے مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ چلا گیا اور اس کے بعد مدت مدید گوشہ گمنامی میں رہا اور غالبا جعلسازی اور فریب کاری کی ٹریننگ حاصل کرتا رہا، پھر مولوی ابراہیم ممیتی پوری فریدی کے توسط سے بڑے مکارانہ انداز میں انتہائی متشدد سنی بن کر 1947ء میں بدایوں میں نمودار ہوا اور سنیوں بریلویوں میں اپنا اعتماد بحال کرنے اور اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے بظاہر بہت سخت گیر اور متصلب سنی بنا رہا اور دھوکہ و مغالطہ دینے کے لیے مارہرہ شریف کے ایک بزرگ حضرت مولانا سید اولاد رسول محمد میاں صاحب مارہروی کا مرید بھی ہوگیا تاکہ قادری برکاتی ہونے کی ڈگری بھی مل جائے۔
یہ شخص ضلع بجنوری کےایک گاؤں منداور کا ہونے کے باوجود خود کو بدایونی لکھنے لگا۔ جعلسازی کے تحت جس زمانہ میں سخت گیر متشدد سنی بنا ہوا تھا، اپنی نجی محفلوں میں شہزادہ اعلی حضرت سیدنا امام حجۃ الالسلام شیخ الانام شاہ محمد حامد رضا خان صاحب، حضور سیدنا مفتی اعظم امام العلماء مولانا شاہ مصطفی رضا خان صاحب، حضور صدرالصدور صدرالشریعہ مولانا شاہ محمد امجد علی صاحب اعظمی رضوی، حضرت صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی قدست اسرارہم جیسے بزرگوں اور اکابر اہل سنت پر خفیہ تنقید کرتا رہتا اور کسی کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھتا بلکہ اپنے آپ کو اپنی خام خیالی میں بڑوں سے بڑا سنی اور اکابرین کا اکابر سمجھتا اور پس پردہ اپنی نجی محفلوں میں بڑی عیاری سے نانوتوی، گنگوہی، تھانوی وغیرہ کی تعریفیں بھی کرتا اور ناواقف لوگوں کےدلوں میں ان کی اہمیت بٹھاتا۔

اکابر علماء اہل سنت ان کی نقل و حرکت اور خفیہ کرتوتوں پر نظر رکھے ہوئے تھے اور اس کے ظاہروباطن کا بنظر غائر جائزہ لیتے رہے۔ مولوی خلیل بجنوری کی عیاری و مکاری کے بہت سے کوائف ہمیں فقیہ زماں حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی کے خصوصی شاگرد حضرت مولانا مظہر حسن برکاتی جو بدایوں ہی کے رہنے والے ہیں اور دوسرے سنی علماء بدایوں سے حاصل ہوئے۔
جب مولوی خلیل بجنوری کی عیاری ومکاری اور فریب کاری کا راز طشت از بام ہونےلگا تو پھر بھی علماء اہل سنت نے تحمل اور ضبط سے کام لیا بالخصوص مولانا قاضی شمس العلماء مفتی شمس الدین رضوی محدث جونپوری علیہ الرحمہ فقیہ زماں مفتی شریف الحق امجدی ، محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفی اعظمی، حضرت علامہ مفتی غلام محمد خان صاحب ناگپوری، حضرت علامہ مفتی رضوان الرحمن، حضرت مولانا مفتی محمد مشاہد رضا خان صاحب ابن شیر بیشہ اہل سنت شیر رضا، اور نبیرہ اعلی حضرت مظہر مفتی اعظم علامہ مفتی محمد اختر رضا خان صاحب قادری ازہری فاضل جامع ازھر، مصر جیسے جلیل القدر علماء اہل سنت نے مولوی خلیل بجنوری کے پاس آمنے سامنے گفتگو کی شکوک و شہبات ہوتے تو زائل ہوجاتے، مگر مولوی خلیل بجنوری عیاری و مکاری اور فریب کاری کے ایک مستقل پلان اور چارٹ پر عمل کر رہا تھا، لہذا علماء اہل سنت کی مخلصانہ مساعی کا اس پر کچھ اثر نہ ہوا، دلائل سے عاجز آگیا۔
آمنے سامنے گفتگو میں منہ پر مہر سکوت لگ گئی مگر وہی مرغ کی ایک ٹانگ ہانکتا رہا ہے۔ مشاہیر و ممتاز علماء اہل سنت نے متعدد بار مولوی خلیل بجنوری کی مسجد محلہ سوتھہ بدایوں پہنچ کر اس پر اتمام حجت کیا، ہر بار لاجواب و مبہوت ہوا۔ بدایوں شہر علماء اہل سنت کے نعرہ حق سے گونجنےلگا۔ مولوی خلیل کا عجز اور بے بسی و لاچاری سب پر اچھی طرح ظاہر ہوگئی۔

اس دوران یہ راز بھی منکشف ہوا کہ مولوی خلیل بجنوری سنیوں کو بہکانے اور ورغلانے کے لیے جو بظاہر پکا سنی بنا ہوا تھا پس پردہ اس کے دونوں لڑکے دیوبندیوں اور وہابیوں کے مدرسوں میں زیر تعلیم ہیں، بڑا لڑکا عتیق احمد مشہور دیوبندی مفتی کفایت اللہ دہلوی کے مدرسہ امینیہ میں اور دوسرا لڑکا فضیل ظفر احمد میاں دارالندوہ لکھنؤ میں زیر تعلیم ہے۔

مذکورہ بالا صورت حال سے خلیل بجنوری کے پیر خانہ مارہرہ شریف خانقاہ عالیہ برکاتیہ قادریہ کےسجادہ نشین صاحب کو بھی آگاہ کیا اور انہوں نے خود براہ راست اور علماء اہل سنت کے توسط سے گفتگو کرکے اچھی طرح یقین کرلیا کہ مولوی خلیل بجنوری چھپا رستم ہے۔ بظاہر سنی قادری برکاتی اور اندرون خانہ دیوبندی وہابی بجنورری ہے۔ بالآخر بزم قاسمی برکاتی بدایوں کے اراکین کی طرف سے مولوی خلیل بجنوری سے متعلق ایک اہم استفتاء اکابر علماء اہل سنت مفتیان شریعت کی خدمت میں پیش کیا
گیا اور 30 ربیع الآخر 1401ھ بروز یک شنبہ حضرت علامہ نازش فقہاء نائب مفتی اعظم ھند علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے مولوی مذکور پر مدلل و متحقق طویل فتوی مبارکہ صادر فرمایا جس پر 180 مشہور و ممتاز علماء کرام مفتیان عظام اہل سنت کی تائید و تصدیقات ثبت ہیں۔ اور یہ کہ مولوی خلیل بجنوری کے پیر خانہ کےسجادہ نشین صاحب نے اس کےدل و دماغ میں چھپی ہوئی دیوبندیت و وہابیت اور عقائد باطلہ کے پیش نظر اس کی بیعت کو فسخ کرتے ہوئے سلسلہ عالیہ برکاتیہ سے خارج کردیا اور یہ متفقہ فتوی بنام شرعی فیصلہ خدام بزم قاسمی برکاتی بدایوں شریف یو پی بھارت سے چھپوا کر اراکین کمیٹی مسجد جعفری عقب گھنٹہ گھر بدایوں یو پی کی طرف سے شائع کردیا اور بزم قاسمی برکاتی بدایوں اور بزم رضائے مصطفی بدایوں نے اس کی اشاعت میں سرگرم و فعال کردار ادا کیا۔

اور پھر جب عوام و خواص اہل سنت میں مصنوعی سنی جعلی قادری بناسپتی برانڈ برکاتی کا پول کھل گیا، اس کے تمام تر مریدین اس سے منحرف ہوگئے، اس کی ناپاک بیعت کو توڑ کر اہل بدایوں نے شیخ الشیوخ شیخ العلماء حضرت قبلہ مفتی اعظم شہزادہ اعلی حضرت مولانا شاہ محمد مصطفی رضا خان صاحب کو دعوت دی 9 مارچ 1981ء چار بجے دن حضور سیدنا مفتی اعظم قبلہ شہزادہ اعلی حضرت نے بدایوں میں نزول اجلال فرمایا اور جناب رئیس احمد صاحب کی کوٹھی پر قیام فرمایا اور ہزاروں افراد گروہ در گروہ حاضر ہوکر شرف بیعت سے مشرف ہوئے اور سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں داخل ہوئے اور مولوی خلیل بجنوری کے منحرف سینکڑوں مریدین بھی سیدنا مفتی اعظم قدس سرہ العزیزسجادہ نشین بریلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوگئے۔
📗 (مقدمہ عجائب انکشاف ص 49، مجلس اتحاد اسلامی، کراچی)

چلو ایک لمحہ کے لیے مان لیا جائے کہ مولوی خلیل دیوبندی سنی تھا تو جب اس نے حسام الحرمین کا انکار کیا تو سنی کاہے کا رہا؟
اگر کوئی سنی معاذاللہ دیوبندی وہابی ہو جائے تو اس سے حسام الحرمین کی حیثیت کو کیا فرق پڑتا ہے؟
کئی ایسے سنی علماء ہیں جو پہلے دیوبندی یا وہابی تھے بعد میں سنی ہوگئے جیسے مولانا حشمت علی خان پہلے اشرف علی تھانوی کے مرءد حافظ عبدالغفار سے پڑھتے تھے لیکن جب اعلی حضرت کی تصنیف تمہید الایمان پڑھی تو دیوبندیت چھوڑ کر ایسے سنی عالم بنے کہ دیوبندیت و وہابیت کا رد کرتے رہے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ بھی دیوبندی مدرسہ میں پڑھتے تھے بعد میں زبردست سنی بنے کہ رد وہابیت کرتے رہے۔
صاحبزادہ سید فیض الحسن آلو مہار دیوبندی وہابی مجلس احرار کی روح رواں تھے، دیوبندی امیر شریعت مولوی عطاءاللہ بخاری اور دوسرے اکابر دیوبند کے ساتھ ان کے گہرے قریبی روابط و مراسم تھے بالآخر محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد صاحب قدس سرہ کی برکت سے اور حضرت علامہ ابوداؤد مولانا الحاج محمد صادق صاحب کی محنت و کوشش سے یہ بھی دیوبند کی گستاخانہ عبارات پر ان کی تکفیر کرنے لگے۔
اب اگر ان علماء کی پچھلی زندگی کو کوئی دیوبندی وہابی اپنے مذہب پر حجت بنائے تو اسے بیوقوف ہی کہیں گے، اسی طرح اگر کوئی سنی سے وہابی، دیوبندی ہو جائے تو ہم اہل سنت اس کی زمانہ سنیت کی زندگی کو حجت نہیں بنائیں گے بلکہ اسے مردود ٹھہرائیں گے۔
لہذا اگر خلیل بجنوری سنی بھی تھا تو حسام لحرمین کی تائید نہ کرکے سنی نہ رہا، اب اس کا قول و فعل ہم پر حجت نہیں۔

پھر دیوبندی خلیل بجنوری کا بڑا جھوٹ و بہتان دیکھیں کہ یہ لکھ دیا کہ اعلی حضرت نے تمام علماء مدرسہ قادریہ بدایوں کی تکفیر کی ہے جبکہ یہ صریح بہتان ہے۔
دوسرا اعلی حضرت پر یہ بہتان باندھا کہ ان کا جمعہ کی اذان ثانی کےمسجد سے باہر پڑھنے کے فتوی نے ہندوستان میں انتشار پھیلایا جبکہ یہ انتشار کا باعث نہیں بلکہ اصلاح کا باعث ہوا اور آپ نے کثیر دلائل سے واضح کیا کہ مسجد میں اذان دینا خلاف سنت ہے۔

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ اہل سنت کے ایک مستند عالم و مفتی حضور قبلہ مفتی محمد خلیل خان برکاتی قادری علیہ الرحمہ ہیں۔ ان کے بھی مرشد حضور سید محمد میاں علیہ الرحمہ تھے اور یہی خلیل بجنوری کے سابقہ مرشد تھے۔ دیوبندی خلیل بجنوری کے ساتھ بھی برکاتی لکھ کر مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ مفتی خلیل وہی اہل سنت کا مفتی خلیل خان برکاتی ہے جبکہ اہل سنت کے مفتی خلیل خان برکاتی صاحب واضح انداز میں اکابر دیوبند کی تکفیر کرتے تھے چنانچہ اپنے فتاوی خلیلیہ میں فرماتے ہیں:
یہ نانوتوی صاحب وہی ہیں جو اپنی کتاب میں صاف لکھ چکے ہیں کہ خاتم النبین کے معنی سب سے پچھلا نبی سمجھنا جاہلوں کا خیال ہے اہل فہم کا نہیں ہے۔ اسے فضیلت میں کچھ دخل نہیں، ایسے ویسوں کے اوصاف کی طرح ہے وغیرہ وغیرہ اور اس عبارت میں تو اندر کے دل کی لاکر کھول دی۔ ظاہر ہے کہ جب بعد زمانہ اقدس کوئی نبی پیدا ہوا تو حضور ﷺسب سے آخری نبی نہ ہوں گے۔ اس سے صاف روشن ہے کہ خاتم النبین سے نانوتوی صاحب نے مطلقا کفر کیا اور
اسی کتاب میں ختم زمانی کی نسبت خود کہا تھا اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔ تو اپنے منہ آپ ہی کافر ہوئے یا نہیں؟
تو علماء اہل سنت اور مسلمانوں نے اس سے بڑھ کر نانوتوی کو اور کیا کہا ہے جس پر ان کے چیلوں نے غل مچا رکھا ہے؟ واللہ تعالیٰ اعلم۔
📗 (فتاوی خلیلیہ ج 1 ص 168۔ ضیاء القرآن لاہور)

اسی طرح ج 1 کے ص 168۔ 169 پر براہین قاطعہ اور اشرف علی تھانوی کی حفظ الایمان کی کفریہ عبارات پرکلام کرکے اسے کفر قرار دیا۔

انکشاف حق کتاب کے جھوٹ و باطل ہونے پر ایک اور دلیل یہ ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ بھی اعلی حضرت کےدیوبند کی تکفیر کے فتوی کو درست نہ مانتے تھے، چنانچہ انکشاف حق کے ص 13 پر ہے:
احمد رضا خاں صاحب کے کئی قریبی لوگ مثلا مولانا ظفرالدین بہاری المعروف ملک العلماء وغیرہ تکفیر کے فتوی کو درست نہ جانتے تھے۔

جبکہ حضرت ملک العلماء بہاری علیہ الرحمہ خود اہل سنت کی طرف سے وہابی دیوبندیوں اور دیگر گمراہ فرقوں سے مناظرہ کرتے رہے۔ ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ نے حیات ااعلی حضرت ج 2 ص 210 سے لے کر 238 تک اسماعیل دہلوی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی اور اشرف علی تھانوی کا شدومد سے رد کیا اور ان کے کفریات کو نقل کیا ہے۔ نانوتوی کے کفر کے متعلق لکھتے ہیں:
انہیں جیسے کلمات کفریہ کی وجہ سے کہ ان عبارتوں میں صاف خاتم النبین کا انکا رہے اور ہر طبقہ زمین میں ایک رسول خاتم الانبیاء ماننا ہے۔ علماء اسلام نے نانوتوی کے کفر کا فتوی دیا اور ان کے رد میں مضامین لکھے، کتابیں تصنیف فرمائیں۔ اعلی حضرت نے بھی ان کے رد میں 12 کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔
(ایضا ج 2 ص 226)

اسی طرح فتاوی ملک العلماء ص 229 نوری کتب خانہ لاہور پر حسام الحرمین کی خوب تائید کی گئی ہے۔

المختصر یہ کہ دیوبندیوں کا خلیل بجنوری دیوبندی کو سنی بنا کر پیش کرنا اور جگہ جگہ اس کی مردود کتاب انکشاف حق کا حوالہ دینا دھوکہ دہی ہے۔ دیوبندیوں سے گزارش ہے کہ اب آپ بڑے ہوجائیں یہ بچگانہ حرکتیں چھوڑ دیں۔ یہ پندرہویں صدی ہے، اب یہ جھوٹ و فریب نہیں چلے گا۔ ہر کوئی چوزہ نہیں ہوتا جو دیوبندیوی چوزے بنے ہوئے ہیں انہی کو چوزے بنائیں۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2987181118227862&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
برکت کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برکت کو بیان نہیں، محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ آمدن و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اور بنا کسی ٹینشن کے اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں۔ پھر چاہے آپ کی آمدن ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔ اس کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سیٹھوں اور سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔

اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں روڈ کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وه دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے، اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم الله پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔ اس کیفیت میں جو قرار اور دلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وه کسی لکھ پتی کو میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے مہنگے برگر کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ الله تعالى آپ کو اور آپ کے گھر کے افراد کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ انسان، اسپتال اور ڈاکٹروں کے چکروں سے بچا رہتا ہے۔ یوں اس کی آمدن پانی کی طرح بہہ جانے سے محفوظ ره جاتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔ وه تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو الله تعالى نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔ وه اپنے دوستوں کی دیکھا دیکھی، آئے دن آپ سے نئی نئی فرمائشیں (مثلاً موبائل، کپڑے، جوتے وغیره) نہیں کرتی بلکہ قانع اور شاکر رہتی ہے۔

برکت کا تعلق مادی ذرائع کے برعکس الله تعالى کی غیبی امداد سے ہے۔ ایسی غیبی امداد جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندراندر پوری ہوجائیں۔

یہ تو تھی مال اور آمدن میں برکت۔ اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔ وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیاده اور نتیجہ خیز کام کر سكيں، آپ کا وقت ادھرادھر فضول چیزوں میں ضائع نہ ہو۔ اسی طرح عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نہ ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔

کم کھانا، زیاده افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔ آپ کی کم محنت کا پھل زیاده آمدن یا پیداوار کی صورت میں نکلنا بھی برکت ہے۔

یوں سمجھیں کہ برکت الله تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’سپيشل انعام‘‘ ہے

برکت کے حصول کا نہایت آسان طریقہ صدقہ کرنا ہے یا کسی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔ آپ اپنے خاندان میں یا محلہ میں دیکھیں کوئی یتیم ہو، اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیں، اس کی پرورش اسی طرح کریں جیسے اپنی سگی اولاد کی کی جاتی ہے پھر دیکھیں کس طرح برکت آپ کے گھر چھپر پھاڑ کر آتی ہے۔

بھول جائیں کہ جس گھر میں لوگ دن چڑھے تک سوتے رہتے ہوں وہاں کبھی برکت آئے گی۔ کیوں کہ نبی كريم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ میری امت کے لیے دن کے اولین حصے میں برکت رکھ دی گئی ہے۔ اسی طرح شوقیہ کتا پالنا، تصویریں اور میوزک بھی برکت کے اٹھ جانے کے اسباب میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس اور جسم کی پاکی اور حلال ذریعہ آمدن برکت کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی سودی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو یا جسم اور کپڑوں کو ناپاک رکھتا ہو پھر برکت کا امیدوار بھی ہو تو اس کی ساده لوحی پر حیران ہی ہوا جا سکتا ہے۔منقول

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988790934733547&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسئلہ نمبر46:
*کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پان کھانا سنت ہے یاکیا؟ بیّنواتوجروا*
الجواب:
*پان کھانا نہ سنت ہے نہ مستحب صرف مباح ہے، ہاں بعض عوارض خارجیہ کے باعث مستحب ہوسکتاہے جیسے نہ کھانے میں میزبان کی دل شکنی ہو یابوسہ زوجہ کے لئے منہ کو خوشبودارکرنے کی نیت سے، بلکہ واجب بھی جیسے ماں باپ حکم دے اورنہ ماننے میں اس کی ایذا ہویونہی عارض کے سبب مکروہ بھی ہوسکتاہے جیسے تلاوت قرآن مجید میں بلکہ حرام بھی جیسے نمازمیں۔واﷲ تعالٰی اعلم*
📚(فتاویٰ رضویہ،جلد9، کتاب الحظر والاباحۃ،ص520، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی)📚
المرسلہ:
اسیر مفتی اعظم

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988790694733571&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معتصم بادشاہ کے زرخرید ، چہیتے غلاموں نے جب اہل بغداد کو تنگ کیا تو وہ شکایت لے کر اس کے پاس آئے اور کہا:

اپنے غلاموں کو روک لے ، ورنہ ہم تجھ سے لڑائی کریں گے ۔
معتصم نے پوچھا:
تم کس چیز سےلڑو گے ( تمھارے پاس تو اسلحہ ہی نہیں ) ؟
کہنے لگے:
ہم سَحر کے تیر چلائیں گے ( یعنی بہ وقت سَحر تیرے لیے بددعا کریں گے جو تجھے تباہ و برباد کرکے رکھ دے گی ) ۔

معتصم ( ڈر گیا اور ) کہنے لگا:

مجھ میں اس مقابلے کی سکت نہیں !

( انظر: تاریخ الخلفا للسیوطی ، ص 262 ، دارالارقم بن ابی الارقم بیروت)

پاکستان میں جو نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، ہم بھی ان کے خلاف سحر و افطار کے تیروں سے مدد لیں گے ۔
( مالک المک ﷻ کے حضور ظالم بادشاہ اور اس کے حواریوں کے خلاف شکایت کریں گے ) 😥😥

کہیں آہِ مظلوم خالی گئی ہے ؟؟
یہ درخواست ، تا بابِ عالی گئی ہے!

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3138787983068036&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جامِ شہادت نوش کرنے والے پیاروں کے پرسکون چہرے ، اور ایمانی جذبے ہمیں یہ پیغام دے گئے ہیں:

ہم تو سرخرو ہوکر اپنے حبیبﷺ کے پاس پہنچ گئے ۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی کبھی گرفتاریوں اور شہادتوں سے نہ گھبرانا ، وقت آنے پر پوری جرات کے ساتھ ناموس رسول پہ قربان ہوجانا ؎

جس دَھج سے کوئی مقتل میں گیا ، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

✍️لقمان شاہد
19-4-2021

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3139499589663542&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں:
ظالموں کے مدد گار اور پولیس والے ( جوظلم کرتے ہیں ) ، قیامت کے دن جہنم کے کُتے ہوں گے ۔

(کتاب الکبائر للذھبی ، الکبیرۃ السادسۃ والعشرون ، الظلم ، ص 112 ، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۔ کتاب الکبائر مترجم ازعلامہ صدیق ہزاروی ، کبیرہ 26 ، ظلم کرنا ، ص181 ، فرید بک سٹال لاہور )

سیاست دانوں اور افسروں کے کہنے پر بے قصوروں کو گرفتار کرنے اور مارنے والے سپاہیوں کو رب تعالیٰﷻ ہدایت دے ، یہ مرنے سے پہلے پہلے توبہ کرلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے مظالم انھیں جہنم کا کُتا بنا دیں ، اور جن کے کہنے پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں وہ اِن کی کوئی مدد نہ کرسکیں ۔

✍️لقمان شاہد
21-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3140875462859288&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی تھی تو ہزاروں عاشقانِ رسول گرفتار اور شہید ہوئے تھے ۔

اُس وقت غلام محمد گورنر جنرل ( یعنی موجودہ صدر ) کے عہدے پر فائز تھا ، جس نے تاجدارِ ختم نبوت کے نعرے مارنے والے نہتے مسلمانوں کو شہید کروایا ۔

تعجب کی بات ہے کہ غلام محمد نے یہ سب کچھ کروانے کے باوجود سعودی حکومت سے درخواست کی کہ:

مجھے مدینہ پاک میں رہائش دی جائے ۔
درخواست قبول کر لی گئی اور حکومت نے اسے باب جبریل سے قریبی علاقے میں رہائش دے دی ، جو پاکستان ہاؤس کے نام سے معروف ہوئی ۔
پھر اس نے یہ وصیت بھی کی کہ مجھے وہیں دفنایا جائے ۔

لیکن خدا کی قدرت کہ جب یہ‌مرا تو اس کی لاش کو امانتاً عیسائیوں کے قبرستان میں رکھا گیا ، جب کچھ عرصے بعد حسبِ وصیت لاش کو قبر سے نکال کر سعودی عرب روانہ کرنے کے لیے ایک ڈاکٹر ، فوج کے کیپٹن ، پولیس اہلکار ، دو گورکن اور غلام محمد کے قریبی رشتے دار قبر ستان پہنچے ، توگورکن نے جیسے ہی قبر کھود کر تختے ہٹائے تو تابوت کے گرد ایک سانپ چکر لگاتا دکھائی دیا ؛ گورکن نے لاٹھی سے اسے مارنے کی کوشش کی ، مگر وہ نہ مرا ۔
پولیس کے سب انسپکٹر نے پستول سے چھے گولیاں داغیں مگر سانپ کو کوئی گولی نہ لگی ۔
پھر ڈاکٹر کی ہدایت پر زہریلا سپرے کر کے قبر عارضی طور پر بند کر دی گئی ۔ جب دو گھنٹے بعد دوبارہ کھولی تو سانپ اسی طرح چکر لگا رہاتھا ۔
آخر باہمی صلاح مشورے سے قبر کو بند کر دیا گیا اور اگلے دن اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ:

’’سابق گورنر جنرل غلام محمد کی لاش سعودی عرب نہیں لے جائی جاسکی اور وہ اب کراچی ہی میں دفن رہے گی ۔ "

وہ لاش آج بھی کراچی کے گورا ( عیسائیوں کے ) قبرستان میں دفن ہے ۔

عرفان محمود برق صاحب کے مطابق:

اس قبر پر کتے آکر پیشاب کرتے ہیں اور وہاں کا عیسائی گورکن کہتا ہے کہ اس قبر سے چیخوں کی بھی آواز سنائی دیتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم اللہ پاک سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ، پروردگارﷻ ہمیں ذلت والی موت سے بچائے ۔ 😥😥

ہر ظالم کا برا حشر نہیں دکھایا جاتا ، عبرت کے لیے کسی کسی کا دکھا دیا جاتا ہے ۔

اللہ پاک ہمارے حکمرانوں کو بھی اس سابقہ صدر سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق دے !

✍️لقمان شاہد
22-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3141734012773433&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
غیر محرم لڑکی/ لڑکے سے عِشقیہ ، فِسقیہ چیٹنگ کرنا حرام ہے ، جو کہ ماہِ رمضان میں سخت حرام ہوجاتا ہے ۔
غیر محرم سے ایسی گفتگو کرتے وقت اللہ کے نام ، اُسﷻکی قَسمیں ، قرآن پاک ، انشاءاللہ ، ماشاءاللہ ، الحمد للہ ، سبحان اللہ والے اسٹیکرز ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اسلامی ڈی پیاں استعمال کرنا بھی بہت بڑی جسارت ہے ؛ اِن سب چیزوں سے فوراً توبہ کرلینی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ہماری زندگی بُلبلے کی طرح ہے جسے ہوا کا معمولی سا جھونکا نیست و نابود کر کے رکھ دیتا ہے ۔

کیا ہمیں معلوم نہیں کہ عنقریب موت کا ایک جھونکا آئے گا جو ہمارے خس و خاشاک اڑا لے جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور زمانہ کہتا پھرے گا ؎

نہ گَورِ سکندر ، نہ ہے قبرِ دارا
مِٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

نہ مُڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نِیم جاں کیسے کیسے

✍️لقمان شاہد
24-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3143343832612451&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قبلہ دادا جی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہمیں بچپن میں گھی کھانے اور دودھ پینےکی بڑی تاکید کرتے تھے ، کہتے تھے :

دودھ پیا کرو ، دودھ پینے سے حُسن بڑھتا ہے اور دیسی گھی کھایا کرو ، اس سے دماغ کو قوت ملتی ہے ۔

نیز ہمارے سرکے بال بھی نہیں بڑھنے دیتے تھے ، جیسے ہی کنگھی کرنے کے قابل ہوتے ، کٹوا دیتے تھے ؛ کہتے تھے:
بچوں کے سر پر بڑے بال نِرا بوجھ ہوتے ہی‍ں ۔
بچوں کے بال چھوٹے چھوٹے ہونے چاہییں اس سے ان کی گردنیں موٹی اور مضبوط ہوتی ہیں ۔

دودھ گھی والی بات تو ہم برادشت کرلیتے ، لیکن بال کٹوانا کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج امام بخاری رحمہ اللہ کی الادب المفرد پڑھتے ہوئے یہ روایت نظر سے گزری تو احساس ہوا کہ دادا جی ٹھیک ہی کرتے تھے:

امام بخاری نقل کرتے ہیں کہ:

بچوں کو ( اچھے اچھے) شعر یاد کروائیں تاکہ اِن کے عزت و وقار میں اضافہ ہو ۔
اِنھیں گوشت کھلائیں تاکہ ان کے دل مضبوط ہوں ۔
اِن کے بال کٹواتے رہیں تاکہ ان کی گردنیں مضبوط ہوں ۔
اور
اِنھیں ( عالی مرتبت اور ) بڑے لوگوں میں بٹھایا کریں تاکہ یہ ان سے سوال جواب کریں ( تو ان کی خود اعتمادی اور تجربے میں اضافہ ہو ) ۔

( انظر: الادب المفرد ، باب من قال ان من البیان سحرا ، ص 230 ، ر 877 ، ط دارالسلام مصر )

✍️لقمان شاہد
25-4-2021ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3144145532532281&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM