🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
*رمضـــان کے احـــکام کورس*

*قسط نمبر 5️⃣*

*✍🏻غــــلام نبی انجـم رضـــا عطاری*
*_📲03461934584_*

*روزے کے ضروری احکام (3)*

*روزہ توڑنے والی 14 چیزیں*

{۱} کھانے ، پینے یا ہمبستری کرنے سے روزہ جا تا رہتا ہے جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔
*(بہارِ شریعت ج ۱ ص ۹۸۵)*

{۲} حقہ ، سگار ، سگریٹ ، چرٹ وغیرہ پینے سے بھی روزہ جاتا رہتا ہے ، اگرچہ اپنے خیال میں حلق تک دُھواں نہ پہنچتا ہو۔ *(ایضاً ص۹۸۶)*

{۳} پان یا صرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا اگرچِہ بار بار اس کی پیک تھوکتے رہیں ، کیوں کہ حلق میں اُس کے باریک اَجزا ضرور پہنچتے ہیں ۔ *(اَیضاً)*

{۴} شکر وغیرہ ایسی چیزیں جو منہ میں رکھنے سے گھل جاتی ہیں مُنہ میں رکھی اور تھوک نگل گئے ، روزہ جاتا رہا۔
*(اَیضاً)*

{۵} دانتوں کے دَرمیان کوئی چیز چنے کے برابر یا زیادہ تھی اُسے کھا گئے یا کم ہی تھی مگر منہ سے نکال کر پھر کھا لی تو روزہ ٹوٹ گیا۔
*(دُرِّ مُخْتَار ج۳ص۴۵۲)*

{۶} دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اُترا اور خون تھوک سے زیادہ یا برابر یا کم تھا مگر اُس کا مزا حلق میں محسوس ہوا تو روزہ جاتا رہا اور اگر کم تھا اور مزا بھی حلق میں محسوس نہ ہوا تو روزہ نہ گیا۔
*(ایضاًص۴۲۲)*

{۷} روزہ یاد رہنے کے باوجود حُقنَہ لیا۔ یا ناک کے نتھنوں سے دوا چڑھائی روزہ جاتا رہا ۔
*(عالمگیری ج۱ ص۲۰۴)*

{۸} کلی کر رہے تھے بلا قصد *(یعنی بغیر ارادے کے)* پانی حلق سے اُتر گیا یا ناک میں پانی چڑھایا اور دِماغ کو چڑھ گیا روزہ جاتا رہا مگر جبکہ روزہ دار ہونا بھول گیا ہو تو نہ ٹوٹے گا اگرچہ قصداً *(یعنی جان بوجھ کر)* ہو۔ یوں ہی روزے دار کی طرف کسی نے کوئی چیز پھینکی وہ اُس کے حلق میں چلی گئی تو روزہ جاتا رہا۔
*(عالمگیری ج۱ص۲۰۲)*

{۹} سوتے میں *(یعنی نیند کی حالت میں)* پانی پی لیا یا کچھ کھا لیا ، یا مُنہ کھلا تھا ، پانی کا قطرہ یا بارِش کا اوْلا حلق میں چلا گیا تو روزہ جاتا رہا۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۹۸۶)*


{۱۰} دُوسرے کا تھوک نگل لیا یا اپنا ہی تھوک ہاتھ میں لے کر نگل لیا تو روزہ جاتا رہا۔
*(عالمگیری ج۱ص ۲۰۳)*

{۱۱} جب تک تھوک یا بلغم منہ کے اندر موجود ہو اُسے نگل جانے سے روزہ نہیں جاتا ، بار بار تھوکتے رہنا ضروری نہیں۔

{۱۲} منہ میں رنگین ڈَورا وغیرہ رکھا جس سے تھوک رنگین ہو گیا پھر تھوک نگل لیا روزہ جاتا رہا۔ *(اَیضاً)*

{۱۳} آنسو منہ میں چلا گیا اور نگل لیا ، اگر قَطْرہ دو قَطْرہ ہے تو روزہ نہ گیا اور زیادہ تھا کہ اُس کی نمکینی پورے مُنہ میں محسوس ہوئی تو جاتا رہا ۔پسینے کا بھی یہی حُکم ہے۔
*(اَیضاً)*

{۱۴} پاخانے کا مَقام باہَر نکل پڑا تَو حکم ہے کہ کپڑے سے خوب پونچھ کر اُٹھے کہ تری بالکل باقی نہ رہے۔ اور اگر کچھ پانی اُس پر باقی تھا اور کھڑا ہوگیا کہ پانی اندر کو چلا گیا تَو روزہ فاسد ہو *(یعنی ٹوٹ)* گیا۔ اِسی وجہ سے فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ روزہ دار اِستنجاء *(یعنی پانی سے پاکی حاصل)* کرنے میں سانس نہ لے۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۹۸۸)*

*پیش کش*

*دار المطالعہ مدنی*

https://t.me/DarulmutaleaMadni
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*✰•Quran Pak Kay 40 Naam•✰*

*قراٰنِ پاک کے 40 نام*

*[✧❀ماہنامہ فیضانِ مدینہ، رَمَضَانُ الْمُبَارَک 1441، ھِجْرِیْ، مئی 2020 عِیسَوی ❀✧]*

ایک مقولہ ہے *کَثْرَۃُ الْاَسْمَاءِ تَدُلُّ عَلیٰ شَرَفِ الْمُسَمَّیٰ*

یعنی

*کسی چیز کے زیادہ نام اس کے عظمت اور بزرگی کی دلیل ہیں۔*

*الاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی* (یعنی اللہ پاک کے نام) اور *اَسْمَاء ُالنَّبِی* کی طرح *قراٰنِ پاک* کے بھی کئی نام ہیں جو قراٰن و احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔البتہ ان ناموں کے بارے میں مختلف اقوال ہیں بعض نے 32 بتائے ہیں تو بعض نے 55 شمار کئے ہیں جبکہ کچھ نے تو 90 سے بھی زائد کا قول کیا ہے۔ *ذیل میں ان ناموں میں سے 40 نام اور ان کی وجہِ تسمیہ (یعنی نام رکھنے کی وجہ) ملاحظہ ہو۔*

*(1)کِتاب* اس کا ایک معنیٰ ہے جمع کرنا کیونکہ قراٰنِ پاک میں سارے علومِ اوّلین اور آخرین جمع ہیں۔

*(2)قُرْاٰن* اس کا ایک معنیٰ ہے پڑھی ہوئی چیز ، چونکہ یہ کتاب پڑھی ہوئی نازل ہوئی یوں کہ جبرئیلِ امین علیہ السَّلام حاضر ہوتے اور پڑھ کر سُنا جاتے۔

*(3)فُرْقان* اس کےمعنیٰ ہیں فرق کرنے والی چیز ، چونکہ قراٰن حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے۔

*(6 ، 5 ، 4)ذِکْر، ذِکْریٰ، تَذْکِرہ* انکے معنیٰ ہیں یاد دلانا،چونکہ قراٰنِ کریم اللہ پاک اور اس کی نعمتوں کو یاد دلاتا ہے۔

*(7)تَنْزِیْل* اس کے معنیٰ ہیں بتدریج اُتارنا یعنی تھوڑا تھوڑا نازل کرنا اور یہ کتاب رب کی طرف سے اسی طرح اُتاری ہوئی ہے۔

*(8)حَدِیث* اس کے ایک معنیٰ ہیں نئی چیز، چونکہ دیگر آسمانی کتابوں اور صحیفوں کے بعد قراٰن دنیا میں آیا اس لئے یہ نیا ہے۔

*(9)مَوعِظَۃ* اس کے معنیٰ نصیحت کے ہیں، اور یہ کتاب سب کو نصیحت کرنے والی ہے۔

*(13 ، 12 ، 11 ، 10) حُکْم ، حَکیم ، مُحکَم اور حِکْمَۃ* ان سب کا مشترک معنیٰ ہے “مضبوط “ اور یہ کتاب مضبوط ہے کہ اس میں کوئی تحریف نہیں کرسکتا۔

*(14)شِفا* کہ یہ ظاہری اور باطنی امراض (Diseases) سے شِفا دینے والی کتاب ہے۔

*(16 ، 15)ہُدٰی، ھَادِی* ان کے معنیٰ ہیں ہدایت دینا اور یہ کتاب لوگوں کو درست راہ کی ہدایت ديتی ہے۔

*(17)صِراطِ مُسْتَقیم* اس کے معنیٰ ہیں سیدھا راستہ اور اس پر عمل کرنے والا اپنی منزل پر بآسانی پہنچ سکتا ہے جس طرح سیدھے راستے پر چلنے والا پہنچ جاتا ہے۔
https://chat.whatsapp.com/K78XarZ5i439VO2jAF1JFa
*(18)حَبْل* اس کے معنیٰ رسّی کے ہیں،چونکہ اس کے ذریعے سےلوگ اللہ پاک تک پہنچتے ہیں۔

*(19)رَحْمَت* کہ یہ کتاب عِلْم ہے اور علم اللہ پاک کی رحمت ہے۔

*(20)رُوح* چونکہ اس کتاب کو حضرت جبرئیلِ امین علیہ السَّلام لیکر آئے اور آپ کا لقب روحُ الاَمین ہے۔

*(21)قَصَص* اس کے معنیٰ ہیں حکایتیں ، چونکہ قراٰنِ پاک نے انبیائے کرام علیہم السَّلام اور مختلف قوموں کے سچے قصے بیان کئے ہیں۔

*(22 ، 23 ، 24)بَیان تِبْیان اور مُبِین* ان سب کے معنیٰ ہیں ظاہر کرنے والا چونکہ یہ قراٰن سارے شرعی احکام کو اور سارے علومِ غیبیہ کو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ظاہر فرمانے والا ہے۔

*(25)بَصائِر* یہ بصیرت کی جمع ہے اور بصیرت کہتے ہیں دل کی روشنی کو ، چونکہ اس کتاب سے دِلوں میں نور پیدا ہوتا ہے۔

*(26)فَصْل* اس کے ایک معنیٰ ہیں فیصلہ کرنا،چونکہ یہ کتاب لوگوں کے آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے والی ہے۔

*(27)نُجُوم،* جمع نَجْم کی ہے اور نجم تارے کوکہتے ہیں چونکہ قراٰن کی آیتیں تاروں (Stars) کی طرح لوگوں کو ہدایت کرتی ہیں۔

*(28)مَثانِی* اس کےمعنیٰ ہیں بار بار ، کیونکہ اس میں احکام اور قصے بار بار آئے ہیں۔

*(29) نِعْمَت* چونکہ قراٰنِ مجید مسلمانوں پر اللہ پاک کا بہت بڑا انعام ہے۔

*(30)بُرْہان* اس کے معنیٰ ہیں دلیل اور یہ کتاب بھی ربِّ پاک اور تمام انبیا کے سچے ہونے کی دلیل ہے۔

*(31) قَیِّم* قائم رہنے والے کو بھی کہتے ہیں ، چونکہ یہ قراٰن خود بھی قیامت تک رہے گا اور اس کے ذریعے دین بھی قائم رہےگا۔

*(33 ، 32)بَشیر و نَذیر* کیونکہ یہ کتاب خوشخبریاں بھی دیتی ہے اور ڈراتی بھی ہے۔

*(34) مُہَیمِن* اس کا معنیٰ ہے مُحافظ، چونکہ یہ کتاب مسلمانوں کی دنیا اور آخرت میں مُحافظ ہے۔

*(35)نُور* اسے کہتے ہیں جو خود بھی ظاہر ہو اور دوسروں کو بھی ظاہر کرے چونکہ قراٰن خود بھی ظاہر ہے اور اللہ پاک کے احکام اور انبیائے کرام کے احوال کو بھی ظاہر فرمانے والا ہے۔

*(36)حَق* اس کےمعنیٰ ہیں سچ،چونکہ قراٰن سچی بات بتاتا ہے سچے رب کی طرف سے سچے محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر اُترا ہے۔

*(37)عَزیز* غالب اور بـے مثل کو کہتے ہیں اور قراٰن سب پر غالب بھی رہا اور بـے مثل بھی ہے۔

*(38) کَریم* سخی کو کہتے ہیں اور قراٰنِ پاک علم ، ایمان اور بـےحساب ثواب دیتا ہے۔

*(39)عَظیم* اس کے معنیٰ ہیں بڑا ، چونکہ سب سے بڑی کتاب یہی ہے۔
*(40)مُبارَک* کےمعنیٰ ہیں برکت والا چونکہ اس کے پڑھنے اور عمل کرنے سے ایمان اور چہرے کے نور میں برکت ہوتی ہے۔

(یہ مضامون ان کتب سے ماخوذ ہے،
بصائر ذوی التمییز فی لطائف الکتاب العزیز،1 / 88

البرھان فی علوم القراٰن، 343 / 1،
تفسیرِ کبیر،1 / 260 تا 265،

تفسیر عزیزی، ص103، تفسیر نعیمی، 1 / 5 ، 91 ، 90،6 ماخوذاً)

*•●◉✧صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب✧◉●•*

*●✧صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدﷺ✧●* *☆❀▬▬▬▬★❂★▬▬▬▬❀☆*

طالب دعا : دانش

https://chat.whatsapp.com/K78XarZ5i439VO2jAF1JFa

https://t.me/DarulmutaleaMadni
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#ازالہ_شُبہات_در_آیاتِ_جہاد قسط پنجم 【5】 ✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری جامعة الأزهر الشريف ، مصر #شبہ_نمبر_پانچ░5░ : 👈🏻 اسلام کی پاک دامنی پر ایک افتراء یہ کیا جاتا ہے کہ ہر مذہب میں جنگ و قتال (War) کے…
#ازالہ_شُبہات_در_آیاتِ_جہاد
قسط پنجم 【5】

✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر

#شبہ_نمبر_پانچ░5░ : 👈🏻 اسلام کی پاک دامنی پر ایک افتراء یہ کیا جاتا ہے کہ ہر مذہب میں جنگ و قتال (War) کے اصول و شرائط (Terms and Conditions ) ہوتے ہیں جبکہ اسلام میں ایسے قوانین وشرائط اور تعلیمات نہیں بلکہ اسلام تو آیاتِ جہاد کے ذریعہ صرف مارنے کاٹنے کا ہی حکم دیتا ہے !!!!

#نرسنگانند اور #وسیم_رافضی جیسے مفتریوں کو اسلام کے حقائق کیوں کر معلوم ہوں گے جو ہمہ وقت اسلام میں کمیاں تلاش کرنے میں وقت ضائع کرتے ہیں اور اسلام کے قریب تک نہیں آنا چاہتے.

لذت مہ نہ شناسی بخدا تا نہ چشی
شرابِ محبت جب تک چکھوگے نہیں اس کی لذت سے آشنائی ممکن نہیں.

👈🏻 ہم جنگ میں موقفِ اسلام کے بنیادی اصول و حقائق کو ترتیب وار پیش کرتے ہیں.👇🏻
ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

▪️ #پہلی_حقیقت : کسی دوسرے پر ظلم و زیادتی چاہے کسی قسم کی ہو بغیر وجہِ حق بہت بڑا جرم ہے جس سے دین اسلام نے سختی سے منع کیا ہے، بحیثیت مسلمان اگر کوئی اس جرم میں ملوث ہوتا ہے اگرچہ کافر کے ہی حق میں کیوں نہ ہو یہ اس پر زیادتی ہے ، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : { وَقَـٰتِلُوا۟ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِینَ یُقَـٰتِلُونَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۤا۟ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا یُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِینَ } [ سورہ البقرہ : 190]
اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔
تفسير بغوی میں ہے ﴿وَلَا تَعْتَدُوا﴾ أَيْ لَا تَقْتُلُوا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَالرُّهْبَانَ وَلَا مَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ
یعنی عورتوں، بچوں، بوڑھوں، راہبوں اور امان طلب کرنے والوں سے نہ لڑو.

اور فرمان خالق کائنات ہے {وَ لا یَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُوا۟ۘ } [سورہ المائدۃ : 2]
اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجدِ حرام سے روکا تھا زیادتی کرنے پر نہ ابھارے.

▪️ #دوسری_حقیقت : جنگ کا مقصد دشمن کو نیست و نابود کرنا نہیں بلکہ اسکے خطرے سے بچنا ہے تو جب خطرہ معاہدہ یا دشمن کے ہتھیار ڈالنے یا راہ فرار اختیار کرنے سے ٹل جائے تو ہرگز اسلام جنگ کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا { وَقَـٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةࣱ وَیَكُونَ ٱلدِّینُ لِلَّهِۖ فَإِنِ ٱنتَهَوۡا۟ فَلَا عُدۡوَ ٰ⁠نَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّـٰلِمِینَ } [سورہ البقرۃ :193]
اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر۔
آپ ﷺ نے قریش سے مصالحت فرما کر صلح حدیبیہ جیسی عظیم مثال قائم فرمائی.
اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے غزوہ تبوک میں اہل روم کی فرار پر اپنی ذات کے مفاد کے لئے ان کا تعاقب نہیں فرمایا.

▪️ #تیسری_حقیقت : جنگ صرف میدان جنگ میں موجود لڑنے والے محاربین و مقاتلین سے ہے اور جو ہتھیار سے لیس نہ ہوں، یا میدان جنگ سے دور ہوں، یا امان طلب کریں، یا کنارہ کشی کریں تو ان سے جنگ نہیں { إِلَّا ٱلَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَىٰ قَوۡمِۭ بَیۡنَكُمۡ وَبَیۡنَهُم مِّیثَـٰقٌ أَوۡ جَاۤءُوكُمۡ حَصِرَتۡ صُدُورُهُمۡ أَن یُقَـٰتِلُوكُمۡ أَوۡ یُقَـٰتِلُوا۟ قَوۡمَهُمۡۚ وَلَوۡ شَاۤءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَیۡكُمۡ فَلَقَـٰتَلُوكُمۡۚ فَإِنِ ٱعۡتَزَلُوكُمۡ فَلَمۡ یُقَـٰتِلُوكُمۡ وَأَلۡقَوۡا۟ إِلَیۡكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ عَلَیۡهِمۡ سَبِیلࣰا } [سورة النساء : 90]
مگر وہ جو ایسی قوم سے علاقہ (تعلق) رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سَکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی۔

اسلئے مذکورہ تمام لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں.

▪️ #چوتھی_حقیقت : اگر کسی بھی طرف سے معاہدہ ٹوٹے تو اس پر اعلان جنگ ہے کہ اس نے متفق علیہ عہد و پیمان کو توڑا پھر اس غدار کے محاسبہ میں تاخیر وسستی ظلم کو بڑھاوا دینا، فساد کو پھیلانا، امن و سلامتی کو ضائع کرنا اور قوموں کے ما بین بھروسہ کا فقدان کرنا ہے. دولت اسلامیہ اصلا امن و سلامتی کو ترجیح دیتی ہے, جنگ تو وقتی طور پر مشروع ہوتی ہے مگر جب عہد و پیمان کو توڑا جائے تو پھر اسلام حد سے بڑھنے والوں کا روادار نہیں.
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#ازالہ_شُبہات_در_آیاتِ_جہاد قسط پنجم 【5】 ✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری جامعة الأزهر الشريف ، مصر #شبہ_نمبر_پانچ░5░ : 👈🏻 اسلام کی پاک دامنی پر ایک افتراء یہ کیا جاتا ہے کہ ہر مذہب میں جنگ و قتال (War) کے…
▪️ ,#پانچویں_حقیقت : اسلام میں مشروعی و عادل جنگ دشمن کے شر کا خاتمہ اور کمزوروں سے ظلم و جبر کو دور کرنے کے لئے ہے. ہر زمانہ قدیم و جدید میں دولت اسلامیہ کے یہ تمام قوانین مظلومین کے حق میں مشروع و قائم رہیں گے، جیسا کہ اللہ رب العزت نے اولِ حکمِ جنگ میں اشارہ فرما دیا کہ بے شک یہ مظلوم مؤمنین کی جانوں کے دفاع کا حق ہے { اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙﰳ (۳۹) الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُؕ } [سورة الحج : 39-40]
پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ اُن کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔ وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے.
تو اس آیت میں بھی جنگ کا حکم مظلومین کو ہے البتہ وہ مقامات جہاں مسلمان حوادث شر سے محفوظ و مانون ہوں تو انہیں فقدان شرائط کے سبب جہاد کی اجازت نہیں.

▪️ #چھٹی_حقیقت : وہ آیات جن میں جنگ کا حکم دیا گیا وہ اُن آیات کے لیے ناسخ نہیں ہیں جن میں دشمنوں کی اذیتوں پر صبر و ضبط کا حکم ہے جو 48 سورتوں میں 114 آیتیں ہیں.
جنگ کو تو ضرورت کے وقت اور دیگر کافی وسائل اپنانے کے بعد اختیار کیا جاتا ہے.
رحمت عالم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا : أَيُّهَا النَّاسُ، لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ العَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ العَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ» " [ صحیح البخاری : 2966]
دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو ، البتہ جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہو ہی جائے( یعنی جب دشمن جنگ پر ہی آمادہ ہو ) تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو (یعنی جم کر دشمن کا مقابلہ کرو) یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے.

پہلے نبی رحمت ﷺ نے عام حالات میں جنگ سے باز رہنے کا حکم دیا اور جب حالات سازگار نہ ہوں اور صلح کی صورت نہ ہو تب مقابلے میں جنگ کا حکم ارشاد فرمایا.

اسلام کے یہ روشن حقائق بھلا ان کو کیسے نظر آ سکتے ہیں جن کے قلب و کان اور آنکھوں پر رب قدیر نے خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ وَعَلَىٰۤ أَبۡصَـٰرِهِمۡ غِشَـٰوَةࣱۖ کی مہر ثبت فرما دی ہو اور ان کے لئے وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِیمࣱ کا حکم صادر فرما دیا ہو.

🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( #بن_مناظر_اہل_سنت_علامہ_صغیر_احمد_رضوی_جوکھنپوری ) حفظہ الله
الجامعة القادريہ، رچھا ریلوے اسٹیشن (بریلی شریف)
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦

*جاری ...* 📝 👇🏻👇🏻👇🏻

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/899957660574753/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اکثر مقرروں کی پسندیدہ کتاب " نزھة المجالس" کا حال

محمد بن محمد ابو شھبہ لکھتے ہیں
جن کتب سے اجتناب کرنا چاہیے، ان میں سے کتاب "نزھةالمجالس" بھی ہے، اس کتاب میں عام لوگوں کی عقلوں کو برباد کیا گیا ہے، کیوں کہ اس میں بہت زیادہ من گھڑت باتیں اور جھوٹ لکھے گئے ہیں اور جب صفوری نے یہ کتاب لکھی تو محدث دمشق برھان الدین ناجی نے اس کا معارضہ کیا(اس پر تبصرہ و تنقید کی ہے) اور ان کی غلطیوں اور جھوٹ کو پکڑا ہے اور یہ بیان کیا کہ اس کتاب میں جو کچھ ہے، وہ بہت زیادہ من گھڑت ہے اور اس میں سے ایک رسالہ لکھ کر امام سیوطی کے پاس مصر بھیجا تو امام سیوطی نے اس کے من گھڑت اور اس کی بناوٹ پر برھان الدین ناجی کی بات سے اتفاق کیا۔

ابن طولون نے "مفاكهة الخلان " میں لکھا ہے

امام صفوری کی اس کتاب میں ذکر کردہ موضوع (من گھڑت ) اور بے اصل روایات کی بنیاد پر شیخ شہاب الدین الحمصی نے جامع اموی سے ان کی درس کی کرسی( مسند)ہٹانے کا حکم دیا۔

وفی مفاكهة الخلان في حوادث الزمان لابن طولون الدمشقي۔۔۔۔وقال الشهاب الحمصي في ذيله: وفي يوم الخميس خامس عشر جمادى الأولى منها، منعت زين الدين الصفوري، المحدث من القراءة بالجامع الأموي، ومن غيره، وأمرت بشيل كرسيه من الجامع الأموي، وسببه أنه جمع كتاباً سماه: نزهة المجالس وذكر في أحاديث موضوعة على النبي صلى الله عليه وسلم، ثم أحضر الكتاب المذكور وذكر أنه تاب ورجع عن الأحاديث الموضوعة فيه، وأنه لا يعود لذلك، والله يعلم المفسد من المصلح.
{ مفاكهة الخلان في حوادث الزمان لابن طولون الدمشقي،جلد ١/١٣١ طبع دار الكتب العلمية }

ومما ينبغي الحذر منه كتاب "نزهة المجالس", فقد أفسد عقول العامة بما فيه من خرافات وأكاذيب، ولما ألف الصفوري هذا الكتاب عارضه برهان الدين الناجي محدث دمشق، وبين كثرة ما فيه من موضوع, وقد جمع منه رسالة وأرسلها إلى الإمام السيوطي بمصر فوافقه على كثير منها بالوضع والاختلاق۔۔

{ الوسيط في علوم ومصطلح الحديث لأبي شُهبة صفحہ ٣٥٥ طبع دار الفكر العربي }

حساب لگا لیں جس کتاب کیوجہ سے مصنف کو عہدے سے ہٹایا گیا آج کل وہی کتاب اکثر مقرروں کی فیورٹ کتاب ہے۔

(بہ شکریہ: حافظ محمد قاسم صاحب: منظر محسن)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2977061109239863&id=100008080090753
https://t.me/islaamic_Knowledge/12700
اکثر مقرروں کی پسندیدہ
کتاب " نزہۃ المجالس" کا حال
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2977061109239863&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*محدثین کا اکابرین کی کتب میں کسی حدیث کا حوالہ نہ ملنے پر ادب کا ایک انداز ؟؟؟*

سیدی امام اہل سنت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

*امام محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن الہمام علیہ الرحمہ* نے جن کی جلالت قدر آفتاب نیمروز سے اظہر جب بعض احادیث کہ مشائخ کرام نے ذکر کیں نہ پائیں یوں فرمایا کہ:
*لعل قصور نظرنا اخفاھا عنا۔*

امید ہے کہ ہماری نظر کے قصور نے انھیں ہم سے چھپالیا۔

(فقیر کو فتح القدیر میں یہ عبارت یوں ملی۔۔ غیر ان قصور نظرنا اخفاھا عنا۔ جلد 1 صفحہ 106۔۔۔ بحرالرائق اور غنية المتملي میں بھی فتح القدیر کی عبارت انہی الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔ شاید یہی عبارت کسی اور مقام پر ہو۔۔۔)

*امام سیوطی علیہ الرحمہ جیسی شخصیت جن کو خاتم الحفاظ کہا جاتا ہے۔۔۔*

حدیث *اختلاف امتی رحمۃ*
(میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔)
( الجامع الصغیر للسیوطی حدیث ۲۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۴)

کو اپنی کتاب جامع صغیر میں ذکر فرمائی اور اس کا کوئی مخرج نہ بتاسکے کہ کس محدث نے اپنی کتاب میں روایت کی۔ان بعض علماء کے نام لکھ کر جنھوں نے بے سند اپنی کتابوں میں اسے ذکرکیا لکھ دیا کہ:

*لعلہ خرج فی بعض کتب الحفاظ التی لم تصل الینا*

شاید وہ حافظان حدیث کی بعض کتابوں میں روایت کی گئی جو ہم تک نہ پہنچیں۔

(الجامع الصغیر للسیوطی حدیث ۲۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۴)

یہ وہ امام ہیں کہ فن حدیث میں جن کے بعد ان کا نظیر نہ آیا۔ وہ اپنے نہ پانے پر یوں فرماتے ہیں کہ *شاید یہ حدیث ان کتب ائمہ میں تخریج ہوئی جو ہمیں نہ ملیں۔*

*قال امام احمد رضا عليه الرحمة*

و قد جربت مثله كثيرا على هذا الإمام (السيوطي) فى كثير من تصانيفه الشريفة كالجوامع الثلثة والخصائص الكبري و غيرها و كان مقصوده رحمه الله تعالى ان يجمع لامثالنا القاصرين ما قلما تصل اليه ايدينا *فان اقتصر على ما أفادوا ذهلنا عن المتداولات فالقصور منا لا منه رحمه الله تعالى.*

(الحق المجتلي في حكم المبتلي صفحه ٥)

بغور پڑھ لیجئے۔۔۔۔فالقصور منا لا منہ

یہ ہمارا قصور ہے ان کا نہیں۔۔۔

امام اہل سنت فرماتے ہیں: کیا ان ائمہ سے غفلت ہوئی اور تم معصوم ہو؟___ کیا نہیں ممکن کہ حدیث انھیں کتابوں میں ہواور تمھاری نظر سے غائب رہے؟__ مانا کہ ان کتابوں میں نہیں کیا سب کتابیں تمھارے پاس ہیں؟___ ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جو اور بندگان خدا کے پاس دیگر بلاد میں موجود ہیں _ مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا اسی قدر کتابیں تصنیف ہوئی تھیں ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جومعدوم ہوگئیں مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا تمام احادیث کتابوں میں مندرج ہوگئی تھیں؟_ ممکن کہ ان احادیث میں ہو جو علماء اپنے سینوں میں لے گئے ..............اپنے نہ پانے کو نہ ہونے کی دلیل سمجھنا اور عدم علم کو علم بالعدم ٹھہرا لینا کیسی سخت سفاہت ہے۔ خاص نظیر اس کی یہ ہے کہ کوئی شخص ایک چیز اپنی کوٹھری کی چار دیواری میں ڈھونڈھ کر بیٹھ رہے اور کہدے ہم تلاش کرچکے تمام جہاں میں کہیں نشان نہیں کیا اس بات پر عقلاء اسے مجنون نہ جانیں گے!_

ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی۔

(فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 49 اپلیکیشن ملتقطا۔۔۔مع تغییر و اضافہ)

ابو الحسن محمد شعیب خان
11 مارچ 2020

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2978493742429933&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوال:
چیل اورکوؤں کوصدقے کاگوشت کھلاناکیساہے؟
جواب:
چیل کوؤں کو گوشت کھلانا کچھ معنی نہیں رکھتا کیونکہ یہ فاسق جانور ہے لہٰذا ان کو ہرگز نہ کھلایا جائے بلکہ ان کو گوشت کھلانا تو ہندوؤں کی رسم ہے لہٰذا جو صدقہ کرناچاہے تو وہ گوشت وغیرہ کسی غریب کو کھلا دے یا اس کو دیدے اور یہ بہت اجر و ثواب کا باعث ہے. چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :
"چیل کوؤں کو(گوشت)کھلانا کچھ معنی نہیں رکھتا,یہ فاسق ہیں اور کوؤں کی دعوت رسمِ ہنود(یعنی ہندوؤں کی رسم) ہے".
*(فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 124 موبائل ایپ مجلس آئی ٹی دعوتِ اسلامی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
والسلام
منقول

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2978493785763262&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*----- بد مذہبوں کے پاس بیٹھنا کیسا -----*

حضرت علامہ امام ابوبکر محمد ابنِ سیرین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں دو بد عقیدہ آدمی حاضر ہوئے اور کہنے لگے:اے ابوبکر! ہم آپ کو ایک حدیث سناتے ہیں_فرمایا: میں نہیں سُنوں گا_ دونوں نے کہا: اچھا چلۓ قرآن کریم کی ایک آیت ہی سُن کیجۓ_فرمایا : نہیں سنوں گا،تم دونوں میرے پاس سے چلے جاؤ ورنہ میں اُٹھ کر چلا جاتا ہوں_آخر وہ چلے گئے تو بعض لوگوں نے (حیرت سے)عرض کی:اے ابوبکر! آپ اگر ان سے حدیث پاک یا آیتِ قرآنی سن لیتے تو اس میں آخر کیا حرج تھا؟ فرمایا مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ یہ لوگ قرآن و حدیث کے ساتھ اپنی تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے (تو ہلاک ہو جاؤں اس لیے میں نے اُن سے قرآن و حدیث سننا گوارا نہ کیا)_
(سنن دارمی،جلد1،صفحہ120،رقم397،فتاوٰی رضویہ جلد 15،صفحہ106)

پیارے اسلامی بھائیو اس حکایت میں مشہور تابعی بُزرگ امامُ المعَبِّرِین حضرت سیدنا ابوبکر محمد ابنِ سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے دو شخصوں کے بارے میں یہ جو فرمایا ہے کہ"مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ یہ لوگ قرآن و حدیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں" یہ بظاہر بد گمانی و غیبت ہے بلکہ ایسی غیبت باعثِ ثوابِ آخرت ہوتی ہے کیونکہ وہ دونوں بد عقیدہ تھے لہذا آپ نے ان کی بد عقیدگی کا لوگوں پر اظہار فرما دیا_دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبتہ المدینہ کی مطبوعہ 312 صفحات پر مشتمل کتاب "بہار شریعت،حصہ16،صفحہ175تا176پرصدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بد عقیدہ لوگوں کا ضرر (یعنی نقصان)فاسِق کے ضرر سے بہت زائد ہے،فاسق سے جو ضرر (یعنی نقصان) پہنچے گا وہ اس سے بہت کم ہے جو بد عقیدہ لوگوں سے پہنچتا ہے_فاسق سے اکثر دنیا کا ضرر (نقصان) ہوتا ہے اور بد مذہب سے تو دین و ایمان کی بربادی کا ضرر (نقصان) ہے اور بد مذہب اپنی بد مذہبی پھیلانے کے لیے نماز روزہ کی بظاہر خوب پابندی کرتے ہیں،تاکہ ان کا وقار لوگوں میں قائم ہو پھر جو گمراہی کی بات کریں گے ان کا پورا اثر ہو گا،لہٰذا ایسوں کی بد مذہبی کا اظہار فاسق کے فسق کے اظہار سے زیادہ اہم ہے اس کے بیان کرنے میں ہر گز دَریغ نہ کریں_

مذکورہ حکایت سے ان لوگوں کو بھی درس حاصل کرنا چاہیئے کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو کوئی بھی قرآن و حدیث بیان کرے آنکھیں بند کر کے اُس سے سُن لینا چاہیے اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں کے جلیل القدر امام حضرت سیدنا امام ابو بکر محمد ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم عالمِ دین نے اُن بد عقیدہ آدمیوں سے قرآن وحدیث کو کیوں نہیں سُنا!بس یوں سمجھو کہ انہوں نے نہ سُن کر گویا ہم جیسوں کو سمجھایا ہے کہ میں بھی نہیں سُنتا تم بھی مت سُنو! حالانکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ عربی دان اور جلیل القدر عالم و مُجتہد تھے، اگر وہ بد عقیدہ لوگ تاویل کرتے تو پکڑے بھی جاتے مگر ان منحوس بد مذہبوں سے سننا ہی نہیں ہے کہ شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی_اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ سُن لیتے تو دوسروں کے لئے دلیل ہو جاتی اور وہ سُن کر گمراہ ہوتے_اور ہاں آپ نے ان کو جو چَلے جانے کا حکم فرمایا وہ کوئی بد اخلاقی نہیں تھی بلکہ ایسا کرنا عین حُسنِ اَخلاق ہے_ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے دُشمنوں کی خاطِر تواضع نہیں کی جا سکتی_
https://chat.whatsapp.com/K78XarZ5i439VO2jAF1JFa
جو ہیں دُشمن رسول کے اُن کو
ہم نے دل سے نکال رکھا ہے

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبتہ المدینہ کی مطبوعہ 561 صفحات پر مشتمل کتاب،"ملفوظات اعلیحضرت"(مکمل) صفحہ 302 پر ہے: حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز مغرب پڑھ کر مسجد سے تشریف لائے تھے کہ ایک شخص نے آواز دی:کون ہے کہ مسافر کو کھانا دے؟امیرالمؤمنین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خادم سے ارشاد فرمایا: اسے ہمراہ لے آؤ_وہ آیا (تو) اسے کھانا منگا کر دیا_مسافر نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ایک لفظ اس کی زبان سے ایسا نکلا جس سے"بد مذہبی کی بُو"آتی تھی، فوراً کھانا سامنے سے اُٹھوا لیا اور اسے نکال دیا_
(کنزالعمال،جلد10،صفحہ117،رقم29384)
فارقِ حق و باطل امام الہدیٰ
تیغِ مَسلُولِ شدّت پہ لاکھوں سلام

ملفوظات اعلیٰ حضرت"(مکمل) صفحہ 277 سے عرض،ارشاد کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے اور اپنی آخرت کی بہتری کی صورت بنائیے_
عرض: اکثر لوگ بد مذہبوں کے پاس جان بُوجھ کر بیٹھتے ہیں_ان کے لیے کیا حکم ہے؟
ارشاد: (بد مذہبوں کے پاس بیٹھنا) حرام ہے اور بد مذہب ہو جانے کا اندیشہ کامل اور دوستانہ نہ ہو تو دین کے لیے زہرِ قاتل_رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:اِیَّاکُمْ وَ اِیَّاہُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ یعنی انہیں اپنے سے دور کرو اور ان سے دور بھاگو وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں_(مقدمہ صحیح مسلم،حدیث7،صفحہ9) اور اپنے نفس پر اعتماد کرنے والا بڑے کذاب (یعنی بہت بڑے جھوٹے)پر اعتماد کرتا
ہے،"اِنَّھَا اَکْذَبُ شَی٘ ءِِ اِذَا حَلَفَت٘ فَکَیْفَ اِذَا وَعَدَت٘(نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے) صحیح حدیث میں فرمایا:جب دجال نکلے گا،کچھ افراد اسے تماشا کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مستقیم (یعنی مضبوط) ہیں، ہمیں اس سے کیا نقصان ہو گا؟وہاں جا کر ویسے ہی ہو جائیں گے _(سُننِ ابو داؤد،جلد4،صفحہ157،حدیث4319) حدیث میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے اُس کا حشر اسی قوم کے ساتھ ہو گا(المعجم الاوسط للطبرانی،جلد5،صفحہ157،حدیث6450)
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
وَمَن٘ یَّتَوَلَّھُم٘ مِّن٘کُم٘ فَاِنَّهٗ مِن٘ھُم٘
ترجمه کنزالایمان:تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے_(پارہ6،سورۂ مائدہ:51)
ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ایک تیرا دشمن،ایک تیرے دوست کا دشمن اور ایک تیرے دشمن کا دوست)_
(المختصر المحتاج الیه للذھبی،صفحہ 125)

(✍️ اللہ کے فضل کا محتاج 🙏 شاہد)

https://t.me/DarulmutaleaMadni/2856
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM