https://www.facebook.com/388280455075812/posts/892588887978297/
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❶
https://t.me/islaamic_Knowledge/12361
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❶
https://t.me/islaamic_Knowledge/12361
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد
قسط دوم ➋
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم.
*شبہ نمبر 2️⃣ : کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ❓❓
بعض مغالطین یہ مغالطہ کرتے ہیں کہ اسلام اہل الذمہ (وہ کفار جو جِزیہ دیکر دار الاسلام میں پناہ اختیار کریں) پر ظلم و تشدد کا معاملہ کرتا ہے, انکی آزادی چھین لیتا ہے اور ان پر زیادہ ٹیکس ڈال کر پریشانی میں مبتلا کرتا ہے جسے مسلمان جِزیہ کا نام دیتے ہیں اور ادا نہ کرنے پر جہاد کا حکم دیتا ہے.
*شبہ سابقہ چند وجوہات سے مسترد کیا جاتا ہے :
اس میں کوئ شک نہیں ہے کہ یہ شبہ پیدا کرنے والے ان ساری باتوں سے نا واقف ہیں جو اسلام ذمیوں کے حقوق کی کفالت میں بے مثال کردار ادا کرتا ہے. ہم ان تمام چیزوں کو درج ذیل سطور میں بیان کرتے ہیں تاکہ اذہان و قلوب شکوک و شبہات سے محفوظ رہیں.
اولاً جزیہ کا معنی بیان کر دیتے ہیں :
جزیہ لغت میں ( ج ز ی) سے مشتق ہے اور فِعْلَة کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے " أعطوها جزا ما منحوا من الأمن " جو امان کے بدلے میں دیا جائے. [ مختار الصحاح : 44/1 ]
🔹 جزيہ وہ محدود اور متعین مال ہے جو سلطنت اسلامیہ کے تحت رہنے اور حفاظت کے بدلے میں صرف ان صاحب استطاعت کام کاج پر قدرت رکھنے والے غیر مسلموں سے لیا جاتا ہے جو دار الاسلام میں سکونت اختیار کریں.
بوڑھے , بچے اور عورتیں اس سے بری ہیں , اسی طرح فقیر و مریض اور کام کاج پر قدرت نہ رکھنے والے افراد سے بھی جزیہ نہیں لیا جاتا ہے بلکہ ان میں سے اکثر تو وہ افراد ہیں جو مسلمانوں کے بیت المال سے بقدر حاجت حصہ بھی پاتے ہیں.
🔹اہل الذمہ جو مسلمانوں کے درمیان رہتے ہیں دولت اسلامیہ کی قضاء و ضمانت و فوج (Judiciary, Army, Police) کی خدمات سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح عوامی سہولیات( Public Facilities) سے بھی مستفید ہوتے ہیں, اور یہ بات اہل نظر سے پوشیدہ نہیں کہ ان تمام امور و معاملات کو چلانے کے لیے ایک بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے جس کی ادائیگی مسلمان کرتے ہیں اور ذمی لوگ بھی اس خرچے کی ادائیگی میں حصہ دار بنتے ہیں.
جزیہ کے بدلے میں دولت اسلامیہ ان کی حفاظت و دفاع کی ذمہ داری اٹھاتی ہے اور ان کے لئے دیار اسلام میں امان فراہم کرتی ہے جس پر انہیں اپنے جان و مال اور عزت کے دفاع یا دولت اسلامیہ کے دفاع کا مکلف نہیں کرتی بلکہ ان تمام امور کی حفاظت اور انکی نگہداشت کے لئے فوجی دستہ مامور ہوتا ہے.
تو یہ جِزیہ اسلام قبول نہ کرنے کی سزا یا ظلم نہیں ہے بلکہ یہ انکی حفاظت و حمایت اور کفالت وسرپرستی کے عوض ہے. اسلئے کہ جزیہ کا قبول کرنا ہی انکی جان و مال کی عصمت کو ثابت کرتا ہے. جیساکہ امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے صراحتاً فرمایا تھا : *" فإذا أخذت منهم الجزية فلا شيء لك عليهم و لا سبيل."* جب تم نے ان سے جزیہ لے لیا تو اب تمہارے لئے ان پر کوئی چیز یا راستہ باقی نہ رہا.[ الخراج : 154] 📘
🔹اسلام نے ذمیوں کی ضمانت میں ایک ایسی الگ پہل کی جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی کہ ذمیوں میں سے قدرت رکھنے والے لوگ معدود ومتعین درہم عطا کریں اور پھر مسلمانوں کی نگرانی میں امن و سلامتی کے ساتھ محفوظ و مامون ہو کر اپنی خوشگوار زندگی گزاریں, حالانکہ قدرت و طاقت ہونے کے باوجود ظلم و ستم نہ کر کے حقوق میں عدل و انصاف عطا کیا.
🌀 *ذمیوں کے لئے عام حقوق*
①. *جرم کے متعلق قانون* ( Criminal Law )
یہ قانون مسلمان و ذمی پر برابر جاری ہوتا ہے یعنی جرم کی سزا دونوں کے لئے برابر ہے, مثلا اگر کوئی مسلمان ذمی کا مال چوری کر لے یا ذمی مسلمان کا مال چوری کر لے تو دونوں حالتوں میں چور کے ہاتھ کاٹے جائینگے.
②. *شہری قانون* (Civil Law)
یہ قانون بھی دونوں کے لئے برابر ہے, ذمی کا مال مسلمان کے مال کی طرح ہے اور ذمی کے لئے شراب بنانا, پینا یا بیچنا خاص ہے اور خنزیر پالنے, کھانے یا بیچنے کی اجازت ہے. تو اگر کسی مسلمان نے ذمی کی شراب ضائع کردی یا خنزیر کو ہلاک کردیا تو اس پر اس کا جرمانہ ادا کرنا لازم ہوگا. جیسا کہ در مختار میں ہے : يضمن المسلم قيمة خمرہ و خنزيره إذا أتلفه " 📕
③. *حفظِ عفت و عزت*
ذمی کو ہاتھ یا زبان سے ایذا رسانی جائز نہیں ہے اور اس کو گالی دینا , مارنا یا اسکی غیبت کرنا بھی جائز نہیں ہے , در مختار میں ہے : *" يجب كف الأذى عنه و تحريم غيبته كمسلم "* ذمی کو اذیت دینے سے باز رہنا ضروری ہے اور اس کی غیبت مسلمان کی طرح حرام ہے.
④. شعائر دینیہ
⑤. جزیہ و خراج لینے میں نرمی.
قسط دوم ➋
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم.
*شبہ نمبر 2️⃣ : کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ❓❓
بعض مغالطین یہ مغالطہ کرتے ہیں کہ اسلام اہل الذمہ (وہ کفار جو جِزیہ دیکر دار الاسلام میں پناہ اختیار کریں) پر ظلم و تشدد کا معاملہ کرتا ہے, انکی آزادی چھین لیتا ہے اور ان پر زیادہ ٹیکس ڈال کر پریشانی میں مبتلا کرتا ہے جسے مسلمان جِزیہ کا نام دیتے ہیں اور ادا نہ کرنے پر جہاد کا حکم دیتا ہے.
*شبہ سابقہ چند وجوہات سے مسترد کیا جاتا ہے :
اس میں کوئ شک نہیں ہے کہ یہ شبہ پیدا کرنے والے ان ساری باتوں سے نا واقف ہیں جو اسلام ذمیوں کے حقوق کی کفالت میں بے مثال کردار ادا کرتا ہے. ہم ان تمام چیزوں کو درج ذیل سطور میں بیان کرتے ہیں تاکہ اذہان و قلوب شکوک و شبہات سے محفوظ رہیں.
اولاً جزیہ کا معنی بیان کر دیتے ہیں :
جزیہ لغت میں ( ج ز ی) سے مشتق ہے اور فِعْلَة کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے " أعطوها جزا ما منحوا من الأمن " جو امان کے بدلے میں دیا جائے. [ مختار الصحاح : 44/1 ]
🔹 جزيہ وہ محدود اور متعین مال ہے جو سلطنت اسلامیہ کے تحت رہنے اور حفاظت کے بدلے میں صرف ان صاحب استطاعت کام کاج پر قدرت رکھنے والے غیر مسلموں سے لیا جاتا ہے جو دار الاسلام میں سکونت اختیار کریں.
بوڑھے , بچے اور عورتیں اس سے بری ہیں , اسی طرح فقیر و مریض اور کام کاج پر قدرت نہ رکھنے والے افراد سے بھی جزیہ نہیں لیا جاتا ہے بلکہ ان میں سے اکثر تو وہ افراد ہیں جو مسلمانوں کے بیت المال سے بقدر حاجت حصہ بھی پاتے ہیں.
🔹اہل الذمہ جو مسلمانوں کے درمیان رہتے ہیں دولت اسلامیہ کی قضاء و ضمانت و فوج (Judiciary, Army, Police) کی خدمات سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح عوامی سہولیات( Public Facilities) سے بھی مستفید ہوتے ہیں, اور یہ بات اہل نظر سے پوشیدہ نہیں کہ ان تمام امور و معاملات کو چلانے کے لیے ایک بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے جس کی ادائیگی مسلمان کرتے ہیں اور ذمی لوگ بھی اس خرچے کی ادائیگی میں حصہ دار بنتے ہیں.
جزیہ کے بدلے میں دولت اسلامیہ ان کی حفاظت و دفاع کی ذمہ داری اٹھاتی ہے اور ان کے لئے دیار اسلام میں امان فراہم کرتی ہے جس پر انہیں اپنے جان و مال اور عزت کے دفاع یا دولت اسلامیہ کے دفاع کا مکلف نہیں کرتی بلکہ ان تمام امور کی حفاظت اور انکی نگہداشت کے لئے فوجی دستہ مامور ہوتا ہے.
تو یہ جِزیہ اسلام قبول نہ کرنے کی سزا یا ظلم نہیں ہے بلکہ یہ انکی حفاظت و حمایت اور کفالت وسرپرستی کے عوض ہے. اسلئے کہ جزیہ کا قبول کرنا ہی انکی جان و مال کی عصمت کو ثابت کرتا ہے. جیساکہ امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے صراحتاً فرمایا تھا : *" فإذا أخذت منهم الجزية فلا شيء لك عليهم و لا سبيل."* جب تم نے ان سے جزیہ لے لیا تو اب تمہارے لئے ان پر کوئی چیز یا راستہ باقی نہ رہا.[ الخراج : 154] 📘
🔹اسلام نے ذمیوں کی ضمانت میں ایک ایسی الگ پہل کی جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی کہ ذمیوں میں سے قدرت رکھنے والے لوگ معدود ومتعین درہم عطا کریں اور پھر مسلمانوں کی نگرانی میں امن و سلامتی کے ساتھ محفوظ و مامون ہو کر اپنی خوشگوار زندگی گزاریں, حالانکہ قدرت و طاقت ہونے کے باوجود ظلم و ستم نہ کر کے حقوق میں عدل و انصاف عطا کیا.
🌀 *ذمیوں کے لئے عام حقوق*
①. *جرم کے متعلق قانون* ( Criminal Law )
یہ قانون مسلمان و ذمی پر برابر جاری ہوتا ہے یعنی جرم کی سزا دونوں کے لئے برابر ہے, مثلا اگر کوئی مسلمان ذمی کا مال چوری کر لے یا ذمی مسلمان کا مال چوری کر لے تو دونوں حالتوں میں چور کے ہاتھ کاٹے جائینگے.
②. *شہری قانون* (Civil Law)
یہ قانون بھی دونوں کے لئے برابر ہے, ذمی کا مال مسلمان کے مال کی طرح ہے اور ذمی کے لئے شراب بنانا, پینا یا بیچنا خاص ہے اور خنزیر پالنے, کھانے یا بیچنے کی اجازت ہے. تو اگر کسی مسلمان نے ذمی کی شراب ضائع کردی یا خنزیر کو ہلاک کردیا تو اس پر اس کا جرمانہ ادا کرنا لازم ہوگا. جیسا کہ در مختار میں ہے : يضمن المسلم قيمة خمرہ و خنزيره إذا أتلفه " 📕
③. *حفظِ عفت و عزت*
ذمی کو ہاتھ یا زبان سے ایذا رسانی جائز نہیں ہے اور اس کو گالی دینا , مارنا یا اسکی غیبت کرنا بھی جائز نہیں ہے , در مختار میں ہے : *" يجب كف الأذى عنه و تحريم غيبته كمسلم "* ذمی کو اذیت دینے سے باز رہنا ضروری ہے اور اس کی غیبت مسلمان کی طرح حرام ہے.
④. شعائر دینیہ
⑤. جزیہ و خراج لینے میں نرمی.
🔹 اسلام حاجتمند ذمیوں کو مسلمانوں کے بیت المال سے حصہ بھی فراہم کرتا ہے جیسا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے بصری میں اپنے مقرر کردہ گورنر عدی بن ارطأۃ کو یہ کہہ کر روانہ کیا : *" انظر من قبلك من أهل الذمة، قد كبرت سنه وضعفت قوته وولت عنه المكاسب، فأجرِ عليه من بيت مال المسلمين ما يصلحه "*. [ الأموال : 170/1]📗
اپنا خیال رکھنے سے پہلے اہل ذمہ کا خیال رکھنا کہ ان میں کچھ عمر دراز ہوگئے ہیں, کچھ ضعیف و کمزور ہیں اور انکی آمدنی دور ہوگئی ہے تو مسلمانوں کے بیت المال سے ان کو عطا کرنا جس سے ان کی حالت میں سدھار آئے.
اسلام کی معیشت میں غیر مسلموں نے اس طرح آزادی و عدل و انصاف کے ساتھ زندگی گزاری ہے تو آج مسلمانوں کے ساتھ اتنا ظلم و ستم کیوں ؟⁉️
🔹اسلام رحمت و سلامتی کا دین ہے جو نفرت و دشمنی کی طرف نہیں اکساتا بلکہ وہ مسلم و غیر مسلم کے درمیان قضاء و دیگر معاملات میں مساوات کا درس دیتا ہے جس کی تاریخ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں.
یہاں وہ واقعہ بہترین مثال ہے جو حضرت علی کرم الله وجهه الکریم اور ایک یہودی شخص کے درمیان پیش آیا. حضرت علی کرم الله وجهه الکریم کی زرہ گم ہو گئی جو آپ نے ایک یہودی شخص کے پاس پائی تو آپ اس شخص کے ساتھ قاضی شریح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہ میری زرہ ہے جو نہ میں نے بیچی ہے اور نہ ہبہ کی ہے. تو حضرت قاضی شریح نے اس شخص سے پوچھا جو امیر المؤمنین فرما رہے ہیں اس پر تم کیا کہتے ہو ؟ تو اس شخص نے کہا یہ تو میری ہی زرہ ہے اور نہ ہی امیر المومنین میرے نزدیک جھوٹے ہیں. تو قاضی شریح رضی اللہ عنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : اے امیر المؤمنین آپ کے پاس کوئی دلیل ہے ؟ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قاضی صاحب میرے پاس کوئی واضح حجت نہیں ہے. تو قاضی شریح نے فیصلہ اس یہودی شخص کے حق میں فرمادیا کہ زرہ اس یہودی شخص کی ہے. اس نے زرہ لی اور چلا گیا, کچھ ہی قدم چلا تھا کہ یہ کہتا ہوا واپس آیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ انبیاء کرام کے فیصلوں کے مطابق فیصلے ہیں. اے امیر المؤمنین مجھے قاضی کے قریب کردیں کہ وہ فیصلہ فرمائیں اور اس نے کلمئہ طیبہ پڑھا : لا إله إلا الله و أشهد أن محمدا عبده و رسوله, اور کہنے لگا : اے امیر المومنین, اللہ کی قسم یہ آپ ہی کی زرہ ہے جو میں نے آپ کے اونٹ سے نکالی تھی. حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : *" أما إذا أسلمتَ فهي لك "* جب تو ایمان 📘لے آیا تو اب یہ تیری ہے. [ سنن کبری : 20252 ].
اسلام میں اس طرح کا انصاف ہے کہ خود امیر المؤمنین قاضی اسلام کے سامنے اس یہودی شخص کے ساتھ فیصلہ کے لئے حاضر ہیں باوجود اس کے کہ آپ حق پر تھے اور پاور فل تھے اور قاضی بھی بینہ طلب کر رہے ہیں, اسی بات پر امیر المؤمنین مسکراۓ بھی کہ وہ حق پر ہیں مگر ان کے پاس کوئی بینہ نہیں ہے. کیونکہ وہ مدعی تھے اور حدیث پاک ہے : *أن الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.* [ سنن ترمزی : 1342 ] 📘 دلیل مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے.
🔹 يہ نرمی کا ہی معاملہ ہے کہ امیر اور رعایہ میں سے ایک یہودی کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا. اور اس فیصلہ نے اس شخص کو متحیر کر دیا یہاں تک کہ ایمان لے آیا.
*جزیہ کی مشروعیت.*
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :
{ قَـٰتِلُوا۟ ٱلَّذِینَ لَا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ وَلَا یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا یَدِینُونَ دِینَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡكِتَـٰبَ حَتَّىٰ یُعۡطُوا۟ ٱلۡجِزۡیَةَ عَن یَدࣲ وَهُمۡ صَـٰغِرُونَ } [ سورہ التوبة : 29 ]
لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر ۔
اس آیت کے تحت امام قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
قَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ: وَالَّذِي دَلَّ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ أَنَّ الْجِزْيَةَ تُؤْخَذُ مِنَ الرِّجَالِ الْمُقَاتِلِينَ، لِأَنَّهُ تَعَالَى قَالَ: "قاتِلُوا الَّذِينَ" إِلَى قَوْلِهِ: "حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ" فيقتضي ذلك وجو بها عَلَى مَنْ يُقَاتِلُ. [ تفسیر قرطبی ]📗
ہمارے علماء کرام نے بیان فرمایا ہے : قرآن کی دلالت یہ ہے کہ جزیہ جنگ کرنے والوں سے لیا جائے گا , کیونکہ آیت اُس پر جزیہ کے وجوب کا تقاضہ کرتی ہے جو جنگ کرے.
اپنا خیال رکھنے سے پہلے اہل ذمہ کا خیال رکھنا کہ ان میں کچھ عمر دراز ہوگئے ہیں, کچھ ضعیف و کمزور ہیں اور انکی آمدنی دور ہوگئی ہے تو مسلمانوں کے بیت المال سے ان کو عطا کرنا جس سے ان کی حالت میں سدھار آئے.
اسلام کی معیشت میں غیر مسلموں نے اس طرح آزادی و عدل و انصاف کے ساتھ زندگی گزاری ہے تو آج مسلمانوں کے ساتھ اتنا ظلم و ستم کیوں ؟⁉️
🔹اسلام رحمت و سلامتی کا دین ہے جو نفرت و دشمنی کی طرف نہیں اکساتا بلکہ وہ مسلم و غیر مسلم کے درمیان قضاء و دیگر معاملات میں مساوات کا درس دیتا ہے جس کی تاریخ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں.
یہاں وہ واقعہ بہترین مثال ہے جو حضرت علی کرم الله وجهه الکریم اور ایک یہودی شخص کے درمیان پیش آیا. حضرت علی کرم الله وجهه الکریم کی زرہ گم ہو گئی جو آپ نے ایک یہودی شخص کے پاس پائی تو آپ اس شخص کے ساتھ قاضی شریح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہ میری زرہ ہے جو نہ میں نے بیچی ہے اور نہ ہبہ کی ہے. تو حضرت قاضی شریح نے اس شخص سے پوچھا جو امیر المؤمنین فرما رہے ہیں اس پر تم کیا کہتے ہو ؟ تو اس شخص نے کہا یہ تو میری ہی زرہ ہے اور نہ ہی امیر المومنین میرے نزدیک جھوٹے ہیں. تو قاضی شریح رضی اللہ عنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : اے امیر المؤمنین آپ کے پاس کوئی دلیل ہے ؟ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قاضی صاحب میرے پاس کوئی واضح حجت نہیں ہے. تو قاضی شریح نے فیصلہ اس یہودی شخص کے حق میں فرمادیا کہ زرہ اس یہودی شخص کی ہے. اس نے زرہ لی اور چلا گیا, کچھ ہی قدم چلا تھا کہ یہ کہتا ہوا واپس آیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ انبیاء کرام کے فیصلوں کے مطابق فیصلے ہیں. اے امیر المؤمنین مجھے قاضی کے قریب کردیں کہ وہ فیصلہ فرمائیں اور اس نے کلمئہ طیبہ پڑھا : لا إله إلا الله و أشهد أن محمدا عبده و رسوله, اور کہنے لگا : اے امیر المومنین, اللہ کی قسم یہ آپ ہی کی زرہ ہے جو میں نے آپ کے اونٹ سے نکالی تھی. حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : *" أما إذا أسلمتَ فهي لك "* جب تو ایمان 📘لے آیا تو اب یہ تیری ہے. [ سنن کبری : 20252 ].
اسلام میں اس طرح کا انصاف ہے کہ خود امیر المؤمنین قاضی اسلام کے سامنے اس یہودی شخص کے ساتھ فیصلہ کے لئے حاضر ہیں باوجود اس کے کہ آپ حق پر تھے اور پاور فل تھے اور قاضی بھی بینہ طلب کر رہے ہیں, اسی بات پر امیر المؤمنین مسکراۓ بھی کہ وہ حق پر ہیں مگر ان کے پاس کوئی بینہ نہیں ہے. کیونکہ وہ مدعی تھے اور حدیث پاک ہے : *أن الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.* [ سنن ترمزی : 1342 ] 📘 دلیل مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے.
🔹 يہ نرمی کا ہی معاملہ ہے کہ امیر اور رعایہ میں سے ایک یہودی کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا. اور اس فیصلہ نے اس شخص کو متحیر کر دیا یہاں تک کہ ایمان لے آیا.
*جزیہ کی مشروعیت.*
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :
{ قَـٰتِلُوا۟ ٱلَّذِینَ لَا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ وَلَا یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا یَدِینُونَ دِینَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡكِتَـٰبَ حَتَّىٰ یُعۡطُوا۟ ٱلۡجِزۡیَةَ عَن یَدࣲ وَهُمۡ صَـٰغِرُونَ } [ سورہ التوبة : 29 ]
لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر ۔
اس آیت کے تحت امام قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
قَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ: وَالَّذِي دَلَّ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ أَنَّ الْجِزْيَةَ تُؤْخَذُ مِنَ الرِّجَالِ الْمُقَاتِلِينَ، لِأَنَّهُ تَعَالَى قَالَ: "قاتِلُوا الَّذِينَ" إِلَى قَوْلِهِ: "حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ" فيقتضي ذلك وجو بها عَلَى مَنْ يُقَاتِلُ. [ تفسیر قرطبی ]📗
ہمارے علماء کرام نے بیان فرمایا ہے : قرآن کی دلالت یہ ہے کہ جزیہ جنگ کرنے والوں سے لیا جائے گا , کیونکہ آیت اُس پر جزیہ کے وجوب کا تقاضہ کرتی ہے جو جنگ کرے.
تو کیا یہ ان پر سختی اور پریشانی میں ڈالنا, ان حریت کو سلب کرنا اور طاقت سے زیادہ ٹیکس لینا ہے ؟❓
یا یہ اسلام کی وسیع رحمت ہے جو تمام عالمین کو شامل ہے کہ رب فرماتا ہے : { وَمَاۤ أَرۡسَلۡنَـٰكَ إِلَّا رَحۡمَةࣰ لِّلۡعَـٰلَمِینَ } [ سوره الأنبياء : 107 ]
ہم نے نہ بھیجا مگر سارے جہان کے لئے رحمت بناکر.
اسلام نے ذمیوں کی امن و سلامتی کے لئے کیا تنبیہات جاری فرمائ ہیں ❓
ذمیوں سے ظلم و تکلیف کو دور کرنے کی قرآن پاک و احادیث مبارکہ اور سیرت صحابہ کرام میں کثیر مثالیں موجود ہیں.
▪️ اللہ پاک ﷻ ارشاد فرماتا ہے :
{ لَا یَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِینَ لَمۡ یُقَـٰتِلُوكُمۡ فِی ٱلدِّینِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوكُم مِّن دِیَـٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوۤا۟ إِلَیۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ یُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِینَ }
اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں.
▪️ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : *" مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا "* [ صحيح البخاري : 3166 ] 📙
جس نے کسی ذمی کو ناحق قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائےگا اور بے شک جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے. :
رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : *" ألا من ظلم معاهدا، أو انتقصه، كلفه فوق طاقته، أخذ منه شيئاً بغير طيب نفس منه ، فأنا حجيجه يوم القيامة. "* [ سنن أبو داؤد : 3052 , سنن كبرى : 18511 ]📗
خبردار ! جس کسی نے کسی عہد والے ( ذمی ) پر ظلم کیا یا اس کی تنقیص کی ( یعنی اس کے حق میں کمی کی ) یا اس کی ہمیت سے بڑھ کے اسے کسی بات کا مکلف کیا یا اس کی دلی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس ذمی کو انصاف دلاؤں گا ۔ “
*تشریع جزیہ میں حکمت*
اسلام نے جزیہ مقرر کر کے غیر مسلموں کے ساتھ بھلائی کی ہے نہ یہ کہ ان کو یک بارگی اسلام میں داخل ہونے پر مجبور کیا ہے.
صدر الافاضل حضرت علامہ نعیم الدین مرادآبادی تحریر فرماتے ہیں : حکمت جزیہ مقرر کرنے کی یہ ہے کہ کفار کو مہلت دی جائے تاکہ وہ اسلام کے محاسن اور دلائل کی قوت دیکھیں اور کتب قدیمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر اور حضور کی نعت و صفت دیکھ کر مشرف بہ اسلام ہونے کا موقع پائیں. [ تفسیر خزائن العرفان , سورہ توبہ : 29]📕
🔹اگر ذمی اسلام قبول کر لے تو وہ جزیہ بھی اس سے ساقط ہو جاتا ہے جیساکہ حضرت سفیان ثوری سے اس کی وضاحت معلوم کی گئی تو انہوں نے فرمایا : *" إِذَا أَسْلَمَ فَلَا جِزْيَةَ عَلَيْهِ "* جب کوئی شخص اسلام قبول کر لے تو اس پر جزیہ نہیں. [ سنن أبو داؤد : 3054 ]📗
*قارئین حضرات ! *
مذکورہ حقائق سے یہ امر بدر منیر سے زیادہ روشن ہو گیا کہ اسلام نے اہل ذمہ کو جو حقوق فراہم کئے ہیں اس سے پہلے وہ متصور نہیں ہوتے اور اس کی مثال اسلام کے علاوہ کسی طرف سے کسی بھی زمانہ میں نہیں ملتی.
🔹خلاصہ : اسلام ہی دینِ حق و عدل و رحمت ہے جس کے لطف وکرم کے بادلوں سے ساری انسانیت سیراب ہو رہی ہے , وہ مفتری جو تشریعِ جزیہ اور اسکے علاوہ دیگر تشریعات پر افتراء کرتے ہیں اسلام کے نصوص عادلہ و دلائل ساطعہ ان کذابوں کے ہر شک و شبہ کا مسکت جواب ہیں.
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( *بن مناظر اہل سنت علامہ صغیر احمد رضوی جوکھنپوری* ) حفظہ الله
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
*جاری ...* 📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893169427920243/
یا یہ اسلام کی وسیع رحمت ہے جو تمام عالمین کو شامل ہے کہ رب فرماتا ہے : { وَمَاۤ أَرۡسَلۡنَـٰكَ إِلَّا رَحۡمَةࣰ لِّلۡعَـٰلَمِینَ } [ سوره الأنبياء : 107 ]
ہم نے نہ بھیجا مگر سارے جہان کے لئے رحمت بناکر.
اسلام نے ذمیوں کی امن و سلامتی کے لئے کیا تنبیہات جاری فرمائ ہیں ❓
ذمیوں سے ظلم و تکلیف کو دور کرنے کی قرآن پاک و احادیث مبارکہ اور سیرت صحابہ کرام میں کثیر مثالیں موجود ہیں.
▪️ اللہ پاک ﷻ ارشاد فرماتا ہے :
{ لَا یَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِینَ لَمۡ یُقَـٰتِلُوكُمۡ فِی ٱلدِّینِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوكُم مِّن دِیَـٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوۤا۟ إِلَیۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ یُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِینَ }
اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں.
▪️ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : *" مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا "* [ صحيح البخاري : 3166 ] 📙
جس نے کسی ذمی کو ناحق قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائےگا اور بے شک جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے. :
رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : *" ألا من ظلم معاهدا، أو انتقصه، كلفه فوق طاقته، أخذ منه شيئاً بغير طيب نفس منه ، فأنا حجيجه يوم القيامة. "* [ سنن أبو داؤد : 3052 , سنن كبرى : 18511 ]📗
خبردار ! جس کسی نے کسی عہد والے ( ذمی ) پر ظلم کیا یا اس کی تنقیص کی ( یعنی اس کے حق میں کمی کی ) یا اس کی ہمیت سے بڑھ کے اسے کسی بات کا مکلف کیا یا اس کی دلی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس ذمی کو انصاف دلاؤں گا ۔ “
*تشریع جزیہ میں حکمت*
اسلام نے جزیہ مقرر کر کے غیر مسلموں کے ساتھ بھلائی کی ہے نہ یہ کہ ان کو یک بارگی اسلام میں داخل ہونے پر مجبور کیا ہے.
صدر الافاضل حضرت علامہ نعیم الدین مرادآبادی تحریر فرماتے ہیں : حکمت جزیہ مقرر کرنے کی یہ ہے کہ کفار کو مہلت دی جائے تاکہ وہ اسلام کے محاسن اور دلائل کی قوت دیکھیں اور کتب قدیمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر اور حضور کی نعت و صفت دیکھ کر مشرف بہ اسلام ہونے کا موقع پائیں. [ تفسیر خزائن العرفان , سورہ توبہ : 29]📕
🔹اگر ذمی اسلام قبول کر لے تو وہ جزیہ بھی اس سے ساقط ہو جاتا ہے جیساکہ حضرت سفیان ثوری سے اس کی وضاحت معلوم کی گئی تو انہوں نے فرمایا : *" إِذَا أَسْلَمَ فَلَا جِزْيَةَ عَلَيْهِ "* جب کوئی شخص اسلام قبول کر لے تو اس پر جزیہ نہیں. [ سنن أبو داؤد : 3054 ]📗
*قارئین حضرات ! *
مذکورہ حقائق سے یہ امر بدر منیر سے زیادہ روشن ہو گیا کہ اسلام نے اہل ذمہ کو جو حقوق فراہم کئے ہیں اس سے پہلے وہ متصور نہیں ہوتے اور اس کی مثال اسلام کے علاوہ کسی طرف سے کسی بھی زمانہ میں نہیں ملتی.
🔹خلاصہ : اسلام ہی دینِ حق و عدل و رحمت ہے جس کے لطف وکرم کے بادلوں سے ساری انسانیت سیراب ہو رہی ہے , وہ مفتری جو تشریعِ جزیہ اور اسکے علاوہ دیگر تشریعات پر افتراء کرتے ہیں اسلام کے نصوص عادلہ و دلائل ساطعہ ان کذابوں کے ہر شک و شبہ کا مسکت جواب ہیں.
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( *بن مناظر اہل سنت علامہ صغیر احمد رضوی جوکھنپوری* ) حفظہ الله
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
*جاری ...* 📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893169427920243/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893169427920243/
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❷
https://t.me/islaamic_Knowledge/12365
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❷
https://t.me/islaamic_Knowledge/12365
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
نرسنکھا نند سرسوتی کے خلاف فی الحال کرنے کے کام،، (1) اپنے اپنے علاقے کی چھوٹی بڑی تنظیموں کا الائنس کرکے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں اور پریس میں صحیح ڈھنگ سے بیان بھی دیں بیان میں لاجک و معقول انداز اپنائیں،،، (2) میڈیا میں صحیح ڈھنگ سے بیان بھی دیں…
موجودہ تناظر میں چند باتیں
توصیف رضا مصباحی سنبھلی
رکن : روشن مستقبل، دہلی
(1) سرسوتی جیسے ناسور جو بہت بکواس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف صرف ایک قابل اعتراض بات پر نہیں بلکہ وکلاء حضرات سے مشاورت کرنے کے بعد مختلف چیزوں پر مختلف کیسز کیے جائیں۔
(2) آپ اگر ایک ہی بات پر مختلف شہروں سے ایف آئی آر درج کراتے ہیں تب بلاشبہ اس کا پریشر بنتا ہے کہ اتنی ساری جگہوں پر ایف آئی آر کا مطلب ایک تو بیداری ہے، دوسرے معاملہ بہت حساس ہے۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ ساری ایف آئی آر گویا کہ ایک ہی شمار کی جاتی ہیں۔ چوں کہ معاملہ ایک ہی ہے لہذا حکومتی سسٹم ایک ہی جگہ کورٹ میں اسے پیش کردیتا ہے یعنی کہ آپ کی ایف آئی آر جو مختلف جگہوں پر درج ہوئیں ان سب کی سماعت صرف ایک ہی جگہ پر ہونا ہے۔
(3) سرسوتی نے سابق صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے ابو الکلام کو بھی دیش دروہی کہا۔ اور بھی سیکڑوں غیرقانونی باتیں کہی ہیں۔ اگر مختلف شہروں میں ایکٹو حضرات باہم مشاورت کرلیں تو پھر ایسا کیا جائے کہ ہم اس پر ایف آئی آر کراتے ہیں آپ فلاں فلاں بات پر کرائیے۔ اب اس صورت میں مختلف کیسز درج ہوسکتے ہیں اور آج نہ کل،، کل نہ پرسوں،، اگر پیروی سلیقے سے کی جائے تب یہ کیسز سماج دشمن عناصر کے لیے وبال جان بن ہی جائیں گے۔
امید کرتا ہوں آپ اس نکتے کو سمجھ گئے ہوں گے اور باہم مشاورت کی ترکیب بھی بنائیں گے۔
(4) عموماً ہوتا یہ ہے کہ ہم میمورنڈم دے کر یا ایف آئی آر درج کرانے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگیے جب کہ فرض کا آغاز اب ہوا ہے، یہ بات بھول جاتے ہیں۔ لہذا اولا تو میمورنڈم اور "ایف آئی آر" میں زمین آسمان کا فرق ہے اس لیے خواہ وقت لگے متعدد مرتبہ جانا پڑے لیکن "ایف آئی آر" ہی درج کرائیں اور درج ہونے کے بعد اپنی بساط کے مطابق "لیگل سیل" کا انتظام کریں۔
آپ ہی بتائیں کہ اگر ہم اب بھی ذہنی طور پر زمینی ورک اور جد و جہد کے لیے آمادہ نہیں تو آخر کونسے اور کیسے بدترین وقت کے انتظار میں ہیں؟؟!!!
(5) محترم بزرگو،، عزیز دوستو! اب ہمیں ہر قیمت پر بیدار ہونا ہی پڑے گا اور کامن ایشوز پر بنام ملت یہاں تک کہ بنام مظلومیت بات کرنا ہی ہوگی۔ آپ دیکھ نہیں رہے ہیں تباہی اور آفت کس طرح منہ پھاڑے کھڑی ہے۔ لہذا معاملات کی نوعیت کے اعتبار سے چیزوں کو سمجھتے ہوئے خود کو پائے دار اور تعمیری ورک کی طرف متوجہ کریں کوئ کیا کر رہا ہے کیا نہیں کر رہا ہے اس پر زیادہ مغز ماری کرنے سے کیا مسائل کا حل نکل جائے گا؟ ہاں، اپنے لوگ جو بیدار نہیں ہیں انھیں بیدار کرنے اور مہمیز لگانے کے لیے مثبت کوششیں ضرور کی جا سکتی ہیں۔
اب سب سے اہم سوال ہمیں خود سے کرنا ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اور کس حد تک کرسکتے ہیں؟
لہذا اسی اعتبار سے ذہنی طور پر خود کو تیار کریں۔ ملت کا مفاد مقدم رکھیں۔ اپنی انا اور اپنی انفرادیت کو نہ دیکھیں بلکہ ملت کے مفادات کو ترجیح دیں۔ تبھی سیاہ سمندر سے نور نکلنے کی امید رکھیں کہ
ع خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا،،
(6) اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر ہمارے بار بار جانے کے بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تب کیا کریں؟
اس صورت میں آپ کے پاس دو آپشن ہیں: نمبر ایک : آنلائن ایف آئی آر
نمبر دو : بائی کورٹ ایف آئی آر۔
اس میں سے جو بہتر سمجھیں منتخب کرسکتے ہیں۔
آخر میں دست بستہ عرض ہے کہ اپنے اندر،، قوت برداشت،، تحمل و بردباری،،" میں" کی جگہ "*ہم*" ،، آپسی چپقلش کو صرف اس کی حدود تک رکھنا،، ملت کے مفاد کے لیے تن من دھن سے لگے رہنا کا جذبہ ء خالص،، عجلت کی جگہ لونگ ٹائم پلاننگ وہ بھی مضبوط منصوبہ بندی کے ساتھ ،،، یہ سب چیزیں اپنے اندر مضبوطی کے ساتھ بٹھائیں پھر دیکھیں کہ حالات کا دھارا کس طرح بدلنے لگے گا،،
یاد رکھیں زم زم تبھی ابلتا ہے جب ایڑی رگڑتے ہیں اور ہماری صورت حال کچھ اس طرح ہے
ع سب چاہتے ہیں چشمہ ء زم زم ابل پڑے
ایڑی مگر زمیں پہ رگڑتا نہیں کوئی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893718454532007/
توصیف رضا مصباحی سنبھلی
رکن : روشن مستقبل، دہلی
(1) سرسوتی جیسے ناسور جو بہت بکواس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف صرف ایک قابل اعتراض بات پر نہیں بلکہ وکلاء حضرات سے مشاورت کرنے کے بعد مختلف چیزوں پر مختلف کیسز کیے جائیں۔
(2) آپ اگر ایک ہی بات پر مختلف شہروں سے ایف آئی آر درج کراتے ہیں تب بلاشبہ اس کا پریشر بنتا ہے کہ اتنی ساری جگہوں پر ایف آئی آر کا مطلب ایک تو بیداری ہے، دوسرے معاملہ بہت حساس ہے۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ ساری ایف آئی آر گویا کہ ایک ہی شمار کی جاتی ہیں۔ چوں کہ معاملہ ایک ہی ہے لہذا حکومتی سسٹم ایک ہی جگہ کورٹ میں اسے پیش کردیتا ہے یعنی کہ آپ کی ایف آئی آر جو مختلف جگہوں پر درج ہوئیں ان سب کی سماعت صرف ایک ہی جگہ پر ہونا ہے۔
(3) سرسوتی نے سابق صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے ابو الکلام کو بھی دیش دروہی کہا۔ اور بھی سیکڑوں غیرقانونی باتیں کہی ہیں۔ اگر مختلف شہروں میں ایکٹو حضرات باہم مشاورت کرلیں تو پھر ایسا کیا جائے کہ ہم اس پر ایف آئی آر کراتے ہیں آپ فلاں فلاں بات پر کرائیے۔ اب اس صورت میں مختلف کیسز درج ہوسکتے ہیں اور آج نہ کل،، کل نہ پرسوں،، اگر پیروی سلیقے سے کی جائے تب یہ کیسز سماج دشمن عناصر کے لیے وبال جان بن ہی جائیں گے۔
امید کرتا ہوں آپ اس نکتے کو سمجھ گئے ہوں گے اور باہم مشاورت کی ترکیب بھی بنائیں گے۔
(4) عموماً ہوتا یہ ہے کہ ہم میمورنڈم دے کر یا ایف آئی آر درج کرانے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگیے جب کہ فرض کا آغاز اب ہوا ہے، یہ بات بھول جاتے ہیں۔ لہذا اولا تو میمورنڈم اور "ایف آئی آر" میں زمین آسمان کا فرق ہے اس لیے خواہ وقت لگے متعدد مرتبہ جانا پڑے لیکن "ایف آئی آر" ہی درج کرائیں اور درج ہونے کے بعد اپنی بساط کے مطابق "لیگل سیل" کا انتظام کریں۔
آپ ہی بتائیں کہ اگر ہم اب بھی ذہنی طور پر زمینی ورک اور جد و جہد کے لیے آمادہ نہیں تو آخر کونسے اور کیسے بدترین وقت کے انتظار میں ہیں؟؟!!!
(5) محترم بزرگو،، عزیز دوستو! اب ہمیں ہر قیمت پر بیدار ہونا ہی پڑے گا اور کامن ایشوز پر بنام ملت یہاں تک کہ بنام مظلومیت بات کرنا ہی ہوگی۔ آپ دیکھ نہیں رہے ہیں تباہی اور آفت کس طرح منہ پھاڑے کھڑی ہے۔ لہذا معاملات کی نوعیت کے اعتبار سے چیزوں کو سمجھتے ہوئے خود کو پائے دار اور تعمیری ورک کی طرف متوجہ کریں کوئ کیا کر رہا ہے کیا نہیں کر رہا ہے اس پر زیادہ مغز ماری کرنے سے کیا مسائل کا حل نکل جائے گا؟ ہاں، اپنے لوگ جو بیدار نہیں ہیں انھیں بیدار کرنے اور مہمیز لگانے کے لیے مثبت کوششیں ضرور کی جا سکتی ہیں۔
اب سب سے اہم سوال ہمیں خود سے کرنا ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اور کس حد تک کرسکتے ہیں؟
لہذا اسی اعتبار سے ذہنی طور پر خود کو تیار کریں۔ ملت کا مفاد مقدم رکھیں۔ اپنی انا اور اپنی انفرادیت کو نہ دیکھیں بلکہ ملت کے مفادات کو ترجیح دیں۔ تبھی سیاہ سمندر سے نور نکلنے کی امید رکھیں کہ
ع خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا،،
(6) اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر ہمارے بار بار جانے کے بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تب کیا کریں؟
اس صورت میں آپ کے پاس دو آپشن ہیں: نمبر ایک : آنلائن ایف آئی آر
نمبر دو : بائی کورٹ ایف آئی آر۔
اس میں سے جو بہتر سمجھیں منتخب کرسکتے ہیں۔
آخر میں دست بستہ عرض ہے کہ اپنے اندر،، قوت برداشت،، تحمل و بردباری،،" میں" کی جگہ "*ہم*" ،، آپسی چپقلش کو صرف اس کی حدود تک رکھنا،، ملت کے مفاد کے لیے تن من دھن سے لگے رہنا کا جذبہ ء خالص،، عجلت کی جگہ لونگ ٹائم پلاننگ وہ بھی مضبوط منصوبہ بندی کے ساتھ ،،، یہ سب چیزیں اپنے اندر مضبوطی کے ساتھ بٹھائیں پھر دیکھیں کہ حالات کا دھارا کس طرح بدلنے لگے گا،،
یاد رکھیں زم زم تبھی ابلتا ہے جب ایڑی رگڑتے ہیں اور ہماری صورت حال کچھ اس طرح ہے
ع سب چاہتے ہیں چشمہ ء زم زم ابل پڑے
ایڑی مگر زمیں پہ رگڑتا نہیں کوئی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893718454532007/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ان شاء اللہ
درست رسمِ خط : "اِن شاء اللہ" ہے۔ عربی تحریر میں اسے "انشاء اللہ" لکھنا عربی قواعدِ املا کی رو سے اگرچہ نادرست ہے، مگر اردو میں ایک طویل عرصے تک یہ رائج رہا ہے۔ اس لیے اسے اردو قواعِدِ املا کی رو سے مطلقاً غلط ٹھہرانا محلّ نظر ہے۔ ہاں، اردو املا کے جدید محققین چوں کہ ہر لفظ کو الگ لکھنے کی سفارش کرتے ہیں، اور یہ سفارش قرینِ عقل و قیاس بھی ہے، کیوں کہ ہر لفظ اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے لہذا اسے مستقل اور الگ لکھنا چاہیے۔ اس لیے اردو قواعدِ املا کی رو سے اردو میں بھی ان تینوں لفظوں کو الگ الگ کرکے (اِن شاء اللہ) لکھنا چاہیے۔
یہ ساری گفتگو املا کے بارے میں ہے۔ یہ شرعی اور فقہی حکم نہیں ہے۔
اب اگر کوئی انھیں ملا کر "انشاء اللہ" لکھتا ہے(خاص طور سے اردو تحریر میں) تو قواعِدِ املا کی رو سے اب اگرچہ اسے نادرست کہا جا سکتا ہے، مگر اس میں وہ سب معنوی اور شرعی خرابیاں دکھانا، جو کچھ لوگ طومار بیانی کرتے ہوئے دکھاتے ہیں، وہ ایک طرح کی "بقراطی" ہے۔
#نثارمصباحی
۵ اپریل ۲۰۲۱
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/892959004607952/
درست رسمِ خط : "اِن شاء اللہ" ہے۔ عربی تحریر میں اسے "انشاء اللہ" لکھنا عربی قواعدِ املا کی رو سے اگرچہ نادرست ہے، مگر اردو میں ایک طویل عرصے تک یہ رائج رہا ہے۔ اس لیے اسے اردو قواعِدِ املا کی رو سے مطلقاً غلط ٹھہرانا محلّ نظر ہے۔ ہاں، اردو املا کے جدید محققین چوں کہ ہر لفظ کو الگ لکھنے کی سفارش کرتے ہیں، اور یہ سفارش قرینِ عقل و قیاس بھی ہے، کیوں کہ ہر لفظ اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے لہذا اسے مستقل اور الگ لکھنا چاہیے۔ اس لیے اردو قواعدِ املا کی رو سے اردو میں بھی ان تینوں لفظوں کو الگ الگ کرکے (اِن شاء اللہ) لکھنا چاہیے۔
یہ ساری گفتگو املا کے بارے میں ہے۔ یہ شرعی اور فقہی حکم نہیں ہے۔
اب اگر کوئی انھیں ملا کر "انشاء اللہ" لکھتا ہے(خاص طور سے اردو تحریر میں) تو قواعِدِ املا کی رو سے اب اگرچہ اسے نادرست کہا جا سکتا ہے، مگر اس میں وہ سب معنوی اور شرعی خرابیاں دکھانا، جو کچھ لوگ طومار بیانی کرتے ہوئے دکھاتے ہیں، وہ ایک طرح کی "بقراطی" ہے۔
#نثارمصباحی
۵ اپریل ۲۰۲۱
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/892959004607952/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا و حامدا::ومصلیا ومسلما
ناموس رسالت کا تحفظ لازم ہے
چند سالوں سے دنیا کے متعدد ممالک میں اسلام و مسلمین کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔
حضور اقدس تاجدار کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان مبارک میں بھی فرقہ پرستوں نے زہر افشانی شروع کر دی ہے۔
ان فرزندان ابلیس کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کورٹ میں مستحکم کاروائی کرنی چاہئے۔محض ایف آئی آر درج کرانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔
جو لوگ چند روز قبل بھارت کے وسیم رضوی کو ملعون اور خبیث و ابلیس کہہ رہے تھے,گستاخی سرور کائنات علیہ التحیۃ والثنا پر ان کی زبانیں گنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟کیا گستاخ رسول ملعون اور خبیث وابلیس نہیں؟
میری قوم! یاد رکھو۔ابھی تمہاری فطرت اور تمہاری جرأت و ہمت کا امتحان لیا جا رہا ہے۔
اگر تم نے خموشی اختیار کی تو دشمن دلیر ہو کر دنیا بھر میں تم پر ٹوٹ پڑیں گے اور تمہاری خموشی کے سبب رحمت خداوندی بھی تم سے منہ موڑ سکتی ہے۔
ارباب حکومت کو جگاؤ۔اپنی باتیں انہیں سناؤ۔کورٹ کے دروازے کھٹکھٹاؤ۔حصول انصاف اور تحفظ دین کے لئے کمر بستہ ہو جاؤ۔فتنہ پروروں کے فتنوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرو۔جس ملک میں ایسی شیطانی کی جائے۔وہاں کے سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے غافل مسلمانو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
ساری دنیا کو معلوم ہے کہ دینِ اسلام میں جہاد بنیادی طور پر ایک دفاعی نظام کی طرح ہے۔ جب کوئی اسلامی جہاد پر تنقید کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قوم مسلم دفاعی پوزیشن بھی اختیار نہ کرے۔خواہ ان کو قتل وہلاک کیا جائے,یا ان کی بہن,بیٹی کی عصمت دری کی جائے,یا ان کی جائیداد واملاک تباہ و برباد کی جائے۔
چوں کہ اسلام کے نظامِ جہاد کا غلط معنی بتا کر دنیا بھر کے غیر مسلموں کو مسلمانوں کے خلاف مسلسل ورغلایا جا چکا ہے,اس لئے جیسے ہی قوم مسلم اپنے دفاع کے لئے قدم آگے بڑھائے گی,ان کو جہادی بتا کر غیر مسلموں کو متحد کر لیا جائے گا۔
حادثہ آنکھوں کے سامنے ہے۔چند ہفتے قبل وسیم رضوی نے بھارتی سپریم کورٹ میں قرآن مقدس کی آیات جہاد کے خلاف پیٹیشن داخل کی اور اس کے چند روز بعد ہی بھارت کے کسی فرقہ پرست و متعصب پنڈت نے اسلام و مسلمین کے خلاف آگ اگلنا شروع کردیا اور اس فتنہ پرور نے حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں بھی گستاخی و بے ادبی کی۔
مسلمانوں کو آزمانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں وسیم رضوی کی عرضی کے بعد قوم مسلم نے اپنے دفاعی نظام کو ترک کیا یا نہیں؟
سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا,ان کو ہلاک کرنا,مظاہرین پر حملے کرنا,دہلی فساد:فروری 2020میں مسلمانوں کو ہلاک کرنا,مظاہرین کو جیل میں ڈالنا,یہ تمام صورتیں اس لئے اختیار کی گئیں کہ قوم مسلم دفاع کا تصور بھی ذہن میں نہ لائے۔
ایسی صورت میں لازم ہے کہ مسلمانان عالم سر جوڑ کر بیٹھیں اور مضبوط حل کی کوشش کریں۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:07:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894091021161417/
ناموس رسالت کا تحفظ لازم ہے
چند سالوں سے دنیا کے متعدد ممالک میں اسلام و مسلمین کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔
حضور اقدس تاجدار کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان مبارک میں بھی فرقہ پرستوں نے زہر افشانی شروع کر دی ہے۔
ان فرزندان ابلیس کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کورٹ میں مستحکم کاروائی کرنی چاہئے۔محض ایف آئی آر درج کرانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔
جو لوگ چند روز قبل بھارت کے وسیم رضوی کو ملعون اور خبیث و ابلیس کہہ رہے تھے,گستاخی سرور کائنات علیہ التحیۃ والثنا پر ان کی زبانیں گنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟کیا گستاخ رسول ملعون اور خبیث وابلیس نہیں؟
میری قوم! یاد رکھو۔ابھی تمہاری فطرت اور تمہاری جرأت و ہمت کا امتحان لیا جا رہا ہے۔
اگر تم نے خموشی اختیار کی تو دشمن دلیر ہو کر دنیا بھر میں تم پر ٹوٹ پڑیں گے اور تمہاری خموشی کے سبب رحمت خداوندی بھی تم سے منہ موڑ سکتی ہے۔
ارباب حکومت کو جگاؤ۔اپنی باتیں انہیں سناؤ۔کورٹ کے دروازے کھٹکھٹاؤ۔حصول انصاف اور تحفظ دین کے لئے کمر بستہ ہو جاؤ۔فتنہ پروروں کے فتنوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرو۔جس ملک میں ایسی شیطانی کی جائے۔وہاں کے سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے غافل مسلمانو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
ساری دنیا کو معلوم ہے کہ دینِ اسلام میں جہاد بنیادی طور پر ایک دفاعی نظام کی طرح ہے۔ جب کوئی اسلامی جہاد پر تنقید کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قوم مسلم دفاعی پوزیشن بھی اختیار نہ کرے۔خواہ ان کو قتل وہلاک کیا جائے,یا ان کی بہن,بیٹی کی عصمت دری کی جائے,یا ان کی جائیداد واملاک تباہ و برباد کی جائے۔
چوں کہ اسلام کے نظامِ جہاد کا غلط معنی بتا کر دنیا بھر کے غیر مسلموں کو مسلمانوں کے خلاف مسلسل ورغلایا جا چکا ہے,اس لئے جیسے ہی قوم مسلم اپنے دفاع کے لئے قدم آگے بڑھائے گی,ان کو جہادی بتا کر غیر مسلموں کو متحد کر لیا جائے گا۔
حادثہ آنکھوں کے سامنے ہے۔چند ہفتے قبل وسیم رضوی نے بھارتی سپریم کورٹ میں قرآن مقدس کی آیات جہاد کے خلاف پیٹیشن داخل کی اور اس کے چند روز بعد ہی بھارت کے کسی فرقہ پرست و متعصب پنڈت نے اسلام و مسلمین کے خلاف آگ اگلنا شروع کردیا اور اس فتنہ پرور نے حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں بھی گستاخی و بے ادبی کی۔
مسلمانوں کو آزمانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں وسیم رضوی کی عرضی کے بعد قوم مسلم نے اپنے دفاعی نظام کو ترک کیا یا نہیں؟
سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا,ان کو ہلاک کرنا,مظاہرین پر حملے کرنا,دہلی فساد:فروری 2020میں مسلمانوں کو ہلاک کرنا,مظاہرین کو جیل میں ڈالنا,یہ تمام صورتیں اس لئے اختیار کی گئیں کہ قوم مسلم دفاع کا تصور بھی ذہن میں نہ لائے۔
ایسی صورت میں لازم ہے کہ مسلمانان عالم سر جوڑ کر بیٹھیں اور مضبوط حل کی کوشش کریں۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:07:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894091021161417/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
ناموس رسالت کا تحفظ لازم ہے!
✍ مولانا طارق انور مصباحی
📇 روشن مستقبل دہلی الہند
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894091021161417/
✍ مولانا طارق انور مصباحی
📇 روشن مستقبل دہلی الہند
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894091021161417/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد قسط دوم ➋ ✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری جامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم. *شبہ نمبر 2️⃣ : کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ❓❓ بعض مغالطین یہ مغالطہ کرتے ہیں کہ اسلام اہل الذمہ (وہ کفار…
#ازالہ_شُبہات_در_آیاتِ_جہاد
قسط سوم (𝟑)
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم
#شبہ_نمبر░❸░ قرآن مجید میں جگہ جگہ جہاد کی بات کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جنگ و قتال کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے.
ازالہ شبہ سابقہ کے لئے اولا جہاد کے معنی و مفہوم کا واضح ہونا ضروری ہے.
جہاد کا معنی : الجُهد ، وسعت و طاقت اور الجَھْد : پوری کوشش و غایت کے آتے ہیں , اس سے اللہ رب العزت کا فرمان عالیشان ہے : { أَهَـٰۤؤُلَاۤءِ ٱلَّذِینَ أَقۡسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَیۡمَـٰنِهِمۡ } کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے، اور حدیث میں ہے : " أعوذ بالله من جَھْد البلاء ". ( لسان العرب : 134/4 )
جنگ وقتال کو جہاد اسلئے کہا گیا کیوں کہ اس میں جان و مال سے کوشش ہوتی ہے اور پھر عرفا اس پر جنگ کا اطلاق ہونے لگا.
قرآن پاک اور احادیث مقدسہ میں کلمہ جہاد وارد ہوا ہے لیکن ہر مرتبہ وہ جنگی مفہوم مراد نہیں ہے جو دشمنوں سے جنگ پر سمجھا جاتا ہے بلکہ اکثر و بیشتر دوسرے معانی مراد ہیں, اس بات کو ذہن نشیں کر لیں کہ پورے قرآن پاک میں 141 مرتبہ جہاد کا ذکر فرمایا گیا ہے جس میں صرف 10 جگہ جنگی مفہوم ہے.
اور جہاد کا معنی یہ بھی ہیں : " بذل الجهد لنيل مرغوب فيه أو دفع مرغوب عنه " ہمت کو پسندیدہ چیز کے حصول اور نا پسندیدہ کو دور کرنے کے لئے لگانا. ( بيان للناس ، جامعة الأزهر ، 276/1)
یعنی بھلائ حاصل کرنا یا برائ کو دور کرنا یا نفع کا تحقق کرنا اور نقصان کو روکنا اور وہ کسی بھی ذریعہ کسی بھی میدان میں ہو سکتا ہے اور یہ چیز امن و جنگ دونوں میں برابر ہے اس کے لئے جنگ اور ہتھیار کا اٹھانا ضروری نہیں.
قرآن و سنت میں جہاد کے معانی
قرآن کریم اور احادیث مقدسہ میں جہاد کے متعدد معنی بیان ہوئے ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں :
𝟏. جہادِ دعوت و تبلیغ بدلیل و برہان
تبلیغ کے ذریعہ جہاد کرنا جس میں اپنے دلائل سے مد مقابل پر حجت قائم کی جائے.
٭▫️ مکی سورتوں (جو سورتیں زمانہ ہجرت سے قبل نازل ہوئیں [ الإتقان ، 37/1] ) ان میں سے اللہ پاک کا فرمان :
{ فَلَا تُطِعِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ وَجَـٰهِدۡهُم بِهِۦ جِهَادࣰا كَبِیرࣰا } [الفرقان : 25]
ترجمہ : تو کافروں کا کہا نہ مان اور اس قرآن سے ان پر جہاد کر بڑا جہاد.
امام قرطبی { فلا تطع الكافرين } کے تحت فرماتے ہیں : یعنی ان کی اطاعت نہ کر اس میں جو وہ اپنے معبودوں کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں , اور { و جاهدهم به } حضرت ابن عباس رضي الله عنه فرماتے ہیں : بالقرآن (یعنی ان پر قرآن سے جہاد کر) [تفسیر القرطبی : 57/13]
٭ ▫️مدنی سورتیں ( جو زمانہ ہجرت کے بعد نازل ہوئیں ) میں سے اللہ پاک کا فرمان : { یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّبِیُّ جَـٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَـٰفِقِینَ وَٱغۡلُظۡ عَلَیۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِیرُ }
ترجمہ : اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی.
اس آیت کریمہ کے زیل میں امام نسفی لکھتے ہیں : کافروں پر تلواروں اور منافقوں پر حجت قائم کرنے سے جہاد کرو. [ تفسیر النسفی : 99/2]
یہ سورہ توبہ کی آیت ہے اور سورہ توبہ بالاتفاق مدنی سورت ہے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی منافقین پر تلوار اٹھانے کا حکم نہیں دیا ان سے زبانی دلائل سے جہاد فرمایا. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کےساتھ زبان سے جہاد کا حکم دیا گیا. [ تفسیر القرطبی : 204/8]
𝟐. نفس و شیطان سے جہاد.
نفس کو شہوتوں اور لذتوں سے روکنے میں کوشش کو لگا دینا , خلاف شریعت امور سے بچانا اور اللہ کی اطاعت میں لگا دینا بھی جہاد ہے.
رب قدیر فرماتا ہے : { وَجَـٰهِدُوا۟ فِی ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ }
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے.
امام قرطبی تحریر فرماتے ہیں : یہ اللہ پاک کے تمام حکم بجا لانے اور جن امور سے روکا ان سے رک جانے کی طرف اشارہ ہے یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالی کی اطاعت میں لگاؤ اور خواہشات نفس سے بچاؤ اور اور جہاد کرو شیطان سے اس کے وسوسے پھیرنے میں اور ظالموں سے ظلم کے دفع کرنے میں اور کافروں سے ان کے کفر کی تردید میں. [ تفسیر القرطبی : 99/12]
𝟑. والدین کی خدمت.
اسی طرح والدین کی اطاعت و خدمت کو بھی جہاد سے تعبیر فرمایا گیا ہے.
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث پاک مروی ہے : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأستذنه في الجهاد، فقال : " أحي والداك ؟"، قال : نعم، قال : " ففيهما فجاهد ". [صحيح البخارى : 3004 ، صحيح مسلم : 2549]
قسط سوم (𝟑)
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم
#شبہ_نمبر░❸░ قرآن مجید میں جگہ جگہ جہاد کی بات کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جنگ و قتال کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے.
ازالہ شبہ سابقہ کے لئے اولا جہاد کے معنی و مفہوم کا واضح ہونا ضروری ہے.
جہاد کا معنی : الجُهد ، وسعت و طاقت اور الجَھْد : پوری کوشش و غایت کے آتے ہیں , اس سے اللہ رب العزت کا فرمان عالیشان ہے : { أَهَـٰۤؤُلَاۤءِ ٱلَّذِینَ أَقۡسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَیۡمَـٰنِهِمۡ } کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے، اور حدیث میں ہے : " أعوذ بالله من جَھْد البلاء ". ( لسان العرب : 134/4 )
جنگ وقتال کو جہاد اسلئے کہا گیا کیوں کہ اس میں جان و مال سے کوشش ہوتی ہے اور پھر عرفا اس پر جنگ کا اطلاق ہونے لگا.
قرآن پاک اور احادیث مقدسہ میں کلمہ جہاد وارد ہوا ہے لیکن ہر مرتبہ وہ جنگی مفہوم مراد نہیں ہے جو دشمنوں سے جنگ پر سمجھا جاتا ہے بلکہ اکثر و بیشتر دوسرے معانی مراد ہیں, اس بات کو ذہن نشیں کر لیں کہ پورے قرآن پاک میں 141 مرتبہ جہاد کا ذکر فرمایا گیا ہے جس میں صرف 10 جگہ جنگی مفہوم ہے.
اور جہاد کا معنی یہ بھی ہیں : " بذل الجهد لنيل مرغوب فيه أو دفع مرغوب عنه " ہمت کو پسندیدہ چیز کے حصول اور نا پسندیدہ کو دور کرنے کے لئے لگانا. ( بيان للناس ، جامعة الأزهر ، 276/1)
یعنی بھلائ حاصل کرنا یا برائ کو دور کرنا یا نفع کا تحقق کرنا اور نقصان کو روکنا اور وہ کسی بھی ذریعہ کسی بھی میدان میں ہو سکتا ہے اور یہ چیز امن و جنگ دونوں میں برابر ہے اس کے لئے جنگ اور ہتھیار کا اٹھانا ضروری نہیں.
قرآن و سنت میں جہاد کے معانی
قرآن کریم اور احادیث مقدسہ میں جہاد کے متعدد معنی بیان ہوئے ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں :
𝟏. جہادِ دعوت و تبلیغ بدلیل و برہان
تبلیغ کے ذریعہ جہاد کرنا جس میں اپنے دلائل سے مد مقابل پر حجت قائم کی جائے.
٭▫️ مکی سورتوں (جو سورتیں زمانہ ہجرت سے قبل نازل ہوئیں [ الإتقان ، 37/1] ) ان میں سے اللہ پاک کا فرمان :
{ فَلَا تُطِعِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ وَجَـٰهِدۡهُم بِهِۦ جِهَادࣰا كَبِیرࣰا } [الفرقان : 25]
ترجمہ : تو کافروں کا کہا نہ مان اور اس قرآن سے ان پر جہاد کر بڑا جہاد.
امام قرطبی { فلا تطع الكافرين } کے تحت فرماتے ہیں : یعنی ان کی اطاعت نہ کر اس میں جو وہ اپنے معبودوں کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں , اور { و جاهدهم به } حضرت ابن عباس رضي الله عنه فرماتے ہیں : بالقرآن (یعنی ان پر قرآن سے جہاد کر) [تفسیر القرطبی : 57/13]
٭ ▫️مدنی سورتیں ( جو زمانہ ہجرت کے بعد نازل ہوئیں ) میں سے اللہ پاک کا فرمان : { یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّبِیُّ جَـٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَـٰفِقِینَ وَٱغۡلُظۡ عَلَیۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِیرُ }
ترجمہ : اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی.
اس آیت کریمہ کے زیل میں امام نسفی لکھتے ہیں : کافروں پر تلواروں اور منافقوں پر حجت قائم کرنے سے جہاد کرو. [ تفسیر النسفی : 99/2]
یہ سورہ توبہ کی آیت ہے اور سورہ توبہ بالاتفاق مدنی سورت ہے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی منافقین پر تلوار اٹھانے کا حکم نہیں دیا ان سے زبانی دلائل سے جہاد فرمایا. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کےساتھ زبان سے جہاد کا حکم دیا گیا. [ تفسیر القرطبی : 204/8]
𝟐. نفس و شیطان سے جہاد.
نفس کو شہوتوں اور لذتوں سے روکنے میں کوشش کو لگا دینا , خلاف شریعت امور سے بچانا اور اللہ کی اطاعت میں لگا دینا بھی جہاد ہے.
رب قدیر فرماتا ہے : { وَجَـٰهِدُوا۟ فِی ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ }
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے.
امام قرطبی تحریر فرماتے ہیں : یہ اللہ پاک کے تمام حکم بجا لانے اور جن امور سے روکا ان سے رک جانے کی طرف اشارہ ہے یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالی کی اطاعت میں لگاؤ اور خواہشات نفس سے بچاؤ اور اور جہاد کرو شیطان سے اس کے وسوسے پھیرنے میں اور ظالموں سے ظلم کے دفع کرنے میں اور کافروں سے ان کے کفر کی تردید میں. [ تفسیر القرطبی : 99/12]
𝟑. والدین کی خدمت.
اسی طرح والدین کی اطاعت و خدمت کو بھی جہاد سے تعبیر فرمایا گیا ہے.
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث پاک مروی ہے : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأستذنه في الجهاد، فقال : " أحي والداك ؟"، قال : نعم، قال : " ففيهما فجاهد ". [صحيح البخارى : 3004 ، صحيح مسلم : 2549]
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد قسط دوم ➋ ✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری جامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم. *شبہ نمبر 2️⃣ : کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ❓❓ بعض مغالطین یہ مغالطہ کرتے ہیں کہ اسلام اہل الذمہ (وہ کفار…
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں جہاد کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوئے, تو آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے دریافت فرمایا : کیا تمہارے والدین زندہ ہیں, جواب ہاں میں دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تو انہیں کی خدمت کر ".
𝟒. حج
جہاد کا لفظ حج کے لئے بھی ارشاد فرمایا گیا.
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتی ہیں : استأذنت النبي ﷺ في الجهاد، فقال " جهادكنَّ الحج ". [صحيح البخارى : 2875]
بیان فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا تم عورتوں کا جہاد حج ہے.
🔎 اور اسکے علاوہ بھی جہاد کا کثیر اطلاق غیر جنگ پر ہوا ہے مثلا اطاعت الہی ، صبر و تحمل ، مجاهدہ وغیرہ اور ہر ایک کی مثالیں قرآن و سنت میں بکثرت موجود ہیں.
قارئین حضرات ❗
مذکورہ نصوص سے یہ امر متیقن ہو گیا کہ جہاد کا اطلاق صرف اسلام کے مقابل آنے والے کفار و مشرکین پر ہی نہیں بلکہ دیگر امور پر بھی بکثرت ہوا ہے اسلئے شبہۂ واردہ بلا تردد خود مسترد ہو جاتا ہے.
🔮 *اگر کوئی غیر مسلم نظام اسلام کا امعان نظر سے بدون حسد و عناد بقصد تلاشِ حق بشرطِ انصافِ نظر مع سلامتی ذہن و شمولیتِ توفیقِ الہی جائزہ لے تو قبول حق میں بلا تاخیر جام ایمان نوش کر کے مذہب اسلام میں داخل ہو جائے گا.*
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( #بن_مناظر_اہل_سنت_علامہ_صغیر_احمد_رضوی_جوکھنپوری ) حفظہ الله
الجامعة القادريہ، رچھا ریلوے اسٹیشن (بریلی شریف)
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
جاری ...📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894154314488421/
𝟒. حج
جہاد کا لفظ حج کے لئے بھی ارشاد فرمایا گیا.
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتی ہیں : استأذنت النبي ﷺ في الجهاد، فقال " جهادكنَّ الحج ". [صحيح البخارى : 2875]
بیان فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا تم عورتوں کا جہاد حج ہے.
🔎 اور اسکے علاوہ بھی جہاد کا کثیر اطلاق غیر جنگ پر ہوا ہے مثلا اطاعت الہی ، صبر و تحمل ، مجاهدہ وغیرہ اور ہر ایک کی مثالیں قرآن و سنت میں بکثرت موجود ہیں.
قارئین حضرات ❗
مذکورہ نصوص سے یہ امر متیقن ہو گیا کہ جہاد کا اطلاق صرف اسلام کے مقابل آنے والے کفار و مشرکین پر ہی نہیں بلکہ دیگر امور پر بھی بکثرت ہوا ہے اسلئے شبہۂ واردہ بلا تردد خود مسترد ہو جاتا ہے.
🔮 *اگر کوئی غیر مسلم نظام اسلام کا امعان نظر سے بدون حسد و عناد بقصد تلاشِ حق بشرطِ انصافِ نظر مع سلامتی ذہن و شمولیتِ توفیقِ الہی جائزہ لے تو قبول حق میں بلا تاخیر جام ایمان نوش کر کے مذہب اسلام میں داخل ہو جائے گا.*
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( #بن_مناظر_اہل_سنت_علامہ_صغیر_احمد_رضوی_جوکھنپوری ) حفظہ الله
الجامعة القادريہ، رچھا ریلوے اسٹیشن (بریلی شریف)
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
جاری ...📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894154314488421/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893169427920243/ ازالہ شبہات اور آیات جہاد ✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❷ https://t.me/islaamic_Knowledge/12365
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/894154314488421/
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❸
https://t.me/islaamic_Knowledge/12377
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❸
https://t.me/islaamic_Knowledge/12377
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک عالم دین نے اپنی مسجد کی دیوار پر دوسرے صحابہ کرام کے ساتھ سیدنا معاویہ کا نام بھی لکھوایا ، تو اس علاقے کے " مولوی عبدالخالق صاحب " بہت ناراض ہوئے اور اس عالم سے کہنے لگے:
میں مکے مدینے گیا ہوں کہیں بھی معاویہ نام نہیں دیکھا ، نہ مسجد نبوی میں نہ خانے کعبے پر ۔۔۔۔۔ تم نے یہ کہاں سے نکال لیا ۔
عالم صاحب نے فی البدیہہ فرمایا:
مسجد نبوی اور خانے کعبے کی دیواروں پر تو " مولوی عبدالخالق " بھی نہیں لکھا ہوا ، تم نے اپنی مسجد پر کیوں لکھوا رکھا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکر ہے مولوی صاحب نے صدیوں پہلے بغداد شریف کی مساجد نہیں دیکھی تھیں جن کے دروازوں پر " معاویۃ خال المومنین " لکھا ہوتا تھا ، ورنہ تو آپ غش ہی کھاجاتے ۔۔۔۔۔۔۔
✍️لقمان شاہد
8-4-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3130497320563769&id=100008105947430
میں مکے مدینے گیا ہوں کہیں بھی معاویہ نام نہیں دیکھا ، نہ مسجد نبوی میں نہ خانے کعبے پر ۔۔۔۔۔ تم نے یہ کہاں سے نکال لیا ۔
عالم صاحب نے فی البدیہہ فرمایا:
مسجد نبوی اور خانے کعبے کی دیواروں پر تو " مولوی عبدالخالق " بھی نہیں لکھا ہوا ، تم نے اپنی مسجد پر کیوں لکھوا رکھا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکر ہے مولوی صاحب نے صدیوں پہلے بغداد شریف کی مساجد نہیں دیکھی تھیں جن کے دروازوں پر " معاویۃ خال المومنین " لکھا ہوتا تھا ، ورنہ تو آپ غش ہی کھاجاتے ۔۔۔۔۔۔۔
✍️لقمان شاہد
8-4-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3130497320563769&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 05 کتب تقاریر لائبریری 📚
خطبات جمعہ خطبہ نمبر 70
ناموس رسالت کی اہمیت
اور ہماری ذمہ داریاں 📖
https://t.me/Kutube_Taqaareer
✍علامہ غلام مصطفیٰ نعیمی
📇 روشن مستقبل دہلی ہند
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
نوٹ: رمضان و تراویح پر تقریر کرنا چاہیں تو ہمارے ٹیلی گرام گروپ سے خطبہ نمبر 8, 9 اور 10 دیکھ سکتے ہیں۔
ناموس رسالت کی اہمیت
اور ہماری ذمہ داریاں 📖
https://t.me/Kutube_Taqaareer
✍علامہ غلام مصطفیٰ نعیمی
📇 روشن مستقبل دہلی ہند
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
نوٹ: رمضان و تراویح پر تقریر کرنا چاہیں تو ہمارے ٹیلی گرام گروپ سے خطبہ نمبر 8, 9 اور 10 دیکھ سکتے ہیں۔