🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حافظ سعد کو گرفتار کیوں کیا۔۔۔؟؟؟
یار وہ 20 تاریخ کو احتجاج کرنے جارہا تھا۔

کس بات کا احتجاج۔۔۔؟؟؟
حکومت نے اس کے والد سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ فرانس کا سفیر نکالے گی اس کے والد دنیا سے چلے گئے تو حکومت نے پھر سعد سے مذاکرات کئے اور مزید دو مہینے کا وقت مانگا اور 20 تاریخ کو وہ وقت پورا ہو رہا تھا۔

فرانس کا سفیر کیوں نکالنا ہے۔۔۔؟؟؟
یار فرانس نے حضور ﷺ کی شان میں سرکاری سطح پر گستاخی کی ہے اور معافی تو دور ابھی تک اپنی بات اور ڈٹا ہوا ہے تو اس کا یہی حل ہے کہ سفیر نکال دو یعنی تعلق ختم کر دو وہ جنگ کرنے کا تھوڑی بول رہا ہے۔

لیکن فرانس ہمیں امداد دیتا ہے اس سے تعلّق کیسے ختم کرینگے۔۔۔؟؟؟

تم جس کمپنی میں کام کرتے ہو اس کا مالک تجھے تنخواہ بونس سب کچھ دیتا ہو لیکن پھر تمہارے امی ابو بہن بھائی رشتہ داروں کو آئے روز گالیاں دے، ان کی ازدواجی زندگی تک پر مزاحیہ کارٹون و فلمیں بناکر کر اسکرین اور بورڈ لگا کر دکھائے تو کیا برداشت کرلوگے صرف اس لئے کہ مالک پیسے دیتا ہے۔۔۔؟؟
ارے نہیں بھائی اپنی طاقت کے مطابق اس سے اسکا بدلہ لوں گا کچھ نہیں ہوا تو میں نوکری چھوڑ دونگا بھلے کتنی مجبوری ہو۔

سعد کا بھی یہی کہنا ہے کہ بھلے ہم جتنے غریب ملک ہوں حضور ﷺ پر ہمارے ماں باپ قربان۔
فرانس سے تعلّق ختم کر دو۔

لیکن یار اس سے تو ساری دنیا ہمارے خلاف ہوجائے گی۔
دیکھو بھائی اس وقت ساری دنیا میں جمہوریت ہے ہمارے ملک میں بھی جمہوریت ہے اور جمہور کی رائے یہی ہے کہ سفیر ملک بدر کرو۔

لیکن یار سعد سیاست کر رہا ہے۔
سیاست کیا۔۔۔؟؟؟
اس نے دولت مانگی ہے۔۔۔؟؟؟
استعفیٰ مانگا ہے یا حکومت مانگی ہے۔۔۔؟؟؟
سیٹ مانگی ہے ؟
چار حلقے مانگے ہیں ؟
اگر سیاست کر رہا ہے تو حکومت موقع کِیوں دی رہی ہے سفیر نکال دے۔پھر بھی اگر احتجاج کرے تو حکومت حق پر ہوگی کہ سعد سیاست کر رہا ہے۔اور اگر حکومت سفیر نکالتی ہے تو اس کا سیاسی فائدہ تو خود حکومت کو ہوگا۔
اچھا نا بھائی لڑو مت۔
لڑ نہیں رہا ، سمجھا رہا تھا 🙂۔

منقول

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2981141685498472&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عورت سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے ، اور سارے گھر والوں کے لیے سحری تیار کرتی ہے ، لیکن خود سب سے آخر میں کھاتی ہے۔ 🍝
روزہ رکھنے کے بعد دوپہر میں بچوں کو کھانا کھلاتی ہے۔ 🍜
پھر 4 بجے کے بعد سے افطاری تک اپنے خاندان والوں کے لیے افطاری تیار کرنے میں لگ جاتی ہے۔ 🍟🍲🍜

سالن ، روٹی ، پکوڑے ، سموسے ، چاٹ وغیرہ تیار کرتی ہے اور ساتھ میں یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیسا پکاہوگا۔🍜🍝
بعض دفعہ گھر کے مریضوں کے لیے الگ سے چیزیں بنانی پڑتی ہیں ، اور کبھی تو افطاری سے پہلے شوہر کا غصہ بھی صبر سے جھیلنا پڑتا ہے۔ 🙆

پھر خود چپکے سے کسی کمرے میں افطاری کرلیتی ہے ۔
اور تراویح کے بعد بعض حضرات کے لیے چائے شائے بھی تیار کرتی ہے۔🍱

آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ:

گھر کی ساری عورتیں خواہ ماں ہو ، بہن ہو ، بیوی ہو ، بیٹی ہو یا کوئی اور رشتہ دار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‌‌ سب کا لازمی لازمی خیال رکھیں ۔

( کسی نامعلوم فرد کی مرمم تحریر )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3134087836871384&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جتنا جلدی ہوسکے اپنے رب کے ساتھ معاملات درست کرلینے چاہییں ، کوئی پتا نہیں چلتا سانس کب رُک جائے ۔

اللہ توفیق دے تو رمضا‌ن شریف میں:

¹ روزانہ ستر مرتبہ یا جتنی بار ہو سکے توبہ استغفار کریں ۔

اَسْتَغْفِرُاللہ کہنا بھی استغفار ہے ، اور " یا اللہ میری توبہ " کہنا بھی استغفار ہے ۔

² ہوسکے تو سوا لاکھ مرتبہ پہلا کلمہ شریف پڑھ لیں ، شاید یہی نیکی مغفرت کا سبب بن جائے ۔

³ ترجمہ ، تفسیر کے ساتھ تلاوت قرآنِ پاک کریں ، اور کسی اسلامی کتاب کا بھی ضرور مطالعہ کریں ۔

اس کے علاوہ بھی جتنی ہوسکے نیکیاں کریں ، اور پورے خلوص سے کریں ؛ ہماری ہر نیکی صرف اور صرف اپنے رب ﷻ کے لیے ہونی چاہیے ۔

✍️لقمان شاہد
یکم رمضان ، چودہ سو بیالیس سنہ ہجری

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3135002430113258&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حکومت کے خلاف لڑتے لڑتے شہادت کے قریب پہنچ گئے تو آپ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ عنھا نے کہا:

اے بیٹے! موت سے ڈر کر ، کسی ذلت والی چیز کو قبول نہ کرنا ؛ اللہ کی قسم عزت والی تلوار کی ضرب ، ذلت والے کَوڑے سے بہتر ہے ۔

آپ نے اپنی ماں کی نصیحت یاد رکھی اور شہید ہوتے وقت کہا:

وَلَسْنَا عَلَی الْاَعْقَابِ تَدْمی کُلُومُنَا
وَلٰکِنْ عَلیٰ اَقْدَامِنا یَقْطُرُالدَّمَا

ہمارے زخموں کا خون ، ہماری ایڑیوں پر نہیں ، ہمارے قدموں پر گرتا ہے ۔ ( کیوں کہ ہم بزدلوں کی طرح میدان چھوڑ کر بھاگتے نہیں ، دشمن کا ڈٹ کرمقابلہ کرتے ہیں ۔)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3135583043388530&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک صاحب نے بارگاہ‌ِ اقدس میں عرض کی تھی :

اے اللہ کے رسول ، اللہ کی قسم میں آپ سے پیار کرتا ہوں ۔

فرمایا: دیکھ لو کیا کَہ رہے ہو !

عرض کرنےلگے:

قسم بخدا مجھے آپ سے محبت ہے ۔

فرمایا: سوچ لو کیا کَہ رہے ہو !

انھوں نے جب تیسری مرتبہ بھی یہی کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

اگر تم واقعی مجھ سے محبت کرتے ہو تو پھر فقر کے لیے تیار ہوجاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے محبت کرنے والے کی طرف فَقر اس سے بھی زیادہ تیز بڑھتا ہے ، جتنا تیز سیلاب اپنے بہاؤ کی طرف جاتا ہے ۔

( انظر: سنن الترمذی ، ر 2350 )

اپنے آقا ﷺ سے محبت کرنے والے کچھ شہید اور کچھ اسیر ہوگئے ، بقیہ نے کفن سر پر باندھ لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فَقر کا یہ عالم ہے کہ کوئی ایک بھی با اثر حکومتی نمائندہ ان کے حق میں آواز اٹھانے والا نہیں ؎

انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں!

رب تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے ، اور ہم گناہ گاروں کو ان کی برکتوں سے محروم نہ کرے 😥

✍️لقمان شاہد
14-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3135848976695270&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لکل غادر لواء عنداستہ یوم القیامۃ ۔

قیامت والے دن ہر عہد شکن کے پچھلے مقام کے پاس جھنڈا گاڑا جائے گا ۔

يرفع لہ بقدر غدرہ ۔

جو اس کی بد عہدی کے مطابق بلند کیا جائے گا ۔

یعرف بہ ۔ یقال: ھذہ غدرۃ فلان ۔

اُس کی پہچان اُسی جھنڈے سے ہوگی ۔ کہا جائے گا:
یہ جھنڈا فلانے کی بدعہدی ( کی سزا ) ہے ۔

( صحیح مسلم ، ر 4537 ، 4538 ، 4535 )

اللہ کریم ہمیں بدعہدی جیسے ظلم عظیم سے محفوظ رکھے ، اور بدعہدی کرنے والوں کی حمایت سے بھی بچائے ۔

بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بندہ خود ظالم نہیں ہوتا ، لیکن مظلوم کی حمایت نہ کر کے ظلم میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔

✍️لقمان شاہد
15-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3136174849996016&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سبحان اللہ ، ڈاکٹر اقبالؔ کیا ہی خوب کَہ گئے ؎

رشتۂ آئینِ حق زنجیر پاست
پاس فرمانِ جنابِ مصطفی است

ورنہ گردِ تُربتش گردیدمی
سجدہ ہا بر خاکِ او پاشیدمی

( قانونِ خداوندی کی زنجیر نے مجھے جکڑ رکھا ہے ، اور فرمانِ مصطفی کا لحاظ آڑے آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ میں سیدہ زہرا پاک کی قبر انور کا طواف کرتا اور آپ کی خاک مزار پر سجدہ ریز ہوجاتا ۔ )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3136843696595798&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب دین کی خاطر صحابہ کرام علیھم الرضوان پر دشمنوں کی طرف سے سخت آزمائشیں آئیں تو بارگاہِ اقدس میں عرض کرنے لگے :

حضور ! آپ ہمارے لیے مدد طلب کیوں نہیں کرتے ، ہمارے لیے اللہ ﷻ سے دعا کیوں نہیں مانگتے ؟

رسول پاک ﷺ نے فرمایا:

تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور ( دین پر چلنے کی پاداش میں ) اُسے اُس میں ڈال دیا جاتا ، پھر اُس کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے ، لیکن یہ عمل بھی اسے اپنے دین سے نہیں پھیرتا تھا ۔
پھر لوہے کی کنگھی اس کے گوشت میں دھنسا کر ہڈیوں اور پٹھوں کو نوچا جاتا لیکن یہ اذیت بھی اسے دین سے نہ ہٹا سکتی‌ ۔

( صحیح البخاری ، ر 3612 )

اللہ اکبر ! رسول اللہﷺ ہماری کس طرح تربیت فرما رہےہیں ۔
حضور چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کی راہ میں آنے والی تکلیفوں سے گھبرا نہ جایا کریں ، بلکہ صبر اور برداشت سے کام لیا کریں ۔
ہم دین کے معاملے میں مضبوط اور بہادر بنیں ، سہل پسند نہ بنیں ۔
جب دین کا معاملہ آجائے تو حق پر ڈٹ جائیں پھر چاہے جیسی بھی تکلیف سے گزرنا پڑے ، ثابت قدم رہیں ؎

جے کر مِلے ساجن دے ناں دا مِہنا ، جَھولی پالَیِّے تے تَھلے سَٹیے ناں
جے کر مِلے ساجن دے ناں دی سُولی ، تے جُھوٹا لَے لَیِّے پِچھاں ہٹیے ناں

✍️لقمان شاہد
17-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3137889093157925&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*توہین رسالت کی مذموم فضا… اور تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے تقاضے*
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/182683963686799/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]

’’کسی مذہب کے پیروکاروں کے اعتقادات مجروح کرنے کے عمل کو آزادیِ اظہار کا نام نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ یہ بیان کسی مسلم دانشور کا نہیں بلکہ ایک کرسچن پیشوا کا ہے؛ جو حالات کے تجزیے سے اُبھرا ہے۔ آزادیِ اظہار کا نعرہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی، توہین، گستاخی، اہانت، شرعی قوانین پر تنقید کے لیے مختص ہو کر رہ گیا ہے۔

*آزادیِ اظہار کا سلوگن:* آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے۔ لیکن فطری تقاضا یہ ہے کہ آزادی قانون کی لگام سے مستحکم رہے۔ تخریب نہ بن جائے یا زندگی اجیرن نہ کر دے۔ اس لیے آزاد ملکوں میں امن و امان- قانون کی بالادستی سے قائم ہوتا ہے۔ اظہارِ خیال کی چھوٹ اگر دی جانی چاہیے تو اس ضمن میں بھی قواعد کی رعایت بہر حال ضروری ہو گی۔ مثلاً سچ کہنا، سچ سُننا، سچ پر چلنا یہ فطری اُصول ہے۔ اگر اسی روش کو اپنا لیا جاتا تو دُنیا سیکڑوں اور ہزاروں مسائل سے بچ جاتی۔ فساد فی الارض پر روک لگتی۔ زمیں امن و امان سے بھر جاتی؛ لیکن عصبیت و حسد کی آگ نے آزادیِ اظہار کے دل کش نعرے کو جھوٹ کے پُلندے میں جکڑ دیا۔ جس کا نتیجہ بربادی و تباہی کی صورت میں ظاہر ہوا۔

*توہین رسالت کی مہم:* صدیوں تک شکست سے دوچار ہونے کے بعد یہود وانگریز نے جب یہ دیکھا کہ؛ ہم اسلام کے سیلِ رواں کو روک نہیں پا رہے، نبوی عظمت کا شہرہ بلند سے بلند تر ہو رہا ہے، نبوی اخلاق کے اثرات و ثمرات انسانیت کو دوام و استحکام عطا کر رہے ہیں، من کی دُنیا میں اسلام کی حسیں چاندنی پھیل رہی ہے، دل و جاں اسلامی نور میں نہا رہے ہیں، قافلہ در قافلہ، جوق در جوق اسلام کے دامن سے وابستگی بڑھ رہی ہے، علاقے کے علاقے کفر سے ٹوٹ کر اسلامی شوکت سے جُڑ رہے ہیں، ٹوٹے دل جُڑ رہے ہیں، غریب خوشی خوشی دامنِ اسلام میں آ رہے ہیں، تو انھوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ اب شرعی قوانین پر تنقید کی جائے۔ سیرتِ نبوی کو نشانہ بنایا جائے۔شعائرِ اسلامی سے انحراف کو ہوا دی جائے۔ اس کے لیے جھوٹ/اتہام کا سہارا لیا گیا۔ اگر سچ کا سہارا لیا جاتا تو سازشوں کا محل زمیں بوس ہو جاتا، اسلام کی ضیا؛ بے نور وجود کو ایمان سے منور کر دیتی، بقول اعلیٰ حضرت ؎
ترے دین پاک کی وہ ضیا کہ چمک اُٹھی رہِ اصطفا
جو نہ مانے آپ سقر گیا، کہیں نور ہے کہیں نار ہے

*ایک جائزہ:* توہین رسالت کی سازش پُرانی ہے، اس میں تمام باطل قوتیں متحد ہیں، بعض ان کے آلۂ کار -مؤحد- بھی ایسے ہیں جن کے دامن عصمتِ انبیا میں جرأت سے آلودہ ہیں۔ اس بابت ایک تجزیہ نقل کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ توہین اسلام و پیغمبر اسلام ﷺ کی بے ادبی کی بادِ سموم کس قدر وسیع کی گئی:
[۱] 15؍اپریل 2005: ڈنمارک کی ملکہ مارگریٹ iiنے سرکاری طور پر شائع شدہ اپنی بائیو گرافی میں کہا کہ ’’آئیے اسلام کے خلاف ہم اپنی مخالفت کا کھل کر اظہار کریں۔‘‘
اسی دور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی منصوبہ بندی ہوئی۔
[۲] ڈینش مصنف کیری بلجن کی ایڈیٹر جیلنڈس پوسٹس فلیمنگ روز سے ملاقات، ایڈیٹر نے اسی ملعون مصنف کی کتاب کے لیے خاکے تیار کروائے۔اور اگست 2005 میں ہی اس کے لیے اشتہار دیا گیا۔
[۳] 30؍ ستمبر 2005جمعہ: ڈنمارک کے اخبار جیلنڈس پوسٹس میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم)کے تصویری خاکے، کے عنوان سے 12؍گستاخانہ خاکوں کی اشاعت۔
[ماہ نامہ لانبی بعدی لاہور، تحفظ ناموس رسالت نمبر،ص133 ]
اس کے فوری بعد مسلمان مضطرب و بے چین ہوئے۔ کوپن ہیگ میں 27 مسلم تنظیموں کے قائدین نے یورپی کمیٹی براے حرمتِ رسول قائم کی۔ معافی کا مطالبہ کیا گیا۔ توہین کی مذمت کی گئی۔ 14؍ اکتوبر 2005 جمعہ کو، کوپن ہیگ میں پانچ ہزار افراد نے مظاہرہ کیا۔
لیکن تشویش ناک بات یہ رہی کہ مسلم کہلانے والے ملکوں کے صہیونیت پرست اخبارات نے ان کی گستاخانہ فکر کو آگے بڑھایا۔ جیسا کہ مصر کے اخبار الفجر میں خاکوں کی اشاعت ہوئی۔ پھر توہین کی فکر آگے بڑھتی گئی۔ پورا یورپ، امریکہ اس میں شامل ہوئے۔ کئی میگزین نے خاکے شائع کیے۔ آزادیِ اظہار کے پردے میں اس امرِ خبیث کو سہارا دینے کی کوشش کی گئی۔ اسے یورپ سے ایشیا پہنچایا گیا۔
خود ہندوستان میں کئی اخبارات نے اسی منفی فکر کی تائید کی۔ اسلام پر طنز و تشنیع کی۔ اسلامی اُصولوں کا مذاق اڑایا۔ اپنے دامن کے دھبوں کو نظر انداز کر کے اسلامی حسن میں نقص نکالنے کی جرأت کی۔
[۱] عصمتِ انبیا کے عقیدے پر ضربِ کاری لگائی گئی۔
[۲] پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے رشتہ و تعلق و محبت کی پیمائش کی گئی۔
[۳] اسلام مخالف تمام قوتوں کو پیغمبر اسلام کی توہین کا راستہ دکھایا-
[۴] مسلمانوں کے زوال کی راہیں متعین کی گئیں۔
[۵] مسلم قوت و شوکت کی پیمائش کی گئی۔
[٦] مسلمانوں کو بے و
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
طن کرنے کی کوششیں ہوئیں۔

*ہند میں گستاخیوں کا طوفان:* ہند میں بھی جرأت اتنی بڑھی کہ رسول اللہ ﷺ کی توہین میں زبانیں کھلنے لگیں۔ سادھوؤں، یوگیوں اور بھگوا توا قوتوں نے اسلامی اُصولوں کے خلاف مہم چھیڑی۔ کورٹوں کے ذریعے اقتدارِ وقت نے اسلامی قوانین کے خلاف فیصلے کروائے۔ پھر مزید دو قوم آگے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی توہین کروائی۔ نرسنگھانند کی حال ہی میں توہین کی پے در پے جسارت، اقتدار کی پشت پناہی؛ یہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ فرقہ پرست یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان خاموش رہیں۔ یہ توہین کریں۔ جو چاہیں بکیں۔ ہم منھ بند رکھیں۔ یہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر جانِ ایمان ﷺ سے متعلق بکواس کریں اور ہم بے غیرتی کی چادریں تانے رہیں۔معاذاللہ! دُشمن چاہتا ہے کہ توہین کا عام ماحول بنا دیا جائے۔ بے ادبی روز مرہ کا معمول بن جائے اور قوم بے غیرتی کی نیند میں مست ہو؛ تو پھر کیا بچے گا! لیکن! ایسا نہیں ہو سکے گا۔ متاعِ عشق کو گوارا نہیں کہ آقا ﷺ کی بے ادبی ہوتی رہے اور عاشقِ رسول خاموش رہے۔کبھی کبھی عقل گھٹنے ٹیک دیتی ہے، کورٹیں بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہیں، طوفان جب سر چڑھ آتا ہے تو مشیت کسی غازی اور عاشق ممتا ز قادری کو پیدا کرتی ہے اور محبتوں کا اسیر دیوانگی سے کام لیتا ہے۔ عقل تکتے رہ جاتی ہے اور عشق سرفرازی پا جاتا ہے۔
نرسنگھانند نے بدتمیزی کی۔ ناموسِ رسالت ﷺ میں بار بار توہین کی۔ متعدد بار بکواس کی۔ پورے ملک میں ایف آئی آر کا اندراج ہوا۔ بریلی شریف میں جماعت رضائے مصطفیٰ کے توسط سے زبردست احتجاج کیا گیا؛ سروں کا سمندر جمع ہو گیا؛ مالیگاؤں میں بھی سڑکوں پر نکل کر ہم نے مظاہرہ کیا- افسوس کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اقتدار خاموش ہے؛ بلکہ گستاخ کا پشت پناہ معلوم ہوتا ہے!! ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے عاشقانِ مصطفیٰ کی کوششیں ضرور بہتر نتائج کا موجب ہوں گی- اللہ تعالیٰ! اہلِ شرک کو ذلتوں کی وادیوں میں دفن فرمائے ؎
تازہ مِرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا
عشق تمام مصطفیٰ عقلِ تمام بولہب

ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس و احترام کی فضا ہموار کی جائے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے تعظیم و تکریمِ رسول ﷺ کا درس دیا۔ ہمیں چاہیے کہ تحفظِ ناموسِ رسالت کے لیے تصانیفِ اعلیٰ حضرت کی اِس زمانے میں کثیر تعداد میں اشاعت کریں۔ تاکہ نئی نسل میں محبتِ رسول ﷺ کی ذہن سازی ہو۔ احترام نبوی کے معاملات کو فروغ دیا جائے۔ ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور درود و سلام کی محافل کو رواج دیا جائے۔ مسلمانوں کو جہاں عقیدۂ توحید کا درس دیا جائے؛ وہیں شانِ مصطفوی کے ایمان افروز اسباق بھی یاد کرائے جائیں۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظمتیں بیان کی جائیں جو شان و رفعت سے تعلق رکھتی ہیں؛ محبوبِ رب العالمین کی عظمتوں کی باتیں کی، کہی اور سُنی جائیں۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کیے اور کرائے جائیں تا کہ ایمان و عقیدے کے گلشن میں تازگی پھیل جائے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں امام احمد رضا قادری نے جو کتابیں لکھیں، کتاب و سنت کے احکام بیان کیے نیز دیگر ایمان افروز کتابوں کوگھر گھر پھیلایا جائے،ان کا نعتیہ مجموعہ ’’حدائق بخشش‘‘ پڑھا، سنا اور عام کیا جائے اور ان کے اس پیغام کو گرہ میں باندھ لیا جائے تا کہ مغرب کے طلسم کی تہیں چاک ہوں اور ہند کے مشرکین کی سازشیں دَم توڑ جائیں ؎
کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں دوجہاں فدا
دوجہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

٭٭٭
١٧؍ اپریل ۲۰۲۱ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء.... مثالی و پاکیزہ زندگی*
"خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..."
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=182044750417387&id=107640804524449
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

    اسلام کے کامل ترین نظام کا یہ حصہ ہے کہ طبقۂ نسواں کے لیے بھی زندگی کی تعمیر و تشکیل کا مکمل نظام اور قانون موجود ہے۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیاتِ طیبہ اس کی مثال ہے۔ آپ نے بارگاہِ نبوت سے جو فیض حاصل کیا؛ اُس کی اشاعت مدتوں کی۔ صحابیات کو مسائل سے آگاہ کرتیں، ان کی باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا ہے اُم المؤمنین نے۔ اسلام کے حقوقِ نسواں کے نظام کی ترسیل مؤثر طریقے سے اُم المؤمنین نے کی؛ اوران تمام پہلوؤں کو بھی اُجاگر کیا جن کے ذریعے ایک خاتون اپنی زندگی کو مقاصد تخلیق کے ضابطوں کی تکمیل کے ساتھ گزار سکے۔ اس طرح اسلام کے فطری نظام کی ترویج کا رول ماڈل پیش کیا ہے اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے... یوں ہی خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ بھی کئی جہتوں سے ممتاز، نمایاں، بے مثل، عدیم النظیر ہے؛ جن سے درس پا کر طبقۂ نسواں کا وقار بحال ہو سکتا ہے، حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے آپ کی ذات مشعلِ راہ بھی ہے اور نشانِ منزل بھی۔

*چند خصوصیات:*
[۱] سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی ذات ممتاز ہے؛ اس لیے کہ بنتِ رسول ہیں، صاحب زادیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[۲] تاج دارِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں رکھ کر مثالی خاتون بنایا۔ جن کی ذات پاک قیامت تک کے لیے وقارِ نسواں کی تابندگی کا مظہر بن گئی ۔
[۳] جب بھی تقدسِ نسواں اور عفتِ بنت حوا کی بات کی جائے گی تو سیرتِ فاطمۃ الزہراء مثال میں پیش کی جائے گی۔
[۴] خواتین کے لیے کامیاب زندگی کا سب سے نمایاں باب ہے سیرتِ فاطمۃ الزہراء۔ طبقۂ نسواں کے لیے عزم و یقیں کے بلند مینار کا نام ہے سیدۂ کائنات۔
[۵] باب العلم خلیفۂ چہارم شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ جیسی عظیم نسبت بھی سیدہ فاطمۃ الزہراء کو حاصل ہے۔
[٦] اسلام کی شرعی سرحدوں کی پاس بانی کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والی ذات "حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ" کی تربیت جس والدہ کی گود میں ہوئی؛ اسی کا نام حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہے۔ گویا صبر و استقامت کا درس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت سے دو دو نسبتوں سے امام حسین کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی و حضرت فاطمہ نے ریگزارِ کربلا میں دین کی اساس کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ اسلام پر جاں نثاری کا جو درس دیا تھا؛ امام حسین نے اس کی مکمل پاسداری کی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا ایثار، فکرو تدبر اور مثالی زندگی بھی سیدہ فاطمہ کی عظمت کا نقشِ جمیل ہے۔
[۷] جنتی خواتین کی سردار ہیں سیدہ فاطمۃ الزہراء؛ جن کے فیضانِ کرم سے طبقۂ نسواں اِس قدر نوازا گیا کہ جب بھی کسی خاتون کی دین کے لیے شجاعت و قربانی کا ذکر کیا جائے گا؛ اُس کی حیات کی تشکیل؛ اور فکر کی تعمیر میں درسِ فاطمی نمایاں دکھائی دے گا۔
[۸] بارگاہِ نبوی سے نسبت و قرب کے سبب جس قدر عظیم اختیارات و سربلندیوں سے آراستہ تھیں؛ اس کا اندازا ہماری معمولی عقلیں نہیں لگا سکتیں؛ ان سب کے باوجود سادہ زندگی، اور رضائے الٰہی کے لیے قناعت و صبر کا جو نمونہ آپ نے پیش کیا وہ مثالی بھی ہے؛ اور دُنیا میں بسنے والی ہر خاتون کی زندگی کو پاکیزہ بنانے کے لیے رول ماڈل بھی،
[۹] آپ کی ذات تمام ظاہری و باطنی خوبیوں سے آراستہ تھی؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے مقام تقدس اور خوبیوں کے بیان کو دفتر بھی ناکافی ہیں-
[۱۰] اسلام کے قوانین برائے نسواں کو چیلنج کرنے والے حیاتِ سیدہ فاطمۃ الزہراء کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر پاکیزہ و مطہر و عظیم مقام؛ اسلام نے خواتین کو دیا؛ اس کی مثال کسی بھی مذہب یا ازم یا نظریے میں نہیں پیش کی جا سکتی۔ تاریخ انسانی ایسی کم ہی مثالیں پیش کر سکتی ہے جن کے سرے پر کسی خاتون کی انقلاب بداماں زندگی نے تعمیر فکر ونظر کا فریضہ انجام دیا ہو! انقلاب آفریں ذات ہے سیدہ فاطمہ کی۔

    سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے مناقب و شان میں یہ پیاری روایت ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا ہے کہ اللہ نے اس کو اور اس کے محبوبوں کو دوزخ سے جدا کیا ہے۔ (صواعق محرقہ،ص۱۵۱)

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بے شک فاطمہ پاک دامن ہے اور اللہ نے اس کی اولاد پر دوزخ کو حرام فرمایا ہے۔ (ابونعیم المستدرک حاکم،ص۱۵۳)

    پیکر صبر و حیا، استقامت و تقویٰ کی مظہر، نبوی آغوشِ تربیت کی پروردہ سیدہ طیبہ زاہدہ عابدہ ح
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا کردار اپنا کر حقوقِ نسواں کا تحفظ بھی کیا جا سکتا ہے اور خواتین کی عصمتوں، عظمتوں، آبروؤں کو موجودہ جدیدیت کی وحشی تہذیب کا لقمۂ تر بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ایسی باوقار خاتون کے کردار کو اُجاگر کر کے مغرب کے بے حیا کرداروں کی قلعی کھولی جا سکتی ہے؛ بکتی حیا، لٹتی عصمت کو بچایا جا سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء کے کردار کو موجودہ عہد کی خواتین میں نمایاں کیا جائے۔ خلافِ شرع کاموں سے بچ کر اسلام کے حکم پردہ کی پاس داری کی جائے۔ آج کا اَلمیہ یہ بھی ہے کہ پردے کی بات کرنے والے پیشہ وَر واعظین بھی اسکرینوں کے ذریعے خواتین میں خود کو نمایاں کر کے بے پردگی کی تعلیم دے رہے ہیں؛ انھیں فاطمی درسِ حیا و پاس داریِ پردہ سے سبق لینا چاہیے اور حضرات حسنین کریمین کی تعلیمات کی دعوت و تبلیغ کو مطمح نظر بنانا چاہیے تا کہ نبوی انقلاب کی تازہ ہواؤں سے دلوں کی کلیاں کھل اُٹھیں اور گلشنِ حیات مہک مہک اُٹھے   ؎

کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
٭٭٭
٣ رمضان المبارک ١٤٤١ھ