🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹سجدہ سہو ساقط ہونے کے لیے کتنی بھیڑ ہونی چاہیے 🌹واجب چھوٹنے کے کے باوجود جان بوجھ کر سجدہ سہو چھوڑ دینے کا حکم
💥💥💥💥💥💥💥
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
نماز تراویح میں حافظ سےکوئ ایسی غلطی ہوگئ جس کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگیا. لیکن حافظ صاحب نے اس پر سجدہ سہو نہیں کیا.جب ان سے کہا گیا کہ آپ کو سجدہ سہو کرنا چاہئے تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح بھیڑ کی وجہ سے عیدین و جمعہ میں سجدہ سہو ساقط ہوجاتا ہے اسی طرح سے یہاں سے سجدہ سہو ساقط ہوگیا.
اب دریافت طلب یہ ہے کہ
1. جس بھیڑ سے سجدہ سہو ساقط ہوتا ہے وہ کتنی بھیڑہونا چاہئے.؟؟؟
2.عموما تراویح میں سات سے 12 صفیں بھرا کرتی ہیں تو کیا اتنی بھیڑ سے بھی سجدہ سہو ساقط ہوجائے گا.؟؟؟
بینوا الجواب توجروا یوم الحساب
السائل. محمد عالم رضوی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب:کثرت جماعت کی وجہ سے سجدۂ سہو کا ساقط ہونا صرف جمعہ و عیدین کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جہاں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں ترک کی اجازت ہے
لہذا نماز تراویح میں بھی اگر کثرتِ جماعت کی وجہ سے امام نے سجدۂ سہو ترک کر دیا تو بھی نماز بلا کراہت ہو گئی۔
جیسا کہ رد المحتار میں ہے:
"قوله عدمه في الأوليين) الظاهر أن الجمع الكثير فيما سواهما كذلك كما بحثه بعضهم ط وكذا بحثه الرحمتي، وقال خصوصا في زماننا. وفي جمعة حاشية أبي السعود عن العزمية أنه ليس المراد عدم جوازه، بل الأولى تركه لئلا يقع الناس في فتنة. اهـ.
(قوله وبه جزم في الدرر) لكنه قيده محشيها الواني بما إذا حضر جمع كثير، وإلا فلا داعي إلى الترك ط"
(رد المحتار ج:٢،ص:٩٢)

اس کے تحت جد الممتار میں ہے:
"قوله :خصوصاً في زماننا: الكثير جهله و القليل عقله.١٢
قوله:فلا داعي الي الترك:
قلت:وهو حسن جداً كما لا يخفي ١٢ "
(جد الممتار ج:٣،ص:٥٤٠)

رہی بات کتنی بھیڑ پر جمع کثیر کا اطلاق ہوگا ؟
تو اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ اس مسئلے کو امام کے صواب دید پر چھوڑا جائے گا
اگر امام کے سمجھ کے مطابق جمع کثیر ہے تو ہے ورنہ نہیں
اس مسئلے کی تائید رؤیت ہلال کے مسئلے سے ہوتی ہے جہاں حکم قاضی کے ثواب دید پر چھوڑا گیا ہے
مجمع الانھر میں ہے:
"ثم قيل في حد الكثير أهل المحلة وعن أبي يوسف خمسون رجلا كما في القسامة وعن خلف بن أيوب أنه قال خمسمائة ببلخ قليل فبخارى لا تكون أدنى من بلخي فلذا قال البقالي الألف ببخارى قليل وعن أبي حفص الكبير أنه يعتبر الوفاء وقيل ينبغي أن يكون من كل مسجد جماعة واحد أو اثنان وعن محمد أنه قال يفوض مقدار القلة والكثرة إلى رأي الإمام وهو الصحيح كما في التجنيس؛ لأن ذلك يختلف باختلاف الأوقات والأماكن وكان الحكم فيه رأي الإمام."
(مجمع الأنهر ج:١،ص:٢٣٦،٢٣٧)

واللہ تعالیٰ اعلم
كتبه: محمد وسيم اكرم الرضوي
مدرس جامعة المدية
فيضان عطار، نیپالگنج،نیپال
٤/جون/٢٠١٨
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
ایک سوال ۔۔نماز تراویح میں اگر امام صاحب کوٸی آیت بھول گیے اور پیچھے سے لقمہ دیا اور امام نے لقمہ لیا تو کیا سجدہ سہو واجب ھوگا یا نھی ؟
المستفتی : محمد قاسم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* صورت مسئولہ میں اگر امام نماز تراویح میں کوئی آیت بھول گیا اور مقتدی نے لقمہ دیا اور امام نے لقمہ قبول کرلیا تو سجدہ سہو کی ضرورت نہیں جیسا کہ مفتی اعظم مہاراشٹرا مفتی محمد مجیب اشرف ناگپوری اپنی کتاب مسائل سجدہ سہو میں طحطاوی علی المراقی کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ " امام نے قرات کی مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لقمہ قبول کرکے اس کو صحیح کر لیا پھر آخر میں اسی غلطی پر سجدہ سہو کیا جس کی ضرورت نہیں تھی تو اس صورت میں امام اور ان مقتدیوں کی نماز ہوگئی جو پہلی رکعت سے ہی امام کے ساتھ شریک تھے مگر وہ لوگ جو ایک رکعت کے بعد یا سجدہ سہو کا سلام پھیرنے کے بعد اس نماز میں شامل ہوئے ان کی نماز فاسد ہوگئی دوبارہ پڑھیں جبکہ ان کو معلوم ہو کہ امام پر سجدہ سہو نہیں تھا اور کرلیا " ( مسائل سجدہ سہو ص 68 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا فرماتے علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ امام تراویح میں سجدہ تلاوت کرنا بھول گیا ? اب کیا کرے گا
المستفتی : محمد قاسم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* صورت مسئولہ میں اگر امام تراویح میں سجدہ تلاوت بھول جائے تو جب تک حرمت نماز میں ہے سجدہ کر لے جیسا کہ بہار شریعت میں ہے کہ " سجدہ تلاوت نماز میں فورا کرنا واجب ہے تاخیر کرے گا تو گنہ گار ہوگا اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک حرمت نماز میں ہے کر لے اگر چہ سلام پھیر چکا ہو اور سجدہ سہو کرے ۔ اور نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو اس کا سجدہ نماز ہی میں واجب ہے بیرون نماز نہیں ہوسکتا اور قصدا نہ کیا تو گنہ گار ہوا توبہ لازم ہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 733 ) اور اسی طرح مفتی اعظم مہاراشٹر حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف اپنی کتاب مسائل سجدہ سہو میں تحریر فرماتے ہیں کہ " اگر کسی نے نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک نماز یا حرمت نماز میں ہے تو یاد آتے ہی سجدہ تلاوت ادا کرے اور بعد میں سجدہ سہو کرے ۔ خیال رہے کہ حرمت نماز ہونے کا مطلب فقہا کے نزدیک یہ ہے کہ نماز کا سلام پھیر چکا ہو مگر سلام کے بعد ابھی تک کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو نماز کے منافی ہے مثلا بات چیت کرنا ، کھانا پینا وغیرہ " اھ ( مسائل سجدہ سہو ص 73 بحوالہ درمختار ج 1 ص 721 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 احکامِ تراویح 🌹
🌹 تروایح ھر عاقل و بالغ مرد اور عورت کیلئے سنتِ مؤکدہ ھے ۔اسکا ترک جائز نہیں ،
۔ درمختار ج 2 ص 493 ۔
🌹 تراویح کی بیس رکعت ہیں سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعتیں ہی پڑھی جاتی تھیں ،
۔السنن الکبرٰی للبیہقی ج2ص 299 رقم 4617 ۔
🌹 تراویح کی جماعت سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ھے ،
۔ ھدایہ ج 1 ص70۔
🌹 تراویح کا وقت عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد سے صبحِ صادق تک ھے ، عشاء کے فرض ادا کرنے سے پہلے ادا کر لی تو نہ ھوگی ،
۔عالمگیری ج 1 ص 115۔
🌹 عشاء کے فرض و وتر کے بعد بھی تراویح ادا کی جا سکتی ھے ، در مختار ج2ص 494۔
🌻 جیسا کہ بعض اوقات 29 کو رویتِ ھلال کی شہادت ملنے میں تاخیر کے سبب ایسا ہو جاتا ھے ،
🌹 مُستحبّ یہ ہے کہ تراویح میں تہائی رات تک تاخیر کی جائے اگر آدھی رات کے بعد بھی پڑھیں تب بھی کراہت نہیں ،
درمختار ،ج 2 ص 495
🌹 تراویح اگر فوت ہوئی تو اسکی قضا نہیں ،
درمختار ،ج2 ص 494
🌹 بہتر یہ ہے کی تراویح کی بیس رکعتیں دو دو کرکے دس سلام کے ساتھ ادا کرے ،
درمختار،ج2 ص 495
🌹 تراویح کی ہر دو رکعت پر الگ الگ نیت کرے ، درمختار ج 2 ص 494 ،
🌹 بِلاعذر بیٹھ کر تراویح ادا کرنا مکروہ ھے،بلکہ بعض فقہاء کرام کے نزدیک ہوتی ہی نہیں، درمختارج2ص499
🌹 تراویح مسجد میں باجماعت ادا کرنا افضل ھے ،اگر گھر میں باجماعت ادا کی تو ہو جائیگی ،مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں ادا کرنے کا تھا،
عالمگیری ج1ص 116
🌹 تراویح میں پورا کلام اللہ پڑھنا اور سننا سنتِ مؤکدہ ھے،
فتاوی رضویہ ج7ص458،
🌹 اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ھو جائے تو جتنا قرآن پاک اُن رکعتوں میں پڑھا تھا اُن کا اعادہ کیا جائے ،تاکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ رھے ،
عالمگیری ج1 ص 118
🌹 امام غلطی سے کوئی آیت یا سورت چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو مُستحب یہ ھے کہ اُسے پڑھ کر آگے بڑھے ، عالمگیری ج 1 ص 118
🌹 الگ الگ مسجد میں تراویح ادا کر سکتا ھے جبکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ ہو،
🌹 تراویح کی دو رکعت پر بیٹھنا بھول گیا تو جب تک تیسر ی کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے آخر میں سجدۂ سہو کرلے اور اگر تیسری کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کرلےمگر یہ دو شمار ہونگی،ہاں اگر دو پر قعدہ کیا تھا تو چار ھوئیں ، عالمگیری،ج۔1 ص 118
🌹 تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا اگر دوسری پر بیٹھا نہیں تھا تو نہ ہوئیں ، ان کے بدلے کی دو رکعتیں دوبارہ ادا کرے،عالمگیری،ج۔1 ص118

🌹سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ھے دو ھوئیں کوئی کہتا ھے تین ، تو امام کو جو یاد ہے اسکا اعتبار ھے،اگر امام خود بھی تذبذب کا شکار ہے تو جس پر اعتماد ہو اسکی بات مان لے، عالمگیری ج1 ص 117
🌹 اگر لوگوں کو شک ھو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ ؟ تو دو رکعت ہر بندہ تنہا تنہا ادا کرے ، عالمگیری ج2 ص 117
🌹 افضل یہ ھے کہ ہر دو رکعت میں قِراءت برابر ہو ،اگر ایسا نہ کیا جب بھی حرج نہیں، ج 1 ص 117
🌹 امام و مقتدی ہر دو رکعت کی ابتداء میں ثناء پڑھیں امام تعوذ و تسمیہ بھی پڑھے،اور التحیات کے بعد درودِ ابراھیم اور دعا بھی،
در مختار ج2 ص 498
🌹 اگر 27 ویں کو یا اس سے قبل قرآن پاک ختم ھو گیا تب بھی آخر رمضان تک تراویح پڑھتے رہیں کہ سنت مؤکدہ ھے ، عالمگیری ج 1 ص 118
🌹 بعض مقتدی بیٹھے رہتے ہیں جب امام رکوع کرنے والا ہوتا ھے تب کھڑے ہوتے ہیں یہ مُنافقین کی علامت ھے ،
بہارِ شریعت ،حصہ 4 ص 36
🌹 رمضان المبارک میں وتر جماعت سے ادا کرنا افضل ہے،مگر جس نے عشاء کے فرض بغیر جماعت کے ادا کیےوہ وتر بھی تنہا ادا کرے، بہارِشریعت ،حصہ 4 ص36
🌹 ایک امام کے پیچھے عشاء کے فرض دوسرے کے پیچھے تراویح اور تیسرے کے پیچھے وتر پڑھے اِس میں حرج نہیں ،
🌹 حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرض و وتر کی جماعت خود کرواتے اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تراویح پڑھاتے ،
عالمگیری ج1 ص 116

🕋 یا اللہ کریم ،،، !!!
ہمیں نیک مُخلص اور درست پڑھنے والے حافظ صاحب کے پیچھے اخلاص و دل جمعی کے ساتھ ہر سال تراویح ادا کرنے کی سعادت نصیب کر اور قبول بھی فرما،
آمین آمین ۔

♻️فیضان غوثُ الاعظم سروس ٹیم♻️
.
Join & Share👇
http://T.me/DaruliftaAhleSunat
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM