.
نوٹ:
امت میں تفرقہ ڈالنےوالےایجنٹ…متعہ فحاشی حلال…دین کی بنیادصحابہ کو کافرکہنےوالےتحریف قرآن کےقائل،گستاخ مرتد شیعہ ہمدردی کےلائق نہیں ایسے کافر مرتد زندیق شیعہ کے کفر کی ایک جھلک...................!!
بایعوا ابابکر......أن الناس ارتدوا إلا ثلاثة
ترجمہ:
صحابہ نے ابوبکر کی بیعت کی.....بےشک سارے صحابہ مرتد ہوگئے سوائے تین کے
(شیعہ کتاب بحار الانوار28/255)
.
.
ارتد الناس بعد الرسول صلى الله عليه وآله إلا أربعة
ترجمہ:
رسول کی وفات کے بعد سارے لوگ(بشمول صحابہ) مرتد ہوگئے سوائے چار لوگوں کے
(شیعہ کتاب کتاب سلیم بن قیس ص162)
.
.
ارتد الناس إلا ثلاثة نفر: سلمان وأبو ذر، و المقداد. قال: فقلت: فعمار؟فقال: قد كان جاض جيضة ثم رجع
تمام لوگ(صحابہ)مرتد ہوگئے سوائے تین کے سلمان فارسی ابوذر اور مقداد، عمار کفر کی طرف مائل ہوئے پھر واپس مسلمان ہوئے(کل ملا کر مذکورہ چار صحابہ مسلمان بچے نعوذ باللہ)
(شیعہ کتاب الاختصاص ص10)
.
.
" إن الذين آمنوا ثم كفروا ثم آمنوا ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا لن تقبل توبتهم" قال: نزلت في فلان وفلان وفلان، آمنوا بالنبي صلى الله عليه وآله في أول الأمر وكفروا حيث عرضت عليهم الولاية، حين قال النبي صلى الله عليه وآله: من كنت مولاه فهذا علي مولاه، ثم آمنوا بالبيعة لأمير المؤمنين عليه السلام ثم كفروا حيث مضى رسول الله صلى الله عليه وآله، فلم يقروا بالبيعة، ثم ازدادوا كفرا بأخذهم من بايعه بالبيعة لهم فهؤلاء لم يبق فيهم من الايمان شئ.
خلاصہ:
آیت مین جو ہے کہ اسلام کے بعد مرتد ہوءے پھر مسلمان ہوءے پھر مرتد ہوئے پھر کفر پے ڈٹ گئے یہ
ایت صحابہ کے متعلق نازل ہوئی ان میں ایمان ذرا برابر بھی نہ بچا..(شیعہ کتاب الکافی 1/420)
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
facebook,whatsApp,bip nmbr
00923468392475
03468392475
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=899597667463232&id=100022390216317
نوٹ:
امت میں تفرقہ ڈالنےوالےایجنٹ…متعہ فحاشی حلال…دین کی بنیادصحابہ کو کافرکہنےوالےتحریف قرآن کےقائل،گستاخ مرتد شیعہ ہمدردی کےلائق نہیں ایسے کافر مرتد زندیق شیعہ کے کفر کی ایک جھلک...................!!
بایعوا ابابکر......أن الناس ارتدوا إلا ثلاثة
ترجمہ:
صحابہ نے ابوبکر کی بیعت کی.....بےشک سارے صحابہ مرتد ہوگئے سوائے تین کے
(شیعہ کتاب بحار الانوار28/255)
.
.
ارتد الناس بعد الرسول صلى الله عليه وآله إلا أربعة
ترجمہ:
رسول کی وفات کے بعد سارے لوگ(بشمول صحابہ) مرتد ہوگئے سوائے چار لوگوں کے
(شیعہ کتاب کتاب سلیم بن قیس ص162)
.
.
ارتد الناس إلا ثلاثة نفر: سلمان وأبو ذر، و المقداد. قال: فقلت: فعمار؟فقال: قد كان جاض جيضة ثم رجع
تمام لوگ(صحابہ)مرتد ہوگئے سوائے تین کے سلمان فارسی ابوذر اور مقداد، عمار کفر کی طرف مائل ہوئے پھر واپس مسلمان ہوئے(کل ملا کر مذکورہ چار صحابہ مسلمان بچے نعوذ باللہ)
(شیعہ کتاب الاختصاص ص10)
.
.
" إن الذين آمنوا ثم كفروا ثم آمنوا ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا لن تقبل توبتهم" قال: نزلت في فلان وفلان وفلان، آمنوا بالنبي صلى الله عليه وآله في أول الأمر وكفروا حيث عرضت عليهم الولاية، حين قال النبي صلى الله عليه وآله: من كنت مولاه فهذا علي مولاه، ثم آمنوا بالبيعة لأمير المؤمنين عليه السلام ثم كفروا حيث مضى رسول الله صلى الله عليه وآله، فلم يقروا بالبيعة، ثم ازدادوا كفرا بأخذهم من بايعه بالبيعة لهم فهؤلاء لم يبق فيهم من الايمان شئ.
خلاصہ:
آیت مین جو ہے کہ اسلام کے بعد مرتد ہوءے پھر مسلمان ہوءے پھر مرتد ہوئے پھر کفر پے ڈٹ گئے یہ
ایت صحابہ کے متعلق نازل ہوئی ان میں ایمان ذرا برابر بھی نہ بچا..(شیعہ کتاب الکافی 1/420)
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
facebook,whatsApp,bip nmbr
00923468392475
03468392475
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=899597667463232&id=100022390216317
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جسم وجاں کو ہلا دینے والا ایک عربی نعتیہ قصیدہ۔ روح کو چھونے والا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبد العزیز جویدہ کے شاہکار قصیدے
کا اردو ترجمہ ، از Faizan Faisal
یہ بات سچ ہے
کہ میں نے آپ کے رخِ انور کا دیدار نہیں کیا
آپ کی شیریں آواز میرے کانوں میں نہیں گھلی
کسی سفر میں آپ کا ہمراہ نہیں بن سکا
اور یہ بھی سچ ہے
کہ میں احد میں سپردِ خاک و خوں نہ ہوا
بدر میں اربابِ کفر سے گتھم گتھا نہ ہوا
نہ ہجرت کی راہوں میں نکلا
نہ انصار کی صف میں شامل ہو سکا
یہ نوبت بھی نہیں آ سکی
کہ میں حرا کے باہر آپ کو زادِ راہ پہنچا آتا
مگر اے اللّٰہ کے رسول!
اللّٰہ کی قسم! مجھے آپ سے محبت ہے
محبت کے شعلے میرے دل کو راکھ راکھ کیے دیتے ہیں
کیا اس بے ڈھنگی محبت کے قبول ہونے کا کوئی راستہ ہے؟!
اللّٰہ کے رسول!
یقیناً مجھ سے تاخیر ہوئی ہے
مگر معاملہ میرے بس میں نہیں تھا
ہاں مجھے اختیار ہوتا تو شاید میں جلدی کرتا
لیکن ایک چیز کھٹک جاتی ہے
کیا میں آپ کے صحابہ کے سامنے ٹِک پاتا؟!
وہ انس کہ جو سراپا خدمت بنے رہے
اسلام کی قوت کا باعث بننے والے عمر
تن تنہا آپ کی تصدیق کرنے والے ابو بکر
ہمہ وقت کے ناصر و وزیر، علی
بارہا مال لٹانے والے عثمان
وہ حمزہ، وہ سعد، وہ خالد
میں کون اور کیا ہوتا ان ہستیوں کے سامنے؟!
میرا اسلام تو مجھے والد سے ملا
بڑے شرف و آسائش کے ساتھ!
میں نے بلال کو صدائے تکبیر بلند کرتے نہیں سنا
میرے جسم کو گرم ریت پر بھونا نہیں گیا
میرے ہاتھوں سے کوئی بت پاش پاش نہیں ہوا
نہ ہی کفر کے لشکروں سے کبھی سامنا ہوا
کبھی کوئی تیر میرے سینے کے پار نہیں اترا
بس اے اللّٰہ کے رسول!
میں بے بضاعت و بے سلیقہ
ایک امتی ہوں کہ جس کے سینے میں ایک دل
آپ کی یاد میں مسلسل پھڑکتا ہے
اللہ کی قسم! مجھے آپ سے محبت ہے
یہی میری نجات ہے ...
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2967042913575016&id=100008080090753
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبد العزیز جویدہ کے شاہکار قصیدے
کا اردو ترجمہ ، از Faizan Faisal
یہ بات سچ ہے
کہ میں نے آپ کے رخِ انور کا دیدار نہیں کیا
آپ کی شیریں آواز میرے کانوں میں نہیں گھلی
کسی سفر میں آپ کا ہمراہ نہیں بن سکا
اور یہ بھی سچ ہے
کہ میں احد میں سپردِ خاک و خوں نہ ہوا
بدر میں اربابِ کفر سے گتھم گتھا نہ ہوا
نہ ہجرت کی راہوں میں نکلا
نہ انصار کی صف میں شامل ہو سکا
یہ نوبت بھی نہیں آ سکی
کہ میں حرا کے باہر آپ کو زادِ راہ پہنچا آتا
مگر اے اللّٰہ کے رسول!
اللّٰہ کی قسم! مجھے آپ سے محبت ہے
محبت کے شعلے میرے دل کو راکھ راکھ کیے دیتے ہیں
کیا اس بے ڈھنگی محبت کے قبول ہونے کا کوئی راستہ ہے؟!
اللّٰہ کے رسول!
یقیناً مجھ سے تاخیر ہوئی ہے
مگر معاملہ میرے بس میں نہیں تھا
ہاں مجھے اختیار ہوتا تو شاید میں جلدی کرتا
لیکن ایک چیز کھٹک جاتی ہے
کیا میں آپ کے صحابہ کے سامنے ٹِک پاتا؟!
وہ انس کہ جو سراپا خدمت بنے رہے
اسلام کی قوت کا باعث بننے والے عمر
تن تنہا آپ کی تصدیق کرنے والے ابو بکر
ہمہ وقت کے ناصر و وزیر، علی
بارہا مال لٹانے والے عثمان
وہ حمزہ، وہ سعد، وہ خالد
میں کون اور کیا ہوتا ان ہستیوں کے سامنے؟!
میرا اسلام تو مجھے والد سے ملا
بڑے شرف و آسائش کے ساتھ!
میں نے بلال کو صدائے تکبیر بلند کرتے نہیں سنا
میرے جسم کو گرم ریت پر بھونا نہیں گیا
میرے ہاتھوں سے کوئی بت پاش پاش نہیں ہوا
نہ ہی کفر کے لشکروں سے کبھی سامنا ہوا
کبھی کوئی تیر میرے سینے کے پار نہیں اترا
بس اے اللّٰہ کے رسول!
میں بے بضاعت و بے سلیقہ
ایک امتی ہوں کہ جس کے سینے میں ایک دل
آپ کی یاد میں مسلسل پھڑکتا ہے
اللہ کی قسم! مجھے آپ سے محبت ہے
یہی میری نجات ہے ...
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2967042913575016&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
-------ابو میاں اور روافض سے تعلقات-------
آپ نے ابو میاں، خانقاہ عارفیہ و جامعہ عارفیہ پریاگ راج ، یو۔پی۔ کو کئی رافضیوں سے ملتے ہوئے، ملاقات کرتے ہوئے، انہیں گلے لگاتے ہوئے، ان کے بھاشن سنتے ہوئے دیکھا ہوں گا،
اس سے صاف ظاہر ہے کہ ابو میاں کے روافض سے گہرے تعلقات ہیں،
فتاوی رضویہ شریف میں ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رافضیوں میں رافضی، سُنّیوں میں سُنّی بنتا تھا، افادہ عام کے لیے سوال اور اس کا جواب ملاحظہ فرمائیں؛
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص پر رفض کا شبہ ہے اس کی نشست ان لوگوں کے پاس ہے اور ان کی خاص مجلسوں میں جاتے بھی اسے دیکھا اور اس سے توبہ کو کہا جائے تو توبہ بھی نہیں کرتا اور حالت اس کی یہ ہے کہ رافضیوں میں رافضی، سُنّیوں میں سُنّی اور اسے بعض لوگوں نے اپنے لڑکوں کا معلم اور مسجد کا امام مقرر کیا ہے اس صورت میں اس کا اور اس کے مقرر کرنے والوں کا کیا حکم ہے اور اس کا معزول کرنا بوجہ شبہ کے واجب ہے یا نہیں اگر ہے تو کس دلیل سے ، حالانکہ وہ اہلسنت کے سامنے کوئی بات عقیدہ روافض کی زبان سے نہیں نکالتا اور اگر وہ توبہ کرلے تو اس کے بعد بھی رکھا جائے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ ثابت و محقق ہو کہ رافضیوں میں رافضی اور سُنّیوں میں سُنّی بنتا ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ رافضی بھی ہے اور منافق بھی اور اس کے پیچھے نماز باطل محض، جیسے کسی یہودی نصرانی ہندو مجوسی کے پیچھے کما بیناہ فی النھی الا کید ( جیسا کہ ہم نے اسے النہی الاکید میں بیان کیاہے۔ ت) بلکہ تبرائی روافض زمانہ ان سے بھی بدتر ہیں کہ وہ کافران اصلی ہیں اور یہ مرتد ، اور مرتد کا حکم سخت تر و اشد کما حققناہ فی المقالۃ المسفرۃ( اس کی تحقیق ہم نے اپنے مقالے مسفرہ میں کی ہے۔ت) اور اگر صرف اسی قدر ہو کہ اس کی حالت مشکوک و مشتبہ ہے جب بھی اسے امامت سے معزول کرنا بدلائل کثیرہ واجب ہے۔
《فتاوی رضویہ شریف جلد 6 صفحہ 527، 528》
مزید تفصیل کے لیے جلد 6 میں موجود اس فتوی کا مکمل مطالعہ کریں۔
رافضی، وہابی تقیہ سے کام لیتے ہیں اور رافضیوں وہابیوں کے ایجنٹ ابو میاں اور ان کے ماننے والے بھی تقیہ بازی میں پوری دنیا میں متعارف ہیں،
رافضیوں و وہابیوں کی تقیہ بازی سے متعلق میرے امام ، سیدی امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمه الله تعالى فرماتے ہیں کہ؛
"رافضی تقیہ سے سب کچھ کر لیتے ہیں یوں ہی وہابی مجالس میلاد مبارک میں جائیں قیام کریں گیارہویں شریف کی نیاز میں حاضر ہوں پلاؤ کھانے کو موجود اور دل میں شرک و حرام۔"
《فتاوی رضویہ شریف جلد 2 صفحہ 348》
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
Shaikh Yunus Real Razvi
21 March 2021.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2963254977287143&id=100008080090753
آپ نے ابو میاں، خانقاہ عارفیہ و جامعہ عارفیہ پریاگ راج ، یو۔پی۔ کو کئی رافضیوں سے ملتے ہوئے، ملاقات کرتے ہوئے، انہیں گلے لگاتے ہوئے، ان کے بھاشن سنتے ہوئے دیکھا ہوں گا،
اس سے صاف ظاہر ہے کہ ابو میاں کے روافض سے گہرے تعلقات ہیں،
فتاوی رضویہ شریف میں ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رافضیوں میں رافضی، سُنّیوں میں سُنّی بنتا تھا، افادہ عام کے لیے سوال اور اس کا جواب ملاحظہ فرمائیں؛
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص پر رفض کا شبہ ہے اس کی نشست ان لوگوں کے پاس ہے اور ان کی خاص مجلسوں میں جاتے بھی اسے دیکھا اور اس سے توبہ کو کہا جائے تو توبہ بھی نہیں کرتا اور حالت اس کی یہ ہے کہ رافضیوں میں رافضی، سُنّیوں میں سُنّی اور اسے بعض لوگوں نے اپنے لڑکوں کا معلم اور مسجد کا امام مقرر کیا ہے اس صورت میں اس کا اور اس کے مقرر کرنے والوں کا کیا حکم ہے اور اس کا معزول کرنا بوجہ شبہ کے واجب ہے یا نہیں اگر ہے تو کس دلیل سے ، حالانکہ وہ اہلسنت کے سامنے کوئی بات عقیدہ روافض کی زبان سے نہیں نکالتا اور اگر وہ توبہ کرلے تو اس کے بعد بھی رکھا جائے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ ثابت و محقق ہو کہ رافضیوں میں رافضی اور سُنّیوں میں سُنّی بنتا ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ رافضی بھی ہے اور منافق بھی اور اس کے پیچھے نماز باطل محض، جیسے کسی یہودی نصرانی ہندو مجوسی کے پیچھے کما بیناہ فی النھی الا کید ( جیسا کہ ہم نے اسے النہی الاکید میں بیان کیاہے۔ ت) بلکہ تبرائی روافض زمانہ ان سے بھی بدتر ہیں کہ وہ کافران اصلی ہیں اور یہ مرتد ، اور مرتد کا حکم سخت تر و اشد کما حققناہ فی المقالۃ المسفرۃ( اس کی تحقیق ہم نے اپنے مقالے مسفرہ میں کی ہے۔ت) اور اگر صرف اسی قدر ہو کہ اس کی حالت مشکوک و مشتبہ ہے جب بھی اسے امامت سے معزول کرنا بدلائل کثیرہ واجب ہے۔
《فتاوی رضویہ شریف جلد 6 صفحہ 527، 528》
مزید تفصیل کے لیے جلد 6 میں موجود اس فتوی کا مکمل مطالعہ کریں۔
رافضی، وہابی تقیہ سے کام لیتے ہیں اور رافضیوں وہابیوں کے ایجنٹ ابو میاں اور ان کے ماننے والے بھی تقیہ بازی میں پوری دنیا میں متعارف ہیں،
رافضیوں و وہابیوں کی تقیہ بازی سے متعلق میرے امام ، سیدی امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمه الله تعالى فرماتے ہیں کہ؛
"رافضی تقیہ سے سب کچھ کر لیتے ہیں یوں ہی وہابی مجالس میلاد مبارک میں جائیں قیام کریں گیارہویں شریف کی نیاز میں حاضر ہوں پلاؤ کھانے کو موجود اور دل میں شرک و حرام۔"
《فتاوی رضویہ شریف جلد 2 صفحہ 348》
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
Shaikh Yunus Real Razvi
21 March 2021.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2963254977287143&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت کعب الأحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جو اپنی بیوی کی اذیت پر صبر کرے ، اللہﷻ اس کو حضرت ایوب علیہ السلام کے اجر کی مانند ثواب عطا فرمائے گا ۔
اور
جو بیوی اپنے شوہر کی اذیت پر صبر کرے ، اللہ تعالیٰ اسے حضرت آسیہ بنت مزاحم ( زوجہ فرعون ) کے ثواب جیسا ثواب عطا فرمائے گا ۔
( الصبر علی الزوجات صفحہ22 ، مترجم مولانا Farhan Rafique Qadri )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3119601031653398&id=100008105947430
جو اپنی بیوی کی اذیت پر صبر کرے ، اللہﷻ اس کو حضرت ایوب علیہ السلام کے اجر کی مانند ثواب عطا فرمائے گا ۔
اور
جو بیوی اپنے شوہر کی اذیت پر صبر کرے ، اللہ تعالیٰ اسے حضرت آسیہ بنت مزاحم ( زوجہ فرعون ) کے ثواب جیسا ثواب عطا فرمائے گا ۔
( الصبر علی الزوجات صفحہ22 ، مترجم مولانا Farhan Rafique Qadri )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3119601031653398&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوال نمبر: 16
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
سوال: مہر کی ہندوستانی رقم کم سے کم کتنی ہونی چاہیے. ؟؟
-------------------------------
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون اللہ تعالٰی: مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے, اور زیادہ کی کوئی مقدار متعین نہیں, میاں, بیوی آپسی رضامندی سے جتنا چاہیں مقرر کر لیں.
ھدایہ اولین میں ہے
*"و أقل المهر عشرة دراهم."*
(ھدایہ اولین, ص:٣۰۴ ,باب المھر, مجلس برکات)
_اور دس درہم کا وزن موجودہ دور کے اعتبار سے ٣۲ /گرام, ٦٦۰/ ملی گرام چاندی بنتی ہے. (32.660 گرام, چاندی)_
چوں کہ چاندی کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے, اس لیے مہر کی قیمت بتا پانا مشکل ہے.
*جب بھی آپ کو معلوم کرنا ہو کہ آج کے دن کم سے کم مہر کی قیمت کتنی ہے, تو اپنے علاقے میں ایک گرام چاندی کی قیمت معلوم کر کے اسے ٣۲/ گرام, ٦٦۰ / ملی گرام میں ضرب دے دیں, تو ضرب کے بعد جتنا حاصل ہوگا, اتنا ہی کم سے کم مہر کی رقم ہے*. واللہ تعالی اعلم بالصواب.
کتبہ محمد اشرف رضا مصباحی
۸ / شعبان المعظم ١۴۴۲ھ
۲۲/ مارچ ۲۰۲١ ء ( یوم الاثنین)
جوائن واٹس اپ :
https://chat.whatsapp.com/KLpsnmqFGcOAocDV3zfMHo
جوائن ٹیلی گرام :
https://t.me/joinchat/SFLyzqyyyYEXhCH7
مزید دینی مسائل جاننے کے لیے اس سائٹ پر جائیں. www.misbahidarulifta.com
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
سوال: مہر کی ہندوستانی رقم کم سے کم کتنی ہونی چاہیے. ؟؟
-------------------------------
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون اللہ تعالٰی: مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے, اور زیادہ کی کوئی مقدار متعین نہیں, میاں, بیوی آپسی رضامندی سے جتنا چاہیں مقرر کر لیں.
ھدایہ اولین میں ہے
*"و أقل المهر عشرة دراهم."*
(ھدایہ اولین, ص:٣۰۴ ,باب المھر, مجلس برکات)
_اور دس درہم کا وزن موجودہ دور کے اعتبار سے ٣۲ /گرام, ٦٦۰/ ملی گرام چاندی بنتی ہے. (32.660 گرام, چاندی)_
چوں کہ چاندی کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے, اس لیے مہر کی قیمت بتا پانا مشکل ہے.
*جب بھی آپ کو معلوم کرنا ہو کہ آج کے دن کم سے کم مہر کی قیمت کتنی ہے, تو اپنے علاقے میں ایک گرام چاندی کی قیمت معلوم کر کے اسے ٣۲/ گرام, ٦٦۰ / ملی گرام میں ضرب دے دیں, تو ضرب کے بعد جتنا حاصل ہوگا, اتنا ہی کم سے کم مہر کی رقم ہے*. واللہ تعالی اعلم بالصواب.
کتبہ محمد اشرف رضا مصباحی
۸ / شعبان المعظم ١۴۴۲ھ
۲۲/ مارچ ۲۰۲١ ء ( یوم الاثنین)
جوائن واٹس اپ :
https://chat.whatsapp.com/KLpsnmqFGcOAocDV3zfMHo
جوائن ٹیلی گرام :
https://t.me/joinchat/SFLyzqyyyYEXhCH7
مزید دینی مسائل جاننے کے لیے اس سائٹ پر جائیں. www.misbahidarulifta.com
WhatsApp.com
MISBAHI DARUL IFTA1⃣
WhatsApp Group Invite
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Naeem Khan
★ وَ اِذَا قُرِئَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ
وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ (۲۰۴)
Pãrah 9 Soorah 7 Aayat ²⁰⁴
☆Kanzul Iman Translation:
◆ اور جب قرآن پڑھا جائے
تو اسے کان لگا کر سنو اور
خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو
_________________
عرض یہ ہے کہ :
تلاوتِ قرآن کے دوران سُبۡحَانَ اللہۡ
اور مَاشَآءَ اللہۡ کہنا کیسا ہے ؟🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب
قرآن مجید میں رب تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے
واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتو لعلکم ترحمون
ترجمہ
جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو
اس آیت کے تحت حضور صدرالافاضل فخرالاماثل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآن پڑھا جائے چاہے نماز میں ہو یا خارج نمازہو اس وقت سامعین پر خاموش رہنا واجب ہے
)کنز الایمان مع خزائن العرفان پارہ ۹ سورۃ الاعراف آیت ۲۰۴)
اور فتاوی ہندیہ میں ہے
رفع الصوت عند سماع القران والوعظ مکروہ ومایفعلہ الذین الوجد والمحبۃ لا اصل لہ و یمنع الصوفیہ من رفع الصوت وتخریق الثیاب
ترجمہ
(اور قرآن و وعظ سننے کے وقت آواز بلند کرنا مکروہ ہے اور جو لوگ وجد و محبت کا دعوی کرکے ایسا کرتے ہیں اس کا کچھ اصل نہیں اور صوفیہ کو آواز بلند کرنے سے اور کپڑا پھاڑ نے سے منع کیا گیا ہے
(فتاوی ہندیہ جلد ۵ کتاب الکراھیہ باب الرابع ۳۱۹)
مذکورہ عبارت سے واضح ہے کہ (جب قرآن مجید کی تلاوت کی جائے اس وقت( سبحان اللہ ماشااللہ الحمداللہ ) کہ کر داد دینا ناجائز و گناہ ہے تلاوت کے وقت سامعین پر لازم ہے کہ وہ ہمہ تن گو ش ہوکر قرآن پاک کی تلاوت سنیں اور کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو کہ آداب تلاوت کے خلاف ہو)
ہاں اگر کوئ خدا کا کلام سن کر سبحان اللہ یا الحمدللہ کہنا چاہتا ہے تو وہ دل ہی دل میں کہہ سکتا ہے لیکن آواز سے نہیں کہ تلاوت کلام اللہ کے وقت خاموش رہنا واجب ہے
((واللہ تعالی اعلم))
احقر _محمد نعیم خان القادری خطیب و امام جامع مسجد نیسری کولھا پور مہاراشٹر
وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ (۲۰۴)
Pãrah 9 Soorah 7 Aayat ²⁰⁴
☆Kanzul Iman Translation:
◆ اور جب قرآن پڑھا جائے
تو اسے کان لگا کر سنو اور
خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو
_________________
عرض یہ ہے کہ :
تلاوتِ قرآن کے دوران سُبۡحَانَ اللہۡ
اور مَاشَآءَ اللہۡ کہنا کیسا ہے ؟🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب
قرآن مجید میں رب تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے
واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتو لعلکم ترحمون
ترجمہ
جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو
اس آیت کے تحت حضور صدرالافاضل فخرالاماثل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآن پڑھا جائے چاہے نماز میں ہو یا خارج نمازہو اس وقت سامعین پر خاموش رہنا واجب ہے
)کنز الایمان مع خزائن العرفان پارہ ۹ سورۃ الاعراف آیت ۲۰۴)
اور فتاوی ہندیہ میں ہے
رفع الصوت عند سماع القران والوعظ مکروہ ومایفعلہ الذین الوجد والمحبۃ لا اصل لہ و یمنع الصوفیہ من رفع الصوت وتخریق الثیاب
ترجمہ
(اور قرآن و وعظ سننے کے وقت آواز بلند کرنا مکروہ ہے اور جو لوگ وجد و محبت کا دعوی کرکے ایسا کرتے ہیں اس کا کچھ اصل نہیں اور صوفیہ کو آواز بلند کرنے سے اور کپڑا پھاڑ نے سے منع کیا گیا ہے
(فتاوی ہندیہ جلد ۵ کتاب الکراھیہ باب الرابع ۳۱۹)
مذکورہ عبارت سے واضح ہے کہ (جب قرآن مجید کی تلاوت کی جائے اس وقت( سبحان اللہ ماشااللہ الحمداللہ ) کہ کر داد دینا ناجائز و گناہ ہے تلاوت کے وقت سامعین پر لازم ہے کہ وہ ہمہ تن گو ش ہوکر قرآن پاک کی تلاوت سنیں اور کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو کہ آداب تلاوت کے خلاف ہو)
ہاں اگر کوئ خدا کا کلام سن کر سبحان اللہ یا الحمدللہ کہنا چاہتا ہے تو وہ دل ہی دل میں کہہ سکتا ہے لیکن آواز سے نہیں کہ تلاوت کلام اللہ کے وقت خاموش رہنا واجب ہے
((واللہ تعالی اعلم))
احقر _محمد نعیم خان القادری خطیب و امام جامع مسجد نیسری کولھا پور مہاراشٹر
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
الجواب صحیح و المجیب نجیح
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اسلامی کلمے کتنے ہیں پانچ یا چھ پانچواں کلمہ استغفار ہے یا رد کفر ۔ پُرانی والی یسرنا القرآن ( چھوٹی سائز ) میں ہم نے پانچواں کلمہ استغفار پڑھا ہے اور چھٹا کلمہ رد کفر ۔ لیکن آج کل کے کتابوں میں مثلاً انوار شریعت میں پانچواں کلمہ رد کفر لکھا ہے اور چھٹا کلمہ ہے ہی نہیں، یعنی پانچواں کو چھٹا بنا دیا گیا ہے اور پانچواں غائب ہے، ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ اس میں کیا حکمت ہے؟
تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں؟
المستفتی : محمد احمد خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب تمام اسلامی کلموں کے مضامین احادیث طیبات سے ثابت اور اس میں وارد ہیں اور ان کے بارے میں کوئی متعین تعداد شرع میں وارد نہیں ہے کہ کم و بیش سے اس کی مخالفت اور حرج لازم آئے لہذا جمع و تالیف میں مصنفین و مؤلفین مختلف مقاصد کے تحت مختلف تعداد درج فرمائے ہیں اسی طرح مصنف " انوار شریعت " قاضی شریعت ، فقیہ ملت حضرت العلام الشاہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ نے بھی کچھ خاص وجوہ کے تحت پانچ کلمے درج فرمائے ہیں ان ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چونکہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے لہذا اسی مناسبت سے آپ نے اپنی مذکورہ کتاب میں پانچ کلمے درج فرمائے اور چونکہ کلمہ " رد کفر " کلمہ " استغفار " سے زیادہ اہم ہے لہذا استغفار نہ ذکر فرما کر " رد کفر " درج فرمایا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " عن عمر قال قال رسول اللّٰه صلى الله تعالى عليه وسلم بنى الاسلام على خمس شهادة ان لا اله الا الله و ان محمدا عبده و رسوله و اقام الصلاة و ايتاء الزكوة و الحج و الصوم رمضان متفق عليه " اھ ( مشکوۃ المصابیح ص 12 بحوالہ فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص 434 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
اسلامی کلمے کتنے ہیں پانچ یا چھ پانچواں کلمہ استغفار ہے یا رد کفر ۔ پُرانی والی یسرنا القرآن ( چھوٹی سائز ) میں ہم نے پانچواں کلمہ استغفار پڑھا ہے اور چھٹا کلمہ رد کفر ۔ لیکن آج کل کے کتابوں میں مثلاً انوار شریعت میں پانچواں کلمہ رد کفر لکھا ہے اور چھٹا کلمہ ہے ہی نہیں، یعنی پانچواں کو چھٹا بنا دیا گیا ہے اور پانچواں غائب ہے، ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ اس میں کیا حکمت ہے؟
تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں؟
المستفتی : محمد احمد خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب تمام اسلامی کلموں کے مضامین احادیث طیبات سے ثابت اور اس میں وارد ہیں اور ان کے بارے میں کوئی متعین تعداد شرع میں وارد نہیں ہے کہ کم و بیش سے اس کی مخالفت اور حرج لازم آئے لہذا جمع و تالیف میں مصنفین و مؤلفین مختلف مقاصد کے تحت مختلف تعداد درج فرمائے ہیں اسی طرح مصنف " انوار شریعت " قاضی شریعت ، فقیہ ملت حضرت العلام الشاہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ نے بھی کچھ خاص وجوہ کے تحت پانچ کلمے درج فرمائے ہیں ان ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چونکہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے لہذا اسی مناسبت سے آپ نے اپنی مذکورہ کتاب میں پانچ کلمے درج فرمائے اور چونکہ کلمہ " رد کفر " کلمہ " استغفار " سے زیادہ اہم ہے لہذا استغفار نہ ذکر فرما کر " رد کفر " درج فرمایا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " عن عمر قال قال رسول اللّٰه صلى الله تعالى عليه وسلم بنى الاسلام على خمس شهادة ان لا اله الا الله و ان محمدا عبده و رسوله و اقام الصلاة و ايتاء الزكوة و الحج و الصوم رمضان متفق عليه " اھ ( مشکوۃ المصابیح ص 12 بحوالہ فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص 434 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماہ شعبان کے اعراس عرس
پورا ماہ سختیوں سے محفوظ
پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا واجب
شعبان کے پانچ حروف کی بہاریں
رمضان کے بعد کون سا روزہ افضل
پندرہ شعبان کا روزہ | ابن ماجہ
شعبان کے روزے حضور کو پسند
تعظیم رمضان = شعبان کا روزہ
فضیلت ماہ شعبان اور شب براءت
نزہۃ القاری شرح بخاری صَ ³⁷⁷
پورا ماہ سختیوں سے محفوظ
پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا واجب
شعبان کے پانچ حروف کی بہاریں
رمضان کے بعد کون سا روزہ افضل
پندرہ شعبان کا روزہ | ابن ماجہ
شعبان کے روزے حضور کو پسند
تعظیم رمضان = شعبان کا روزہ
فضیلت ماہ شعبان اور شب براءت
نزہۃ القاری شرح بخاری صَ ³⁷⁷