In halat mein ham kya karey ???
Aghyaar K Saath Hamaara Bartaao - 1
Khutba E Sadaarat
Jamyiyat Aaliyah Muradabad
In
1925
Huzoor Hujjatul Islaam Alaihirrehmah
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3925768607466337&id=100000997085666
Aghyaar K Saath Hamaara Bartaao - 1
Khutba E Sadaarat
Jamyiyat Aaliyah Muradabad
In
1925
Huzoor Hujjatul Islaam Alaihirrehmah
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3925768607466337&id=100000997085666
In halat mein ham kya karey ???
Aghyaar K Saath Hamaara Bartaao - 2/7
Khutba E Sadaarat
Jamyiyat Aaliyah Muradabad
In
1925
Musalmanan E Hind k Mazhabi Halat , Taaleemi Pasmandagi , Iqtisaadi Masaayil , aur Siyaasi Haalat par Muhaqqiqaanah Tajziyah , aur Faatihaanah Iqdaam k liye Muassar Laahai amal
Shehzadah E Alahazrat Hujjatul Islaam Hazrat Allama Shah Haamid Raza Khan Alaihirrehmah Ka Tehreer Kardah
<<Khutbah E Sadaarat >>
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3928724337170764&id=100000997085666
Aghyaar K Saath Hamaara Bartaao - 2/7
Khutba E Sadaarat
Jamyiyat Aaliyah Muradabad
In
1925
Musalmanan E Hind k Mazhabi Halat , Taaleemi Pasmandagi , Iqtisaadi Masaayil , aur Siyaasi Haalat par Muhaqqiqaanah Tajziyah , aur Faatihaanah Iqdaam k liye Muassar Laahai amal
Shehzadah E Alahazrat Hujjatul Islaam Hazrat Allama Shah Haamid Raza Khan Alaihirrehmah Ka Tehreer Kardah
<<Khutbah E Sadaarat >>
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3928724337170764&id=100000997085666
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Answer ::-
Hazrat Taajushariyah Alaihirrehmah
Suwaal ::-
Kya Awaam Mein kisi ko yeh HAQ haasil hai ki woh kisi gustaakh e rasool sallALLAHu alaihi wasallam ko Qatl krdey? Aur agar woh kardey to shara shareef mein us k liye kya hukm hai ?
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3919429148100283&id=100000997085666
Hazrat Taajushariyah Alaihirrehmah
Suwaal ::-
Kya Awaam Mein kisi ko yeh HAQ haasil hai ki woh kisi gustaakh e rasool sallALLAHu alaihi wasallam ko Qatl krdey? Aur agar woh kardey to shara shareef mein us k liye kya hukm hai ?
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3919429148100283&id=100000997085666
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کفن بدوش نکلنے کا وقت آیا ہے
ہر شاتم رسول کی تعزیر فکس ہے
ذرا بھی حرف گر آئے شہِ عالم کی
مصطفیٰ کی اہانت گوارہ نہیں!
// // از سلمان رضا فریدی
اٹھا سکتے ہیں غم کا بوجھ ہر
ہم سے ہزار درجہ بہتر اک پرندہ
سب سے پہلے خون کا فیصلہ
ہندوستان میں گستاخ رسول ...
کو سزا سلطان اسلام یا حاکم...
ہر شاتم رسول کی تعزیر فکس ہے
ذرا بھی حرف گر آئے شہِ عالم کی
مصطفیٰ کی اہانت گوارہ نہیں!
// // از سلمان رضا فریدی
اٹھا سکتے ہیں غم کا بوجھ ہر
ہم سے ہزار درجہ بہتر اک پرندہ
سب سے پہلے خون کا فیصلہ
ہندوستان میں گستاخ رسول ...
کو سزا سلطان اسلام یا حاکم...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اربابِ تخیل کی حقیقت فراموشی
تحریر : مولانا طارق انور مصباحی
مبسملا و حامدا::ومصلیا ومسلما
بہت مشہور مقولہ ہے:
"الکفر ملۃ واحدۃ"
اسلام کے خلاف تمام کفار گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں اور اہل اسلام پر تابڑتوڑ حملے کرتے ہیں۔بھارت میں ہنود,برما میں بدھشٹ,چین میں کمیونسٹ,یوروپ وامریکہ میں نصاری اور اسرائیل وفلسطین میں یہود۔
کافر ہر فرد و فرقہ دشمن مارا
مرتد,مشرک,یہود و گیر وترسا
ان تمام حقائق کے باوجود ایک باریک فرق نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔اس کی جانب اشارہ کے ساتھ قرآن مقدس کی شہادت بھی ذیل میں نقش کرتا ہوں۔
جب نائن الیون کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک نے اسلام کے خلاف زہر افشانی شروع کی اور مذہب اسلام کی صاف ستھری شبیہ کو داغ دار کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اور یوروپین ممالک میں بہت سے عیسائیوں نے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور بہت سے لوگ اسلام کے قریب ہو گئے اور عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔
بعض دانشوران یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت میں بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد ہندو لوگ اسلام کے قریب ہوں گے اور بہت سے ہنود اسلام قبول کر لیں گے,حالاں کہ ایسی امید نہیں۔
اس کے چند اسباب درج ذیل ہیں۔
1-عیسائیوں کی نرمی کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ اسی طرح یہود اور مشرکین کی سختی کا ذکر بھی ہے۔
سب ہمارے دشمن ہی ہیں, لیکن دشمنوں میں فرق ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَ ٰوَةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلۡیَهُودَ وَٱلَّذِینَ أَشۡرَكُوا۟ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِینَ قَالُوۤا۟ إِنَّا نَصَـٰرَىٰۚ ذَ ٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّیسِینَ وَرُهۡبَانࣰا وَأَنَّهُمۡ لَا یَسۡتَكۡبِرُونَ
[سورة المائدة : 82]
ارشاد خداوندی ہے:
ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلَىٰۤ ءَاثَـٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیۡنَا بِعِیسَى ٱبۡنِ مَرۡیَمَ وَءَاتَیۡنَـٰهُ ٱلۡإِنجِیلَۖ وَجَعَلۡنَا فِی قُلُوبِ ٱلَّذِینَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةࣰ وَرَحۡمَةࣰۚ
(سورہ حدید، آیت 27)
2-قوم ہنود کی فطرت مثل قوم یہود ہے۔یہودیوں نے سالہا سال کی مشقت و جاں فشانی کے بعد فلسطین کو یہودی راشٹر بنا لیا اور قوم ہنود بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی کوشش میں ہے۔
بہت سے ممالک میں عیسائیوں کی حکمرانی ہے,لیکن کسی ملک کو عیسائی راشٹر نہیں بنایا گیا ہے۔
3-مشرکین ہند میں سے ایس سی,ایس ٹی اور اوبی سی کے بہت سے طبقات مسلمانوں کے حق میں نرم ہیں تو اس کا سبب اصلی یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے برہمنی مظالم کو دیکھ کر مسلمانوں کے قریب ہیں۔برہمنوں نے ساڑھے تین ہزار سالوں سے آج تک ان کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور آج تک ان پر آرین اقوام کی طرف سے ظلم وستم کا سلسلہ جاری ہے۔
دلت اور آدی واسی وغیرہ اسلام کی محبت میں مسلمانوں کے قریب نہیں، بلکہ اپنے آبا واجداد پر برہمنی ظلم وستم کی تاریخی روایات وواقعات سے آشنائی کے بعد وہ آرین اقوام سے متنفر ہو جاتے ہیں اور اسلام کے قانون مساوات اور اصول عدل وانصاف کے سبب وہ مسلمانوں سے بغل گیر ہوتے ہیں۔
سکھوں پر جب حکومت ہند کی طرف سے حملے ہوئے۔ان کے مقدس مذہبی مقام یعنی امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر 1984 میں آپریشن بلیو اسٹار ہوا,تب وہ قوم ہنود سے متنفر ہوئے,ورنہ عہد مغلیہ کے دور متوسط سے آزادی ہند کے بعد تک وہ مسلمانوں کے خون کے ایسے پیاسے تھے کہ وہ ہمارا خون پیتے جاتے تھے اور ان کی پیاس نہیں بجھتی تھی,جیسے ابھی فرقہ پرست ہنود کا حال ہے۔اس ظلم وستم کے بعد پنجابیوں کو ہوش آیا اور وہ مسلمانوں کے قریب ہونے لگے۔
الحاصل ہمیں نصاری اور غیر نصاری میں فرق کرنا ہو گا۔کسی خوش فہمی میں مگن رہنا نقصان دہ ثابت ہو گا۔مدہوشی کو دور کریں اور اور فکر وتدبیر کی راہ اپنائیں۔قوم ہنود مثل یہود ہے,مثل نصاری نہیں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:09:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/895636534340199/
تحریر : مولانا طارق انور مصباحی
مبسملا و حامدا::ومصلیا ومسلما
بہت مشہور مقولہ ہے:
"الکفر ملۃ واحدۃ"
اسلام کے خلاف تمام کفار گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں اور اہل اسلام پر تابڑتوڑ حملے کرتے ہیں۔بھارت میں ہنود,برما میں بدھشٹ,چین میں کمیونسٹ,یوروپ وامریکہ میں نصاری اور اسرائیل وفلسطین میں یہود۔
کافر ہر فرد و فرقہ دشمن مارا
مرتد,مشرک,یہود و گیر وترسا
ان تمام حقائق کے باوجود ایک باریک فرق نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔اس کی جانب اشارہ کے ساتھ قرآن مقدس کی شہادت بھی ذیل میں نقش کرتا ہوں۔
جب نائن الیون کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک نے اسلام کے خلاف زہر افشانی شروع کی اور مذہب اسلام کی صاف ستھری شبیہ کو داغ دار کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اور یوروپین ممالک میں بہت سے عیسائیوں نے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور بہت سے لوگ اسلام کے قریب ہو گئے اور عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔
بعض دانشوران یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت میں بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد ہندو لوگ اسلام کے قریب ہوں گے اور بہت سے ہنود اسلام قبول کر لیں گے,حالاں کہ ایسی امید نہیں۔
اس کے چند اسباب درج ذیل ہیں۔
1-عیسائیوں کی نرمی کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ اسی طرح یہود اور مشرکین کی سختی کا ذکر بھی ہے۔
سب ہمارے دشمن ہی ہیں, لیکن دشمنوں میں فرق ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَ ٰوَةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلۡیَهُودَ وَٱلَّذِینَ أَشۡرَكُوا۟ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةࣰ لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِینَ قَالُوۤا۟ إِنَّا نَصَـٰرَىٰۚ ذَ ٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّیسِینَ وَرُهۡبَانࣰا وَأَنَّهُمۡ لَا یَسۡتَكۡبِرُونَ
[سورة المائدة : 82]
ارشاد خداوندی ہے:
ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلَىٰۤ ءَاثَـٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیۡنَا بِعِیسَى ٱبۡنِ مَرۡیَمَ وَءَاتَیۡنَـٰهُ ٱلۡإِنجِیلَۖ وَجَعَلۡنَا فِی قُلُوبِ ٱلَّذِینَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةࣰ وَرَحۡمَةࣰۚ
(سورہ حدید، آیت 27)
2-قوم ہنود کی فطرت مثل قوم یہود ہے۔یہودیوں نے سالہا سال کی مشقت و جاں فشانی کے بعد فلسطین کو یہودی راشٹر بنا لیا اور قوم ہنود بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی کوشش میں ہے۔
بہت سے ممالک میں عیسائیوں کی حکمرانی ہے,لیکن کسی ملک کو عیسائی راشٹر نہیں بنایا گیا ہے۔
3-مشرکین ہند میں سے ایس سی,ایس ٹی اور اوبی سی کے بہت سے طبقات مسلمانوں کے حق میں نرم ہیں تو اس کا سبب اصلی یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے برہمنی مظالم کو دیکھ کر مسلمانوں کے قریب ہیں۔برہمنوں نے ساڑھے تین ہزار سالوں سے آج تک ان کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور آج تک ان پر آرین اقوام کی طرف سے ظلم وستم کا سلسلہ جاری ہے۔
دلت اور آدی واسی وغیرہ اسلام کی محبت میں مسلمانوں کے قریب نہیں، بلکہ اپنے آبا واجداد پر برہمنی ظلم وستم کی تاریخی روایات وواقعات سے آشنائی کے بعد وہ آرین اقوام سے متنفر ہو جاتے ہیں اور اسلام کے قانون مساوات اور اصول عدل وانصاف کے سبب وہ مسلمانوں سے بغل گیر ہوتے ہیں۔
سکھوں پر جب حکومت ہند کی طرف سے حملے ہوئے۔ان کے مقدس مذہبی مقام یعنی امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر 1984 میں آپریشن بلیو اسٹار ہوا,تب وہ قوم ہنود سے متنفر ہوئے,ورنہ عہد مغلیہ کے دور متوسط سے آزادی ہند کے بعد تک وہ مسلمانوں کے خون کے ایسے پیاسے تھے کہ وہ ہمارا خون پیتے جاتے تھے اور ان کی پیاس نہیں بجھتی تھی,جیسے ابھی فرقہ پرست ہنود کا حال ہے۔اس ظلم وستم کے بعد پنجابیوں کو ہوش آیا اور وہ مسلمانوں کے قریب ہونے لگے۔
الحاصل ہمیں نصاری اور غیر نصاری میں فرق کرنا ہو گا۔کسی خوش فہمی میں مگن رہنا نقصان دہ ثابت ہو گا۔مدہوشی کو دور کریں اور اور فکر وتدبیر کی راہ اپنائیں۔قوم ہنود مثل یہود ہے,مثل نصاری نہیں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:09:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/895636534340199/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/895636534340199/
اربابِ تخیل کی حقیقت فراموشی
تحریر : مولانا طارق انور مصباحی
https://t.me/islaamic_Knowledge/12422
اربابِ تخیل کی حقیقت فراموشی
تحریر : مولانا طارق انور مصباحی
https://t.me/islaamic_Knowledge/12422
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#مطالعہ_کی_میزسے
#علامہ_ارشدالقادری_ایک_عہدسازشخصیت
#مبصر:بلال احمدنظامی،رتلام
تقریبا چھے سات ماہ قبل ایک اشتہاردیکھاجس میں رعایتی قیمت کےساتھ قائداہل سنت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کےتمام نثری ونظمی شہ پاروں کی ازسرنوجدیدرنگ وآہنگ کےساتھ 28 جلدوں میں "موسوعہ اسلامیہ"کےنام سےموسوم کرکےترتیب نوواشاعت نوکااعلان کیاگیاتھا۔اشتہاردیکھتےہی خریدنےکی نیت کی اور جب بکنک شروع ہوئی تو اول فرصت میں بک کرواکرتمام کتابیں حاصل کرلیں۔
قائداہل سنت کی تحریریں دیکھ کرہی دل للچانےلگتاہے،کیوں کہ قائداہل سنت علیہ الرحمہ کی تحریریں شستہ شائشتہ،ادبی علمی اور خاص اسلوب کی حامل ہوتی ہیں۔جسےکون خریدکراپنی لائبریری کی زینت بناکرآنکھوں کاسرمہ نہ بنائےاور اپنےعلم وفکراور قلم کوتوانائی عطانہ کرے۔میں نےبھی لائبریری کی زینت بناکرآنکھوں کاسرمہ بنانےکی کوشش کی۔
کتابیں موصول ہونےکےبعدجہاں جہاں مجاہد دوراں علامہ سیدمظفرحسین کچھوچھوی علیہ الرحمہ کےتذکرےکےامکانات تھے،چیدہ چیدہ وہ تمام تحریریں اور کتابیں دیکھی اور اس نیت کےساتھ رکھ دی کہ رمضان شریف میں تحریری امورکوکچھ وقت کےلےموقوف کرکےقائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی کتابوں کویکسوئی کےساتھ پڑھاجائےگا۔
موسوعہ اسلامیہ کوجدیدرنگ وآہنگ،تقدیم وتحشیہ،تخریج اور ضروری اضافات کےساتھ دیدہ زیب،جاذب نظر اور دل کش سرورق،عمدہ کاغذ اور بہترین پرنٹ کےساتھ جانشین قائد اہل سنت حضرت علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ نے دارالکتاب دہلی سےشائع کرواکرقائداہل سنت علیہ الرحمہ کی روح کوبہترین خراج عقیدت پیش کیا۔
علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب قبلہ دنیاےعلم وادب کےایک چمکتےدمکتےستارےہیں۔ جن کےاشہب قلم سےنکلی ہوئی متعدد تحریریں اور کتابیں اہل علم وادب کی آنکھوں کاسرمہ بن کرذہن وفکرکی وسعتوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکی ہیں۔ڈاکٹرصاحب قبلہ کی تحریریں بڑی پرلطف،سنجیدہ اوردعوت فکردیتی ہوئی نظرآتی ہیں۔
جس طرح مصنف نےدوماہ کےدرمیان میں اس کتاب کوتصنیف کیاہےاسی مناسبت سےراقم نےدودن میں کتاب کامطالعہ مکمل کیا۔
قائداہل سنت حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ مجمع الکمالات، یگانہ روزگار،آفاقی اور عبقری شخصیت تھے۔جن کی زندگی کالمحہ لمحہ دین وملت کی خدمات میں صرف ہوا۔کبھی ملی مسائل کےلیےمشکل وادیوں کی سیرکررہےہیں تو کبھی قلم کی جولانی سےایوان باطل میں زلزلہ برپاکررہےہیں۔جس سمت اور جس جہت سےدیکھیےقائد اہل سنت علیہ الرحمہ اپنےعہدکی ممتاز ومنفرد شخصیت نظرآتےہیں۔
علامہ ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف نےزیرنظرکتاب میں قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی ہمہ جہت جدوجہد،تگ ودو،ملی اقدامات،درس وتدریس،قرطاس وقلم،رشدوہدایت،مناظرہ ومجادلہ،تحریک وتنظیم،قیادت وسیادت،وعظ وخطابت،اور تعمیروترقی کےمناظرسمونےکی کامیاب کوشش کی ہے۔
کتاب کاتعارف کرواتےہوئےمصنف رقم طرازہیں:
"پیش نگاہ کتاب تین ابواب پرمشتمل ہے،پہلےباب میں آپ کےآباؤاجداد سےلےکرآپ کی ولادت،تعلیم وتربیت،درس وتدریس،سفروسیاحت،حج وزیارت اور آپ کےوصال تک،نیزتعزیتی پیغامات پربھی گفتگو کی گئی ہے۔
دوسرا باب آپ کی خدمات پر مشتمل ہے،جس میں سہولت کےلیےمختلف ذیلی عناوین قائم کیےگئےہیں۔پھرہرعنوان کی مناسبت سےآپ کی سرگرمیوں پر اظہار خیال کی کوشش کی گئی ہے۔آپ کی گوناگوں علمی شخصیت کاسب سےامتیازی پہلوچونکہ قرطاس وقلم سےمتعلق ہے،اس لیےیہ گفتگو قدرےطویل ہوگئی ہے،پھرتعمیروترقی کےپس منظرمیں تفصیلی تذکرہ ہوا ہے،پھراسی طرح دوسرےعناوین پرلب کشائی کی جسارت کی گئی ہے۔
۔تیسرا باب دراصل سابقہ دونوں ابواب کانچوڑہے،جو "تحلیلی جائزہ" کےعنوان سےموسوم ہے،تاہم ایسانہیں ہےکہ ایک ہی بات دونوں مقامات پردوہرائی گئی ہو،بلکہ قارئین محسوس کریں گےذیلی عناوین کےتحت کی گئی بیشتر معلومات نئی ہیں اور مشاہداتی احساسات کی ترجمان ہیں۔"(ابتدائیہ،ص 2)
ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف نے قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی حیات وخدمات کی اس اندازمیں منظرکشی کی ہےگویاہم چشم تصور سے قائد اہل سنت کو الجامعة الاشرفیہ کےصحن میں تعلیم وتربیت کےمراحل طےکرتےہوئے،ناگپورکے مدرسہ بالغان میں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کرتےہوئے،دارالعلوم فیض العلوم کےلیےجمشیدپورکےناشناساو
ناآشناماحول میں سائیکل سے گلیوں میں گھومتےہوئے،ایک شخص کےصحن میں مکتب پڑھاتےہوئے،کھلےآسمان تلےسرپرچھاتا تانےبچوں کوزیورعلم سےآراستہ کرنےکی دُھن میں مگن تعلیم وتربیت کرتےہوئے،فیض العلوم کی اراضی کےلیےتگ ودو کرتےہوئے،سنگ بنیاد کی کٹھن منزلوں سےگزرگرجمشیدپورکوحافظ ملت کےخوابوں کی تعبیربناتےہوئے،ممبئی کےساحل پر"آل انڈیامسلم متحدہ محاذ" کی بنیاداور جمشیدپورمیں ممبرسازی نیزکلکتہ میں رفیقان گرامی مجاہد دوراں علامہ سید مظفر حسین کچھوچھوی وعلامہ سیداسرارالحق علیہم الرحمہ کےساتھ ملت کادردبانٹتےہوئے،دہلی میں کل ہند سنی اوقاف کانفرنس کوکامیابی کی منزلوں پرفائزکرتےہوئے،فسادات کی مخالفت اور ریلیف کےاہتمامات کی صورت میں جیل کی سلاخوں
#علامہ_ارشدالقادری_ایک_عہدسازشخصیت
#مبصر:بلال احمدنظامی،رتلام
تقریبا چھے سات ماہ قبل ایک اشتہاردیکھاجس میں رعایتی قیمت کےساتھ قائداہل سنت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کےتمام نثری ونظمی شہ پاروں کی ازسرنوجدیدرنگ وآہنگ کےساتھ 28 جلدوں میں "موسوعہ اسلامیہ"کےنام سےموسوم کرکےترتیب نوواشاعت نوکااعلان کیاگیاتھا۔اشتہاردیکھتےہی خریدنےکی نیت کی اور جب بکنک شروع ہوئی تو اول فرصت میں بک کرواکرتمام کتابیں حاصل کرلیں۔
قائداہل سنت کی تحریریں دیکھ کرہی دل للچانےلگتاہے،کیوں کہ قائداہل سنت علیہ الرحمہ کی تحریریں شستہ شائشتہ،ادبی علمی اور خاص اسلوب کی حامل ہوتی ہیں۔جسےکون خریدکراپنی لائبریری کی زینت بناکرآنکھوں کاسرمہ نہ بنائےاور اپنےعلم وفکراور قلم کوتوانائی عطانہ کرے۔میں نےبھی لائبریری کی زینت بناکرآنکھوں کاسرمہ بنانےکی کوشش کی۔
کتابیں موصول ہونےکےبعدجہاں جہاں مجاہد دوراں علامہ سیدمظفرحسین کچھوچھوی علیہ الرحمہ کےتذکرےکےامکانات تھے،چیدہ چیدہ وہ تمام تحریریں اور کتابیں دیکھی اور اس نیت کےساتھ رکھ دی کہ رمضان شریف میں تحریری امورکوکچھ وقت کےلےموقوف کرکےقائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی کتابوں کویکسوئی کےساتھ پڑھاجائےگا۔
موسوعہ اسلامیہ کوجدیدرنگ وآہنگ،تقدیم وتحشیہ،تخریج اور ضروری اضافات کےساتھ دیدہ زیب،جاذب نظر اور دل کش سرورق،عمدہ کاغذ اور بہترین پرنٹ کےساتھ جانشین قائد اہل سنت حضرت علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ نے دارالکتاب دہلی سےشائع کرواکرقائداہل سنت علیہ الرحمہ کی روح کوبہترین خراج عقیدت پیش کیا۔
علامہ ڈاکٹرغلام زرقانی صاحب قبلہ دنیاےعلم وادب کےایک چمکتےدمکتےستارےہیں۔ جن کےاشہب قلم سےنکلی ہوئی متعدد تحریریں اور کتابیں اہل علم وادب کی آنکھوں کاسرمہ بن کرذہن وفکرکی وسعتوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکی ہیں۔ڈاکٹرصاحب قبلہ کی تحریریں بڑی پرلطف،سنجیدہ اوردعوت فکردیتی ہوئی نظرآتی ہیں۔
جس طرح مصنف نےدوماہ کےدرمیان میں اس کتاب کوتصنیف کیاہےاسی مناسبت سےراقم نےدودن میں کتاب کامطالعہ مکمل کیا۔
قائداہل سنت حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ مجمع الکمالات، یگانہ روزگار،آفاقی اور عبقری شخصیت تھے۔جن کی زندگی کالمحہ لمحہ دین وملت کی خدمات میں صرف ہوا۔کبھی ملی مسائل کےلیےمشکل وادیوں کی سیرکررہےہیں تو کبھی قلم کی جولانی سےایوان باطل میں زلزلہ برپاکررہےہیں۔جس سمت اور جس جہت سےدیکھیےقائد اہل سنت علیہ الرحمہ اپنےعہدکی ممتاز ومنفرد شخصیت نظرآتےہیں۔
علامہ ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف نےزیرنظرکتاب میں قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی ہمہ جہت جدوجہد،تگ ودو،ملی اقدامات،درس وتدریس،قرطاس وقلم،رشدوہدایت،مناظرہ ومجادلہ،تحریک وتنظیم،قیادت وسیادت،وعظ وخطابت،اور تعمیروترقی کےمناظرسمونےکی کامیاب کوشش کی ہے۔
کتاب کاتعارف کرواتےہوئےمصنف رقم طرازہیں:
"پیش نگاہ کتاب تین ابواب پرمشتمل ہے،پہلےباب میں آپ کےآباؤاجداد سےلےکرآپ کی ولادت،تعلیم وتربیت،درس وتدریس،سفروسیاحت،حج وزیارت اور آپ کےوصال تک،نیزتعزیتی پیغامات پربھی گفتگو کی گئی ہے۔
دوسرا باب آپ کی خدمات پر مشتمل ہے،جس میں سہولت کےلیےمختلف ذیلی عناوین قائم کیےگئےہیں۔پھرہرعنوان کی مناسبت سےآپ کی سرگرمیوں پر اظہار خیال کی کوشش کی گئی ہے۔آپ کی گوناگوں علمی شخصیت کاسب سےامتیازی پہلوچونکہ قرطاس وقلم سےمتعلق ہے،اس لیےیہ گفتگو قدرےطویل ہوگئی ہے،پھرتعمیروترقی کےپس منظرمیں تفصیلی تذکرہ ہوا ہے،پھراسی طرح دوسرےعناوین پرلب کشائی کی جسارت کی گئی ہے۔
۔تیسرا باب دراصل سابقہ دونوں ابواب کانچوڑہے،جو "تحلیلی جائزہ" کےعنوان سےموسوم ہے،تاہم ایسانہیں ہےکہ ایک ہی بات دونوں مقامات پردوہرائی گئی ہو،بلکہ قارئین محسوس کریں گےذیلی عناوین کےتحت کی گئی بیشتر معلومات نئی ہیں اور مشاہداتی احساسات کی ترجمان ہیں۔"(ابتدائیہ،ص 2)
ڈاکٹرصاحب قبلہ موصوف نے قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کی حیات وخدمات کی اس اندازمیں منظرکشی کی ہےگویاہم چشم تصور سے قائد اہل سنت کو الجامعة الاشرفیہ کےصحن میں تعلیم وتربیت کےمراحل طےکرتےہوئے،ناگپورکے مدرسہ بالغان میں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کرتےہوئے،دارالعلوم فیض العلوم کےلیےجمشیدپورکےناشناساو
ناآشناماحول میں سائیکل سے گلیوں میں گھومتےہوئے،ایک شخص کےصحن میں مکتب پڑھاتےہوئے،کھلےآسمان تلےسرپرچھاتا تانےبچوں کوزیورعلم سےآراستہ کرنےکی دُھن میں مگن تعلیم وتربیت کرتےہوئے،فیض العلوم کی اراضی کےلیےتگ ودو کرتےہوئے،سنگ بنیاد کی کٹھن منزلوں سےگزرگرجمشیدپورکوحافظ ملت کےخوابوں کی تعبیربناتےہوئے،ممبئی کےساحل پر"آل انڈیامسلم متحدہ محاذ" کی بنیاداور جمشیدپورمیں ممبرسازی نیزکلکتہ میں رفیقان گرامی مجاہد دوراں علامہ سید مظفر حسین کچھوچھوی وعلامہ سیداسرارالحق علیہم الرحمہ کےساتھ ملت کادردبانٹتےہوئے،دہلی میں کل ہند سنی اوقاف کانفرنس کوکامیابی کی منزلوں پرفائزکرتےہوئے،فسادات کی مخالفت اور ریلیف کےاہتمامات کی صورت میں جیل کی سلاخوں