اربابِ تخیل کی حقیقت فراموشی
تحریر : مولانا طارق انور مصباحی
مبسملا و حامدا::ومصلیا ومسلما
بہت مشہور مقولہ ہے:
"الکفر ملۃ واحدۃ"
اسلام کے خلاف تمام کفار گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں اور اہل اسلام پر تابڑتوڑ حملے کرتے ہیں۔بھارت میں ہنود,برما میں بدھشٹ,چین میں کمیونسٹ,یوروپ وامریکہ میں نصاری اور اسرائیل وفلسطین میں یہود۔
کافر ہر فرد و فرقہ دشمن مارا
مرتد,مشرک,یہود و گیر وترسا
ان تمام حقائق کے باوجود ایک باریک فرق نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔اس کی جانب اشارہ کے ساتھ قرآن مقدس کی شہادت بھی ذیل میں نقش کرتا ہوں۔
جب نائن الیون کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک نے اسلام کے خلاف زہر افشانی شروع کی اور مذہب اسلام کی صاف ستھری شبیہ کو داغ دار کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اور یوروپین ممالک میں بہت سے عیسائیوں نے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور بہت سے لوگ اسلام کے قریب ہو گئے اور عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔
بعض دانشوران یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت میں بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد ہندو لوگ اسلام کے قریب ہوں گے اور بہت سے ہنود اسلام قبول کر لیں گے,حالاں کہ ایسی امید نہیں۔
اس کے چند اسباب درج ذیل ہیں۔
1-عیسائیوں کی نرمی کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ اسی طرح یہود اور مشرکین کی سختی کا ذکر بھی ہے۔
سب ہمارے دشمن ہی ہیں, لیکن دشمنوں میں فرق ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَ ٰوَةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلۡیَهُودَ وَٱلَّذِینَ أَشۡرَكُوا۟ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِینَ قَالُوۤا۟ إِنَّا نَصَـٰرَىٰۚ ذَ ٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّیسِینَ وَرُهۡبَانࣰا وَأَنَّهُمۡ لَا یَسۡتَكۡبِرُونَ
[سورة المائدة : 82]
ارشاد خداوندی ہے:
ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلَىٰۤ ءَاثَـٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیۡنَا بِعِیسَى ٱبۡنِ مَرۡیَمَ وَءَاتَیۡنَـٰهُ ٱلۡإِنجِیلَۖ وَجَعَلۡنَا فِی قُلُوبِ ٱلَّذِینَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةࣰ وَرَحۡمَةࣰۚ
(سورہ حدید، آیت 27)
2-قوم ہنود کی فطرت مثل قوم یہود ہے۔یہودیوں نے سالہا سال کی مشقت و جاں فشانی کے بعد فلسطین کو یہودی راشٹر بنا لیا اور قوم ہنود بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی کوشش میں ہے۔
بہت سے ممالک میں عیسائیوں کی حکمرانی ہے,لیکن کسی ملک کو عیسائی راشٹر نہیں بنایا گیا ہے۔
3-مشرکین ہند میں سے ایس سی,ایس ٹی اور اوبی سی کے بہت سے طبقات مسلمانوں کے حق میں نرم ہیں تو اس کا سبب اصلی یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے برہمنی مظالم کو دیکھ کر مسلمانوں کے قریب ہیں۔برہمنوں نے ساڑھے تین ہزار سالوں سے آج تک ان کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور آج تک ان پر آرین اقوام کی طرف سے ظلم وستم کا سلسلہ جاری ہے۔
دلت اور آدی واسی وغیرہ اسلام کی محبت میں مسلمانوں کے قریب نہیں، بلکہ اپنے آبا واجداد پر برہمنی ظلم وستم کی تاریخی روایات وواقعات سے آشنائی کے بعد وہ آرین اقوام سے متنفر ہو جاتے ہیں اور اسلام کے قانون مساوات اور اصول عدل وانصاف کے سبب وہ مسلمانوں سے بغل گیر ہوتے ہیں۔
سکھوں پر جب حکومت ہند کی طرف سے حملے ہوئے۔ان کے مقدس مذہبی مقام یعنی امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر 1984 میں آپریشن بلیو اسٹار ہوا,تب وہ قوم ہنود سے متنفر ہوئے,ورنہ عہد مغلیہ کے دور متوسط سے آزادی ہند کے بعد تک وہ مسلمانوں کے خون کے ایسے پیاسے تھے کہ وہ ہمارا خون پیتے جاتے تھے اور ان کی پیاس نہیں بجھتی تھی,جیسے ابھی فرقہ پرست ہنود کا حال ہے۔اس ظلم وستم کے بعد پنجابیوں کو ہوش آیا اور وہ مسلمانوں کے قریب ہونے لگے۔
الحاصل ہمیں نصاری اور غیر نصاری میں فرق کرنا ہو گا۔کسی خوش فہمی میں مگن رہنا نقصان دہ ثابت ہو گا۔مدہوشی کو دور کریں اور اور فکر وتدبیر کی راہ اپنائیں۔قوم ہنود مثل یہود ہے,مثل نصاری نہیں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:09:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/895636534340199/
تحریر : مولانا طارق انور مصباحی
مبسملا و حامدا::ومصلیا ومسلما
بہت مشہور مقولہ ہے:
"الکفر ملۃ واحدۃ"
اسلام کے خلاف تمام کفار گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں اور اہل اسلام پر تابڑتوڑ حملے کرتے ہیں۔بھارت میں ہنود,برما میں بدھشٹ,چین میں کمیونسٹ,یوروپ وامریکہ میں نصاری اور اسرائیل وفلسطین میں یہود۔
کافر ہر فرد و فرقہ دشمن مارا
مرتد,مشرک,یہود و گیر وترسا
ان تمام حقائق کے باوجود ایک باریک فرق نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔اس کی جانب اشارہ کے ساتھ قرآن مقدس کی شہادت بھی ذیل میں نقش کرتا ہوں۔
جب نائن الیون کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک نے اسلام کے خلاف زہر افشانی شروع کی اور مذہب اسلام کی صاف ستھری شبیہ کو داغ دار کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اور یوروپین ممالک میں بہت سے عیسائیوں نے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور بہت سے لوگ اسلام کے قریب ہو گئے اور عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔
بعض دانشوران یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت میں بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد ہندو لوگ اسلام کے قریب ہوں گے اور بہت سے ہنود اسلام قبول کر لیں گے,حالاں کہ ایسی امید نہیں۔
اس کے چند اسباب درج ذیل ہیں۔
1-عیسائیوں کی نرمی کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ اسی طرح یہود اور مشرکین کی سختی کا ذکر بھی ہے۔
سب ہمارے دشمن ہی ہیں, لیکن دشمنوں میں فرق ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَ ٰوَةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلۡیَهُودَ وَٱلَّذِینَ أَشۡرَكُوا۟ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِینَ قَالُوۤا۟ إِنَّا نَصَـٰرَىٰۚ ذَ ٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّیسِینَ وَرُهۡبَانࣰا وَأَنَّهُمۡ لَا یَسۡتَكۡبِرُونَ
[سورة المائدة : 82]
ارشاد خداوندی ہے:
ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلَىٰۤ ءَاثَـٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیۡنَا بِعِیسَى ٱبۡنِ مَرۡیَمَ وَءَاتَیۡنَـٰهُ ٱلۡإِنجِیلَۖ وَجَعَلۡنَا فِی قُلُوبِ ٱلَّذِینَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةࣰ وَرَحۡمَةࣰۚ
(سورہ حدید، آیت 27)
2-قوم ہنود کی فطرت مثل قوم یہود ہے۔یہودیوں نے سالہا سال کی مشقت و جاں فشانی کے بعد فلسطین کو یہودی راشٹر بنا لیا اور قوم ہنود بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی کوشش میں ہے۔
بہت سے ممالک میں عیسائیوں کی حکمرانی ہے,لیکن کسی ملک کو عیسائی راشٹر نہیں بنایا گیا ہے۔
3-مشرکین ہند میں سے ایس سی,ایس ٹی اور اوبی سی کے بہت سے طبقات مسلمانوں کے حق میں نرم ہیں تو اس کا سبب اصلی یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے برہمنی مظالم کو دیکھ کر مسلمانوں کے قریب ہیں۔برہمنوں نے ساڑھے تین ہزار سالوں سے آج تک ان کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور آج تک ان پر آرین اقوام کی طرف سے ظلم وستم کا سلسلہ جاری ہے۔
دلت اور آدی واسی وغیرہ اسلام کی محبت میں مسلمانوں کے قریب نہیں، بلکہ اپنے آبا واجداد پر برہمنی ظلم وستم کی تاریخی روایات وواقعات سے آشنائی کے بعد وہ آرین اقوام سے متنفر ہو جاتے ہیں اور اسلام کے قانون مساوات اور اصول عدل وانصاف کے سبب وہ مسلمانوں سے بغل گیر ہوتے ہیں۔
سکھوں پر جب حکومت ہند کی طرف سے حملے ہوئے۔ان کے مقدس مذہبی مقام یعنی امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر 1984 میں آپریشن بلیو اسٹار ہوا,تب وہ قوم ہنود سے متنفر ہوئے,ورنہ عہد مغلیہ کے دور متوسط سے آزادی ہند کے بعد تک وہ مسلمانوں کے خون کے ایسے پیاسے تھے کہ وہ ہمارا خون پیتے جاتے تھے اور ان کی پیاس نہیں بجھتی تھی,جیسے ابھی فرقہ پرست ہنود کا حال ہے۔اس ظلم وستم کے بعد پنجابیوں کو ہوش آیا اور وہ مسلمانوں کے قریب ہونے لگے۔
الحاصل ہمیں نصاری اور غیر نصاری میں فرق کرنا ہو گا۔کسی خوش فہمی میں مگن رہنا نقصان دہ ثابت ہو گا۔مدہوشی کو دور کریں اور اور فکر وتدبیر کی راہ اپنائیں۔قوم ہنود مثل یہود ہے,مثل نصاری نہیں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:09:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/895636534340199/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/895636534340199/
اربابِ تخیل کی حقیقت فراموشی
تحریر : مولانا طارق انور مصباحی
https://t.me/islaamic_Knowledge/12422
اربابِ تخیل کی حقیقت فراموشی
تحریر : مولانا طارق انور مصباحی
https://t.me/islaamic_Knowledge/12422
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#مطالعہ_کی_میزسے
#علامہ_ارشدالقادری_ایک_عہدسازشخصیت
#مبصر:بلال احمدنظامی،رتلام
تقریبا چھے سات ماہ قبل ایک اشتہاردیکھاجس میں رعایتی قیمت کےساتھ قائداہل سنت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کےتمام نثری ونظمی شہ پاروں کی ازسرنوجدیدرنگ وآہنگ کےساتھ 28 جلدوں میں "موسوعہ اسلامیہ"کےنام سےموسوم کرکےترتیب نوواشاعت نوکااعلان کیاگیاتھا۔اشتہاردیکھتےہی خریدنےکی نیت کی اور جب بکنک شروع ہوئی تو اول فرصت میں بک کرواکرتمام کتابیں حاصل کرلیں۔
قائداہل سنت کی تحریریں دیکھ کرہی دل للچانےلگتاہے،کیوں کہ قائداہل سنت علیہ الرحمہ کی تحریریں شستہ شائشتہ،ادبی علمی اور خاص اسلوب کی حامل ہوتی ہیں۔جسےکون خریدکراپنی لائبریری کی زینت بناکرآنکھوں کاسرمہ نہ بنائےاور اپنےعلم وفکراور قلم کوتوانائی عطانہ کرے۔میں نےبھی لائبریری کی زینت بناکرآنکھوں کاسرمہ بنانےکی کوشش کی۔
کتابیں موصول ہونےکےبعدجہاں جہاں مجاہد دوراں علامہ سیدمظفرحسین کچھوچھوی علیہ الرحمہ کےتذکرےکےامکانات تھے،چیدہ چیدہ وہ تمام تحریریں اور کتابیں دیکھی اور اس نیت کےساتھ رکھ دی کہ رمضان شریف میں تحریری امورکوکچھ وقت کےلےموقوف کرکےقائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی کتابوں کویکسوئی کےساتھ پڑھاجائےگا۔
موسوعہ اسلامیہ کوجدیدرنگ وآہنگ،تقدیم وتحشیہ،تخریج اور ضروری اضافات کےساتھ دیدہ زیب،جاذب نظر اور دل کش سرورق،عمدہ کاغذ اور بہترین پرنٹ کےساتھ جانشین قائد اہل سنت حضرت علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ نے دارالکتاب دہلی سےشائع کرواکرقائداہل سنت علیہ الرحمہ کی روح کوبہترین خراج عقیدت پیش کیا۔
علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب قبلہ دنیاےعلم وادب کےایک چمکتےدمکتےستارےہیں۔ جن کےاشہب قلم سےنکلی ہوئی متعدد تحریریں اور کتابیں اہل علم وادب کی آنکھوں کاسرمہ بن کرذہن وفکرکی وسعتوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکی ہیں۔ڈاکٹرصاحب قبلہ کی تحریریں بڑی پرلطف،سنجیدہ اوردعوت فکردیتی ہوئی نظرآتی ہیں۔
جس طرح مصنف نےدوماہ کےدرمیان میں اس کتاب کوتصنیف کیاہےاسی مناسبت سےراقم نےدودن میں کتاب کامطالعہ مکمل کیا۔
قائداہل سنت حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ مجمع الکمالات، یگانہ روزگار،آفاقی اور عبقری شخصیت تھے۔جن کی زندگی کالمحہ لمحہ دین وملت کی خدمات میں صرف ہوا۔کبھی ملی مسائل کےلیےمشکل وادیوں کی سیرکررہےہیں تو کبھی قلم کی جولانی سےایوان باطل میں زلزلہ برپاکررہےہیں۔جس سمت اور جس جہت سےدیکھیےقائد اہل سنت علیہ الرحمہ اپنےعہدکی ممتاز ومنفرد شخصیت نظرآتےہیں۔
علامہ ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف نےزیرنظرکتاب میں قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی ہمہ جہت جدوجہد،تگ ودو،ملی اقدامات،درس وتدریس،قرطاس وقلم،رشدوہدایت،مناظرہ ومجادلہ،تحریک وتنظیم،قیادت وسیادت،وعظ وخطابت،اور تعمیروترقی کےمناظرسمونےکی کامیاب کوشش کی ہے۔
کتاب کاتعارف کرواتےہوئےمصنف رقم طرازہیں:
"پیش نگاہ کتاب تین ابواب پرمشتمل ہے،پہلےباب میں آپ کےآباؤاجداد سےلےکرآپ کی ولادت،تعلیم وتربیت،درس وتدریس،سفروسیاحت،حج وزیارت اور آپ کےوصال تک،نیزتعزیتی پیغامات پربھی گفتگو کی گئی ہے۔
دوسرا باب آپ کی خدمات پر مشتمل ہے،جس میں سہولت کےلیےمختلف ذیلی عناوین قائم کیےگئےہیں۔پھرہرعنوان کی مناسبت سےآپ کی سرگرمیوں پر اظہار خیال کی کوشش کی گئی ہے۔آپ کی گوناگوں علمی شخصیت کاسب سےامتیازی پہلوچونکہ قرطاس وقلم سےمتعلق ہے،اس لیےیہ گفتگو قدرےطویل ہوگئی ہے،پھرتعمیروترقی کےپس منظرمیں تفصیلی تذکرہ ہوا ہے،پھراسی طرح دوسرےعناوین پرلب کشائی کی جسارت کی گئی ہے۔
۔تیسرا باب دراصل سابقہ دونوں ابواب کانچوڑہے،جو "تحلیلی جائزہ" کےعنوان سےموسوم ہے،تاہم ایسانہیں ہےکہ ایک ہی بات دونوں مقامات پردوہرائی گئی ہو،بلکہ قارئین محسوس کریں گےذیلی عناوین کےتحت کی گئی بیشتر معلومات نئی ہیں اور مشاہداتی احساسات کی ترجمان ہیں۔"(ابتدائیہ،ص 2)
ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف نے قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی حیات وخدمات کی اس اندازمیں منظرکشی کی ہےگویاہم چشم تصور سے قائد اہل سنت کو الجامعة الاشرفیہ کےصحن میں تعلیم وتربیت کےمراحل طےکرتےہوئے،ناگپورکے مدرسہ بالغان میں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کرتےہوئے،دارالعلوم فیض العلوم کےلیےجمشیدپورکےناشناساو
ناآشناماحول میں سائیکل سے گلیوں میں گھومتےہوئے،ایک شخص کےصحن میں مکتب پڑھاتےہوئے،کھلےآسمان تلےسرپرچھاتا تانےبچوں کوزیورعلم سےآراستہ کرنےکی دُھن میں مگن تعلیم وتربیت کرتےہوئے،فیض العلوم کی اراضی کےلیےتگ ودو کرتےہوئے،سنگ بنیاد کی کٹھن منزلوں سےگزرگرجمشیدپورکوحافظ ملت کےخوابوں کی تعبیربناتےہوئے،ممبئی کےساحل پر"آل انڈیامسلم متحدہ محاذ" کی بنیاداور جمشیدپورمیں ممبرسازی نیزکلکتہ میں رفیقان گرامی مجاہد دوراں علامہ سید مظفر حسین کچھوچھوی وعلامہ سیداسرارالحق علیہم الرحمہ کےساتھ ملت کادردبانٹتےہوئے،دہلی میں کل ہند سنی اوقاف کانفرنس کوکامیابی کی منزلوں پرفائزکرتےہوئے،فسادات کی مخالفت اور ریلیف کےاہتمامات کی صورت میں جیل کی سلاخوں
#علامہ_ارشدالقادری_ایک_عہدسازشخصیت
#مبصر:بلال احمدنظامی،رتلام
تقریبا چھے سات ماہ قبل ایک اشتہاردیکھاجس میں رعایتی قیمت کےساتھ قائداہل سنت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کےتمام نثری ونظمی شہ پاروں کی ازسرنوجدیدرنگ وآہنگ کےساتھ 28 جلدوں میں "موسوعہ اسلامیہ"کےنام سےموسوم کرکےترتیب نوواشاعت نوکااعلان کیاگیاتھا۔اشتہاردیکھتےہی خریدنےکی نیت کی اور جب بکنک شروع ہوئی تو اول فرصت میں بک کرواکرتمام کتابیں حاصل کرلیں۔
قائداہل سنت کی تحریریں دیکھ کرہی دل للچانےلگتاہے،کیوں کہ قائداہل سنت علیہ الرحمہ کی تحریریں شستہ شائشتہ،ادبی علمی اور خاص اسلوب کی حامل ہوتی ہیں۔جسےکون خریدکراپنی لائبریری کی زینت بناکرآنکھوں کاسرمہ نہ بنائےاور اپنےعلم وفکراور قلم کوتوانائی عطانہ کرے۔میں نےبھی لائبریری کی زینت بناکرآنکھوں کاسرمہ بنانےکی کوشش کی۔
کتابیں موصول ہونےکےبعدجہاں جہاں مجاہد دوراں علامہ سیدمظفرحسین کچھوچھوی علیہ الرحمہ کےتذکرےکےامکانات تھے،چیدہ چیدہ وہ تمام تحریریں اور کتابیں دیکھی اور اس نیت کےساتھ رکھ دی کہ رمضان شریف میں تحریری امورکوکچھ وقت کےلےموقوف کرکےقائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی کتابوں کویکسوئی کےساتھ پڑھاجائےگا۔
موسوعہ اسلامیہ کوجدیدرنگ وآہنگ،تقدیم وتحشیہ،تخریج اور ضروری اضافات کےساتھ دیدہ زیب،جاذب نظر اور دل کش سرورق،عمدہ کاغذ اور بہترین پرنٹ کےساتھ جانشین قائد اہل سنت حضرت علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ نے دارالکتاب دہلی سےشائع کرواکرقائداہل سنت علیہ الرحمہ کی روح کوبہترین خراج عقیدت پیش کیا۔
علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب قبلہ دنیاےعلم وادب کےایک چمکتےدمکتےستارےہیں۔ جن کےاشہب قلم سےنکلی ہوئی متعدد تحریریں اور کتابیں اہل علم وادب کی آنکھوں کاسرمہ بن کرذہن وفکرکی وسعتوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکی ہیں۔ڈاکٹرصاحب قبلہ کی تحریریں بڑی پرلطف،سنجیدہ اوردعوت فکردیتی ہوئی نظرآتی ہیں۔
جس طرح مصنف نےدوماہ کےدرمیان میں اس کتاب کوتصنیف کیاہےاسی مناسبت سےراقم نےدودن میں کتاب کامطالعہ مکمل کیا۔
قائداہل سنت حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ مجمع الکمالات، یگانہ روزگار،آفاقی اور عبقری شخصیت تھے۔جن کی زندگی کالمحہ لمحہ دین وملت کی خدمات میں صرف ہوا۔کبھی ملی مسائل کےلیےمشکل وادیوں کی سیرکررہےہیں تو کبھی قلم کی جولانی سےایوان باطل میں زلزلہ برپاکررہےہیں۔جس سمت اور جس جہت سےدیکھیےقائد اہل سنت علیہ الرحمہ اپنےعہدکی ممتاز ومنفرد شخصیت نظرآتےہیں۔
علامہ ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف نےزیرنظرکتاب میں قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی ہمہ جہت جدوجہد،تگ ودو،ملی اقدامات،درس وتدریس،قرطاس وقلم،رشدوہدایت،مناظرہ ومجادلہ،تحریک وتنظیم،قیادت وسیادت،وعظ وخطابت،اور تعمیروترقی کےمناظرسمونےکی کامیاب کوشش کی ہے۔
کتاب کاتعارف کرواتےہوئےمصنف رقم طرازہیں:
"پیش نگاہ کتاب تین ابواب پرمشتمل ہے،پہلےباب میں آپ کےآباؤاجداد سےلےکرآپ کی ولادت،تعلیم وتربیت،درس وتدریس،سفروسیاحت،حج وزیارت اور آپ کےوصال تک،نیزتعزیتی پیغامات پربھی گفتگو کی گئی ہے۔
دوسرا باب آپ کی خدمات پر مشتمل ہے،جس میں سہولت کےلیےمختلف ذیلی عناوین قائم کیےگئےہیں۔پھرہرعنوان کی مناسبت سےآپ کی سرگرمیوں پر اظہار خیال کی کوشش کی گئی ہے۔آپ کی گوناگوں علمی شخصیت کاسب سےامتیازی پہلوچونکہ قرطاس وقلم سےمتعلق ہے،اس لیےیہ گفتگو قدرےطویل ہوگئی ہے،پھرتعمیروترقی کےپس منظرمیں تفصیلی تذکرہ ہوا ہے،پھراسی طرح دوسرےعناوین پرلب کشائی کی جسارت کی گئی ہے۔
۔تیسرا باب دراصل سابقہ دونوں ابواب کانچوڑہے،جو "تحلیلی جائزہ" کےعنوان سےموسوم ہے،تاہم ایسانہیں ہےکہ ایک ہی بات دونوں مقامات پردوہرائی گئی ہو،بلکہ قارئین محسوس کریں گےذیلی عناوین کےتحت کی گئی بیشتر معلومات نئی ہیں اور مشاہداتی احساسات کی ترجمان ہیں۔"(ابتدائیہ،ص 2)
ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف نے قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی حیات وخدمات کی اس اندازمیں منظرکشی کی ہےگویاہم چشم تصور سے قائد اہل سنت کو الجامعة الاشرفیہ کےصحن میں تعلیم وتربیت کےمراحل طےکرتےہوئے،ناگپورکے مدرسہ بالغان میں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کرتےہوئے،دارالعلوم فیض العلوم کےلیےجمشیدپورکےناشناساو
ناآشناماحول میں سائیکل سے گلیوں میں گھومتےہوئے،ایک شخص کےصحن میں مکتب پڑھاتےہوئے،کھلےآسمان تلےسرپرچھاتا تانےبچوں کوزیورعلم سےآراستہ کرنےکی دُھن میں مگن تعلیم وتربیت کرتےہوئے،فیض العلوم کی اراضی کےلیےتگ ودو کرتےہوئے،سنگ بنیاد کی کٹھن منزلوں سےگزرگرجمشیدپورکوحافظ ملت کےخوابوں کی تعبیربناتےہوئے،ممبئی کےساحل پر"آل انڈیامسلم متحدہ محاذ" کی بنیاداور جمشیدپورمیں ممبرسازی نیزکلکتہ میں رفیقان گرامی مجاہد دوراں علامہ سید مظفر حسین کچھوچھوی وعلامہ سیداسرارالحق علیہم الرحمہ کےساتھ ملت کادردبانٹتےہوئے،دہلی میں کل ہند سنی اوقاف کانفرنس کوکامیابی کی منزلوں پرفائزکرتےہوئے،فسادات کی مخالفت اور ریلیف کےاہتمامات کی صورت میں جیل کی سلاخوں
کےپیچھےاوردنیابھرسےقیدکیے
جانےپراحتجاجات،ادارہ شرعیہ بورڈقائم کرتےہوئے،تنظیم مسلم پرسنل لاءکےلیےجدوجہدکرتےہوئے،
حافظ ملت علیہ الرحمہ کےشانہ بہ شانہ قدم بہ قدم چلتےہوئےعنایات واکرام سےمالامال ہوکرجامعہ اشرفیہ مبارک پور کوبام عروج پرپہنچانےکےلیے مساعی جمیلہ کرتےہوئے،مناظرہ کرکے باطل عقائدونظریات کےحقائق کوواشگاف کرتےہوئے،ملک بھرمیں دورےکرکےتنظیم،تحریک اور ادارہ سازی کرتےہوئے،بازؤں کوعزم وہمت اوربلندحوصلوں کےپرلگاکربیرون ممالک برطانیہ،ہالینڈ،سورینام،افریقہ پرواز کرتےہوئےاسلام کی زریں خدمات کےلیےماحول اور ادارہ سازی کرتےہوئے،دلائل الخیرات شریف کی برکتیں لوٹتےہوئے،شب بھردیارغوث میں آہ وفغاں کرتےہوئےملت اسلامیہ کےلیےکچھ کرگزرنےکی آرزوئیں بسائےآنکھوں سےاشک رواں ہوتےہوئے،انوکھےانوکھےالبیلےموضوعات پر کتابیں،مضامین، فتاوی اور تفسیرسپردقرطاس کرتےہوئے،پیرانہ سالی میں عزم جواں لےکرجامعہ نظام الدین دہلی کی اراضی کےلیےدس سال جمشیدپورسےدہلی کےچکرلگاتےہوئے،اور پھرسنگ بنیاد رکھ کر خوابوں کی خوب صورت تعبیرتعمیرکرتےہوئے دیکھ رہےہیں،ان کاوجود ہماری نگاہوں کےسامنےہے۔اورمجاہدانہ زندگی کونگاہوں میں بساکردل یہ آرزو کرتاہےکہ کاش قائداہل سنت آج بھی ہمارےدرمیان ہوتےاورہم قافلہ سالارکی قیادت میں ملت کی بقاءکےلیےجدوجہد کرکےاپنےنصیبےکوچمکاتے۔
جانشین قائداہل سنت علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب کےشکرگزارہیں کہ انھوں نےقائداہل سنت کےشخصی احوال نیزفکری،ملی جدوجہد کوبڑےسلیقےسےتراش خراش کرنسل نوکوماضی سےوابستہ کردیاتاکہ ان نقوش سےرہنمائی پاکر روشن مستقبل کی تعمیرکرسکے۔
حضور حافظ ملت فرماتےہیں"اگرمیرےپاس دولت وثروت ہوتی تومیں اپنےارشدکوسونےپرتولتا۔۔۔۔اور ایک بارتو حالت کیف وسرورمیں یہاں تک کہہ گئےکہ اگرمیرےپاس مولاناارشدالقادری کی طرح دواور جاں باز سپاہی ہوتےتو تومیری حکومت پورےہندوستان پرہوتی۔"(ص:142)
اگرموجودہ دورمیں قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کےمثل چندشخصات عزم وہمت کےساتھ میدان عمل میں نکل آئیں تویقیناآج بھی ملک ہندوستان کامنظرنامہ تبدیل ہوسکتاہے۔
ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف الجامعة الاشرفیہ کےارباب حل عقد کوایک اہم امرکی جانب توجہ دلانےکےلیے اظہارخیال کرتےہوئےرقم طرازہیں:
"میں پورےوثوق کےساتھ کہہ رہاہوں کہ ادارےکےارباب حل وعقد ہمیشہ قائداہل سنت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کو اپنی آنکھوں میں بٹھاتےرہےاور آج بھی وہی محبت وعقیدت ہنوز باقی ہے،لیکن شایدان کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ جہاں الجامعة الاشرفیہ میں بعض عمارتیں اورشعبےاکابرین وخیرخواہوں کےنام سےمنسوب ہیں،وہیں کوئی ایک یادگارقائداہل سنت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کےنام سےبھی قائم ہوجاتی،تومیں سمجھتاہوں کہ ایک طرف اسےتحریک اشرفیہ میں فعال ومتحرک کردار اداکرنےوالےایک وفاشعار،مخلص اور محنتی سپاہی کی عملی خدمات پربہترین خراج عقیدت سےتعبیرکیاجاتااور دوسری طرف خودبانی ادارہ حضورحافظ ملت علامہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کی روح بھی شاداں وفرحاں ہوجاتی کہ وہ عزیزترین شاگرد جوساری عمرسائےکی طرح سےمیرےپیچھےپیچھےرہا،اب اس کےاسم گرامی کےنقوش میری ابدی آرام گاہ کےسائےمیں ثبت ہیں"۔(ص:142)
10 اپریل 2021ء
27 شعبان 1442ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/896071114296741/
جانےپراحتجاجات،ادارہ شرعیہ بورڈقائم کرتےہوئے،تنظیم مسلم پرسنل لاءکےلیےجدوجہدکرتےہوئے،
حافظ ملت علیہ الرحمہ کےشانہ بہ شانہ قدم بہ قدم چلتےہوئےعنایات واکرام سےمالامال ہوکرجامعہ اشرفیہ مبارک پور کوبام عروج پرپہنچانےکےلیے مساعی جمیلہ کرتےہوئے،مناظرہ کرکے باطل عقائدونظریات کےحقائق کوواشگاف کرتےہوئے،ملک بھرمیں دورےکرکےتنظیم،تحریک اور ادارہ سازی کرتےہوئے،بازؤں کوعزم وہمت اوربلندحوصلوں کےپرلگاکربیرون ممالک برطانیہ،ہالینڈ،سورینام،افریقہ پرواز کرتےہوئےاسلام کی زریں خدمات کےلیےماحول اور ادارہ سازی کرتےہوئے،دلائل الخیرات شریف کی برکتیں لوٹتےہوئے،شب بھردیارغوث میں آہ وفغاں کرتےہوئےملت اسلامیہ کےلیےکچھ کرگزرنےکی آرزوئیں بسائےآنکھوں سےاشک رواں ہوتےہوئے،انوکھےانوکھےالبیلےموضوعات پر کتابیں،مضامین، فتاوی اور تفسیرسپردقرطاس کرتےہوئے،پیرانہ سالی میں عزم جواں لےکرجامعہ نظام الدین دہلی کی اراضی کےلیےدس سال جمشیدپورسےدہلی کےچکرلگاتےہوئے،اور پھرسنگ بنیاد رکھ کر خوابوں کی خوب صورت تعبیرتعمیرکرتےہوئے دیکھ رہےہیں،ان کاوجود ہماری نگاہوں کےسامنےہے۔اورمجاہدانہ زندگی کونگاہوں میں بساکردل یہ آرزو کرتاہےکہ کاش قائداہل سنت آج بھی ہمارےدرمیان ہوتےاورہم قافلہ سالارکی قیادت میں ملت کی بقاءکےلیےجدوجہد کرکےاپنےنصیبےکوچمکاتے۔
جانشین قائداہل سنت علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب کےشکرگزارہیں کہ انھوں نےقائداہل سنت کےشخصی احوال نیزفکری،ملی جدوجہد کوبڑےسلیقےسےتراش خراش کرنسل نوکوماضی سےوابستہ کردیاتاکہ ان نقوش سےرہنمائی پاکر روشن مستقبل کی تعمیرکرسکے۔
حضور حافظ ملت فرماتےہیں"اگرمیرےپاس دولت وثروت ہوتی تومیں اپنےارشدکوسونےپرتولتا۔۔۔۔اور ایک بارتو حالت کیف وسرورمیں یہاں تک کہہ گئےکہ اگرمیرےپاس مولاناارشدالقادری کی طرح دواور جاں باز سپاہی ہوتےتو تومیری حکومت پورےہندوستان پرہوتی۔"(ص:142)
اگرموجودہ دورمیں قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کےمثل چندشخصات عزم وہمت کےساتھ میدان عمل میں نکل آئیں تویقیناآج بھی ملک ہندوستان کامنظرنامہ تبدیل ہوسکتاہے۔
ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف الجامعة الاشرفیہ کےارباب حل عقد کوایک اہم امرکی جانب توجہ دلانےکےلیے اظہارخیال کرتےہوئےرقم طرازہیں:
"میں پورےوثوق کےساتھ کہہ رہاہوں کہ ادارےکےارباب حل وعقد ہمیشہ قائداہل سنت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کو اپنی آنکھوں میں بٹھاتےرہےاور آج بھی وہی محبت وعقیدت ہنوز باقی ہے،لیکن شایدان کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ جہاں الجامعة الاشرفیہ میں بعض عمارتیں اورشعبےاکابرین وخیرخواہوں کےنام سےمنسوب ہیں،وہیں کوئی ایک یادگارقائداہل سنت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کےنام سےبھی قائم ہوجاتی،تومیں سمجھتاہوں کہ ایک طرف اسےتحریک اشرفیہ میں فعال ومتحرک کردار اداکرنےوالےایک وفاشعار،مخلص اور محنتی سپاہی کی عملی خدمات پربہترین خراج عقیدت سےتعبیرکیاجاتااور دوسری طرف خودبانی ادارہ حضورحافظ ملت علامہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کی روح بھی شاداں وفرحاں ہوجاتی کہ وہ عزیزترین شاگرد جوساری عمرسائےکی طرح سےمیرےپیچھےپیچھےرہا،اب اس کےاسم گرامی کےنقوش میری ابدی آرام گاہ کےسائےمیں ثبت ہیں"۔(ص:142)
10 اپریل 2021ء
27 شعبان 1442ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/896071114296741/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/896071114296741/
علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ
ایک عہد ساز شخصیت🌹🌹🌹
مبصر : بلال احمدنظامی ، رتلام
https://t.me/islaamic_Knowledge/12425
علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ
ایک عہد ساز شخصیت🌹🌹🌹
مبصر : بلال احمدنظامی ، رتلام
https://t.me/islaamic_Knowledge/12425
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ازالہ_شُبہات_در_آیاتِ_جہاد# قسط چہارم (𝟒) ✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری جامعة الأزهر الشريف ، مصر #شبہ_نمبر - 4҉ 👈🏻 : ایک شک یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ آیاتِ جہاد حقیقتا قرآن کی آیات نہیں ہیں بلکہ اضافہ شدہ ہیں کیونکہ وہ دوسری آیات…
#ازالہ_شُبہات_در_آیاتِ_جہاد
قسط پنجم 【5】
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
#شبہ_نمبر_پانچ░5░ : 👈🏻 اسلام کی پاک دامنی پر ایک افتراء یہ کیا جاتا ہے کہ ہر مذہب میں جنگ و قتال (War) کے اصول و شرائط (Terms and Conditions ) ہوتے ہیں جبکہ اسلام میں ایسے قوانین وشرائط اور تعلیمات نہیں بلکہ اسلام تو آیاتِ جہاد کے ذریعہ صرف مارنے کاٹنے کا ہی حکم دیتا ہے !!!!
#نرسنگانند اور #وسیم_رافضی جیسے مفتریوں کو اسلام کے حقائق کیوں کر معلوم ہوں گے جو ہمہ وقت اسلام میں کمیاں تلاش کرنے میں وقت ضائع کرتے ہیں اور اسلام کے قریب تک نہیں آنا چاہتے.
لذت مہ نہ شناسی بخدا تا نہ چشی
شرابِ محبت جب تک چکھوگے نہیں اس کی لذت سے آشنائی ممکن نہیں.
👈🏻 ہم جنگ میں موقفِ اسلام کے بنیادی اصول و حقائق کو ترتیب وار پیش کرتے ہیں.👇🏻
ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں
▪️ #پہلی_حقیقت : کسی دوسرے پر ظلم و زیادتی چاہے کسی قسم کی ہو بغیر وجہِ حق بہت بڑا جرم ہے جس سے دین اسلام نے سختی سے منع کیا ہے، بحیثیت مسلمان اگر کوئی اس جرم میں ملوث ہوتا ہے اگرچہ کافر کے ہی حق میں کیوں نہ ہو یہ اس پر زیادتی ہے ، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : { وَقَـٰتِلُوا۟ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِینَ یُقَـٰتِلُونَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۤا۟ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا یُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِینَ } [ سورہ البقرہ : 190]
اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔
تفسير بغوی میں ہے ﴿وَلَا تَعْتَدُوا﴾ أَيْ لَا تَقْتُلُوا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَالرُّهْبَانَ وَلَا مَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ
یعنی عورتوں، بچوں، بوڑھوں، راہبوں اور امان طلب کرنے والوں سے نہ لڑو.
اور فرمان خالق کائنات ہے {وَ لا یَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُوا۟ۘ } [سورہ المائدۃ : 2]
اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجدِ حرام سے روکا تھا زیادتی کرنے پر نہ ابھارے.
▪️ #دوسری_حقیقت : جنگ کا مقصد دشمن کو نیست و نابود کرنا نہیں بلکہ اسکے خطرے سے بچنا ہے تو جب خطرہ معاہدہ یا دشمن کے ہتھیار ڈالنے یا راہ فرار اختیار کرنے سے ٹل جائے تو ہرگز اسلام جنگ کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا { وَقَـٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةࣱ وَیَكُونَ ٱلدِّینُ لِلَّهِۖ فَإِنِ ٱنتَهَوۡا۟ فَلَا عُدۡوَ ٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّـٰلِمِینَ } [سورہ البقرۃ :193]
اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر۔
آپ ﷺ نے قریش سے مصالحت فرما کر صلح حدیبیہ جیسی عظیم مثال قائم فرمائی.
اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے غزوہ تبوک میں اہل روم کی فرار پر اپنی ذات کے مفاد کے لئے ان کا تعاقب نہیں فرمایا.
▪️ #تیسری_حقیقت : جنگ صرف میدان جنگ میں موجود لڑنے والے محاربین و مقاتلین سے ہے اور جو ہتھیار سے لیس نہ ہوں، یا میدان جنگ سے دور ہوں، یا امان طلب کریں، یا کنارہ کشی کریں تو ان سے جنگ نہیں { إِلَّا ٱلَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَىٰ قَوۡمِۭ بَیۡنَكُمۡ وَبَیۡنَهُم مِّیثَـٰقٌ أَوۡ جَاۤءُوكُمۡ حَصِرَتۡ صُدُورُهُمۡ أَن یُقَـٰتِلُوكُمۡ أَوۡ یُقَـٰتِلُوا۟ قَوۡمَهُمۡۚ وَلَوۡ شَاۤءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَیۡكُمۡ فَلَقَـٰتَلُوكُمۡۚ فَإِنِ ٱعۡتَزَلُوكُمۡ فَلَمۡ یُقَـٰتِلُوكُمۡ وَأَلۡقَوۡا۟ إِلَیۡكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ عَلَیۡهِمۡ سَبِیلࣰا } [سورة النساء : 90]
مگر وہ جو ایسی قوم سے علاقہ (تعلق) رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سَکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی۔
اسلئے مذکورہ تمام لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں.
▪️ #چوتھی_حقیقت : اگر کسی بھی طرف سے معاہدہ ٹوٹے تو اس پر اعلان جنگ ہے کہ اس نے متفق علیہ عہد و پیمان کو توڑا پھر اس غدار کے محاسبہ میں تاخیر وسستی ظلم کو بڑھاوا دینا، فساد کو پھیلانا، امن و سلامتی کو ضائع کرنا اور قوموں کے ما بین بھروسہ کا فقدان کرنا ہے. دولت اسلامیہ اصلا امن و سلامتی کو ترجیح دیتی ہے, جنگ تو وقتی طور پر مشروع ہوتی ہے مگر جب عہد و پیمان کو توڑا جائے تو پھر اسلام حد سے بڑھنے والوں کا روادار نہیں.
قسط پنجم 【5】
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
#شبہ_نمبر_پانچ░5░ : 👈🏻 اسلام کی پاک دامنی پر ایک افتراء یہ کیا جاتا ہے کہ ہر مذہب میں جنگ و قتال (War) کے اصول و شرائط (Terms and Conditions ) ہوتے ہیں جبکہ اسلام میں ایسے قوانین وشرائط اور تعلیمات نہیں بلکہ اسلام تو آیاتِ جہاد کے ذریعہ صرف مارنے کاٹنے کا ہی حکم دیتا ہے !!!!
#نرسنگانند اور #وسیم_رافضی جیسے مفتریوں کو اسلام کے حقائق کیوں کر معلوم ہوں گے جو ہمہ وقت اسلام میں کمیاں تلاش کرنے میں وقت ضائع کرتے ہیں اور اسلام کے قریب تک نہیں آنا چاہتے.
لذت مہ نہ شناسی بخدا تا نہ چشی
شرابِ محبت جب تک چکھوگے نہیں اس کی لذت سے آشنائی ممکن نہیں.
👈🏻 ہم جنگ میں موقفِ اسلام کے بنیادی اصول و حقائق کو ترتیب وار پیش کرتے ہیں.👇🏻
ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں
▪️ #پہلی_حقیقت : کسی دوسرے پر ظلم و زیادتی چاہے کسی قسم کی ہو بغیر وجہِ حق بہت بڑا جرم ہے جس سے دین اسلام نے سختی سے منع کیا ہے، بحیثیت مسلمان اگر کوئی اس جرم میں ملوث ہوتا ہے اگرچہ کافر کے ہی حق میں کیوں نہ ہو یہ اس پر زیادتی ہے ، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : { وَقَـٰتِلُوا۟ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِینَ یُقَـٰتِلُونَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۤا۟ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا یُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِینَ } [ سورہ البقرہ : 190]
اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔
تفسير بغوی میں ہے ﴿وَلَا تَعْتَدُوا﴾ أَيْ لَا تَقْتُلُوا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَالرُّهْبَانَ وَلَا مَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ
یعنی عورتوں، بچوں، بوڑھوں، راہبوں اور امان طلب کرنے والوں سے نہ لڑو.
اور فرمان خالق کائنات ہے {وَ لا یَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُوا۟ۘ } [سورہ المائدۃ : 2]
اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجدِ حرام سے روکا تھا زیادتی کرنے پر نہ ابھارے.
▪️ #دوسری_حقیقت : جنگ کا مقصد دشمن کو نیست و نابود کرنا نہیں بلکہ اسکے خطرے سے بچنا ہے تو جب خطرہ معاہدہ یا دشمن کے ہتھیار ڈالنے یا راہ فرار اختیار کرنے سے ٹل جائے تو ہرگز اسلام جنگ کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا { وَقَـٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةࣱ وَیَكُونَ ٱلدِّینُ لِلَّهِۖ فَإِنِ ٱنتَهَوۡا۟ فَلَا عُدۡوَ ٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّـٰلِمِینَ } [سورہ البقرۃ :193]
اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر۔
آپ ﷺ نے قریش سے مصالحت فرما کر صلح حدیبیہ جیسی عظیم مثال قائم فرمائی.
اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے غزوہ تبوک میں اہل روم کی فرار پر اپنی ذات کے مفاد کے لئے ان کا تعاقب نہیں فرمایا.
▪️ #تیسری_حقیقت : جنگ صرف میدان جنگ میں موجود لڑنے والے محاربین و مقاتلین سے ہے اور جو ہتھیار سے لیس نہ ہوں، یا میدان جنگ سے دور ہوں، یا امان طلب کریں، یا کنارہ کشی کریں تو ان سے جنگ نہیں { إِلَّا ٱلَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَىٰ قَوۡمِۭ بَیۡنَكُمۡ وَبَیۡنَهُم مِّیثَـٰقٌ أَوۡ جَاۤءُوكُمۡ حَصِرَتۡ صُدُورُهُمۡ أَن یُقَـٰتِلُوكُمۡ أَوۡ یُقَـٰتِلُوا۟ قَوۡمَهُمۡۚ وَلَوۡ شَاۤءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَیۡكُمۡ فَلَقَـٰتَلُوكُمۡۚ فَإِنِ ٱعۡتَزَلُوكُمۡ فَلَمۡ یُقَـٰتِلُوكُمۡ وَأَلۡقَوۡا۟ إِلَیۡكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ عَلَیۡهِمۡ سَبِیلࣰا } [سورة النساء : 90]
مگر وہ جو ایسی قوم سے علاقہ (تعلق) رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سَکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی۔
اسلئے مذکورہ تمام لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں.
▪️ #چوتھی_حقیقت : اگر کسی بھی طرف سے معاہدہ ٹوٹے تو اس پر اعلان جنگ ہے کہ اس نے متفق علیہ عہد و پیمان کو توڑا پھر اس غدار کے محاسبہ میں تاخیر وسستی ظلم کو بڑھاوا دینا، فساد کو پھیلانا، امن و سلامتی کو ضائع کرنا اور قوموں کے ما بین بھروسہ کا فقدان کرنا ہے. دولت اسلامیہ اصلا امن و سلامتی کو ترجیح دیتی ہے, جنگ تو وقتی طور پر مشروع ہوتی ہے مگر جب عہد و پیمان کو توڑا جائے تو پھر اسلام حد سے بڑھنے والوں کا روادار نہیں.
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ازالہ_شُبہات_در_آیاتِ_جہاد# قسط چہارم (𝟒) ✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری جامعة الأزهر الشريف ، مصر #شبہ_نمبر - 4҉ 👈🏻 : ایک شک یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ آیاتِ جہاد حقیقتا قرآن کی آیات نہیں ہیں بلکہ اضافہ شدہ ہیں کیونکہ وہ دوسری آیات…
▪️ ,#پانچویں_حقیقت : اسلام میں مشروعی و عادل جنگ دشمن کے شر کا خاتمہ اور کمزوروں سے ظلم و جبر کو دور کرنے کے لئے ہے. ہر زمانہ قدیم و جدید میں دولت اسلامیہ کے یہ تمام قوانین مظلومین کے حق میں مشروع و قائم رہیں گے، جیسا کہ اللہ رب العزت نے اولِ حکمِ جنگ میں اشارہ فرما دیا کہ بے شک یہ مظلوم مؤمنین کی جانوں کے دفاع کا حق ہے { اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙﰳ (۳۹) الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُؕ } [سورة الحج : 39-40]
پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ اُن کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔ وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے.
تو اس آیت میں بھی جنگ کا حکم مظلومین کو ہے البتہ وہ مقامات جہاں مسلمان حوادث شر سے محفوظ و مانون ہوں تو انہیں فقدان شرائط کے سبب جہاد کی اجازت نہیں.
▪️ #چھٹی_حقیقت : وہ آیات جن میں جنگ کا حکم دیا گیا وہ اُن آیات کے لیے ناسخ نہیں ہیں جن میں دشمنوں کی اذیتوں پر صبر و ضبط کا حکم ہے جو 48 سورتوں میں 114 آیتیں ہیں.
جنگ کو تو ضرورت کے وقت اور دیگر کافی وسائل اپنانے کے بعد اختیار کیا جاتا ہے.
رحمت عالم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا : أَيُّهَا النَّاسُ، لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ العَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ العَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ» " [ صحیح البخاری : 2966]
دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو ، البتہ جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہو ہی جائے( یعنی جب دشمن جنگ پر ہی آمادہ ہو ) تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو (یعنی جم کر دشمن کا مقابلہ کرو) یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے.
پہلے نبی رحمت ﷺ نے عام حالات میں جنگ سے باز رہنے کا حکم دیا اور جب حالات سازگار نہ ہوں اور صلح کی صورت نہ ہو تب مقابلے میں جنگ کا حکم ارشاد فرمایا.
اسلام کے یہ روشن حقائق بھلا ان کو کیسے نظر آ سکتے ہیں جن کے قلب و کان اور آنکھوں پر رب قدیر نے خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ وَعَلَىٰۤ أَبۡصَـٰرِهِمۡ غِشَـٰوَةࣱۖ کی مہر ثبت فرما دی ہو اور ان کے لئے وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِیمࣱ کا حکم صادر فرما دیا ہو.
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( #بن_مناظر_اہل_سنت_علامہ_صغیر_احمد_رضوی_جوکھنپوری ) حفظہ الله
الجامعة القادريہ، رچھا ریلوے اسٹیشن (بریلی شریف)
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
*جاری ...* 📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/896079774295875/
پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ اُن کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔ وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے.
تو اس آیت میں بھی جنگ کا حکم مظلومین کو ہے البتہ وہ مقامات جہاں مسلمان حوادث شر سے محفوظ و مانون ہوں تو انہیں فقدان شرائط کے سبب جہاد کی اجازت نہیں.
▪️ #چھٹی_حقیقت : وہ آیات جن میں جنگ کا حکم دیا گیا وہ اُن آیات کے لیے ناسخ نہیں ہیں جن میں دشمنوں کی اذیتوں پر صبر و ضبط کا حکم ہے جو 48 سورتوں میں 114 آیتیں ہیں.
جنگ کو تو ضرورت کے وقت اور دیگر کافی وسائل اپنانے کے بعد اختیار کیا جاتا ہے.
رحمت عالم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا : أَيُّهَا النَّاسُ، لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ العَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ العَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ» " [ صحیح البخاری : 2966]
دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو ، البتہ جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہو ہی جائے( یعنی جب دشمن جنگ پر ہی آمادہ ہو ) تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو (یعنی جم کر دشمن کا مقابلہ کرو) یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے.
پہلے نبی رحمت ﷺ نے عام حالات میں جنگ سے باز رہنے کا حکم دیا اور جب حالات سازگار نہ ہوں اور صلح کی صورت نہ ہو تب مقابلے میں جنگ کا حکم ارشاد فرمایا.
اسلام کے یہ روشن حقائق بھلا ان کو کیسے نظر آ سکتے ہیں جن کے قلب و کان اور آنکھوں پر رب قدیر نے خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ وَعَلَىٰۤ أَبۡصَـٰرِهِمۡ غِشَـٰوَةࣱۖ کی مہر ثبت فرما دی ہو اور ان کے لئے وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِیمࣱ کا حکم صادر فرما دیا ہو.
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( #بن_مناظر_اہل_سنت_علامہ_صغیر_احمد_رضوی_جوکھنپوری ) حفظہ الله
الجامعة القادريہ، رچھا ریلوے اسٹیشن (بریلی شریف)
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
*جاری ...* 📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/896079774295875/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/895241467713039/ ازالہ شبہات اور آیات جہاد ✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❹ https://t.me/islaamic_Knowledge/12390
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/896079774295875/
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❺
https://t.me/islaamic_Knowledge/12429
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❺
https://t.me/islaamic_Knowledge/12429
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
گگن شاہد اور امر شاہد دو بھائیوں پر مشتمل اک لشکر ہے جو چن چن کر خوبصورت کتابیں شائع کرتا ہے۔اک ایسا معاشرہ جس میں کتابوں کی دکانیں اداس اور کبابوں کی دکانیں قہقہے لگا رہی ہوں، وہاں کتابوں سے عشق کیلئے ایسے ہی عاشقوں کی ضرورت ہے ورنہ شاید ’’چیک بک‘‘ کے علاوہ اور کوئی ’’بک‘‘ ہی دکھائی نہ دے ۔دونوں بھائیوں کا تازہ ترین کارنامہ رحمت اللہ ترکمن کی تحقیقی تصنیف ’’ارطغرل غازی ‘‘ہے۔
اک ایسا حقیقی بھولا بسرا تاریخی کردار جسے اک ڈرامہ نے نئی زندگی دی ہے۔ سلطنت عثمانیہ سے میرا رومانس بہت پرانا ہے۔ 600سال تین براعظموں پر حکومت کرنے والے اس خاندان کی باقاعدہ بنیاد عثمان غازی نے رکھی تھی جس کیلئے زمین ہموار کرنے والا اس کا دلیر، دانا والد ارطغرل غازی (1188-1281) تھا۔
یوں تو ساری کتاب ہی بے حد معلوماتی اور دلچسپ ہے لیکن جس بات نے مجھے ہپناٹائز سا کر دیا وہ ارطغرل غازی کی وصیت ہے، جسے پڑھنے کے بعد میں اب تک سوچ رہا ہوں کہ صدیوں پہلے اک جنگجو قبائلی سردار کے پاس جتنا وژن اور جتنی وزڈم موجود تھی،ہمارے حکمرانوں کے قریب سے بھی نہیں گزری ۔
وہ صدیوں آگے دیکھ رہا تھا، یہ بیچارے اپنی ناک سے آگے دیکھنے کے قابل بھی نہیں ۔جس کے پاؤں زمین پر سر آسمانوں پر تھا ان کےسر پاتال میں اور پاؤں بمشکل زمین پر ہوتے ہیں ۔آج ارطغرل غازی کی یہی صدیوں پرانی وصیت اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ جان سکیں کہ حقیقی قیادت اور سطحی قسم کی موقع پرستانہ سیاست میں فرق کیا ہے ۔
ارطغرل غازی اپنے فرزند عثمان کو ہرلحاظ سے پختہ اور کامل بنانا چاہتا تھا اس لئے اس کی جسمانی تربیت کیلئے تورغوت آلپ، عبدالرحمن غازی، آقچہ قوجہ اور قونور آلپ جیسے عظیم جنگجوؤں کو ذمہ داریاں سونپیں اور روحانی تربیت کے لئے شیخ ادیبالی سے درخواست کی ۔وفات سے قبل عثمان کو وصیت کی جسے عثمانی مورخ ابن کمال نے سلاطین نامہ میں درج کیا ہے ۔
بظاہر یہ الفاظ ارطغرل غازی نے عثمان کیلئے کہے لیکن یہ وصیت ان کی نسل سے ہونے والے تمام سلاطین پر لاگو ہوتی تھی اور تمام عثمانی سلاطین نے اسے مشعل راہ بنایا جو اکثر تواریخ میں مذکور ہے۔ارطغرل کے الفاظ یہ ہیں ۔’’دیکھ بیٹے ! جو اپنے ماضی سے ناواقف ہو، وہ اپنے مستقبل سے بھی بے خبر رہتا ہے۔عثمان ! اپنی تاریخ سے آگہی حاصل کرو تاکہ تم مطمئن ہو کر آگے کی طرف قدم رکھ سکو۔ہمیشہ یاد رکھنا تم کہاں سے آئے تھے اور تم نے جانا کہاں ہے۔بیٹا ! میری دل آزاری کر لینا لیکن ادیبالی کو ناراض نہ کرنا ۔وہ ہمارے خاندان کے چراغ ہیں۔ ان کا ترازو کبھی غلط نہیں ہوتا ۔میرے مخالف ہو جانا لیکن ان کے خلاف نہ ہونا۔میری نافرمانی کرو گے تو میں آزردہ ورنجیدہ ہوں گا لیکن اگر ان کی د ل آزاری ہوئی تو میری آنکھیں تم سے رخ موڑ لیں گی۔میرے یہ الفاظ ادیبالی کیلئے نہیں تمہاری بہتری کیلئے ہیں۔
میری ان باتوں کو وصیت سمجھو۔بیٹا! ہمیں رکنے اور آرام کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ہمیں بہت کم مدت دی گئی ہے۔تمام کاموں سے پہلے دین کے کام پر توجہ کرنا کیونکہ فرائض کا اہتمام دین و سلطنت کے استحکام کا باعث بنتا ہے۔دین کے کاموں کو لاپروا، بدعقیدہ اور راہ راست سے بھٹک جانے والے، گناہ کبیرہ کے مرتکب، حلال و حرام کی تفریق نہ کرنے والے اور ناتجربہ کار افراد کو نہ سونپ دینا۔امور سلطنت کیلئے بھی ایسے لوگوں کے انتخاب سے گریز کرنا کیونکہ خالق کی نافرمانی کرنے والا مخلوق سے بھی کبھی وفاداری نہیں کر سکتا۔ظلم اور بدعت کے قریب نہ جانا اور ایسا کرنے والوں کو حکومت سے دور رکھنا۔
زیادہ عرصہ تک مہمات نہ ہوں تو سپاہیوں کی شجاعت اور قائدین کی فہم وذکا اور معلومات میں کمی اور نقصان ہو گا۔حربی امور کے ماہرین ختم ہوتے جائیں گے۔بیت المال کی حفاظت کرنا، قناعت پسندی اختیار کرنا، مال وزر کو غیر ضروری اشیاء کیلئے خرچ نہ کرنا۔اسراف سے خود کو دور رکھو۔اپنی عسکری قوت اور مال و دولت پہ غرور نہ کرنا کیونکہ وہ ﷲ کی راہ میں عوام الناس کی ضروریات کی فراہمی اور روئے زمین پر عدل پھیلانے کا ذریعہ ہے۔
رعایا میں سے کسی کے مال پر تجاوز نہ کرنا، نیکی اورسخاوت کا ہاتھ بڑھانا۔سپاہ اور دفاعی افواج پر توجہ دینا، علما،صوفیا، صنعت کاران اور اہل قلم حضرات سلطنت کی قوت ہیں۔کسی کے صاحب کمال ہونے کا سنو تو اس کی قربت اختیار کرو۔حقوق ﷲ اور حقوق العباد پر توجہ دینا اور اپنے سے بعد آنے والوں کو بھی یہی نصیحت کرنا۔عدل وانصاف قائم، ظلم کا خاتمہ کرنا اور ہر مشکل میں ﷲ پر یقین کامل رکھنا۔لوگوں کو دشمن اور ظالم کے شر سے محفوظ رکھنا۔کسی شخص کو ناحق سزا نہ دینا۔ لوگوں کو انعام وکرام سے نوازتے رہنا اور سب کی رضا و محبت حاصل کرنا۔
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2977804972498810&id=100008080090753
اک ایسا حقیقی بھولا بسرا تاریخی کردار جسے اک ڈرامہ نے نئی زندگی دی ہے۔ سلطنت عثمانیہ سے میرا رومانس بہت پرانا ہے۔ 600سال تین براعظموں پر حکومت کرنے والے اس خاندان کی باقاعدہ بنیاد عثمان غازی نے رکھی تھی جس کیلئے زمین ہموار کرنے والا اس کا دلیر، دانا والد ارطغرل غازی (1188-1281) تھا۔
یوں تو ساری کتاب ہی بے حد معلوماتی اور دلچسپ ہے لیکن جس بات نے مجھے ہپناٹائز سا کر دیا وہ ارطغرل غازی کی وصیت ہے، جسے پڑھنے کے بعد میں اب تک سوچ رہا ہوں کہ صدیوں پہلے اک جنگجو قبائلی سردار کے پاس جتنا وژن اور جتنی وزڈم موجود تھی،ہمارے حکمرانوں کے قریب سے بھی نہیں گزری ۔
وہ صدیوں آگے دیکھ رہا تھا، یہ بیچارے اپنی ناک سے آگے دیکھنے کے قابل بھی نہیں ۔جس کے پاؤں زمین پر سر آسمانوں پر تھا ان کےسر پاتال میں اور پاؤں بمشکل زمین پر ہوتے ہیں ۔آج ارطغرل غازی کی یہی صدیوں پرانی وصیت اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ جان سکیں کہ حقیقی قیادت اور سطحی قسم کی موقع پرستانہ سیاست میں فرق کیا ہے ۔
ارطغرل غازی اپنے فرزند عثمان کو ہرلحاظ سے پختہ اور کامل بنانا چاہتا تھا اس لئے اس کی جسمانی تربیت کیلئے تورغوت آلپ، عبدالرحمن غازی، آقچہ قوجہ اور قونور آلپ جیسے عظیم جنگجوؤں کو ذمہ داریاں سونپیں اور روحانی تربیت کے لئے شیخ ادیبالی سے درخواست کی ۔وفات سے قبل عثمان کو وصیت کی جسے عثمانی مورخ ابن کمال نے سلاطین نامہ میں درج کیا ہے ۔
بظاہر یہ الفاظ ارطغرل غازی نے عثمان کیلئے کہے لیکن یہ وصیت ان کی نسل سے ہونے والے تمام سلاطین پر لاگو ہوتی تھی اور تمام عثمانی سلاطین نے اسے مشعل راہ بنایا جو اکثر تواریخ میں مذکور ہے۔ارطغرل کے الفاظ یہ ہیں ۔’’دیکھ بیٹے ! جو اپنے ماضی سے ناواقف ہو، وہ اپنے مستقبل سے بھی بے خبر رہتا ہے۔عثمان ! اپنی تاریخ سے آگہی حاصل کرو تاکہ تم مطمئن ہو کر آگے کی طرف قدم رکھ سکو۔ہمیشہ یاد رکھنا تم کہاں سے آئے تھے اور تم نے جانا کہاں ہے۔بیٹا ! میری دل آزاری کر لینا لیکن ادیبالی کو ناراض نہ کرنا ۔وہ ہمارے خاندان کے چراغ ہیں۔ ان کا ترازو کبھی غلط نہیں ہوتا ۔میرے مخالف ہو جانا لیکن ان کے خلاف نہ ہونا۔میری نافرمانی کرو گے تو میں آزردہ ورنجیدہ ہوں گا لیکن اگر ان کی د ل آزاری ہوئی تو میری آنکھیں تم سے رخ موڑ لیں گی۔میرے یہ الفاظ ادیبالی کیلئے نہیں تمہاری بہتری کیلئے ہیں۔
میری ان باتوں کو وصیت سمجھو۔بیٹا! ہمیں رکنے اور آرام کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ہمیں بہت کم مدت دی گئی ہے۔تمام کاموں سے پہلے دین کے کام پر توجہ کرنا کیونکہ فرائض کا اہتمام دین و سلطنت کے استحکام کا باعث بنتا ہے۔دین کے کاموں کو لاپروا، بدعقیدہ اور راہ راست سے بھٹک جانے والے، گناہ کبیرہ کے مرتکب، حلال و حرام کی تفریق نہ کرنے والے اور ناتجربہ کار افراد کو نہ سونپ دینا۔امور سلطنت کیلئے بھی ایسے لوگوں کے انتخاب سے گریز کرنا کیونکہ خالق کی نافرمانی کرنے والا مخلوق سے بھی کبھی وفاداری نہیں کر سکتا۔ظلم اور بدعت کے قریب نہ جانا اور ایسا کرنے والوں کو حکومت سے دور رکھنا۔
زیادہ عرصہ تک مہمات نہ ہوں تو سپاہیوں کی شجاعت اور قائدین کی فہم وذکا اور معلومات میں کمی اور نقصان ہو گا۔حربی امور کے ماہرین ختم ہوتے جائیں گے۔بیت المال کی حفاظت کرنا، قناعت پسندی اختیار کرنا، مال وزر کو غیر ضروری اشیاء کیلئے خرچ نہ کرنا۔اسراف سے خود کو دور رکھو۔اپنی عسکری قوت اور مال و دولت پہ غرور نہ کرنا کیونکہ وہ ﷲ کی راہ میں عوام الناس کی ضروریات کی فراہمی اور روئے زمین پر عدل پھیلانے کا ذریعہ ہے۔
رعایا میں سے کسی کے مال پر تجاوز نہ کرنا، نیکی اورسخاوت کا ہاتھ بڑھانا۔سپاہ اور دفاعی افواج پر توجہ دینا، علما،صوفیا، صنعت کاران اور اہل قلم حضرات سلطنت کی قوت ہیں۔کسی کے صاحب کمال ہونے کا سنو تو اس کی قربت اختیار کرو۔حقوق ﷲ اور حقوق العباد پر توجہ دینا اور اپنے سے بعد آنے والوں کو بھی یہی نصیحت کرنا۔عدل وانصاف قائم، ظلم کا خاتمہ کرنا اور ہر مشکل میں ﷲ پر یقین کامل رکھنا۔لوگوں کو دشمن اور ظالم کے شر سے محفوظ رکھنا۔کسی شخص کو ناحق سزا نہ دینا۔ لوگوں کو انعام وکرام سے نوازتے رہنا اور سب کی رضا و محبت حاصل کرنا۔
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2977804972498810&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جادوگر ایسے ظالم لوگ ہوتے ہیں جو ہنستے بستے گھر اجاڑ کے رکھ دیتے ہیں ۔
رب تعالیﷻ ان کے شر سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے !
اگر کسی کو جادو وغیرہ کے مسائل میں مبتلا ہونے کا شُبہہ ہو تو اسے فی الفور کسی دین دار اور متبع سنت عامل کی طرف رجوع کرنا چاہیے ، تاکہ بروقت حل نکالا جاسکے ۔
سُستی غفلت کرنے کی صورت میں مسائل بڑھ جاتے ہیں اور انھیں سنبھالنا قدرے مشکل ہوجاتاہے ۔
✍️لقمان شاہد
9-4-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3131501137130054&id=100008105947430
رب تعالیﷻ ان کے شر سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے !
اگر کسی کو جادو وغیرہ کے مسائل میں مبتلا ہونے کا شُبہہ ہو تو اسے فی الفور کسی دین دار اور متبع سنت عامل کی طرف رجوع کرنا چاہیے ، تاکہ بروقت حل نکالا جاسکے ۔
سُستی غفلت کرنے کی صورت میں مسائل بڑھ جاتے ہیں اور انھیں سنبھالنا قدرے مشکل ہوجاتاہے ۔
✍️لقمان شاہد
9-4-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3131501137130054&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل " عقیدت و محبت " ہمیں گاؤں آرائیاں لے گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں ایک عاشق رسول کی قبر تھی ، جسے دنیا محمد علی ظہوری کے نام سے جانتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کی نعتیں محفلوں میں جان ڈال دیتی ہیں ۔
اس کے بعد لاہور ، رنگ محل کے سامنے مقبرہ ایاز پر حاضری دی ۔
حضرت ایاز ، سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ کے سپہ سالار تھے ۔
بڑے نیک سیرت ، عقل مند ، مدبر اور باوفا تھے ؛ سلطان رحمہ اللہ آپ سے بڑی محبت کرتے تھے ۔
آپ آخری عمر میں غزنی واپس نہیں گئے بلکہ اپنا سارا مال غربا و مساکین میں تقسیم کرکے درویشی اختیار کرلی اور لاہور کے بزرگان دین رحمھم اللہ کی صحبت میں رہنے لگے ، اور یہیں وصال فرمایا ۔
آپ کی بے لوث محبت اور دانائی کی مثالیں فارسی ادب کی زینت ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
10-4-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3132863076993860&id=100008105947430
اس کے بعد لاہور ، رنگ محل کے سامنے مقبرہ ایاز پر حاضری دی ۔
حضرت ایاز ، سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ کے سپہ سالار تھے ۔
بڑے نیک سیرت ، عقل مند ، مدبر اور باوفا تھے ؛ سلطان رحمہ اللہ آپ سے بڑی محبت کرتے تھے ۔
آپ آخری عمر میں غزنی واپس نہیں گئے بلکہ اپنا سارا مال غربا و مساکین میں تقسیم کرکے درویشی اختیار کرلی اور لاہور کے بزرگان دین رحمھم اللہ کی صحبت میں رہنے لگے ، اور یہیں وصال فرمایا ۔
آپ کی بے لوث محبت اور دانائی کی مثالیں فارسی ادب کی زینت ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
10-4-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3132863076993860&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
🕋 کیا نماز تراویح قرآن شریف دیکھ کر پڑھائی جا سکتی ہے ؟
ا====================
ٹیلیگرام لنک : t.me/fikrerazadarulifta
ا====================
🚫 سوال:
کیا نماز تراویح قرآن شریف دیکھ کر پڑھائی جا سکتی ہے ؟
اور مقتدی دوران تراویح قرآن شریف دیکھ سکتا ہے ، امام صاحب کی اقتداء کرتے ہوئے ؟
🔮 سائل:
ڈاکٹر مرزا وقار رضوی
حیدرآباد دکن
مورخہ : 9 مئ 2019
ا=====================
📱 موبائل : +971-559060076
ا=====================
✍🏼 الجواب :
📝 نماز تراویح ہو یا پھر اور کوئی نماز، قرآن کریم دیکھ کر قرأت کرنا درست نہیں. اس طرح پڑھنے سے احناف کے نزدیک نماز فاسد ہوجاتی ہے.
💠 جیسا کہ امام برہان الدین مرغینانی عليه رحمة الرضوان الهداية شرح البداية میں تحریر فرماتے ہیں:
إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ مِنْ الْمُصْحَفِ فَسَدَتْ صَلَاتُه، عِنْدَ أَبِي حَنِیفَةَ رَحِمَهُ اﷲُ وَقَالَا هِیَ تَامَّةٌ، لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ انْضَافَتْ إلَی عِبَادَةٍ أُخْرَی، إلَّا أَنَّهُ یُکْرَهُ لِأَنَّهُ تَشَبُّہٌ بِصَنِیعِ أَهْلِ الْکِتَابِ، وَلِأَبِي حَنِیفَةَ رَحِمَهُ ﷲُ أَنَّ حَمْلَ الْمُصْحَفِ وَالنَّظَرَ فِیهِ وَتَقْلِیبَ الْأَوْرَاقِ عَمَلٌ کَثِیرٌ، وَلِأَنَّهُ تَلَقُّنٌ مِنْ الْمُصْحَفِ فَصَارَ کَمَا إذَا تَلَقَّنَ مِنْ غَیْرِهِ، وَعَلَی هَذَا لَا فَرْقَ بَیْنَ الْمَوْضُوعِ وَالْمَحْمُولِ، وَعَلَی الْأَوَّلِ یَفْتَرِقَانؤِ.
📖 جب امام (یا عام نمازی) نے قرآن سے دیکھ کر قراء ت کی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے گی اور امام ابویوسف اور امام محمد نے کہا: یہ نماز مکمل ہے کیونکہ اس نماز کے ساتھ ایک اور عبادت مل گئی ہے، البتہ یہ نماز مکروہ ہے کیونکہ یہ اہل کتاب کے عمل کے مشابہ ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ مصحف کو اٹھانا اسکو پڑھنا اور اس کے اوراق پلٹنا عمل کثیر ہے اور اس لئے کہ اس میں قرآن سے لقمہ لینا ہے۔ لہٰذا یہ اُسی طرح ہوگیا جس طرح خارج از نماز شخص سے نماز میں لقمہ لیا جائے۔ اس اعتبار سے اس میں کوئی فرق نہیں ہے، خواہ مصحف کو اٹھایا ہو یا رکھا ہوا ہو، اور پہلے قول یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کے قول کے مطابق دونوں میں فرق ہے.
یہاں دو باتیں قابل غور ہیں.
1⃣ اول: یہ کہ اگر مصحفِ قرآن کو دائیں یا بائیں طرف رکھ کر اسے دیکھا جائے تو استقبالِ قبلہ نہیں رہتا‘ جبکہ قرآنِ مجید نے نماز کی بنیادی شرط یہ بیان کی ہے. فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ.(البقرة)
آپ اپنا رخ مسجدِ حرام کی سمت کرلیں.
2⃣ دوم : یہ کہ قیام کی حالت میں نمازی کے لیے مستحب ہے کہ نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہو کیونکہ اس سے دلجمعی پیدا ہوتی ہے اور خشوع و خضوع کے آثار نمایاں ہوتے ہیں. مصحف سے دیکھ کر تلاوت کرنے کی صورت میں نگاہ یقیناً قرآن مجید کے صفحات و حروف پر ہوگی، جس سے نماز کا یہ اہم ادب فوت ہوجائے گا.
💠 اور اسی طرح صاحب بہار شریعت صدر الشریعه عليه رحمة الله التقوى ''درمختار، ردالمحتار'' کہ حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ
''نماز میں مصحف شریف سے دیکھ کر پڑھنا مطلقاً مفسد نماز ہے، یو ہیں اگر محراب وغیرہ میں لکھا ہو اسے دیکھ کر پڑھنا بھی مفسد ہے''
📗 بہار شریعت جلد 1 حصہ 3 س 609 مفسدات نماز کا بیان
💠 آخر میں فقه حنبلی کی مشہور کتاب ”شرح منتهي الإرادات“ کی یہ عبارت ذکر کرنا مناسب معلومہ ہوتا ہے.
وَیکرہ لِلحافظ حتی في قیامِ رمضان، لأنه یشغل عن الخشوعِ وعن النظرِ إلی موضع السجود․
”حافظِ قرآن کے لیے نمازِ تراویح میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مکروہ ہے. اس لیے کہ یہ خشوع پیدا کرنے میں مخل ہے اور قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ نگاہ رکھنے سے مانع ہے.
وﷲ تعالیٰ أعلم وعلمه أتم واحکم.
ا=====================
✒ مفتی محمد گلفام رضا برکاتی سعدی نعیمی
📜 : قادری دارالافتاء، سنبھل، یوپی. الهند.
🏢 مقیم حال
جامعة الإسلامية ،كييف، یوکرین، یورب
ا====================
ا====================
ٹیلیگرام لنک : t.me/fikrerazadarulifta
ا====================
🚫 سوال:
کیا نماز تراویح قرآن شریف دیکھ کر پڑھائی جا سکتی ہے ؟
اور مقتدی دوران تراویح قرآن شریف دیکھ سکتا ہے ، امام صاحب کی اقتداء کرتے ہوئے ؟
🔮 سائل:
ڈاکٹر مرزا وقار رضوی
حیدرآباد دکن
مورخہ : 9 مئ 2019
ا=====================
📱 موبائل : +971-559060076
ا=====================
✍🏼 الجواب :
📝 نماز تراویح ہو یا پھر اور کوئی نماز، قرآن کریم دیکھ کر قرأت کرنا درست نہیں. اس طرح پڑھنے سے احناف کے نزدیک نماز فاسد ہوجاتی ہے.
💠 جیسا کہ امام برہان الدین مرغینانی عليه رحمة الرضوان الهداية شرح البداية میں تحریر فرماتے ہیں:
إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ مِنْ الْمُصْحَفِ فَسَدَتْ صَلَاتُه، عِنْدَ أَبِي حَنِیفَةَ رَحِمَهُ اﷲُ وَقَالَا هِیَ تَامَّةٌ، لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ انْضَافَتْ إلَی عِبَادَةٍ أُخْرَی، إلَّا أَنَّهُ یُکْرَهُ لِأَنَّهُ تَشَبُّہٌ بِصَنِیعِ أَهْلِ الْکِتَابِ، وَلِأَبِي حَنِیفَةَ رَحِمَهُ ﷲُ أَنَّ حَمْلَ الْمُصْحَفِ وَالنَّظَرَ فِیهِ وَتَقْلِیبَ الْأَوْرَاقِ عَمَلٌ کَثِیرٌ، وَلِأَنَّهُ تَلَقُّنٌ مِنْ الْمُصْحَفِ فَصَارَ کَمَا إذَا تَلَقَّنَ مِنْ غَیْرِهِ، وَعَلَی هَذَا لَا فَرْقَ بَیْنَ الْمَوْضُوعِ وَالْمَحْمُولِ، وَعَلَی الْأَوَّلِ یَفْتَرِقَانؤِ.
📖 جب امام (یا عام نمازی) نے قرآن سے دیکھ کر قراء ت کی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے گی اور امام ابویوسف اور امام محمد نے کہا: یہ نماز مکمل ہے کیونکہ اس نماز کے ساتھ ایک اور عبادت مل گئی ہے، البتہ یہ نماز مکروہ ہے کیونکہ یہ اہل کتاب کے عمل کے مشابہ ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ مصحف کو اٹھانا اسکو پڑھنا اور اس کے اوراق پلٹنا عمل کثیر ہے اور اس لئے کہ اس میں قرآن سے لقمہ لینا ہے۔ لہٰذا یہ اُسی طرح ہوگیا جس طرح خارج از نماز شخص سے نماز میں لقمہ لیا جائے۔ اس اعتبار سے اس میں کوئی فرق نہیں ہے، خواہ مصحف کو اٹھایا ہو یا رکھا ہوا ہو، اور پہلے قول یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کے قول کے مطابق دونوں میں فرق ہے.
یہاں دو باتیں قابل غور ہیں.
1⃣ اول: یہ کہ اگر مصحفِ قرآن کو دائیں یا بائیں طرف رکھ کر اسے دیکھا جائے تو استقبالِ قبلہ نہیں رہتا‘ جبکہ قرآنِ مجید نے نماز کی بنیادی شرط یہ بیان کی ہے. فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ.(البقرة)
آپ اپنا رخ مسجدِ حرام کی سمت کرلیں.
2⃣ دوم : یہ کہ قیام کی حالت میں نمازی کے لیے مستحب ہے کہ نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہو کیونکہ اس سے دلجمعی پیدا ہوتی ہے اور خشوع و خضوع کے آثار نمایاں ہوتے ہیں. مصحف سے دیکھ کر تلاوت کرنے کی صورت میں نگاہ یقیناً قرآن مجید کے صفحات و حروف پر ہوگی، جس سے نماز کا یہ اہم ادب فوت ہوجائے گا.
💠 اور اسی طرح صاحب بہار شریعت صدر الشریعه عليه رحمة الله التقوى ''درمختار، ردالمحتار'' کہ حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ
''نماز میں مصحف شریف سے دیکھ کر پڑھنا مطلقاً مفسد نماز ہے، یو ہیں اگر محراب وغیرہ میں لکھا ہو اسے دیکھ کر پڑھنا بھی مفسد ہے''
📗 بہار شریعت جلد 1 حصہ 3 س 609 مفسدات نماز کا بیان
💠 آخر میں فقه حنبلی کی مشہور کتاب ”شرح منتهي الإرادات“ کی یہ عبارت ذکر کرنا مناسب معلومہ ہوتا ہے.
وَیکرہ لِلحافظ حتی في قیامِ رمضان، لأنه یشغل عن الخشوعِ وعن النظرِ إلی موضع السجود․
”حافظِ قرآن کے لیے نمازِ تراویح میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مکروہ ہے. اس لیے کہ یہ خشوع پیدا کرنے میں مخل ہے اور قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ نگاہ رکھنے سے مانع ہے.
وﷲ تعالیٰ أعلم وعلمه أتم واحکم.
ا=====================
✒ مفتی محمد گلفام رضا برکاتی سعدی نعیمی
📜 : قادری دارالافتاء، سنبھل، یوپی. الهند.
🏢 مقیم حال
جامعة الإسلامية ،كييف، یوکرین، یورب
ا====================
Telegram
فکرِ رضا دارالافتاء
اہل سنت کے مسائل کے حل کے لئے رابطہ رکھیں!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM