روح موت کے بعد قیدوں سے رہا
شیخ عبد الحق محدث دہلوی کا...
قاضی ثناء اللہ پانی پتی کا عقیدہ
روحوں کے متعلق حافظ ابن قیم
روحوں کا آنا باطل اس بابت کوئی
صاحب قبر کی کہانی تھانوی کی
قبر میں دل لگی بازی کی کہانی //
// // تھانوی صاحب کی زبانی
تھانوی کے پر دادا کا بعد وفات ...
طارق جمیل پریشانی کے عالم میں
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #شب_براءت شب برأت ⁸
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
شیخ عبد الحق محدث دہلوی کا...
قاضی ثناء اللہ پانی پتی کا عقیدہ
روحوں کے متعلق حافظ ابن قیم
روحوں کا آنا باطل اس بابت کوئی
صاحب قبر کی کہانی تھانوی کی
قبر میں دل لگی بازی کی کہانی //
// // تھانوی صاحب کی زبانی
تھانوی کے پر دادا کا بعد وفات ...
طارق جمیل پریشانی کے عالم میں
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #شب_براءت شب برأت ⁸
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
ڈیفنس کا مؤثر طریقہ اختیار کریں
(( تحریر : مولانا طارق انور مصباحی ))
اگر کوئی آدمی تلوار لے کر آپ پر حملہ کرے تو آپ اپنے ہاتھ سے تلوار کی وار کو ہرگز نہیں روک سکتے۔آپ کا ہاتھ کٹ کر جدا ہو جائے گا۔
تلوار کا مقابلہ تلوار یا اسی کے مماثل ہتھیار سے ہو گا۔یہ مسلمات میں سے ہے۔عہد ماضی کی جنگی تواریخ پڑھ لیں۔
بندوق کے مقابلے میں تلوار بیکار ۔میزائل کے مقابلے میں بندوق بیکار۔الغرض کہاں کون سا ہتھیار کارگر ہے۔یہ بھی دیکھنا ہو گا۔اندھادھندھ حملہ کر کے آپ خود کو مصیبت میں ڈال سکتے ہیں,لیکن میدان جیت نہیں سکتے۔
حالیہ کئی سالوں سے اسلام کے مخالفین میڈیا کی قوت استعمال کر رہے ہیں۔میڈیا کے ذریعہ اسلام و مسلمین پر جھوٹے عیب لگائے جا رہے ہیں۔ملک بھر میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔اہل بھارت کو ورغلایا جا رہا ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ ٹی وی چینل کے اخراجات زیادہ ہیں,لیکن آپ کم خرچیلے ذرائع استعمال کر سکتے ہیں۔یوٹیوب چینل بنائیں۔مخالفین کی فتنہ انگیزیوں کا منہ توڑ جواب دیں۔
مثبت انداز میں اہل ہند کو حقائق سے آشنا کریں۔محض احتجاج اور ایف آئی آر درج کرانے سے کچھ نہیں ہوتا۔
کسان بھی کئی ماہ سے احتجاج میں بیٹھے ہیں اور سی اے اے کی مخالفت میں مسلمان بھی کئی ماہ جا بجا مظاہروں میں بیٹھ چکے ہیں۔نتیجہ سے ہر کوئی واقف ہے۔بہت سے نوجوان وجوان مرد اور بعض نوجوان لڑکیوں کو بھی جیل جانا پڑا۔
ہم نے جلسہ و کانفرنس اور احتجاج و مظاہرہ تک خود کو محدود کر لیا ہے,اور دیگر ذرائع سے منہ موڑ کر لیا ہے۔
دشمن کی تدبیروں کاجواب ہم ایسے کاموں سے دیتے ہیں کہ ہمارا نقصان ہوتا ہے,اور دشمن کو خوشی کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔
سی اے اے کے مظاہروں میں نہ جانے قوم کے کتنے جیالے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔دہلی میں منصوبہ بند طریقے پر فرقہ وارانہ فساد ہوا۔قتل وغارت گری بھی ہماری ہوئی اور جیل کی زینت بھی ہم ہی بنائے گئے۔
نہ جانے کتنی عورتیں بیوہ,کتنے بچے یتیم اور کتنی ماؤں کی گود سونی ہوگئی۔کتنے لوگ بے سہارا اور کتنے لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے۔
الحاصل ہم نے جو طریق کار اختیار کیا تھا۔اس سے ہمارا نقصان ہوا۔ایسا طریق کار کیوں نہ اختیار کیا جائے کہ جس سے ہمارا نقصان بھی نہ ہو,اور ہمارا مقصد بھی حاصل ہو جائے۔
قومی مستقبل کے خاکہ نویس غور و فکر کریں کہ کون سا طریق کار مؤثر ہو سکتا ہے۔
سردست میں اپنی قوم سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ میڈیا کے ذریعہ باشندگان بھارت کے دل و دماغ میں اسلام ومسلمین کے خلاف زہر گھولا جا رہا ہے تو کم از کم آپ یوٹیوب چینل کا انتظام کریں۔
اس کے کارکنان میں مسلم بھی ہوں اور امانت دار غیر مسلم بھی۔علما بھی ہوں اور دانشوران بھی۔اہل سیاست بھی ہوں اور ارباب روحانیت بھی۔
سب مل جل کر وہ مضامین تیار کریں جو چینل کے ذریعہ اہل بھارت کو پیش کرنا ہے۔
پیش کرنے والا ایسا ہو جسے اپنے اور غیر سب قبول کر سکیں۔یہ نماز کی امامت نہیں کہ صالح و متقی اور عالم ومفتی کی شرط لگائی جائے۔
چینل کے علاوہ دیگر طریق کار پر بھی غور کیا جائے۔جب بہت سے لوگ سوچیں گے تو ان شاء اللہ تعالی بہت سی راہیں نظر آنے لگیں گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:05:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893241357913050/
ڈیفنس کا مؤثر طریقہ اختیار کریں
(( تحریر : مولانا طارق انور مصباحی ))
اگر کوئی آدمی تلوار لے کر آپ پر حملہ کرے تو آپ اپنے ہاتھ سے تلوار کی وار کو ہرگز نہیں روک سکتے۔آپ کا ہاتھ کٹ کر جدا ہو جائے گا۔
تلوار کا مقابلہ تلوار یا اسی کے مماثل ہتھیار سے ہو گا۔یہ مسلمات میں سے ہے۔عہد ماضی کی جنگی تواریخ پڑھ لیں۔
بندوق کے مقابلے میں تلوار بیکار ۔میزائل کے مقابلے میں بندوق بیکار۔الغرض کہاں کون سا ہتھیار کارگر ہے۔یہ بھی دیکھنا ہو گا۔اندھادھندھ حملہ کر کے آپ خود کو مصیبت میں ڈال سکتے ہیں,لیکن میدان جیت نہیں سکتے۔
حالیہ کئی سالوں سے اسلام کے مخالفین میڈیا کی قوت استعمال کر رہے ہیں۔میڈیا کے ذریعہ اسلام و مسلمین پر جھوٹے عیب لگائے جا رہے ہیں۔ملک بھر میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔اہل بھارت کو ورغلایا جا رہا ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ ٹی وی چینل کے اخراجات زیادہ ہیں,لیکن آپ کم خرچیلے ذرائع استعمال کر سکتے ہیں۔یوٹیوب چینل بنائیں۔مخالفین کی فتنہ انگیزیوں کا منہ توڑ جواب دیں۔
مثبت انداز میں اہل ہند کو حقائق سے آشنا کریں۔محض احتجاج اور ایف آئی آر درج کرانے سے کچھ نہیں ہوتا۔
کسان بھی کئی ماہ سے احتجاج میں بیٹھے ہیں اور سی اے اے کی مخالفت میں مسلمان بھی کئی ماہ جا بجا مظاہروں میں بیٹھ چکے ہیں۔نتیجہ سے ہر کوئی واقف ہے۔بہت سے نوجوان وجوان مرد اور بعض نوجوان لڑکیوں کو بھی جیل جانا پڑا۔
ہم نے جلسہ و کانفرنس اور احتجاج و مظاہرہ تک خود کو محدود کر لیا ہے,اور دیگر ذرائع سے منہ موڑ کر لیا ہے۔
دشمن کی تدبیروں کاجواب ہم ایسے کاموں سے دیتے ہیں کہ ہمارا نقصان ہوتا ہے,اور دشمن کو خوشی کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔
سی اے اے کے مظاہروں میں نہ جانے قوم کے کتنے جیالے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔دہلی میں منصوبہ بند طریقے پر فرقہ وارانہ فساد ہوا۔قتل وغارت گری بھی ہماری ہوئی اور جیل کی زینت بھی ہم ہی بنائے گئے۔
نہ جانے کتنی عورتیں بیوہ,کتنے بچے یتیم اور کتنی ماؤں کی گود سونی ہوگئی۔کتنے لوگ بے سہارا اور کتنے لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے۔
الحاصل ہم نے جو طریق کار اختیار کیا تھا۔اس سے ہمارا نقصان ہوا۔ایسا طریق کار کیوں نہ اختیار کیا جائے کہ جس سے ہمارا نقصان بھی نہ ہو,اور ہمارا مقصد بھی حاصل ہو جائے۔
قومی مستقبل کے خاکہ نویس غور و فکر کریں کہ کون سا طریق کار مؤثر ہو سکتا ہے۔
سردست میں اپنی قوم سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ میڈیا کے ذریعہ باشندگان بھارت کے دل و دماغ میں اسلام ومسلمین کے خلاف زہر گھولا جا رہا ہے تو کم از کم آپ یوٹیوب چینل کا انتظام کریں۔
اس کے کارکنان میں مسلم بھی ہوں اور امانت دار غیر مسلم بھی۔علما بھی ہوں اور دانشوران بھی۔اہل سیاست بھی ہوں اور ارباب روحانیت بھی۔
سب مل جل کر وہ مضامین تیار کریں جو چینل کے ذریعہ اہل بھارت کو پیش کرنا ہے۔
پیش کرنے والا ایسا ہو جسے اپنے اور غیر سب قبول کر سکیں۔یہ نماز کی امامت نہیں کہ صالح و متقی اور عالم ومفتی کی شرط لگائی جائے۔
چینل کے علاوہ دیگر طریق کار پر بھی غور کیا جائے۔جب بہت سے لوگ سوچیں گے تو ان شاء اللہ تعالی بہت سی راہیں نظر آنے لگیں گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:05:اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/893241357913050/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
𓊈𒆜 ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد 𒆜𓊉
قسط اول ➊
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم
قارئین حضرات !
اس دور پر فتن میں اپنے اور اغیار آئے دن اسلام کے تقدس و وقار کو مجروح اور پامال کرنے اور اسلام کے مصادر اصلیہ سے متعلق لوگوں کے قلوب و اذہان میں شکوک و شبہات ڈالنے کی ناپاک کوشیشیں کر رہے ہیں. ابھی تک تو انکار حدیث رسول ﷺ کا فتنہ ہوتا تھا اور اب خود اسلام کی تشریعات کے پہلے مصدر اصیل پر حملہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے. ان نازک حالات میں ہمیں قرآن و سنت پر مضبوطی سے عمل پیرا رہنے کی ضرورت ہے.
جیسا کہ سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات کی بابت پہلے ہی ارشاد فامایا دیا ہے : " *تركتُ فیکم أمرين، لن تَضِلوا ما تمسكتم بهما ، كتاب الله و سنتي* " [مؤطا امام مالک : 899/2] 📘
میں تم میں دو چیزیں کتاب اللہ اور اپنی سنت چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان دونوں کو تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے.
📍 *ان شبہات کو بالترتیب مع ترديد چند فصلوں میں پیش کیا جاتا ہے.*
*شبہ نمبر 1️⃣* کیا مذہب اسلام غیر مسلموں پر داخل اسلام ہونے کے لئے بلا وجہ جبر و اکراہ کرتا ہے ⁉️ کیا اسلام آنتک واد کو بڑھاوا دیتا ہے⁉️
کچھ اسلام دشمن لا علم و کم عقل لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ دین اسلام دیگر اہل ادیان پر داخل اسلام ہونے کے لئے ظلم و تشدد کرتا ہے اور جو داخل نہ ہونا چاہیں ان سے بلا وجہ جہاد کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس پر قرآن مجید کی کئ آیات ہیں جو آتنک واد *( Terrorism)* کو بڑھاوا دیتی ہیں. !!!!!!!!
- الأمان والحفيظ-
اس شبہہ فاسدہ کی مندجہ ذیل چار وجوہ سے مع دلائلِ قرآن و سنت تردید کی جاتی ہے :
*①*▫️ یہ اسلام کی پاک دامنی پر بے جا الزام ہے. یہ حقیقت ہر صاحب عقل پر منکشف ہے کہ عقیدہ بغیر کسی جبر و اکراہ دل کے پختہ ارادہ و یقین کا نام ہے.
اسلام کسی فردِ بشر کو اپنی آگوش میں آنے کے لئے بلا وجہ جبر و اکراہ کو پسند نہیں کرتا جیساکہ خود انسان کا دستورِ حیات قرآن کریم اس کا اعلان فرماتا ہے :
▪️ *{ لَاۤ إِكۡرَاهَ فِی ٱلدِّینِۖ قَد تَّبَیَّنَ ٱلرُّشۡدُ مِنَ ٱلۡغَیِّۚ }* "[سورہ البقرۃ : 256]
کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے.
مذہب اسلام یہ چاہتا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی سب کا خالق و مالک ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے یہی انسان کا مقصد حیات ہے ، خالق کائنات ارشاد فرماتا ہے :
▪️ *{ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعۡبُدُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِی خَلَقَكُمۡ وَٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ }* [سوره البقرة :21]
اے لوگو اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔
اور فرماتا ہے :
▪️ *{ وَٱعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُوا۟ بِهِ شَیۡـࣰٔا }* [سورہ الالنساء : 36]
اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ.
اسی لئے اسلام نے غیر عرب مشرکین پر جزیہ رکھ کر انہیں امان کی صورت عطا فرمائ اور اسلام لانے پر جزیہ بھی ساقط ہو جاتا ہے.
اسلام ایک روشن مذہب ہے جس کی حقانیت کے دلائل و براہین بیّن و واضح ہیں اسلئے اس میں داخل ہونے کے لئے کسی پر بلا وجہ جبر و اکراہ کی کوئی حاجت نہیں ہے یعنی ایمان لانا سعادت ازلی پر موقوف ہے, اللہ پاک نے جسے ہدایت عطا فرمائی اس کے سینے کو کشادہ اور بصیرت کو منور فرما دیا, ایمان وہی لائے گا جس کے لئے توفیق الٰہی شامل ہو.
اور رب قدیر جس کے دل کو اندھا فرما دیتا ہے اور اس کی سمع و بصر پر پردے ڈال دیتا ہے تو اس کو دین میں جبرا داخل کیا بھی نہیں جا سکتا کہ ارشاد ربانی ہے :
▪️ *{ وَمَن یُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادࣲ }* [سوره الرعد : 33]
اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ۔
اللہ پاک ﷻ نے اپنے حبیب ﷺ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :
▪️ *{ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًاؕ - اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ }* [سقرہ یونس آیت : 99]
اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں۔
اس آیت مقدسہ میں اللہ پاک ﷻ نے اپنے حبیب ﷺ کو تسلی عطا فرمائی کہ آپ چاہتے ہیں کہ سارے لوگ ایمان لے آئیں اور دین اسلام میں داخل ہو جائیں لیکن آپ کی کوشش کے باوجود یہ داخل نہیں ہوتے ہیں تو آپ کو غم نہ ہونا چاہیۓ کیونکہ جو روز ازل سے شقی ہے وہ ایمان نہیں لائےگا.
قسط اول ➊
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم
قارئین حضرات !
اس دور پر فتن میں اپنے اور اغیار آئے دن اسلام کے تقدس و وقار کو مجروح اور پامال کرنے اور اسلام کے مصادر اصلیہ سے متعلق لوگوں کے قلوب و اذہان میں شکوک و شبہات ڈالنے کی ناپاک کوشیشیں کر رہے ہیں. ابھی تک تو انکار حدیث رسول ﷺ کا فتنہ ہوتا تھا اور اب خود اسلام کی تشریعات کے پہلے مصدر اصیل پر حملہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے. ان نازک حالات میں ہمیں قرآن و سنت پر مضبوطی سے عمل پیرا رہنے کی ضرورت ہے.
جیسا کہ سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات کی بابت پہلے ہی ارشاد فامایا دیا ہے : " *تركتُ فیکم أمرين، لن تَضِلوا ما تمسكتم بهما ، كتاب الله و سنتي* " [مؤطا امام مالک : 899/2] 📘
میں تم میں دو چیزیں کتاب اللہ اور اپنی سنت چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان دونوں کو تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے.
📍 *ان شبہات کو بالترتیب مع ترديد چند فصلوں میں پیش کیا جاتا ہے.*
*شبہ نمبر 1️⃣* کیا مذہب اسلام غیر مسلموں پر داخل اسلام ہونے کے لئے بلا وجہ جبر و اکراہ کرتا ہے ⁉️ کیا اسلام آنتک واد کو بڑھاوا دیتا ہے⁉️
کچھ اسلام دشمن لا علم و کم عقل لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ دین اسلام دیگر اہل ادیان پر داخل اسلام ہونے کے لئے ظلم و تشدد کرتا ہے اور جو داخل نہ ہونا چاہیں ان سے بلا وجہ جہاد کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس پر قرآن مجید کی کئ آیات ہیں جو آتنک واد *( Terrorism)* کو بڑھاوا دیتی ہیں. !!!!!!!!
- الأمان والحفيظ-
اس شبہہ فاسدہ کی مندجہ ذیل چار وجوہ سے مع دلائلِ قرآن و سنت تردید کی جاتی ہے :
*①*▫️ یہ اسلام کی پاک دامنی پر بے جا الزام ہے. یہ حقیقت ہر صاحب عقل پر منکشف ہے کہ عقیدہ بغیر کسی جبر و اکراہ دل کے پختہ ارادہ و یقین کا نام ہے.
اسلام کسی فردِ بشر کو اپنی آگوش میں آنے کے لئے بلا وجہ جبر و اکراہ کو پسند نہیں کرتا جیساکہ خود انسان کا دستورِ حیات قرآن کریم اس کا اعلان فرماتا ہے :
▪️ *{ لَاۤ إِكۡرَاهَ فِی ٱلدِّینِۖ قَد تَّبَیَّنَ ٱلرُّشۡدُ مِنَ ٱلۡغَیِّۚ }* "[سورہ البقرۃ : 256]
کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے.
مذہب اسلام یہ چاہتا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی سب کا خالق و مالک ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے یہی انسان کا مقصد حیات ہے ، خالق کائنات ارشاد فرماتا ہے :
▪️ *{ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعۡبُدُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِی خَلَقَكُمۡ وَٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ }* [سوره البقرة :21]
اے لوگو اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔
اور فرماتا ہے :
▪️ *{ وَٱعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُوا۟ بِهِ شَیۡـࣰٔا }* [سورہ الالنساء : 36]
اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ.
اسی لئے اسلام نے غیر عرب مشرکین پر جزیہ رکھ کر انہیں امان کی صورت عطا فرمائ اور اسلام لانے پر جزیہ بھی ساقط ہو جاتا ہے.
اسلام ایک روشن مذہب ہے جس کی حقانیت کے دلائل و براہین بیّن و واضح ہیں اسلئے اس میں داخل ہونے کے لئے کسی پر بلا وجہ جبر و اکراہ کی کوئی حاجت نہیں ہے یعنی ایمان لانا سعادت ازلی پر موقوف ہے, اللہ پاک نے جسے ہدایت عطا فرمائی اس کے سینے کو کشادہ اور بصیرت کو منور فرما دیا, ایمان وہی لائے گا جس کے لئے توفیق الٰہی شامل ہو.
اور رب قدیر جس کے دل کو اندھا فرما دیتا ہے اور اس کی سمع و بصر پر پردے ڈال دیتا ہے تو اس کو دین میں جبرا داخل کیا بھی نہیں جا سکتا کہ ارشاد ربانی ہے :
▪️ *{ وَمَن یُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادࣲ }* [سوره الرعد : 33]
اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ۔
اللہ پاک ﷻ نے اپنے حبیب ﷺ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :
▪️ *{ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًاؕ - اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ }* [سقرہ یونس آیت : 99]
اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں۔
اس آیت مقدسہ میں اللہ پاک ﷻ نے اپنے حبیب ﷺ کو تسلی عطا فرمائی کہ آپ چاہتے ہیں کہ سارے لوگ ایمان لے آئیں اور دین اسلام میں داخل ہو جائیں لیکن آپ کی کوشش کے باوجود یہ داخل نہیں ہوتے ہیں تو آپ کو غم نہ ہونا چاہیۓ کیونکہ جو روز ازل سے شقی ہے وہ ایمان نہیں لائےگا.
▪️ اور ارشاد فرمایا : " *{ فَإِنَّمَا عَلَیۡكَ ٱلۡبَلَـٰغُ وَعَلَیۡنَا ٱلۡحِسَابُ }* " [ سوره الرعد : 40 ]
تو بہر حال تم پر تو صرف پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا ذمہ.
▪️ دوسرے مقام پر فرمایا :
*وَلَوۡ شَاۤءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمۡ أُمَّةࣰ وَ ٰحِدَةࣰ وَلَـٰكِن یُضِلُّ مَن یَشَاۤءُ وَیَهۡدِی مَن یَشَاۤءُۚ* (سورة النحل : 93)
اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتا ہے جسے چاہے.
امام بغوی علیہ الرحمہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : " على ملة واحدة و هي الإسلام " : وه ملت واحدہ اسلام ہے. [ تفسیر البغوی ] 📗
*②*▫️ رحمت عالم ﷺ نے مکہ شریف میں ١٣ سال قیام فرمایا اور لوگوں کو اللہ ﷻ کی طرف بلایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو , آپ کی دعوت پر اس مدت میں کثیر لوگ ایمان لے آئے جبکہ اس وقت آپ کے پاس ایسی قوت بھی نہیں تھی کہ آپ دوسروں پر دخول اسلام کا دباؤ بناتے.
*③*▫️ اعتقاد کے معاملہ میں یقین کامل ہونا ضروری ہے اس لئے کہ جو مجبور ہو وہ بہت جلد ہی کمزور سبب پاتے ہی پھر جاتا ہے , جبکہ یہاں یہ حقیقت ہے کہ صف اول کے مسلمان خود اپنی مرضی سے اپنے جان و مال کو دین پر قربان کرنے کے جذبہ صادقہ کے ساتھ داخل اسلام ہوئے.
*④*▫️ سیرت رسول خدا ﷺ میں ایسے بے شمار واقعات ہیں کہ آپ ﷺ نے مشرکین پر طاقت و قوت رکھنے کے با وجود بھی ان کو اسلام لانے کے لئے مجبور نہیں فرمایا بلکہ انہیں سوچنے سمجھنے اور خود سے اسلام لانے کی کھلی آزادی *(Freedom of Religion)* عطا فرمائ تھی.
▪️ جیسا کہ حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے داخل اسلام ہونے کی مثال ہے :- فتح مکہ شریف کے موقع پر وہ یمن کی طرف راہ فرار اختیار کرنے کے لئے سوار ہونے لگے تو حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا : *یا نبي الله ﷺ : إن صفوان بن أمية سيد قومه، وقد خرج هاربا منك؛ ليقذف نفسه في البحر، فأمِّنه، صلى الله عليك ، قال : " هو آمن ".*
یا رسول اللہ ﷺ کافروں کا سردار صفوان بن امیہ آپ سے بھاگ کر اپنے آپ کو پانی میں ہلاک کرنے گیا ہے, یا رسول اللہ ﷺ اس کو امان عطا فرما دیں. آپ نے فرمایا : " اس کو امان ہے " بالآخر حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے انہیں اس بات کی خبر دی اور اور اپنے ساتھ حضور ﷺ کی بارگاہ میں لے آئے تو صفوان امیہ نے کہا کہ مجھے اسلام میں داخل ہونے کے لئے دو مہینے کی مہلت عطا فرمائیں تو آپ نے فرمایا : *" أنت بالخيار فيه أربعة أشهر "* تمہیں چار مہینے کا اختیار ہے. اور پھر وہ خود اسلام میں داخل ہوئے. [سیرت ابن ہشام : 417/2]📕
*قارئین حضرات !*
🔮 اسلام تو دین سلام ہے, اس کا نام اسلام تو خود سلام (سلامتی و عافیت) سے مشتق ہے یہ کسی پر بلا وجہ کسی پر جبر و تشدد کیسے کر سکتا ہے.
📍 مذکورہ شواہد سے یہ امر واضح ہو گیا کہ اسلام کسی غیر مسلم کو مسلمان ہونے کے لئے بلا وجہ مجبور نہیں کرتا ہے بلکہ ہر دور میں لوگ خود اس کی حقانیت کو دیکھ اس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں.
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( *بن مناظر اہل سنت علامہ صغیر احمد رضوی جوکھنپوری* ) حفظہ الله
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
*جاری ...* 📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/892588887978297/
تو بہر حال تم پر تو صرف پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا ذمہ.
▪️ دوسرے مقام پر فرمایا :
*وَلَوۡ شَاۤءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمۡ أُمَّةࣰ وَ ٰحِدَةࣰ وَلَـٰكِن یُضِلُّ مَن یَشَاۤءُ وَیَهۡدِی مَن یَشَاۤءُۚ* (سورة النحل : 93)
اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتا ہے جسے چاہے.
امام بغوی علیہ الرحمہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : " على ملة واحدة و هي الإسلام " : وه ملت واحدہ اسلام ہے. [ تفسیر البغوی ] 📗
*②*▫️ رحمت عالم ﷺ نے مکہ شریف میں ١٣ سال قیام فرمایا اور لوگوں کو اللہ ﷻ کی طرف بلایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو , آپ کی دعوت پر اس مدت میں کثیر لوگ ایمان لے آئے جبکہ اس وقت آپ کے پاس ایسی قوت بھی نہیں تھی کہ آپ دوسروں پر دخول اسلام کا دباؤ بناتے.
*③*▫️ اعتقاد کے معاملہ میں یقین کامل ہونا ضروری ہے اس لئے کہ جو مجبور ہو وہ بہت جلد ہی کمزور سبب پاتے ہی پھر جاتا ہے , جبکہ یہاں یہ حقیقت ہے کہ صف اول کے مسلمان خود اپنی مرضی سے اپنے جان و مال کو دین پر قربان کرنے کے جذبہ صادقہ کے ساتھ داخل اسلام ہوئے.
*④*▫️ سیرت رسول خدا ﷺ میں ایسے بے شمار واقعات ہیں کہ آپ ﷺ نے مشرکین پر طاقت و قوت رکھنے کے با وجود بھی ان کو اسلام لانے کے لئے مجبور نہیں فرمایا بلکہ انہیں سوچنے سمجھنے اور خود سے اسلام لانے کی کھلی آزادی *(Freedom of Religion)* عطا فرمائ تھی.
▪️ جیسا کہ حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے داخل اسلام ہونے کی مثال ہے :- فتح مکہ شریف کے موقع پر وہ یمن کی طرف راہ فرار اختیار کرنے کے لئے سوار ہونے لگے تو حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا : *یا نبي الله ﷺ : إن صفوان بن أمية سيد قومه، وقد خرج هاربا منك؛ ليقذف نفسه في البحر، فأمِّنه، صلى الله عليك ، قال : " هو آمن ".*
یا رسول اللہ ﷺ کافروں کا سردار صفوان بن امیہ آپ سے بھاگ کر اپنے آپ کو پانی میں ہلاک کرنے گیا ہے, یا رسول اللہ ﷺ اس کو امان عطا فرما دیں. آپ نے فرمایا : " اس کو امان ہے " بالآخر حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے انہیں اس بات کی خبر دی اور اور اپنے ساتھ حضور ﷺ کی بارگاہ میں لے آئے تو صفوان امیہ نے کہا کہ مجھے اسلام میں داخل ہونے کے لئے دو مہینے کی مہلت عطا فرمائیں تو آپ نے فرمایا : *" أنت بالخيار فيه أربعة أشهر "* تمہیں چار مہینے کا اختیار ہے. اور پھر وہ خود اسلام میں داخل ہوئے. [سیرت ابن ہشام : 417/2]📕
*قارئین حضرات !*
🔮 اسلام تو دین سلام ہے, اس کا نام اسلام تو خود سلام (سلامتی و عافیت) سے مشتق ہے یہ کسی پر بلا وجہ کسی پر جبر و تشدد کیسے کر سکتا ہے.
📍 مذکورہ شواہد سے یہ امر واضح ہو گیا کہ اسلام کسی غیر مسلم کو مسلمان ہونے کے لئے بلا وجہ مجبور نہیں کرتا ہے بلکہ ہر دور میں لوگ خود اس کی حقانیت کو دیکھ اس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں.
🖊️ کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
( *بن مناظر اہل سنت علامہ صغیر احمد رضوی جوکھنپوری* ) حفظہ الله
📱➒➒➒➐➐➐➒➍➋➑
📧𝐊𝐚𝐦𝐚𝐚𝐥𝐦𝐮𝐬𝐭𝐚𝐟𝐚𝟗𝟐𝟕𝟖𝟔@𝐠𝐦𝐚𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
*جاری ...* 📝 👇🏻👇🏻👇🏻
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/892588887978297/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/892588887978297/
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❶
https://t.me/islaamic_Knowledge/12361
ازالہ شبہات اور آیات جہاد
✍ کمال مصطفیٰ ازہری ❶
https://t.me/islaamic_Knowledge/12361
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد
قسط دوم ➋
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم.
*شبہ نمبر 2️⃣ : کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ❓❓
بعض مغالطین یہ مغالطہ کرتے ہیں کہ اسلام اہل الذمہ (وہ کفار جو جِزیہ دیکر دار الاسلام میں پناہ اختیار کریں) پر ظلم و تشدد کا معاملہ کرتا ہے, انکی آزادی چھین لیتا ہے اور ان پر زیادہ ٹیکس ڈال کر پریشانی میں مبتلا کرتا ہے جسے مسلمان جِزیہ کا نام دیتے ہیں اور ادا نہ کرنے پر جہاد کا حکم دیتا ہے.
*شبہ سابقہ چند وجوہات سے مسترد کیا جاتا ہے :
اس میں کوئ شک نہیں ہے کہ یہ شبہ پیدا کرنے والے ان ساری باتوں سے نا واقف ہیں جو اسلام ذمیوں کے حقوق کی کفالت میں بے مثال کردار ادا کرتا ہے. ہم ان تمام چیزوں کو درج ذیل سطور میں بیان کرتے ہیں تاکہ اذہان و قلوب شکوک و شبہات سے محفوظ رہیں.
اولاً جزیہ کا معنی بیان کر دیتے ہیں :
جزیہ لغت میں ( ج ز ی) سے مشتق ہے اور فِعْلَة کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے " أعطوها جزا ما منحوا من الأمن " جو امان کے بدلے میں دیا جائے. [ مختار الصحاح : 44/1 ]
🔹 جزيہ وہ محدود اور متعین مال ہے جو سلطنت اسلامیہ کے تحت رہنے اور حفاظت کے بدلے میں صرف ان صاحب استطاعت کام کاج پر قدرت رکھنے والے غیر مسلموں سے لیا جاتا ہے جو دار الاسلام میں سکونت اختیار کریں.
بوڑھے , بچے اور عورتیں اس سے بری ہیں , اسی طرح فقیر و مریض اور کام کاج پر قدرت نہ رکھنے والے افراد سے بھی جزیہ نہیں لیا جاتا ہے بلکہ ان میں سے اکثر تو وہ افراد ہیں جو مسلمانوں کے بیت المال سے بقدر حاجت حصہ بھی پاتے ہیں.
🔹اہل الذمہ جو مسلمانوں کے درمیان رہتے ہیں دولت اسلامیہ کی قضاء و ضمانت و فوج (Judiciary, Army, Police) کی خدمات سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح عوامی سہولیات( Public Facilities) سے بھی مستفید ہوتے ہیں, اور یہ بات اہل نظر سے پوشیدہ نہیں کہ ان تمام امور و معاملات کو چلانے کے لیے ایک بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے جس کی ادائیگی مسلمان کرتے ہیں اور ذمی لوگ بھی اس خرچے کی ادائیگی میں حصہ دار بنتے ہیں.
جزیہ کے بدلے میں دولت اسلامیہ ان کی حفاظت و دفاع کی ذمہ داری اٹھاتی ہے اور ان کے لئے دیار اسلام میں امان فراہم کرتی ہے جس پر انہیں اپنے جان و مال اور عزت کے دفاع یا دولت اسلامیہ کے دفاع کا مکلف نہیں کرتی بلکہ ان تمام امور کی حفاظت اور انکی نگہداشت کے لئے فوجی دستہ مامور ہوتا ہے.
تو یہ جِزیہ اسلام قبول نہ کرنے کی سزا یا ظلم نہیں ہے بلکہ یہ انکی حفاظت و حمایت اور کفالت وسرپرستی کے عوض ہے. اسلئے کہ جزیہ کا قبول کرنا ہی انکی جان و مال کی عصمت کو ثابت کرتا ہے. جیساکہ امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے صراحتاً فرمایا تھا : *" فإذا أخذت منهم الجزية فلا شيء لك عليهم و لا سبيل."* جب تم نے ان سے جزیہ لے لیا تو اب تمہارے لئے ان پر کوئی چیز یا راستہ باقی نہ رہا.[ الخراج : 154] 📘
🔹اسلام نے ذمیوں کی ضمانت میں ایک ایسی الگ پہل کی جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی کہ ذمیوں میں سے قدرت رکھنے والے لوگ معدود ومتعین درہم عطا کریں اور پھر مسلمانوں کی نگرانی میں امن و سلامتی کے ساتھ محفوظ و مامون ہو کر اپنی خوشگوار زندگی گزاریں, حالانکہ قدرت و طاقت ہونے کے باوجود ظلم و ستم نہ کر کے حقوق میں عدل و انصاف عطا کیا.
🌀 *ذمیوں کے لئے عام حقوق*
①. *جرم کے متعلق قانون* ( Criminal Law )
یہ قانون مسلمان و ذمی پر برابر جاری ہوتا ہے یعنی جرم کی سزا دونوں کے لئے برابر ہے, مثلا اگر کوئی مسلمان ذمی کا مال چوری کر لے یا ذمی مسلمان کا مال چوری کر لے تو دونوں حالتوں میں چور کے ہاتھ کاٹے جائینگے.
②. *شہری قانون* (Civil Law)
یہ قانون بھی دونوں کے لئے برابر ہے, ذمی کا مال مسلمان کے مال کی طرح ہے اور ذمی کے لئے شراب بنانا, پینا یا بیچنا خاص ہے اور خنزیر پالنے, کھانے یا بیچنے کی اجازت ہے. تو اگر کسی مسلمان نے ذمی کی شراب ضائع کردی یا خنزیر کو ہلاک کردیا تو اس پر اس کا جرمانہ ادا کرنا لازم ہوگا. جیسا کہ در مختار میں ہے : يضمن المسلم قيمة خمرہ و خنزيره إذا أتلفه " 📕
③. *حفظِ عفت و عزت*
ذمی کو ہاتھ یا زبان سے ایذا رسانی جائز نہیں ہے اور اس کو گالی دینا , مارنا یا اسکی غیبت کرنا بھی جائز نہیں ہے , در مختار میں ہے : *" يجب كف الأذى عنه و تحريم غيبته كمسلم "* ذمی کو اذیت دینے سے باز رہنا ضروری ہے اور اس کی غیبت مسلمان کی طرح حرام ہے.
④. شعائر دینیہ
⑤. جزیہ و خراج لینے میں نرمی.
قسط دوم ➋
✍🏻 کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوری
جامعة الأزهر الشريف ، مصر
بسم الله الرحمن الرحيم.
*شبہ نمبر 2️⃣ : کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ❓❓
بعض مغالطین یہ مغالطہ کرتے ہیں کہ اسلام اہل الذمہ (وہ کفار جو جِزیہ دیکر دار الاسلام میں پناہ اختیار کریں) پر ظلم و تشدد کا معاملہ کرتا ہے, انکی آزادی چھین لیتا ہے اور ان پر زیادہ ٹیکس ڈال کر پریشانی میں مبتلا کرتا ہے جسے مسلمان جِزیہ کا نام دیتے ہیں اور ادا نہ کرنے پر جہاد کا حکم دیتا ہے.
*شبہ سابقہ چند وجوہات سے مسترد کیا جاتا ہے :
اس میں کوئ شک نہیں ہے کہ یہ شبہ پیدا کرنے والے ان ساری باتوں سے نا واقف ہیں جو اسلام ذمیوں کے حقوق کی کفالت میں بے مثال کردار ادا کرتا ہے. ہم ان تمام چیزوں کو درج ذیل سطور میں بیان کرتے ہیں تاکہ اذہان و قلوب شکوک و شبہات سے محفوظ رہیں.
اولاً جزیہ کا معنی بیان کر دیتے ہیں :
جزیہ لغت میں ( ج ز ی) سے مشتق ہے اور فِعْلَة کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے " أعطوها جزا ما منحوا من الأمن " جو امان کے بدلے میں دیا جائے. [ مختار الصحاح : 44/1 ]
🔹 جزيہ وہ محدود اور متعین مال ہے جو سلطنت اسلامیہ کے تحت رہنے اور حفاظت کے بدلے میں صرف ان صاحب استطاعت کام کاج پر قدرت رکھنے والے غیر مسلموں سے لیا جاتا ہے جو دار الاسلام میں سکونت اختیار کریں.
بوڑھے , بچے اور عورتیں اس سے بری ہیں , اسی طرح فقیر و مریض اور کام کاج پر قدرت نہ رکھنے والے افراد سے بھی جزیہ نہیں لیا جاتا ہے بلکہ ان میں سے اکثر تو وہ افراد ہیں جو مسلمانوں کے بیت المال سے بقدر حاجت حصہ بھی پاتے ہیں.
🔹اہل الذمہ جو مسلمانوں کے درمیان رہتے ہیں دولت اسلامیہ کی قضاء و ضمانت و فوج (Judiciary, Army, Police) کی خدمات سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح عوامی سہولیات( Public Facilities) سے بھی مستفید ہوتے ہیں, اور یہ بات اہل نظر سے پوشیدہ نہیں کہ ان تمام امور و معاملات کو چلانے کے لیے ایک بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے جس کی ادائیگی مسلمان کرتے ہیں اور ذمی لوگ بھی اس خرچے کی ادائیگی میں حصہ دار بنتے ہیں.
جزیہ کے بدلے میں دولت اسلامیہ ان کی حفاظت و دفاع کی ذمہ داری اٹھاتی ہے اور ان کے لئے دیار اسلام میں امان فراہم کرتی ہے جس پر انہیں اپنے جان و مال اور عزت کے دفاع یا دولت اسلامیہ کے دفاع کا مکلف نہیں کرتی بلکہ ان تمام امور کی حفاظت اور انکی نگہداشت کے لئے فوجی دستہ مامور ہوتا ہے.
تو یہ جِزیہ اسلام قبول نہ کرنے کی سزا یا ظلم نہیں ہے بلکہ یہ انکی حفاظت و حمایت اور کفالت وسرپرستی کے عوض ہے. اسلئے کہ جزیہ کا قبول کرنا ہی انکی جان و مال کی عصمت کو ثابت کرتا ہے. جیساکہ امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے صراحتاً فرمایا تھا : *" فإذا أخذت منهم الجزية فلا شيء لك عليهم و لا سبيل."* جب تم نے ان سے جزیہ لے لیا تو اب تمہارے لئے ان پر کوئی چیز یا راستہ باقی نہ رہا.[ الخراج : 154] 📘
🔹اسلام نے ذمیوں کی ضمانت میں ایک ایسی الگ پہل کی جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی کہ ذمیوں میں سے قدرت رکھنے والے لوگ معدود ومتعین درہم عطا کریں اور پھر مسلمانوں کی نگرانی میں امن و سلامتی کے ساتھ محفوظ و مامون ہو کر اپنی خوشگوار زندگی گزاریں, حالانکہ قدرت و طاقت ہونے کے باوجود ظلم و ستم نہ کر کے حقوق میں عدل و انصاف عطا کیا.
🌀 *ذمیوں کے لئے عام حقوق*
①. *جرم کے متعلق قانون* ( Criminal Law )
یہ قانون مسلمان و ذمی پر برابر جاری ہوتا ہے یعنی جرم کی سزا دونوں کے لئے برابر ہے, مثلا اگر کوئی مسلمان ذمی کا مال چوری کر لے یا ذمی مسلمان کا مال چوری کر لے تو دونوں حالتوں میں چور کے ہاتھ کاٹے جائینگے.
②. *شہری قانون* (Civil Law)
یہ قانون بھی دونوں کے لئے برابر ہے, ذمی کا مال مسلمان کے مال کی طرح ہے اور ذمی کے لئے شراب بنانا, پینا یا بیچنا خاص ہے اور خنزیر پالنے, کھانے یا بیچنے کی اجازت ہے. تو اگر کسی مسلمان نے ذمی کی شراب ضائع کردی یا خنزیر کو ہلاک کردیا تو اس پر اس کا جرمانہ ادا کرنا لازم ہوگا. جیسا کہ در مختار میں ہے : يضمن المسلم قيمة خمرہ و خنزيره إذا أتلفه " 📕
③. *حفظِ عفت و عزت*
ذمی کو ہاتھ یا زبان سے ایذا رسانی جائز نہیں ہے اور اس کو گالی دینا , مارنا یا اسکی غیبت کرنا بھی جائز نہیں ہے , در مختار میں ہے : *" يجب كف الأذى عنه و تحريم غيبته كمسلم "* ذمی کو اذیت دینے سے باز رہنا ضروری ہے اور اس کی غیبت مسلمان کی طرح حرام ہے.
④. شعائر دینیہ
⑤. جزیہ و خراج لینے میں نرمی.
🔹 اسلام حاجتمند ذمیوں کو مسلمانوں کے بیت المال سے حصہ بھی فراہم کرتا ہے جیسا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے بصری میں اپنے مقرر کردہ گورنر عدی بن ارطأۃ کو یہ کہہ کر روانہ کیا : *" انظر من قبلك من أهل الذمة، قد كبرت سنه وضعفت قوته وولت عنه المكاسب، فأجرِ عليه من بيت مال المسلمين ما يصلحه "*. [ الأموال : 170/1]📗
اپنا خیال رکھنے سے پہلے اہل ذمہ کا خیال رکھنا کہ ان میں کچھ عمر دراز ہوگئے ہیں, کچھ ضعیف و کمزور ہیں اور انکی آمدنی دور ہوگئی ہے تو مسلمانوں کے بیت المال سے ان کو عطا کرنا جس سے ان کی حالت میں سدھار آئے.
اسلام کی معیشت میں غیر مسلموں نے اس طرح آزادی و عدل و انصاف کے ساتھ زندگی گزاری ہے تو آج مسلمانوں کے ساتھ اتنا ظلم و ستم کیوں ؟⁉️
🔹اسلام رحمت و سلامتی کا دین ہے جو نفرت و دشمنی کی طرف نہیں اکساتا بلکہ وہ مسلم و غیر مسلم کے درمیان قضاء و دیگر معاملات میں مساوات کا درس دیتا ہے جس کی تاریخ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں.
یہاں وہ واقعہ بہترین مثال ہے جو حضرت علی کرم الله وجهه الکریم اور ایک یہودی شخص کے درمیان پیش آیا. حضرت علی کرم الله وجهه الکریم کی زرہ گم ہو گئی جو آپ نے ایک یہودی شخص کے پاس پائی تو آپ اس شخص کے ساتھ قاضی شریح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہ میری زرہ ہے جو نہ میں نے بیچی ہے اور نہ ہبہ کی ہے. تو حضرت قاضی شریح نے اس شخص سے پوچھا جو امیر المؤمنین فرما رہے ہیں اس پر تم کیا کہتے ہو ؟ تو اس شخص نے کہا یہ تو میری ہی زرہ ہے اور نہ ہی امیر المومنین میرے نزدیک جھوٹے ہیں. تو قاضی شریح رضی اللہ عنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : اے امیر المؤمنین آپ کے پاس کوئی دلیل ہے ؟ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قاضی صاحب میرے پاس کوئی واضح حجت نہیں ہے. تو قاضی شریح نے فیصلہ اس یہودی شخص کے حق میں فرمادیا کہ زرہ اس یہودی شخص کی ہے. اس نے زرہ لی اور چلا گیا, کچھ ہی قدم چلا تھا کہ یہ کہتا ہوا واپس آیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ انبیاء کرام کے فیصلوں کے مطابق فیصلے ہیں. اے امیر المؤمنین مجھے قاضی کے قریب کردیں کہ وہ فیصلہ فرمائیں اور اس نے کلمئہ طیبہ پڑھا : لا إله إلا الله و أشهد أن محمدا عبده و رسوله, اور کہنے لگا : اے امیر المومنین, اللہ کی قسم یہ آپ ہی کی زرہ ہے جو میں نے آپ کے اونٹ سے نکالی تھی. حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : *" أما إذا أسلمتَ فهي لك "* جب تو ایمان 📘لے آیا تو اب یہ تیری ہے. [ سنن کبری : 20252 ].
اسلام میں اس طرح کا انصاف ہے کہ خود امیر المؤمنین قاضی اسلام کے سامنے اس یہودی شخص کے ساتھ فیصلہ کے لئے حاضر ہیں باوجود اس کے کہ آپ حق پر تھے اور پاور فل تھے اور قاضی بھی بینہ طلب کر رہے ہیں, اسی بات پر امیر المؤمنین مسکراۓ بھی کہ وہ حق پر ہیں مگر ان کے پاس کوئی بینہ نہیں ہے. کیونکہ وہ مدعی تھے اور حدیث پاک ہے : *أن الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.* [ سنن ترمزی : 1342 ] 📘 دلیل مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے.
🔹 يہ نرمی کا ہی معاملہ ہے کہ امیر اور رعایہ میں سے ایک یہودی کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا. اور اس فیصلہ نے اس شخص کو متحیر کر دیا یہاں تک کہ ایمان لے آیا.
*جزیہ کی مشروعیت.*
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :
{ قَـٰتِلُوا۟ ٱلَّذِینَ لَا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ وَلَا یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا یَدِینُونَ دِینَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡكِتَـٰبَ حَتَّىٰ یُعۡطُوا۟ ٱلۡجِزۡیَةَ عَن یَدࣲ وَهُمۡ صَـٰغِرُونَ } [ سورہ التوبة : 29 ]
لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر ۔
اس آیت کے تحت امام قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
قَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ: وَالَّذِي دَلَّ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ أَنَّ الْجِزْيَةَ تُؤْخَذُ مِنَ الرِّجَالِ الْمُقَاتِلِينَ، لِأَنَّهُ تَعَالَى قَالَ: "قاتِلُوا الَّذِينَ" إِلَى قَوْلِهِ: "حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ" فيقتضي ذلك وجو بها عَلَى مَنْ يُقَاتِلُ. [ تفسیر قرطبی ]📗
ہمارے علماء کرام نے بیان فرمایا ہے : قرآن کی دلالت یہ ہے کہ جزیہ جنگ کرنے والوں سے لیا جائے گا , کیونکہ آیت اُس پر جزیہ کے وجوب کا تقاضہ کرتی ہے جو جنگ کرے.
اپنا خیال رکھنے سے پہلے اہل ذمہ کا خیال رکھنا کہ ان میں کچھ عمر دراز ہوگئے ہیں, کچھ ضعیف و کمزور ہیں اور انکی آمدنی دور ہوگئی ہے تو مسلمانوں کے بیت المال سے ان کو عطا کرنا جس سے ان کی حالت میں سدھار آئے.
اسلام کی معیشت میں غیر مسلموں نے اس طرح آزادی و عدل و انصاف کے ساتھ زندگی گزاری ہے تو آج مسلمانوں کے ساتھ اتنا ظلم و ستم کیوں ؟⁉️
🔹اسلام رحمت و سلامتی کا دین ہے جو نفرت و دشمنی کی طرف نہیں اکساتا بلکہ وہ مسلم و غیر مسلم کے درمیان قضاء و دیگر معاملات میں مساوات کا درس دیتا ہے جس کی تاریخ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں.
یہاں وہ واقعہ بہترین مثال ہے جو حضرت علی کرم الله وجهه الکریم اور ایک یہودی شخص کے درمیان پیش آیا. حضرت علی کرم الله وجهه الکریم کی زرہ گم ہو گئی جو آپ نے ایک یہودی شخص کے پاس پائی تو آپ اس شخص کے ساتھ قاضی شریح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہ میری زرہ ہے جو نہ میں نے بیچی ہے اور نہ ہبہ کی ہے. تو حضرت قاضی شریح نے اس شخص سے پوچھا جو امیر المؤمنین فرما رہے ہیں اس پر تم کیا کہتے ہو ؟ تو اس شخص نے کہا یہ تو میری ہی زرہ ہے اور نہ ہی امیر المومنین میرے نزدیک جھوٹے ہیں. تو قاضی شریح رضی اللہ عنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : اے امیر المؤمنین آپ کے پاس کوئی دلیل ہے ؟ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قاضی صاحب میرے پاس کوئی واضح حجت نہیں ہے. تو قاضی شریح نے فیصلہ اس یہودی شخص کے حق میں فرمادیا کہ زرہ اس یہودی شخص کی ہے. اس نے زرہ لی اور چلا گیا, کچھ ہی قدم چلا تھا کہ یہ کہتا ہوا واپس آیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ انبیاء کرام کے فیصلوں کے مطابق فیصلے ہیں. اے امیر المؤمنین مجھے قاضی کے قریب کردیں کہ وہ فیصلہ فرمائیں اور اس نے کلمئہ طیبہ پڑھا : لا إله إلا الله و أشهد أن محمدا عبده و رسوله, اور کہنے لگا : اے امیر المومنین, اللہ کی قسم یہ آپ ہی کی زرہ ہے جو میں نے آپ کے اونٹ سے نکالی تھی. حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : *" أما إذا أسلمتَ فهي لك "* جب تو ایمان 📘لے آیا تو اب یہ تیری ہے. [ سنن کبری : 20252 ].
اسلام میں اس طرح کا انصاف ہے کہ خود امیر المؤمنین قاضی اسلام کے سامنے اس یہودی شخص کے ساتھ فیصلہ کے لئے حاضر ہیں باوجود اس کے کہ آپ حق پر تھے اور پاور فل تھے اور قاضی بھی بینہ طلب کر رہے ہیں, اسی بات پر امیر المؤمنین مسکراۓ بھی کہ وہ حق پر ہیں مگر ان کے پاس کوئی بینہ نہیں ہے. کیونکہ وہ مدعی تھے اور حدیث پاک ہے : *أن الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.* [ سنن ترمزی : 1342 ] 📘 دلیل مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے.
🔹 يہ نرمی کا ہی معاملہ ہے کہ امیر اور رعایہ میں سے ایک یہودی کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا. اور اس فیصلہ نے اس شخص کو متحیر کر دیا یہاں تک کہ ایمان لے آیا.
*جزیہ کی مشروعیت.*
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :
{ قَـٰتِلُوا۟ ٱلَّذِینَ لَا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ وَلَا یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا یَدِینُونَ دِینَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡكِتَـٰبَ حَتَّىٰ یُعۡطُوا۟ ٱلۡجِزۡیَةَ عَن یَدࣲ وَهُمۡ صَـٰغِرُونَ } [ سورہ التوبة : 29 ]
لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر ۔
اس آیت کے تحت امام قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
قَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ: وَالَّذِي دَلَّ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ أَنَّ الْجِزْيَةَ تُؤْخَذُ مِنَ الرِّجَالِ الْمُقَاتِلِينَ، لِأَنَّهُ تَعَالَى قَالَ: "قاتِلُوا الَّذِينَ" إِلَى قَوْلِهِ: "حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ" فيقتضي ذلك وجو بها عَلَى مَنْ يُقَاتِلُ. [ تفسیر قرطبی ]📗
ہمارے علماء کرام نے بیان فرمایا ہے : قرآن کی دلالت یہ ہے کہ جزیہ جنگ کرنے والوں سے لیا جائے گا , کیونکہ آیت اُس پر جزیہ کے وجوب کا تقاضہ کرتی ہے جو جنگ کرے.