🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
جب دین کی خاطر صحابہ کرام علیھم الرضوان پر دشمنوں کی طرف سے سخت آزمائشیں آئیں تو بارگاہِ اقدس میں عرض کرنے لگے :

حضور ! آپ ہمارے لیے مدد طلب کیوں نہیں کرتے ، ہمارے لیے اللہ ﷻ سے دعا کیوں نہیں مانگتے ؟

رسول پاک ﷺ نے فرمایا:

تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور ( دین پر چلنے کی پاداش میں ) اُسے اُس میں ڈال دیا جاتا ، پھر اُس کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے ، لیکن یہ عمل بھی اسے اپنے دین سے نہیں پھیرتا تھا ۔
پھر لوہے کی کنگھی اس کے گوشت میں دھنسا کر ہڈیوں اور پٹھوں کو نوچا جاتا لیکن یہ اذیت بھی اسے دین سے نہ ہٹا سکتی‌ ۔

( صحیح البخاری ، ر 3612 )

اللہ اکبر ! رسول اللہﷺ ہماری کس طرح تربیت فرما رہےہیں ۔
حضور چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کی راہ میں آنے والی تکلیفوں سے گھبرا نہ جایا کریں ، بلکہ صبر اور برداشت سے کام لیا کریں ۔
ہم دین کے معاملے میں مضبوط اور بہادر بنیں ، سہل پسند نہ بنیں ۔
جب دین کا معاملہ آجائے تو حق پر ڈٹ جائیں پھر چاہے جیسی بھی تکلیف سے گزرنا پڑے ، ثابت قدم رہیں ؎

جے کر مِلے ساجن دے ناں دا مِہنا ، جَھولی پالَیِّے تے تَھلے سَٹیے ناں
جے کر مِلے ساجن دے ناں دی سُولی ، تے جُھوٹا لَے لَیِّے پِچھاں ہٹیے ناں

✍️لقمان شاہد
17-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3137889093157925&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*توہین رسالت کی مذموم فضا… اور تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے تقاضے*
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/182683963686799/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]

’’کسی مذہب کے پیروکاروں کے اعتقادات مجروح کرنے کے عمل کو آزادیِ اظہار کا نام نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ یہ بیان کسی مسلم دانشور کا نہیں بلکہ ایک کرسچن پیشوا کا ہے؛ جو حالات کے تجزیے سے اُبھرا ہے۔ آزادیِ اظہار کا نعرہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی، توہین، گستاخی، اہانت، شرعی قوانین پر تنقید کے لیے مختص ہو کر رہ گیا ہے۔

*آزادیِ اظہار کا سلوگن:* آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے۔ لیکن فطری تقاضا یہ ہے کہ آزادی قانون کی لگام سے مستحکم رہے۔ تخریب نہ بن جائے یا زندگی اجیرن نہ کر دے۔ اس لیے آزاد ملکوں میں امن و امان- قانون کی بالادستی سے قائم ہوتا ہے۔ اظہارِ خیال کی چھوٹ اگر دی جانی چاہیے تو اس ضمن میں بھی قواعد کی رعایت بہر حال ضروری ہو گی۔ مثلاً سچ کہنا، سچ سُننا، سچ پر چلنا یہ فطری اُصول ہے۔ اگر اسی روش کو اپنا لیا جاتا تو دُنیا سیکڑوں اور ہزاروں مسائل سے بچ جاتی۔ فساد فی الارض پر روک لگتی۔ زمیں امن و امان سے بھر جاتی؛ لیکن عصبیت و حسد کی آگ نے آزادیِ اظہار کے دل کش نعرے کو جھوٹ کے پُلندے میں جکڑ دیا۔ جس کا نتیجہ بربادی و تباہی کی صورت میں ظاہر ہوا۔

*توہین رسالت کی مہم:* صدیوں تک شکست سے دوچار ہونے کے بعد یہود وانگریز نے جب یہ دیکھا کہ؛ ہم اسلام کے سیلِ رواں کو روک نہیں پا رہے، نبوی عظمت کا شہرہ بلند سے بلند تر ہو رہا ہے، نبوی اخلاق کے اثرات و ثمرات انسانیت کو دوام و استحکام عطا کر رہے ہیں، من کی دُنیا میں اسلام کی حسیں چاندنی پھیل رہی ہے، دل و جاں اسلامی نور میں نہا رہے ہیں، قافلہ در قافلہ، جوق در جوق اسلام کے دامن سے وابستگی بڑھ رہی ہے، علاقے کے علاقے کفر سے ٹوٹ کر اسلامی شوکت سے جُڑ رہے ہیں، ٹوٹے دل جُڑ رہے ہیں، غریب خوشی خوشی دامنِ اسلام میں آ رہے ہیں، تو انھوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ اب شرعی قوانین پر تنقید کی جائے۔ سیرتِ نبوی کو نشانہ بنایا جائے۔شعائرِ اسلامی سے انحراف کو ہوا دی جائے۔ اس کے لیے جھوٹ/اتہام کا سہارا لیا گیا۔ اگر سچ کا سہارا لیا جاتا تو سازشوں کا محل زمیں بوس ہو جاتا، اسلام کی ضیا؛ بے نور وجود کو ایمان سے منور کر دیتی، بقول اعلیٰ حضرت ؎
ترے دین پاک کی وہ ضیا کہ چمک اُٹھی رہِ اصطفا
جو نہ مانے آپ سقر گیا، کہیں نور ہے کہیں نار ہے

*ایک جائزہ:* توہین رسالت کی سازش پُرانی ہے، اس میں تمام باطل قوتیں متحد ہیں، بعض ان کے آلۂ کار -مؤحد- بھی ایسے ہیں جن کے دامن عصمتِ انبیا میں جرأت سے آلودہ ہیں۔ اس بابت ایک تجزیہ نقل کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ توہین اسلام و پیغمبر اسلام ﷺ کی بے ادبی کی بادِ سموم کس قدر وسیع کی گئی:
[۱] 15؍اپریل 2005: ڈنمارک کی ملکہ مارگریٹ iiنے سرکاری طور پر شائع شدہ اپنی بائیو گرافی میں کہا کہ ’’آئیے اسلام کے خلاف ہم اپنی مخالفت کا کھل کر اظہار کریں۔‘‘
اسی دور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی منصوبہ بندی ہوئی۔
[۲] ڈینش مصنف کیری بلجن کی ایڈیٹر جیلنڈس پوسٹس فلیمنگ روز سے ملاقات، ایڈیٹر نے اسی ملعون مصنف کی کتاب کے لیے خاکے تیار کروائے۔اور اگست 2005 میں ہی اس کے لیے اشتہار دیا گیا۔
[۳] 30؍ ستمبر 2005جمعہ: ڈنمارک کے اخبار جیلنڈس پوسٹس میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم)کے تصویری خاکے، کے عنوان سے 12؍گستاخانہ خاکوں کی اشاعت۔
[ماہ نامہ لانبی بعدی لاہور، تحفظ ناموس رسالت نمبر،ص133 ]
اس کے فوری بعد مسلمان مضطرب و بے چین ہوئے۔ کوپن ہیگ میں 27 مسلم تنظیموں کے قائدین نے یورپی کمیٹی براے حرمتِ رسول قائم کی۔ معافی کا مطالبہ کیا گیا۔ توہین کی مذمت کی گئی۔ 14؍ اکتوبر 2005 جمعہ کو، کوپن ہیگ میں پانچ ہزار افراد نے مظاہرہ کیا۔
لیکن تشویش ناک بات یہ رہی کہ مسلم کہلانے والے ملکوں کے صہیونیت پرست اخبارات نے ان کی گستاخانہ فکر کو آگے بڑھایا۔ جیسا کہ مصر کے اخبار الفجر میں خاکوں کی اشاعت ہوئی۔ پھر توہین کی فکر آگے بڑھتی گئی۔ پورا یورپ، امریکہ اس میں شامل ہوئے۔ کئی میگزین نے خاکے شائع کیے۔ آزادیِ اظہار کے پردے میں اس امرِ خبیث کو سہارا دینے کی کوشش کی گئی۔ اسے یورپ سے ایشیا پہنچایا گیا۔
خود ہندوستان میں کئی اخبارات نے اسی منفی فکر کی تائید کی۔ اسلام پر طنز و تشنیع کی۔ اسلامی اُصولوں کا مذاق اڑایا۔ اپنے دامن کے دھبوں کو نظر انداز کر کے اسلامی حسن میں نقص نکالنے کی جرأت کی۔
[۱] عصمتِ انبیا کے عقیدے پر ضربِ کاری لگائی گئی۔
[۲] پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے رشتہ و تعلق و محبت کی پیمائش کی گئی۔
[۳] اسلام مخالف تمام قوتوں کو پیغمبر اسلام کی توہین کا راستہ دکھایا-
[۴] مسلمانوں کے زوال کی راہیں متعین کی گئیں۔
[۵] مسلم قوت و شوکت کی پیمائش کی گئی۔
[٦] مسلمانوں کو بے و
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
طن کرنے کی کوششیں ہوئیں۔

*ہند میں گستاخیوں کا طوفان:* ہند میں بھی جرأت اتنی بڑھی کہ رسول اللہ ﷺ کی توہین میں زبانیں کھلنے لگیں۔ سادھوؤں، یوگیوں اور بھگوا توا قوتوں نے اسلامی اُصولوں کے خلاف مہم چھیڑی۔ کورٹوں کے ذریعے اقتدارِ وقت نے اسلامی قوانین کے خلاف فیصلے کروائے۔ پھر مزید دو قوم آگے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی توہین کروائی۔ نرسنگھانند کی حال ہی میں توہین کی پے در پے جسارت، اقتدار کی پشت پناہی؛ یہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ فرقہ پرست یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان خاموش رہیں۔ یہ توہین کریں۔ جو چاہیں بکیں۔ ہم منھ بند رکھیں۔ یہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر جانِ ایمان ﷺ سے متعلق بکواس کریں اور ہم بے غیرتی کی چادریں تانے رہیں۔معاذاللہ! دُشمن چاہتا ہے کہ توہین کا عام ماحول بنا دیا جائے۔ بے ادبی روز مرہ کا معمول بن جائے اور قوم بے غیرتی کی نیند میں مست ہو؛ تو پھر کیا بچے گا! لیکن! ایسا نہیں ہو سکے گا۔ متاعِ عشق کو گوارا نہیں کہ آقا ﷺ کی بے ادبی ہوتی رہے اور عاشقِ رسول خاموش رہے۔کبھی کبھی عقل گھٹنے ٹیک دیتی ہے، کورٹیں بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہیں، طوفان جب سر چڑھ آتا ہے تو مشیت کسی غازی اور عاشق ممتا ز قادری کو پیدا کرتی ہے اور محبتوں کا اسیر دیوانگی سے کام لیتا ہے۔ عقل تکتے رہ جاتی ہے اور عشق سرفرازی پا جاتا ہے۔
نرسنگھانند نے بدتمیزی کی۔ ناموسِ رسالت ﷺ میں بار بار توہین کی۔ متعدد بار بکواس کی۔ پورے ملک میں ایف آئی آر کا اندراج ہوا۔ بریلی شریف میں جماعت رضائے مصطفیٰ کے توسط سے زبردست احتجاج کیا گیا؛ سروں کا سمندر جمع ہو گیا؛ مالیگاؤں میں بھی سڑکوں پر نکل کر ہم نے مظاہرہ کیا- افسوس کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اقتدار خاموش ہے؛ بلکہ گستاخ کا پشت پناہ معلوم ہوتا ہے!! ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے عاشقانِ مصطفیٰ کی کوششیں ضرور بہتر نتائج کا موجب ہوں گی- اللہ تعالیٰ! اہلِ شرک کو ذلتوں کی وادیوں میں دفن فرمائے ؎
تازہ مِرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا
عشق تمام مصطفیٰ عقلِ تمام بولہب

ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس و احترام کی فضا ہموار کی جائے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے تعظیم و تکریمِ رسول ﷺ کا درس دیا۔ ہمیں چاہیے کہ تحفظِ ناموسِ رسالت کے لیے تصانیفِ اعلیٰ حضرت کی اِس زمانے میں کثیر تعداد میں اشاعت کریں۔ تاکہ نئی نسل میں محبتِ رسول ﷺ کی ذہن سازی ہو۔ احترام نبوی کے معاملات کو فروغ دیا جائے۔ ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور درود و سلام کی محافل کو رواج دیا جائے۔ مسلمانوں کو جہاں عقیدۂ توحید کا درس دیا جائے؛ وہیں شانِ مصطفوی کے ایمان افروز اسباق بھی یاد کرائے جائیں۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظمتیں بیان کی جائیں جو شان و رفعت سے تعلق رکھتی ہیں؛ محبوبِ رب العالمین کی عظمتوں کی باتیں کی، کہی اور سُنی جائیں۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کیے اور کرائے جائیں تا کہ ایمان و عقیدے کے گلشن میں تازگی پھیل جائے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں امام احمد رضا قادری نے جو کتابیں لکھیں، کتاب و سنت کے احکام بیان کیے نیز دیگر ایمان افروز کتابوں کوگھر گھر پھیلایا جائے،ان کا نعتیہ مجموعہ ’’حدائق بخشش‘‘ پڑھا، سنا اور عام کیا جائے اور ان کے اس پیغام کو گرہ میں باندھ لیا جائے تا کہ مغرب کے طلسم کی تہیں چاک ہوں اور ہند کے مشرکین کی سازشیں دَم توڑ جائیں ؎
کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں دوجہاں فدا
دوجہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

٭٭٭
١٧؍ اپریل ۲۰۲۱ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء.... مثالی و پاکیزہ زندگی*
"خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..."
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=182044750417387&id=107640804524449
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

    اسلام کے کامل ترین نظام کا یہ حصہ ہے کہ طبقۂ نسواں کے لیے بھی زندگی کی تعمیر و تشکیل کا مکمل نظام اور قانون موجود ہے۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیاتِ طیبہ اس کی مثال ہے۔ آپ نے بارگاہِ نبوت سے جو فیض حاصل کیا؛ اُس کی اشاعت مدتوں کی۔ صحابیات کو مسائل سے آگاہ کرتیں، ان کی باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا ہے اُم المؤمنین نے۔ اسلام کے حقوقِ نسواں کے نظام کی ترسیل مؤثر طریقے سے اُم المؤمنین نے کی؛ اوران تمام پہلوؤں کو بھی اُجاگر کیا جن کے ذریعے ایک خاتون اپنی زندگی کو مقاصد تخلیق کے ضابطوں کی تکمیل کے ساتھ گزار سکے۔ اس طرح اسلام کے فطری نظام کی ترویج کا رول ماڈل پیش کیا ہے اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے... یوں ہی خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ بھی کئی جہتوں سے ممتاز، نمایاں، بے مثل، عدیم النظیر ہے؛ جن سے درس پا کر طبقۂ نسواں کا وقار بحال ہو سکتا ہے، حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے آپ کی ذات مشعلِ راہ بھی ہے اور نشانِ منزل بھی۔

*چند خصوصیات:*
[۱] سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی ذات ممتاز ہے؛ اس لیے کہ بنتِ رسول ہیں، صاحب زادیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[۲] تاج دارِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں رکھ کر مثالی خاتون بنایا۔ جن کی ذات پاک قیامت تک کے لیے وقارِ نسواں کی تابندگی کا مظہر بن گئی ۔
[۳] جب بھی تقدسِ نسواں اور عفتِ بنت حوا کی بات کی جائے گی تو سیرتِ فاطمۃ الزہراء مثال میں پیش کی جائے گی۔
[۴] خواتین کے لیے کامیاب زندگی کا سب سے نمایاں باب ہے سیرتِ فاطمۃ الزہراء۔ طبقۂ نسواں کے لیے عزم و یقیں کے بلند مینار کا نام ہے سیدۂ کائنات۔
[۵] باب العلم خلیفۂ چہارم شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ جیسی عظیم نسبت بھی سیدہ فاطمۃ الزہراء کو حاصل ہے۔
[٦] اسلام کی شرعی سرحدوں کی پاس بانی کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والی ذات "حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ" کی تربیت جس والدہ کی گود میں ہوئی؛ اسی کا نام حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہے۔ گویا صبر و استقامت کا درس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت سے دو دو نسبتوں سے امام حسین کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی و حضرت فاطمہ نے ریگزارِ کربلا میں دین کی اساس کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ اسلام پر جاں نثاری کا جو درس دیا تھا؛ امام حسین نے اس کی مکمل پاسداری کی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا ایثار، فکرو تدبر اور مثالی زندگی بھی سیدہ فاطمہ کی عظمت کا نقشِ جمیل ہے۔
[۷] جنتی خواتین کی سردار ہیں سیدہ فاطمۃ الزہراء؛ جن کے فیضانِ کرم سے طبقۂ نسواں اِس قدر نوازا گیا کہ جب بھی کسی خاتون کی دین کے لیے شجاعت و قربانی کا ذکر کیا جائے گا؛ اُس کی حیات کی تشکیل؛ اور فکر کی تعمیر میں درسِ فاطمی نمایاں دکھائی دے گا۔
[۸] بارگاہِ نبوی سے نسبت و قرب کے سبب جس قدر عظیم اختیارات و سربلندیوں سے آراستہ تھیں؛ اس کا اندازا ہماری معمولی عقلیں نہیں لگا سکتیں؛ ان سب کے باوجود سادہ زندگی، اور رضائے الٰہی کے لیے قناعت و صبر کا جو نمونہ آپ نے پیش کیا وہ مثالی بھی ہے؛ اور دُنیا میں بسنے والی ہر خاتون کی زندگی کو پاکیزہ بنانے کے لیے رول ماڈل بھی،
[۹] آپ کی ذات تمام ظاہری و باطنی خوبیوں سے آراستہ تھی؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے مقام تقدس اور خوبیوں کے بیان کو دفتر بھی ناکافی ہیں-
[۱۰] اسلام کے قوانین برائے نسواں کو چیلنج کرنے والے حیاتِ سیدہ فاطمۃ الزہراء کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر پاکیزہ و مطہر و عظیم مقام؛ اسلام نے خواتین کو دیا؛ اس کی مثال کسی بھی مذہب یا ازم یا نظریے میں نہیں پیش کی جا سکتی۔ تاریخ انسانی ایسی کم ہی مثالیں پیش کر سکتی ہے جن کے سرے پر کسی خاتون کی انقلاب بداماں زندگی نے تعمیر فکر ونظر کا فریضہ انجام دیا ہو! انقلاب آفریں ذات ہے سیدہ فاطمہ کی۔

    سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے مناقب و شان میں یہ پیاری روایت ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا ہے کہ اللہ نے اس کو اور اس کے محبوبوں کو دوزخ سے جدا کیا ہے۔ (صواعق محرقہ،ص۱۵۱)

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بے شک فاطمہ پاک دامن ہے اور اللہ نے اس کی اولاد پر دوزخ کو حرام فرمایا ہے۔ (ابونعیم المستدرک حاکم،ص۱۵۳)

    پیکر صبر و حیا، استقامت و تقویٰ کی مظہر، نبوی آغوشِ تربیت کی پروردہ سیدہ طیبہ زاہدہ عابدہ ح
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا کردار اپنا کر حقوقِ نسواں کا تحفظ بھی کیا جا سکتا ہے اور خواتین کی عصمتوں، عظمتوں، آبروؤں کو موجودہ جدیدیت کی وحشی تہذیب کا لقمۂ تر بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ایسی باوقار خاتون کے کردار کو اُجاگر کر کے مغرب کے بے حیا کرداروں کی قلعی کھولی جا سکتی ہے؛ بکتی حیا، لٹتی عصمت کو بچایا جا سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء کے کردار کو موجودہ عہد کی خواتین میں نمایاں کیا جائے۔ خلافِ شرع کاموں سے بچ کر اسلام کے حکم پردہ کی پاس داری کی جائے۔ آج کا اَلمیہ یہ بھی ہے کہ پردے کی بات کرنے والے پیشہ وَر واعظین بھی اسکرینوں کے ذریعے خواتین میں خود کو نمایاں کر کے بے پردگی کی تعلیم دے رہے ہیں؛ انھیں فاطمی درسِ حیا و پاس داریِ پردہ سے سبق لینا چاہیے اور حضرات حسنین کریمین کی تعلیمات کی دعوت و تبلیغ کو مطمح نظر بنانا چاہیے تا کہ نبوی انقلاب کی تازہ ہواؤں سے دلوں کی کلیاں کھل اُٹھیں اور گلشنِ حیات مہک مہک اُٹھے   ؎

کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
٭٭٭
٣ رمضان المبارک ١٤٤١ھ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

ابلیس نے قدم پیچھے ہٹا لیا

ملعون ہند نے اپنی رسوائی کو چھپانے کے لئے اگنی پریکشا کا چیلنج سازشی انداز میں قبول کر لیا تھا,پھر اس کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے,جس میں وہ خبیث,حکومتی پرمیشن نہ ملنے کا بہانہ بنا کر اپنے وعدے سے مکر گیا ہے۔

جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا

اب آتشیں امتحان کی تاریخ بھی اسی طرح گزر جائے گی,جس طرح آج کا دن ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔

دجال وقت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک بھر کا دورہ کرے گا اور اسلام و مسلمین کے خلاف سب کو ورغلائے گا۔

مسلمانان ہند سے چند گزارشات

1-جو غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں,اس کا مستقل سد باب ہونا چاہئے۔یو ٹیوب چینل تشکیل دیا جائے اور سنجیدگی کے ساتھ مخالفین کا معقول اور منہ توڑ جواب دیا جائے۔

2- 21:رمضان المبارک 1442 کو تحریک فروغ اسلام کی جانب سے ملک بھر میں "جیل بھرو آندولن"ہو گا۔منظم انداز میں وسیع پیمانے پر اس کارنامہ کو انجام دیا جائے۔ملکی قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔

فضائے ہند میں"لبیک یا رسول اللہ"کے نعروں کا بلند ہونا ضروری ہے۔ساتھ ہی"لا ضرر ولا ضرار"بھی مد نظر رہے۔نہ ہم کسی کو مصیبت میں ڈالیں,نہ خود کو مصیبت میں ڈالیں۔

3-بھارت ایک جمہوری ملک ہے۔ملک کا قانون ہر مذہب اور اہل مذہب کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔کوئی بھی شر وفساد پھیلائے تو کورٹ سے رجوع کریں۔پولیس کے اعلی افسران اور حکومتی ذمہ داران سے رابطہ کیا جائے۔

عام طور پر کوئی تنظیم و تحریک ایسے امور کی جانب متوجہ نہیں ہوتی۔ایسی خدمات کے لئے مال وزر کے ساتھ ہمت و جرأت بھی بہت ضروری ہے۔

جو لوگ اس محاذ کو سر کرتے ہیں,وہ کفن بردوش ہو کر میدان میں اترتے ہیں۔قدم قدم پر ان کے لئے خطرات ہوتے ہیں۔پولیس محکمہ بھی پریشان کرتا ہے اور دشمنوں کا خطرہ الگ سے رہتا ہے۔ایسے نفوس قدسیہ اپنی جانوں کو ہتھیلی میں رکھ کر میدان میں اترتے ہیں۔

ایسوں کو دیکھ کر حضور مجاہد ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔وہ درویش صفت رئیس اعظم اڑیسہ جس نے قوم وملت کے لئے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزارا۔ایسے سرفروشان ملت بہت عظیم ہوتے ہیں اور نادر الوجود ہوتے ہیں۔

اس موقع پرحضرت قمر غنی عثمانی,صدر:تحریک فروغ اسلام(دہلی)اور حضرت مفتی سلمان ازہری زید فضلہ(ممبئی)نے جو ہمت و جرأت دکھائی۔وہ صدیوں تک یاد رکھی جائے گی اور تاریخ کے زریں صفحات کی زینت بنے گی۔

حضرت عثمانی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ اگر بجٹ فراہم ہو تو اس قسم کے مقدمات ضرور لڑے جا سکتے ہیں اور ان شاء اللہ تعالی کامیابی بھی ہو گی,اور ہم کئی مقدمات لڑ بھی رہے ہیں۔کورٹ میں کاروائیاں جاری ہیں۔

بھارت وہ ملک ہے کہ جہاں انڈونیشیا کے بعد مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد آباد ہے۔مسلمانوں میں سب غریب تو نہیں۔ملک بھر میں نہ جانے کتنے ارب پتی ہوں گے,ایسے کثیر مسلم آبادی والے ملک میں پیغمبر اسلام حضور اقدس تاجدار دو جہاں علیہ التحیۃ والثنا کی بے ادبی کی جائے۔قرآن مقدس پر تنقید کی جائے۔اسلام کے اصول وضوابط پر انگشت نمائی کی جائے اور ہم خاموش بیٹھ کر تماشہ دیکھیں۔یہ اسلامی غیرت کے سراسر منافی ہے۔

ایسے مقدمات خطروں سے بھرے ہوتے ہیں۔کوئی اپنی خدمات پیش کرتا ہے تو اصحاب ثروت اور ارباب بصیرت کو اس جانب متوجہ ہونا چاہئے۔

یہ سو فی صد سچ ہے کہ تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ دین جیسی عظیم خدمات ہرایک کے سپرد نہیں ہوتیں,نہ ہی ان عظیم امورکے لئے ہرایک کی جانی و مالی قربانی قبول ہوتی ہے۔اب وہ کون خوش نصیب مومنین ہیں,جن کا مال و زر قبول ہو گا۔خدا جانے۔

جن نفوس عالیہ کی ہمت و جرأت پر قبولیت الہیہ کی مہر لگنی تھی۔ملک و بیرون ملک میں انہیں داد شجاعت دی جا رہی ہے۔ان کی ہمت و حوصلہ اور جرأت و جذبہ کو سلام کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالی ان پر رحمتوں کی موسلا دھار بارش برسائے۔ان کے ذریعہ اہل باطل کو شرمسار و ذلیل و رسوا فرمائے:آمین

آفریں بادا بریں رسمے کہ پیدا کردہ اند

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:18:اپریل 2021

https://www.facebook.com/100018511772807/posts/774873969806322/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
صدقہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM