Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
نرسنکھا نند سرسوتی کے خلاف فی الحال کرنے کے کام،، (1) اپنے اپنے علاقے کی چھوٹی بڑی تنظیموں کا الائنس کرکے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں اور پریس میں صحیح ڈھنگ سے بیان بھی دیں بیان میں لاجک و معقول انداز اپنائیں،،، (2) میڈیا میں صحیح ڈھنگ سے بیان بھی دیں…
موجودہ تناظر میں چند باتیں
توصیف رضا مصباحی سنبھلی
رکن : روشن مستقبل، دہلی
(1) سرسوتی جیسے ناسور جو بہت بکواس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف صرف ایک قابل اعتراض بات پر نہیں بلکہ وکلاء حضرات سے مشاورت کرنے کے بعد مختلف چیزوں پر مختلف کیسز کیے جائیں۔
(2) آپ اگر ایک ہی بات پر مختلف شہروں سے ایف آئی آر درج کراتے ہیں تب بلاشبہ اس کا پریشر بنتا ہے کہ اتنی ساری جگہوں پر ایف آئی آر کا مطلب ایک تو بیداری ہے، دوسرے معاملہ بہت حساس ہے۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ ساری ایف آئی آر گویا کہ ایک ہی شمار کی جاتی ہیں۔ چوں کہ معاملہ ایک ہی ہے لہذا حکومتی سسٹم ایک ہی جگہ کورٹ میں اسے پیش کردیتا ہے یعنی کہ آپ کی ایف آئی آر جو مختلف جگہوں پر درج ہوئیں ان سب کی سماعت صرف ایک ہی جگہ پر ہونا ہے۔
(3) سرسوتی نے سابق صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے ابو الکلام کو بھی دیش دروہی کہا۔ اور بھی سیکڑوں غیرقانونی باتیں کہی ہیں۔ اگر مختلف شہروں میں ایکٹو حضرات باہم مشاورت کرلیں تو پھر ایسا کیا جائے کہ ہم اس پر ایف آئی آر کراتے ہیں آپ فلاں فلاں بات پر کرائیے۔ اب اس صورت میں مختلف کیسز درج ہوسکتے ہیں اور آج نہ کل،، کل نہ پرسوں،، اگر پیروی سلیقے سے کی جائے تب یہ کیسز سماج دشمن عناصر کے لیے وبال جان بن ہی جائیں گے۔
امید کرتا ہوں آپ اس نکتے کو سمجھ گئے ہوں گے اور باہم مشاورت کی ترکیب بھی بنائیں گے۔
(4) عموماً ہوتا یہ ہے کہ ہم میمورنڈم دے کر یا ایف آئی آر درج کرانے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگیے جب کہ فرض کا آغاز اب ہوا ہے، یہ بات بھول جاتے ہیں۔ لہذا اولا تو میمورنڈم اور "ایف آئی آر" میں زمین آسمان کا فرق ہے اس لیے خواہ وقت لگے متعدد مرتبہ جانا پڑے لیکن "ایف آئی آر" ہی درج کرائیں اور درج ہونے کے بعد اپنی بساط کے مطابق "لیگل سیل" کا انتظام کریں۔
آپ ہی بتائیں کہ اگر ہم اب بھی ذہنی طور پر زمینی ورک اور جد و جہد کے لیے آمادہ نہیں تو آخر کونسے اور کیسے بدترین وقت کے انتظار میں ہیں؟؟!!!
(5) محترم بزرگو،، عزیز دوستو! اب ہمیں ہر قیمت پر بیدار ہونا ہی پڑے گا اور کامن ایشوز پر بنام ملت یہاں تک کہ بنام مظلومیت بات کرنا ہی ہوگی۔ آپ دیکھ نہیں رہے ہیں تباہی اور آفت کس طرح منہ پھاڑے کھڑی ہے۔ لہذا معاملات کی نوعیت کے اعتبار سے چیزوں کو سمجھتے ہوئے خود کو پائے دار اور تعمیری ورک کی طرف متوجہ کریں کوئ کیا کر رہا ہے کیا نہیں کر رہا ہے اس پر زیادہ مغز ماری کرنے سے کیا مسائل کا حل نکل جائے گا؟ ہاں، اپنے لوگ جو بیدار نہیں ہیں انھیں بیدار کرنے اور مہمیز لگانے کے لیے مثبت کوششیں ضرور کی جا سکتی ہیں۔
اب سب سے اہم سوال ہمیں خود سے کرنا ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اور کس حد تک کرسکتے ہیں؟
لہذا اسی اعتبار سے ذہنی طور پر خود کو تیار کریں۔ ملت کا مفاد مقدم رکھیں۔ اپنی انا اور اپنی انفرادیت کو نہ دیکھیں بلکہ ملت کے مفادات کو ترجیح دیں۔ تبھی سیاہ سمندر سے نور نکلنے کی امید رکھیں کہ
ع خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا،،
(6) اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر ہمارے بار بار جانے کے بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تب کیا کریں؟
اس صورت میں آپ کے پاس دو آپشن ہیں: نمبر ایک : آنلائن ایف آئی آر
نمبر دو : بائی کورٹ ایف آئی آر۔
اس میں سے جو بہتر سمجھیں منتخب کرسکتے ہیں۔
آخر میں دست بستہ عرض ہے کہ اپنے اندر،، قوت برداشت،، تحمل و بردباری،،" میں" کی جگہ "*ہم*" ،، آپسی چپقلش کو صرف اس کی حدود تک رکھنا،، ملت کے مفاد کے لیے تن من دھن سے لگے رہنا کا جذبہ ء خالص،، عجلت کی جگہ لونگ ٹائم پلاننگ وہ بھی مضبوط منصوبہ بندی کے ساتھ ،،، یہ سب چیزیں اپنے اندر مضبوطی کے ساتھ بٹھائیں پھر دیکھیں کہ حالات کا دھارا کس طرح بدلنے لگے گا،،
یاد رکھیں زم زم تبھی ابلتا ہے جب ایڑی رگڑتے ہیں اور ہماری صورت حال کچھ اس طرح ہے
ع سب چاہتے ہیں چشمہ ء زم زم ابل پڑے
ایڑی مگر زمیں پہ رگڑتا نہیں کوئی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893718454532007/
توصیف رضا مصباحی سنبھلی
رکن : روشن مستقبل، دہلی
(1) سرسوتی جیسے ناسور جو بہت بکواس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف صرف ایک قابل اعتراض بات پر نہیں بلکہ وکلاء حضرات سے مشاورت کرنے کے بعد مختلف چیزوں پر مختلف کیسز کیے جائیں۔
(2) آپ اگر ایک ہی بات پر مختلف شہروں سے ایف آئی آر درج کراتے ہیں تب بلاشبہ اس کا پریشر بنتا ہے کہ اتنی ساری جگہوں پر ایف آئی آر کا مطلب ایک تو بیداری ہے، دوسرے معاملہ بہت حساس ہے۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ ساری ایف آئی آر گویا کہ ایک ہی شمار کی جاتی ہیں۔ چوں کہ معاملہ ایک ہی ہے لہذا حکومتی سسٹم ایک ہی جگہ کورٹ میں اسے پیش کردیتا ہے یعنی کہ آپ کی ایف آئی آر جو مختلف جگہوں پر درج ہوئیں ان سب کی سماعت صرف ایک ہی جگہ پر ہونا ہے۔
(3) سرسوتی نے سابق صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے ابو الکلام کو بھی دیش دروہی کہا۔ اور بھی سیکڑوں غیرقانونی باتیں کہی ہیں۔ اگر مختلف شہروں میں ایکٹو حضرات باہم مشاورت کرلیں تو پھر ایسا کیا جائے کہ ہم اس پر ایف آئی آر کراتے ہیں آپ فلاں فلاں بات پر کرائیے۔ اب اس صورت میں مختلف کیسز درج ہوسکتے ہیں اور آج نہ کل،، کل نہ پرسوں،، اگر پیروی سلیقے سے کی جائے تب یہ کیسز سماج دشمن عناصر کے لیے وبال جان بن ہی جائیں گے۔
امید کرتا ہوں آپ اس نکتے کو سمجھ گئے ہوں گے اور باہم مشاورت کی ترکیب بھی بنائیں گے۔
(4) عموماً ہوتا یہ ہے کہ ہم میمورنڈم دے کر یا ایف آئی آر درج کرانے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگیے جب کہ فرض کا آغاز اب ہوا ہے، یہ بات بھول جاتے ہیں۔ لہذا اولا تو میمورنڈم اور "ایف آئی آر" میں زمین آسمان کا فرق ہے اس لیے خواہ وقت لگے متعدد مرتبہ جانا پڑے لیکن "ایف آئی آر" ہی درج کرائیں اور درج ہونے کے بعد اپنی بساط کے مطابق "لیگل سیل" کا انتظام کریں۔
آپ ہی بتائیں کہ اگر ہم اب بھی ذہنی طور پر زمینی ورک اور جد و جہد کے لیے آمادہ نہیں تو آخر کونسے اور کیسے بدترین وقت کے انتظار میں ہیں؟؟!!!
(5) محترم بزرگو،، عزیز دوستو! اب ہمیں ہر قیمت پر بیدار ہونا ہی پڑے گا اور کامن ایشوز پر بنام ملت یہاں تک کہ بنام مظلومیت بات کرنا ہی ہوگی۔ آپ دیکھ نہیں رہے ہیں تباہی اور آفت کس طرح منہ پھاڑے کھڑی ہے۔ لہذا معاملات کی نوعیت کے اعتبار سے چیزوں کو سمجھتے ہوئے خود کو پائے دار اور تعمیری ورک کی طرف متوجہ کریں کوئ کیا کر رہا ہے کیا نہیں کر رہا ہے اس پر زیادہ مغز ماری کرنے سے کیا مسائل کا حل نکل جائے گا؟ ہاں، اپنے لوگ جو بیدار نہیں ہیں انھیں بیدار کرنے اور مہمیز لگانے کے لیے مثبت کوششیں ضرور کی جا سکتی ہیں۔
اب سب سے اہم سوال ہمیں خود سے کرنا ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اور کس حد تک کرسکتے ہیں؟
لہذا اسی اعتبار سے ذہنی طور پر خود کو تیار کریں۔ ملت کا مفاد مقدم رکھیں۔ اپنی انا اور اپنی انفرادیت کو نہ دیکھیں بلکہ ملت کے مفادات کو ترجیح دیں۔ تبھی سیاہ سمندر سے نور نکلنے کی امید رکھیں کہ
ع خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا،،
(6) اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر ہمارے بار بار جانے کے بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تب کیا کریں؟
اس صورت میں آپ کے پاس دو آپشن ہیں: نمبر ایک : آنلائن ایف آئی آر
نمبر دو : بائی کورٹ ایف آئی آر۔
اس میں سے جو بہتر سمجھیں منتخب کرسکتے ہیں۔
آخر میں دست بستہ عرض ہے کہ اپنے اندر،، قوت برداشت،، تحمل و بردباری،،" میں" کی جگہ "*ہم*" ،، آپسی چپقلش کو صرف اس کی حدود تک رکھنا،، ملت کے مفاد کے لیے تن من دھن سے لگے رہنا کا جذبہ ء خالص،، عجلت کی جگہ لونگ ٹائم پلاننگ وہ بھی مضبوط منصوبہ بندی کے ساتھ ،،، یہ سب چیزیں اپنے اندر مضبوطی کے ساتھ بٹھائیں پھر دیکھیں کہ حالات کا دھارا کس طرح بدلنے لگے گا،،
یاد رکھیں زم زم تبھی ابلتا ہے جب ایڑی رگڑتے ہیں اور ہماری صورت حال کچھ اس طرح ہے
ع سب چاہتے ہیں چشمہ ء زم زم ابل پڑے
ایڑی مگر زمیں پہ رگڑتا نہیں کوئی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893718454532007/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ان شاء اللہ
درست رسمِ خط : "اِن شاء اللہ" ہے۔ عربی تحریر میں اسے "انشاء اللہ" لکھنا عربی قواعدِ املا کی رو سے اگرچہ نادرست ہے، مگر اردو میں ایک طویل عرصے تک یہ رائج رہا ہے۔ اس لیے اسے اردو قواعِدِ املا کی رو سے مطلقاً غلط ٹھہرانا محلّ نظر ہے۔ ہاں، اردو املا کے جدید محققین چوں کہ ہر لفظ کو الگ لکھنے کی سفارش کرتے ہیں، اور یہ سفارش قرینِ عقل و قیاس بھی ہے، کیوں کہ ہر لفظ اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے لہذا اسے مستقل اور الگ لکھنا چاہیے۔ اس لیے اردو قواعدِ املا کی رو سے اردو میں بھی ان تینوں لفظوں کو الگ الگ کرکے (اِن شاء اللہ) لکھنا چاہیے۔
یہ ساری گفتگو املا کے بارے میں ہے۔ یہ شرعی اور فقہی حکم نہیں ہے۔
اب اگر کوئی انھیں ملا کر "انشاء اللہ" لکھتا ہے(خاص طور سے اردو تحریر میں) تو قواعِدِ املا کی رو سے اب اگرچہ اسے نادرست کہا جا سکتا ہے، مگر اس میں وہ سب معنوی اور شرعی خرابیاں دکھانا، جو کچھ لوگ طومار بیانی کرتے ہوئے دکھاتے ہیں، وہ ایک طرح کی "بقراطی" ہے۔
#نثارمصباحی
۵ اپریل ۲۰۲۱
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/892959004607952/
درست رسمِ خط : "اِن شاء اللہ" ہے۔ عربی تحریر میں اسے "انشاء اللہ" لکھنا عربی قواعدِ املا کی رو سے اگرچہ نادرست ہے، مگر اردو میں ایک طویل عرصے تک یہ رائج رہا ہے۔ اس لیے اسے اردو قواعِدِ املا کی رو سے مطلقاً غلط ٹھہرانا محلّ نظر ہے۔ ہاں، اردو املا کے جدید محققین چوں کہ ہر لفظ کو الگ لکھنے کی سفارش کرتے ہیں، اور یہ سفارش قرینِ عقل و قیاس بھی ہے، کیوں کہ ہر لفظ اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے لہذا اسے مستقل اور الگ لکھنا چاہیے۔ اس لیے اردو قواعدِ املا کی رو سے اردو میں بھی ان تینوں لفظوں کو الگ الگ کرکے (اِن شاء اللہ) لکھنا چاہیے۔
یہ ساری گفتگو املا کے بارے میں ہے۔ یہ شرعی اور فقہی حکم نہیں ہے۔
اب اگر کوئی انھیں ملا کر "انشاء اللہ" لکھتا ہے(خاص طور سے اردو تحریر میں) تو قواعِدِ املا کی رو سے اب اگرچہ اسے نادرست کہا جا سکتا ہے، مگر اس میں وہ سب معنوی اور شرعی خرابیاں دکھانا، جو کچھ لوگ طومار بیانی کرتے ہوئے دکھاتے ہیں، وہ ایک طرح کی "بقراطی" ہے۔
#نثارمصباحی
۵ اپریل ۲۰۲۱
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/892959004607952/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا و حامدا::ومصلیا ومسلما
ناموس رسالت کا تحفظ لازم ہے
چند سالوں سے دنیا کے متعدد ممالک میں اسلام و مسلمین کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔
حضور اقدس تاجدار کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان مبارک میں بھی فرقہ پرستوں نے زہر افشانی شروع کر دی ہے۔
ان فرزندان ابلیس کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کورٹ میں مستحکم کاروائی کرنی چاہئے۔محض ایف آئی آر درج کرانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔
جو لوگ چند روز قبل بھارت کے وسیم رضوی کو ملعون اور خبیث و ابلیس کہہ رہے تھے,گستاخی سرور کائنات علیہ التحیۃ والثنا پر ان کی زبانیں گنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟کیا گستاخ رسول ملعون اور خبیث وابلیس نہیں؟
میری قوم! یاد رکھو۔ابھی تمہاری فطرت اور تمہاری جرأت و ہمت کا امتحان لیا جا رہا ہے۔
اگر تم نے خموشی اختیار کی تو دشمن دلیر ہو کر دنیا بھر میں تم پر ٹوٹ پڑیں گے اور تمہاری خموشی کے سبب رحمت خداوندی بھی تم سے منہ موڑ سکتی ہے۔
ارباب حکومت کو جگاؤ۔اپنی باتیں انہیں سناؤ۔کورٹ کے دروازے کھٹکھٹاؤ۔حصول انصاف اور تحفظ دین کے لئے کمر بستہ ہو جاؤ۔فتنہ پروروں کے فتنوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرو۔جس ملک میں ایسی شیطانی کی جائے۔وہاں کے سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے غافل مسلمانو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
ساری دنیا کو معلوم ہے کہ دینِ اسلام میں جہاد بنیادی طور پر ایک دفاعی نظام کی طرح ہے۔ جب کوئی اسلامی جہاد پر تنقید کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قوم مسلم دفاعی پوزیشن بھی اختیار نہ کرے۔خواہ ان کو قتل وہلاک کیا جائے,یا ان کی بہن,بیٹی کی عصمت دری کی جائے,یا ان کی جائیداد واملاک تباہ و برباد کی جائے۔
چوں کہ اسلام کے نظامِ جہاد کا غلط معنی بتا کر دنیا بھر کے غیر مسلموں کو مسلمانوں کے خلاف مسلسل ورغلایا جا چکا ہے,اس لئے جیسے ہی قوم مسلم اپنے دفاع کے لئے قدم آگے بڑھائے گی,ان کو جہادی بتا کر غیر مسلموں کو متحد کر لیا جائے گا۔
حادثہ آنکھوں کے سامنے ہے۔چند ہفتے قبل وسیم رضوی نے بھارتی سپریم کورٹ میں قرآن مقدس کی آیات جہاد کے خلاف پیٹیشن داخل کی اور اس کے چند روز بعد ہی بھارت کے کسی فرقہ پرست و متعصب پنڈت نے اسلام و مسلمین کے خلاف آگ اگلنا شروع کردیا اور اس فتنہ پرور نے حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں بھی گستاخی و بے ادبی کی۔
مسلمانوں کو آزمانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں وسیم رضوی کی عرضی کے بعد قوم مسلم نے اپنے دفاعی نظام کو ترک کیا یا نہیں؟
سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا,ان کو ہلاک کرنا,مظاہرین پر حملے کرنا,دہلی فساد:فروری 2020میں مسلمانوں کو ہلاک کرنا,مظاہرین کو جیل میں ڈالنا,یہ تمام صورتیں اس لئے اختیار کی گئیں کہ قوم مسلم دفاع کا تصور بھی ذہن میں نہ لائے۔
ایسی صورت میں لازم ہے کہ مسلمانان عالم سر جوڑ کر بیٹھیں اور مضبوط حل کی کوشش کریں۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:07:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894091021161417/
ناموس رسالت کا تحفظ لازم ہے
چند سالوں سے دنیا کے متعدد ممالک میں اسلام و مسلمین کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔
حضور اقدس تاجدار کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان مبارک میں بھی فرقہ پرستوں نے زہر افشانی شروع کر دی ہے۔
ان فرزندان ابلیس کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کورٹ میں مستحکم کاروائی کرنی چاہئے۔محض ایف آئی آر درج کرانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔
جو لوگ چند روز قبل بھارت کے وسیم رضوی کو ملعون اور خبیث و ابلیس کہہ رہے تھے,گستاخی سرور کائنات علیہ التحیۃ والثنا پر ان کی زبانیں گنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟کیا گستاخ رسول ملعون اور خبیث وابلیس نہیں؟
میری قوم! یاد رکھو۔ابھی تمہاری فطرت اور تمہاری جرأت و ہمت کا امتحان لیا جا رہا ہے۔
اگر تم نے خموشی اختیار کی تو دشمن دلیر ہو کر دنیا بھر میں تم پر ٹوٹ پڑیں گے اور تمہاری خموشی کے سبب رحمت خداوندی بھی تم سے منہ موڑ سکتی ہے۔
ارباب حکومت کو جگاؤ۔اپنی باتیں انہیں سناؤ۔کورٹ کے دروازے کھٹکھٹاؤ۔حصول انصاف اور تحفظ دین کے لئے کمر بستہ ہو جاؤ۔فتنہ پروروں کے فتنوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرو۔جس ملک میں ایسی شیطانی کی جائے۔وہاں کے سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے غافل مسلمانو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
ساری دنیا کو معلوم ہے کہ دینِ اسلام میں جہاد بنیادی طور پر ایک دفاعی نظام کی طرح ہے۔ جب کوئی اسلامی جہاد پر تنقید کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قوم مسلم دفاعی پوزیشن بھی اختیار نہ کرے۔خواہ ان کو قتل وہلاک کیا جائے,یا ان کی بہن,بیٹی کی عصمت دری کی جائے,یا ان کی جائیداد واملاک تباہ و برباد کی جائے۔
چوں کہ اسلام کے نظامِ جہاد کا غلط معنی بتا کر دنیا بھر کے غیر مسلموں کو مسلمانوں کے خلاف مسلسل ورغلایا جا چکا ہے,اس لئے جیسے ہی قوم مسلم اپنے دفاع کے لئے قدم آگے بڑھائے گی,ان کو جہادی بتا کر غیر مسلموں کو متحد کر لیا جائے گا۔
حادثہ آنکھوں کے سامنے ہے۔چند ہفتے قبل وسیم رضوی نے بھارتی سپریم کورٹ میں قرآن مقدس کی آیات جہاد کے خلاف پیٹیشن داخل کی اور اس کے چند روز بعد ہی بھارت کے کسی فرقہ پرست و متعصب پنڈت نے اسلام و مسلمین کے خلاف آگ اگلنا شروع کردیا اور اس فتنہ پرور نے حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں بھی گستاخی و بے ادبی کی۔
مسلمانوں کو آزمانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں وسیم رضوی کی عرضی کے بعد قوم مسلم نے اپنے دفاعی نظام کو ترک کیا یا نہیں؟
سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا,ان کو ہلاک کرنا,مظاہرین پر حملے کرنا,دہلی فساد:فروری 2020میں مسلمانوں کو ہلاک کرنا,مظاہرین کو جیل میں ڈالنا,یہ تمام صورتیں اس لئے اختیار کی گئیں کہ قوم مسلم دفاع کا تصور بھی ذہن میں نہ لائے۔
ایسی صورت میں لازم ہے کہ مسلمانان عالم سر جوڑ کر بیٹھیں اور مضبوط حل کی کوشش کریں۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:07:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894091021161417/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
ناموس رسالت کا تحفظ لازم ہے!
✍ مولانا طارق انور مصباحی
📇 روشن مستقبل دہلی الہند
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894091021161417/
✍ مولانا طارق انور مصباحی
📇 روشن مستقبل دہلی الہند
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894091021161417/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد قسط دوم ➋ ✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری جامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم. *شبہ نمبر 2️⃣ : کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ❓❓ بعض مغالطین یہ مغالطہ کرتے ہیں کہ اسلام اہل الذمہ (وہ کفار…
#ازالہ_شُبہات_در_آیاتِ_جہاد
قسط سوم (𝟑)
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم
#شبہ_نمبر░❸░ قرآن مجید میں جگہ جگہ جہاد کی بات کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جنگ و قتال کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے.
ازالہ شبہ سابقہ کے لئے اولا جہاد کے معنی و مفہوم کا واضح ہونا ضروری ہے.
جہاد کا معنی : الجُهد ، وسعت و طاقت اور الجَھْد : پوری کوشش و غایت کے آتے ہیں , اس سے اللہ رب العزت کا فرمان عالیشان ہے : { أَهَـٰۤؤُلَاۤءِ ٱلَّذِینَ أَقۡسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَیۡمَـٰنِهِمۡ } کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے، اور حدیث میں ہے : " أعوذ بالله من جَھْد البلاء ". ( لسان العرب : 134/4 )
جنگ وقتال کو جہاد اسلئے کہا گیا کیوں کہ اس میں جان و مال سے کوشش ہوتی ہے اور پھر عرفا اس پر جنگ کا اطلاق ہونے لگا.
قرآن پاک اور احادیث مقدسہ میں کلمہ جہاد وارد ہوا ہے لیکن ہر مرتبہ وہ جنگی مفہوم مراد نہیں ہے جو دشمنوں سے جنگ پر سمجھا جاتا ہے بلکہ اکثر و بیشتر دوسرے معانی مراد ہیں, اس بات کو ذہن نشیں کر لیں کہ پورے قرآن پاک میں 141 مرتبہ جہاد کا ذکر فرمایا گیا ہے جس میں صرف 10 جگہ جنگی مفہوم ہے.
اور جہاد کا معنی یہ بھی ہیں : " بذل الجهد لنيل مرغوب فيه أو دفع مرغوب عنه " ہمت کو پسندیدہ چیز کے حصول اور نا پسندیدہ کو دور کرنے کے لئے لگانا. ( بيان للناس ، جامعة الأزهر ، 276/1)
یعنی بھلائ حاصل کرنا یا برائ کو دور کرنا یا نفع کا تحقق کرنا اور نقصان کو روکنا اور وہ کسی بھی ذریعہ کسی بھی میدان میں ہو سکتا ہے اور یہ چیز امن و جنگ دونوں میں برابر ہے اس کے لئے جنگ اور ہتھیار کا اٹھانا ضروری نہیں.
قرآن و سنت میں جہاد کے معانی
قرآن کریم اور احادیث مقدسہ میں جہاد کے متعدد معنی بیان ہوئے ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں :
𝟏. جہادِ دعوت و تبلیغ بدلیل و برہان
تبلیغ کے ذریعہ جہاد کرنا جس میں اپنے دلائل سے مد مقابل پر حجت قائم کی جائے.
٭▫️ مکی سورتوں (جو سورتیں زمانہ ہجرت سے قبل نازل ہوئیں [ الإتقان ، 37/1] ) ان میں سے اللہ پاک کا فرمان :
{ فَلَا تُطِعِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ وَجَـٰهِدۡهُم بِهِۦ جِهَادࣰا كَبِیرࣰا } [الفرقان : 25]
ترجمہ : تو کافروں کا کہا نہ مان اور اس قرآن سے ان پر جہاد کر بڑا جہاد.
امام قرطبی { فلا تطع الكافرين } کے تحت فرماتے ہیں : یعنی ان کی اطاعت نہ کر اس میں جو وہ اپنے معبودوں کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں , اور { و جاهدهم به } حضرت ابن عباس رضي الله عنه فرماتے ہیں : بالقرآن (یعنی ان پر قرآن سے جہاد کر) [تفسیر القرطبی : 57/13]
٭ ▫️مدنی سورتیں ( جو زمانہ ہجرت کے بعد نازل ہوئیں ) میں سے اللہ پاک کا فرمان : { یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّبِیُّ جَـٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَـٰفِقِینَ وَٱغۡلُظۡ عَلَیۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِیرُ }
ترجمہ : اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی.
اس آیت کریمہ کے زیل میں امام نسفی لکھتے ہیں : کافروں پر تلواروں اور منافقوں پر حجت قائم کرنے سے جہاد کرو. [ تفسیر النسفی : 99/2]
یہ سورہ توبہ کی آیت ہے اور سورہ توبہ بالاتفاق مدنی سورت ہے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی منافقین پر تلوار اٹھانے کا حکم نہیں دیا ان سے زبانی دلائل سے جہاد فرمایا. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کےساتھ زبان سے جہاد کا حکم دیا گیا. [ تفسیر القرطبی : 204/8]
𝟐. نفس و شیطان سے جہاد.
نفس کو شہوتوں اور لذتوں سے روکنے میں کوشش کو لگا دینا , خلاف شریعت امور سے بچانا اور اللہ کی اطاعت میں لگا دینا بھی جہاد ہے.
رب قدیر فرماتا ہے : { وَجَـٰهِدُوا۟ فِی ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ }
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے.
امام قرطبی تحریر فرماتے ہیں : یہ اللہ پاک کے تمام حکم بجا لانے اور جن امور سے روکا ان سے رک جانے کی طرف اشارہ ہے یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالی کی اطاعت میں لگاؤ اور خواہشات نفس سے بچاؤ اور اور جہاد کرو شیطان سے اس کے وسوسے پھیرنے میں اور ظالموں سے ظلم کے دفع کرنے میں اور کافروں سے ان کے کفر کی تردید میں. [ تفسیر القرطبی : 99/12]
𝟑. والدین کی خدمت.
اسی طرح والدین کی اطاعت و خدمت کو بھی جہاد سے تعبیر فرمایا گیا ہے.
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث پاک مروی ہے : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأستذنه في الجهاد، فقال : " أحي والداك ؟"، قال : نعم، قال : " ففيهما فجاهد ". [صحيح البخارى : 3004 ، صحيح مسلم : 2549]
قسط سوم (𝟑)
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم
#شبہ_نمبر░❸░ قرآن مجید میں جگہ جگہ جہاد کی بات کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جنگ و قتال کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے.
ازالہ شبہ سابقہ کے لئے اولا جہاد کے معنی و مفہوم کا واضح ہونا ضروری ہے.
جہاد کا معنی : الجُهد ، وسعت و طاقت اور الجَھْد : پوری کوشش و غایت کے آتے ہیں , اس سے اللہ رب العزت کا فرمان عالیشان ہے : { أَهَـٰۤؤُلَاۤءِ ٱلَّذِینَ أَقۡسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَیۡمَـٰنِهِمۡ } کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے، اور حدیث میں ہے : " أعوذ بالله من جَھْد البلاء ". ( لسان العرب : 134/4 )
جنگ وقتال کو جہاد اسلئے کہا گیا کیوں کہ اس میں جان و مال سے کوشش ہوتی ہے اور پھر عرفا اس پر جنگ کا اطلاق ہونے لگا.
قرآن پاک اور احادیث مقدسہ میں کلمہ جہاد وارد ہوا ہے لیکن ہر مرتبہ وہ جنگی مفہوم مراد نہیں ہے جو دشمنوں سے جنگ پر سمجھا جاتا ہے بلکہ اکثر و بیشتر دوسرے معانی مراد ہیں, اس بات کو ذہن نشیں کر لیں کہ پورے قرآن پاک میں 141 مرتبہ جہاد کا ذکر فرمایا گیا ہے جس میں صرف 10 جگہ جنگی مفہوم ہے.
اور جہاد کا معنی یہ بھی ہیں : " بذل الجهد لنيل مرغوب فيه أو دفع مرغوب عنه " ہمت کو پسندیدہ چیز کے حصول اور نا پسندیدہ کو دور کرنے کے لئے لگانا. ( بيان للناس ، جامعة الأزهر ، 276/1)
یعنی بھلائ حاصل کرنا یا برائ کو دور کرنا یا نفع کا تحقق کرنا اور نقصان کو روکنا اور وہ کسی بھی ذریعہ کسی بھی میدان میں ہو سکتا ہے اور یہ چیز امن و جنگ دونوں میں برابر ہے اس کے لئے جنگ اور ہتھیار کا اٹھانا ضروری نہیں.
قرآن و سنت میں جہاد کے معانی
قرآن کریم اور احادیث مقدسہ میں جہاد کے متعدد معنی بیان ہوئے ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں :
𝟏. جہادِ دعوت و تبلیغ بدلیل و برہان
تبلیغ کے ذریعہ جہاد کرنا جس میں اپنے دلائل سے مد مقابل پر حجت قائم کی جائے.
٭▫️ مکی سورتوں (جو سورتیں زمانہ ہجرت سے قبل نازل ہوئیں [ الإتقان ، 37/1] ) ان میں سے اللہ پاک کا فرمان :
{ فَلَا تُطِعِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ وَجَـٰهِدۡهُم بِهِۦ جِهَادࣰا كَبِیرࣰا } [الفرقان : 25]
ترجمہ : تو کافروں کا کہا نہ مان اور اس قرآن سے ان پر جہاد کر بڑا جہاد.
امام قرطبی { فلا تطع الكافرين } کے تحت فرماتے ہیں : یعنی ان کی اطاعت نہ کر اس میں جو وہ اپنے معبودوں کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں , اور { و جاهدهم به } حضرت ابن عباس رضي الله عنه فرماتے ہیں : بالقرآن (یعنی ان پر قرآن سے جہاد کر) [تفسیر القرطبی : 57/13]
٭ ▫️مدنی سورتیں ( جو زمانہ ہجرت کے بعد نازل ہوئیں ) میں سے اللہ پاک کا فرمان : { یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّبِیُّ جَـٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَـٰفِقِینَ وَٱغۡلُظۡ عَلَیۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِیرُ }
ترجمہ : اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی.
اس آیت کریمہ کے زیل میں امام نسفی لکھتے ہیں : کافروں پر تلواروں اور منافقوں پر حجت قائم کرنے سے جہاد کرو. [ تفسیر النسفی : 99/2]
یہ سورہ توبہ کی آیت ہے اور سورہ توبہ بالاتفاق مدنی سورت ہے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی منافقین پر تلوار اٹھانے کا حکم نہیں دیا ان سے زبانی دلائل سے جہاد فرمایا. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کےساتھ زبان سے جہاد کا حکم دیا گیا. [ تفسیر القرطبی : 204/8]
𝟐. نفس و شیطان سے جہاد.
نفس کو شہوتوں اور لذتوں سے روکنے میں کوشش کو لگا دینا , خلاف شریعت امور سے بچانا اور اللہ کی اطاعت میں لگا دینا بھی جہاد ہے.
رب قدیر فرماتا ہے : { وَجَـٰهِدُوا۟ فِی ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ }
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے.
امام قرطبی تحریر فرماتے ہیں : یہ اللہ پاک کے تمام حکم بجا لانے اور جن امور سے روکا ان سے رک جانے کی طرف اشارہ ہے یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالی کی اطاعت میں لگاؤ اور خواہشات نفس سے بچاؤ اور اور جہاد کرو شیطان سے اس کے وسوسے پھیرنے میں اور ظالموں سے ظلم کے دفع کرنے میں اور کافروں سے ان کے کفر کی تردید میں. [ تفسیر القرطبی : 99/12]
𝟑. والدین کی خدمت.
اسی طرح والدین کی اطاعت و خدمت کو بھی جہاد سے تعبیر فرمایا گیا ہے.
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث پاک مروی ہے : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأستذنه في الجهاد، فقال : " أحي والداك ؟"، قال : نعم، قال : " ففيهما فجاهد ". [صحيح البخارى : 3004 ، صحيح مسلم : 2549]
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد قسط دوم ➋ ✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری جامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم. *شبہ نمبر 2️⃣ : کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ❓❓ بعض مغالطین یہ مغالطہ کرتے ہیں کہ اسلام اہل الذمہ (وہ کفار…
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں جہاد کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوئے, تو آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے دریافت فرمایا : کیا تمہارے والدین زندہ ہیں, جواب ہاں میں دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تو انہیں کی خدمت کر ".
𝟒. حج
جہاد کا لفظ حج کے لئے بھی ارشاد فرمایا گیا.
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتی ہیں : استأذنت النبي ﷺ في الجهاد، فقال " جهادكنَّ الحج ". [صحيح البخارى : 2875]
بیان فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا تم عورتوں کا جہاد حج ہے.
🔎 اور اسکے علاوہ بھی جہاد کا کثیر اطلاق غیر جنگ پر ہوا ہے مثلا اطاعت الہی ، صبر و تحمل ، مجاهدہ وغیرہ اور ہر ایک کی مثالیں قرآن و سنت میں بکثرت موجود ہیں.
قارئین حضرات ❗
مذکورہ نصوص سے یہ امر متیقن ہو گیا کہ جہاد کا اطلاق صرف اسلام کے مقابل آنے والے کفار و مشرکین پر ہی نہیں بلکہ دیگر امور پر بھی بکثرت ہوا ہے اسلئے شبہۂ واردہ بلا تردد خود مسترد ہو جاتا ہے.
🔮 *اگر کوئی غیر مسلم نظام اسلام کا امعان نظر سے بدون حسد و عناد بقصد تلاشِ حق بشرطِ انصافِ نظر مع سلامتی ذہن و شمولیتِ توفیقِ الہی جائزہ لے تو قبول حق میں بلا تاخیر جام ایمان نوش کر کے مذہب اسلام میں داخل ہو جائے گا.*
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( #بن_مناظر_اہل_سنت_علامہ_صغیر_احمد_رضوی_جوکھنپوری ) حفظہ الله
الجامعة القادريہ، رچھا ریلوے اسٹیشن (بریلی شریف)
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
جاری ...📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894154314488421/
𝟒. حج
جہاد کا لفظ حج کے لئے بھی ارشاد فرمایا گیا.
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتی ہیں : استأذنت النبي ﷺ في الجهاد، فقال " جهادكنَّ الحج ". [صحيح البخارى : 2875]
بیان فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا تم عورتوں کا جہاد حج ہے.
🔎 اور اسکے علاوہ بھی جہاد کا کثیر اطلاق غیر جنگ پر ہوا ہے مثلا اطاعت الہی ، صبر و تحمل ، مجاهدہ وغیرہ اور ہر ایک کی مثالیں قرآن و سنت میں بکثرت موجود ہیں.
قارئین حضرات ❗
مذکورہ نصوص سے یہ امر متیقن ہو گیا کہ جہاد کا اطلاق صرف اسلام کے مقابل آنے والے کفار و مشرکین پر ہی نہیں بلکہ دیگر امور پر بھی بکثرت ہوا ہے اسلئے شبہۂ واردہ بلا تردد خود مسترد ہو جاتا ہے.
🔮 *اگر کوئی غیر مسلم نظام اسلام کا امعان نظر سے بدون حسد و عناد بقصد تلاشِ حق بشرطِ انصافِ نظر مع سلامتی ذہن و شمولیتِ توفیقِ الہی جائزہ لے تو قبول حق میں بلا تاخیر جام ایمان نوش کر کے مذہب اسلام میں داخل ہو جائے گا.*
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( #بن_مناظر_اہل_سنت_علامہ_صغیر_احمد_رضوی_جوکھنپوری ) حفظہ الله
الجامعة القادريہ، رچھا ریلوے اسٹیشن (بریلی شریف)
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
جاری ...📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894154314488421/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893169427920243/ ازالہ شبہات اور آیات جہاد ✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❷ https://t.me/islaamic_Knowledge/12365
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894154314488421/
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❸
https://t.me/islaamic_Knowledge/12377
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❸
https://t.me/islaamic_Knowledge/12377
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک عالم دین نے اپنی مسجد کی دیوار پر دوسرے صحابہ کرام کے ساتھ سیدنا معاویہ کا نام بھی لکھوایا ، تو اس علاقے کے " مولوی عبدالخالق صاحب " بہت ناراض ہوئے اور اس عالم سے کہنے لگے:
میں مکے مدینے گیا ہوں کہیں بھی معاویہ نام نہیں دیکھا ، نہ مسجد نبوی میں نہ خانے کعبے پر ۔۔۔۔۔ تم نے یہ کہاں سے نکال لیا ۔
عالم صاحب نے فی البدیہہ فرمایا:
مسجد نبوی اور خانے کعبے کی دیواروں پر تو " مولوی عبدالخالق " بھی نہیں لکھا ہوا ، تم نے اپنی مسجد پر کیوں لکھوا رکھا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکر ہے مولوی صاحب نے صدیوں پہلے بغداد شریف کی مساجد نہیں دیکھی تھیں جن کے دروازوں پر " معاویۃ خال المومنین " لکھا ہوتا تھا ، ورنہ تو آپ غش ہی کھاجاتے ۔۔۔۔۔۔۔
✍️لقمان شاہد
8-4-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3130497320563769&id=100008105947430
میں مکے مدینے گیا ہوں کہیں بھی معاویہ نام نہیں دیکھا ، نہ مسجد نبوی میں نہ خانے کعبے پر ۔۔۔۔۔ تم نے یہ کہاں سے نکال لیا ۔
عالم صاحب نے فی البدیہہ فرمایا:
مسجد نبوی اور خانے کعبے کی دیواروں پر تو " مولوی عبدالخالق " بھی نہیں لکھا ہوا ، تم نے اپنی مسجد پر کیوں لکھوا رکھا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکر ہے مولوی صاحب نے صدیوں پہلے بغداد شریف کی مساجد نہیں دیکھی تھیں جن کے دروازوں پر " معاویۃ خال المومنین " لکھا ہوتا تھا ، ورنہ تو آپ غش ہی کھاجاتے ۔۔۔۔۔۔۔
✍️لقمان شاہد
8-4-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3130497320563769&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 05 کتب تقاریر لائبریری 📚
خطبات جمعہ خطبہ نمبر 70
ناموس رسالت کی اہمیت
اور ہماری ذمہ داریاں 📖
https://t.me/Kutube_Taqaareer
✍علامہ غلام مصطفیٰ نعیمی
📇 روشن مستقبل دہلی ہند
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
نوٹ: رمضان و تراویح پر تقریر کرنا چاہیں تو ہمارے ٹیلی گرام گروپ سے خطبہ نمبر 8, 9 اور 10 دیکھ سکتے ہیں۔
ناموس رسالت کی اہمیت
اور ہماری ذمہ داریاں 📖
https://t.me/Kutube_Taqaareer
✍علامہ غلام مصطفیٰ نعیمی
📇 روشن مستقبل دہلی ہند
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
نوٹ: رمضان و تراویح پر تقریر کرنا چاہیں تو ہمارے ٹیلی گرام گروپ سے خطبہ نمبر 8, 9 اور 10 دیکھ سکتے ہیں۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوغات جمعہ خطبہ نمبر ²²
توبہ کی فضیلت و اہمیت 📜
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍مفتی رضوان احمد مصباحی
📇 مجلس علمائے جھارکھنڈ
توبہ کی فضیلت و اہمیت 📜
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍مفتی رضوان احمد مصباحی
📇 مجلس علمائے جھارکھنڈ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894154314488421/ ازالہ شبہات اور آیات جہاد ✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❸ https://t.me/islaamic_Knowledge/12377
ازالہ_شُبہات_در_آیاتِ_جہاد#
قسط چہارم (𝟒)
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
#شبہ_نمبر - 4҉ 👈🏻 : ایک شک یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ آیاتِ جہاد حقیقتا قرآن کی آیات نہیں ہیں بلکہ اضافہ شدہ ہیں کیونکہ وہ دوسری آیات سے ٹکراتی ہیں.
یہ شبہ #وسیم_رافضی جیسے وہ لوگ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بظاہر قرآن پر عمل پیرا ہونے کا جھوٹا دعوی بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی بعض آیات کا انکار بھی کرتے ہیں.
شریعت کے تمام احکام مستحکم و اٹل ہیں اور ہر ایک پر ایمان لانا ضروری ہے. قرآن پاک تصحیف و تحریف ، زیادت و نقصان سے پاک ہے ارشاد رب قدیر ہے : { إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ } بے شک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں.
(اس آیت کی مکمل نادر و نایاب تفصیل حضور والد ماجد دامت فیوضھم کے مقالے میں موجود ہے جو عنقریب بزم مطالعہ کی نذر ہوگا)
🧭 اگر #وسیم_رافضی یہ کہتا ہے کہ اللہ پاک نے اِس قرآن کی ذمہ داری اپنے ذمہ کرم پر نہیں لی تھی جو کاغذ و روشنائی کی شکل میں آج ہمارے سامنے ہے بلکہ اُس قرآن کی ذمہ داری لی تھی جو حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے قلب مبارک پر اتارا تھا
تو سوال یہ ہے کہ وہ قرآن پاک کہاں ہے جس کی ذمہ داری اللہ پاک نے لی تھی ⁉️ اگر وہ موجود نہیں تو معاذ اللہ حفاظت نہیں ہو پائی اور امت مسلمہ اب تک بغیر قرآن پاک کے ہے ❔❓
ایسا وہ بھی نہیں کہتا کیونکہ اس کو تو صرف 26 آیتوں سے اعتراض ہے اور اس کا باقی دیگر آیات پر اعتراض نہ کرنا باقی قرآن کو بظاہر تسلیم کرنے کی دلیل ہے یعنی اس کے نزدیک بھی یہ قرآن وہی ہے صرف 26 آیتیں زائد ہیں.
اگر 26 آیتیں زائد ہیں تو حفاظت فرمانے والی آیت تو ان آیتوں کے علاوہ ہے جن کو مان رہا ہے.
یعنی حفاظت والی آیت کو بھی مان رہا ہے اور اسی قرآن سے 26 آیتوں کا انکار بھی کر رہا ہے یہ قوم نبی اسرائیل کی عادت تھی جن کی مزمت میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : { أَفَتُؤۡمِنُونَ بِبَعۡضِ ٱلۡكِتَـٰبِ وَتَكۡفُرُونَ بِبَعۡضࣲۚ } [سورہ البقرۃ : 85]
تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ کا انکار کرتے ہو.
قرآن پاک کی ہر آیت کو دل سے تسلیم کرنا ایمان ہے کیونکہ یہ قرآن اللہ پاک کی صفت ہے اور صفتِ الٰہی کا انکار کفر ہے.
📍 *ظالم کہتا ہے کہ قرآن میں ایک جگہ فرمایا تمہارا دین تمہارے ساتھ ہے اور دوسری جگہ فرمایا جو اللہ کو ایک نہ مانے اس کو مارو تو اس قرآن میں ٹکراؤ ہو گیا.*
اس بے دال کے بودم اور صاف لفظوں میں کہا جائے تو بُوم سے کوئی پوچھے کہ تو جن 26 آیات کے علاوہ قرآن کو مانتا ہے اس میں یہ آیت بھی تو ہے { أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَیۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِیهِ ٱخۡتِلَـٰفࣰا كَثِیرࣰا } [سورۃ النساء : 4]
ترجمہ : کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔
اگر یہ کسی اور کی کتاب ہوتی تب ٹکراؤ ہوتا.
جب اس خبیث کے نزدیک بھی یہ اللہ تعالی کی کتاب ہے تو اس میں کوئی ٹکراؤ نہیں رہا.
قرآن عظیم سمجھنے کے لئے مضبوط ایمان و خاصہ علم ، وافر دانش و بینش اور ادراک و فراست درکار ہے.
یہی قرآن جب ابو الحکم پر پڑھا گیا تو انکار کر کے ابو جہل بن گیا اور یہی قرآن ابو قحافہ پر پڑھا گیا تو صدیق اکبر بن گئے ہیں.
یہ تو اپنا اپنا ہے حوصلہ یہ تو اپنی اپنی اڑان ہے
کوئ اُڑ کے رہ گیا بام تک کوئ کہکشاں سے گزر گیا
🌀 #ابلیس_کے_چیلے 👇🏻👇🏻
📊 آج #نرسنگھانند اور #وسیم_رافضی جیسے کم لوگ قرآن کریم میں زیادت و نقصان کی بات کرتے ہیں، ان نادانوں کو سوچنا چاہئے کہ جب ان کا سردار ابلیس قرآن مجید میں کمی و زیادتی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو چیلوں سے کوئی فعل شنیع کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے.
رب کائنات ارشاد فرماتا ہے : ﴿ وإنَّهُ لَكِتابٌ عَزِيزٌ﴾ ﴿لا يَأْتِيهِ الباطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ ولا مِن خَلْفِهِ﴾
اور بے شک وہ عزت والی کتاب ہے، باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے
امام جلال الدين سيوطي عليه الرحمہ تفسیر در منثور میں اس آیت کے تحت حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرماتے ہیں :
قال: أعَزَّهُ اللَّهُ لِأنَّهُ كَلامُهُ وحَفِظَهُ مِنَ الباطِلِ. قالَ: والباطِلُ إبْلِيسُ لا يَسْتَطِيعُ أنْ يَنْقُصَ مِنهُ حَقًّا ولا يَزِيدَ فِيهِ باطِلًا.
انہونے فرمایا : اللہ پاک نے قرآن کریم کو یہ اعزاز اسلئے بخشا ہے کہ وہ اس کا کلام ہے اور باطل سے اس کی حفاظت فرمائی، اور باطل ابلیس ہے جو قرآن پاک سے حق کو نکالنے اور باطل کو زائد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے.
قسط چہارم (𝟒)
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
#شبہ_نمبر - 4҉ 👈🏻 : ایک شک یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ آیاتِ جہاد حقیقتا قرآن کی آیات نہیں ہیں بلکہ اضافہ شدہ ہیں کیونکہ وہ دوسری آیات سے ٹکراتی ہیں.
یہ شبہ #وسیم_رافضی جیسے وہ لوگ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بظاہر قرآن پر عمل پیرا ہونے کا جھوٹا دعوی بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی بعض آیات کا انکار بھی کرتے ہیں.
شریعت کے تمام احکام مستحکم و اٹل ہیں اور ہر ایک پر ایمان لانا ضروری ہے. قرآن پاک تصحیف و تحریف ، زیادت و نقصان سے پاک ہے ارشاد رب قدیر ہے : { إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ } بے شک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں.
(اس آیت کی مکمل نادر و نایاب تفصیل حضور والد ماجد دامت فیوضھم کے مقالے میں موجود ہے جو عنقریب بزم مطالعہ کی نذر ہوگا)
🧭 اگر #وسیم_رافضی یہ کہتا ہے کہ اللہ پاک نے اِس قرآن کی ذمہ داری اپنے ذمہ کرم پر نہیں لی تھی جو کاغذ و روشنائی کی شکل میں آج ہمارے سامنے ہے بلکہ اُس قرآن کی ذمہ داری لی تھی جو حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے قلب مبارک پر اتارا تھا
تو سوال یہ ہے کہ وہ قرآن پاک کہاں ہے جس کی ذمہ داری اللہ پاک نے لی تھی ⁉️ اگر وہ موجود نہیں تو معاذ اللہ حفاظت نہیں ہو پائی اور امت مسلمہ اب تک بغیر قرآن پاک کے ہے ❔❓
ایسا وہ بھی نہیں کہتا کیونکہ اس کو تو صرف 26 آیتوں سے اعتراض ہے اور اس کا باقی دیگر آیات پر اعتراض نہ کرنا باقی قرآن کو بظاہر تسلیم کرنے کی دلیل ہے یعنی اس کے نزدیک بھی یہ قرآن وہی ہے صرف 26 آیتیں زائد ہیں.
اگر 26 آیتیں زائد ہیں تو حفاظت فرمانے والی آیت تو ان آیتوں کے علاوہ ہے جن کو مان رہا ہے.
یعنی حفاظت والی آیت کو بھی مان رہا ہے اور اسی قرآن سے 26 آیتوں کا انکار بھی کر رہا ہے یہ قوم نبی اسرائیل کی عادت تھی جن کی مزمت میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : { أَفَتُؤۡمِنُونَ بِبَعۡضِ ٱلۡكِتَـٰبِ وَتَكۡفُرُونَ بِبَعۡضࣲۚ } [سورہ البقرۃ : 85]
تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ کا انکار کرتے ہو.
قرآن پاک کی ہر آیت کو دل سے تسلیم کرنا ایمان ہے کیونکہ یہ قرآن اللہ پاک کی صفت ہے اور صفتِ الٰہی کا انکار کفر ہے.
📍 *ظالم کہتا ہے کہ قرآن میں ایک جگہ فرمایا تمہارا دین تمہارے ساتھ ہے اور دوسری جگہ فرمایا جو اللہ کو ایک نہ مانے اس کو مارو تو اس قرآن میں ٹکراؤ ہو گیا.*
اس بے دال کے بودم اور صاف لفظوں میں کہا جائے تو بُوم سے کوئی پوچھے کہ تو جن 26 آیات کے علاوہ قرآن کو مانتا ہے اس میں یہ آیت بھی تو ہے { أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَیۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِیهِ ٱخۡتِلَـٰفࣰا كَثِیرࣰا } [سورۃ النساء : 4]
ترجمہ : کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔
اگر یہ کسی اور کی کتاب ہوتی تب ٹکراؤ ہوتا.
جب اس خبیث کے نزدیک بھی یہ اللہ تعالی کی کتاب ہے تو اس میں کوئی ٹکراؤ نہیں رہا.
قرآن عظیم سمجھنے کے لئے مضبوط ایمان و خاصہ علم ، وافر دانش و بینش اور ادراک و فراست درکار ہے.
یہی قرآن جب ابو الحکم پر پڑھا گیا تو انکار کر کے ابو جہل بن گیا اور یہی قرآن ابو قحافہ پر پڑھا گیا تو صدیق اکبر بن گئے ہیں.
یہ تو اپنا اپنا ہے حوصلہ یہ تو اپنی اپنی اڑان ہے
کوئ اُڑ کے رہ گیا بام تک کوئ کہکشاں سے گزر گیا
🌀 #ابلیس_کے_چیلے 👇🏻👇🏻
📊 آج #نرسنگھانند اور #وسیم_رافضی جیسے کم لوگ قرآن کریم میں زیادت و نقصان کی بات کرتے ہیں، ان نادانوں کو سوچنا چاہئے کہ جب ان کا سردار ابلیس قرآن مجید میں کمی و زیادتی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو چیلوں سے کوئی فعل شنیع کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے.
رب کائنات ارشاد فرماتا ہے : ﴿ وإنَّهُ لَكِتابٌ عَزِيزٌ﴾ ﴿لا يَأْتِيهِ الباطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ ولا مِن خَلْفِهِ﴾
اور بے شک وہ عزت والی کتاب ہے، باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے
امام جلال الدين سيوطي عليه الرحمہ تفسیر در منثور میں اس آیت کے تحت حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرماتے ہیں :
قال: أعَزَّهُ اللَّهُ لِأنَّهُ كَلامُهُ وحَفِظَهُ مِنَ الباطِلِ. قالَ: والباطِلُ إبْلِيسُ لا يَسْتَطِيعُ أنْ يَنْقُصَ مِنهُ حَقًّا ولا يَزِيدَ فِيهِ باطِلًا.
انہونے فرمایا : اللہ پاک نے قرآن کریم کو یہ اعزاز اسلئے بخشا ہے کہ وہ اس کا کلام ہے اور باطل سے اس کی حفاظت فرمائی، اور باطل ابلیس ہے جو قرآن پاک سے حق کو نکالنے اور باطل کو زائد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے.