🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام اہل سنت حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

جب ہم کسی محفل میں حضرت علی ، آپ کی اولاد ، اور سیدہ فاطمہ پاک کا ذکر کرتے ہیں تو کہاجاتاہے:

اے قوم ، یہ رافضیوں والی باتیں چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔ !

میں حفاظت فرمانے والے ( رب ﷻ ) کی طرف سے ایسے لوگوں سے اظہارِ برات کرتاہوں جو اولادِ فاطمہ کی محبت کو رفض کہتے ہیں ۔

( دیوان الامام الشافعی ، قافیۃ الیاء ، حب علی وسبطیہ وفاطمۃ ، ص 183 ، دارالغدالجدید القاھرہ ، 1429ھ )

لقمان شاہد
1/4/2018 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3125183411095160&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Yeh Program Face Book
प्रोग्राम इस 👇 फेसबुक पेज
https://www.facebook.com/Idaraequran/

और And

इस 👇 यूट्यूब चैनल पर लाइव होगा।
YouTube Channel Par Live
https://youtube.com/channel/UCgC2WjLdAIyGi44GEOjYM9g

IQ का ट्वीटर लिंक Tweeter
https://twitter.com/Idaraequran?s=09

इस प्रोग्राम, या इससे मिलते-जुलते मौजूआत के प्रति सवाल करने के लिए इस व्हाट्सएप नंबर पर अपने सवालात भेज सकते हैं:
+918562085666
آیات جہاد سے متعلق سوال
کرنے کے لئے واٹس ایپ نمبر ↑
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891353511435168/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوچو ! تم کہاں جا رہے ہو؟

تحریر : نثار مصباحی
رکن: روشن مستقبل، دہلی۔

اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک مستقل تہذیبی اور دینی تشخص عطا کرتا ہے۔ ایک ایسا تشخص جو انھیں دنیا کی تمام قوموں سے الگ اور ممتاز بناتا ہے۔ ذخیرۂ احادیث میں "خالفوا المشرکین"، "خالفوا الیہود"، اور "خالفوا المجوس" وغیرہ احکام اسی اسلامی تشخص و امتیاز کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے ہی وارد ہیں۔
قرآن کریم نے مسلمانوں کے دین و ایمان کو اللہ کا رنگ(صبغۃ اللہ) قرار دیا اور کہا:
صِبۡغَةَ ٱللَّهِ وَمَنۡ أَحۡسَنُ مِنَ ٱللَّهِ صِبۡغَةࣰۖ وَنَحۡنُ لَهُۥ عَـٰبِدُون [سورة البقرة : 138]
ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں.
قرآن کریم بتا رہا ہے کہ مسلمانوں پر اللہ کا رنگ چڑھ چکا ہے، اور اللہ کے رنگ سے اچھا کسی کا رنگ نہیں، مگر افسوس کہ آج درگاہوں اور خانقاہوں سے وابستہ کچھ لوگ مشرکین کے تہواروں میں سر سے پیر تک مشرکین کے رنگ میں رنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ !!!
((طُرفہ یہ کہ علماے اسلام و سنت جب ان کی خرافات سے انھیں روکتے ہیں تو علما کی اطاعت کی بجائے یہ لوگ علما کے ہی دشمن بن جاتے ہیں۔ آج بہت سی درگاہوں پر قابض ظاہری اور باطنی روافض و مجاورین، علماے اہلِ سنت کی ایک نہیں سنتے۔ یہ لوگ نہ "صوفی" ہیں، نہ "بریلوی"، مگر ان کی حرکتوں سے بدنامی تصوف اور بریلویوں(سُنّیوں) کی ہوتی ہے۔))

مشرکانہ رسوم اور مشرکین کے تہواروں میں ان لوگوں کی شرکت "تصوف"، "رواداری"، "بھائی چارہ" اور نہ جانے کیسے کیسے دل فریب ناموں پر ہوتی ہے۔ مگر ہر مسلمان جانتا ہے کہ "رواداری" اور "بھائی چارے" کے نام پر مسلمانوں میں شرکیہ رسوم اور مشرکین کے تہواروں کو رواج و قبولیت دینے کی کوئی کوشش اہلِ اسلام کے لیے کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔
عقیدۂ توحید اسلام کی اساس ہے۔ اس کے منافی اعمال کسی صورت میں روا نہیں ہو سکتے۔ بالفرض کسی شرکیہ قول و فعل کا ارتکاب نہ بھی ہو تو مشرکین کی ان کے شعار اور مخصوص مذہبی تہوار میں عملی موافقت کیا کوئی معمولی بات ہے ؟

- فارقِ حق و باطل، خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروق -رضی اللہ عنہ- عجمیوں اور مشرکوں کے پہناوے سے بھی پرہیز کا حکم دیتے تھے۔ !!! صحیح مسلم شریف میں ان کا یہ حکمنامہ موجود ہے :
*"إياكم والتنعم وزي أهل الشرك ولبوس الحرير"*
لذت اندوزی، *مشرکین کے پہناوے* اور ریشمی لباس سے پرہیز کرو۔
(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، حدیث نمبر 2069)
*"إياكم وزي الأعاجم"*
عجمیوں کے پہناوے سے پرہیز کرو۔
(كتاب الزهد، للإمام أحمد)
ایک طرف اس طرح کے واضح ارشادات ہیں جو مسلمانوں کو ایمانی رنگ میں رہنے کی تلقین کرتے ہیں، مگر دوسری طرف کچھ درگاہی مجاور ہیں جو مشرکین کے رنگ میں اس قدر رنگ جاتے ہیں کہ دیکھنے سے پتہ بھی نہیں چلتا کہ یہ کوئی مشرک ہیں یا توحید پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ !!!

- فرعون اور فرعونیوں سے نجات کی خوشی میں یہودی عاشورا (دسویں محرم) کے دن تہوار مناتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا تو "نحن أحق بموسی منکم" کہہ کر مسلمانوں کے لیے اس دن (عاشورا) کا ایک الگ تشخص قائم فرمایا۔ نہ یہودیوں کو ان کے تہوار کی مبارک باد دی اور نہ ہی ان کے تہوار میں شرکت روا رکھی، بلکہ مسلمانوں کے لیے روزہ مشروع فرمایا اور ایک دن(دسویں تاریخ) کا روزہ رکھنے میں بظاہر جو یہود کی موافقت تھی اسے بھی آخری سال میں تبدیل فرما دیا، اور یہود کی مخالفت کا صریح حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
*"صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ, وَخَالِفُوا الْيَهُودَ، صُومُوا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ يَوْمًا بَعْدَهُ"*.
"عاشورا کے دن روزہ رکھو، اور یہود کی مخالفت کرو۔ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد (بھی) روزہ رکھو۔"
(مسند امام احمد، حدیث نمبر 2155، صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر 2095)

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ مگر افسوس! آج رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کا یہ حال ہو چکا ہے کہ "تصوف"، "رواداری"، "بھائی چارہ" اور نہ جانے کیسے کیسے دل فریب نعروں کے ساتھ نہ صرف مبارک بادیں دی جا رہی ہیں، بلکہ اُن درگاہوں اور مزاروں میں ہولی، دیوالی، بسنت وغیرہ مشرکین کے تہوار منائے جا رہے ہیں جن درگاہوں اور مزاروں میں آرام فرما بزرگوں نے مشرکستانِ ہند میں توحیدِ الہی کا چراغ روشن فرمایا تھا۔ !!

ہماری قوم میں پائے جانے والے کچھ لوگوں کے اس تنزل اور نظریاتی و تہذیبی شکت و ریخت کی وجہ چاہے جو ہو مگر یہ اسلامی غیرت اور دینی وجود کے بالکل منافی ہے۔ اگر یہ سلسلہ باقی رہا یا آگے بڑھا تو یہ کافی نقصان دہ ہوگا۔ اس بھنور سے لوگوں کو نکالنا اور اکثریتی طبقے کے سامنے نظریاتی و فکری شکست بلکہ غلامی سے قوم کو بچانا بےحد ضروری ہے۔
👍1
علما تو ایک عرصے سے اصلاح کے لیے کوشاں ہیں مگر یہ چیزیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ کیوں کہ ایسی خرافات کرنے والوں کے نزدیک نہ علما کی اہمیت ہے اور نہ ان کی باتوں کی کوئی قدر۔ اور نہ ہی یہ جگہیں طبقۂ علما کے کنٹرول اور تصرف میں ہیں۔ ایسے میں مسلمان، اس ملک کی بڑی اور معروف خانقاہوں/درگاہوں مثلا مارہرہ مطہرہ، بریلی شریف، کچھوچھہ مقدسہ، اور خاص طور سے چشتی سلسلے کی تمام بڑی خانقاہوں سے امید لگائے ہوئے ہے کہ وہ چشتی سلسلے کی چند درگاہوں کے احاطے میں ہونے والے ان اعمال کے خلاف کھل کر سامنے آئیں، اور "تغییرِ منکَر" کے ساتھ اسلامی تشخص کی حفاظت کا اپنا شرعی فرض ادا کریں۔ تاکہ ہمارے لوگ جو ایسے کاموں میں ملوث ہو کر ذلتِ دنیا اور ہلاکتِ عقبیٰ خرید رہے ہیں وہ بچ بھی جائیں اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں مزاروں اور سنیوں کی ہونے والی بدنامی بھی رک جائے۔
علما کی بات تو یہ کہہ کر ٹال دی جاتی ہے کہ علما اور صوفیہ میں بنتی نہیں ہے۔ لیکن خانقاہیں اور درگاہیں تو "صوفیہ" کی ہیں؟ اگر درگاہوں میں اس طرح کے تہوار منائے جا رہے ہیں تو اس سے پوری صوفی برادری بدنام ہو رہی ہے۔ بعض اہل حدیث، وہابی، دیوبندی لوگوں کو دیکھا گیا کہ انہی سب چیزوں کو بنیاد بناکر عام لوگوں کو سنیوں کے خلاف ورغلا رہے ہیں، اور اہلِ سنت کے مذہبِ مہذب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ حال آں کہ یہ مٹھی بھر لوگ خلیجی ممالک میں شرک کے اڈے اور مندر قائم کیے جانے پر بالکل چپی سادھے ہوئے ہیں اور ارضِ توحید جزیرۃ العرب میں شرک اور مشرکین کی بڑھتی تعداد دیکھ کر بھی ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ان کا یہ دوہرا رویّہ عجیب و غریب ہے۔

خیر، بعض درگاہوں میں درآئی اس خرابی کے ازالے کے لیے بنیادی ذمے داری خانقاہوں کی ہی ہے کہ وہ اس عمل کے خلاف کھل کر سامنے آئیں، اور اصلاحِ احوال کریں۔ جب اسلام کی صورت ہی مسخ کی جارہی ہو تو خانقاہوں کی خاموشی کسی طور پر درست نہیں ہے۔

ہم درگاہوں کے احاطوں میں مشرکین کے تہوار منانے والے مجاوروں سے بھی کہیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کے جو ارشادات اور طریقے ہم نے ذکر کیے ہیں کیا وہ تمھارے لیے کافی نہیں؟ غضبِ الہی کو دعوت مت دو۔ توحید کے مدعی ہو تو شاہراہِ اہلِ توحید پر چلو۔ اہلِ شرک کے ساتھ ان کے شرکیہ امور اور مذہبی تہواروں میں شرکت و موافقت تمھیں دنیا میں بھی رسوا کرے گی اور آخرت میں تو تباہی ہی تباہی ہے۔
کیا "لا اِلہ اِلا اللہ" کا ذرہ برابر بھی تمھیں پاس و لحاظ نہیں؟
سوچو ! تم کہاں جا رہے ہو۔ !!!!

#نثارمصباحی
3 اپریل 2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891688561401663/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تحریر کاپی کرنے کے آداب

آج کل ایک وبا عام سے عام تر ہوتی جارہی ہے کہ کسی بھی محرر کے تحریر پوسٹ کرتے ہی لوگ کاپی کی اجازت مانگتے ہیں۔
میں ان اجازت مانگنے والوں سے نہایت ادب و احترام کے ساتھ پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ تحریر جو آپ کو پسند ہے، جس سے آپ متأثر ہیں، جو آپ کو ایسی لگی جسے آپ اپنے دیگر احباب تک پہنچانا چاہتے ہیں، اس بہتر یا بہترین تحریر کو شیر کرنے میں کیا حرج ہے؟ جو کاپی کی اجازت مانگ رہے ہیں۔

اگر آپ اس تحریر کو کاپی پیسٹ کرنے کی جگہ شیر کریں گے تو اس کا سیدھا فائدہ یہ ہوگا محرر کی حوصلہ افزائی ہوگی، جس سے مزید اچھی تحریریں آپ تک پہنچیں گی۔
اور محرر کو یہ اندازہ بھی ہوگا کہ وہ کتنا کامیاب ہے؟
یا جو کمنٹ اس تحریر پر محبین و ناقدین کے آئیں گے وہ خود پڑھ سکے گا جس سے محرر کو اپنی تحریر کی خوبیوں اور خامیوں سے بھی واقفیت ہوگی۔
اس کے برخلاف اگر آپ کاپی کرتے ہیں تو محرر کو نہ تو محبین کی حوصلہ افزا کمنٹ کی زیارت نصیب ہوگی، اور نہ ہی ناقدین کی قابل اصلاح نقد کی معلومات۔
جس سے نہ صرف محرر کا نقصان ہوگا کہ وہ حوصلہ افزائی و اصلاح سے محروم ہوجاے گا، بلکہ آپ اور آپ کے ساتھ اور بھی بے شمار لوگ اس سے متأثر ہونگے۔

اس کے باوجود بھی اگر آپ کوئی تحریر کاپی کرتے ہیں تو کم از کم آپ کی یہ ذمہ داری تو بنتی ہے کہ اس پوسٹ پر آے ہوے مثبت تبصرے نہ سہی تو کم از کم منفی تبصرے ضرور محرر تک پہنچائیں تاکہ وہ ان پر غور کرکے اپنی تحریر کا تجزیہ کرسکے، اور اپنی آئندہ تحریروں کو قابل قدر اصلاحی مشوروں پر عمل کرتے ہوے تحریر کرے۔

اگر آپ یہ نہیں کرسکتے تو کوئی بھی تحریر کاپی کرکے اپنی وال سے شیر کرنے سے پرہیز کریں۔
کیوں کہ آپ محرر کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی و اصلاح کی راہ میں بھی حائل ہورہے ہیں۔

وہاٹس اپ یا ٹیلی گرام وغیرہ کے لیے تحریر کاپی کرنے کی اجازت مانگنا

کچھ لوگ اس لیے تحریر کاپی کرنے کی اجازت مانگتے ہیں کہ وہ وہاٹس اپ یا ٹیلی گرام جیسے ایپلی کیشنز پر وہ تحریر شائع کرسکیں۔
ان سے گزارش ہے کہ وہ تحریر کاپی کرنے کے ساتھ محرر کی تحریر کی لنک بھی ساتھ میں لگادیا کریں۔
جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر کوئی اس تحریر پر کوئی مثبت یا منفی راے دینا چاہتا ہوگا تو لنک کے ذریعے محرر تک اس کی رسائی ممکن ہوگی۔
لہذا پہلی بات تو یہ کہ تحریر کاپی کرنے کے بجاے شیر کرنے کی عادت ڈالیں۔ اور اگر کاپی کریں تو ان آداب کو ملحوظ رکھیں۔

محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
تحریک علماے بندیل کھنڈ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891711034732749/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نرسنکھا نند سرسوتی کے خلاف فی الحال کرنے کے کام،،

(1) اپنے اپنے علاقے کی چھوٹی بڑی تنظیموں کا الائنس کرکے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں اور پریس میں صحیح ڈھنگ سے بیان بھی دیں بیان میں لاجک و معقول انداز اپنائیں،،،

(2) میڈیا میں صحیح ڈھنگ سے بیان بھی دیں انٹرویو میں درج ذیل باتیں کہیں،، ہم مسلمان کسی کے مذہبی پیشوا کو گالیاں نہیں دیتے کیوں کہ ہمارے قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ " تم دوسروں کے معبودوں کو گالیاں نہ دو کہ وہ جہالت اور دشمنی میں اللہ تعالیٰ کو برا کہیں گے،،، اور یہ بھی کہیں کہ نرسنکھا نند سرسوتی جیسے ناسوروں کو جیل کیوں نہیں بھیجا جا رہا ہے دوسری طرف اقلیت کی طرف سے ذرا سی بات آپ کے مزاج کے خلاف ہو تو فورا کاروائی ہوتی ہے یہاں پر کاروائی کیوں نہیں ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ مطلب لاجک اور معقول باتیں کہی جائیں محض جذباتی اور بھڑاس نکالنے والی بات نہ ہو ہو کہ یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے،،،

(3) ایک دوسرے پر تنقید کرنا بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے لہذا اہل خانقاہ اہل مدارس کو یا برعکس یا یہ دونوں سیاسی قیادت کو نشانہ پر لیں میرے نزدیک یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو دعوتی اسلوب میں بیدار کریں یہ تو پوری امت مسلمہ کا مشترکہ معاملہ ہے لہذا اپنی آواز احتجاج کو مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے کی سپورٹ کریں اپنے تحفظات کے ساتھ،،،

(4) بڑے چہروں کی طرف زیادہ دیکھنا اور انہیں سے تمام توقعات وابستہ رکھنا اس عہد میں مسئلہ کا حل نہیں ہے لہذا خود سے بھی حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور جد و جہد جاری رکھیں مخلص بنیں،، والذین جاہدوا فینا لنھدینھم سبلنا "

(5) بحیثیت مسلم ہماری بھی کچھ ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور آس پاس ہم خیال علماء و دانشوران کا ایک پینل بنائیں مہینہ دو مہینہ میں مٹنگ کرتے رہیں کہ انفرادی کوشش سے کہیں زیادہ اجتماعی کوشش مؤثر ہوتی ہے،،، ہم علماء سنبھل سے مشاورت کے بعد ان شاء اللہ سرسوتی کے خلاف قانونی کارہ جوئ کرنے جا رہے ہیں،،،،

#توصیف رضا مصباحی سنبھلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891971558040030/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سید انشاءاللہ خان ( متوفی 1817 ء ) کا شمار اردو زبان کے مقتدر علما میں ہوتا ہے ، اِنھیں اردو کا امیرخسرو بھی کہا جاتا ہے ۔
انھوں نے اردو زبان میں ایک‌ایسی کتاب لکھی جس میں کوئی لفظ بھی عربی اور فارسی کا استعمال نہیں کیا ۔۔۔۔۔ سارے لفظوں کو اردو جامہ پہنایا ۔
ان کی ایک کتاب " دریاے لطافت " ، بھی ہے جس کا شمار اردو قواعد کی اولیں کتابوں میں ہوتا ہے ۔

اگرچہ انھیں عربی ، فارسی ، ترکی ، پنجابی ، فرانسیسی ، انگریزی وغیرہ زبانوں پر عبور تھا ، لیکن اردو سے الگ ہی محبت تھی ۔

ان کی شاعری دوسرے شعرا سے منفرد ہے ۔
انھوں نے ایسے ایسے شعر کہے ہیں جنھیں اختلافِ معنیٰ کے بغیر ۔۔۔۔۔۔۔۔ محض نقطوں کی تبدیلی سے عربی ، فارسی اور ہندی میں پڑھا جا سکتا ہے ۔
ان کے بعض شعر ایسے بھی ہیں جن کا ایک مصرع غیر منقوط اور دوسرے مصرعے کے تمام الفاظ منقوط ہیں ۔
اور اردو میں ایسی ایسی غزلیں کہی ہیں جن کی نظیر شاید کسی زبان میں بھی نہ مل سکے ۔

کل ان کی ایک غزل کا مطلع نظر سے گزرا تو بہت لطف آیا ، آپ بھی ملاحظہ کرلیجیے ؎

دلِ ستم زَدہ بےتابیوں نے لُوٹ لیا
ہمارے قبلہ کو وہابیوں نے لُوٹ لیا

( کہتے ہیں: ہمارا دل ، ہمارا قبلہ تھا ؛ ہم اسی کی رہنمائی میں چلتے تھے ۔
یہ پہلے پہل تو غموں اور پریشانیوں کے ستم کا شکار ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہی سہی کسر بے تابیوں نے نکال دی ، اور سارا ساز و سامان ( سکون و اطمینان ) لوٹ کر رفو چکر ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل اسی طرح
جیسے: وہابیوں نے جاے قبلہ مکہ شریف کو لوٹا تھا ۔ )

شعر کا اصل مزہ تو شعر کو ازخود سمجھ کر ہی آتا ہے ، شعر کا لفظی معنیٰ اورتشریح اس لطف کا نعم البدل نہیں ہوتے ۔
اسی شعر کو ہی لے لیجیے :
اس میں دیکھنے کو تو عام سے الفاظ نظر آئیں گے لیکن تخیل کی جس بلندی پر انھیں منظوم کیا گیا ہے اس تک وہی رسائی حاصل کرسکتا ہےجو سید انشاءاللہ خاں کے دورِ کس مپرسی سے واقف ہونے کےساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ وہابیوں کے مکہ مدینہ پر ڈھائے گئے مظالم سے بھی آگاہ ہو کہ:
کس طرح انھوں نے اُس وقت انگریزوں کی‌مدد سے مکہ شریف میں لوٹ مار کی جب عثمانی فوجیں کافروں کے خلاف مصروفِ جہاد تھیں ۔

رب تعالیٰ ﷻ ہمارے گناہ معاف فرمائے اور اپنے حبیب پاک ﷺ کے صدقے حرمین شریفین کو ہمیشہ کے لیے ظالموں سے نجات عطاکرے !

مفتی اعظم‌ ہند نوراللہ مرقدہ کہا کرتے تھے:

تِرے حبیب کا پیارا چمن کیا برباد
الٰہی! نکلے یہ نجدی بلا مَدینے سے

لگاؤ دل کو نہ دنیا میں ، ہر کسی شے سے
تعلق اپنا ہو کعبے سے ۔۔۔۔۔ یا مَدینے سے

✍️لقمان شاہد
3-4-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3126566030956898&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کسی پریشانی یا تکلیف میں مبتلا ہو جائیں تو گھبرایا نہ کریں ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے ۔

ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے رہا کریں ۔۔۔۔۔۔۔‌‌ یہ غم اور دکھ ایک دن ختم ہوجاتے ہیں ، لیکن ان کا اجر ہمیشہ کے لیے باقی رہتا ہے ۔ ؎

زباں پر شکوۂ رنج و الم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

حقیقت میں وہ لطفِ زندگی پایا نہیں کرتے
جو یادِ مصطفیٰ سے دل کو بہلایا نہیں کرتے

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3127269554219879&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب ہم لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات کی روشنی میں کسی مذہب کے پیشوا کو کبھی برا بھلا نہیں کہتے تو پھر بار بار ہمارے دین اسلام، قرآن اور نبی کی شان میں گستاخی کیوں کی جا رہی ہے یا کرائی جا رہی ہے؟ اس طرح کی منصوبہ بند بد تمیزی اور سازش کو سمجھ کر تمام مسلمانوں کو متحد ہو کر متفقہ طور پر کوئی موثر لائحہ عمل بنانے اور اسے روکنے کے لئے قانون کے دائرے میں پر امن عملی اقدام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

محمد اشرف الکوثر مصباحی

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/893319594578944/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
شب براءت میں روحوں کا اپنے گھر
شب جمعہ روحوں کا اپنے گھروں
مرنے کے بعد مومن و کافر کی روح
// // روحیں کہاں رہتی ہیں!
دنیا کافر کی جنت اور مسلمان کا
مسلمان کی راہ کھول دی جاتی ہے
// جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں
مسلمان کی روحیں آزاد اور کفار
حضرت مالک بن انس کا فرمان
شہیدوں کی روحیں جنت میں!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #شب_براءت شب برأت ⁷
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی