جھوٹا دوزخ میں کتے کی شکل
جھوٹ بولنے کا شرعی حکم ...
جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی
مومن میں دو خصلتیں جمع نہیں
منافق کی علامت جب بات کرے
// جب بات کرے تو جھوٹ بولے
دنیوی قانون جو خلاف شرع نہ
جھوٹ غیبت چغلی ہلاکت میں
سچی قسم سے بھی پرہیز کرو!
اپریل فول منانا کیسا ہے ؟ ڈغم
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#اپریل_فول #جھوٹ Jhoot
#First_April #April_Fool ❺
جھوٹ بولنے کا شرعی حکم ...
جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی
مومن میں دو خصلتیں جمع نہیں
منافق کی علامت جب بات کرے
// جب بات کرے تو جھوٹ بولے
دنیوی قانون جو خلاف شرع نہ
جھوٹ غیبت چغلی ہلاکت میں
سچی قسم سے بھی پرہیز کرو!
اپریل فول منانا کیسا ہے ؟ ڈغم
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#اپریل_فول #جھوٹ Jhoot
#First_April #April_Fool ❺
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مہنگے جلسوں کی تعداد کم کریں
مہنگے جلسوں میں یقینی طور پر پیشہ ور خطبا و مقررین کو مدعو کرنا ہو گا۔پیشہ ور مقررین کا نیچر سب کو معلوم ہے کہ وہ ایسی تقریریں کرتے ہیں کہ اس شہر میں بار بار بلکہ ہزار بار ان کو مدعو کیا جائے۔وہ مجمع کو خوش کرنے کو فوقیت دیتے ہیں۔فروغ دین وتبلیغ مذہب کو ثانوی درجہ میں رکھتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دین کی ترویج وتبلیغ کے جذبہ سےعاری ہوتے ہیں,نیز اکثر پیشہ ور مقررین ضخیم لفافہ کے متمنی ہوتے ہیں۔
صالح فکر عالم دین جو خطیبانہ وجاہت کے ساتھ قوم کی اصلاح کا جذبہ رکھتے ہوں,ان کو مدعو کیا جائے,نیز دعوت کے وقت ہی ہر خطیب کو موضوع خطابت سے مطلع کر دیا جائے۔
ایک رواج یہ بھی بن چکا ہے کہ چند مقررین ایک گروپ بنا لیتے ہیں اور ایک کو دعوت دی جائے تو وہ اپنے گروپ کو مدعو کرنے کے لئے زور ڈالتے ہیں۔اگر ایسا گروپ قوم کی اصلاح و رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کا عادی ہو تو ٹھیک ہے,ورنہ ایسے گروپ بازوں سے پرہیز کیا جائے۔
قوم کے درمیان صرف دو طبقہ نظر آتا ہے۔ائمہ مساجد اور خطبا و مقررین۔ان دونوں طبقہ کو تربیت یافتہ اور صالح فکر ہونا چاہئے۔
پیران کرام بھی مریدین کے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں۔یہ نفوس عالیہ بھی تبلیغ دین متین کی جانب متوجہ رہیں تو بہت اچھا ہو۔بعض پیران عظیم الشان تو محض یہ نعرہ مستانہ لگاتے پھرتے ہیں:
بھر دو جھولی میری یا مریدو!
کبھی ہم بھارت میں اسی فی صد تھے۔اب ہماری تعداد مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔اس کا ایک حد تک ذمہ دار وہ طبقہ ہے جو قوم کی رہنمائی کے لئے ان کے درمیان اقامت گزیں ہو,یا ان کے درمیان آمد ورفت رکھتا ہو۔
پیشہ ور مقررین کو پس پشت ڈالیں اور آس پاس کے ائمہ مساجد کو جلسوں میں مدعو کریں۔جلسہ کے اخراجات بھی کم ہوں گے اور ائمہ مساجد کے لئے بھی بھلائی کی راہ ہموار ہو گی۔
پیر ہو یا مقرر۔یہ حضرات چند لمحوں کے لئے کہیں جلوہ گر ہوتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔زمینی سطح پر ائمہ مساجد ہی کام کرتے ہیں۔ان کو حوصلہ دیا جائے۔ان کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے۔بوقت ضرورت ان کی اصلاح کی جائے۔بسا اوقات بعض ائمہ پوری قوم کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔بد مذہبوں سے میل جول اور ان سے روابط استوار کر لیتے ہیں اور قوم کو اعتدال کی دعوت دیتے پھرتے ہیں۔
آس پاس کے اسلامی مدارس کے اساتذہ کرام پر بھی نظر شفقت رکھی جائے۔ان کی کفالت کی بھی کوشش کی جائے۔ارباب مدارس بھی ان کی حالت زار پر ترس کھائیں۔ان کا مشاہرہ بھی درست رکھیں اور خوراک بھی۔
فارغین مدارس بھی معیشت کی جدید راہیں تلاش کریں۔جہاں جائیں,وہاں تبلیغ اسلام وسنت کرتے رہیں۔اس پر ثواب ملے گا۔اجرت لے کر تدریس وتعلیم پر ثواب کہاں؟
اکثر مدارس میں خورد ونوش کا حال ہے کہ:
آلو بیگن کھاؤ۔ملاحسن پڑھاؤ
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/890829628154223/
مہنگے جلسوں کی تعداد کم کریں
مہنگے جلسوں میں یقینی طور پر پیشہ ور خطبا و مقررین کو مدعو کرنا ہو گا۔پیشہ ور مقررین کا نیچر سب کو معلوم ہے کہ وہ ایسی تقریریں کرتے ہیں کہ اس شہر میں بار بار بلکہ ہزار بار ان کو مدعو کیا جائے۔وہ مجمع کو خوش کرنے کو فوقیت دیتے ہیں۔فروغ دین وتبلیغ مذہب کو ثانوی درجہ میں رکھتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دین کی ترویج وتبلیغ کے جذبہ سےعاری ہوتے ہیں,نیز اکثر پیشہ ور مقررین ضخیم لفافہ کے متمنی ہوتے ہیں۔
صالح فکر عالم دین جو خطیبانہ وجاہت کے ساتھ قوم کی اصلاح کا جذبہ رکھتے ہوں,ان کو مدعو کیا جائے,نیز دعوت کے وقت ہی ہر خطیب کو موضوع خطابت سے مطلع کر دیا جائے۔
ایک رواج یہ بھی بن چکا ہے کہ چند مقررین ایک گروپ بنا لیتے ہیں اور ایک کو دعوت دی جائے تو وہ اپنے گروپ کو مدعو کرنے کے لئے زور ڈالتے ہیں۔اگر ایسا گروپ قوم کی اصلاح و رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کا عادی ہو تو ٹھیک ہے,ورنہ ایسے گروپ بازوں سے پرہیز کیا جائے۔
قوم کے درمیان صرف دو طبقہ نظر آتا ہے۔ائمہ مساجد اور خطبا و مقررین۔ان دونوں طبقہ کو تربیت یافتہ اور صالح فکر ہونا چاہئے۔
پیران کرام بھی مریدین کے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں۔یہ نفوس عالیہ بھی تبلیغ دین متین کی جانب متوجہ رہیں تو بہت اچھا ہو۔بعض پیران عظیم الشان تو محض یہ نعرہ مستانہ لگاتے پھرتے ہیں:
بھر دو جھولی میری یا مریدو!
کبھی ہم بھارت میں اسی فی صد تھے۔اب ہماری تعداد مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔اس کا ایک حد تک ذمہ دار وہ طبقہ ہے جو قوم کی رہنمائی کے لئے ان کے درمیان اقامت گزیں ہو,یا ان کے درمیان آمد ورفت رکھتا ہو۔
پیشہ ور مقررین کو پس پشت ڈالیں اور آس پاس کے ائمہ مساجد کو جلسوں میں مدعو کریں۔جلسہ کے اخراجات بھی کم ہوں گے اور ائمہ مساجد کے لئے بھی بھلائی کی راہ ہموار ہو گی۔
پیر ہو یا مقرر۔یہ حضرات چند لمحوں کے لئے کہیں جلوہ گر ہوتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔زمینی سطح پر ائمہ مساجد ہی کام کرتے ہیں۔ان کو حوصلہ دیا جائے۔ان کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے۔بوقت ضرورت ان کی اصلاح کی جائے۔بسا اوقات بعض ائمہ پوری قوم کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔بد مذہبوں سے میل جول اور ان سے روابط استوار کر لیتے ہیں اور قوم کو اعتدال کی دعوت دیتے پھرتے ہیں۔
آس پاس کے اسلامی مدارس کے اساتذہ کرام پر بھی نظر شفقت رکھی جائے۔ان کی کفالت کی بھی کوشش کی جائے۔ارباب مدارس بھی ان کی حالت زار پر ترس کھائیں۔ان کا مشاہرہ بھی درست رکھیں اور خوراک بھی۔
فارغین مدارس بھی معیشت کی جدید راہیں تلاش کریں۔جہاں جائیں,وہاں تبلیغ اسلام وسنت کرتے رہیں۔اس پر ثواب ملے گا۔اجرت لے کر تدریس وتعلیم پر ثواب کہاں؟
اکثر مدارس میں خورد ونوش کا حال ہے کہ:
آلو بیگن کھاؤ۔ملاحسن پڑھاؤ
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/890829628154223/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
مہنگے جلسوں کی تعداد کم کریں!
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/890829628154223/
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/890829628154223/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"ڈھیٹ، چالاک، اور سیانے تحریر چور"
تحریر : نثار مصباحی
روشن مستقبل، دہلی۔
فیسبُک پر کوئی تحریر نشر کی جاتی ہے تو کچھ لوگ کمنٹ باکس میں تحریر کاپی کرنے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ یقینا یہ طلب ان کے احتیاط، حسنِ نیت اور جذبۂ امانت کا مظہر ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھی اتنے لوگ اجازت طلب کرتے ہیں کہ فردا فردا سب کو اجازت دینا وقت کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے ایسے تمام لوگوں کو اس پہلو پر ضرور توجہ دینا چاہیے کہ:
جو چیز فیسبک پر نشر کر دی جائے، پھر اسے نشر کرنے/کاپی کرنے کے لیے الگ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔ فیسبک پر نشر کرنے کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ ناظرین کو کاپی کرنے کی عام اجازت ہے۔
البتہ کاپی کرنے میں دو چیزوں کا خیال رکھنا شرعاً اور اخلاقاً بےحد ضروری ہوتا ہے:
1- تحریر مِن و عن کاپی کی جائے۔ کوئی تبدیلی ہرگز نہ کی جائے۔
(البتہ ضرورت دیکھ کر حاشیہ آرائی، یا بریکٹ میں تسہیل و توضیح کرسکتے ہیں، یہ تبدیلی نہیں ہے۔)
2- جس کی تحریر ہو صراحت کے ساتھ اسی کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس کا نام ضرور ذکر کیا جائے۔ اور اگر پہلے سے لکھا ہو تو باقی رکھا جائے۔
یہ گفتگو ضرورت سے زیادہ مثبت رویے پر ایک ضروری تنبیہ کے طور پر تھی۔ مگر ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ جہاں ایک طرف اس قدر مثبت اور محتاط فکر کے لوگ ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے بالکل الٹ "تحریر چور" بھی وافر مقدار میں گلی گلی گھوم رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ چور مسلسل لوگوں کی دیواروں(وال) پر نظریں دوڑاتے رہتے ہیں تاکہ "مال" کہاں ہے یہ جلد سے جلد انھیں پتہ چل جائے۔
یہ "تحریر چور" متعدد قسم کے ہوتے ہیں:
- کچھ "ڈھیٹ چور" تحریر کاپی کرتے ہیں اور محرر کا نام مٹا کر پوری شانِ بےحیائی کے ساتھ اپنا نام لکھ کر تحریر یہاں وہاں نشر کر دیتے ہیں۔ جس سے دنیا یہی سمجھتی ہے کہ یہ آں جناب کی تحریر ہے۔
- کچھ "چالاک چور" محرر کا نام حذف کرکے کہیں کسی گوشے میں چھوٹا سا "منقول" لکھ دیتے ہیں۔ اور پھر آگے بھیج دیتے ہیں۔ جس پر کسی کی توجہ ہوتی ہے اور کسی کی نہیں۔ (نوٹ: 'منقول' لکھنے کی کچھ دوسری وجوہات بھی ہوتی ہیں)
- کچھ "سیانے چور" صرف محرر کا نام حذف کرتے ہیں، 'منقول' بھی نہیں لکھتے تاکہ کوئی کچھ کہہ نہ سکے۔ اور پھر سوشل میڈیا کی وسیع و عریض دنیا میں یہاں وہاں نشر کردیتے ہیں جس سے ناظر کو یہ تبادر ہوتا ہے کہ یہ چور صاحب ہی کی تحریر ہے۔ (اور اگر اصل تحریر میں محرر کا نام نہیں لکھا ہوتا تو ان "سیانے چوروں" کا کام اور بھی آسان ہوجاتا ہے۔) اور پھر کبھی-کبھی کوئی بھولا-بھالا قاری و ناظر اتنا دیانت دار ہوتا ہے کہ وہ اسی بھیجنے والی کی تحریر سمجھ کر تحریر پر اسی سیانے کا نام درج کرکے آگے بھیج دیتا ہے۔ اس طرح نہ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری اور رنگ بھی کافی چوکھا آ جاتا ہے۔ بلفظِ دیگر اب وہ تحریر اسی "سیانے چور" کی ہو جاتی ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی۔!!!!😊
ان چوروں کا خاتمہ یا ان کی عادتِ بد چھڑانا تو ہمارے اختیار میں نہیں۔ مگر ہم ایسے تمام لوگوں سے کہیں گے کہ دوسروں کی تحریروں کے دم پر تم نے جو بھرم بنایا ہے یہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا۔ اس لیے بھرم ٹوٹنے سے پہلے خود ہی سدھر جاؤ ورنہ جس دن تمھارے قارئین کو پتہ چلا کہ تم ایک "چور" ہو تو تمھارا خیالی شیش محل چکناچور ہو جائے گا، اور بھری مجلس میں تمھارا رنگِ شرافت اتر جائے گا۔ جھوٹ کا لباس کوئی لباس نہیں ہوتا جس سے تم اپنی ستر پوشی کی کوشش کرتے ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
المُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ. (صحيح البخاري، حديث 5219)
"جو نہیں ملا ہے اس سے آسودگی اختیار کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔" !!!
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ "شرح صحیح مسلم" میں اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:
قال أبو عبيد وآخرون : هو الذي يلبس ثياب أهل الزهد والعبادة والورع ومقصوده أن يظهر الناس أنه متصف بتلك الصفة ويظهر من التخشع والزهد أكثر مما في قلبه فهذه ثياب زور ورياء۔
وقيل : *هو كمن لبس ثوبين لغيره وأوهم أنهما لہ*-
"امام ابوعبید (٢٢٤ھ) اور دیگر حضرات کہتے ہیں: یہ وہ شخص ہے جو زاہدوں، عابدوں اور متقیوں کے (جیسے) کپڑے پہنتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی صفت سے متصف ہے۔ اور یہ شخص جتنا اس کے دل میں ہے اس سے زیادہ زہد و ورع اور بتکلف خشوع ظاہر کرتا ہے۔ یہی جھوٹ اور ریا کے کپڑے ہیں۔
اور (اس حدیث کی تشریح میں) ایک قول یہ ہے کہ: یہ اس شخص کی طرح ہے جو دوسرے کے دو کپڑے پہنے اور یہ دکھائے کہ یہ اس کے اپنے ہیں۔"
تحریر : نثار مصباحی
روشن مستقبل، دہلی۔
فیسبُک پر کوئی تحریر نشر کی جاتی ہے تو کچھ لوگ کمنٹ باکس میں تحریر کاپی کرنے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ یقینا یہ طلب ان کے احتیاط، حسنِ نیت اور جذبۂ امانت کا مظہر ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھی اتنے لوگ اجازت طلب کرتے ہیں کہ فردا فردا سب کو اجازت دینا وقت کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے ایسے تمام لوگوں کو اس پہلو پر ضرور توجہ دینا چاہیے کہ:
جو چیز فیسبک پر نشر کر دی جائے، پھر اسے نشر کرنے/کاپی کرنے کے لیے الگ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔ فیسبک پر نشر کرنے کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ ناظرین کو کاپی کرنے کی عام اجازت ہے۔
البتہ کاپی کرنے میں دو چیزوں کا خیال رکھنا شرعاً اور اخلاقاً بےحد ضروری ہوتا ہے:
1- تحریر مِن و عن کاپی کی جائے۔ کوئی تبدیلی ہرگز نہ کی جائے۔
(البتہ ضرورت دیکھ کر حاشیہ آرائی، یا بریکٹ میں تسہیل و توضیح کرسکتے ہیں، یہ تبدیلی نہیں ہے۔)
2- جس کی تحریر ہو صراحت کے ساتھ اسی کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس کا نام ضرور ذکر کیا جائے۔ اور اگر پہلے سے لکھا ہو تو باقی رکھا جائے۔
یہ گفتگو ضرورت سے زیادہ مثبت رویے پر ایک ضروری تنبیہ کے طور پر تھی۔ مگر ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ جہاں ایک طرف اس قدر مثبت اور محتاط فکر کے لوگ ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے بالکل الٹ "تحریر چور" بھی وافر مقدار میں گلی گلی گھوم رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ چور مسلسل لوگوں کی دیواروں(وال) پر نظریں دوڑاتے رہتے ہیں تاکہ "مال" کہاں ہے یہ جلد سے جلد انھیں پتہ چل جائے۔
یہ "تحریر چور" متعدد قسم کے ہوتے ہیں:
- کچھ "ڈھیٹ چور" تحریر کاپی کرتے ہیں اور محرر کا نام مٹا کر پوری شانِ بےحیائی کے ساتھ اپنا نام لکھ کر تحریر یہاں وہاں نشر کر دیتے ہیں۔ جس سے دنیا یہی سمجھتی ہے کہ یہ آں جناب کی تحریر ہے۔
- کچھ "چالاک چور" محرر کا نام حذف کرکے کہیں کسی گوشے میں چھوٹا سا "منقول" لکھ دیتے ہیں۔ اور پھر آگے بھیج دیتے ہیں۔ جس پر کسی کی توجہ ہوتی ہے اور کسی کی نہیں۔ (نوٹ: 'منقول' لکھنے کی کچھ دوسری وجوہات بھی ہوتی ہیں)
- کچھ "سیانے چور" صرف محرر کا نام حذف کرتے ہیں، 'منقول' بھی نہیں لکھتے تاکہ کوئی کچھ کہہ نہ سکے۔ اور پھر سوشل میڈیا کی وسیع و عریض دنیا میں یہاں وہاں نشر کردیتے ہیں جس سے ناظر کو یہ تبادر ہوتا ہے کہ یہ چور صاحب ہی کی تحریر ہے۔ (اور اگر اصل تحریر میں محرر کا نام نہیں لکھا ہوتا تو ان "سیانے چوروں" کا کام اور بھی آسان ہوجاتا ہے۔) اور پھر کبھی-کبھی کوئی بھولا-بھالا قاری و ناظر اتنا دیانت دار ہوتا ہے کہ وہ اسی بھیجنے والی کی تحریر سمجھ کر تحریر پر اسی سیانے کا نام درج کرکے آگے بھیج دیتا ہے۔ اس طرح نہ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری اور رنگ بھی کافی چوکھا آ جاتا ہے۔ بلفظِ دیگر اب وہ تحریر اسی "سیانے چور" کی ہو جاتی ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی۔!!!!😊
ان چوروں کا خاتمہ یا ان کی عادتِ بد چھڑانا تو ہمارے اختیار میں نہیں۔ مگر ہم ایسے تمام لوگوں سے کہیں گے کہ دوسروں کی تحریروں کے دم پر تم نے جو بھرم بنایا ہے یہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا۔ اس لیے بھرم ٹوٹنے سے پہلے خود ہی سدھر جاؤ ورنہ جس دن تمھارے قارئین کو پتہ چلا کہ تم ایک "چور" ہو تو تمھارا خیالی شیش محل چکناچور ہو جائے گا، اور بھری مجلس میں تمھارا رنگِ شرافت اتر جائے گا۔ جھوٹ کا لباس کوئی لباس نہیں ہوتا جس سے تم اپنی ستر پوشی کی کوشش کرتے ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
المُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ. (صحيح البخاري، حديث 5219)
"جو نہیں ملا ہے اس سے آسودگی اختیار کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔" !!!
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ "شرح صحیح مسلم" میں اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:
قال أبو عبيد وآخرون : هو الذي يلبس ثياب أهل الزهد والعبادة والورع ومقصوده أن يظهر الناس أنه متصف بتلك الصفة ويظهر من التخشع والزهد أكثر مما في قلبه فهذه ثياب زور ورياء۔
وقيل : *هو كمن لبس ثوبين لغيره وأوهم أنهما لہ*-
"امام ابوعبید (٢٢٤ھ) اور دیگر حضرات کہتے ہیں: یہ وہ شخص ہے جو زاہدوں، عابدوں اور متقیوں کے (جیسے) کپڑے پہنتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی صفت سے متصف ہے۔ اور یہ شخص جتنا اس کے دل میں ہے اس سے زیادہ زہد و ورع اور بتکلف خشوع ظاہر کرتا ہے۔ یہی جھوٹ اور ریا کے کپڑے ہیں۔
اور (اس حدیث کی تشریح میں) ایک قول یہ ہے کہ: یہ اس شخص کی طرح ہے جو دوسرے کے دو کپڑے پہنے اور یہ دکھائے کہ یہ اس کے اپنے ہیں۔"
"تحریر چور" اس سے بھی بدتر ہیں۔ ہو سکتا ہے بلکہ عموماً ہوتا یہ ہے کہ دوسرے کے کپڑے پہننے والا آدمی، وہ کپڑے مانگ کر پہنتا ہے، اور اس کی خطا صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے اپنا باور کروا رہا ہوتا ہے۔ مگر "تحریر چور" تو مانگتا بھی نہیں ہے۔ وہ چوری کرتا ہے اور اوپر سے دنیا کو یہ دکھاتا ہے کہ یہ میری محنت کی کمائی ہے !!!! یہ دوہرا جرم ہے۔
اللہ عزوجل ہدایت اور توفیق سے نوازے۔
#نثارمصباحی
2 اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891375804766272/
اللہ عزوجل ہدایت اور توفیق سے نوازے۔
#نثارمصباحی
2 اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891375804766272/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
ڈھیٹ چالاک اور سیانے
تحریر چور | تحریر چور
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891375804766272/
تحریر چور | تحریر چور
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891375804766272/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام اہل سنت حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
جب ہم کسی محفل میں حضرت علی ، آپ کی اولاد ، اور سیدہ فاطمہ پاک کا ذکر کرتے ہیں تو کہاجاتاہے:
اے قوم ، یہ رافضیوں والی باتیں چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔ !
میں حفاظت فرمانے والے ( رب ﷻ ) کی طرف سے ایسے لوگوں سے اظہارِ برات کرتاہوں جو اولادِ فاطمہ کی محبت کو رفض کہتے ہیں ۔
( دیوان الامام الشافعی ، قافیۃ الیاء ، حب علی وسبطیہ وفاطمۃ ، ص 183 ، دارالغدالجدید القاھرہ ، 1429ھ )
✍ لقمان شاہد
1/4/2018 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3125183411095160&id=100008105947430
جب ہم کسی محفل میں حضرت علی ، آپ کی اولاد ، اور سیدہ فاطمہ پاک کا ذکر کرتے ہیں تو کہاجاتاہے:
اے قوم ، یہ رافضیوں والی باتیں چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔ !
میں حفاظت فرمانے والے ( رب ﷻ ) کی طرف سے ایسے لوگوں سے اظہارِ برات کرتاہوں جو اولادِ فاطمہ کی محبت کو رفض کہتے ہیں ۔
( دیوان الامام الشافعی ، قافیۃ الیاء ، حب علی وسبطیہ وفاطمۃ ، ص 183 ، دارالغدالجدید القاھرہ ، 1429ھ )
✍ لقمان شاہد
1/4/2018 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3125183411095160&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Yeh Program Face Book
प्रोग्राम इस 👇 फेसबुक पेज
https://www.facebook.com/Idaraequran/
और And
इस 👇 यूट्यूब चैनल पर लाइव होगा।
YouTube Channel Par Live
https://youtube.com/channel/UCgC2WjLdAIyGi44GEOjYM9g
IQ का ट्वीटर लिंक Tweeter
https://twitter.com/Idaraequran?s=09
इस प्रोग्राम, या इससे मिलते-जुलते मौजूआत के प्रति सवाल करने के लिए इस व्हाट्सएप नंबर पर अपने सवालात भेज सकते हैं:
+918562085666
آیات جہاد سے متعلق سوال
کرنے کے لئے واٹس ایپ نمبر ↑
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891353511435168/
प्रोग्राम इस 👇 फेसबुक पेज
https://www.facebook.com/Idaraequran/
और And
इस 👇 यूट्यूब चैनल पर लाइव होगा।
YouTube Channel Par Live
https://youtube.com/channel/UCgC2WjLdAIyGi44GEOjYM9g
IQ का ट्वीटर लिंक Tweeter
https://twitter.com/Idaraequran?s=09
इस प्रोग्राम, या इससे मिलते-जुलते मौजूआत के प्रति सवाल करने के लिए इस व्हाट्सएप नंबर पर अपने सवालात भेज सकते हैं:
+918562085666
آیات جہاد سے متعلق سوال
کرنے کے لئے واٹس ایپ نمبر ↑
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891353511435168/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوچو ! تم کہاں جا رہے ہو؟
تحریر : نثار مصباحی
رکن: روشن مستقبل، دہلی۔
اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک مستقل تہذیبی اور دینی تشخص عطا کرتا ہے۔ ایک ایسا تشخص جو انھیں دنیا کی تمام قوموں سے الگ اور ممتاز بناتا ہے۔ ذخیرۂ احادیث میں "خالفوا المشرکین"، "خالفوا الیہود"، اور "خالفوا المجوس" وغیرہ احکام اسی اسلامی تشخص و امتیاز کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے ہی وارد ہیں۔
قرآن کریم نے مسلمانوں کے دین و ایمان کو اللہ کا رنگ(صبغۃ اللہ) قرار دیا اور کہا:
صِبۡغَةَ ٱللَّهِ وَمَنۡ أَحۡسَنُ مِنَ ٱللَّهِ صِبۡغَةࣰۖ وَنَحۡنُ لَهُۥ عَـٰبِدُون [سورة البقرة : 138]
ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں.
قرآن کریم بتا رہا ہے کہ مسلمانوں پر اللہ کا رنگ چڑھ چکا ہے، اور اللہ کے رنگ سے اچھا کسی کا رنگ نہیں، مگر افسوس کہ آج درگاہوں اور خانقاہوں سے وابستہ کچھ لوگ مشرکین کے تہواروں میں سر سے پیر تک مشرکین کے رنگ میں رنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ !!!
((طُرفہ یہ کہ علماے اسلام و سنت جب ان کی خرافات سے انھیں روکتے ہیں تو علما کی اطاعت کی بجائے یہ لوگ علما کے ہی دشمن بن جاتے ہیں۔ آج بہت سی درگاہوں پر قابض ظاہری اور باطنی روافض و مجاورین، علماے اہلِ سنت کی ایک نہیں سنتے۔ یہ لوگ نہ "صوفی" ہیں، نہ "بریلوی"، مگر ان کی حرکتوں سے بدنامی تصوف اور بریلویوں(سُنّیوں) کی ہوتی ہے۔))
مشرکانہ رسوم اور مشرکین کے تہواروں میں ان لوگوں کی شرکت "تصوف"، "رواداری"، "بھائی چارہ" اور نہ جانے کیسے کیسے دل فریب ناموں پر ہوتی ہے۔ مگر ہر مسلمان جانتا ہے کہ "رواداری" اور "بھائی چارے" کے نام پر مسلمانوں میں شرکیہ رسوم اور مشرکین کے تہواروں کو رواج و قبولیت دینے کی کوئی کوشش اہلِ اسلام کے لیے کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔
عقیدۂ توحید اسلام کی اساس ہے۔ اس کے منافی اعمال کسی صورت میں روا نہیں ہو سکتے۔ بالفرض کسی شرکیہ قول و فعل کا ارتکاب نہ بھی ہو تو مشرکین کی ان کے شعار اور مخصوص مذہبی تہوار میں عملی موافقت کیا کوئی معمولی بات ہے ؟
- فارقِ حق و باطل، خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروق -رضی اللہ عنہ- عجمیوں اور مشرکوں کے پہناوے سے بھی پرہیز کا حکم دیتے تھے۔ !!! صحیح مسلم شریف میں ان کا یہ حکمنامہ موجود ہے :
*"إياكم والتنعم وزي أهل الشرك ولبوس الحرير"*
لذت اندوزی، *مشرکین کے پہناوے* اور ریشمی لباس سے پرہیز کرو۔
(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، حدیث نمبر 2069)
*"إياكم وزي الأعاجم"*
عجمیوں کے پہناوے سے پرہیز کرو۔
(كتاب الزهد، للإمام أحمد)
ایک طرف اس طرح کے واضح ارشادات ہیں جو مسلمانوں کو ایمانی رنگ میں رہنے کی تلقین کرتے ہیں، مگر دوسری طرف کچھ درگاہی مجاور ہیں جو مشرکین کے رنگ میں اس قدر رنگ جاتے ہیں کہ دیکھنے سے پتہ بھی نہیں چلتا کہ یہ کوئی مشرک ہیں یا توحید پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ !!!
- فرعون اور فرعونیوں سے نجات کی خوشی میں یہودی عاشورا (دسویں محرم) کے دن تہوار مناتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا تو "نحن أحق بموسی منکم" کہہ کر مسلمانوں کے لیے اس دن (عاشورا) کا ایک الگ تشخص قائم فرمایا۔ نہ یہودیوں کو ان کے تہوار کی مبارک باد دی اور نہ ہی ان کے تہوار میں شرکت روا رکھی، بلکہ مسلمانوں کے لیے روزہ مشروع فرمایا اور ایک دن(دسویں تاریخ) کا روزہ رکھنے میں بظاہر جو یہود کی موافقت تھی اسے بھی آخری سال میں تبدیل فرما دیا، اور یہود کی مخالفت کا صریح حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
*"صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ, وَخَالِفُوا الْيَهُودَ، صُومُوا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ يَوْمًا بَعْدَهُ"*.
"عاشورا کے دن روزہ رکھو، اور یہود کی مخالفت کرو۔ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد (بھی) روزہ رکھو۔"
(مسند امام احمد، حدیث نمبر 2155، صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر 2095)
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ مگر افسوس! آج رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کا یہ حال ہو چکا ہے کہ "تصوف"، "رواداری"، "بھائی چارہ" اور نہ جانے کیسے کیسے دل فریب نعروں کے ساتھ نہ صرف مبارک بادیں دی جا رہی ہیں، بلکہ اُن درگاہوں اور مزاروں میں ہولی، دیوالی، بسنت وغیرہ مشرکین کے تہوار منائے جا رہے ہیں جن درگاہوں اور مزاروں میں آرام فرما بزرگوں نے مشرکستانِ ہند میں توحیدِ الہی کا چراغ روشن فرمایا تھا۔ !!
ہماری قوم میں پائے جانے والے کچھ لوگوں کے اس تنزل اور نظریاتی و تہذیبی شکت و ریخت کی وجہ چاہے جو ہو مگر یہ اسلامی غیرت اور دینی وجود کے بالکل منافی ہے۔ اگر یہ سلسلہ باقی رہا یا آگے بڑھا تو یہ کافی نقصان دہ ہوگا۔ اس بھنور سے لوگوں کو نکالنا اور اکثریتی طبقے کے سامنے نظریاتی و فکری شکست بلکہ غلامی سے قوم کو بچانا بےحد ضروری ہے۔
تحریر : نثار مصباحی
رکن: روشن مستقبل، دہلی۔
اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک مستقل تہذیبی اور دینی تشخص عطا کرتا ہے۔ ایک ایسا تشخص جو انھیں دنیا کی تمام قوموں سے الگ اور ممتاز بناتا ہے۔ ذخیرۂ احادیث میں "خالفوا المشرکین"، "خالفوا الیہود"، اور "خالفوا المجوس" وغیرہ احکام اسی اسلامی تشخص و امتیاز کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے ہی وارد ہیں۔
قرآن کریم نے مسلمانوں کے دین و ایمان کو اللہ کا رنگ(صبغۃ اللہ) قرار دیا اور کہا:
صِبۡغَةَ ٱللَّهِ وَمَنۡ أَحۡسَنُ مِنَ ٱللَّهِ صِبۡغَةࣰۖ وَنَحۡنُ لَهُۥ عَـٰبِدُون [سورة البقرة : 138]
ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں.
قرآن کریم بتا رہا ہے کہ مسلمانوں پر اللہ کا رنگ چڑھ چکا ہے، اور اللہ کے رنگ سے اچھا کسی کا رنگ نہیں، مگر افسوس کہ آج درگاہوں اور خانقاہوں سے وابستہ کچھ لوگ مشرکین کے تہواروں میں سر سے پیر تک مشرکین کے رنگ میں رنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ !!!
((طُرفہ یہ کہ علماے اسلام و سنت جب ان کی خرافات سے انھیں روکتے ہیں تو علما کی اطاعت کی بجائے یہ لوگ علما کے ہی دشمن بن جاتے ہیں۔ آج بہت سی درگاہوں پر قابض ظاہری اور باطنی روافض و مجاورین، علماے اہلِ سنت کی ایک نہیں سنتے۔ یہ لوگ نہ "صوفی" ہیں، نہ "بریلوی"، مگر ان کی حرکتوں سے بدنامی تصوف اور بریلویوں(سُنّیوں) کی ہوتی ہے۔))
مشرکانہ رسوم اور مشرکین کے تہواروں میں ان لوگوں کی شرکت "تصوف"، "رواداری"، "بھائی چارہ" اور نہ جانے کیسے کیسے دل فریب ناموں پر ہوتی ہے۔ مگر ہر مسلمان جانتا ہے کہ "رواداری" اور "بھائی چارے" کے نام پر مسلمانوں میں شرکیہ رسوم اور مشرکین کے تہواروں کو رواج و قبولیت دینے کی کوئی کوشش اہلِ اسلام کے لیے کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔
عقیدۂ توحید اسلام کی اساس ہے۔ اس کے منافی اعمال کسی صورت میں روا نہیں ہو سکتے۔ بالفرض کسی شرکیہ قول و فعل کا ارتکاب نہ بھی ہو تو مشرکین کی ان کے شعار اور مخصوص مذہبی تہوار میں عملی موافقت کیا کوئی معمولی بات ہے ؟
- فارقِ حق و باطل، خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروق -رضی اللہ عنہ- عجمیوں اور مشرکوں کے پہناوے سے بھی پرہیز کا حکم دیتے تھے۔ !!! صحیح مسلم شریف میں ان کا یہ حکمنامہ موجود ہے :
*"إياكم والتنعم وزي أهل الشرك ولبوس الحرير"*
لذت اندوزی، *مشرکین کے پہناوے* اور ریشمی لباس سے پرہیز کرو۔
(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، حدیث نمبر 2069)
*"إياكم وزي الأعاجم"*
عجمیوں کے پہناوے سے پرہیز کرو۔
(كتاب الزهد، للإمام أحمد)
ایک طرف اس طرح کے واضح ارشادات ہیں جو مسلمانوں کو ایمانی رنگ میں رہنے کی تلقین کرتے ہیں، مگر دوسری طرف کچھ درگاہی مجاور ہیں جو مشرکین کے رنگ میں اس قدر رنگ جاتے ہیں کہ دیکھنے سے پتہ بھی نہیں چلتا کہ یہ کوئی مشرک ہیں یا توحید پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ !!!
- فرعون اور فرعونیوں سے نجات کی خوشی میں یہودی عاشورا (دسویں محرم) کے دن تہوار مناتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا تو "نحن أحق بموسی منکم" کہہ کر مسلمانوں کے لیے اس دن (عاشورا) کا ایک الگ تشخص قائم فرمایا۔ نہ یہودیوں کو ان کے تہوار کی مبارک باد دی اور نہ ہی ان کے تہوار میں شرکت روا رکھی، بلکہ مسلمانوں کے لیے روزہ مشروع فرمایا اور ایک دن(دسویں تاریخ) کا روزہ رکھنے میں بظاہر جو یہود کی موافقت تھی اسے بھی آخری سال میں تبدیل فرما دیا، اور یہود کی مخالفت کا صریح حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
*"صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ, وَخَالِفُوا الْيَهُودَ، صُومُوا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ يَوْمًا بَعْدَهُ"*.
"عاشورا کے دن روزہ رکھو، اور یہود کی مخالفت کرو۔ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد (بھی) روزہ رکھو۔"
(مسند امام احمد، حدیث نمبر 2155، صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر 2095)
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ مگر افسوس! آج رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کا یہ حال ہو چکا ہے کہ "تصوف"، "رواداری"، "بھائی چارہ" اور نہ جانے کیسے کیسے دل فریب نعروں کے ساتھ نہ صرف مبارک بادیں دی جا رہی ہیں، بلکہ اُن درگاہوں اور مزاروں میں ہولی، دیوالی، بسنت وغیرہ مشرکین کے تہوار منائے جا رہے ہیں جن درگاہوں اور مزاروں میں آرام فرما بزرگوں نے مشرکستانِ ہند میں توحیدِ الہی کا چراغ روشن فرمایا تھا۔ !!
ہماری قوم میں پائے جانے والے کچھ لوگوں کے اس تنزل اور نظریاتی و تہذیبی شکت و ریخت کی وجہ چاہے جو ہو مگر یہ اسلامی غیرت اور دینی وجود کے بالکل منافی ہے۔ اگر یہ سلسلہ باقی رہا یا آگے بڑھا تو یہ کافی نقصان دہ ہوگا۔ اس بھنور سے لوگوں کو نکالنا اور اکثریتی طبقے کے سامنے نظریاتی و فکری شکست بلکہ غلامی سے قوم کو بچانا بےحد ضروری ہے۔
👍1
علما تو ایک عرصے سے اصلاح کے لیے کوشاں ہیں مگر یہ چیزیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ کیوں کہ ایسی خرافات کرنے والوں کے نزدیک نہ علما کی اہمیت ہے اور نہ ان کی باتوں کی کوئی قدر۔ اور نہ ہی یہ جگہیں طبقۂ علما کے کنٹرول اور تصرف میں ہیں۔ ایسے میں مسلمان، اس ملک کی بڑی اور معروف خانقاہوں/درگاہوں مثلا مارہرہ مطہرہ، بریلی شریف، کچھوچھہ مقدسہ، اور خاص طور سے چشتی سلسلے کی تمام بڑی خانقاہوں سے امید لگائے ہوئے ہے کہ وہ چشتی سلسلے کی چند درگاہوں کے احاطے میں ہونے والے ان اعمال کے خلاف کھل کر سامنے آئیں، اور "تغییرِ منکَر" کے ساتھ اسلامی تشخص کی حفاظت کا اپنا شرعی فرض ادا کریں۔ تاکہ ہمارے لوگ جو ایسے کاموں میں ملوث ہو کر ذلتِ دنیا اور ہلاکتِ عقبیٰ خرید رہے ہیں وہ بچ بھی جائیں اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں مزاروں اور سنیوں کی ہونے والی بدنامی بھی رک جائے۔
علما کی بات تو یہ کہہ کر ٹال دی جاتی ہے کہ علما اور صوفیہ میں بنتی نہیں ہے۔ لیکن خانقاہیں اور درگاہیں تو "صوفیہ" کی ہیں؟ اگر درگاہوں میں اس طرح کے تہوار منائے جا رہے ہیں تو اس سے پوری صوفی برادری بدنام ہو رہی ہے۔ بعض اہل حدیث، وہابی، دیوبندی لوگوں کو دیکھا گیا کہ انہی سب چیزوں کو بنیاد بناکر عام لوگوں کو سنیوں کے خلاف ورغلا رہے ہیں، اور اہلِ سنت کے مذہبِ مہذب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ حال آں کہ یہ مٹھی بھر لوگ خلیجی ممالک میں شرک کے اڈے اور مندر قائم کیے جانے پر بالکل چپی سادھے ہوئے ہیں اور ارضِ توحید جزیرۃ العرب میں شرک اور مشرکین کی بڑھتی تعداد دیکھ کر بھی ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ان کا یہ دوہرا رویّہ عجیب و غریب ہے۔
خیر، بعض درگاہوں میں درآئی اس خرابی کے ازالے کے لیے بنیادی ذمے داری خانقاہوں کی ہی ہے کہ وہ اس عمل کے خلاف کھل کر سامنے آئیں، اور اصلاحِ احوال کریں۔ جب اسلام کی صورت ہی مسخ کی جارہی ہو تو خانقاہوں کی خاموشی کسی طور پر درست نہیں ہے۔
ہم درگاہوں کے احاطوں میں مشرکین کے تہوار منانے والے مجاوروں سے بھی کہیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کے جو ارشادات اور طریقے ہم نے ذکر کیے ہیں کیا وہ تمھارے لیے کافی نہیں؟ غضبِ الہی کو دعوت مت دو۔ توحید کے مدعی ہو تو شاہراہِ اہلِ توحید پر چلو۔ اہلِ شرک کے ساتھ ان کے شرکیہ امور اور مذہبی تہواروں میں شرکت و موافقت تمھیں دنیا میں بھی رسوا کرے گی اور آخرت میں تو تباہی ہی تباہی ہے۔
کیا "لا اِلہ اِلا اللہ" کا ذرہ برابر بھی تمھیں پاس و لحاظ نہیں؟
سوچو ! تم کہاں جا رہے ہو۔ !!!!
#نثارمصباحی
3 اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891688561401663/
علما کی بات تو یہ کہہ کر ٹال دی جاتی ہے کہ علما اور صوفیہ میں بنتی نہیں ہے۔ لیکن خانقاہیں اور درگاہیں تو "صوفیہ" کی ہیں؟ اگر درگاہوں میں اس طرح کے تہوار منائے جا رہے ہیں تو اس سے پوری صوفی برادری بدنام ہو رہی ہے۔ بعض اہل حدیث، وہابی، دیوبندی لوگوں کو دیکھا گیا کہ انہی سب چیزوں کو بنیاد بناکر عام لوگوں کو سنیوں کے خلاف ورغلا رہے ہیں، اور اہلِ سنت کے مذہبِ مہذب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ حال آں کہ یہ مٹھی بھر لوگ خلیجی ممالک میں شرک کے اڈے اور مندر قائم کیے جانے پر بالکل چپی سادھے ہوئے ہیں اور ارضِ توحید جزیرۃ العرب میں شرک اور مشرکین کی بڑھتی تعداد دیکھ کر بھی ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ان کا یہ دوہرا رویّہ عجیب و غریب ہے۔
خیر، بعض درگاہوں میں درآئی اس خرابی کے ازالے کے لیے بنیادی ذمے داری خانقاہوں کی ہی ہے کہ وہ اس عمل کے خلاف کھل کر سامنے آئیں، اور اصلاحِ احوال کریں۔ جب اسلام کی صورت ہی مسخ کی جارہی ہو تو خانقاہوں کی خاموشی کسی طور پر درست نہیں ہے۔
ہم درگاہوں کے احاطوں میں مشرکین کے تہوار منانے والے مجاوروں سے بھی کہیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کے جو ارشادات اور طریقے ہم نے ذکر کیے ہیں کیا وہ تمھارے لیے کافی نہیں؟ غضبِ الہی کو دعوت مت دو۔ توحید کے مدعی ہو تو شاہراہِ اہلِ توحید پر چلو۔ اہلِ شرک کے ساتھ ان کے شرکیہ امور اور مذہبی تہواروں میں شرکت و موافقت تمھیں دنیا میں بھی رسوا کرے گی اور آخرت میں تو تباہی ہی تباہی ہے۔
کیا "لا اِلہ اِلا اللہ" کا ذرہ برابر بھی تمھیں پاس و لحاظ نہیں؟
سوچو ! تم کہاں جا رہے ہو۔ !!!!
#نثارمصباحی
3 اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/891688561401663/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM