Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
🕋 کیا نماز تراویح قرآن شریف دیکھ کر پڑھائی جا سکتی ہے ؟
ا====================
ٹیلیگرام لنک : t.me/fikrerazadarulifta
ا====================
🚫 سوال:
کیا نماز تراویح قرآن شریف دیکھ کر پڑھائی جا سکتی ہے ؟
اور مقتدی دوران تراویح قرآن شریف دیکھ سکتا ہے ، امام صاحب کی اقتداء کرتے ہوئے ؟
🔮 سائل:
ڈاکٹر مرزا وقار رضوی
حیدرآباد دکن
مورخہ : 9 مئ 2019
ا=====================
📱 موبائل : +971-559060076
ا=====================
✍🏼 الجواب :
📝 نماز تراویح ہو یا پھر اور کوئی نماز، قرآن کریم دیکھ کر قرأت کرنا درست نہیں. اس طرح پڑھنے سے احناف کے نزدیک نماز فاسد ہوجاتی ہے.
💠 جیسا کہ امام برہان الدین مرغینانی عليه رحمة الرضوان الهداية شرح البداية میں تحریر فرماتے ہیں:
إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ مِنْ الْمُصْحَفِ فَسَدَتْ صَلَاتُه، عِنْدَ أَبِي حَنِیفَةَ رَحِمَهُ اﷲُ وَقَالَا هِیَ تَامَّةٌ، لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ انْضَافَتْ إلَی عِبَادَةٍ أُخْرَی، إلَّا أَنَّهُ یُکْرَهُ لِأَنَّهُ تَشَبُّہٌ بِصَنِیعِ أَهْلِ الْکِتَابِ، وَلِأَبِي حَنِیفَةَ رَحِمَهُ ﷲُ أَنَّ حَمْلَ الْمُصْحَفِ وَالنَّظَرَ فِیهِ وَتَقْلِیبَ الْأَوْرَاقِ عَمَلٌ کَثِیرٌ، وَلِأَنَّهُ تَلَقُّنٌ مِنْ الْمُصْحَفِ فَصَارَ کَمَا إذَا تَلَقَّنَ مِنْ غَیْرِهِ، وَعَلَی هَذَا لَا فَرْقَ بَیْنَ الْمَوْضُوعِ وَالْمَحْمُولِ، وَعَلَی الْأَوَّلِ یَفْتَرِقَانؤِ.
📖 جب امام (یا عام نمازی) نے قرآن سے دیکھ کر قراء ت کی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے گی اور امام ابویوسف اور امام محمد نے کہا: یہ نماز مکمل ہے کیونکہ اس نماز کے ساتھ ایک اور عبادت مل گئی ہے، البتہ یہ نماز مکروہ ہے کیونکہ یہ اہل کتاب کے عمل کے مشابہ ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ مصحف کو اٹھانا اسکو پڑھنا اور اس کے اوراق پلٹنا عمل کثیر ہے اور اس لئے کہ اس میں قرآن سے لقمہ لینا ہے۔ لہٰذا یہ اُسی طرح ہوگیا جس طرح خارج از نماز شخص سے نماز میں لقمہ لیا جائے۔ اس اعتبار سے اس میں کوئی فرق نہیں ہے، خواہ مصحف کو اٹھایا ہو یا رکھا ہوا ہو، اور پہلے قول یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کے قول کے مطابق دونوں میں فرق ہے.
یہاں دو باتیں قابل غور ہیں.
1⃣ اول: یہ کہ اگر مصحفِ قرآن کو دائیں یا بائیں طرف رکھ کر اسے دیکھا جائے تو استقبالِ قبلہ نہیں رہتا‘ جبکہ قرآنِ مجید نے نماز کی بنیادی شرط یہ بیان کی ہے. فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ.(البقرة)
آپ اپنا رخ مسجدِ حرام کی سمت کرلیں.
2⃣ دوم : یہ کہ قیام کی حالت میں نمازی کے لیے مستحب ہے کہ نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہو کیونکہ اس سے دلجمعی پیدا ہوتی ہے اور خشوع و خضوع کے آثار نمایاں ہوتے ہیں. مصحف سے دیکھ کر تلاوت کرنے کی صورت میں نگاہ یقیناً قرآن مجید کے صفحات و حروف پر ہوگی، جس سے نماز کا یہ اہم ادب فوت ہوجائے گا.
💠 اور اسی طرح صاحب بہار شریعت صدر الشریعه عليه رحمة الله التقوى ''درمختار، ردالمحتار'' کہ حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ
''نماز میں مصحف شریف سے دیکھ کر پڑھنا مطلقاً مفسد نماز ہے، یو ہیں اگر محراب وغیرہ میں لکھا ہو اسے دیکھ کر پڑھنا بھی مفسد ہے''
📗 بہار شریعت جلد 1 حصہ 3 س 609 مفسدات نماز کا بیان
💠 آخر میں فقه حنبلی کی مشہور کتاب ”شرح منتهي الإرادات“ کی یہ عبارت ذکر کرنا مناسب معلومہ ہوتا ہے.
وَیکرہ لِلحافظ حتی في قیامِ رمضان، لأنه یشغل عن الخشوعِ وعن النظرِ إلی موضع السجود․
”حافظِ قرآن کے لیے نمازِ تراویح میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مکروہ ہے. اس لیے کہ یہ خشوع پیدا کرنے میں مخل ہے اور قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ نگاہ رکھنے سے مانع ہے.
وﷲ تعالیٰ أعلم وعلمه أتم واحکم.
ا=====================
✒ مفتی محمد گلفام رضا برکاتی سعدی نعیمی
📜 : قادری دارالافتاء، سنبھل، یوپی. الهند.
🏢 مقیم حال
جامعة الإسلامية ،كييف، یوکرین، یورب
ا====================
ا====================
ٹیلیگرام لنک : t.me/fikrerazadarulifta
ا====================
🚫 سوال:
کیا نماز تراویح قرآن شریف دیکھ کر پڑھائی جا سکتی ہے ؟
اور مقتدی دوران تراویح قرآن شریف دیکھ سکتا ہے ، امام صاحب کی اقتداء کرتے ہوئے ؟
🔮 سائل:
ڈاکٹر مرزا وقار رضوی
حیدرآباد دکن
مورخہ : 9 مئ 2019
ا=====================
📱 موبائل : +971-559060076
ا=====================
✍🏼 الجواب :
📝 نماز تراویح ہو یا پھر اور کوئی نماز، قرآن کریم دیکھ کر قرأت کرنا درست نہیں. اس طرح پڑھنے سے احناف کے نزدیک نماز فاسد ہوجاتی ہے.
💠 جیسا کہ امام برہان الدین مرغینانی عليه رحمة الرضوان الهداية شرح البداية میں تحریر فرماتے ہیں:
إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ مِنْ الْمُصْحَفِ فَسَدَتْ صَلَاتُه، عِنْدَ أَبِي حَنِیفَةَ رَحِمَهُ اﷲُ وَقَالَا هِیَ تَامَّةٌ، لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ انْضَافَتْ إلَی عِبَادَةٍ أُخْرَی، إلَّا أَنَّهُ یُکْرَهُ لِأَنَّهُ تَشَبُّہٌ بِصَنِیعِ أَهْلِ الْکِتَابِ، وَلِأَبِي حَنِیفَةَ رَحِمَهُ ﷲُ أَنَّ حَمْلَ الْمُصْحَفِ وَالنَّظَرَ فِیهِ وَتَقْلِیبَ الْأَوْرَاقِ عَمَلٌ کَثِیرٌ، وَلِأَنَّهُ تَلَقُّنٌ مِنْ الْمُصْحَفِ فَصَارَ کَمَا إذَا تَلَقَّنَ مِنْ غَیْرِهِ، وَعَلَی هَذَا لَا فَرْقَ بَیْنَ الْمَوْضُوعِ وَالْمَحْمُولِ، وَعَلَی الْأَوَّلِ یَفْتَرِقَانؤِ.
📖 جب امام (یا عام نمازی) نے قرآن سے دیکھ کر قراء ت کی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے گی اور امام ابویوسف اور امام محمد نے کہا: یہ نماز مکمل ہے کیونکہ اس نماز کے ساتھ ایک اور عبادت مل گئی ہے، البتہ یہ نماز مکروہ ہے کیونکہ یہ اہل کتاب کے عمل کے مشابہ ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ مصحف کو اٹھانا اسکو پڑھنا اور اس کے اوراق پلٹنا عمل کثیر ہے اور اس لئے کہ اس میں قرآن سے لقمہ لینا ہے۔ لہٰذا یہ اُسی طرح ہوگیا جس طرح خارج از نماز شخص سے نماز میں لقمہ لیا جائے۔ اس اعتبار سے اس میں کوئی فرق نہیں ہے، خواہ مصحف کو اٹھایا ہو یا رکھا ہوا ہو، اور پہلے قول یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کے قول کے مطابق دونوں میں فرق ہے.
یہاں دو باتیں قابل غور ہیں.
1⃣ اول: یہ کہ اگر مصحفِ قرآن کو دائیں یا بائیں طرف رکھ کر اسے دیکھا جائے تو استقبالِ قبلہ نہیں رہتا‘ جبکہ قرآنِ مجید نے نماز کی بنیادی شرط یہ بیان کی ہے. فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ.(البقرة)
آپ اپنا رخ مسجدِ حرام کی سمت کرلیں.
2⃣ دوم : یہ کہ قیام کی حالت میں نمازی کے لیے مستحب ہے کہ نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہو کیونکہ اس سے دلجمعی پیدا ہوتی ہے اور خشوع و خضوع کے آثار نمایاں ہوتے ہیں. مصحف سے دیکھ کر تلاوت کرنے کی صورت میں نگاہ یقیناً قرآن مجید کے صفحات و حروف پر ہوگی، جس سے نماز کا یہ اہم ادب فوت ہوجائے گا.
💠 اور اسی طرح صاحب بہار شریعت صدر الشریعه عليه رحمة الله التقوى ''درمختار، ردالمحتار'' کہ حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ
''نماز میں مصحف شریف سے دیکھ کر پڑھنا مطلقاً مفسد نماز ہے، یو ہیں اگر محراب وغیرہ میں لکھا ہو اسے دیکھ کر پڑھنا بھی مفسد ہے''
📗 بہار شریعت جلد 1 حصہ 3 س 609 مفسدات نماز کا بیان
💠 آخر میں فقه حنبلی کی مشہور کتاب ”شرح منتهي الإرادات“ کی یہ عبارت ذکر کرنا مناسب معلومہ ہوتا ہے.
وَیکرہ لِلحافظ حتی في قیامِ رمضان، لأنه یشغل عن الخشوعِ وعن النظرِ إلی موضع السجود․
”حافظِ قرآن کے لیے نمازِ تراویح میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مکروہ ہے. اس لیے کہ یہ خشوع پیدا کرنے میں مخل ہے اور قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ نگاہ رکھنے سے مانع ہے.
وﷲ تعالیٰ أعلم وعلمه أتم واحکم.
ا=====================
✒ مفتی محمد گلفام رضا برکاتی سعدی نعیمی
📜 : قادری دارالافتاء، سنبھل، یوپی. الهند.
🏢 مقیم حال
جامعة الإسلامية ،كييف، یوکرین، یورب
ا====================
Telegram
فکرِ رضا دارالافتاء
اہل سنت کے مسائل کے حل کے لئے رابطہ رکھیں!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلہ کے بارے میں كہ تراویح کی نماز چار چار رکعات کی نیت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب عنایت فرمائں،
المستفتی : شاھد خان، حسن پور.
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته.
الجواب : نمازِ تراویح بیس رکعات ہے دس سلام سے، یعنی ہر دو رکعات پر سلام پھیرے، اگر کسی نے دو دو رکعات کے بجائے چار چار رکعات سے تراویح ادا کی تو اگر اس نے ہر دو رکعات پر قاعدہ کیا تو اگرچہ قصداً ایسا کرنا مکروہ ہے تاہم اس کی نماز درست وصحیح ہوگی اور پوری چار رکعات ہوگی، اگر دو رکعات پر قاعدہ نہیں کیا بلکہ چار رکعات پر بیٹھا تو مذھب مختار کے مطابق دو رکعات نماز ہوگی،
"نورالایضاح مع مراقی الفلاح " میں ہے :
(وهى عشرون ركعةً) بإجماع الصحابة رضي الله عنهم (بعشر تسليمات) كما هو المتوارث، يسلم على رأس كل ركعتين، فإذا وصلها وجلس على كل شفع، فالأصح أنه إن تعمد ذلك كره، وصحت وأجزأته عن كلها، وإذا لم يجلس إلا في آخر أربع نابت عن تسليمةٍ، فتكون بمنزلة ركعتين في الصحيح "
اس کے تحت" جد الممتاز "میں ہے :
هذا إذا كان يقعد عند رأس كل ركعتين"
(نور الإيضاح مع مراقى الفلاح، فصل في صلوة التراويح، ص : 216 ، مطبع، مكتبة المدينة) لہٰذا صورت مستفسرہ میں چار چار رکعات کے ذریعے نماز تراویح ادا تو ہو جائے گی (جبکہ ہر دو رکعات پر قاعدہ کیا ہو) مگر بلا ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے. والله أعلم بالصواب.
كتبه : عبد السبحان مصباحی ،
22/رمضان المبارک ،1439ھ،
8/جون 2018ء
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلہ کے بارے میں كہ تراویح کی نماز چار چار رکعات کی نیت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب عنایت فرمائں،
المستفتی : شاھد خان، حسن پور.
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته.
الجواب : نمازِ تراویح بیس رکعات ہے دس سلام سے، یعنی ہر دو رکعات پر سلام پھیرے، اگر کسی نے دو دو رکعات کے بجائے چار چار رکعات سے تراویح ادا کی تو اگر اس نے ہر دو رکعات پر قاعدہ کیا تو اگرچہ قصداً ایسا کرنا مکروہ ہے تاہم اس کی نماز درست وصحیح ہوگی اور پوری چار رکعات ہوگی، اگر دو رکعات پر قاعدہ نہیں کیا بلکہ چار رکعات پر بیٹھا تو مذھب مختار کے مطابق دو رکعات نماز ہوگی،
"نورالایضاح مع مراقی الفلاح " میں ہے :
(وهى عشرون ركعةً) بإجماع الصحابة رضي الله عنهم (بعشر تسليمات) كما هو المتوارث، يسلم على رأس كل ركعتين، فإذا وصلها وجلس على كل شفع، فالأصح أنه إن تعمد ذلك كره، وصحت وأجزأته عن كلها، وإذا لم يجلس إلا في آخر أربع نابت عن تسليمةٍ، فتكون بمنزلة ركعتين في الصحيح "
اس کے تحت" جد الممتاز "میں ہے :
هذا إذا كان يقعد عند رأس كل ركعتين"
(نور الإيضاح مع مراقى الفلاح، فصل في صلوة التراويح، ص : 216 ، مطبع، مكتبة المدينة) لہٰذا صورت مستفسرہ میں چار چار رکعات کے ذریعے نماز تراویح ادا تو ہو جائے گی (جبکہ ہر دو رکعات پر قاعدہ کیا ہو) مگر بلا ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے. والله أعلم بالصواب.
كتبه : عبد السبحان مصباحی ،
22/رمضان المبارک ،1439ھ،
8/جون 2018ء
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
کیا فرماتے ہیں علماءکرام ذیل کے مسئلہ میں ہمارے یںہاں ایک مدرسہ ہے جس میں پنج وقتہ نماز با جماعت ہوتی ہے اور رمضان المبارک میں تراویح بھی ہوتی ہے اب اس میں اعتکاف کا کیا حکم ہے قرآن حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمایں عین و نوازش ہوگی
سائل : محمد عمران رضا یارعلوی شہبازپور الہ آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* ایسی جگہ پر اعتکاف میں بیٹھنا ضروری نہیں کیونکہ مردوں اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے اور وہ جگہ مسجد نہیں ہے جیسا کہ ماہنامہ فیضان مدینہ میں ہے کہ " مَردوں کے اعتکاف کے لئے وقف مسجد کا ہونا شرط ہے جائے نماز چونکہ مسجد نہیں ہوتی اس لئے اس میں مَردوں کا اعتکاف بھی نہیں ہوسکتا۔ احناف کے نزدیک وقف مسجد کے علاوہ صرف عورتوں کا اعتکاف نماز کے لئے گھر میں مخصوص کی گئی جگہ جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں اس میں ہوسکتا ہے۔ مَردوں کے اعتکاف کے لئے بہر صورت مسجد ضروری ہے جائے نماز میں اعتکاف ہرگز درست نہ ہوگا " اھ ( ماہنامہ فیضان مدینہ ، جون 2018 )
علامہ ابن نجیم مصری حنفی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ " فالركن هو اللبث و الكون فى المسجد و النية شرطان للصحة " اھ یعنی اعتکاف کا رکن ٹھہرنا ہے اور صحت اعتکاف کے لئے اعتکاف کا مسجد میں ہونا اور نیت کرنا شرط ہے ۔ ( بحر الرائق ، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف ، ج 2 ص 522 ) اور اعتکاف صرف مسجد میں مشروع ہے جیسا کہ اللہ تعالى کا ارشاد ہے " ولاتباشروھن وأنتم عاکفون فی الساجد " ( سورہ البقرۃ آیت 187) یعنی عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب کہ تم اس وقت مسجدوں میں اعتکاف میں ہو ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں " کہ اگرمسجد کے علاوہ جگہ میں اعتکاف درست ہوتا تو مباشرت کی تخصیص آیت کریمہ میں مسجد کے ساتھ نہ ہوتی کیونکہ بیوی سے صحبت بالکل اعتکاف کے منافی عمل ہے -
نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے معمول سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ اعتکاف مسجد میں کیا کرتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالى عنہا بیان کرتی ہیں " أنھا کانت ترجل النبی صلى اللہ علیہ وسلم وھی حائض وھومعتکف فی المسجد " ( صحیح بخاری الاعتکاف : 2 حدیث 2028 , صحیح ابوداؤد 2467 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
سائل : محمد عمران رضا یارعلوی شہبازپور الہ آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* ایسی جگہ پر اعتکاف میں بیٹھنا ضروری نہیں کیونکہ مردوں اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے اور وہ جگہ مسجد نہیں ہے جیسا کہ ماہنامہ فیضان مدینہ میں ہے کہ " مَردوں کے اعتکاف کے لئے وقف مسجد کا ہونا شرط ہے جائے نماز چونکہ مسجد نہیں ہوتی اس لئے اس میں مَردوں کا اعتکاف بھی نہیں ہوسکتا۔ احناف کے نزدیک وقف مسجد کے علاوہ صرف عورتوں کا اعتکاف نماز کے لئے گھر میں مخصوص کی گئی جگہ جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں اس میں ہوسکتا ہے۔ مَردوں کے اعتکاف کے لئے بہر صورت مسجد ضروری ہے جائے نماز میں اعتکاف ہرگز درست نہ ہوگا " اھ ( ماہنامہ فیضان مدینہ ، جون 2018 )
علامہ ابن نجیم مصری حنفی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ " فالركن هو اللبث و الكون فى المسجد و النية شرطان للصحة " اھ یعنی اعتکاف کا رکن ٹھہرنا ہے اور صحت اعتکاف کے لئے اعتکاف کا مسجد میں ہونا اور نیت کرنا شرط ہے ۔ ( بحر الرائق ، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف ، ج 2 ص 522 ) اور اعتکاف صرف مسجد میں مشروع ہے جیسا کہ اللہ تعالى کا ارشاد ہے " ولاتباشروھن وأنتم عاکفون فی الساجد " ( سورہ البقرۃ آیت 187) یعنی عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب کہ تم اس وقت مسجدوں میں اعتکاف میں ہو ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں " کہ اگرمسجد کے علاوہ جگہ میں اعتکاف درست ہوتا تو مباشرت کی تخصیص آیت کریمہ میں مسجد کے ساتھ نہ ہوتی کیونکہ بیوی سے صحبت بالکل اعتکاف کے منافی عمل ہے -
نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے معمول سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ اعتکاف مسجد میں کیا کرتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالى عنہا بیان کرتی ہیں " أنھا کانت ترجل النبی صلى اللہ علیہ وسلم وھی حائض وھومعتکف فی المسجد " ( صحیح بخاری الاعتکاف : 2 حدیث 2028 , صحیح ابوداؤد 2467 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
🌹سجدہ سہو ساقط ہونے کے لیے کتنی بھیڑ ہونی چاہیے 🌹واجب چھوٹنے کے کے باوجود جان بوجھ کر سجدہ سہو چھوڑ دینے کا حکم
💥💥💥💥💥💥💥
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
نماز تراویح میں حافظ سےکوئ ایسی غلطی ہوگئ جس کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگیا. لیکن حافظ صاحب نے اس پر سجدہ سہو نہیں کیا.جب ان سے کہا گیا کہ آپ کو سجدہ سہو کرنا چاہئے تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح بھیڑ کی وجہ سے عیدین و جمعہ میں سجدہ سہو ساقط ہوجاتا ہے اسی طرح سے یہاں سے سجدہ سہو ساقط ہوگیا.
اب دریافت طلب یہ ہے کہ
1. جس بھیڑ سے سجدہ سہو ساقط ہوتا ہے وہ کتنی بھیڑہونا چاہئے.؟؟؟
2.عموما تراویح میں سات سے 12 صفیں بھرا کرتی ہیں تو کیا اتنی بھیڑ سے بھی سجدہ سہو ساقط ہوجائے گا.؟؟؟
بینوا الجواب توجروا یوم الحساب
السائل. محمد عالم رضوی
✨✨✨✨✨✨
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب:کثرت جماعت کی وجہ سے سجدۂ سہو کا ساقط ہونا صرف جمعہ و عیدین کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جہاں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں ترک کی اجازت ہے
لہذا نماز تراویح میں بھی اگر کثرتِ جماعت کی وجہ سے امام نے سجدۂ سہو ترک کر دیا تو بھی نماز بلا کراہت ہو گئی۔
جیسا کہ رد المحتار میں ہے:
"قوله عدمه في الأوليين) الظاهر أن الجمع الكثير فيما سواهما كذلك كما بحثه بعضهم ط وكذا بحثه الرحمتي، وقال خصوصا في زماننا. وفي جمعة حاشية أبي السعود عن العزمية أنه ليس المراد عدم جوازه، بل الأولى تركه لئلا يقع الناس في فتنة. اهـ.
(قوله وبه جزم في الدرر) لكنه قيده محشيها الواني بما إذا حضر جمع كثير، وإلا فلا داعي إلى الترك ط"
(رد المحتار ج:٢،ص:٩٢)
اس کے تحت جد الممتار میں ہے:
"قوله :خصوصاً في زماننا: الكثير جهله و القليل عقله.١٢
قوله:فلا داعي الي الترك:
قلت:وهو حسن جداً كما لا يخفي ١٢ "
(جد الممتار ج:٣،ص:٥٤٠)
رہی بات کتنی بھیڑ پر جمع کثیر کا اطلاق ہوگا ؟
تو اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ اس مسئلے کو امام کے صواب دید پر چھوڑا جائے گا
اگر امام کے سمجھ کے مطابق جمع کثیر ہے تو ہے ورنہ نہیں
اس مسئلے کی تائید رؤیت ہلال کے مسئلے سے ہوتی ہے جہاں حکم قاضی کے ثواب دید پر چھوڑا گیا ہے
مجمع الانھر میں ہے:
"ثم قيل في حد الكثير أهل المحلة وعن أبي يوسف خمسون رجلا كما في القسامة وعن خلف بن أيوب أنه قال خمسمائة ببلخ قليل فبخارى لا تكون أدنى من بلخي فلذا قال البقالي الألف ببخارى قليل وعن أبي حفص الكبير أنه يعتبر الوفاء وقيل ينبغي أن يكون من كل مسجد جماعة واحد أو اثنان وعن محمد أنه قال يفوض مقدار القلة والكثرة إلى رأي الإمام وهو الصحيح كما في التجنيس؛ لأن ذلك يختلف باختلاف الأوقات والأماكن وكان الحكم فيه رأي الإمام."
(مجمع الأنهر ج:١،ص:٢٣٦،٢٣٧)
واللہ تعالیٰ اعلم
كتبه: محمد وسيم اكرم الرضوي
مدرس جامعة المدية
فيضان عطار، نیپالگنج،نیپال
٤/جون/٢٠١٨
💥💥💥💥💥💥💥
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
نماز تراویح میں حافظ سےکوئ ایسی غلطی ہوگئ جس کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگیا. لیکن حافظ صاحب نے اس پر سجدہ سہو نہیں کیا.جب ان سے کہا گیا کہ آپ کو سجدہ سہو کرنا چاہئے تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح بھیڑ کی وجہ سے عیدین و جمعہ میں سجدہ سہو ساقط ہوجاتا ہے اسی طرح سے یہاں سے سجدہ سہو ساقط ہوگیا.
اب دریافت طلب یہ ہے کہ
1. جس بھیڑ سے سجدہ سہو ساقط ہوتا ہے وہ کتنی بھیڑہونا چاہئے.؟؟؟
2.عموما تراویح میں سات سے 12 صفیں بھرا کرتی ہیں تو کیا اتنی بھیڑ سے بھی سجدہ سہو ساقط ہوجائے گا.؟؟؟
بینوا الجواب توجروا یوم الحساب
السائل. محمد عالم رضوی
✨✨✨✨✨✨
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب:کثرت جماعت کی وجہ سے سجدۂ سہو کا ساقط ہونا صرف جمعہ و عیدین کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جہاں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں ترک کی اجازت ہے
لہذا نماز تراویح میں بھی اگر کثرتِ جماعت کی وجہ سے امام نے سجدۂ سہو ترک کر دیا تو بھی نماز بلا کراہت ہو گئی۔
جیسا کہ رد المحتار میں ہے:
"قوله عدمه في الأوليين) الظاهر أن الجمع الكثير فيما سواهما كذلك كما بحثه بعضهم ط وكذا بحثه الرحمتي، وقال خصوصا في زماننا. وفي جمعة حاشية أبي السعود عن العزمية أنه ليس المراد عدم جوازه، بل الأولى تركه لئلا يقع الناس في فتنة. اهـ.
(قوله وبه جزم في الدرر) لكنه قيده محشيها الواني بما إذا حضر جمع كثير، وإلا فلا داعي إلى الترك ط"
(رد المحتار ج:٢،ص:٩٢)
اس کے تحت جد الممتار میں ہے:
"قوله :خصوصاً في زماننا: الكثير جهله و القليل عقله.١٢
قوله:فلا داعي الي الترك:
قلت:وهو حسن جداً كما لا يخفي ١٢ "
(جد الممتار ج:٣،ص:٥٤٠)
رہی بات کتنی بھیڑ پر جمع کثیر کا اطلاق ہوگا ؟
تو اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ اس مسئلے کو امام کے صواب دید پر چھوڑا جائے گا
اگر امام کے سمجھ کے مطابق جمع کثیر ہے تو ہے ورنہ نہیں
اس مسئلے کی تائید رؤیت ہلال کے مسئلے سے ہوتی ہے جہاں حکم قاضی کے ثواب دید پر چھوڑا گیا ہے
مجمع الانھر میں ہے:
"ثم قيل في حد الكثير أهل المحلة وعن أبي يوسف خمسون رجلا كما في القسامة وعن خلف بن أيوب أنه قال خمسمائة ببلخ قليل فبخارى لا تكون أدنى من بلخي فلذا قال البقالي الألف ببخارى قليل وعن أبي حفص الكبير أنه يعتبر الوفاء وقيل ينبغي أن يكون من كل مسجد جماعة واحد أو اثنان وعن محمد أنه قال يفوض مقدار القلة والكثرة إلى رأي الإمام وهو الصحيح كما في التجنيس؛ لأن ذلك يختلف باختلاف الأوقات والأماكن وكان الحكم فيه رأي الإمام."
(مجمع الأنهر ج:١،ص:٢٣٦،٢٣٧)
واللہ تعالیٰ اعلم
كتبه: محمد وسيم اكرم الرضوي
مدرس جامعة المدية
فيضان عطار، نیپالگنج،نیپال
٤/جون/٢٠١٨
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ایک سوال ۔۔نماز تراویح میں اگر امام صاحب کوٸی آیت بھول گیے اور پیچھے سے لقمہ دیا اور امام نے لقمہ لیا تو کیا سجدہ سہو واجب ھوگا یا نھی ؟
المستفتی : محمد قاسم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* صورت مسئولہ میں اگر امام نماز تراویح میں کوئی آیت بھول گیا اور مقتدی نے لقمہ دیا اور امام نے لقمہ قبول کرلیا تو سجدہ سہو کی ضرورت نہیں جیسا کہ مفتی اعظم مہاراشٹرا مفتی محمد مجیب اشرف ناگپوری اپنی کتاب مسائل سجدہ سہو میں طحطاوی علی المراقی کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ " امام نے قرات کی مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لقمہ قبول کرکے اس کو صحیح کر لیا پھر آخر میں اسی غلطی پر سجدہ سہو کیا جس کی ضرورت نہیں تھی تو اس صورت میں امام اور ان مقتدیوں کی نماز ہوگئی جو پہلی رکعت سے ہی امام کے ساتھ شریک تھے مگر وہ لوگ جو ایک رکعت کے بعد یا سجدہ سہو کا سلام پھیرنے کے بعد اس نماز میں شامل ہوئے ان کی نماز فاسد ہوگئی دوبارہ پڑھیں جبکہ ان کو معلوم ہو کہ امام پر سجدہ سہو نہیں تھا اور کرلیا " ( مسائل سجدہ سہو ص 68 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
ایک سوال ۔۔نماز تراویح میں اگر امام صاحب کوٸی آیت بھول گیے اور پیچھے سے لقمہ دیا اور امام نے لقمہ لیا تو کیا سجدہ سہو واجب ھوگا یا نھی ؟
المستفتی : محمد قاسم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* صورت مسئولہ میں اگر امام نماز تراویح میں کوئی آیت بھول گیا اور مقتدی نے لقمہ دیا اور امام نے لقمہ قبول کرلیا تو سجدہ سہو کی ضرورت نہیں جیسا کہ مفتی اعظم مہاراشٹرا مفتی محمد مجیب اشرف ناگپوری اپنی کتاب مسائل سجدہ سہو میں طحطاوی علی المراقی کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ " امام نے قرات کی مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لقمہ قبول کرکے اس کو صحیح کر لیا پھر آخر میں اسی غلطی پر سجدہ سہو کیا جس کی ضرورت نہیں تھی تو اس صورت میں امام اور ان مقتدیوں کی نماز ہوگئی جو پہلی رکعت سے ہی امام کے ساتھ شریک تھے مگر وہ لوگ جو ایک رکعت کے بعد یا سجدہ سہو کا سلام پھیرنے کے بعد اس نماز میں شامل ہوئے ان کی نماز فاسد ہوگئی دوبارہ پڑھیں جبکہ ان کو معلوم ہو کہ امام پر سجدہ سہو نہیں تھا اور کرلیا " ( مسائل سجدہ سہو ص 68 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
کیا فرماتے علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ امام تراویح میں سجدہ تلاوت کرنا بھول گیا ? اب کیا کرے گا
المستفتی : محمد قاسم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* صورت مسئولہ میں اگر امام تراویح میں سجدہ تلاوت بھول جائے تو جب تک حرمت نماز میں ہے سجدہ کر لے جیسا کہ بہار شریعت میں ہے کہ " سجدہ تلاوت نماز میں فورا کرنا واجب ہے تاخیر کرے گا تو گنہ گار ہوگا اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک حرمت نماز میں ہے کر لے اگر چہ سلام پھیر چکا ہو اور سجدہ سہو کرے ۔ اور نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو اس کا سجدہ نماز ہی میں واجب ہے بیرون نماز نہیں ہوسکتا اور قصدا نہ کیا تو گنہ گار ہوا توبہ لازم ہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 733 ) اور اسی طرح مفتی اعظم مہاراشٹر حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف اپنی کتاب مسائل سجدہ سہو میں تحریر فرماتے ہیں کہ " اگر کسی نے نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک نماز یا حرمت نماز میں ہے تو یاد آتے ہی سجدہ تلاوت ادا کرے اور بعد میں سجدہ سہو کرے ۔ خیال رہے کہ حرمت نماز ہونے کا مطلب فقہا کے نزدیک یہ ہے کہ نماز کا سلام پھیر چکا ہو مگر سلام کے بعد ابھی تک کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو نماز کے منافی ہے مثلا بات چیت کرنا ، کھانا پینا وغیرہ " اھ ( مسائل سجدہ سہو ص 73 بحوالہ درمختار ج 1 ص 721 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
المستفتی : محمد قاسم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* صورت مسئولہ میں اگر امام تراویح میں سجدہ تلاوت بھول جائے تو جب تک حرمت نماز میں ہے سجدہ کر لے جیسا کہ بہار شریعت میں ہے کہ " سجدہ تلاوت نماز میں فورا کرنا واجب ہے تاخیر کرے گا تو گنہ گار ہوگا اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک حرمت نماز میں ہے کر لے اگر چہ سلام پھیر چکا ہو اور سجدہ سہو کرے ۔ اور نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو اس کا سجدہ نماز ہی میں واجب ہے بیرون نماز نہیں ہوسکتا اور قصدا نہ کیا تو گنہ گار ہوا توبہ لازم ہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 733 ) اور اسی طرح مفتی اعظم مہاراشٹر حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف اپنی کتاب مسائل سجدہ سہو میں تحریر فرماتے ہیں کہ " اگر کسی نے نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک نماز یا حرمت نماز میں ہے تو یاد آتے ہی سجدہ تلاوت ادا کرے اور بعد میں سجدہ سہو کرے ۔ خیال رہے کہ حرمت نماز ہونے کا مطلب فقہا کے نزدیک یہ ہے کہ نماز کا سلام پھیر چکا ہو مگر سلام کے بعد ابھی تک کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو نماز کے منافی ہے مثلا بات چیت کرنا ، کھانا پینا وغیرہ " اھ ( مسائل سجدہ سہو ص 73 بحوالہ درمختار ج 1 ص 721 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
🌹 احکامِ تراویح 🌹
🌹 تروایح ھر عاقل و بالغ مرد اور عورت کیلئے سنتِ مؤکدہ ھے ۔اسکا ترک جائز نہیں ،
۔ درمختار ج 2 ص 493 ۔
🌹 تراویح کی بیس رکعت ہیں سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعتیں ہی پڑھی جاتی تھیں ،
۔السنن الکبرٰی للبیہقی ج2ص 299 رقم 4617 ۔
🌹 تراویح کی جماعت سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ھے ،
۔ ھدایہ ج 1 ص70۔
🌹 تراویح کا وقت عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد سے صبحِ صادق تک ھے ، عشاء کے فرض ادا کرنے سے پہلے ادا کر لی تو نہ ھوگی ،
۔عالمگیری ج 1 ص 115۔
🌹 عشاء کے فرض و وتر کے بعد بھی تراویح ادا کی جا سکتی ھے ، در مختار ج2ص 494۔
🌻 جیسا کہ بعض اوقات 29 کو رویتِ ھلال کی شہادت ملنے میں تاخیر کے سبب ایسا ہو جاتا ھے ،
🌹 مُستحبّ یہ ہے کہ تراویح میں تہائی رات تک تاخیر کی جائے اگر آدھی رات کے بعد بھی پڑھیں تب بھی کراہت نہیں ،
درمختار ،ج 2 ص 495
🌹 تراویح اگر فوت ہوئی تو اسکی قضا نہیں ،
درمختار ،ج2 ص 494
🌹 بہتر یہ ہے کی تراویح کی بیس رکعتیں دو دو کرکے دس سلام کے ساتھ ادا کرے ،
درمختار،ج2 ص 495
🌹 تراویح کی ہر دو رکعت پر الگ الگ نیت کرے ، درمختار ج 2 ص 494 ،
🌹 بِلاعذر بیٹھ کر تراویح ادا کرنا مکروہ ھے،بلکہ بعض فقہاء کرام کے نزدیک ہوتی ہی نہیں، درمختارج2ص499
🌹 تراویح مسجد میں باجماعت ادا کرنا افضل ھے ،اگر گھر میں باجماعت ادا کی تو ہو جائیگی ،مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں ادا کرنے کا تھا،
عالمگیری ج1ص 116
🌹 تراویح میں پورا کلام اللہ پڑھنا اور سننا سنتِ مؤکدہ ھے،
فتاوی رضویہ ج7ص458،
🌹 اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ھو جائے تو جتنا قرآن پاک اُن رکعتوں میں پڑھا تھا اُن کا اعادہ کیا جائے ،تاکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ رھے ،
عالمگیری ج1 ص 118
🌹 امام غلطی سے کوئی آیت یا سورت چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو مُستحب یہ ھے کہ اُسے پڑھ کر آگے بڑھے ، عالمگیری ج 1 ص 118
🌹 الگ الگ مسجد میں تراویح ادا کر سکتا ھے جبکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ ہو،
🌹 تراویح کی دو رکعت پر بیٹھنا بھول گیا تو جب تک تیسر ی کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے آخر میں سجدۂ سہو کرلے اور اگر تیسری کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کرلےمگر یہ دو شمار ہونگی،ہاں اگر دو پر قعدہ کیا تھا تو چار ھوئیں ، عالمگیری،ج۔1 ص 118
🌹 تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا اگر دوسری پر بیٹھا نہیں تھا تو نہ ہوئیں ، ان کے بدلے کی دو رکعتیں دوبارہ ادا کرے،عالمگیری،ج۔1 ص118
🌹سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ھے دو ھوئیں کوئی کہتا ھے تین ، تو امام کو جو یاد ہے اسکا اعتبار ھے،اگر امام خود بھی تذبذب کا شکار ہے تو جس پر اعتماد ہو اسکی بات مان لے، عالمگیری ج1 ص 117
🌹 اگر لوگوں کو شک ھو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ ؟ تو دو رکعت ہر بندہ تنہا تنہا ادا کرے ، عالمگیری ج2 ص 117
🌹 افضل یہ ھے کہ ہر دو رکعت میں قِراءت برابر ہو ،اگر ایسا نہ کیا جب بھی حرج نہیں، ج 1 ص 117
🌹 امام و مقتدی ہر دو رکعت کی ابتداء میں ثناء پڑھیں امام تعوذ و تسمیہ بھی پڑھے،اور التحیات کے بعد درودِ ابراھیم اور دعا بھی،
در مختار ج2 ص 498
🌹 اگر 27 ویں کو یا اس سے قبل قرآن پاک ختم ھو گیا تب بھی آخر رمضان تک تراویح پڑھتے رہیں کہ سنت مؤکدہ ھے ، عالمگیری ج 1 ص 118
🌹 بعض مقتدی بیٹھے رہتے ہیں جب امام رکوع کرنے والا ہوتا ھے تب کھڑے ہوتے ہیں یہ مُنافقین کی علامت ھے ،
بہارِ شریعت ،حصہ 4 ص 36
🌹 رمضان المبارک میں وتر جماعت سے ادا کرنا افضل ہے،مگر جس نے عشاء کے فرض بغیر جماعت کے ادا کیےوہ وتر بھی تنہا ادا کرے، بہارِشریعت ،حصہ 4 ص36
🌹 ایک امام کے پیچھے عشاء کے فرض دوسرے کے پیچھے تراویح اور تیسرے کے پیچھے وتر پڑھے اِس میں حرج نہیں ،
🌹 حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرض و وتر کی جماعت خود کرواتے اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تراویح پڑھاتے ،
عالمگیری ج1 ص 116
🕋 یا اللہ کریم ،،، !!!
ہمیں نیک مُخلص اور درست پڑھنے والے حافظ صاحب کے پیچھے اخلاص و دل جمعی کے ساتھ ہر سال تراویح ادا کرنے کی سعادت نصیب کر اور قبول بھی فرما،
آمین آمین ۔
♻️فیضان غوثُ الاعظم سروس ٹیم♻️
.
Join & Share👇
http://T.me/DaruliftaAhleSunat
🌹 تروایح ھر عاقل و بالغ مرد اور عورت کیلئے سنتِ مؤکدہ ھے ۔اسکا ترک جائز نہیں ،
۔ درمختار ج 2 ص 493 ۔
🌹 تراویح کی بیس رکعت ہیں سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعتیں ہی پڑھی جاتی تھیں ،
۔السنن الکبرٰی للبیہقی ج2ص 299 رقم 4617 ۔
🌹 تراویح کی جماعت سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ھے ،
۔ ھدایہ ج 1 ص70۔
🌹 تراویح کا وقت عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد سے صبحِ صادق تک ھے ، عشاء کے فرض ادا کرنے سے پہلے ادا کر لی تو نہ ھوگی ،
۔عالمگیری ج 1 ص 115۔
🌹 عشاء کے فرض و وتر کے بعد بھی تراویح ادا کی جا سکتی ھے ، در مختار ج2ص 494۔
🌻 جیسا کہ بعض اوقات 29 کو رویتِ ھلال کی شہادت ملنے میں تاخیر کے سبب ایسا ہو جاتا ھے ،
🌹 مُستحبّ یہ ہے کہ تراویح میں تہائی رات تک تاخیر کی جائے اگر آدھی رات کے بعد بھی پڑھیں تب بھی کراہت نہیں ،
درمختار ،ج 2 ص 495
🌹 تراویح اگر فوت ہوئی تو اسکی قضا نہیں ،
درمختار ،ج2 ص 494
🌹 بہتر یہ ہے کی تراویح کی بیس رکعتیں دو دو کرکے دس سلام کے ساتھ ادا کرے ،
درمختار،ج2 ص 495
🌹 تراویح کی ہر دو رکعت پر الگ الگ نیت کرے ، درمختار ج 2 ص 494 ،
🌹 بِلاعذر بیٹھ کر تراویح ادا کرنا مکروہ ھے،بلکہ بعض فقہاء کرام کے نزدیک ہوتی ہی نہیں، درمختارج2ص499
🌹 تراویح مسجد میں باجماعت ادا کرنا افضل ھے ،اگر گھر میں باجماعت ادا کی تو ہو جائیگی ،مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں ادا کرنے کا تھا،
عالمگیری ج1ص 116
🌹 تراویح میں پورا کلام اللہ پڑھنا اور سننا سنتِ مؤکدہ ھے،
فتاوی رضویہ ج7ص458،
🌹 اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ھو جائے تو جتنا قرآن پاک اُن رکعتوں میں پڑھا تھا اُن کا اعادہ کیا جائے ،تاکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ رھے ،
عالمگیری ج1 ص 118
🌹 امام غلطی سے کوئی آیت یا سورت چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو مُستحب یہ ھے کہ اُسے پڑھ کر آگے بڑھے ، عالمگیری ج 1 ص 118
🌹 الگ الگ مسجد میں تراویح ادا کر سکتا ھے جبکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ ہو،
🌹 تراویح کی دو رکعت پر بیٹھنا بھول گیا تو جب تک تیسر ی کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے آخر میں سجدۂ سہو کرلے اور اگر تیسری کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کرلےمگر یہ دو شمار ہونگی،ہاں اگر دو پر قعدہ کیا تھا تو چار ھوئیں ، عالمگیری،ج۔1 ص 118
🌹 تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا اگر دوسری پر بیٹھا نہیں تھا تو نہ ہوئیں ، ان کے بدلے کی دو رکعتیں دوبارہ ادا کرے،عالمگیری،ج۔1 ص118
🌹سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ھے دو ھوئیں کوئی کہتا ھے تین ، تو امام کو جو یاد ہے اسکا اعتبار ھے،اگر امام خود بھی تذبذب کا شکار ہے تو جس پر اعتماد ہو اسکی بات مان لے، عالمگیری ج1 ص 117
🌹 اگر لوگوں کو شک ھو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ ؟ تو دو رکعت ہر بندہ تنہا تنہا ادا کرے ، عالمگیری ج2 ص 117
🌹 افضل یہ ھے کہ ہر دو رکعت میں قِراءت برابر ہو ،اگر ایسا نہ کیا جب بھی حرج نہیں، ج 1 ص 117
🌹 امام و مقتدی ہر دو رکعت کی ابتداء میں ثناء پڑھیں امام تعوذ و تسمیہ بھی پڑھے،اور التحیات کے بعد درودِ ابراھیم اور دعا بھی،
در مختار ج2 ص 498
🌹 اگر 27 ویں کو یا اس سے قبل قرآن پاک ختم ھو گیا تب بھی آخر رمضان تک تراویح پڑھتے رہیں کہ سنت مؤکدہ ھے ، عالمگیری ج 1 ص 118
🌹 بعض مقتدی بیٹھے رہتے ہیں جب امام رکوع کرنے والا ہوتا ھے تب کھڑے ہوتے ہیں یہ مُنافقین کی علامت ھے ،
بہارِ شریعت ،حصہ 4 ص 36
🌹 رمضان المبارک میں وتر جماعت سے ادا کرنا افضل ہے،مگر جس نے عشاء کے فرض بغیر جماعت کے ادا کیےوہ وتر بھی تنہا ادا کرے، بہارِشریعت ،حصہ 4 ص36
🌹 ایک امام کے پیچھے عشاء کے فرض دوسرے کے پیچھے تراویح اور تیسرے کے پیچھے وتر پڑھے اِس میں حرج نہیں ،
🌹 حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرض و وتر کی جماعت خود کرواتے اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تراویح پڑھاتے ،
عالمگیری ج1 ص 116
🕋 یا اللہ کریم ،،، !!!
ہمیں نیک مُخلص اور درست پڑھنے والے حافظ صاحب کے پیچھے اخلاص و دل جمعی کے ساتھ ہر سال تراویح ادا کرنے کی سعادت نصیب کر اور قبول بھی فرما،
آمین آمین ۔
♻️فیضان غوثُ الاعظم سروس ٹیم♻️
.
Join & Share👇
http://T.me/DaruliftaAhleSunat
Telegram
احکامِ شریعت
ثواب کی نیت سے یہ چینلز خود بھی جوائن کریں
اور
دوسروں کو بھی جوائن کروائیں.
*
Join & Share👇
@MadaniMuzakra
*
@Madanichannal
*
@FiqaHanfiBooks
*
@DaruliftaAhleSunat
.
@NaatiaKalaam
*
تاثرات اور مدنی مشوروں کے لئے👇
http://T.me/SarmadLatifQadri
اور
دوسروں کو بھی جوائن کروائیں.
*
Join & Share👇
@MadaniMuzakra
*
@Madanichannal
*
@FiqaHanfiBooks
*
@DaruliftaAhleSunat
.
@NaatiaKalaam
*
تاثرات اور مدنی مشوروں کے لئے👇
http://T.me/SarmadLatifQadri
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM