🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا
पाँच महीनों का चाँद देखना
بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں
बनदों के आ़माल उठाये जाते हैं
پندرہویں رات خاص تجلی ...
पन्द्रहवीं रात ख़ास़ तजल्ली ...
بخشش چاہنے والوں کی مغفرت
बख़्शिश चाहने वालों की मग़फ़िरत
رات میں قیام دن میں روزہ رکھو
रात में क़याम दिन में रोज़ा रखो
https://t.me/islaamic_Knowledge/12212
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شب نصف شعبان کا خاص عمل
शबे निस़्फ़ शाबान का ख़ास़ अ़मल
शअ़्बान की 15 वीं रात इ़बादत करें
नमाज़े मग़रिब के बाद 6 रकआ़त
شب براءت کی فضیلت
اور اس میں کئے جانے والے کام
शबे बराअत की फ़ज़ीलत
शबे बराअत में येह काम करें!
शबे बराअत रह़मत व मग़फिरत
پندرہویں رات کو غسل کرنا
15 वीं रात को ग़ुस्ल करना
https://t.me/islaamic_Knowledge/12223
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#الحاد_کے_خلاف_ہمارا_رد_غیر_مؤثر_کیوں ؟
قسط اول

تحریر : عبد الرحمن پٹیل مصباحی

ہمارے اسلاف کا طریقہ یہ تھا کہ وہ غیر اسلامی عناصر کا اصولی و بنیادی رد کرتے تھے. فروعات، جزئیات اور ثانوی ابحاث میں الجھنے سے پرہیز کرتے تھے. مثلاً وہابیہ و دیابنہ کے سینکڑوں اعتراضات یہ کہہ کر رفع فرما دیتے کہ ان کا ما حصل شرک یا بدعت ہے لہٰذا پہلے ان دونوں کی صحیح تعریف پر اتفاق کر لیا جائے پھر جو چیزیں اس کے دائرے میں آئیں انہیں چھوڑ دیا جائے، اور ان کے علاوہ باقی معمولات پر ان دونوں الفاظ کا اطلاق بند کر دیا جائے، اس اصولی انداز کے آگے اپنے فروعی شعبدوں کی کوئی حیثیت نہ پا کر وہابی طبقہ دھیرے سے فرار کی راہ پکڑ لیتا. اسی طرح جب مقابلہ کلیسا سے ہوتا تو ہمارے بزرگ اپنی تحریر و تقریر میں سیدھے تثلیث، تحریف اور ابنیت پر ٹھوس اعتراضات سے بحث کا آغاز کرتے، جس کی وجہ سے عیسائیوں کے باقی تمام سطحی اعتراضات دھرے کے دھرے رہ جاتے. اسلاف کے طریقہ رد کی یہ دو تفصیلی مثالیں ہیں، ان کے علاوہ معتزلہ کی سوفسطائیت، اکبری صلح کل، رافضی شور و غل، قادیانی فریب کاری اور شُدھی سنگھٹن، غرض کہ شرک سے لے کر بد عقیدگی تک ہر باطل کے خلاف ہمارے اسلاف کی؛ ہر دور میں یہی حکمت عملی رہی. اصولی و بنیادی نظریات پر جرح کرنے کی اِسی سنت مبارکہ کا نتیجہ تھا کہ کفر و شرک اور بد عقیدگی ہمیشہ ان کے آگے مغلوب رہی.

لیکن آج کل ہم فروعی و ہنگامی رد کے راستے پر چل پڑے ہیں، ہر جزئی سوال اور سطحی اعتراض کے پیچھے ہمارے قیمتی وقت اور محدود وسائل کا بڑا حصہ صرف ہو جاتا ہے. ہمارے دور کا واضح تر، بدتر اور غالب تر فتنہ الحاد کا فتنہ ہے. الحاد کے خلاف ہمارا رد غير مؤثر، کمزور اور بے وزن اس لیے نظر آتا ہے کہ ہم اس کے جزئیات و فروعات کو تو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، مگر اصول و کلّیات کے بارے میں ہم نے خاموشی کو عافیت سمجھ لیا ہے. یعنی اسلاف کی اصولی تنقید اور ان کے بنیادی تعاقب کے بر خلاف ہم فروعی قیل و قال میں مبتلا ہو گئے ہیں. نتیجہ یہ ہے کہ عموماً سیاسی و معاشی میدانوں اور خصوصاً معاشرتی قلعوں پر الحاد کا پنجہ دن بند سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا ہے. وقت کا نقاضا یہ ہے کہ اسلاف کے طریقے پر الحاد کے اصولی نظریات پر بنیادی جرح کی جائے اور نئی نسل کو یہ اعتماد دلایا جائے کہ الحاد کی جس عمارت کو وہ شیش محل سمجھ رہی ہے اس کی بنیادیں ایسی سڑی گلی فکری ساخت پر کھڑی ہیں کہ اب گری تب گری کا خدشہ لگا رہتا ہے، اور اگر بالفرض یہ اپنی غیر فطری بنیادوں پر ٹھہر بھی گئی تو جس دن یہ زمیں بوس ہوگی اس دن انسانیت اس کے ملبے تلے دب کر ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی.

الحاد نے اپنے پورے نظام کی بنیاد چند خوبصورت نعروں پر رکھی ہے، جن کو وہ اپنے زعم میں زریں اصول بھی سمجھتا ہے. معیشت کی فراوانی، عورت کی آزادی، قانون کی بالادستی، ما ورائے اخلاقیات تعلیم، یکساں تہذیب و تمدن، جمہوریت کی نیلم پری اور اظہار رائے کی آزادی. یہ ہیں عالمِ الحاد کے بنیادی عناصر. ہمیں صرف ان اصولوں پر چڑھے آب زر کو اپنی معقول و مستحکم تنقیدوں سے کم عیار ثابت کرنا ہے، حقیقت کھلتے ہی الحاد کا کھڑا کیا ہوا سونے کا ہِمالہ مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گا اور اس پر قائم کردہ انسانی حقوق کے ڈھونگ کی عمارت خود بخود منہدم ہو جائے گی. ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب بھی ہم الحاد کے خلاف بات کرتے ہیں تو اصولوں کو براہ راست ٹارگیٹ کرنے اور ان کی سطحیت کا اظہار کرنے سے گریز کرتے ہیں اور مرعوبیت کے تحت اس کے کسی جزوی جبر یا فروعی ستم پر اپنا غصہ نکال کر اپنی ذمہ داری ادا ہو جانے کی خوش فہمی لیے بیٹھ جاتے ہیں.
(دوسری قسط میں ہم تفصیل کے ساتھ مثالوں کے ذریعے اپنا مدعی واضح کریں گے، ان شاء اللہ)
A. R. Patel
15.08.1442
29.03.2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/888962108340975/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بکنگ شروع ہوچکی ہے۔
مذہب اسلام پر عورتوں کے حقوق کی پامالی کا اعتراض کرنے والوں کے لیے دندان شکن جوابات پر تفصیلی مباحث سے مزین، حضرت مولانا محمد اکبر علی برکاتی صاحب کی بہترین کتاب آپ کے مطالعہ کے میز کی زینت بننے کو تیار ہے۔
اس کتاب میں عورت کی ہر حیثیت (ماں، بیٹی، بہن، بیوی، بیوہ وغیرہ) کے حقوق پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔

*نام کتاب:* اسلام میں عورت کا مقام
*مصنف:* حضرت مولانا محمد اکبر علی برکاتی
مدرس جامعہ احسن البرکات مارہرہ مطہرہ۔
صفحات: 144
اصل قیمت: 160
*ابھی بک کرنے پر ڈاک خرچ کے ساتھ قیمت: 100 روپے*

ناشر: *روشن مستقبل دہلی*

Account Name: Mohd Akbar Ali
Account no. 37094769063
IFSC: SBIN0011598
Branch: Marahera
----------------------------------
Google pay: 9140784535
Name: KWS Bhilai

پیسے اکاؤنٹ یا گوگل پے میں ٹرانسفر کرنے کے بعد اسکرین شاٹ اور اپنا مکمل ایڈریس انگریزی کے کیپٹل لیٹر، پن کوڈ اور موبائل نمبر کے ساتھ ہمیں WhatsApp کریں.
+91 6306004836
محمد اکرم علی قادری

معلن: محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
نائب صدر: تحریک علماے بندیل کھنڈ
+91 9039778692

کتاب ان مقامات سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔
سنی پبلی کیشنز دہلی
المکتبۃ الازہریہ، بستی (یو۔ پی۔)

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/888786921691827/