🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آہ اور ایک اندوہک ناک خبر
😭😭😭😭😭
*استاذالاساتذہ محدث گجرات معین العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد معین الدین رضوی خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند* و سرکارکلاں بانی جامعہ معین العلوم سرکارکلاں خواجہ مسجد نارول احمد آباد گجرات کا ابھی ابھی قضائے الہی سے انتقال کرگئے انا اللہ و انا اللہ راجعون
اس وقت حضرت جمال پور احمد آباد گجرات میں مقیم تھے

نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کردیا جائیگا

شریک غم محمد محسن رضا قادری خطیب و امام شاہ عالم مسجد نارول احمد آباد گجرات
9998786097
9974534335
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مولانا عبد القادر نوری صاحب
موت العالِم موت العالَم

آہ! مفتی عبدالحلیم رضوی اشرفی داغِ مفارقت دے گئے

دنیائے سنیت کی عظیم ہستی خلیفۂ حضور مفتی اعظم و حضور محدث اعظم بقیۃ السلف حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی عبد الحلیم رضوی اشرفی سیتامڑہی ثم ناگ پوری (بانی جامعہ فیض الرضا ددری سیتامڑہی بہار و سرپرست دعوتِ اسلامی ہند) لاکھوں عقیدت مندوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے مالکِ حقیقی کے قرب میں تشریف لے گئے۔
انا للہ وانا الیہ رٰجعون

اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین، مریدین ومتوسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم

حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی پوری زندگی اصلاح معاشرہ، تزکیۂ نفس، طہارتِ قلب، احقاق حق اور ابطالِ باطل میں بسر ہوئی ۔ تقریر و خطابت کے ذریعے پورے ملک میں آپ نے مسلک اہل سنت اور فکر رضا کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ آپ نے متعدد کامیاب مناظرے بھی کیے ۔ تعلیم و تعلم کے میدان میں بھی آپ نے اجلے نقوش چھوڑے ۔ فقہ و افتا کے منصب پر فائز رہتے ہوئے مسلمانوں کی شرعی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ۔ دعوتِ اسلامی ہند کے سرپرست کی حیثیت سے آپ کی خدمات آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہے ۔ نثر و نظم میں طبع آزمائی بھی کی ۔ بارگاہ رسالت مآب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم میں پیش کیے گئے آپ کے نعتیہ کلام بڑے خاصے کی چیز ہیں ۔ مالیگاﺅں سے آپ کے بہت دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ بارہا دارالعلوم حنفیہ سنیہ، اسلام پورہ کے سالانہ اجلاس میں آپ تشریف لاچکے ہیں ۔ رضا اکیڈمی، شاخ مالیگاﺅں کے زیرِاہتمام محرم الحرام کے مہینے میں دو یا تین برس مسلسل چار روزہ تاریخی اجلاس کے مقرر خصوصی کے طور پر آپ کے بیانات آج بھی دریچۂ فکر و ذہن میں تروتازہ ہیں ۔
میرے خسر محترم حافظ عبدالعزیز رضوی حشمتی علیہ الرحمہ سے ان کے برادرانہ مراسم تھے یہی وجہ ہے کہ جب بھی میری جہاں کہیں بھی ملاقات ہوتی تو مجھ سے بڑی شفقت سے پیش آتے اور پورے گھر بار کی خیریت دریافت کرتے اور کبھی کبھار مسکراتے ہوئے کہتے کہ میاں آپ ہمارے داماد ہو ۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کی شاعری کے حوالے سے پی ایچ ڈی کے رجسٹریشن کے لیے جن دنوں میرا ناگپور جانا ہوا تو حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ سے امجدی مسجد میں جیسے ہی ملاقات ہوئی فوراً اپنے دولت کدہ پر لے گئے اور اپنے گھر والوں سے مسکرا مسکرا ملوایا خوب خاطر تواضع فرمائی، چوں کہ میرا قیام حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف رضوی نور اللہ مرقدہٗ کے یہاں تھا اس لیے آپ نے ازارہِ تفنن طبع کہا کہ آپ بڑے گھر پر رکے ہیں ویسے وہ بھی ہمارا ہی گھر ہے ۔ حضرت نے شفقت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ناگپور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا رجسٹریشن ہوجاتا ہے تو پھر قیام و طعام ہمارے یہاں ہی رہے گا لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہاں رجسٹریشن نہ ہوسکا سو میں حضرت علیہ الرحمہ کی میزبانی سے محروم رہا لیکن ان کی دعاؤں سے ہمیشہ سرشار رہا ۔
آج حضرت مفتی عبدالحلیم رضوی اشرفی علیہ الرحمہ کی وفات حسرت آیات کی خبرِ غم اثر سن کر ہمارا پورا خانوادہ اور میری اہلیہ محترمہ کا پورا گھرانا رنج و الم میں ڈوب گیا ہے ۔ ہم سب صاحب زادہ حضرت مفتی یحییٰ رضا صاحب قبلہ اور جملہ اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ کریم آپ سب کو صبر جمیل عطا کرے اور حضرت کے درجات کو بلند سے بلند تر فرماتے ہوئے اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم

... محمد حسین مشاہد رضوی و جملہ اہل خانہ ، مالیگاﺅں
12 رمضان المبارک 1442ھ بعد نمازِ تراویح مطابق 24 اپریل 2021ء

خلیفۂ مفتی اعظم ہند محسن و سرپرستِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مفتی عبدالحلیم صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔ان کےلیے ایصال ثواب، دیے گئے لنک میں درج فرما کر مجلس کی ملک فرمادیجیے۔ جزاک اللہ خیرًا

👇👇👇
http://bit.ly/Mufti-Abdul-Haleem-EsalSwab
.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا و حامدا::ومصلیا و مسلما
الزامی جواب=آسان اور مؤثرحل

1-متعصب پنڈت و پجاری اسلام کے خلاف جو کچھ بکواس کرتے ہیں,اس کا آسان اور مؤثر حل یہ ہے کہ برہمنی دھرم میں جو انسانیت کے خلاف اصول وقوانین ہیں,ان کو ظاہر کیا جائے۔اس طرح وہ دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہوں گے اور اسلام کے خلاف خرافات و بکواس بند کر دیں گے۔

اگر ہمارے اوپر کیس ہوتا ہے تو ہمارے مخالف پر بھی کیس ہو گا۔بس یہ لازم ہے کہ برہمنی دھرم کے خلاف انسانیت اصول وقوانین کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ امن عامہ متاثر نہ ہو۔

کسی نے پریس کلب آف انڈیا میں ہرزہ سرائی کی ہے تو ہم بھی پریس کلب آف انڈیا ہی میں بیٹھ کر اپنی باتیں پیش کریں۔بس انداز بیان محتاط ہو۔

ان شاء اللہ تعالی ایک دو بار الزامی جواب دیا جائے تو اسلام کے خلاف بکواس وخرافات کا سلسلہ بہت حد تک کنٹرول ہو سکتا ہے۔

2-تردید کا آسان طریقہ

دلتوں کے بعض یوٹیوب چینل ایسے ہیں جو برہمنی دھرم کے راز کھول کر قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ان کے ویڈیوز کو ملکی پیمانے پر شیئر کیا جائے۔

ہمارے درد مند نوجوان آج ہی سے یہ کام شروع کر دیں۔ان شاء اللہ تعالی میں بھی شیئر کرتا ہوں۔غیر مسلموں کے سوشل میڈیائی گروپ اور فیس بک وغیرہ پر یہ ویڈیوز اپ لوڈ کریں۔

3-جو ملا لوگ ٹی وی ڈبیٹ میں شریک ہو کر اسلام کی ذلت و خواری کا سبب بنتے ہیں,ان کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے۔

یہ چند سکوں کے عوض اسلام کی ذلت ورسوائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ایک بے وقوف کو بھی معلوم ہے کہ ایک طرف سازشی قسم کے چار لوگ ہوں اور دوسری طرف کوئی تنہا ہو تو لامحالہ چار آدمی اکیلے آدمی پر ٹوٹ پڑیں گے,اور تنہا آدمی بوکھلا جائے گا۔

اگر آپ جیت بھی گئے تو بھی سارا سسٹم مخالفین کا ہے۔وہ آپ کی شکست کو ظاہر کریں گے,بلکہ آپ کو پانچ/سات ہزار اسی لئے دیا گیا ہے کہ آپ اسلام کی ذلت و رسوائی کا سبب بنیں۔

سبھوں کو معلوم ہے کہ ٹی وی ڈبیٹ میں کبھی مہذب گفتگو بھی ہوتی ہے اور بسا اوقات لوگ کتوں کی طرح بھونکنے لگتے ہیں۔چند ماہ قبل ایک بھارتی نیتا کی موت ٹی وی ڈبیٹ کے سبب ہو گئی تھی۔کوئی ایسی بات کہی گئ جو وہ برداشت نہ کر سکا۔

کسی اسلامی موضوع پر ٹی وی ڈبیٹ میں شرکت نہ کریں,بلکہ مخالفین کو پبلک کے سامنے مناظرہ کی دعوت دیں۔

تحریک شدھی کے عہد میں مناظروں کے سبب اہل تعصب پنڈت و پجاری حواس باختہ ہوئے اور اپنی دھوتیاں لہراتے ہوئے میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

ٹی وی ڈبیٹ میں حصہ لینے والے شیطان صفت اور زر پرست ملاؤں سے کنارہ کشی اختیار کریں۔وہ سمجھانے سے ماننے والے نہیں۔مال وزر کے بالمقابل وعظ ونصیحت پر کون عمل کرے گا؟

4-بھارت میں جب بھی ہندو مسلم اختلاف شروع کیا جائے تو برہمنوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمام غیر مسلموں کو اکھٹا کیا جائے اور اپنی سیاسی طاقت بڑھائی جائے۔

دلت اور آدی واسی پہلے ہی سے برہمنوں سے دور ہیں,اب کسان آندولن کے سبب اوبی سی کے بہت سے طبقات برہمنوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

مختلف مقامات پر ریاستی انتخابات کے ساتھ آئندہ لوک سبھا الیکشن:2024 بھی مد نظر ہے,اس لئے برہمنی نظام حرکت میں ہے۔

بھارتی دجال نرسنگھانند نے اپنے ویڈیو میں خود ہی اعلان کیا ہے کہ ذات پات چھوڑ کر تمام ہندو,جینی,سکھ اور بدھشٹ متحد ہو جائیں۔ہم لوگ سب بھائی بھائی ہیں۔

اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی غیر مسلموں کو متحد کرنے کے لئے ہے۔ایسی صورت میں لازم ہے کہ ہماری جانب سے کوئی ایسا اقدام نہ ہو کہ غیروں کے اتحاد کا سبب بنے۔

ابھی ایس سی,ایس ٹی,اوبی سی کے متعدد طبقات,بدھشٹ,سکھ اور بعض دیگر بھارتی مذاہب کے لوگ برہمنوں سے الگ ہیں۔دیگر برادریوں کے سیاسی لیڈر اپنے ووٹ بینک کو بچانے کے لئے اپنی قوم کو برہمنوں اور بی جے پی سے دور رکھتے ہیں۔

ایسی صورت میں یہ بھی بہتر ہو گا کہ ان سازشوں کو اقوام ہند کے سامنے ظاہر کیا جائے اور جو لوگ اسلام کے خلاف بکواس کریں,ان کی ذاتی جرائم کو ملک کے سامنے پیش کیا جائے,تاکہ جو لوگ ہیرو بننے کا خواب دیکھتے ہیں,وہ زیرو بن جائیں۔

جب نتیجہ برعکس نکلے گا تو ان شاء اللہ تعالی کوئی سازشی میدان میں آنے کی ہمت نہیں کرے گا۔

کورٹ میں کاروائی کی جائے۔میمورنڈم اور ایف آئی آر سے کچھ فائدہ نہیں۔میڈیا کے ذریعہ کلیجہ شکن جوابات دئیے جائیں۔

جو لوگ خاموش بیٹھے ہیں,ان سے دعاؤں کی درخواست کریں۔باہمی اختلاف اور اندرون خانہ شوروغل سے پرہیز کریں۔

ان شاء اللہ تعالی ہندی زبان میں ہمارا سوشل میڈیائی پروگرام جلد ہی شروع ہو گا۔دیگر حضرات بھی اپنے طور پر ڈیفنس میں لگے رہیں۔

طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:20:اپریل 2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/902048717032314/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
گیہوں کا صدقۂ فطر ایک صاع یا نصف صاع ؟

(پہلی قسط)

تحقیق وتجزیہ : اسلم نبیل ازہری، پیلی بھیت

مالی عبادتوں میں سے ایک عبادت صدقۂ فطر ہے، جو عید الفطر کے موقعے پر عمل میں آتی ہے، متعدد حدیثوں سے اس کی فضیلت ثابت ہے، صدقۂ فطر کی ادائیگی کی بہت سے حکمتیں ہیں، ان میں سے دو یہ ہیں:

١-پہلی یہ کہ اس کے ذریعے روزوں میں ہونے والی کوتاہیوں کی تلافی ہوجاتی ہے۔
دوسری یہ کہ اس سے غربا ومساکین کا مالی تعاون ہو جاتا ہے جس سے ان کی عید خوشی سے گزر جاتی ہے۔
ان دونوں حکمتوں کا ذکر درج ذیل حدیث میں موجود ہے۔

صحابی جلیل ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالی عنہما ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺻﺪﻗﮧ ﻓﻄﺮ ﺭﻭﺯﮦ ﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﺤﺶ ﮔﻮﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ لیے ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﮐﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﮯ لیے ﻣﻘﺮﺭ فرمایا۔

{سنن ابی داؤد، حدیث نمبر:1371}

صدقۂ فطر میں اناج یا اس کی قیمت میں سے جو فائدہ مند ہو وہ دینا بہتر ہے۔

زمانۂ نبوی میں صدقۂ فطر میں گیہوں، جو، کھجور، منقی، پنیر وغیرہ ا
غذائی اجناس دی جاتی تھیں۔

گیہوں کے علاوہ دوسری اجناس سے صدقۂ فطر کی مقدار ایک صاع ہونے میں فقہا کا اتفاق ہے، البتہ گیہوں کے سلسلے میں اختلاف ہے، جمہور فقہا بہ شمول ائمۂ ثلاثہ دوسرے غلوں کی مانند گیہوں میں بھی ایک صاع صدقۂ فطر کے قائل، لیکن گیہوں کی مقدار کے سلسلے میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا جمہور فقہا سے اختلاف ہے، آپ کے نزدیک گیہوں سے صدقۂ فطر کی مقدار نصف صاع ہے۔

کچھ اہل علم حضرات نے طرفین کے دلائل کا جائزہ لیے بغیر یہ کہنا شروع کردیا کہ اس مسئلے میں جمہور فقہا کا موقف قوی اور امام ابو حنیفہ کا موقف ضعیف ہے۔

لیکن اپنی بے مایگی کے باوجود جب ہم نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو معاملہ بر عکس نظر آیا، اور آفتاب نیم روز کی مانند یہ ظاہر ہوگیا کہ دوسرے درجنوں مسائل کی طرح اس مسئلے میں بھی فقہ حنفی کو دیگر مذاہب پر بالا دستی حاصل ہے۔
والحمد لله على ذلك.

ذیل میں اس مسئلے سے متعلق مختصر تجزیاتی تحریر پیش کی جاتی ہے قارئین احباب سے نیک دعاؤں اور مفید اصلاحات کی گذارش ہے۔

#تحقیق_و_تجزیہ

کھجور، جو، منقی، پنیر، وغیرہ میں صدقۂ فطر کی مقدار جمہور کی طرح احناف کے نزدیک بھی ایک صاع ہے۔

البتہ صاع کی مقدار میں جمہور اور فقہائے احناف کا اختلاف ہے؛ جمہور فقہا صاعِ حجازی کا اعتبار کرتے ہیں؛ حجازی صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، فقہائے احناف کے نزدیک عراقی صاع کا اعتبار ہے؛ عراقی صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے۔قول مختار پر موجودہ وزن سے عراقی صاع چار (4)کلو، چورانوے(94)گرام، چونسٹھ (64)ملی گرام ہے۔

تاہم گیہوں کی مقدار میں جمہور فقہا اور احناف کا اختلاف ہے، جمہور فقہا کے نزدیک دوسری اجناس کی طرح گندم میں بھی فطرے کی مقدار ایک صاع ہے، جب کہ احناف کے نزدیک گیہوں میں نصف صاع(2/ کلو 47/ گرام 32/ ملی گرام) ہے۔

دلائل کی روسے احناف کا مذہب راجح اور قوی ہے؛ کیوں کہ فطرے میں گیہوں کی مقدار سے متعلق دونوں طرح کی احادیث موجود ہیں، کچھ احادیث میں ایک صاع اور کچھ میں نصف صاع کی صراحت ہے۔

لیکن اصول تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک صاع گندم والی احادیث یا تو باعتبار سند ضعیف ومردود ہیں، یا مرفوع نہیں ہیں، جب کہ نصف صاع گندم والی احادیث صحیح بھی ہیں اور مرفوع بھی، جس سے فقہ حنفی کی بالا دستی آشکار ہوتی ہے۔

اور بعض اہل علم نے جو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ حدیث پاک سے گندم میں ایک صاع فطرہ ثابت کرنے کی سعی بلیغ کی ہے وہ اپنے محل میں نہیں۔لہذا پہلے ہم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث پاک اور اس سے اخذ کردہ چند نتائج اور ان کا فساد ذکر کریں گے، اور آخر میں نصف صاع گندم والی احادیث کی اپنی بساط بھر تحقیق پیش کریں گے۔ واللہ الموفق، وھو المستعان۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث جس سے کچھ لوگوں نے ایک صاع گندم فطرہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔

ائمۂ ستہ( بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)نے اپنی اپنی کتب میں اختصار و تطویل کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، درج ذیل الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :*كنا نخرج - إذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم- زكاة الفطر عن كل صغير وكبير حر أو مملوك صاعا من طعام، أو صاعا من أقط، أو صاعا من شعير، أو صاعا من تمر، أو صاعا من زبيب، فلم نزل نخرجه حتى قدم علينا معاوية بن أبى سفيان حاجا أو معتمرا، فكلم الناس على المنبر، فكان فيما كلم به الناس أن قال: " إنى أرى أن مدين من سمراء الشام تعدل صاعا من تمر"، فأخذ الناس بذلك. قال أبو سعيد: فأما أنا فلا أزال أخرجه كما كنت أخرجه أبدا ما عشت.*
*ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری زمانے میں اور اس کے بعدہم ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے صدقۂ فطر میں کھانے، پنیر، جو، کھجور اور کشمش میں سے ایک ایک صاع دیتے تھے، پھر جب ہمارے پاس معاویہ ابن ابی سفیان (رضی اللہ عنہما) حج یا عمرہ کرنےکی غرض سے آئے اور آپ نے ممبر پر دوران خطاب فرمایا کہ میری رائے میں دو (2)مُد، شامی گندم ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، تو لوگوں نے آپ کی رائے پر عمل کرنا شروع کردیا، لیکن میں پوری زندگی ایک صاع گندم ہی فطرہ نکالتا رہوں گا جیسے پہلے نکالتا تھا۔*

*(صحیح بخاری "کتاب الزکاۃ "، "باب صاع من زبیب "حدیث نمبر:1508)
(صحیح مسلم "کتاب الزکاۃ "، "باب زکاۃ الفطر علی المسلمین "حدیث نمبر :985)*

*مذکورہ حدیث سے ماخوذ نتائج اور ان کا فساد۔*

*پہلا نتیجہ۔*
گندم میں ایک صاع فطرے کے قائل حضرات اس حدیث میں وارد لفظ " طعام " سے گندم مراد لیتے ہیں، اور اس پر علامہ خطابی کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں کہ جب لفظ طعام مطلق بولاجائے تو اس سے گندم ہی مراد ہوتا، اور لوگ جب "اذھب إلی سوق الطعام"بولتے ہیں تو اس سے "سوق الحنطة" (گندم کا بازار)ہی مراد لیتے ہیں، لہٰذا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مذکورہ اشیا کے ساتھ ساتھ گندم سے بھی ایک صاع فطرہ ادا کرتے تھے۔

*پہلے نتیجےکا فساد۔*
ہمارے علم کی حد تک ان حضرات کا لفظ طعام سے گندم مراد لینا ضعیف اور نا قابل اعتبار ہے۔

*اولا:*اس حدیث میں لفظ طعام سے کیا مراد ہے، اس بارے میں علما کے متعدد نظریے ہیں، مثلا:
(1)طعام سے مراد کھجوریں ہیں۔(2)طعام سے مراد مکئی ہے۔
(3)طعام سے مراد گندم ہے۔
(4)طعام عام ہے جو کھانے کی ہر قسم کو شامل ہے، حدیث میں طعام کے بعد دوسری اشیا کا ذکر اہتمام کے پیش نظر تخصیص بعد التعمیم کے قبیل سے ہے۔(5) طعام سے مراد گندم کے علاوہ دوسرے غلے ہیں۔

*ثانیا:*محقق علمائے احناف فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں طعام سے اس کا مفہوم عام بھی مراد لیا جاسکتا ہے، البتہ طعام سے گندم کے علاوہ دوسرے غلے مراد لینا ہی از روئے تحقیق درست ہے، اس کے چند دلائل ہیں، ان میں سے دو دلیلیں درج ذیل ہیں۔

مذکورہ بالا حدیث میں "طعام" سے گندم کے علاوہ دوسرے اناج مراد ہونے پر دلائل۔

*پہلی دلیل:* حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کو اختصارا روایت کیا، آپ فرماتے ہیں: *عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : كنا نخرج في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفطر صاعا من طعام، وقال أبو سعيد: وكان طعامنا الشعير، والزبيب، والأقط، والتمر.*

*(ترجمہ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ ہم نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس میں عید الفطر کے دن کھانے سے ایک صاع صدقہ فطر نکالتے تھے، اس وقت ہمارے کھانے جو، کشمش، پنیر، اور کھجور ہی ہوا کرتےتھے۔*

*(صحیح بخاری، کتاب صدقة الفطر، باب الصدقة قبل العید، حدیث:1510)*

صحیح بخاری کی اس روایت سے یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث میں طعام کے عموم سے گندم خارج ہے۔کیوں کہ راوی حدیث حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے طعام کی مراد کوخود واضح فرمادیا، اور اہل علم سے مخفی نہیں کہ راوی کی تفسیر کے بعد کسی قسم کی تاویل مسموع نہیں ہوتی، لہذایہ ثابت ہوگیا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فطرے میں گندم کے علاوہ دوسرے غلوں کا ایک صاع دیا کرتے تھے۔

*دوسری دلیل:*
مشہور محدث امام محمد بن خزیمہ علیہ الرحمۃ (م311/ھ)نے بطریق فضیل بن غزوان، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ:
*لم تكن الصدقة على عهد رسول الله صلي الله عليه وسلم إلا التمر، والزبيب، والشعير، ولم تكن الحنطة.*

*ترجمہ:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں صدقۂ فطر کھجور، منقی، اور جو ہی دیا جاتا تھا۔گیہوں اس وقت عام مروج نہ تھا۔*

*(صحیح ابن خزیمہ، ج 4/ص 85/ حدیث : 2406/ مطبوعہ، المکتب الاسلامی )*

اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ حجاز مقدس میں اس وقت گیہوں عام نہیں تھا، لوگ صدقات میں دوسرے غلے دیا کرتے تھے۔

البتہ امام حاکم نے "المستدرک " میں بطریق عِیاض بن عبد اللہ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ سے روایت کیا کہ جب حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے سامنے صدقہ فطر کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا:
*لا أخرج إلا ما كنت أخرجه على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم صاعا من تمر، أو صاعا من حنطة، أو صاعا من شعير، أو صاعا من إقط، فقال له رجل من القوم : أو مدين من قمح، فقال : لا، تلك قيمة معاوية، لا أقبلها، و لا أعمل بها.*
*ترجمہ: میں فطرے میں وہی اناج نکالوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نکالتا تھا، کھجور، گندم، جو، پنیر سے ایک ایک صاع، حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: یا گندم سےدو مُد، تو اپ نے فرمایا: نہیں، یہ تو حضرت معاویہ کی (مقررکردہ) قیمت ہے، نہ مجھے یہ تسلیم ہے اور نہ میں اس پر عمل کرتاہوں۔*

*(المستدرک علی الصحیحین، ج1/ص 570/حدیث : 1495/ مطبوعہ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)*

مگر اس روایت میں "أو صاعا من حنطة " کے الفاظ راوی کا وہم ہیں، اسی وجہ سے ان پر امام ابو داود رحمۃ اللہ تعالی علیہ(م 275/ھ)نے اپنی سنن *(حدیث نمبر: 1618/)* میں اور امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح *(حدیث نمبر:2419/)* میں *"غیر محفوظ"* ہونے کا ریمارک لگایا۔امام ابن خزیمہ کا اس لفظ کی زیادتی پر تبصرہ ملاحظہ کیجیئے:
*ذكر الحنطة في خبر أبي سعيد غير محفوظ، و لا أدري ممن الوهم. قوله: و قال له رجل من القوم :" أو مدين من قمح" إلى آخر الخبر دال على أن ذكر الحنطة في أول القصة خطأ، أو وهم. إذ لو كان أبو سعيد قد أعلمهم أنهم كانوا يخرجون على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم صاع حنطة، لما كان لقول الرجل : أو مدين من قمح معنى.*

*(ترجمہ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں حِنطہ (گیہوں)کا ذکر احادیث مشہورہ کے خلاف ہے، معلوم نہیں یہ وہم کس راوی کی طرف سے ہے۔راوی کا قول :حاضرین میں سے ایک شخص نے آپ سے کہا: "یا گیہوں کے دو مُد۔۔،الخ" اس بات کی دلیل ہے کہ اس حدیث کے شروع میں گیہوں کا ذکر غلطی یا وہم ہے، کیوں کہ اگر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کو پہلے ہی سے یہ بتادیتے کہ صحابہ کرام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک صاع گندم نکالتے تھے تو سائل کے قول:"یا گیہوں سے دو مُد" کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتاہے۔*

*دوسرا نتیجہ۔*
کچھ لوگ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نصف صاع گندم سے متعلق کوئی مرفوع حدیث نہیں ہے؛ اس لیے کہ اگر کوئی مرفوع حدیث ہوتی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فطرے میں نصف صاع گندم متعین کرتے وقت ضرور ذکر فرماتے اور یہ نہ کہتے کہ*"إني أري"( میری رائے یہ ہے۔۔الخ۔)۔* کیوں کہ نص کے ہوتے ہوئے رائے واجتہاد کی گنجائش نہیں ہوتی، یونہی اگر حدیث مرفوع ہوتی تو حضرت ابو سعید خدری، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے فتوے کی مخالفت نہ کرتے۔

*دوسرے نتیجےکا فساد۔*
ممکن ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو نصف صاع گیہوں والی حدیث نہ پہنچی ہو، تاہم آپ حضرات تک کسی حدیث کے نہ پہنچنے سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ نفس الامر میں اس حدیث کا وجود ہی نہیں، اسی لیے علما فرماتے ہیں کہ:" عدم وجود، وجود عدم کو مستلزم نہیں"، کتنے ہی صحابہ کرام ایسے ہیں جنھیں کچھ حدیثیں نہیں پہنچ سکیں، بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ساری احادیث تو حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو بھی نہیں پہنچیں، جب کہ دیگر صحابہ کرام کو پہنچ گئیں تھیں، لیکن اس سے ان مقدس ہستیوں کی علمی جلالت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیوں کہ مجتہد کے لیے تمام احادیث کا احاطہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

چناں چہ خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو ابتدا میں میراث جدہ کی روایت نہ پہنچنا۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو گھر میں داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت مانگنے کے بعد اجازت نہ ملنے پر واپس ہوجانے والی حدیث موصول نہ ہونا۔
خلیفہ سوم حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ کا شوہر کے گھر عدت گذارنے سے متعلق ہم شیرۂ حضرت ابو سعید خدری، فریعہ بنت مالک رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث پر اطلاع نہ پانا۔
خلیفہ چہارم مولائے کائنات حضرت علی شیر خدا کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو حاملہ کی عدت وضع حمل ہونے کے حوالے سے حضرت سُبیعہ بنت حارث اسلمیّہ کی حدیث کا نہ پہنچنا اسی قبیل سے ہے؛ کہ واقع میں یہ احادیث موجود تھیں مگر دوسرے مہتم بالشان امور میں مصروفیت کے سبب ان حضرات قدسیہ تک تاخیر سے پہنچیں ۔

لہٰذا اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا دوسرے صحابہ کرام کو نصف صاع گندم والی حدیث نہیں پہنچ سکی تو اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس تعلق سے حدیث ہے ہی نہیں، اگر تھوڑی سی بھی توجہ دی جاتی تو کئی مرفوع اور غیر مرفوع احادث مل جاتیں۔

غالباً اس وقت نصف صاع گیہوں والی حدیث کے مشہور نہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت حجاز شریف میں گیہوں عام نہیں تھا، بعد میں زمانہ امیر معاویہ رضی اللہ میں عام ہوا، اس وقت چند ہی لوگ گیہوں استعمال کرتے تھے، ان کے یہاں دوسرے غلے جیسے کھجور، جو، منقی وغیرہ کا چلن تھا، جیسا کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کا ارشاد مبارک صحیح بخاری کے حوالے سے اوپر گذرا۔
21/ اپریل 2021ء
(جاری)۔۔

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/902139803689872/
https://t.me/islaamic_Knowledge/13053
گیہوں کا صدقۂ فطر
ایک صاع یا نصف صاع ؟

(پہلی قسط)

تحقیق وتجزیہ :
اسلم نبیل ازہری، پیلی بھیت
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/902139803689872/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
انکشاف حق کا مصنف خلیل احمد بریلوی ہے یا دیوبندی؟

افادات :
مفتی انس رضاقادری

گھمن دیوبندی لکھتا ہے:
مولانا خلیل احمد خان برکاتی جنہوں نے حق کے بیان کا حق ادا کر دیا اور بتایا کہ فاضل بریلوی نے تکفیر کے کے غلطی کی ہے وہ لکھتے ہیں:
دو مسئلے اعلیحضرت نے امت مرحومہ کے سامنے ایسے پیش کیے جو ان سے قبل کسی امام، عالم، کسی ولی کو نہ سوجھے۔ دونوں مسئلوں کی بناء پر ہندوستان کے مسلمین میں جابجا جھگڑے اور فساد، نا اتفاقیاں، بغض، کینہ، بوگوئی، ایذائے مسلمین و غیبت و بہتان بری طرح پھیلے۔ رب تعالیٰ رحم فرمائے گھر گھر اختلاف، بھائی بھائ کا دشمن و مخالف بن گیا۔ وہ دو مسئلے فاضل بریلوی نے پیش کیے وہ یہ ہیں:۔

1؛ تمام علماء دیوبند تمام علماء مدرسہ قادریہ بدایوں کی تکفیر۔

2: مسئلہ اذان ثانی یعنی جمعہ کی اذات خطبہ کا باہر یعنی مسجد سے خارج ہونا۔
📗انکشاف حق، ص 13۔14۔

ایک جگہ لکھتے ہیں:
ان کو قطع و برید و تحریف کا ایسا چسکا پڑگیا ہے کہ کوئی عبارت کسی کی پوری نقل نہیں فرماتے۔ علماء بدایوں فاضل بریلوی کے لیے صاف صاف بتا رہے ہیں کہ ان کو قطع و برید و تحریف عبارت غیر کا چسکا پڑگیا ہے۔
📗 انکشاف حق ص 189۔

قارئین ذی وقارہم نے اختصار سے حسام الحرمین کا جواب عرض کردیا ہے کہ جو سلیم الفطرت لوگوں کے لیے کافی ہے۔ مگر ہماری ٹکر جس گروہ سے ہے وہ سب بھیڑیں ہیں، اس لیے ہمیں تفصیل سے اس پر کچھ لکھنا ہے۔
📗 (حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 57)

گھمن صاحب! یہ تو ہم ثابت کریں گے کہ اصلی بھیڑیں دیوبندی ہیں اور یہ کس طرح جھوٹ اور تحریفات کا سہارا لیتے ہیں۔ آج قارئین بھی جان جائیں گے قطع برید کا چسکا اعلی حضرت کو نہیں دیوبندی مولویوں کو ہے۔
یہ جو دو حوالے دے کر گھمن صاحب نے بڑی چیخ و پکار کی ہے اور مفتی خلیل کا نام پیش کیا اور انکشاف حق کتاب کا حوالہ دیا ہے، اس کی اصل ہم قارئین کو بتاتے ہیں اور فیصلہ ان قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ جھوٹا کون ہے اور سچا کون ہے؟ انکشاف حق کتاب نری جھوٹ و فریب اور دھوکہ دہی ہے جو دیوبندیوں کی پرانی عادت ہے۔ مولوی خلیل احمدبدایونی بجنوری ایک بہروپیا شخص تھا جو درحقیقت دیوبندی تھا لیکن بریلوی بن کر دھوکہ دیتا رہا، خود اس کے بیٹے دیوبندیوں وہابیوں کے مدرسے میں پڑھتے تھے۔
بلکہ خود خلیل احمد بجنوری بھی اہل سنت کے کسی مدرسہ سے فارغ نہ تھا۔ جب علماء اہل سنت نے اس کی فریب کاریاں دیکھیں تو مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے اس کے متعلق ایک مدلل فتوی اس کے غیر سنی ہونے پر تحریر فرمایا جس کی تائید و تصدیق 180 مشہور علمائے کرام نے کی۔
جب خلیل بجنوری کا بھانڈا پھوٹا تو پھر اس کی دیوبندیت کھل گئی اور اس نے انکشاف حق کتاب لکھ کر واضح طور پر خود کو دیوبندی ظاہر کردیا۔ خلیل بجنوری کی یہ کتاب نری جاہلانہ تصنیف ہے۔ اس کا مقدمہ بھی تقریبا پچاس صفحات تک دیوبندی مولویوں کا ہے۔
دنیا کی یہ واحد کتاب ہوگی جو منسوب تو بریلوی عالم کی طرف ہے لیکن اس کے مقدمے دیوبندیوں نے لکھے ہیں اور یہ کتاب دیوبندی مکاتب سے ہی ملتی ہے اور انٹر نیٹ میں بھی دیوبندی سائیٹس پر ہے۔

مقالات شارح بخاری ج 2میں مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے خلیل احمد بجنوری کی مکاری کا پردہ چاک کیا ہے۔

اس کی انکشاف حق کا تفصیلی جواب بھی سنی عالم دین قبلہ غلام محمد خاں صاحب ناگپوری نے بنام عجائب انکشاف دیا۔
اس میں خلیل احمد بجنوری کی جہالتوں کا علمی رد کیا۔ اس کتاب کے مقدمہ میں مولانا محمد حسن علی رضوی صاحب نے مولوی خلیل بجنوری کا تعارف پیش کیا ہے، وہ مختصرا قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے:۔

مولانا محمد حسن علی رضوی صاحب میلسی لکھتے ہیں:
پاکستانی دیوبندیوں وہابیوں نے اپنی دانست میں کوئی بہت بڑا تیرمارا کہ ہندوستان کے ایک قطعی غیر معروف و غیر معتبر و غیر مستند مولوی خلیل بجنوری خود ساختہ بدایونی کی ایک پرفریب و شدید مغالطہ آمیز کتاب انکشاف حق پاکستان میں لا کر فیصل آباد سے شائع کردی اور بے چارے مولوی خلیل بجنوری کو بریلویوں کا مفتی اعظم اور اعلی حضرت کا پیروکار بنا کر پیش کیا اور شدید مغالطہ دینا چاہا، حالانکہ اکابرومشاہیر علماء و فقہاء و مشائخ اہل سنت شہزادہ اعلی حضرت شیخ الشیوخ امام العلماء مولانا شاہ محمد مصطفی رضا خان صاحب قبلہ نوری رضوی سجادہ نشین آستانہ عالیہ رضویہ بریلی شریف کو مفتی اعظم مانتے اور کہتے ہیں۔
مولوی خلیل بجنوری کو آج تک سنی بریلوی علماء تو کیا کبھی دیوبندی وہابی مولویوں نے بھی مفتی اعظم نہ مانا نہ لکھا۔الغرض مولوی خلیل کو رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کیا۔ کیونکہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی غنیمت ہوتا ہے۔ اور پھر مولوی خلیل کو سنی بریلوی اور سیدنا اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا پیروکار ظاہر کیا گیا، پاک و ہند کا کوئی مائی کا لال دیوبندی ثابت نہیں کرسکتا کہ مولوی خلیل بجنوری نے دارالعلوم جامعہ رضویہ منظر اسلام یا رضوی دارالعلوم مظہر
اسلام بریلی شریف میں تعلیم حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی ہو یا کسی سنی بریلوی، رضوی دارالعلوم میں تحصیل علم کی ہو یا امام اہل سنت سیدنا اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ یا آپ کے صاحبزادگان سیدنا حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خان صاحب بریلوی، سیدنا مفتی اعظم مولانا شاہ محمد مصطفی رضا خان صاحب بریلوی قدس سرہما یا خلفاء و تلامذہ اعلی حضرت میں سے کسی سے شرفِ بیعت و خلافت اور سند تحصیل علم اس کو حاصل ہو۔
البتہ ابتدائی تعلیم کچھ عرصہ بریلی شریف میں حاصل کی پھر علامہ سید محمد خلیل محدث امروہوی کے مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ چلا گیا اور اس کے بعد مدت مدید گوشہ گمنامی میں رہا اور غالبا جعلسازی اور فریب کاری کی ٹریننگ حاصل کرتا رہا، پھر مولوی ابراہیم ممیتی پوری فریدی کے توسط سے بڑے مکارانہ انداز میں انتہائی متشدد سنی بن کر 1947ء میں بدایوں میں نمودار ہوا اور سنیوں بریلویوں میں اپنا اعتماد بحال کرنے اور اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے بظاہر بہت سخت گیر اور متصلب سنی بنا رہا اور دھوکہ و مغالطہ دینے کے لیے مارہرہ شریف کے ایک بزرگ حضرت مولانا سید اولاد رسول محمد میاں صاحب مارہروی کا مرید بھی ہوگیا تاکہ قادری برکاتی ہونے کی ڈگری بھی مل جائے۔
یہ شخص ضلع بجنوری کےایک گاؤں منداور کا ہونے کے باوجود خود کو بدایونی لکھنے لگا۔ جعلسازی کے تحت جس زمانہ میں سخت گیر متشدد سنی بنا ہوا تھا، اپنی نجی محفلوں میں شہزادہ اعلی حضرت سیدنا امام حجۃ الالسلام شیخ الانام شاہ محمد حامد رضا خان صاحب، حضور سیدنا مفتی اعظم امام العلماء مولانا شاہ مصطفی رضا خان صاحب، حضور صدرالصدور صدرالشریعہ مولانا شاہ محمد امجد علی صاحب اعظمی رضوی، حضرت صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی قدست اسرارہم جیسے بزرگوں اور اکابر اہل سنت پر خفیہ تنقید کرتا رہتا اور کسی کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھتا بلکہ اپنے آپ کو اپنی خام خیالی میں بڑوں سے بڑا سنی اور اکابرین کا اکابر سمجھتا اور پس پردہ اپنی نجی محفلوں میں بڑی عیاری سے نانوتوی، گنگوہی، تھانوی وغیرہ کی تعریفیں بھی کرتا اور ناواقف لوگوں کےدلوں میں ان کی اہمیت بٹھاتا۔

اکابر علماء اہل سنت ان کی نقل و حرکت اور خفیہ کرتوتوں پر نظر رکھے ہوئے تھے اور اس کے ظاہروباطن کا بنظر غائر جائزہ لیتے رہے۔ مولوی خلیل بجنوری کی عیاری و مکاری کے بہت سے کوائف ہمیں فقیہ زماں حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی کے خصوصی شاگرد حضرت مولانا مظہر حسن برکاتی جو بدایوں ہی کے رہنے والے ہیں اور دوسرے سنی علماء بدایوں سے حاصل ہوئے۔
جب مولوی خلیل بجنوری کی عیاری ومکاری اور فریب کاری کا راز طشت از بام ہونےلگا تو پھر بھی علماء اہل سنت نے تحمل اور ضبط سے کام لیا بالخصوص مولانا قاضی شمس العلماء مفتی شمس الدین رضوی محدث جونپوری علیہ الرحمہ فقیہ زماں مفتی شریف الحق امجدی ، محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفی اعظمی، حضرت علامہ مفتی غلام محمد خان صاحب ناگپوری، حضرت علامہ مفتی رضوان الرحمن، حضرت مولانا مفتی محمد مشاہد رضا خان صاحب ابن شیر بیشہ اہل سنت شیر رضا، اور نبیرہ اعلی حضرت مظہر مفتی اعظم علامہ مفتی محمد اختر رضا خان صاحب قادری ازہری فاضل جامع ازھر، مصر جیسے جلیل القدر علماء اہل سنت نے مولوی خلیل بجنوری کے پاس آمنے سامنے گفتگو کی شکوک و شہبات ہوتے تو زائل ہوجاتے، مگر مولوی خلیل بجنوری عیاری و مکاری اور فریب کاری کے ایک مستقل پلان اور چارٹ پر عمل کر رہا تھا، لہذا علماء اہل سنت کی مخلصانہ مساعی کا اس پر کچھ اثر نہ ہوا، دلائل سے عاجز آگیا۔
آمنے سامنے گفتگو میں منہ پر مہر سکوت لگ گئی مگر وہی مرغ کی ایک ٹانگ ہانکتا رہا ہے۔ مشاہیر و ممتاز علماء اہل سنت نے متعدد بار مولوی خلیل بجنوری کی مسجد محلہ سوتھہ بدایوں پہنچ کر اس پر اتمام حجت کیا، ہر بار لاجواب و مبہوت ہوا۔ بدایوں شہر علماء اہل سنت کے نعرہ حق سے گونجنےلگا۔ مولوی خلیل کا عجز اور بے بسی و لاچاری سب پر اچھی طرح ظاہر ہوگئی۔

اس دوران یہ راز بھی منکشف ہوا کہ مولوی خلیل بجنوری سنیوں کو بہکانے اور ورغلانے کے لیے جو بظاہر پکا سنی بنا ہوا تھا پس پردہ اس کے دونوں لڑکے دیوبندیوں اور وہابیوں کے مدرسوں میں زیر تعلیم ہیں، بڑا لڑکا عتیق احمد مشہور دیوبندی مفتی کفایت اللہ دہلوی کے مدرسہ امینیہ میں اور دوسرا لڑکا فضیل ظفر احمد میاں دارالندوہ لکھنؤ میں زیر تعلیم ہے۔

مذکورہ بالا صورت حال سے خلیل بجنوری کے پیر خانہ مارہرہ شریف خانقاہ عالیہ برکاتیہ قادریہ کےسجادہ نشین صاحب کو بھی آگاہ کیا اور انہوں نے خود براہ راست اور علماء اہل سنت کے توسط سے گفتگو کرکے اچھی طرح یقین کرلیا کہ مولوی خلیل بجنوری چھپا رستم ہے۔ بظاہر سنی قادری برکاتی اور اندرون خانہ دیوبندی وہابی بجنورری ہے۔ بالآخر بزم قاسمی برکاتی بدایوں کے اراکین کی طرف سے مولوی خلیل بجنوری سے متعلق ایک اہم استفتاء اکابر علماء اہل سنت مفتیان شریعت کی خدمت میں پیش کیا
گیا اور 30 ربیع الآخر 1401ھ بروز یک شنبہ حضرت علامہ نازش فقہاء نائب مفتی اعظم ھند علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے مولوی مذکور پر مدلل و متحقق طویل فتوی مبارکہ صادر فرمایا جس پر 180 مشہور و ممتاز علماء کرام مفتیان عظام اہل سنت کی تائید و تصدیقات ثبت ہیں۔ اور یہ کہ مولوی خلیل بجنوری کے پیر خانہ کےسجادہ نشین صاحب نے اس کےدل و دماغ میں چھپی ہوئی دیوبندیت و وہابیت اور عقائد باطلہ کے پیش نظر اس کی بیعت کو فسخ کرتے ہوئے سلسلہ عالیہ برکاتیہ سے خارج کردیا اور یہ متفقہ فتوی بنام شرعی فیصلہ خدام بزم قاسمی برکاتی بدایوں شریف یو پی بھارت سے چھپوا کر اراکین کمیٹی مسجد جعفری عقب گھنٹہ گھر بدایوں یو پی کی طرف سے شائع کردیا اور بزم قاسمی برکاتی بدایوں اور بزم رضائے مصطفی بدایوں نے اس کی اشاعت میں سرگرم و فعال کردار ادا کیا۔

اور پھر جب عوام و خواص اہل سنت میں مصنوعی سنی جعلی قادری بناسپتی برانڈ برکاتی کا پول کھل گیا، اس کے تمام تر مریدین اس سے منحرف ہوگئے، اس کی ناپاک بیعت کو توڑ کر اہل بدایوں نے شیخ الشیوخ شیخ العلماء حضرت قبلہ مفتی اعظم شہزادہ اعلی حضرت مولانا شاہ محمد مصطفی رضا خان صاحب کو دعوت دی 9 مارچ 1981ء چار بجے دن حضور سیدنا مفتی اعظم قبلہ شہزادہ اعلی حضرت نے بدایوں میں نزول اجلال فرمایا اور جناب رئیس احمد صاحب کی کوٹھی پر قیام فرمایا اور ہزاروں افراد گروہ در گروہ حاضر ہوکر شرف بیعت سے مشرف ہوئے اور سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں داخل ہوئے اور مولوی خلیل بجنوری کے منحرف سینکڑوں مریدین بھی سیدنا مفتی اعظم قدس سرہ العزیزسجادہ نشین بریلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوگئے۔
📗 (مقدمہ عجائب انکشاف ص 49، مجلس اتحاد اسلامی، کراچی)

چلو ایک لمحہ کے لیے مان لیا جائے کہ مولوی خلیل دیوبندی سنی تھا تو جب اس نے حسام الحرمین کا انکار کیا تو سنی کاہے کا رہا؟
اگر کوئی سنی معاذاللہ دیوبندی وہابی ہو جائے تو اس سے حسام الحرمین کی حیثیت کو کیا فرق پڑتا ہے؟
کئی ایسے سنی علماء ہیں جو پہلے دیوبندی یا وہابی تھے بعد میں سنی ہوگئے جیسے مولانا حشمت علی خان پہلے اشرف علی تھانوی کے مرءد حافظ عبدالغفار سے پڑھتے تھے لیکن جب اعلی حضرت کی تصنیف تمہید الایمان پڑھی تو دیوبندیت چھوڑ کر ایسے سنی عالم بنے کہ دیوبندیت و وہابیت کا رد کرتے رہے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ بھی دیوبندی مدرسہ میں پڑھتے تھے بعد میں زبردست سنی بنے کہ رد وہابیت کرتے رہے۔
صاحبزادہ سید فیض الحسن آلو مہار دیوبندی وہابی مجلس احرار کی روح رواں تھے، دیوبندی امیر شریعت مولوی عطاءاللہ بخاری اور دوسرے اکابر دیوبند کے ساتھ ان کے گہرے قریبی روابط و مراسم تھے بالآخر محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد صاحب قدس سرہ کی برکت سے اور حضرت علامہ ابوداؤد مولانا الحاج محمد صادق صاحب کی محنت و کوشش سے یہ بھی دیوبند کی گستاخانہ عبارات پر ان کی تکفیر کرنے لگے۔
اب اگر ان علماء کی پچھلی زندگی کو کوئی دیوبندی وہابی اپنے مذہب پر حجت بنائے تو اسے بیوقوف ہی کہیں گے، اسی طرح اگر کوئی سنی سے وہابی، دیوبندی ہو جائے تو ہم اہل سنت اس کی زمانہ سنیت کی زندگی کو حجت نہیں بنائیں گے بلکہ اسے مردود ٹھہرائیں گے۔
لہذا اگر خلیل بجنوری سنی بھی تھا تو حسام لحرمین کی تائید نہ کرکے سنی نہ رہا، اب اس کا قول و فعل ہم پر حجت نہیں۔

پھر دیوبندی خلیل بجنوری کا بڑا جھوٹ و بہتان دیکھیں کہ یہ لکھ دیا کہ اعلی حضرت نے تمام علماء مدرسہ قادریہ بدایوں کی تکفیر کی ہے جبکہ یہ صریح بہتان ہے۔
دوسرا اعلی حضرت پر یہ بہتان باندھا کہ ان کا جمعہ کی اذان ثانی کےمسجد سے باہر پڑھنے کے فتوی نے ہندوستان میں انتشار پھیلایا جبکہ یہ انتشار کا باعث نہیں بلکہ اصلاح کا باعث ہوا اور آپ نے کثیر دلائل سے واضح کیا کہ مسجد میں اذان دینا خلاف سنت ہے۔

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ اہل سنت کے ایک مستند عالم و مفتی حضور قبلہ مفتی محمد خلیل خان برکاتی قادری علیہ الرحمہ ہیں۔ ان کے بھی مرشد حضور سید محمد میاں علیہ الرحمہ تھے اور یہی خلیل بجنوری کے سابقہ مرشد تھے۔ دیوبندی خلیل بجنوری کے ساتھ بھی برکاتی لکھ کر مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ مفتی خلیل وہی اہل سنت کا مفتی خلیل خان برکاتی ہے جبکہ اہل سنت کے مفتی خلیل خان برکاتی صاحب واضح انداز میں اکابر دیوبند کی تکفیر کرتے تھے چنانچہ اپنے فتاوی خلیلیہ میں فرماتے ہیں:
یہ نانوتوی صاحب وہی ہیں جو اپنی کتاب میں صاف لکھ چکے ہیں کہ خاتم النبین کے معنی سب سے پچھلا نبی سمجھنا جاہلوں کا خیال ہے اہل فہم کا نہیں ہے۔ اسے فضیلت میں کچھ دخل نہیں، ایسے ویسوں کے اوصاف کی طرح ہے وغیرہ وغیرہ اور اس عبارت میں تو اندر کے دل کی لاکر کھول دی۔ ظاہر ہے کہ جب بعد زمانہ اقدس کوئی نبی پیدا ہوا تو حضور ﷺسب سے آخری نبی نہ ہوں گے۔ اس سے صاف روشن ہے کہ خاتم النبین سے نانوتوی صاحب نے مطلقا کفر کیا اور
اسی کتاب میں ختم زمانی کی نسبت خود کہا تھا اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔ تو اپنے منہ آپ ہی کافر ہوئے یا نہیں؟
تو علماء اہل سنت اور مسلمانوں نے اس سے بڑھ کر نانوتوی کو اور کیا کہا ہے جس پر ان کے چیلوں نے غل مچا رکھا ہے؟ واللہ تعالیٰ اعلم۔
📗 (فتاوی خلیلیہ ج 1 ص 168۔ ضیاء القرآن لاہور)

اسی طرح ج 1 کے ص 168۔ 169 پر براہین قاطعہ اور اشرف علی تھانوی کی حفظ الایمان کی کفریہ عبارات پرکلام کرکے اسے کفر قرار دیا۔

انکشاف حق کتاب کے جھوٹ و باطل ہونے پر ایک اور دلیل یہ ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ بھی اعلی حضرت کےدیوبند کی تکفیر کے فتوی کو درست نہ مانتے تھے، چنانچہ انکشاف حق کے ص 13 پر ہے:
احمد رضا خاں صاحب کے کئی قریبی لوگ مثلا مولانا ظفرالدین بہاری المعروف ملک العلماء وغیرہ تکفیر کے فتوی کو درست نہ جانتے تھے۔

جبکہ حضرت ملک العلماء بہاری علیہ الرحمہ خود اہل سنت کی طرف سے وہابی دیوبندیوں اور دیگر گمراہ فرقوں سے مناظرہ کرتے رہے۔ ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ نے حیات ااعلی حضرت ج 2 ص 210 سے لے کر 238 تک اسماعیل دہلوی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی اور اشرف علی تھانوی کا شدومد سے رد کیا اور ان کے کفریات کو نقل کیا ہے۔ نانوتوی کے کفر کے متعلق لکھتے ہیں:
انہیں جیسے کلمات کفریہ کی وجہ سے کہ ان عبارتوں میں صاف خاتم النبین کا انکا رہے اور ہر طبقہ زمین میں ایک رسول خاتم الانبیاء ماننا ہے۔ علماء اسلام نے نانوتوی کے کفر کا فتوی دیا اور ان کے رد میں مضامین لکھے، کتابیں تصنیف فرمائیں۔ اعلی حضرت نے بھی ان کے رد میں 12 کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔
(ایضا ج 2 ص 226)

اسی طرح فتاوی ملک العلماء ص 229 نوری کتب خانہ لاہور پر حسام الحرمین کی خوب تائید کی گئی ہے۔

المختصر یہ کہ دیوبندیوں کا خلیل بجنوری دیوبندی کو سنی بنا کر پیش کرنا اور جگہ جگہ اس کی مردود کتاب انکشاف حق کا حوالہ دینا دھوکہ دہی ہے۔ دیوبندیوں سے گزارش ہے کہ اب آپ بڑے ہوجائیں یہ بچگانہ حرکتیں چھوڑ دیں۔ یہ پندرہویں صدی ہے، اب یہ جھوٹ و فریب نہیں چلے گا۔ ہر کوئی چوزہ نہیں ہوتا جو دیوبندیوی چوزے بنے ہوئے ہیں انہی کو چوزے بنائیں۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2987181118227862&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
برکت کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برکت کو بیان نہیں، محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ آمدن و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اور بنا کسی ٹینشن کے اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں۔ پھر چاہے آپ کی آمدن ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔ اس کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سیٹھوں اور سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔

اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں روڈ کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وه دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے، اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم الله پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔ اس کیفیت میں جو قرار اور دلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وه کسی لکھ پتی کو میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے مہنگے برگر کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ الله تعالى آپ کو اور آپ کے گھر کے افراد کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ انسان، اسپتال اور ڈاکٹروں کے چکروں سے بچا رہتا ہے۔ یوں اس کی آمدن پانی کی طرح بہہ جانے سے محفوظ ره جاتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔ وه تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو الله تعالى نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔ وه اپنے دوستوں کی دیکھا دیکھی، آئے دن آپ سے نئی نئی فرمائشیں (مثلاً موبائل، کپڑے، جوتے وغیره) نہیں کرتی بلکہ قانع اور شاکر رہتی ہے۔

برکت کا تعلق مادی ذرائع کے برعکس الله تعالى کی غیبی امداد سے ہے۔ ایسی غیبی امداد جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندراندر پوری ہوجائیں۔

یہ تو تھی مال اور آمدن میں برکت۔ اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔ وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیاده اور نتیجہ خیز کام کر سكيں، آپ کا وقت ادھرادھر فضول چیزوں میں ضائع نہ ہو۔ اسی طرح عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نہ ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔

کم کھانا، زیاده افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔ آپ کی کم محنت کا پھل زیاده آمدن یا پیداوار کی صورت میں نکلنا بھی برکت ہے۔

یوں سمجھیں کہ برکت الله تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’سپيشل انعام‘‘ ہے

برکت کے حصول کا نہایت آسان طریقہ صدقہ کرنا ہے یا کسی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔ آپ اپنے خاندان میں یا محلہ میں دیکھیں کوئی یتیم ہو، اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیں، اس کی پرورش اسی طرح کریں جیسے اپنی سگی اولاد کی کی جاتی ہے پھر دیکھیں کس طرح برکت آپ کے گھر چھپر پھاڑ کر آتی ہے۔

بھول جائیں کہ جس گھر میں لوگ دن چڑھے تک سوتے رہتے ہوں وہاں کبھی برکت آئے گی۔ کیوں کہ نبی كريم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ میری امت کے لیے دن کے اولین حصے میں برکت رکھ دی گئی ہے۔ اسی طرح شوقیہ کتا پالنا، تصویریں اور میوزک بھی برکت کے اٹھ جانے کے اسباب میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس اور جسم کی پاکی اور حلال ذریعہ آمدن برکت کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی سودی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو یا جسم اور کپڑوں کو ناپاک رکھتا ہو پھر برکت کا امیدوار بھی ہو تو اس کی ساده لوحی پر حیران ہی ہوا جا سکتا ہے۔منقول

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988790934733547&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسئلہ نمبر46:
*کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پان کھانا سنت ہے یاکیا؟ بیّنواتوجروا*
الجواب:
*پان کھانا نہ سنت ہے نہ مستحب صرف مباح ہے، ہاں بعض عوارض خارجیہ کے باعث مستحب ہوسکتاہے جیسے نہ کھانے میں میزبان کی دل شکنی ہو یابوسہ زوجہ کے لئے منہ کو خوشبودارکرنے کی نیت سے، بلکہ واجب بھی جیسے ماں باپ حکم دے اورنہ ماننے میں اس کی ایذا ہویونہی عارض کے سبب مکروہ بھی ہوسکتاہے جیسے تلاوت قرآن مجید میں بلکہ حرام بھی جیسے نمازمیں۔واﷲ تعالٰی اعلم*
📚(فتاویٰ رضویہ،جلد9، کتاب الحظر والاباحۃ،ص520، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی)📚
المرسلہ:
اسیر مفتی اعظم

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988790694733571&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معتصم بادشاہ کے زرخرید ، چہیتے غلاموں نے جب اہل بغداد کو تنگ کیا تو وہ شکایت لے کر اس کے پاس آئے اور کہا:

اپنے غلاموں کو روک لے ، ورنہ ہم تجھ سے لڑائی کریں گے ۔
معتصم نے پوچھا:
تم کس چیز سےلڑو گے ( تمھارے پاس تو اسلحہ ہی نہیں ) ؟
کہنے لگے:
ہم سَحر کے تیر چلائیں گے ( یعنی بہ وقت سَحر تیرے لیے بددعا کریں گے جو تجھے تباہ و برباد کرکے رکھ دے گی ) ۔

معتصم ( ڈر گیا اور ) کہنے لگا:

مجھ میں اس مقابلے کی سکت نہیں !

( انظر: تاریخ الخلفا للسیوطی ، ص 262 ، دارالارقم بن ابی الارقم بیروت)

پاکستان میں جو نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، ہم بھی ان کے خلاف سحر و افطار کے تیروں سے مدد لیں گے ۔
( مالک المک ﷻ کے حضور ظالم بادشاہ اور اس کے حواریوں کے خلاف شکایت کریں گے ) 😥😥

کہیں آہِ مظلوم خالی گئی ہے ؟؟
یہ درخواست ، تا بابِ عالی گئی ہے!

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3138787983068036&id=100008105947430