🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اہل سنت کا ایک اور مینارہ علم ٹوٹ گیا

انا للہ و انا الیہ راجعون
نہایت ہی افسوس کے ساتھ یہ خبر دی جارہی ہے کہ اہل سنت کا ایک عظیم دانشور، مفکر، مدبر، مبلغ، مصلح حضرت علامہ قمر الزماں اعظمی ہالینڈ کا آج انتقال پر ملال ہوگیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماکر ان کے درجات کو بلند و بالا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین

شریک غم
محمدکلام الدین نعمانی مصباحی
بنوٹا، بلوا نگر پالیکا وارڈ نمبر 7، مہوتری نیپال
مبسملا و حامدا ومصلیا و مسلما۔
علم وفضل اور فقہ و افتاء کا ایک ستارہ اور ٹوٹا۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
ابھی اشرف بھائی حلیمی نے خبر دی کہ خلیفہ مفتی اعظم ہند ،خلیفہ مجاہد ملت اور میرے مرشد خلافت حضرت علامہ الحاج مفتی عبد الحلیم صاحب ناگپوری علیہ الرحمہ ابھی رات ٩بجکر 40منٹ کے قریب اسم ذات کا ذکر کرتے ہوئے مالک حقیقی سے جاملے۔
بجے واڑہ میں سید سلیم صاحب باپو کے مکان میں انتقال ہوا اور آپ کے وطن مالوف ددری، بہار میں آپ کی تدفین عمل میں آئیگی۔
یہ اندوہناک خبر ملتے ہی ہوش وحواس پر ایک اضطرابی کیفیت طاری ہو گئی۔ آپ کاحزم و احتیاط معروف تھا اور اصاغر نوازی وطیرہ تھی۔ اللہ تعالی نے مفتی صاحب کو بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا۔

اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے۔ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ احباب اہل سنت سے مخلصانہ اپیل ہے کہ مفتی صاحب کے ایصال ثواب اور ان کے تذکار کی محفلیں منعقد کرکے آپ کے فیوض و برکات حاصل کریں۔
الملتس
محمد حنیف حبیبی
خادم دار العلوم مجاہد ملت ۔اڑیسہ۔
مولانا عبد القادر نوری صاحب
آہ اور ایک اندوہک ناک خبر
😭😭😭😭😭
*استاذالاساتذہ محدث گجرات معین العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد معین الدین رضوی خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند* و سرکارکلاں بانی جامعہ معین العلوم سرکارکلاں خواجہ مسجد نارول احمد آباد گجرات کا ابھی ابھی قضائے الہی سے انتقال کرگئے انا اللہ و انا اللہ راجعون
اس وقت حضرت جمال پور احمد آباد گجرات میں مقیم تھے

نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کردیا جائیگا

شریک غم محمد محسن رضا قادری خطیب و امام شاہ عالم مسجد نارول احمد آباد گجرات
9998786097
9974534335
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مولانا عبد القادر نوری صاحب
موت العالِم موت العالَم

آہ! مفتی عبدالحلیم رضوی اشرفی داغِ مفارقت دے گئے

دنیائے سنیت کی عظیم ہستی خلیفۂ حضور مفتی اعظم و حضور محدث اعظم بقیۃ السلف حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی عبد الحلیم رضوی اشرفی سیتامڑہی ثم ناگ پوری (بانی جامعہ فیض الرضا ددری سیتامڑہی بہار و سرپرست دعوتِ اسلامی ہند) لاکھوں عقیدت مندوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے مالکِ حقیقی کے قرب میں تشریف لے گئے۔
انا للہ وانا الیہ رٰجعون

اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین، مریدین ومتوسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم

حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی پوری زندگی اصلاح معاشرہ، تزکیۂ نفس، طہارتِ قلب، احقاق حق اور ابطالِ باطل میں بسر ہوئی ۔ تقریر و خطابت کے ذریعے پورے ملک میں آپ نے مسلک اہل سنت اور فکر رضا کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ آپ نے متعدد کامیاب مناظرے بھی کیے ۔ تعلیم و تعلم کے میدان میں بھی آپ نے اجلے نقوش چھوڑے ۔ فقہ و افتا کے منصب پر فائز رہتے ہوئے مسلمانوں کی شرعی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ۔ دعوتِ اسلامی ہند کے سرپرست کی حیثیت سے آپ کی خدمات آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہے ۔ نثر و نظم میں طبع آزمائی بھی کی ۔ بارگاہ رسالت مآب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم میں پیش کیے گئے آپ کے نعتیہ کلام بڑے خاصے کی چیز ہیں ۔ مالیگاﺅں سے آپ کے بہت دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ بارہا دارالعلوم حنفیہ سنیہ، اسلام پورہ کے سالانہ اجلاس میں آپ تشریف لاچکے ہیں ۔ رضا اکیڈمی، شاخ مالیگاﺅں کے زیرِاہتمام محرم الحرام کے مہینے میں دو یا تین برس مسلسل چار روزہ تاریخی اجلاس کے مقرر خصوصی کے طور پر آپ کے بیانات آج بھی دریچۂ فکر و ذہن میں تروتازہ ہیں ۔
میرے خسر محترم حافظ عبدالعزیز رضوی حشمتی علیہ الرحمہ سے ان کے برادرانہ مراسم تھے یہی وجہ ہے کہ جب بھی میری جہاں کہیں بھی ملاقات ہوتی تو مجھ سے بڑی شفقت سے پیش آتے اور پورے گھر بار کی خیریت دریافت کرتے اور کبھی کبھار مسکراتے ہوئے کہتے کہ میاں آپ ہمارے داماد ہو ۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کی شاعری کے حوالے سے پی ایچ ڈی کے رجسٹریشن کے لیے جن دنوں میرا ناگپور جانا ہوا تو حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ سے امجدی مسجد میں جیسے ہی ملاقات ہوئی فوراً اپنے دولت کدہ پر لے گئے اور اپنے گھر والوں سے مسکرا مسکرا ملوایا خوب خاطر تواضع فرمائی، چوں کہ میرا قیام حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف رضوی نور اللہ مرقدہٗ کے یہاں تھا اس لیے آپ نے ازارہِ تفنن طبع کہا کہ آپ بڑے گھر پر رکے ہیں ویسے وہ بھی ہمارا ہی گھر ہے ۔ حضرت نے شفقت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ناگپور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا رجسٹریشن ہوجاتا ہے تو پھر قیام و طعام ہمارے یہاں ہی رہے گا لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہاں رجسٹریشن نہ ہوسکا سو میں حضرت علیہ الرحمہ کی میزبانی سے محروم رہا لیکن ان کی دعاؤں سے ہمیشہ سرشار رہا ۔
آج حضرت مفتی عبدالحلیم رضوی اشرفی علیہ الرحمہ کی وفات حسرت آیات کی خبرِ غم اثر سن کر ہمارا پورا خانوادہ اور میری اہلیہ محترمہ کا پورا گھرانا رنج و الم میں ڈوب گیا ہے ۔ ہم سب صاحب زادہ حضرت مفتی یحییٰ رضا صاحب قبلہ اور جملہ اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ کریم آپ سب کو صبر جمیل عطا کرے اور حضرت کے درجات کو بلند سے بلند تر فرماتے ہوئے اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم

... محمد حسین مشاہد رضوی و جملہ اہل خانہ ، مالیگاﺅں
12 رمضان المبارک 1442ھ بعد نمازِ تراویح مطابق 24 اپریل 2021ء

خلیفۂ مفتی اعظم ہند محسن و سرپرستِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مفتی عبدالحلیم صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔ان کےلیے ایصال ثواب، دیے گئے لنک میں درج فرما کر مجلس کی ملک فرمادیجیے۔ جزاک اللہ خیرًا

👇👇👇
http://bit.ly/Mufti-Abdul-Haleem-EsalSwab
.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا و حامدا::ومصلیا و مسلما
الزامی جواب=آسان اور مؤثرحل

1-متعصب پنڈت و پجاری اسلام کے خلاف جو کچھ بکواس کرتے ہیں,اس کا آسان اور مؤثر حل یہ ہے کہ برہمنی دھرم میں جو انسانیت کے خلاف اصول وقوانین ہیں,ان کو ظاہر کیا جائے۔اس طرح وہ دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہوں گے اور اسلام کے خلاف خرافات و بکواس بند کر دیں گے۔

اگر ہمارے اوپر کیس ہوتا ہے تو ہمارے مخالف پر بھی کیس ہو گا۔بس یہ لازم ہے کہ برہمنی دھرم کے خلاف انسانیت اصول وقوانین کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ امن عامہ متاثر نہ ہو۔

کسی نے پریس کلب آف انڈیا میں ہرزہ سرائی کی ہے تو ہم بھی پریس کلب آف انڈیا ہی میں بیٹھ کر اپنی باتیں پیش کریں۔بس انداز بیان محتاط ہو۔

ان شاء اللہ تعالی ایک دو بار الزامی جواب دیا جائے تو اسلام کے خلاف بکواس وخرافات کا سلسلہ بہت حد تک کنٹرول ہو سکتا ہے۔

2-تردید کا آسان طریقہ

دلتوں کے بعض یوٹیوب چینل ایسے ہیں جو برہمنی دھرم کے راز کھول کر قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ان کے ویڈیوز کو ملکی پیمانے پر شیئر کیا جائے۔

ہمارے درد مند نوجوان آج ہی سے یہ کام شروع کر دیں۔ان شاء اللہ تعالی میں بھی شیئر کرتا ہوں۔غیر مسلموں کے سوشل میڈیائی گروپ اور فیس بک وغیرہ پر یہ ویڈیوز اپ لوڈ کریں۔

3-جو ملا لوگ ٹی وی ڈبیٹ میں شریک ہو کر اسلام کی ذلت و خواری کا سبب بنتے ہیں,ان کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے۔

یہ چند سکوں کے عوض اسلام کی ذلت ورسوائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ایک بے وقوف کو بھی معلوم ہے کہ ایک طرف سازشی قسم کے چار لوگ ہوں اور دوسری طرف کوئی تنہا ہو تو لامحالہ چار آدمی اکیلے آدمی پر ٹوٹ پڑیں گے,اور تنہا آدمی بوکھلا جائے گا۔

اگر آپ جیت بھی گئے تو بھی سارا سسٹم مخالفین کا ہے۔وہ آپ کی شکست کو ظاہر کریں گے,بلکہ آپ کو پانچ/سات ہزار اسی لئے دیا گیا ہے کہ آپ اسلام کی ذلت و رسوائی کا سبب بنیں۔

سبھوں کو معلوم ہے کہ ٹی وی ڈبیٹ میں کبھی مہذب گفتگو بھی ہوتی ہے اور بسا اوقات لوگ کتوں کی طرح بھونکنے لگتے ہیں۔چند ماہ قبل ایک بھارتی نیتا کی موت ٹی وی ڈبیٹ کے سبب ہو گئی تھی۔کوئی ایسی بات کہی گئ جو وہ برداشت نہ کر سکا۔

کسی اسلامی موضوع پر ٹی وی ڈبیٹ میں شرکت نہ کریں,بلکہ مخالفین کو پبلک کے سامنے مناظرہ کی دعوت دیں۔

تحریک شدھی کے عہد میں مناظروں کے سبب اہل تعصب پنڈت و پجاری حواس باختہ ہوئے اور اپنی دھوتیاں لہراتے ہوئے میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

ٹی وی ڈبیٹ میں حصہ لینے والے شیطان صفت اور زر پرست ملاؤں سے کنارہ کشی اختیار کریں۔وہ سمجھانے سے ماننے والے نہیں۔مال وزر کے بالمقابل وعظ ونصیحت پر کون عمل کرے گا؟

4-بھارت میں جب بھی ہندو مسلم اختلاف شروع کیا جائے تو برہمنوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمام غیر مسلموں کو اکھٹا کیا جائے اور اپنی سیاسی طاقت بڑھائی جائے۔

دلت اور آدی واسی پہلے ہی سے برہمنوں سے دور ہیں,اب کسان آندولن کے سبب اوبی سی کے بہت سے طبقات برہمنوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

مختلف مقامات پر ریاستی انتخابات کے ساتھ آئندہ لوک سبھا الیکشن:2024 بھی مد نظر ہے,اس لئے برہمنی نظام حرکت میں ہے۔

بھارتی دجال نرسنگھانند نے اپنے ویڈیو میں خود ہی اعلان کیا ہے کہ ذات پات چھوڑ کر تمام ہندو,جینی,سکھ اور بدھشٹ متحد ہو جائیں۔ہم لوگ سب بھائی بھائی ہیں۔

اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی غیر مسلموں کو متحد کرنے کے لئے ہے۔ایسی صورت میں لازم ہے کہ ہماری جانب سے کوئی ایسا اقدام نہ ہو کہ غیروں کے اتحاد کا سبب بنے۔

ابھی ایس سی,ایس ٹی,اوبی سی کے متعدد طبقات,بدھشٹ,سکھ اور بعض دیگر بھارتی مذاہب کے لوگ برہمنوں سے الگ ہیں۔دیگر برادریوں کے سیاسی لیڈر اپنے ووٹ بینک کو بچانے کے لئے اپنی قوم کو برہمنوں اور بی جے پی سے دور رکھتے ہیں۔

ایسی صورت میں یہ بھی بہتر ہو گا کہ ان سازشوں کو اقوام ہند کے سامنے ظاہر کیا جائے اور جو لوگ اسلام کے خلاف بکواس کریں,ان کی ذاتی جرائم کو ملک کے سامنے پیش کیا جائے,تاکہ جو لوگ ہیرو بننے کا خواب دیکھتے ہیں,وہ زیرو بن جائیں۔

جب نتیجہ برعکس نکلے گا تو ان شاء اللہ تعالی کوئی سازشی میدان میں آنے کی ہمت نہیں کرے گا۔

کورٹ میں کاروائی کی جائے۔میمورنڈم اور ایف آئی آر سے کچھ فائدہ نہیں۔میڈیا کے ذریعہ کلیجہ شکن جوابات دئیے جائیں۔

جو لوگ خاموش بیٹھے ہیں,ان سے دعاؤں کی درخواست کریں۔باہمی اختلاف اور اندرون خانہ شوروغل سے پرہیز کریں۔

ان شاء اللہ تعالی ہندی زبان میں ہمارا سوشل میڈیائی پروگرام جلد ہی شروع ہو گا۔دیگر حضرات بھی اپنے طور پر ڈیفنس میں لگے رہیں۔

طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:20:اپریل 2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/902048717032314/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
گیہوں کا صدقۂ فطر ایک صاع یا نصف صاع ؟

(پہلی قسط)

تحقیق وتجزیہ : اسلم نبیل ازہری، پیلی بھیت

مالی عبادتوں میں سے ایک عبادت صدقۂ فطر ہے، جو عید الفطر کے موقعے پر عمل میں آتی ہے، متعدد حدیثوں سے اس کی فضیلت ثابت ہے، صدقۂ فطر کی ادائیگی کی بہت سے حکمتیں ہیں، ان میں سے دو یہ ہیں:

١-پہلی یہ کہ اس کے ذریعے روزوں میں ہونے والی کوتاہیوں کی تلافی ہوجاتی ہے۔
دوسری یہ کہ اس سے غربا ومساکین کا مالی تعاون ہو جاتا ہے جس سے ان کی عید خوشی سے گزر جاتی ہے۔
ان دونوں حکمتوں کا ذکر درج ذیل حدیث میں موجود ہے۔

صحابی جلیل ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالی عنہما ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺻﺪﻗﮧ ﻓﻄﺮ ﺭﻭﺯﮦ ﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﺤﺶ ﮔﻮﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ لیے ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﮐﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﮯ لیے ﻣﻘﺮﺭ فرمایا۔

{سنن ابی داؤد، حدیث نمبر:1371}

صدقۂ فطر میں اناج یا اس کی قیمت میں سے جو فائدہ مند ہو وہ دینا بہتر ہے۔

زمانۂ نبوی میں صدقۂ فطر میں گیہوں، جو، کھجور، منقی، پنیر وغیرہ ا
غذائی اجناس دی جاتی تھیں۔

گیہوں کے علاوہ دوسری اجناس سے صدقۂ فطر کی مقدار ایک صاع ہونے میں فقہا کا اتفاق ہے، البتہ گیہوں کے سلسلے میں اختلاف ہے، جمہور فقہا بہ شمول ائمۂ ثلاثہ دوسرے غلوں کی مانند گیہوں میں بھی ایک صاع صدقۂ فطر کے قائل، لیکن گیہوں کی مقدار کے سلسلے میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا جمہور فقہا سے اختلاف ہے، آپ کے نزدیک گیہوں سے صدقۂ فطر کی مقدار نصف صاع ہے۔

کچھ اہل علم حضرات نے طرفین کے دلائل کا جائزہ لیے بغیر یہ کہنا شروع کردیا کہ اس مسئلے میں جمہور فقہا کا موقف قوی اور امام ابو حنیفہ کا موقف ضعیف ہے۔

لیکن اپنی بے مایگی کے باوجود جب ہم نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو معاملہ بر عکس نظر آیا، اور آفتاب نیم روز کی مانند یہ ظاہر ہوگیا کہ دوسرے درجنوں مسائل کی طرح اس مسئلے میں بھی فقہ حنفی کو دیگر مذاہب پر بالا دستی حاصل ہے۔
والحمد لله على ذلك.

ذیل میں اس مسئلے سے متعلق مختصر تجزیاتی تحریر پیش کی جاتی ہے قارئین احباب سے نیک دعاؤں اور مفید اصلاحات کی گذارش ہے۔

#تحقیق_و_تجزیہ

کھجور، جو، منقی، پنیر، وغیرہ میں صدقۂ فطر کی مقدار جمہور کی طرح احناف کے نزدیک بھی ایک صاع ہے۔

البتہ صاع کی مقدار میں جمہور اور فقہائے احناف کا اختلاف ہے؛ جمہور فقہا صاعِ حجازی کا اعتبار کرتے ہیں؛ حجازی صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، فقہائے احناف کے نزدیک عراقی صاع کا اعتبار ہے؛ عراقی صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے۔قول مختار پر موجودہ وزن سے عراقی صاع چار (4)کلو، چورانوے(94)گرام، چونسٹھ (64)ملی گرام ہے۔

تاہم گیہوں کی مقدار میں جمہور فقہا اور احناف کا اختلاف ہے، جمہور فقہا کے نزدیک دوسری اجناس کی طرح گندم میں بھی فطرے کی مقدار ایک صاع ہے، جب کہ احناف کے نزدیک گیہوں میں نصف صاع(2/ کلو 47/ گرام 32/ ملی گرام) ہے۔

دلائل کی روسے احناف کا مذہب راجح اور قوی ہے؛ کیوں کہ فطرے میں گیہوں کی مقدار سے متعلق دونوں طرح کی احادیث موجود ہیں، کچھ احادیث میں ایک صاع اور کچھ میں نصف صاع کی صراحت ہے۔

لیکن اصول تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک صاع گندم والی احادیث یا تو باعتبار سند ضعیف ومردود ہیں، یا مرفوع نہیں ہیں، جب کہ نصف صاع گندم والی احادیث صحیح بھی ہیں اور مرفوع بھی، جس سے فقہ حنفی کی بالا دستی آشکار ہوتی ہے۔

اور بعض اہل علم نے جو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ حدیث پاک سے گندم میں ایک صاع فطرہ ثابت کرنے کی سعی بلیغ کی ہے وہ اپنے محل میں نہیں۔لہذا پہلے ہم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث پاک اور اس سے اخذ کردہ چند نتائج اور ان کا فساد ذکر کریں گے، اور آخر میں نصف صاع گندم والی احادیث کی اپنی بساط بھر تحقیق پیش کریں گے۔ واللہ الموفق، وھو المستعان۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث جس سے کچھ لوگوں نے ایک صاع گندم فطرہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔

ائمۂ ستہ( بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)نے اپنی اپنی کتب میں اختصار و تطویل کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، درج ذیل الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :*كنا نخرج - إذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم- زكاة الفطر عن كل صغير وكبير حر أو مملوك صاعا من طعام، أو صاعا من أقط، أو صاعا من شعير، أو صاعا من تمر، أو صاعا من زبيب، فلم نزل نخرجه حتى قدم علينا معاوية بن أبى سفيان حاجا أو معتمرا، فكلم الناس على المنبر، فكان فيما كلم به الناس أن قال: " إنى أرى أن مدين من سمراء الشام تعدل صاعا من تمر"، فأخذ الناس بذلك. قال أبو سعيد: فأما أنا فلا أزال أخرجه كما كنت أخرجه أبدا ما عشت.*
*ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری زمانے میں اور اس کے بعدہم ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے صدقۂ فطر میں کھانے، پنیر، جو، کھجور اور کشمش میں سے ایک ایک صاع دیتے تھے، پھر جب ہمارے پاس معاویہ ابن ابی سفیان (رضی اللہ عنہما) حج یا عمرہ کرنےکی غرض سے آئے اور آپ نے ممبر پر دوران خطاب فرمایا کہ میری رائے میں دو (2)مُد، شامی گندم ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، تو لوگوں نے آپ کی رائے پر عمل کرنا شروع کردیا، لیکن میں پوری زندگی ایک صاع گندم ہی فطرہ نکالتا رہوں گا جیسے پہلے نکالتا تھا۔*

*(صحیح بخاری "کتاب الزکاۃ "، "باب صاع من زبیب "حدیث نمبر:1508)
(صحیح مسلم "کتاب الزکاۃ "، "باب زکاۃ الفطر علی المسلمین "حدیث نمبر :985)*

*مذکورہ حدیث سے ماخوذ نتائج اور ان کا فساد۔*

*پہلا نتیجہ۔*
گندم میں ایک صاع فطرے کے قائل حضرات اس حدیث میں وارد لفظ " طعام " سے گندم مراد لیتے ہیں، اور اس پر علامہ خطابی کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں کہ جب لفظ طعام مطلق بولاجائے تو اس سے گندم ہی مراد ہوتا، اور لوگ جب "اذھب إلی سوق الطعام"بولتے ہیں تو اس سے "سوق الحنطة" (گندم کا بازار)ہی مراد لیتے ہیں، لہٰذا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مذکورہ اشیا کے ساتھ ساتھ گندم سے بھی ایک صاع فطرہ ادا کرتے تھے۔

*پہلے نتیجےکا فساد۔*
ہمارے علم کی حد تک ان حضرات کا لفظ طعام سے گندم مراد لینا ضعیف اور نا قابل اعتبار ہے۔

*اولا:*اس حدیث میں لفظ طعام سے کیا مراد ہے، اس بارے میں علما کے متعدد نظریے ہیں، مثلا:
(1)طعام سے مراد کھجوریں ہیں۔(2)طعام سے مراد مکئی ہے۔
(3)طعام سے مراد گندم ہے۔
(4)طعام عام ہے جو کھانے کی ہر قسم کو شامل ہے، حدیث میں طعام کے بعد دوسری اشیا کا ذکر اہتمام کے پیش نظر تخصیص بعد التعمیم کے قبیل سے ہے۔(5) طعام سے مراد گندم کے علاوہ دوسرے غلے ہیں۔

*ثانیا:*محقق علمائے احناف فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں طعام سے اس کا مفہوم عام بھی مراد لیا جاسکتا ہے، البتہ طعام سے گندم کے علاوہ دوسرے غلے مراد لینا ہی از روئے تحقیق درست ہے، اس کے چند دلائل ہیں، ان میں سے دو دلیلیں درج ذیل ہیں۔

مذکورہ بالا حدیث میں "طعام" سے گندم کے علاوہ دوسرے اناج مراد ہونے پر دلائل۔

*پہلی دلیل:* حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کو اختصارا روایت کیا، آپ فرماتے ہیں: *عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : كنا نخرج في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفطر صاعا من طعام، وقال أبو سعيد: وكان طعامنا الشعير، والزبيب، والأقط، والتمر.*

*(ترجمہ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ ہم نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس میں عید الفطر کے دن کھانے سے ایک صاع صدقہ فطر نکالتے تھے، اس وقت ہمارے کھانے جو، کشمش، پنیر، اور کھجور ہی ہوا کرتےتھے۔*

*(صحیح بخاری، کتاب صدقة الفطر، باب الصدقة قبل العید، حدیث:1510)*

صحیح بخاری کی اس روایت سے یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث میں طعام کے عموم سے گندم خارج ہے۔کیوں کہ راوی حدیث حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے طعام کی مراد کوخود واضح فرمادیا، اور اہل علم سے مخفی نہیں کہ راوی کی تفسیر کے بعد کسی قسم کی تاویل مسموع نہیں ہوتی، لہذایہ ثابت ہوگیا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فطرے میں گندم کے علاوہ دوسرے غلوں کا ایک صاع دیا کرتے تھے۔

*دوسری دلیل:*
مشہور محدث امام محمد بن خزیمہ علیہ الرحمۃ (م311/ھ)نے بطریق فضیل بن غزوان، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ:
*لم تكن الصدقة على عهد رسول الله صلي الله عليه وسلم إلا التمر، والزبيب، والشعير، ولم تكن الحنطة.*

*ترجمہ:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں صدقۂ فطر کھجور، منقی، اور جو ہی دیا جاتا تھا۔گیہوں اس وقت عام مروج نہ تھا۔*

*(صحیح ابن خزیمہ، ج 4/ص 85/ حدیث : 2406/ مطبوعہ، المکتب الاسلامی )*

اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ حجاز مقدس میں اس وقت گیہوں عام نہیں تھا، لوگ صدقات میں دوسرے غلے دیا کرتے تھے۔

البتہ امام حاکم نے "المستدرک " میں بطریق عِیاض بن عبد اللہ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ سے روایت کیا کہ جب حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے سامنے صدقہ فطر کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا:
*لا أخرج إلا ما كنت أخرجه على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم صاعا من تمر، أو صاعا من حنطة، أو صاعا من شعير، أو صاعا من إقط، فقال له رجل من القوم : أو مدين من قمح، فقال : لا، تلك قيمة معاوية، لا أقبلها، و لا أعمل بها.*
*ترجمہ: میں فطرے میں وہی اناج نکالوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نکالتا تھا، کھجور، گندم، جو، پنیر سے ایک ایک صاع، حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: یا گندم سےدو مُد، تو اپ نے فرمایا: نہیں، یہ تو حضرت معاویہ کی (مقررکردہ) قیمت ہے، نہ مجھے یہ تسلیم ہے اور نہ میں اس پر عمل کرتاہوں۔*

*(المستدرک علی الصحیحین، ج1/ص 570/حدیث : 1495/ مطبوعہ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)*

مگر اس روایت میں "أو صاعا من حنطة " کے الفاظ راوی کا وہم ہیں، اسی وجہ سے ان پر امام ابو داود رحمۃ اللہ تعالی علیہ(م 275/ھ)نے اپنی سنن *(حدیث نمبر: 1618/)* میں اور امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح *(حدیث نمبر:2419/)* میں *"غیر محفوظ"* ہونے کا ریمارک لگایا۔امام ابن خزیمہ کا اس لفظ کی زیادتی پر تبصرہ ملاحظہ کیجیئے:
*ذكر الحنطة في خبر أبي سعيد غير محفوظ، و لا أدري ممن الوهم. قوله: و قال له رجل من القوم :" أو مدين من قمح" إلى آخر الخبر دال على أن ذكر الحنطة في أول القصة خطأ، أو وهم. إذ لو كان أبو سعيد قد أعلمهم أنهم كانوا يخرجون على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم صاع حنطة، لما كان لقول الرجل : أو مدين من قمح معنى.*

*(ترجمہ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں حِنطہ (گیہوں)کا ذکر احادیث مشہورہ کے خلاف ہے، معلوم نہیں یہ وہم کس راوی کی طرف سے ہے۔راوی کا قول :حاضرین میں سے ایک شخص نے آپ سے کہا: "یا گیہوں کے دو مُد۔۔،الخ" اس بات کی دلیل ہے کہ اس حدیث کے شروع میں گیہوں کا ذکر غلطی یا وہم ہے، کیوں کہ اگر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کو پہلے ہی سے یہ بتادیتے کہ صحابہ کرام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک صاع گندم نکالتے تھے تو سائل کے قول:"یا گیہوں سے دو مُد" کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتاہے۔*

*دوسرا نتیجہ۔*
کچھ لوگ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نصف صاع گندم سے متعلق کوئی مرفوع حدیث نہیں ہے؛ اس لیے کہ اگر کوئی مرفوع حدیث ہوتی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فطرے میں نصف صاع گندم متعین کرتے وقت ضرور ذکر فرماتے اور یہ نہ کہتے کہ*"إني أري"( میری رائے یہ ہے۔۔الخ۔)۔* کیوں کہ نص کے ہوتے ہوئے رائے واجتہاد کی گنجائش نہیں ہوتی، یونہی اگر حدیث مرفوع ہوتی تو حضرت ابو سعید خدری، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے فتوے کی مخالفت نہ کرتے۔

*دوسرے نتیجےکا فساد۔*
ممکن ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو نصف صاع گیہوں والی حدیث نہ پہنچی ہو، تاہم آپ حضرات تک کسی حدیث کے نہ پہنچنے سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ نفس الامر میں اس حدیث کا وجود ہی نہیں، اسی لیے علما فرماتے ہیں کہ:" عدم وجود، وجود عدم کو مستلزم نہیں"، کتنے ہی صحابہ کرام ایسے ہیں جنھیں کچھ حدیثیں نہیں پہنچ سکیں، بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ساری احادیث تو حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو بھی نہیں پہنچیں، جب کہ دیگر صحابہ کرام کو پہنچ گئیں تھیں، لیکن اس سے ان مقدس ہستیوں کی علمی جلالت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیوں کہ مجتہد کے لیے تمام احادیث کا احاطہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

چناں چہ خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو ابتدا میں میراث جدہ کی روایت نہ پہنچنا۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو گھر میں داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت مانگنے کے بعد اجازت نہ ملنے پر واپس ہوجانے والی حدیث موصول نہ ہونا۔
خلیفہ سوم حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ کا شوہر کے گھر عدت گذارنے سے متعلق ہم شیرۂ حضرت ابو سعید خدری، فریعہ بنت مالک رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث پر اطلاع نہ پانا۔
خلیفہ چہارم مولائے کائنات حضرت علی شیر خدا کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو حاملہ کی عدت وضع حمل ہونے کے حوالے سے حضرت سُبیعہ بنت حارث اسلمیّہ کی حدیث کا نہ پہنچنا اسی قبیل سے ہے؛ کہ واقع میں یہ احادیث موجود تھیں مگر دوسرے مہتم بالشان امور میں مصروفیت کے سبب ان حضرات قدسیہ تک تاخیر سے پہنچیں ۔

لہٰذا اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا دوسرے صحابہ کرام کو نصف صاع گندم والی حدیث نہیں پہنچ سکی تو اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس تعلق سے حدیث ہے ہی نہیں، اگر تھوڑی سی بھی توجہ دی جاتی تو کئی مرفوع اور غیر مرفوع احادث مل جاتیں۔

غالباً اس وقت نصف صاع گیہوں والی حدیث کے مشہور نہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت حجاز شریف میں گیہوں عام نہیں تھا، بعد میں زمانہ امیر معاویہ رضی اللہ میں عام ہوا، اس وقت چند ہی لوگ گیہوں استعمال کرتے تھے، ان کے یہاں دوسرے غلے جیسے کھجور، جو، منقی وغیرہ کا چلن تھا، جیسا کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کا ارشاد مبارک صحیح بخاری کے حوالے سے اوپر گذرا۔
21/ اپریل 2021ء
(جاری)۔۔

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/902139803689872/