🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
https://www.facebook.com/AnjumRazaAttari12/
*رمضـــان کے احـــکام کورس*

*قسط نمبر 1️⃣*

*✍🏻غــــلام نبی انجـم رضـــا عطاری*

*روزے کے ضروری مسائل*

👇اس قسط میں آپ پڑھ اور سیکھ سکیں گے :

1۔ روزہ کس پر فرض ہے؟
2۔ بچے کو کب روزہ رکھوایا جائے؟
3۔ روزے کی نیت کے احکام


*روزہ کس پر فرض ہے:*

توحید و رِسالت کا اِقرار کرنے اور تمام ضروریاتِ دِین پر ایمان لانے کے بعد جس طرح ہر مسلمان پر نماز فرض قرار دی گئی ہے اسی طرح رَمضان شریف کے روزے بھی ہر مسلمان *(مرد و عورت )* عاقل و بالغ پر فرض ہیں۔
دُرِّمُخْتار میں ہے: روزے 10 شعبانُ الْمُعَظَّم ٢؁ھ کو فرض ہوئے۔
*(دُرِّ مُخْتار و رَدُّ الْمُحْتار ج۳ص۳۸۳)*


*بچے کو کب روزہ رکھوایا جائے؟:*

میرے آقا اعلٰی حضرت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : بچہ جیسے ہی آٹھویں سال میں قدم رکھے *( اس کے )* ولی *( یعنی سرپرست )* پر لازِم ہے کہ اسے نماز روزے کا حکم دے اور جب گیارھواں سال شروع ہو تو ولی پر واجب ہے کہ صوم و صلوٰۃ *( روزہ نہ رکھنے اور نماز نہ پڑھنے)* پر مارے بشرطیکہ روزے کی طاقت ہو اور روزہ ضرر *(یعنی نقصان)* نہ کرے۔
*( فتاویٰ رضویہ ج۱۰ص۳۴۵ )*

*فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں:*
بچہ کی عمر دس سال کی ہو جائے اور *(گیارھویں میں قدم رکھ دے اور)* اُس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو اُس سے رَمَضانُ الْمبارَک میں روزہ رکھوایا جائے ۔ اگر پوری طاقت ہونے کے باوجود نہ رکھے تو مار کر رکھوائیے اگر رکھ کر توڑ دیا تو قضا کا حُکم نہ دیں گے اور نماز توڑ دے تو پھر پڑھوائیے۔

*(رَدُّالْمُحْتار ج۳ ص۴۴۲)*


*روزے کی نیت کے احکام*

(1) روزے کیلئے نیت شرط ہے ۔ لہٰذا بے نیت روزہ اگر کوئی اِسلامی بھائی یا اسلامی بہن صبحِ صادِق کے بعد سے لے کر غروبِ آفتاب تک بالکل نہ کھائے پئے تب بھی اُس کا روزہ نہ ہوگا
*(ماخوذ از رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۳۹۳)*

(2) رمضان شریف کے روزے کے لئے غروبِ آفتاب کے بعد سے لے کر نصف النہارِ شرعی *(اِسے ضَحوَۂ کُبریٰ بھی کہتے ہیں)* سے پہلے پہلے تک جب بھی نیت کر لیں روزہ ہو جائے گا۔
*(دُرِّمُختار و رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۹۳)*


(3) نیت دِل کے اِرادے کا نام ہے زَبان سے کہنا شرط نہیں ، مگر زَبان سے کہہ لینا مستحب ہے اگر رات میں روزئہ رَمضان کی نیت کریں تو یوں کہیں :
*نَوَیتُ اَنْ اَصُوْمَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالیٰ مِنْ فَرْضِ رَمَضان۔*
ترجمہ : *میں نے نیت کی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے کل اِس رَمضان کا فرض روزہ رکھوں گا۔*

{4} اگر دن میں نیت کریں تو یوں کہیں:
*نَوَیتُ اَنْ اَصُوْمَ ھٰذا الْیومَ لِلّٰہِ تَعَالیٰ مِنْ فَرضِ رَمَضان۔*

ترجمہ : *میں نے نیت کی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے آج اِس رَمضان کا فرض روزہ رکھوں گا۔*
*(جَوْہَرہ ج۱ص۱۷۵)*

{5} عربی میں نیت کے کلمات ادا کرنے اُسی وَقت نیت شمار کئے جائیں گے جبکہ اُن کے معنیٰ بھی آتے ہوں ، اور یہ بھی یاد رہے کہ زَبان سے نیت کرنا خواہ کسی بھی زَبان میں ہو اُسی وَقت کار آمد ہوگا جبکہ اُس وقت دِل میں بھی نیت موجود ہو۔ *(اَیضاً)*

{6} نیت اپنی مادَری زَبان میں بھی کی جا سکتی ہے، عربی میں کریں خواہ کسی اور زَبان میں ، نیت کرتے وَقت دِل میں اِرادہ موجود ہونا شرط ہے ، وَرنہ بے خیالی میں صِرف زَبان سے رَٹے رَٹائے جملے ادا کر لینے سے نیت نہ ہوگی۔ ہاں زَبان سے رَٹی ہوئی نیت کہہ لی مگر بعد میں نیت کیلئے مقررہ وَقت کے اندر دِل میں بھی نیت کر لی تو اب نیت صحیح ہے۔
*(رَدُّالْمحتار ج۳ص۳۳۲)*

{7} اگر دِن میں نیت کریں تو ضروری ہے کہ یہ نیت کریں کہ میں صبح صادق سے روزہ دار ہوں ۔اگر اِس طرح نیت کی کہ اب سے روزہ دار ہوں صبح سے نہیں ، تو روزہ نہ ہوا۔
*(جَوْہَرہ ج۱ص۱۷۵ و رَدُّالْمحتار ج۳ص۳۹۴)*

{8} دِن میں وہ نیت کام کی ہے کہ صبح صادِق سے نیت کرتے وَقت تک روزے کے خلاف کوئی امر *(یعنی معاملہ)* نہ پایا گیا ہو۔
البتہ صبح صادِق کے بعد بھول کر کھا پی لیا یا جماع کر لیا تب بھی نیت صحیح ہو جائے گی۔
*(مُلَخَّص از رَدُّالْمحتارج۳ص۳۶۷)*

{9} آپ نے اگر یوں نیت کی کہ کل کہیں دعوت ہوئی تَو روزہ نہیں اور نہ ہوئی تو روزہ ہے۔
یہ نیت صحیح نہیں ، آپ روزہ دار نہ ہوئے۔
*(عَالمگِیری ج۱ص۱۹۵)*

{10} ماہِ رَمضان کے دِن میں نہ روزے کی نیت کی نہ یہ کہ روزہ نہیں اگرچہ معلوم ہے کہ یہ رَمَضانُ الْمبارَک کا مہینا ہے تو روزہ نہ ہوگا۔
*(عَالمگِیری ج۱ص۱۹۵)*


{11} غروبِ آفتاب کے بعد سے لے کر رات کے کسی وَقت میں بھی نیت کی پھر اِس کے بعد رات ہی میں کھایا پیا تو نیت نہ ٹوٹی ، وہ پہلی ہی کافی ہے پھر سے نیت کرنا ضروری نہیں ۔
*( جَوْہَرہ ج۱ ص۱۷۵)*
{12} آپ نے اگر رات میں روزے کی نیت تو کی مگر پھر راتوں رات پکا اِرادہ کر لیا کہ روزہ نہیں رکھوں گا تو اب وہ آپ کی ، کی ہوئی نیت جاتی رہی۔اگر نئی نیت نہ کی اور دِن بھر روزہ داروں کی طرح بھوکے پیاسے رہے تو روزہ نہ ہوا۔
*(دُرِّمُختار ج۳ص۳۹۸)*

{13} دَورانِ نماز کلام *(بات چیت)* کی نیت تو کی مگر بات نہیں کی تو نماز فاسد نہ ہوگی۔اِسی طرح روزے کے دَوران توڑنے کی صرف نیت کر لینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا جب تک توڑنے والی کوئی چیز نہ کرے ۔
*(جَوْہَرہ ج۱ ص ۱۷۵)*

{14} سحری کھانا بھی نیت ہی ہے خواہ ماہِ رَمضان کے روزے کیلئے ہو یا کسی اور روزے کیلئے مگر جب سحری کھاتے وَقت یہ اِرادہ ہے کہ صبح کو روزہ نہ رکھوں گا تو یہ سحری کھانا نیت نہیں ۔ *( اَیضاً ص۱۷۶)*

{15} رَمَضانُ الْمبارَک کے ہر روزے کے لئے نئی نیت ضروری ہے ۔ پہلی تاریخ یا کسی بھی اور تاریخ میں اگر پورے ماہِ رَمضان کے روزے کی نیت کر بھی لی تو یہ نیت صرف اُسی ایک دن کے حق میں ہے ، باقی دِنوں کیلئے نہیں ۔ *( اَیضاً )*

{16} ادائے رَمضان اور نذرِ معین اور نفل کے علاوہ باقی روزے مَثَلاً قضائے رَمضان اور نذر غیر معین اور نفل کی قضا اور نذر معین کی قضا اور کفارے کا روزہ اور تَمَتُّع کا روزہ اِن سب میں عین صبح چمکتے *(یعنی ٹھیک صبح صادق کے)* وَقت یا رات میں نیت کرنا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ جو روزہ رکھنا ہے خاص اُسی مخصوص روزے کی نیت کریں۔ اگر اِن روزوں کی نیت دِن میں *(یعنی صبحِ صادِق سے لیکر ضَحوۂ کُبریٰ سے پہلے پہلے)* کی تو نفل ہوئے پھر بھی اِن کا پورا کرنا ضروری ہے ، توڑیں گے تو قضا واجب ہوگی ، اگرچہ یہ بات آپ کے علم میں ہو کہ میں جو روزہ رکھنا چاہتا تھا یہ وہ روزہ نہیں ہے بلکہ نفل ہی ہے۔
*(دُرِّمُختَار ج۳ص۳۹۳)*

{17} آپ نے یہ گمان کر کے روزہ رکھا کہ میرے ذِمے روزے کی قضا ہے ، اب رکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ گمان غلط تھا۔ اگر فوراً توڑ دیں تو کوئی حرج نہیں ، البتہ بہتر یہی ہے کہ پورا کر لیں ۔ اگر معلوم ہونے کے فوراً بعد نہ توڑا تو اب لازِم ہو گیا اسے نہیں توڑ سکتے اگر توڑیں گے تو قضا واجب ہے۔
*(رَدُّالْمُحتَارج۳ص۳۹۹)*

{18} رات میں آپ نے قَضا روزے کی نِیَّت کی ، اگر اب صبح شروع ہو جانے کے بعد اسے نَفْل کرنا چاہتے ہیں تو نہیں کر سکتے ۔ *(ایضاً ص۳۹۸)* ہاں راتوں رات نیت تبدیل کی جا سکتی تھی۔

{19} دَورانِ نماز بھی اگر روزے کی نیت کی تو یہ نیت صحیح ہے۔
*(دُرِّمُختَار و رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۹۸)*

{20} کئی روزے قضا ہوں تو نیت میں یہ ہونا چاہیے کہ اُس رَمضان کے پہلے روزے کی قضا ، دوسرے کی قضا اور اگر کچھ اِس سال کے قضا ہو گئے کچھ پچھلے سال کے باقی ہیں تو یہ نیت ہونی چاہئے کہ اِس رَمضان کی قضا اور اُس رَمضان کی قضا اور اگر دِن اور سال کو معین *(یعنیFix)* نہ کیا ، جب بھی ہو جائیں گے۔
*(عالَمگیری ج۱ص۱۹۶)*

{21} مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ آپ نے رَمضان کا روزہ رکھ لینے کے بعد قصداً *(یعنی جان بُوجھ کر )* توڑ ڈالا تھا تو آپ پر اِس روزے کی قضا بھی ہے اور *(اگر کفارے کی شرائط پائی گئیں تو)* ساٹھ روزے کفارے کے بھی ۔ اب آپ نے اِکسٹھ روزے رکھ لئے قضا کا دِن معین *(fix)* نہ کیا تو اِس میں قَضا اور کفَّارہ دونوں ادا ہوگئے۔
*(ایضاً)*

*پیش کش*

*دار المطالعہ مدنی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*رمضـــان کے احـــکام کورس*

*قسط نمبر 2️⃣*

*✍🏻غــــلام نبی انجـم رضـــا عطاری*

*روزے کے ضروری مسائل (2)*

👇اس قسط میں آپ پڑھ اور سیکھ سکیں گے :

سحری و افطار کے احکام
سحری روزے کیلئے شرط نہیں
سحری کا وقت کب ہوتا ہے؟
اَذانِ فجر نماز کے لیے ہے نہ کہ روزہ بند کرنے کے لیے!
دعائے بعدِ افطار
افطار کے لیے اذان شرط نہیں



*سحری و افطار کے احکام*

*سحری روزے کیلئے شرط نہیں*

سحری کرنا سنت ہے : سحری کے بِغیر بھی روزہ ہو سکتا ہے مگر جان بوجھ کر سحری نہ کرنا مناسب نہیں کہ ایک عظیم سنت سے محرومی ہے اور سحری میں خوب ڈٹ کر کھانا ہی ضَروری نہیں ، چند کَھجوریں اور پانی ہی اگر بہ نیت سحری استعمال کر لیں جب بھی کافی ہے۔

*سحری کا وقت کب ہوتا ہے؟*

حنفیوں کے بہت بڑے عالم حضرتِ علامہ مولانا *علی قاری* عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی فرماتے ہیں : بعضوں کے نزدیک سحری کا وَقت آدھی رات سے شروع ہو جاتا ہے۔
*(مِرقاۃُ المفاتیح ج۴ ص۴۷۷)*

*سحری میں تاخیر اَفضل ہے*

جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا *یعلی بن مرہ* رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہ سے رِوایت ہے کہ :

*مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ* نے فرمایا:

تین چیزوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ محبوب رکھتا ہے
(ا) اِفطار میں جلدی اور
(۲) سحری میں تاخیر اور
(۳) نماز *(کے قیام)* میں ہاتھ پر ہاتھ رکھنا۔
*(مُعجَم اَوسَط ج۵ ص۳۲۰ حدیث۷۴۷۰)*

سحری میں تاخِیر کرنا مُسْتَحَب ہے مگر اتنی تاخیر بھی نہ کی جائے کہ صبحِ صادق کا شبہ ہونے لگے

*اَذانِ فجر نماز کے لیے ہے نہ کہ روزہ بند کرنے کے لیے!*

بعض لوگ صبح صادِق کے بعد فجر کی اذان کے دوران کھاتے پیتے رہتے ہیں ، اور بعض کان لگا کر سنتے ہیں کہ ابھی فلاں مسجِد کی اذان ختم نہیں ہوئی یا کہتے ہیں : وہ سنو! دُور سے اذان کی آواز آرہی ہے! اور یوں کچھ نہ کچھ کھا لیتے ہیں ۔ اگر کھاتے نہیں تو پانی پی کر اپنی اِصطلاح میں *روزہ بند* کرتے ہیں ۔ آہ ! اِس طرح *روزہ بند* تو کیا کریں گے روزے کو بالکل ہی *کھلا* چھوڑ دیتے ہیں اور یوں صبح صادق کے بعد کھا یا پی لینے کے سبب ان کا روزہ ہوتا ہی نہیں ، اور سارا دن بھوک پیاس کے سوا کچھ ان کے ہاتھ آتا ہی نہیں ۔ *روزہ بند* کرنے کا تعلق اَذانِ فجر سے نہیں صبح صادِق سے پہلے پہلے کھانا پینا بند کرنا ضروری ہے۔

*اِفطار کا بیان*

جب غروبِ آفتاب کا یقین ہو جائے ، اِفطَار کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے ، نہ سائرن کا اِنتظار کیجئے نہ اَذان کا ، فَوراً کوئی چیز کھا یا پی لیجئے مگر کَھجور یا چھوہارا یا پانی سے اِفطَار کرنا سُنَّت ہے۔
*فتاوٰی رضویہ* میں ہے:

سوال : روزہ اِفطار کرنا کس چیز سے مسنون *(سنّت)* ہے۔ جواب: خرمائے تر *(یعنی کھجور)* اور نہ ہو تو خشک *(یعنی چھوہارا)* اور نہ ہو تو پانی ۔
*(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱۰ ص ۶۲۸۔۶۲۹)*


*دعائے بعدِ افطار*

*فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:*

*اے علی!* جب تم رمضان کے مہینے میں روزہ رکھو تو افطار کے بعد یہ دعا پڑھو:
*اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ* ۔

ترجمہ: *اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!* میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تجھی پر بھروسا کیا اور تیرے ہی عطا کردہ رِزق سے اِفطار کیا۔

تو تمہارے لیے تمام روزے داروں کی مثل اجر لکھا جائے گا اور ان کے ثواب میں بھی کمی نہیں کی جائے گی۔
*(بُغْیَۃُ الْباحِث عن زوائِدِ مسندِ الْحارث ج۱ ص۵۲۷ حدیث۴۶۹)*

اس کے بعد ہو سکے تو مزید دعائیں بھی کیجئے کہ وقت قبول ہے۔

*افطار کے لیے اذان شرط نہیں*

اِفطار کی دُعا عموماً قبل از اِفطار پڑھنے کا رواج ہے مگر *امامِ اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ(مُخَرَّجہ)* جلد 10 صفحہ631 میں اپنی تحقیق یہی پیش کی ہے کہ دُعا اِفطار کے بعد پڑھی جائے۔ افطار کیلئے اذان شرط نہیں ، ورنہ اُن عَلاقوں یا شہروں میں روزہ کیسے کھلے گا جہاں مساجد ہی نہیں یا اذان کی آواز نہیں آتی ۔ بہرحال اَذان نَمازِ مغرب کیلئے ہوتی ہے ۔

توجہ :
*غذا سے افطار کے بعد نماز کیلئے منہ صاف کرنا ضروری ہے*

*پیش کش*
*دار المطالعہ مدنی*

https://chat.whatsapp.com/BHMQJZ4RWrQF8cveZ2S96G
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
https://www.facebook.com/AnjumRazaAttari12/

*رمضـــان کے احـــکام کورس*

*قسط نمبر 3️⃣*

*✍🏻غــــلام نبی انجـم رضـــا عطاری*
*_📲03461934584_*

*تراویح کے احکام* (حصہ1)

{۱} تراویح ہر عاقِل و بالغ اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کیلئے سنَّت مُؤَکَّدہ ہے۔
*(دُرِّ مُخْتارج ۲ص۵۹۶)*

اس کا تَرْک جائز نہیں ۔
*(بہار شریعت ج۱ص۶۸۸)*

{۲} تراویح کی بیس رَکْعَتَیں ہیں ۔ *سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ* کے عہد میں بیس رَکْعَتَیں ہی پڑھی جاتی تھیں ۔
*(السُّنَن الکبرٰی للبیہقی ج۲ص۶۹۹حدیث۴۶۱۷)*

{۳} تراویح کی جماعت سنّتِ مُؤَکَّدہ عَلَی الْکِفَایہ ہے ، اگر مسجد کے سارے لوگوں نے چھوڑ دی تو سب اِساءَت کے مرتکب ہوئے *(یعنی بُرا کیا)* اور اگر چند افراد نے با جماعت پڑھ لی تو تنہا پڑھنے والا جماعت کی فضیلت سے محروم رہا۔
*(ہِدایہ ج۱ص۷۰)*

{۴} تراویح کا وقت عشاء کےفرض پڑھنے کے بعد سے صبحِ صادِق تک ہے ۔ عشاء کے فرض ادا کرنے سے پہلے اگر پڑھ لی تو نہ ہوگی۔
*(عالمگیری ج۱ص ۱۱۵)*

{۵} وتر کے بعد بھی تراویح پڑھی جا سکتی ہے ۔
*(دُرِّمُختار ج۲ص۵۹۷)*

جیسا کہ بعض اوقات 29 کو رویت ہلال کی شہادت *(یعنی چاند نظر آنے کی گواہی)* ملنے میں تاخیر کے سبب ایسا ہو جاتا ہے۔

{۶} مُستَحَب یہ ہے کہ تراویح میں تہائی رات تک تاخیر کریں ، اگر آدھی رات کے بعد پڑھیں تب بھی کراہت نہیں ۔ *(لیکن عشاء کے فرض اتنے مؤخّر (Late) نہ کئے جائیں)* *(اَیضاً ص۵۹۸)*

{۷} تراویح اگر فوت ہوئی تو اس کی قضا نہیں ۔ *(اَیضاً)*

{۸} بِہتر یہ ہے کہ تراویح کی بیس رَکْعَتَیں دو دو کر کے دس سلام کے ساتھ ادا کر یں ۔
*(اَیضا ص۵۹۹)*

{۹} تراویح کی بیس رَکْعَتَیں ایک سلام کے ساتھ بھی ادا کی جا سکتی ہیں ، مگر ایسا کرنا مکروہِ (تنزیہی) ہے۔ *(اَیضاً)* ہر دو رَکعت پر قعدہ کرنا فرض ہے ، ہر قعدے میں اَلتَّحِیَّاتُ کے بعد دُرُود شریف بھی پڑھے اور طاق رَکعت *(یعنی پہلی ، تیسری ، پانچویں وغیرہ)* میں ثَنا پڑھے اور امام تعوذ و تَسْمِیہ بھی پڑھے ۔

{۱۰} جب دو دو رَکعت کر کے پڑھ رہا ہے تو ہر دو رَکعت پر الگ الگ نیت کرے اور اگر بیس رَکْعَتوں کی ایک ساتھ نیت کر لی تب بھی جائز ہے۔
*(رَدُّ الْمُحتار ج۲ص۵۹۷)*

{۱۱} بلا عذر تراویح بیٹھ کر پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بعض فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک تو ہوتی ہی نہیں۔
*(دُرِّمُختار ج۲ص۶۰۳)*

{۱۲} تراویح مسجِد میں باجماعت ادا کرنا افضل ہے ، اگر گھر میں باجماعت ادا کی تو ترکِ جماعت کا گناہ نہ ہوا مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں پڑھنے کا تھا۔
*(عالمگیری ج۱ص۱۱۶)*

عشاء کے فرض مسجد میں باجماعت ادا کر کے پھر گھر یا ہال وغیرہ میں تراویح ادا کیجئے اگر بلا عذرِ شرعی مسجد کے بجائے گھر یا ہال وغیرہ میں عشاء کے فرض کی جماعت قائم کر لی تو ترک واجب کے گناہ گار ہوں گے ۔ اس کا تفصیلی مسئلہ فیضان سنت *(جلد اوّل)* کے باب *پیٹ کا قفل مدینہ* صفحہ 135 پر ملاحَظہ فرما لیجئے۔

{۱۳} نابالِغ امام کے پیچھے صرف نابالغان ہی تراویح پڑھ سکتے ہیں ۔

{۱۴} بالِغ کی تراویح *( بلکہ کوئی بھی نماز حتی کہ نفل بھی)* نابالغ کے پیچھے نہیں ہوتی۔


*پیش کش*

*دار المطالعہ مدنی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*رمضـــان کے احـــکام کورس*

*قسط نمبر 4️⃣*

*✍🏻غــــلام نبی انجـم رضـــا عطاری*
*_📲03461934584_*

*تراویح کے احکام* (حصہ2)

{۱۵} تراویح میں پورا کلامُ اللہ شریف پڑھنا اور سننا سنَّتِ مُؤَکَّدہ عَلَی الْکِفَایہ ہے لہٰذا اگر چند لوگوں نے مل کر تراویح میں ختم قراٰن کا اہتمام کر لیا تو بقیہ علاقے والوں کیلئے کفایت کرے گا۔ *فتاوٰی رضویہ* جلد 10 صفحہ 334 پر ہے : قرآن دَرْ تراویح خَتم کَرْدَنْ نَہ فَرْضَ سْت وَ نَہ سُنَّتِ عین۔ یعنی تراویح میں قراٰنِ کریم ختم کرنا نہ فرض نہ سنَّتِ عین ہے۔ اور صفحہ 335 پر ہے: خَتْمِ قُرآن دَرْ تراویح سنّتِ کِفایہ اَسْت۔ یعنی تراویح میں ختمِ قراٰن سنَّتِ کِفایہ ہے۔

{۱۶} اگر با شرائط حافِظ نہ مل سکے یا کسی وجہ سے ختم نہ ہو سکے تو تراویح میں کوئی سی بھی سورَتیں پڑھ لیجئے اگر چاہیں تو *اَلَمْ تَرَ سے وَالنَّاس* دو بار پڑھ لیجئے ، اِس طرح بیس رَکْعَتَیں یاد رکھنا آسان رہے گا۔
*(ماخوذ از عالمگیری ج۱ص۱۱۸)*

{۱۷} ایک بار *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ* جَہر کے ساتھ *( یعنی اُونچی آواز سے )* پڑھنا سنت ہے اور ہر سورت کی ابتدا میں آہستہ پڑھنا مُستَحَب ہے۔ مُتَأَخِّرین *(یعنی بعد میں آنے والے فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام )* نے ختم تراویح میں تین بار قُل ھُوَ اللہ شریف پڑھنا مُسْتَحَب کہا نیز بہتر یہ ہے کہ ختم کے دن پچھلی رَکعت میں *الٓمّٓۚ سے مُفْلِحُوْن* تک پڑھے ۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۶۹۴، ۶۹۵)*

{۱۸} اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ہو جائے تو جتنا قراٰنِ پاک اُن رَکعتوں میں پڑھا تھا اُن کا اِعادہ کریں تاکہ ختم میں نقصان نہ رہے۔
*(عالمگیری ج۱ص۱۱۸)*

{۱۹} امام غلطی سے کوئی آیت یا سورت چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو مُسْتَحَب یہ ہے کہ اُسے پڑھ کر پھر آگے بڑھے۔ *(اَیضاً)*

{۲۰} الگ الگ مسجِد میں تراویح پڑھ سکتا ہے جبکہ ختم قراٰن میں نقصان نہ ہو ، مَثَلاً تین مساجد ایسی ہیں کہ ان میں ہر روز سوا پارہ پڑھا جاتا ہے تو تینوں میں روزانہ باری باری جاسکتا ہے۔

{۲۱} دو رَکعت پر بیٹھنا بھول گیا تو جب تک تیسری کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے ، آخر میں سجدۂ سہو کر لے۔اور اگر تیسری کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کر لے مگر یہ دو شمار ہوں گی۔ ہاں دو پر قعدہ کیا تھا تو چار ہوئیں ۔ *(اَیضاً)*

{۲۲} تین رَکْعَتَیں پڑھ کر سلام پھیرا اگر دوسری پر بیٹھا نہیں تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رَکْعَتَیں دوبارہ پڑھے۔ *(اَیضاً)*

{۲۳} سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ہے دو ہوئیں کوئی کہتا ہے تین ، تو امام کو جو یاد ہو اُس کا اعتبار ہے ، اگر امام خود بھی تذبذب *(یعنی شک و شبہ)* کا شکار ہو تو جس پر اعتماد ہو اُس کی بات مان لے *(اَیضاًص۱۱۷)*

{۲۴} اگر لوگوں کو شک ہو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ؟ تو دو رَکْعَت تنہا تنہا پڑھیں ۔
*(اَیضاً)*
https://chat.whatsapp.com/JxFmswsNZHjKirx0ZDiP48
{۲۵} افضل یہ ہے کہ تمام شفعوں میں قراءت برابر ہو اگر ایسا نہ کیا جب بھی حرج نہیں ، اِسی طرح ہر شفع *( کہ دو رکعت پر مشتمل ہوتا ہے اس )* کی پہلی اور دوسری رَکعت کی قراءت مساوی *(یعنی یکساں)* ہو ، دوسری کی قراءت پہلی سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ *(اَیضاً)*

{۲۶} امام و مقتدی ہر دو رَکعت کی پہلی میں ثنا پڑھیں *(امام اَعُوْذ اور بِسْمِ اللّٰہ بھی پڑھے)* اور اَلتَّحِیَّاتُ کے بعد دُرُودِ ابراہیم اور دعا بھی۔
*(دُرِّمُختار و رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۰۲)*

{۲۷} اگر مقتدیوں پر گِرانی *(دشواری)* ہوتی ہو تو تشہد کے بعد اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ پر اکتفا کرے۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۶۹۰)*

{۲۸} اگر ستائیسویں کو یا اس سے قبل قراٰنِ پاک ختم ہوگیا تب بھی آخرِ رَمضان تک تراویح پڑھتے رہیں کہ سنّتِ مُؤَکَّدہ ہے۔ *(عالمگیری ج۱ص۱۱۸)*

{۲۹} ہر چار رَکْعَتَوں کے بعد اُتنی دیر بیٹھنا مُستَحَبْ ہے جتنی دیر میں چار رَکعات پڑھی ہیں ۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۶۹۰)*

{۳۰} اس بیٹھنے میں اسے اختیار ہے کہ چپ بیٹھا رہے یا ذِکر و دُرُود اور تلاوت کرے یا چار رَکعتیں تنہا نفل پڑھے *(دُرِمُخْتار ج۲ص۶۰۰)*

یہ تسبیح بھی پڑھ سکتے ہیں :

*سُبْحٰنَ ذِی الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوْتِ ، سُبْحٰنَ ذِی الْعِزَّۃِ وَالْعَظَمَۃِ وَالْہَيْبَۃِ وَالْقُدْرَۃِ وَالْكِبْرِيَآءِ وَالْجَبَرُوْتِ ، سُبْحٰنَ الْمَلِكِ الْحَیِّ الَّذِی لَا يَنَامُ وَلَا يَمُوْتُ ، سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلٰٓئِكَۃِ وَالرُّوْحِ اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْرُ ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ*

{۳۱} بیس رَکْعَتَیں ہو چکنے کے بعد پانچواں ترویحہ بھی مُسْتَحَب ہے ، اگر لوگوں پر گراں ہو تو پانچویں بار نہ بیٹھے۔
*(عالمگیری ج۱ص۱۱۵)*
👍1
{۳۲} مقتدی کو جائز نہیں کہ بیٹھا رہے ، جب امام رکوع کرنے والا ہو تو کھڑا ہو جائے ، یہ مُنافقین سے مشابہت ہے۔ سُوْرَۃُ النِّسَآء کی آیت نمبر 142 میں ہے: *وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ*

*(ترجَمۂ کنزالایمان : اور (منافِق) جب نَماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے)*
*(بہارِ شریعت ج۱ص۶۹۳، غُنیہ ص۴۱۰)*

فرض کی جماعت میں بھی اگر امام رُکوع سے اُٹھ گیا تو سجدوں وغیرہ میں فورًا شریک ہو جائیں نیز امام قعدۂ اُولیٰ میں ہو تب بھی اُس کے کھڑے ہونے کا انتظار نہ کریں بلکہ شامل ہو جائیں ۔ اگر قعدے میں شامل ہو گئے اور امام کھڑا ہو گیا تو اَلتَّحِیَّاتُُ پوری کئے بغیر نہ کھڑے ہوں ۔

{۳۳} رَمضان شریف میں وِتر جماعت سے پڑھنا افضل ہے ، مگر جس نے عشاء کے فرض بغیر جماعت کے پڑھے وہ وِتر بھی تنہا پڑھے۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۶۹۲، ۶۹۳ مُلَخَّصاً )*

{۳۴} یہ جائز ہے کہ ایک شخص عشاء و وِتر پڑھائے اور دوسرا تراویح ۔

{۳۵} حضرت سیّدُنا عمرِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرض و وِتر کی جماعت کرواتے تھے اور حضرتِ سیِّدُنا اُبَیِّ بِنْ کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تراویح پڑھاتے۔

*(عالمگیری ج۱ص۱۱۶)*

*پیش کش*

*دار المطالعہ مدنی*

https://chat.whatsapp.com/JxFmswsNZHjKirx0ZDiP48
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*رمضـــان کے احـــکام کورس*

*قسط نمبر 5️⃣*

*✍🏻غــــلام نبی انجـم رضـــا عطاری*
*_📲03461934584_*

*روزے کے ضروری احکام (3)*

*روزہ توڑنے والی 14 چیزیں*

{۱} کھانے ، پینے یا ہمبستری کرنے سے روزہ جا تا رہتا ہے جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔
*(بہارِ شریعت ج ۱ ص ۹۸۵)*

{۲} حقہ ، سگار ، سگریٹ ، چرٹ وغیرہ پینے سے بھی روزہ جاتا رہتا ہے ، اگرچہ اپنے خیال میں حلق تک دُھواں نہ پہنچتا ہو۔ *(ایضاً ص۹۸۶)*

{۳} پان یا صرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا اگرچِہ بار بار اس کی پیک تھوکتے رہیں ، کیوں کہ حلق میں اُس کے باریک اَجزا ضرور پہنچتے ہیں ۔ *(اَیضاً)*

{۴} شکر وغیرہ ایسی چیزیں جو منہ میں رکھنے سے گھل جاتی ہیں مُنہ میں رکھی اور تھوک نگل گئے ، روزہ جاتا رہا۔
*(اَیضاً)*

{۵} دانتوں کے دَرمیان کوئی چیز چنے کے برابر یا زیادہ تھی اُسے کھا گئے یا کم ہی تھی مگر منہ سے نکال کر پھر کھا لی تو روزہ ٹوٹ گیا۔
*(دُرِّ مُخْتَار ج۳ص۴۵۲)*

{۶} دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اُترا اور خون تھوک سے زیادہ یا برابر یا کم تھا مگر اُس کا مزا حلق میں محسوس ہوا تو روزہ جاتا رہا اور اگر کم تھا اور مزا بھی حلق میں محسوس نہ ہوا تو روزہ نہ گیا۔
*(ایضاًص۴۲۲)*

{۷} روزہ یاد رہنے کے باوجود حُقنَہ لیا۔ یا ناک کے نتھنوں سے دوا چڑھائی روزہ جاتا رہا ۔
*(عالمگیری ج۱ ص۲۰۴)*

{۸} کلی کر رہے تھے بلا قصد *(یعنی بغیر ارادے کے)* پانی حلق سے اُتر گیا یا ناک میں پانی چڑھایا اور دِماغ کو چڑھ گیا روزہ جاتا رہا مگر جبکہ روزہ دار ہونا بھول گیا ہو تو نہ ٹوٹے گا اگرچہ قصداً *(یعنی جان بوجھ کر)* ہو۔ یوں ہی روزے دار کی طرف کسی نے کوئی چیز پھینکی وہ اُس کے حلق میں چلی گئی تو روزہ جاتا رہا۔
*(عالمگیری ج۱ص۲۰۲)*

{۹} سوتے میں *(یعنی نیند کی حالت میں)* پانی پی لیا یا کچھ کھا لیا ، یا مُنہ کھلا تھا ، پانی کا قطرہ یا بارِش کا اوْلا حلق میں چلا گیا تو روزہ جاتا رہا۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۹۸۶)*


{۱۰} دُوسرے کا تھوک نگل لیا یا اپنا ہی تھوک ہاتھ میں لے کر نگل لیا تو روزہ جاتا رہا۔
*(عالمگیری ج۱ص ۲۰۳)*

{۱۱} جب تک تھوک یا بلغم منہ کے اندر موجود ہو اُسے نگل جانے سے روزہ نہیں جاتا ، بار بار تھوکتے رہنا ضروری نہیں۔

{۱۲} منہ میں رنگین ڈَورا وغیرہ رکھا جس سے تھوک رنگین ہو گیا پھر تھوک نگل لیا روزہ جاتا رہا۔ *(اَیضاً)*

{۱۳} آنسو منہ میں چلا گیا اور نگل لیا ، اگر قَطْرہ دو قَطْرہ ہے تو روزہ نہ گیا اور زیادہ تھا کہ اُس کی نمکینی پورے مُنہ میں محسوس ہوئی تو جاتا رہا ۔پسینے کا بھی یہی حُکم ہے۔
*(اَیضاً)*

{۱۴} پاخانے کا مَقام باہَر نکل پڑا تَو حکم ہے کہ کپڑے سے خوب پونچھ کر اُٹھے کہ تری بالکل باقی نہ رہے۔ اور اگر کچھ پانی اُس پر باقی تھا اور کھڑا ہوگیا کہ پانی اندر کو چلا گیا تَو روزہ فاسد ہو *(یعنی ٹوٹ)* گیا۔ اِسی وجہ سے فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ روزہ دار اِستنجاء *(یعنی پانی سے پاکی حاصل)* کرنے میں سانس نہ لے۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۹۸۸)*

*پیش کش*

*دار المطالعہ مدنی*

https://t.me/DarulmutaleaMadni