جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے!
جهوٹ منافقین کی علامت ہے!
جھوٹ سے منھ کالا ہوتا ہے!
سچائی میں سکون قلب ہے!
سچائی میں دل کا سکون اور
جھوٹ سے دل پر سیاہ نکتہ
جھوٹ منافقت کا دروازہ ہے
سچی قسم کھانے سے پرہیز کرو!
جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ
پیغمبر جھوٹ ... سے پاک ہیں!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#اپریل_فول #جھوٹ Jhoot
#First_April #April_Fool ❹
جهوٹ منافقین کی علامت ہے!
جھوٹ سے منھ کالا ہوتا ہے!
سچائی میں سکون قلب ہے!
سچائی میں دل کا سکون اور
جھوٹ سے دل پر سیاہ نکتہ
جھوٹ منافقت کا دروازہ ہے
سچی قسم کھانے سے پرہیز کرو!
جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ
پیغمبر جھوٹ ... سے پاک ہیں!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#اپریل_فول #جھوٹ Jhoot
#First_April #April_Fool ❹
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جھوٹا دوزخ میں کتے کی شکل
جھوٹ بولنے کا شرعی حکم ...
جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی
مومن میں دو خصلتیں جمع نہیں
منافق کی علامت جب بات کرے
// جب بات کرے تو جھوٹ بولے
دنیوی قانون جو خلاف شرع نہ
جھوٹ غیبت چغلی ہلاکت میں
سچی قسم سے بھی پرہیز کرو!
اپریل فول منانا کیسا ہے ؟ ڈغم
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#اپریل_فول #جھوٹ Jhoot
#First_April #April_Fool ❺
جھوٹ بولنے کا شرعی حکم ...
جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی
مومن میں دو خصلتیں جمع نہیں
منافق کی علامت جب بات کرے
// جب بات کرے تو جھوٹ بولے
دنیوی قانون جو خلاف شرع نہ
جھوٹ غیبت چغلی ہلاکت میں
سچی قسم سے بھی پرہیز کرو!
اپریل فول منانا کیسا ہے ؟ ڈغم
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#اپریل_فول #جھوٹ Jhoot
#First_April #April_Fool ❺
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مہنگے جلسوں کی تعداد کم کریں
مہنگے جلسوں میں یقینی طور پر پیشہ ور خطبا و مقررین کو مدعو کرنا ہو گا۔پیشہ ور مقررین کا نیچر سب کو معلوم ہے کہ وہ ایسی تقریریں کرتے ہیں کہ اس شہر میں بار بار بلکہ ہزار بار ان کو مدعو کیا جائے۔وہ مجمع کو خوش کرنے کو فوقیت دیتے ہیں۔فروغ دین وتبلیغ مذہب کو ثانوی درجہ میں رکھتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دین کی ترویج وتبلیغ کے جذبہ سےعاری ہوتے ہیں,نیز اکثر پیشہ ور مقررین ضخیم لفافہ کے متمنی ہوتے ہیں۔
صالح فکر عالم دین جو خطیبانہ وجاہت کے ساتھ قوم کی اصلاح کا جذبہ رکھتے ہوں,ان کو مدعو کیا جائے,نیز دعوت کے وقت ہی ہر خطیب کو موضوع خطابت سے مطلع کر دیا جائے۔
ایک رواج یہ بھی بن چکا ہے کہ چند مقررین ایک گروپ بنا لیتے ہیں اور ایک کو دعوت دی جائے تو وہ اپنے گروپ کو مدعو کرنے کے لئے زور ڈالتے ہیں۔اگر ایسا گروپ قوم کی اصلاح و رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کا عادی ہو تو ٹھیک ہے,ورنہ ایسے گروپ بازوں سے پرہیز کیا جائے۔
قوم کے درمیان صرف دو طبقہ نظر آتا ہے۔ائمہ مساجد اور خطبا و مقررین۔ان دونوں طبقہ کو تربیت یافتہ اور صالح فکر ہونا چاہئے۔
پیران کرام بھی مریدین کے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں۔یہ نفوس عالیہ بھی تبلیغ دین متین کی جانب متوجہ رہیں تو بہت اچھا ہو۔بعض پیران عظیم الشان تو محض یہ نعرہ مستانہ لگاتے پھرتے ہیں:
بھر دو جھولی میری یا مریدو!
کبھی ہم بھارت میں اسی فی صد تھے۔اب ہماری تعداد مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔اس کا ایک حد تک ذمہ دار وہ طبقہ ہے جو قوم کی رہنمائی کے لئے ان کے درمیان اقامت گزیں ہو,یا ان کے درمیان آمد ورفت رکھتا ہو۔
پیشہ ور مقررین کو پس پشت ڈالیں اور آس پاس کے ائمہ مساجد کو جلسوں میں مدعو کریں۔جلسہ کے اخراجات بھی کم ہوں گے اور ائمہ مساجد کے لئے بھی بھلائی کی راہ ہموار ہو گی۔
پیر ہو یا مقرر۔یہ حضرات چند لمحوں کے لئے کہیں جلوہ گر ہوتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔زمینی سطح پر ائمہ مساجد ہی کام کرتے ہیں۔ان کو حوصلہ دیا جائے۔ان کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے۔بوقت ضرورت ان کی اصلاح کی جائے۔بسا اوقات بعض ائمہ پوری قوم کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔بد مذہبوں سے میل جول اور ان سے روابط استوار کر لیتے ہیں اور قوم کو اعتدال کی دعوت دیتے پھرتے ہیں۔
آس پاس کے اسلامی مدارس کے اساتذہ کرام پر بھی نظر شفقت رکھی جائے۔ان کی کفالت کی بھی کوشش کی جائے۔ارباب مدارس بھی ان کی حالت زار پر ترس کھائیں۔ان کا مشاہرہ بھی درست رکھیں اور خوراک بھی۔
فارغین مدارس بھی معیشت کی جدید راہیں تلاش کریں۔جہاں جائیں,وہاں تبلیغ اسلام وسنت کرتے رہیں۔اس پر ثواب ملے گا۔اجرت لے کر تدریس وتعلیم پر ثواب کہاں؟
اکثر مدارس میں خورد ونوش کا حال ہے کہ:
آلو بیگن کھاؤ۔ملاحسن پڑھاؤ
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/890829628154223/
مہنگے جلسوں کی تعداد کم کریں
مہنگے جلسوں میں یقینی طور پر پیشہ ور خطبا و مقررین کو مدعو کرنا ہو گا۔پیشہ ور مقررین کا نیچر سب کو معلوم ہے کہ وہ ایسی تقریریں کرتے ہیں کہ اس شہر میں بار بار بلکہ ہزار بار ان کو مدعو کیا جائے۔وہ مجمع کو خوش کرنے کو فوقیت دیتے ہیں۔فروغ دین وتبلیغ مذہب کو ثانوی درجہ میں رکھتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دین کی ترویج وتبلیغ کے جذبہ سےعاری ہوتے ہیں,نیز اکثر پیشہ ور مقررین ضخیم لفافہ کے متمنی ہوتے ہیں۔
صالح فکر عالم دین جو خطیبانہ وجاہت کے ساتھ قوم کی اصلاح کا جذبہ رکھتے ہوں,ان کو مدعو کیا جائے,نیز دعوت کے وقت ہی ہر خطیب کو موضوع خطابت سے مطلع کر دیا جائے۔
ایک رواج یہ بھی بن چکا ہے کہ چند مقررین ایک گروپ بنا لیتے ہیں اور ایک کو دعوت دی جائے تو وہ اپنے گروپ کو مدعو کرنے کے لئے زور ڈالتے ہیں۔اگر ایسا گروپ قوم کی اصلاح و رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کا عادی ہو تو ٹھیک ہے,ورنہ ایسے گروپ بازوں سے پرہیز کیا جائے۔
قوم کے درمیان صرف دو طبقہ نظر آتا ہے۔ائمہ مساجد اور خطبا و مقررین۔ان دونوں طبقہ کو تربیت یافتہ اور صالح فکر ہونا چاہئے۔
پیران کرام بھی مریدین کے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں۔یہ نفوس عالیہ بھی تبلیغ دین متین کی جانب متوجہ رہیں تو بہت اچھا ہو۔بعض پیران عظیم الشان تو محض یہ نعرہ مستانہ لگاتے پھرتے ہیں:
بھر دو جھولی میری یا مریدو!
کبھی ہم بھارت میں اسی فی صد تھے۔اب ہماری تعداد مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔اس کا ایک حد تک ذمہ دار وہ طبقہ ہے جو قوم کی رہنمائی کے لئے ان کے درمیان اقامت گزیں ہو,یا ان کے درمیان آمد ورفت رکھتا ہو۔
پیشہ ور مقررین کو پس پشت ڈالیں اور آس پاس کے ائمہ مساجد کو جلسوں میں مدعو کریں۔جلسہ کے اخراجات بھی کم ہوں گے اور ائمہ مساجد کے لئے بھی بھلائی کی راہ ہموار ہو گی۔
پیر ہو یا مقرر۔یہ حضرات چند لمحوں کے لئے کہیں جلوہ گر ہوتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔زمینی سطح پر ائمہ مساجد ہی کام کرتے ہیں۔ان کو حوصلہ دیا جائے۔ان کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے۔بوقت ضرورت ان کی اصلاح کی جائے۔بسا اوقات بعض ائمہ پوری قوم کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔بد مذہبوں سے میل جول اور ان سے روابط استوار کر لیتے ہیں اور قوم کو اعتدال کی دعوت دیتے پھرتے ہیں۔
آس پاس کے اسلامی مدارس کے اساتذہ کرام پر بھی نظر شفقت رکھی جائے۔ان کی کفالت کی بھی کوشش کی جائے۔ارباب مدارس بھی ان کی حالت زار پر ترس کھائیں۔ان کا مشاہرہ بھی درست رکھیں اور خوراک بھی۔
فارغین مدارس بھی معیشت کی جدید راہیں تلاش کریں۔جہاں جائیں,وہاں تبلیغ اسلام وسنت کرتے رہیں۔اس پر ثواب ملے گا۔اجرت لے کر تدریس وتعلیم پر ثواب کہاں؟
اکثر مدارس میں خورد ونوش کا حال ہے کہ:
آلو بیگن کھاؤ۔ملاحسن پڑھاؤ
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم اپریل 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/890829628154223/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
مہنگے جلسوں کی تعداد کم کریں!
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/890829628154223/
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/890829628154223/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM