🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*روشن مستقبل کی ٹویٹر ایکٹیوٹی*

ظلم کے خلاف، ایک قدم اور!!!

ٹویٹر پر، ابھی ہمارا ہیش ٹیگ : #تعلیمات_اسلام روزانہ کثرت سے استعمال ہورہا ہے۔ جس میں ہم ہندی، انگریزی اور دیگر علاقائی زبانوں میں تعلیمات اسلام پیش کررہے ہیں۔

در اصل ابھی تک ٹویٹر پر اسلام مخالف مواد ہی نظر آتا تھا، مگر *اس ہیش ٹیگ کا فائدہ یہ ہے کہ اسلام مخالف مواد کے ساتھ ساتھ اب کثرت کے ساتھ، اسلامی مواد بھی نظر آنے لگا ہے۔*

نیز جب کسی ہیش ٹیگ کے ساتھ کوئی مواد پیش کیا جاتا ہے تو وہ یکجا ہو جاتا ہے، جسے کبھی بھی بآسانی سرچ کرکے نکالا جاسکتا ہے۔ اور دیگر ضروری مقامات یا مواقع پر ری یوز کیا جاسکتا ہے۔

ہمارا ارادہ ہے کہ کچھ وقت کے بعد یہی مواد ہم کاپی کراکے ہندی اور انگریزی ہیش ٹیگ کے ساتھ بھی ٹویٹ کرائیں گے۔ تاکہ غیر مسلم بھی ان تعلیمات کو دیکھ اور پڑھ سکیں۔ اور درست اسلامی تعلیمات سے رو شناس ہو سکیں ۔ اور اس طرح ہم ان کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کریں ۔

رام پال کے بھکتوں کے علاوہ ، دوسرے غیر مسلم بھکت بھی آئے دن مسلموں کے خلاف ٹرینڈ چلاتے تھے لیکن........... اب آئی ٹی سیل کے کمزور ہونے سے یہ معاملہ پہلے کی نسبت کم ہوگیا ہے۔

اب ہمیں ٹویٹر پر رام پالی بہت پریشان کرتے ہیں یہ ایک ساتھ پانچ یا سات ہیش ٹیگ اسلام کے خلاف ٹرینڈ کرانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی ٹیم بڑی ہونے کے ساتھ منظم اور ماہر ہے۔

اس کے جواب میں جہاں تعلیمات اسلام پیش کرنا ضروری ہیں وہیں ان کی حوصلہ شکنی بھی لازم ہے۔
اور اس کام کے لیے بڑی اور مضبوط ٹیم کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے روشن مستقبل دہلی کی کوششیں جاری ہیں۔

کیوں کہ رام پال کے بھکت ایک یا دو گھنٹوں میں ایک لاکھ تک ٹویٹ کرتے ہیں۔ اور ہم پورے دن میں پچاس ہزار۔

تو ہمیں افراد سازی کی ضرورت ہے اور سب کا ایک گروپ میں ہونا بھی ضروری ہے۔

آپ حضرات روشن مستقبل کے ٹویٹر ٹرینڈ گروپ میں شامل ہونا چاہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔

گروپ میں ہماری ٹیم کے ماہرین روزانہ ایک دو گھنٹہ ٹویٹر کے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہیں اور لوگوں کو ٹویٹر چلانے کی ٹریننگ بھی دیتے ہیں۔
اس لیے آپ ہمارے گروپ سے جُڑیں۔ بقیہ کام وہاں ہو جائےگا۔

اس کے علاوہ موب لنچنگ کے خلاف اور مظلوموں کے سپورٹ میں بھی ہم ٹرینڈ چلا کر انتظامیہ پر کارروائی کا دباو بناتے ہیں۔

ہم اپنی قوم کو بیدار کرنے کے ساتھ مظلوموں کی آواز اٹھانے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں اور اس پر عمل بھی پوری شدت سے کرتے ہیں۔

لہٰذا آپ بھی ہمارے ساتھ آئیں اور مل کر ظلم کو روکنے اور ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کی کوشش کریں۔

محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/886542661916253/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سکھر کے اُجڑے چمن کا رد بلیغ

ہر صحابی نبی جنتی جنتی، سیدنا علی و سیدنا معاویہ جنتی جنتی نعروں کے برحق ہونے کے دلائل و حوالہ جات اور شبہات اعتراضات کا ازالہ اور چمن زمان کو دعوتِ رجوع .................!!
.
چمن زمان صاحب لکھتے ہیں
صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین میں سے بعض ہستیوں کے بارے میں *#غلو* سے کام لیا جارہا ہے... ان حضرات(چمن زمان بمع گروپ کے علاوہ جو ہیں مثلا دعوت اسلامی وغیرہ) نے گزشتہ چند ماہ پہلے باب نظریات میں اضافہ کرتے ہوئے چند نعرے اپنے نظریات و عقائد کا حصہ بنائے جیسے ہر صحابی نبی جنتی جنتی ، معاویہ و علی جنتی جنتی، ابوسفیان معاویہ جنتی جنتی
(دیکھیے جدید نعرے ص6,7)
مزہد کہتے ہیں
یہ نعرے ابن حزم بدمذہب سے پہلے کسی نے نہیں لگائے
(دیکھیے جدید نعرےص45)
.
جواب:اول بات تو یہ ہے کہ یہ نعرہ ابن حزم(وفات تقریبا456ھجری) سے پہلے ہی لگایا جا چکا تھا جیسے کہ ہم ان دلائل سے ظاہر کر رہے ہیں
①*صحابی سیدنا ابن عباس کا عقیدہ:*
مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْح} فتح مَكَّة {وَقَاتل} الْعَدو مَعَ النبى صلى الله عَلَيْهِ وَسلم {أُولَئِكَ} أهل هَذِه الصّفة {أَعْظَمُ دَرَجَةً} فَضِيلَة ومنزلة عِنْد الله بِالطَّاعَةِ وَالثَّوَاب {مِّنَ الَّذين أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ} من بعد فتح مَكَّة {وَقَاتَلُواْ} الْعَدو فِي سَبِيل الله مَعَ النبى صلى الله عَلَيْهِ وَسلم {وكلا} كلا لفريقين من أنْفق وَقَاتل من قبل الْفَتْح وَبعد الْفَتْح {وَعَدَ الله الْحسنى} الْجنَّة
یعنی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے جن صحابہ کرام نے خرچ کیا جہاد کیا اور فتح مکہ کے بعد جنہوں نے خرچ کیا جہاد کیا ان کے درجات میں اگرچہ تفاوت ہے لیکن سب صحابہ کرام سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(تنوير المقباس من تفسير ابن عباس ص457)
.
*②امام القرظی تابعی( وفات180ھجری تقریبا) کا عقیدہ:*
وقال محمد بن كعب القرظي: أوجب الله لجميع الصحابة الجنة والرضوان
ترجمہ
محمد بن كعب القرظي علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے تمام صحابہ کے لیے جنت اور رضامندی کو واجب کردیا ہے
(أنموذج اللبيب في خصائص الحبيب1/236)
.
*③امام مقاتل وفات تقرہبا150ھجری کا عقیدہ:*
لا يَسْتَوِي مِنْكُمْ فى الفضل والسابقة مَنْ أَنْفَقَ مِنْ ماله قَبْلِ الْفَتْحِ فتح مكة «وَقاتَلَ» «1» العدو أُولئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً يعني جزاء مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ من بعد فتح مكة وَقاتَلُوا «2» العدو وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنى يعني الجنة، يعني كلا الفريقين وعد الله الجنة
یعنی
جن صحابہ نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا قتال کیا اور جہاد کیا انکا درجہ زیادہ عظیم ہے ان صحابہ سے کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا جہاد کیا لیکن سب صحابہ کے لئے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے
(تفسير مقاتل بن سليمان4/239)
.
*④امام ابن وھب وفات تقریبا192ہجری کا عقیدہ:*
{لا يستوي منكم من أنفق من قبل الفتح}، قال: فتح مكة...فَالْحُسْنَى الْجَنَّةُ
یعنی
فتح مکہ سے پہلے جنہوں نے خرچ کیا وہ عظیم درجے والے ہیں ان کے برابر نہیں ہو سکتے وہ صحابہ کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا لیکن سب صحابہ کے لئے جنت کا وعدہ ہے
(تفسير القرآن من الجامع لابن وهب62 ,1/176)

.
*⑤امام سمرقندی وفات تقریبا 373ھجری کا عقیدہ:*
.من أنفق وقاتل مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ يعني: فتح مكة. ونزلت الآية في شأن أصحاب رسول الله صلّى الله عليه وسلم المهاجرين والأنصار. يعني: الذين أنفقوا أموالهم مع رسول الله صلّى الله عليه وسلم، وقاتلوا الكفار، لا يستوي حالهم وحال غيرهم. ويقال: هذا التفضيل لجميع أصحابه رضي الله عنهم أجمعين.
وعد الله كلا الحسني يعني الجنة
یعنی
یہ آیت مبارکہ صحابہ کرام کے بارے میں نازل ہوئی کہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا تھا جہاد کیا کہ یہ عظیم مرتبے والے ہیں ان کے مرتبے کو وہ صحابہ نہیں پہنچ سکتے کہ جو فتح مکہ کے بعد والے ہیں لیکن سب کے سب صحابہ کے لیے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير السمرقندي = بحر العلوم3/403ملتقطا)
.
*⑥امام ابن ابی زمنین وفات399ھجری کاعقیدہ:*
لا یَسْتَوِي من أنْفق مِنْكُم من قبل الْفَتْح وَقَاتل، وَهُوَ فتح مَكَّة.
(أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ لْحُسْنَى} يَعْنِي: الْجنَّة؛ من أنْفق وَقَاتل قبل فتح مَكَّة وَبعده
یعنی
تم صحابہ کرام میں سے جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیا ان کا درجہ ان صحابہ کرام سے زیادہ ہے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا لیکن سب صحابہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے، چاہے فتح مکہ سے پہلے والے ہوں یا فتح مکہ کے بعد والے
(تفسير القرآن العزيز لابن أبي زمنين4/349,350)
.
*جواب دوئم*
اگر بالفرض مان لیا جائے کہ یہ نعرہ ابن حزم کا اختراع کردہ ہے تو بعد کے معتبر علماء کا اس نعرے کو اپنا لینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ابن حزم کے مردود قولوں میں سے نہیں ہے جیسے کہ نیچے تفصیل آرہی ہے
.====================
چمن زمان صاحب لکھتے ہیں
تلاش بسیار کے باوجود کتب متقدمین و متاخرین میں تمام تر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے جنتی ہونے کا نظریہ بطور فکر اہلسنت نہ مل سکا جن علماء نے ذکر کیا انہوں نے اسے ابن حزم ظاہری کے حوالے سے نقل کیا اور ابن حزم ظاہری کے بارے میں گزارش کیا جا چکا ہے کہ وہ بد عقیدہ اور بدمزہب قسم کا شخص تھا
(دیکھیے جدید نعرے ص67,68)
۔
جواب نمبر1:
الحديث:
الكَلِمَةُ الحِكْمَةُ ضَالَّةُ المُؤْمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے تو جہاں وہ پائے اسے لے لے
(سنن الترمذي ت شاكر ,5/51 حدیث2687)
(سنن ابن ماجه ,2/1395حدیث4169)
۔
قَدْ يَصْدُقُ الْكَذُوبَ
ترجمہ:
بہت بڑا جھوٹا کبھی سچ بول دیتا ہے
(فتح الباری9/56،)
اول بات تو یہ ہے کہ ابن حزم سے پہلے کے علماء نے صحابہ کرام کو جنتی قرار دے دیا تھا ، یہ نعرہ لگا لیا تھا جیسے کہ اوپر بیان ہوا البتہ اگر آپ کے دعوے کو مان بھی لیا جائے کہ ابن حزم سے پہلے کسی نے جنتی قرار نہ دیا تھا تو بھی ابن حزم کی بات کو رد کر دینا برحق نہیں کیونکہ بہت بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ اور دانشمندی کی بات کہہ دیتا ہے لہذا ابن حزم کی بات کو قرآن و سنت و آثار و اقوال اہلسنت پر رکھیں گے اگر وہ اس کے موافق ہوا تو اسے قبول کریں گے... اسکا یہ نعرہ قرآن و سنت و اقوال و آثار کے موافق ہے لیھذا مقبول
.
جواب نمبر2:
ابن حزم سے قبل کے علماء کا عقیدہ بتایا جاچکا کہ ہر صحابی نبی جنتی جنتی...اکثر تفاسیر سے یہی نعرہ و معنی ثابت ہوتا ہے بطور تبرک ہم صرف بارہ وہ حوالے پیش کر رہے ہین جنہوں نے خود سے تفسیر کی، ابن حزم کا قول نقل کرتے ہوئے تفسیر نہ کی...لہذا کہنا کہ بعد کے علماء نے ابن حزم کی پیروی کی یہ سراسر جھوٹ کہلائے گا بدگمانی کہلائے گی کم علمی کم توجہی کہلائے گی
.
①يعني: فتح مكة {وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى} كلا الفريقين وعد الله الحسنى الجنة
یعنی
فتح مکہ سے پہلے والے اور فتح مکہ کے بعد والے سب صحابہ کرام سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(التفسير الوسيط4/246)
.
②يستوي منكم مَنْ أنفق من قبل الفتح} يعني: فتح مكَّة {وقاتل} جاهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أعداء الله {أولئك أعظم درجة} يعني: عند الله {من الذين أنفقوا من بعد} الفتح {وقاتلوا وكلاً} من الفريقين {وعد الله الحسنى} الجنَّة
یعنی
فتح مکہ سے پہلے جن صحابہ کرام نے خرچ کیا اور جہاد کیا ان کا درجہ ان سے زیادہ ہے کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا لیکن سب صحابہ سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(الوجيز للواحدي تحت سورہ حدید ایت10)
.
③ثواباً جزيلاً وهو الجنة، و (منهم) هنا بيانية وليست تبعيضية، (وعد الله الذين آمنوا وعملوا الصالحات منهم) هذه بيان لجميع الصحابة، وليست لبعض منهم
یعنی
فتح مکہ والے اور فتح مکہ کے بعد والے سب سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے یہ آیت و فضیلت تمام صحابہ کرام کے لئے ہے بعض کے لئے نہیں ہے
(تفسير محمد إسماعيل المقدم تفسیر سورہ فتح آیت25_29)
.
④ أَي: لَا يَسْتَوِي من أنْفق وَقَاتل قبل فتح مَكَّة، وَمن أنْفق وَقَاتل بعد فتح مَكَّة..{وكلا وعد الله الْحسنى} أَي: الْجنَّة
یعنی
جن صحابہ کرام نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ اور وہ صحابہ کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا جہاد کیا برابر نہیں ہو سکتے لیکن تمام صحابہ کرام سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(السمعاني، أبو المظفر5/367,368)
.
⑤لاَ يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ ... الآية: الأشهر في هذه الآية أَنَّها نزلت بعد الفتح، واخْتُلِفَ في الفتح المشار إليه فقال أبو سعيد الخُدْرِيُّ والشَّعْبِيُّ «1» : هو فتح الحديبية، وقال قتادة، ومجاهد، وزيد بن أسلم «2» : هو فتح مكة الذي أزال الهجرة، قال ع «3» : وهذا هو المشهور...والْحُسْنى: الجنة،
یعنی
آیت میں فتح سے مراد کیا ہے ایک قول یہ ہے کہ فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور یہی قول مشہور ہے اور اچھے وعدے سے مراد جنت ہے یعنی تمام صحابہ کرام کے لیے جنت کا وعدہ ہے
(تفسير الثعالبي5/380)
.
.
⑥لاَ يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الفتح وقاتل} أي فتح مكة قبل عز الإسلام وقوة أهله ودخول الناس في دين الله أفواجاً ومن أنفق من بعد الفتح فحذف لأن قوله مّنَ الذين أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ يدل عليه {أولئك} الذين أنفقوا قبل الفتح وهم السابقون الأولون من المهاجرين والأنصار الذين قال فيهم النبي صلى الله عليه وسلم لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهباً ما
بلغ مد احدم ولا نصيفه
{أَعْظَمُ دَرَجَةً مّنَ الذين أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ وقاتلوا وَكُلاًّ} أي كل واحد من الفريقين {وَعَدَ الله الحسنى} أي المثوبة الحسنى وهي الجنة
خلاصہ
وہ صحابہ کرام کے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد کیا اور خرچ کیا اور وہ صحابہ کرام کہ جو جنہوں نے فتح مکہ کے بعد جہاد کیا خرچ کیا دونوں برابر نہیں ہو سکتے لیکن دونوں کے لیے اللہ تعالی نے اچھا وعدہ ہے یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير النسفي 3/435)
.
.
⑦لا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ قبل فتح مكة قبل عز الإسلام وقوّة أهله ودخول الناس في دين الله أفواجا وقلة الحاجة إلى القتال والنفقة فيه، ومن أنفق من بعد الفتح فحذف لوضوح الدلالة أُولئِكَ الذين أنفقوا قبل الفتح وهم السابقون الأولون من المهاجرين والأنصار الذين قال فيهم النبي صلى الله عليه وسلم:
«لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما بلغ مدّ أحدهم ولا نصيفه» «2» أَعْظَمُ دَرَجَةً. وقرئ:
قبل الفتح وَكُلًّا وكل واحد من الفريقين وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنى أى المثوبة الحسنى وهي الجنة
خلاصہ
وہ صحابہ کرام کے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد کیا اور خرچ کیا اور وہ صحابہ کرام کے جو جنہوں نے فتح مکہ کے بعد جہاد کیا خرچ کیا دونوں برابر نہیں ہو سکتے لیکن دونوں کے لیے اللہ تعالی نے اچھا وعدہ ہے یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير الزمخشري 4/474)
.

⑧الْمُرَادُ بِهَذَا الْفَتْحِ فَتْحُ مَكَّةَ،: أَيْ وَكُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ وَعَدَ اللَّه بالحسنى أَيِ الْمَثُوبَةَ الْحُسْنَى، وَهِيَ الْجَنَّةُ
آیت میں فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور دونوں فریقین یعنی سب صحابہ کے لئے اللہ تعالی نے اچھا وعدہ یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير29/453)
.
⑨وَالْجُمْهُورُ على أن المراد بالفتح هاهنا فَتْحُ مَكَّةَ،
جمہور اور اکثر علماء اس بات پے ہیں کہ یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہے
(تفسير ابن كثير ط العلمية8/46)
.
.10:أَكْثَرُ الْمُفَسِّرِينَ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْفَتْحِ فَتْحُ مَكَّةَ...(وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنى) أَيِ الْمُتَقَدِّمُونَ الْمُتَنَاهُونَ السَّابِقُونَ، وَالْمُتَأَخِّرُونَ اللَّاحِقُونَ، وَعَدَهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا الْجَنَّةَ مَعَ تَفَاوُتِ الدَّرَجَاتِ
یعنی
اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور اللہ تعالی نے سب صحابہ کے لئے جنت کا وعدہ کیا ہے درجات کی اونچ نیچ کے ساتھ
(تفسير القرطبی,17/239,241)
.
11:وَظَاهِرُ لَفْظِ الْفَتْحِ أَنَّهُ فَتْحُ مَكَّةَ فَإِنَّ هَذَا الْجِنْسَ الْمُعَرَّفَ صَارَ عَلَمًا بِالْغَلَبَةِ عَلَى فَتْحِ مَكَّةَ، وَهَذَا قَوْلُ جُمْهُورِ الْمُفَسِّرِينَ
یعنی
ظاہر یہی ہے کہ فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور یہ جمہور مفسرین کا قول ہے
(التحرير والتنوير 27/374 )
.
12:لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ} يَعْنِي فَتْحَ مَكَّةَ فِي قَوْلِ أَكْثَرِ الْمُفَسِّرِينَ، وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: هُوَ صُلْحُ الْحُدَيْبِيَةِ {وَقَاتَلَ} يَقُولُ: لَا يَسْتَوِي فِي الْفَضْلِ مَنْ أَنْفَقَ مَالَهُ وَقَاتَلَ الْعَدُوَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ مَعَ مَنْ أَنْفَقَ وَقَاتَلَ بَعْدَهُ {أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا} .وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى} أَيْ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ وَعَدَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
یعنی
امام شعبی کا قول ہے کہ فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے لیکن اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہےاور وہ صحابہ کرام کہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا جہاد کیا ان کا درجہ عظیم ہے ان صحابہ کرام سے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا جہاد کیا اور اللہ تعالی نے دونوں فریقین یعنی سب صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير البغوي - طيبة8/33,34)
.===================
چمن زمان صاحب لکھتے ہیں
ہم باب نظریات میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی شخصیت پر مکمل اعتماد کرتے ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس باب میں مستقل رسالہ لکھا،صحابہ کرام کے بارے میں صحابہ کے جنتی ہونے کا نظریہ کہیں بھی بیان نہیں فرمایا
(دیکھیےجدید نعرے ص57,58)
.
جواب:
سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں صحابہ کرام جنتی ہیں جہنم سے دور، جہنم کی بھنک تک نہ پائیں گے:
رب عزوجل کہ عالم الغیب والشہادہ ہے اس نے صحابہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی دو قسمیں فرمائیں ، مومنین قبل الفتح جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے راہ خدا میں خرچ و جہاد کیا اور مومنین بعد الفتح جنہوں نے بعد کو، فریق اول کو دوم پر تفضیل عطا فرمائی کہ:لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا؂ ۲
تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا ، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۰)
اورساتھ ہی فرمادیا۔وکلا وعد اﷲ الحسنی ۔۳؂دونوں فریق سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرمالیا۔ اور ان کے افعال پر جاہلانہ نکتہ چینی کا دروازہ بھی بند فرمادیا کہ ساتھ ہی ارشادہوا۔واﷲ بما تعملون خبیر ۔۴؂
اللہ کو تمہارے اعمال کی خوب خبر ہے، یعنی جو کچھ تم کرنے والے ہو وہ سب جانتا ہے بااینہہ تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا خواہ سابقین ہوں یا لاحقین ،
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۵۷/۱۰) ( ۴ ؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۰)
اور یہ بھی قرآن عظیم سے ہی پوچھ دیکھئے کہ مولی عزوجل جس سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا اس کے لیے کیا فرماتا ہے:ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون لایسمعون حسیسہا وھم فیما اشتھت انفسھم خلدون لایحزنہم الفزع الاکبرو تتلقھم الملئکۃ ھذا یومکم الذی کنتم توعدون ۔۱؂
بے شک جن سے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانتی مرادوں میں ہمیشہ رہیں گے، انہیں غم میں نہ ڈالے گی بڑی گھبراہٹ، فرشتے ان کی پیشوائی کوآئیں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۱/۱۰۱ و ۱۰۳)
(فتاوی رضویہ29/265)
چمن زمان صاحب نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ افکار رضا کے پابند ہیں تو یہ افکار رضا پڑھنے کے بعد امید ہے اپنی کتاب کو کلعدم قرار دے دیں گے، پابندی لگائیں گے اور توبہ رجوع کریں گے اور آئندہ لکھنے سے پہلے مخالفین موافقین سے تصحیح و تصدیق کرائیں گے کہ بار بار غلطی کر رہے ہیں
.==================
چمن زمان صاحب نے چند حوالے نقل کئے کہ کسی کے جنتی ہونے کی شہادت دینا اور کسی سے برات کا اظہار کرنا دونوں بدعت ہیں۔۔۔(لہذا ہر صحابی نبی جنتی جنتی نعرہ بدعتی ہے۔۔۔علی معاویہ جنتی جنتی بدعتی نعرہ ہے )
(دیکھیے جدید نعرے ص43)
.
جواب:
مذکورہ عبارات سے غلط مفہوم دینے کی کوشش کی گئی ہے اس قسم کی عبارت کا مفہوم کیا ہے آئیے اسلاف کی زبانی سنتے ہیں
وحكى أن صنفاً من الخوارج تفردوا بقول أحدثوه وهو قطعهم الشهادة على أنفسهم ومن وافقهم أنهم من أهل الجنة من غير شرط ولا استثناء.
یعنی
جنت کی گواہی دینا اور جہنم کی گواہی دینا اور برات کا اظہار کرنا یہ بدعت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر شرط بغیراستثناء بغیر دلیل کےجنتی قرار دینا بدعت ہے( کیا پتا اس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو جب کہ صحابہ کرام کے بارے میں احادیث اور اقوال موجود ہیں کہ وہ جنتی ہیں اور صحابی کہتے ہی اس کو ہیں کہ جس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور اس نے زیارت رسول کی ہو )
(الأشعري ,مقالات الإسلاميين ص119)
.
وَمَعْنَى الشَّهَادَةِ: أَنْ يَشْهَدَ عَلَى مُعَيَّنٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ أَنَّهُ كَافِرٌ، بِدُونِ الْعِلْمِ بِمَا خَتَمَ اللَّهُ [لَهُ] بِهِ
یعنی
یہ جو کہا جاتا ہے کہ کسی کے جنتی اور جہنمی ہونے کی شہادت نہیں دینی چاہیے اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی معین مسلمان شخص کے جہنم اور جنتی ہونے کی گواہی نہیں دینی چاہیے کیونکہ اس کو علم نہیں ہے کہ اس کا خاتمہ کس چیز پر ہوگا(جب کہ صحابہ کرام کے بارے میں احادیث اور اقوال موجود ہیں کہ وہ جنتی ہیں اور صحابی کہتے ہی اس کو ہیں کہ جس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور اس نے زیارت رسول کی ہو )
[ابن أبي العز ,شرح الطحاوية - ط دار السلام ,page 471]
.

ومعنى الشهادة: أن يشهد على معين من المسلمين أنه من أهل النار أو أنه كافر، بدون العلم بما ختم الله له به
یعنی
یہ جو کہا جاتا ہے کہ کسی کے جنتی اور جہنمی ہونے کی شہادت نہیں دینی چاہیے اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی معین مسلمان شخص کے جہنم اور جنتی ہونے کی گواہی نہیں دینی چاہیے کیونکہ اس کو علم نہیں ہے کہ اس کا خاتمہ کس چیز پر ہوگا(جب کہ صحابہ کرام کے بارے میں احادیث اور اقوال موجود ہیں کہ وہ جنتی ہیں اور صحابی کہتے ہی اس کو ہیں کہ جس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور اس نے زیارت رسول کی ہو )
(كتاب شرح الطحاوية لناصر العقل6/97)
.=======================
ہر صحابی نبی جنتی چند مزید حوالے
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَعَنْ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ ضَمِنَ اللَّهُ لَهُمْ فِي كِتَابِهِ أَنَّهُ لَا يُخْزِيهِمْ , وَأَنَّهُ يُتِمُّ لَهُمْ نُورَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَيَغْفِرُ لَهُمْ...أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ , وَأَنَّهُ أَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا , فَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , وَنَفَعَنَا بِحُبِّهِمْ , وَبِحُبِّ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَبِحُبِّ أَزْوَاجِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ
یعنی
اللہ تعالی تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جائے کہ جن کے بارے میں اللہ تعالی نے ضمانت دی ہے اپنی کتاب میں اور ان کے لیے تیار رکھا ہے جنت کو اور ان سے راضی ہوا ہے اللہ ہمیں ان کی محبت سے سرفراز فرمائے اور اہل بیت کی محبت عطا فرمائے اور ازواج مطہرات کی محبت عطا فرمائے
(الشريعة للآجري قبل الحدیث1168)
.
کسی بھائی کی وال سے شیخ محقق کی عبارت ملی , پڑھیے:
سنو! شیخِ مُحَقّقْ لکھتے ہیں "عام مخلوق جان لے کہ دخول جنت کی بشارت ان ہی دسوں کی ساتھ قطعی اور مخصوص ہے یہ گمان محض غلط اور صریح جھالت ہے ۔
شیخ محقق مزید لکھتے ہیں " حق وصواب یہی ہے کہ خلفاء اربعہ فاطمہ وحسن وحسین وغیرہم رضی اللہ عنھم کی بشارت مشہور اور اصل بحدِ تواتر معنوی ہے، باقی عشرہ مبشرہ کی بشارت بھی بحدِ شہرت پنہچی ہوئ ہے اور بعض دیگر صحابہ بھی اخبار احاد سے تفاوتِ مراتب کے ساتھ صاحبِ بشارت ہیں ۔
تکمیل الایمان صفحہ 161 تا 165)
(انتھی)
.
غوث اعظم دستگیر فرماتے ہیں
ومن رآني فله الجنة
حضور علیہ الصلوۃ و السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے مجھے دیکھا(یعنی صحابہ کرام جن کی وفات حالات اسلام میں ہوئی)وہ سب جنتی ہیں
( الغنية لطالبي طريق الحق2/144)
.
يُشِيرُ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ إِلَى الرَّدِّ عَلَى الرَّوَافِضِ وَالنَّوَاصِبِ. وَقَدْ أَثْنَى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى الصَّحَابَةِ هُوَ وَرَسُولُهُ، وَرَضِيَ عَنْهُمْ، وَوَعَدَهُمُ الْحُسْنَى.كَمَا قَالَ تَعَالَى: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [التَّوْبَةِ: 100] .
یعنی
علامہ طحاوی رحمۃ اللہ تعالی اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس میں رد ہے رافضیوں کا اور ناصبیوں کا وہ اس طرح کے اللہ تعالی نے تمام صحابہ کرام سے سابقین اولین مہاجرین و انصار وغیرہ جو ان کے بعد آئے ان سب سے اللہ تعالی راضی ہوا اور ان کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے
(,شرح الطحاوية ت الأرناؤوط ,2/689)
.
الحدیث:
لاَ تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے مجھے حالت اسلام میں دیکھا (اور اس کی وفات حالت ایمان میں ہوئی )تو اسے آگ نہ چھوئے گی اور اس کو بھی آگ نہ چھوئے گی جو میرے صحابہ کو حالت ایمان میں دیکھے(اور حالت ایمان میں وفات پا جائے)
(ترمذی حدیث3858حسن)
(حسن، كتاب مشكاة المصابيح حدیث6013)
( جامع الأحاديث حدیث16938)
( الرياض النضرة 1/220)
(الجامع الصغير وزيادته حدیث14424)
(السنة لابن أبي عاصم 2/630)
(کنز العمال حدیث32480-)
.
چمن زمان کے دلائل کا خلاصہ اور ہمارے جواب کا خلاصہ:
چمن زمان کی کتاب کا خلاصہ کیا جائے تو خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ایک صحابی کے بارے میں نبی پاک نے فرمایا کہ اسے عذاب ہو رہا ہے اور سیدہ عائشہ کو فرمایا کہ تم بچے کو جنتی نہ کہو اور اسلاف نے فرمایا کہ جنت کی گواہی دینا برات کا اظہار کرنا بھی بدعت ہے اور اسلاف نے لکھا کہ ہم جن کو رسول اللہ نے بشارت دی جنت کی ان کے علاوہ کسی کو جنت کی گواہی نہیں دیتے(اور چمن زمان کے انداز سیاق و سباق سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے مطابق تمام صحابہ کرام کو جنت کی گواہی نہیں دی گئی)
.
خلاصہِ جواب:
چمن صاحب نے کہا تھا کہ انہیں اعلی حضرت پر مکمل اعتماد ہے اور ہم نے اعلی حضرت سے یہ دکھا دیا کہ صحابہ کرام کو جہنم کی آگ چھوئے گی تک نہیں۔۔۔پھر چمن زمان کو یہ بھی دکھا دیا کہ ابن حزم سے پہلے کا قول موجود ہے کہ ہر صحابی نبی جنتی جنتی۔۔۔پھر متقدمین و متاخرین کے اقوال ذکر کیے کے تمام صحابہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے اور پھر حدیث پاک بھی بتا دی کہ صحابہ کرام کو آگ چھوئے گی تک نہیں۔۔۔اب رہا یہ سوال کی ایک صحابی کو بظاہر عذاب ہو رہا تھا اور نبی پاک نے بھی بی عائشہ کو جنتی کہنے سے روکا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ عین ممکن ہے کہ وہ وہ صحابی نہ ہو بلکہ منافق ہو یا پھر عین ممکن ہے کہ اس وقت نبی پاک کو یہ بشارت جنت للصحابہ نہ ملی ہو ، پھر بعد میں فتح مکہ کے بعد یہ بشارت بھی ملی ہو کے آپ کا ہر صحابی جنتی جنتی۔۔۔رہی بات ان اسلاف کی جنہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ کی گواہی کے بغیر کسی کو جنتی قرار نہ دیں گے تو اس کا مطلب ہم اوپر بیان کر چکے کہ یہ زندہ کے بارے میں ہے کیونکہ بخاری کی حدیث پاک میں ہے کہ اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے اور زندہ شخص کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا خاتمہ کس چیز پر ہوگا لہذا کسی مسلمان کے جنتی ہونے کی امید کی جاسکتی ہے لیکن لیکن یوں کہا جائے گا کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا تو جنتی اگر ایمان پر خاتمہ نہ ہوا تو جنتی نہیں اس قسم کی شرط اور شہادتِ رسول کے بغیر قطعی جنتی کہنا بدعت ہے...جبکہ صحابہ کرام کے
.
④عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ هُوَ الْمُصِيبَ الْمُحِقَّ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانُوا بُغَاةً مُتَأَوِّلِينَ وَفِيهِ التَّصْرِيحُ بِأَنَّ الطَّائِفَتَيْنِ مُؤْمِنُونَ لَا يَخْرُجُونَ بِالْقِتَالِ عَنِ الْإِيمَانِ وَلَا يَفْسُقُونَ وَهَذَا مَذْهَبُنَا وَمَذْهَبُ مُوَافِقِينَا
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ درستگی پر تھے حق پر تھے اور دوسرا گروہ یعنی سیدنا معاویہ کا گروہ وہ باغی تھے لیکن تاویل کرنے والے تھے دونوں گروہ مومنین ہیں دونوں گروہ ایمان سے نہیں نکلتے اور دونوں گروہ فاسق نہیں ہیں یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی مذہب ہمارے(عقائد میں)موافقین(حنفی حنبلی مالکی وغیرہ تمام اہل سنت)کا ہے
(شرح مسلم للنووی7/168)
.
سچوں(کو پہچان کر ان)کا ساتھ دو(سورہ توبہ آیت119)
دین و دنیا کو بدنام تو جعلی منافق مکار کر رہےہیں....عوام و خواص سب کو سمجھنا چاہیےکہ #جعلی_مکار_منافق تو علماء پیر اینکر لیڈر سیاست دان جج وکیل استاد ڈاکٹر فوجی وغیرہ افراد و اشیاء سب میں ہوسکتےہیں،ہوتے ہیں
تو
جعلی کی وجہ سے #اصلی سےنفرت نہیں کرنی چاہیےبلکہ اصلی کی تلاش اور اسکا ساتھ دینا چاہیے
.
سیدنا معاویہ و دیگر صحابہ کرام عادل ثقہ نیک متقی ابرار تھے اس پر حوالہ جات
اور
سیدنا معاویہ وغیرہ کی فضیلت و حکم کتب شیعہ سے اس فیسبک لنک پے ملاحظہ کیجیے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=899597667463232&id=100022390216317
.
چمن زمان کے رد پے مختصر رسالہ بھی میں نے لکھا ہے اس لنک سے ڈائنلوڈ کریں،
https://drive.google.com/file/d/17d3drwVYi4NRJMPKzbid8OEnvq2h0ecy/view?usp=drivesdk
ڈانلوڈ نہ ہو تو تبصرہ یا tabsaraلکھ کر وتس اپ مسج کریں
.
تحریر : العاجز الحقیر
علامہ عنایت اللہ حصیر
Facebook, WhatsApp, BIP Number
00923468392475
03468392475

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2967101576902483&id=100008080090753
بارے میں رسول کریم کی بشارت موجود ہے ائمہ اسلاف کے اقوال موجود ہیں، صحابی کی تعریف میں ہی یہ قید لگائی گئی ہے کہ صحابی وہ ہوتا ہے کہ جسکی وفات ایمان پر ہو....لہذا ہر صحابی نبی جنتی جنتی ثابت ہو گیا اور ثابت ہوگیا کہ یہ حق و سچ ہے اور اسلاف کا نعرہ ہے
.
صحابی کی معتبر ڈیفینیشن محققین اہلسنت کے مطابق کیا ہے حق چار یار کی نسبت سے چار حوالہ جات پیش ہیں
۔
①الصَّحابيِّ مَنْ لَقِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ [تَعالى] عليهِ [وآلهِ] وسلَّمَ ُمؤمِناً بهِ وماتَ عَلى الإِسلامِ
صحابی اس کو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو یا ملاقات کی ہو اور اس کی وفات اسلام پر ہوئی ہو
[نزهة النظر في توضيح نخبة الفكرpage 111]
.

②مَنْ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا وَمَاتَ عَلَى إِسْلَامِهِ.
صحابی وہ ہے جس نے اسلام کی حالت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو یا ملاقات کی ہو اور اسلام پر ہی وفات پائی ہو
[تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي ,2/667]
.

③من لَقِيَ النبيَّ صلى الله عليه وسلم مسلمًا، ومات على الإسلام،
صحابی وہ ہے جس نے اسلام کی حالت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو یا ملاقات کی ہو اور اسلام پر ہی وفات پائی ہو
[تيسير مصطلح الحديث ,page 243]
.
④أن التعريف المبني على الأصح المختار عند المحققين هو أن الصحابي هو من لقي النبي صلى الله عليه وسلم مؤمنا به ومات على الإسلام
صحابی کی تعریف کہ جو مختار و معتبر ہے محققین کے مطابق وہ یہ ہے کہ صحابی اس کو کہتے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہو یا دیکھا ہو ان پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کی وفات بھی اسلام پر ہوئی ہو
[منهج الإمام أحمد في إعلال الأحاديث ملخصا ,2/671]
.
لہذا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتد ہو گئے وہ صحابہ نہیں،صحابی تو ہوتا ہے کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے یا ملاقات کرے اور حالت ایمان پر اس کی وفات ہو۔۔۔۔صحابہ کرام تمام کے تمام عدول و نیک اور جنتی ہیں ان میں کوئی بھی کافر مرتد گستاخ فاسق نہیں۔۔۔۔حتی کہ آپس میں جنگ کرنے والے صحابہ کرام مثلا سیدنا معاویہ سیدنا علی وغیرہ رضی اللہ عنھم اجمعین بھی فاسق نہیں۔۔۔صحابہ کرام کو عادل و نیک ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ قرآن کی آیات اور احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام عادل اور نیک تھے مرتد گستاخ و فاسق نہیں
حق چار یار کی نسبت سے 4حوالہ جات اس بات پر بھی پڑھتے جائیے
۔
①قَالَ الخَطِيْبُ البَغْدَادِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بَعْدَ أنْ ذَكَرَ الأدِلَّةَ مِنْ كِتَابِ اللهِ، وسُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -، الَّتِي دَلَّتْ على عَدَالَةِ الصَّحَابَةِ وأنَّهُم كُلُّهُم عُدُوْلٌ، قَالَ: «هَذَا مَذْهَبُ كَافَّةِ العُلَمَاءِ، ومَنْ يَعْتَدُّ بِقَوْلِهِم مِنَ الفُقَهَاءِ
خطیب بغدادی نے قرآن سے دلاءل ذکر کیے، رسول اللہ کی سنت سے دلائل ذکر کیے اور پھر فرمایا کہ ان سب دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم گمراہ نہیں)اور یہی مذہب ہے تمام علماء کا اور یہی مذہب ہے معتدبہ فقہاء کا
الكفاية ص67
.
②الصحابة كلهم عدول من لابس الفتن وغيرهم بإجماع من يعتد به
تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم گمراہ نہیں)وہ صحابہ کرام بھی عادل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے(مثلا سیدنا معاویہ وغیرہ) اور جو نہ پڑے، سب صحابہ عادل ہیں اور اس پر معتد بہ امت کا اجماع ہے
التدريب ص204)
[مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،1/211)
.
③أجمعت الأمة على وجوب الكف عن الكلام في الفتن التي حدثت بين الصحابة.
ونقول: كل الصحابة عدول، وكل منهم اجتهد، فمنهم من اجتهد فأصاب كـ علي فله أجران، ومنهم من اجتهد فأخطأ كـ معاوية فله أجر، فكل منهم مأجور، القاتل والمقتول، حتى الطائفة الباغية لها أجر واحد لا أجران، يعني: ليس فيهم مأزور بفضل الله سبحانه وتعالى.

امت کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام میں جو فتنے جنگ ہوئی ان میں نہ پڑنا واجب ہے تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم گمراہ نہیں)ان میں سے ہر ایک مجتہد ہے اور جو مجتہد حق کو پا لے جیسے کہ سیدنا علی تو اسے دو اجر ہیں اور جو مجتہد خطاء پر ہو جیسے سیدنا معاویہ تو اسے ایک اجر ملے گا لہذا سیدنا علی اور معاویہ کے قاتل مقتول سب جنتی ہیں حتیٰ کہ سیدنا معاویہ کا باغی گروہ بھی جنتی ہے اسے بھی ایک اجر ملے گایعنی تمام صحابہ میں سے کوئی بھی گناہ گار و فاسق نہیں اللہ کے فضل سے
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي ١٣/٦٢]
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےعادل ہونےاور گمراہ فاسق منافق نہ ہونے پے40سےزائدحوالہ جات
نیز
صحابہ و سیدنا معاویہ رضی اللہ عنھم اجمعین کے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کے چند اقوال و حکم، شیعہ کتب سے...........!!*
.
تعدیل صحابہ , تعدیل سیدنا معاویہ پے سینکڑوں حوالہ جات نقل کیے جاسکتے ہیں مگر ہم ان میں سےتقریبا چالیس کو ذکر کر رہے ہیں کیونکہ یہاں اختصار مقصود اور عدد چالیس اسلاف کو محبوب
.
الحدیث:
لَا تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ»
حضرت معاویہ کا تذکرہ خیر کےساتھ ہی کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی وعلیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! اسے(ہدایت یافتہ بنا کر اسے)ذریعہ ہدایت بنا۔
(سنن الترمذي ت شاكر ,5/687حدیث3843)
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا سیدنا معاویہ اور ان کا گروہ فاسق منافق نہ تھےہدایت یافتہ تھے اگرچہ اجتہادی خطا پر تھے کیونکہ اجتہادی خطا پر بھی ایک ثواب ملتا ہے
.
الحدیث:
جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اسْتَوْصِ مُعَاوِيَةَ ; فَإِنَّهُ أَمِينٌ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ، وَنِعْمَ الْأَمِينُ هُوَ
جناب جبریل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! معاویہ سے خیر خواہی کرو کیونکہ وہ اللہ کی کتاب پر امین ہیں اور وہ کیا ہی اچھے امین ہیں۔
(الطبراني ,المعجم الأوسط ,4/175حدیث3902)
(جامع الأحاديث ,1/200حدیث321)
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا حضرت معاویہ کو امین کہنا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا انکار نا فرمانا بلکہ سیدنا معاویہ کو کاتب رکھ لینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ آمین ایماندار تھے فاسق منافق نہ تھے
.
.
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِمُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ، وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ»
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت معاویہ بن سفیان کیلئے دعا فرمائی،اے اللہ اسے لکھنا اور حساب سکھا اور اسے عذاب سے محفوظ فرما۔
(السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/459 حدیث712)
(فضائل الصحابة لاحمد بن حنبل حدیث1749)۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اللہ تعالی سیدنا معاویہ کو عذاب سے بچائے اور نبی پاک کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا سیدنا امیر معاویہ جنتی ہیں فاسق منافق نہیں, انہیں عذاب نہ ہوگا جب کہ فاسق منافق کو عذاب ہوتا ہے
.
النبي صلى الله عليه وسلم انه قال لمعاوية: " اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے
(ترمذی حدیث3842)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا حضرت امیر معاویہ ہدایت یافتہ تھے فاسق منافق نہیں۔۔۔بلکہ اکثر معاملات میں ہدایت دینے والے مجتہد تھے اکا دکا معاملات میں اجتہادی خطا ان سے ہوئی جس پر ایک اجر ملے گا
.
۔
رباح بن الجراح الموصلي قال : سمعت رجلاً يسأل المعافى بن عمران فقال : يا أبا مسعود، أين عمر بن عبد العزيز من معاوية بن أبي سفيان ؟ فغضب من ذلك غضباً شديداً وقال : لا يقاس بأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أحد، معاوية صاحبه وصهره وكاتبه وأمينه على وحي الله عز وجل
سیدنا ابومسعود سے کسی نے پوچھا کہ عمر بن عبدالعزیز بہتر ہیں یا معاویہ ابو مسعود شدید غصے میں آ گئے اور فرمایا کہ صحابہ کرام کے ساتھ کسی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا معاویہ صحابی ہیں نبی پاک کے رشتے دار ہیں ان کے کاتب ہیں اور امین ہیں(فاسق و منافق نہیں ہیں )
(تاريخ بغداد ( 1/2099 )
.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ: أَنَّ أَصْحَابَ عَلِيٍّ سَأَلُوهُ عَمَّنْ قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاوِيَةَ مَا هُمْ؟ قَالَ: هُمْ مُؤْمِنُونَ
ترجمہ:
اصحاب علی نے سیدنا علی سے سوال کیا گیا مقتولینِ گروہ معاویہ کے متعلق تو سیدنا علی نے فرمایا کہ وہ سب مومن ہیں(فاسق منافق نہیں)
(5/245منہاج السنۃ)
.
.
سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نےجب سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کی اس وقت سے سیدنا معاویہ برحق "امیر المومنین" قرار پائے، اور آپکی حکومت اچھی(برحق.و.عادلہ)قرار پائی
(دیکھیے بخاری روایت3765, بدایہ نہایہ11/143، تاریخ الخلفاء ص256وغیرہ)
حکومت عادلہ وہ ہوتی ہے جو فاسق منافق ظالم کی نہ ہو
.
قَالَ الْجُمْهُورُ: إِنَّ الصَّحَابَةَ كُلُّهُمْ عُدُولٌ
جمہور اکثریت نے کہا ہے تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ١٠٢/١]
.
الصحابة زكاهم النبي صلى الله عليه وسلم، ولأجل ذلك عدلهم أئمة الحديث، فكلهم عدول
صحابہ کرام کی پاکیزگی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی اسی وجہ سے ائمہ حدیث نے صحابہ کرام کو عادل قرار دیا ہے تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[ اعتقاد أهل السنة، ٦/١]

قال حجة الإسلام الغزالي رحمه الله يحرم على الواعظ وغيره......وما جرى بين الصحابة من التشاجر والتخاصم فانه يهيج بغض الصحابة والطعن فيهم وهم اعلام الدين وما وقع بينهم من المنازعات فيحمل على محامل صحيحة فلعل ذالك لخطأ في الاجتهاد لا لطلب الرياسة او الدنيا كما لا يخفى وقال في شرح الترغيب والترهيب المسمى بفتح القريب والحذر ثم الحذر من التعرض لما شجر بين الصحابة فانهم كلهم عدول خير القرون مجتهدون مصيبهم له أجران ومخطئهم له أجر واحد
۔
حجة الاسلام امام غزالی نے فرمایا کہ صحابہ کرام کے درمیان جو مشاجرات ہوئےان کو بیان کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے خدشہ ہے کہ صحابہ کرام کے متعلق بغض بغض اور طعن پیدا ہو۔ ۔۔۔۔۔صحابہ کرام میں جو مشاجرات ہوئے ان کی اچھی تاویل کی جائے گی کہا جائے گا کہ ان سے اجتہادی خطا ہوئی انہیں حکومت و دنیا کی طلب نہ تھی
ترغیب وترہیب کی شرح میں ہے کہ
مشاجرات صحابہ میں پڑنے سے بچو بے شک تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)تمام صحابہ کرام خیرالقرون ہیں مجتہد ہیں مجتہد میں سے جو درستگی کو پہنچا اس کے لئے دو اجر اور جس نے خطا کی اس کے لیے ایک اجر
[روح البيان، ٤٣٧/٩]
۔

الَّذِي عَلَيْهِ سلف الْأمة وَجُمْهُور الْخلف أَن الصَّحَابَة - رَضِي الله
عَنْهُم - عدُول بتعديل الله تَعَالَى لَهُم
جمہوریت متقدمین علماء و اسلاف اور جمہور متاخرین علماء و اسلاف کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اللہ نے صحابہ کرام کو عادل قرار دیا ہے
(تحبير4/1990)
.
الصحابة كلهم عدول
تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ١٧٨/١٠]
۔
صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم عدول بتعديل الله تعالى لهم وثنائه عليهم وثناء رسوله صلى الله عليه وسلم.
اللہ عزوجل نے صحابہ کرام کی تعدیل کی ہے اللہ عزوجل نے صحابہ کرام کی تعریف و ثنا کی ہے اور نبی پاک نے تعریف و ثنا کی ہے لیھذا تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
عقيدة أهل السنة ص14
.
والصحابة رضي الله عنهم كلهم عدول؛ سواء من لابس الفتن منهم أم لا، وهذا بإجماع من يعتدُّ به،
تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
وہ صحابہ بھی عادل ہیں جو فتنوں جنگوں میں پڑے اور جو نہ پڑے سب صحابہ عادل ہیں اور اس پر سب کا اجماع ہے
[ تيسير مصطلح الحديث، صفحة ٢٤٤]

الصحابة، وهم كلهم عدول.
تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[ابن حجر العسقلاني، النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر، ١٥٤/١]
.
واعلم أن الصحابة رضي اللَّه عنهم كلهم عدول
جان لو کہ تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
(لوائح الأنوار السنية ولواقح الأفكار السنية، ٩٠/٢]
.
قَالَ الخَطِيْبُ البَغْدَادِيُّ رَحِمَهُ اللهُ (463) بَعْدَ أنْ ذَكَرَ الأدِلَّةَ مِنْ كِتَابِ اللهِ، وسُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -، الَّتِي دَلَّتْ على عَدَالَةِ الصَّحَابَةِ وأنَّهُم كُلُّهُم عُدُوْلٌ، قَالَ: «هَذَا مَذْهَبُ كَافَّةِ العُلَمَاءِ، ومَنْ يَعْتَدُّ بِقَوْلِهِم مِنَ الفُقَهَاءِ
خطیب بغدادی نے قرآن سے دلاءل ذکر کیے، رسول اللہ کی سنت سے دلائل ذکر کیے اور پھر فرمایا کہ ان سب دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اور یہی مذہب ہے تمام علماء کا اور یہی مذہب ہے معتد فقہاء کا
الكفاية ص67

الصحابة كلهم عدول
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[شرح أبي داود للعيني، ٥٠٩/٤]
.

أجْمَعَ أهْلُ السُّنَّةِ والجَمَاعَةِ على: أنَّ الصَّحَابَةَ جَمِيْعَهُم عُدُوْلٌ بِلاَ اسْتِثْنَاءٍ
اہل سنت و الجماعت کا اجماع ہے کہ بغیر کسی استثناء کےتمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[تسديد الإصابة فيما شجر بين الصحابة، صفحة ١١٩]
.

جَمِيعَ الصَّحَابَةِ عُدُولٌ بِتَعْدِيلِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
اللہ نے ان کو عادل قرار دیا ہے
[اشرح الزرقاني على الموطأ، ١٠/٤]
.
الصحابة كلهم عدول من لابس الفتن وغيرهم بإجماع من يعتد به
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
وہ صحابہ کرام بھی عادل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اور دوسرے بھی عادل ہیں اور اس پر معتدبہ امت کا اجماع ہے
التدريب (204)

[مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ٢١١/١]
.
والصحابة كلهم ثقات عدول بإجماع أهل السنة،
تمام صحابہ کرام عادل ہیں ثقہ ہیں ( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اس پر اہل سنت کا اجماع ہے
[شرح نخبة الفكر، ٣١/٢]
.
قال ابن الصّلاح: «ثم إن الأمة مجمعة على تعديل جميع الصّحابة ومن لابس الفتن منهم، فكذلك بإجماع العلماء الذين يعتدّ بهم في الإجماع
قال الخطيب البغداديّ في الكفاية» مبوبا على عدالتهم:
عدالة الصحابة ثابتة معلومة بتعديل اللَّه لهم، وإخباره عن طهارتهم واختياره لهم في نص القرآن.
محقق عظیم علامہ ابن صلاح فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
وہ صحابہ کرام بھی عدل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اس پر معتدبہ علماء کا اجماع ہے
محقق عظیم واعظ اور علامہ خطیب بغدادی فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)صحابہ کرام کی تعدیل اللہ نے فرمائی ہے اور اللہ نے ان کی پاکیزگی کی خبر دی ہے
[ابن حجر العسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة، ٢٢/١]
.
۔
فالصحابة جميعاً عدول بتعديل الله
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
اللہ تعالی نے انہیں عادل قرار دیا ہے
[التنوير شرح الجامع الصغير، ٩٠/١]

وَالصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[ابن حجر العسقلاني، فتح الباري لابن حجر، ١٨١/٢]
.
.
وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ مِنَ الْعُدُولِ الْفُضَلَاءِ وَالصَّحَابَةِ النُّجَبَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَمَّا الْحُرُوبُ الَّتِي جَرَتْ فَكَانَتْ لِكُلِّ طَائِفَةٍ شُبْهَةٌ اعْتَقَدَتْ تَصْوِيبَ أَنْفُسِهَا بِسَبَبِهَا وَكُلُّهُمْ عُدُولٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَمُتَأَوِّلُونَ فِي حُرُوبِهِمْ وَغَيْرِهَا وَلَمْ يُخْرِجْ شئ مِنْ ذَلِكَ أَحَدًا مِنْهُمْ عَنِ الْعَدَالَةِ لِأَنَّهُمْ مُجْتَهِدُونَ اخْتَلَفُوا فِي مَسَائِلَ مِنْ مَحَلِّ الِاجْتِهَادِ كَمَا يَخْتَلِفُ الْمُجْتَهِدُونَ بَعْدَهُمْ فِي مَسَائِلَ مِنَ الدِّمَاءِ وَغَيْرِهَا وَلَا يَلْزَمُ مِنْ ذَلِكَ نَقْصُ أَحَدٍ مِنْهُمْ
سیدنا معاویہ عادل فضیلت والے نجباء صحابہ میں سے ہیں باقی جو ان میں جنگ ہوئی تو ان میں سے ہر ایک کے پاس شبہات تھے اجتہاد جس کی وجہ سے ان میں سے کوئی بھی عادل ہونے کی صفت سے باہر نہیں نکلتا اور ان میں کوئی نقص و عیب نہیں بنتا
[النووي ,شرح النووي على مسلم ,15/149]
.
.
كلهم عدول رضي الله تعالى عنهم
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[الملا على القاري، شرح الشفا، ٥٤٤/١]
.

الصحابة وهم عدول
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[منهج الإمام أحمد في إعلال الأحاديث، ١١٠/١]
.

وَمن خَصَائِصه أَن أَصْحَابه كلهم عدُول بِإِجْمَاع من يعْتد بِهِ
اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خصائص میں سے ہے کہ آپ کےتمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اس پر معتد بہ علماء و امت کا اجماع ہے
[السيوطي، الخصائص الكبرى، ٤٦٨/٢]
.

- أن الصحابة كلهم عدول من لابس منهم الفتنة ومن لم يلابس
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
وہ بھی عدل ہیں جو فتنوں جنگوں میں پڑے اور وہ بھی عادل ہیں جو نہ پڑے
[تفسير الألوسي = روح المعاني، ١٤٠/٦]

إنهم كلهم عدول، كبيرهم وصغيرهم، من لابس الفتن وغيرهم بإجماع من يعتد بهم.
چھوٹے بڑے تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)وہ بھی عادل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اور وہ بھی عادل ہیں جو جنگوں میں نہ پڑے اس پر معتدبہ علماء اور امت کا اجماع ہے
[مجمع بحار الأنوار، ٢٧٦/٥]
.
وأنَّ لَهُ أجْرَيْنِ أجْرَ الاجْتِهَادِ، وأجْرَ الإصَابَةِ، وقَطَعْنا أنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ومَنْ مَعَهُ مُخْطِئُوْنَ مُجْتَهِدُوْنَ مَأجُوْرُوْنَ أجْرًا واحِدًا
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اجتہاد میں درستگی پر تھے اس لیے انہیں دو اجر ملیں گے اور یہ بات بھی قطعی ہے کہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کا گروہ اجتہادی خطا پر تھا اس لیے انہیں ایک اجر ملے گا
الفِصَلُ في المِلَلِ والنِّحَلِ» لابنِ حَزْمٍ (4/ 159 - 161)
«تَفْسِيْرُ بنِ كَثِيْرٍ (4/ 306)
[تسديد الإصابة فيما شجر بين الصحابة، صفحة ٧٠]
.
وَإِنْ كَانُوا بُغَاةً فِي نَفْسِ الْأَمْرِ فَإِنَّهُمْ كَانُوا مُجْتَهِدِينَ فِيمَا تَعَاطَوْهُ مِنَ الْقِتَالِ، وَلَيْسَ كُلُّ مُجْتَهِدٍ مُصِيبًا، بَلِ الْمُصِيب لَهُ أَجْرَانِ والمخطئ لَهُ أجر.
سیدنا معاویہ کا گروہ باغی تھا لیکن وہ مجتہد تھے لہذا انہیں ایک اجر ملے گا اور جو درستگی پر ہوگا اسے دو اجر ملے گے
[ابن كثير، السيرة النبوية لابن كثير، ٣٠٨/٢]
.
«إذا حكم الحاكم فاجتهد فاصاب فله أجران وإذا حكم فاجتهد فاخطأ فله أجر واحد» رواه البخاري ومسلم وأحمد وأبو داود والنسائي والترمذي عن أبي هريرة، والبخاري وأحمد والنسائي وأبو داود وابن ماجة عن عبد الله بن عمرو بن العاص، والبخاري عن أبي سلمة..فالأجران للاجتهاد والإصابة والأجر الواحد للاجتهاد وحده. والصحابة الأربعة مجتهدون في الحرب مخطئون فيه وعلي رضي الله عنه مجتهد مصيب. وقد تقرر في الأصول أنه يجب على المجتهد أن يعمل بما ادى إليه اجتهاده ولا لوم عليه ولا على مقلده. فالقاتل والمقتول من الفريقين في الجنة
بخاری مسلم احمد ابو داؤد نسائی ترمذی وغیرہ کی حدیث ہیں کہ مجتہد اگر درستگی پالے تو اسے دو اجر اور مجتہد خطا کرے تو اسے ایک اجر ملے گا صحابہ کرام نے جو جنگیں ہوئیں وہ اسی اجتہاد کی وجہ سے ہوئی تو ان میں سے جو درستگی کو تھا اس کو دو اجر ملیں گے اور جو خطاء پر تھا اسے ایک اجر ملے گا لہذا سیدنا معاویہ اور سیدنا علی و غیرہ دونوں گروہ جنتی ہیں
[الناهية عن طعن أمير المؤمنين معاوية، صفحة ٢٧]
.
أن أصحاب علي أدنى الطائفتين إلى الحق وهذا هو مذهب أهل السنة والجماعة أن علياً هو المصيب وإن كان معاوية مجتهداً وهو مأجور إن شاء الله ولكن علي هو الإمام فله أجران كما ثبت في صحيح البخاري من حديث عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا اجتهد الحاكم فأصاب فله أجران وإذا اجتهد فأخطأ فله أجر
حدیث بات میں ہے کہ مجتہد درستگی کو پالے تو اسے دو اجر اور اگر خطا کرے تو اسے ایک اجر اس کے مطابق حضرت علی کا گروہ درستگی پر تھا اسے دو اجر ملے گے اور معاویہ اجتہاد میں خطا پر تھے اس لیے اسے ایک اجر ملے گا یہی اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے
(عقيدة أهل السنة في الصحابة لناصر بن علي، ٧٢٨/٢]
.
.

أجمعت الأمة على وجوب الكف عن الكلام في الفتن التي حدثت بين الصحابة..ونقول: كل الصحابة عدول، وكل منهم اجتهد، فمنهم من اجتهد فأصاب كـ علي فله أجران، ومنهم من اجتهد فأخطأ كـ معاوية فله أجر، فكل منهم مأجور، القاتل والمقتول، حتى الطائفة الباغية لها أجر واحد لا أجران، يعني: ليس فيهم مأزور بفضل الله سبحانه وتعالى.

امت کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام میں جو فتنے جنگ ہوئی ان میں نہ پڑنا واجب ہے تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)ان میں سے ہر ایک مجتہد ہے اور جو مجتہد حق کو پا لے جیسے کہ سیدنا علی تو اسے دو اجر ہیں اور جو مجتہد خطاء پر ہو جیسے سیدنا معاویہ تو اسے ایک اجر ملے گا لہذا سیدنا علی اور معاویہ کے قاتل مقتول سب جنتی ہیں حتیٰ کہ سیدنا معاویہ کا باغی گروہ بھی جنتی ہے اسے بھی ایک اجر ملے گایعنی تمام صحابہ میں سے کوئی بھی گناہ گار و فاسق نہیں
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي ١٣/٦٢]
.

وأما ما شجر بينهم بعده عليه الصلاة والسلام، فمنه ما وقع عن غير قصد، كيوم الجمل، ومنه ما كان عن اجتهاد، كيوم صفين. والاجتهار يخطئ ويصيب، ولكن صاحبه معذور وإن أخطأ، ومأجور أيضاً، وأما المصيب فله أجران اثنان، وكان علي وأصحابه أقرب إلى الحق من معاوية وأصحابه رضي الله عنهم أجمعين
صحابہ کرام میں کچھ جنگی تو ایسی ہیں جو بغیر قصد کے ہوئیں جیسے کہ جنگ جمل اور کچھ جنگیں ایسی ہیں جو اجتہاد کی بنیاد پر ہوئی جیسے کہ صفین....جس نے درستگی کو پایا جیسے کہ سیدنا علی تو ان کو دو اجر ملیں گے اور جس نے اجتہاد میں خطا کی جیسے کہ سیدنا معاویہ تو اسے ایک اجر ملے گا
[ابن كثير، الباعث الحثيث إلى اختصار علوم الحديث، صفحة ١٨٢]
.
وَالْجَوَاب الصَّحِيح فِي هَذَا أَنهم كَانُوا مجتهدين ظانين أَنهم يَدعُونَهُ إِلَى الْجنَّة، وَإِن كَانَ فِي نفس الْأَمر خلاف ذَلِك، فَلَا لوم عَلَيْهِم فِي اتِّبَاع ظنونهم، فَإِن قلت: الْمُجْتَهد إِذا أصَاب فَلهُ أَجْرَانِ، وَإِذا أَخطَأ فَلهُ أجر، فَكيف الْأَمر هَهُنَا. قلت: الَّذِي قُلْنَا جَوَاب إقناعي فَلَا يَلِيق أَن يُذكر فِي حق الصَّحَابَة خلاف ذَلِك، لِأَن اتعالى أثنى عَلَيْهِم وَشهد لَهُم بِالْفَضْلِ
اللہ تعالی نے صحابہ کرام پر تعریف کی ہے اور ان کی فضیلت بیان کی ہے تو یہ سب مجتہد تھے جنگوں اور فتنوں میں اجتہاد کیا جس نے درستگی کو پایا اس کے لئے دو اجر اور جس نے خطا کی اس کے لیے ایک اجر یہی جواب صحیح ہے اور یہی جواب صحابہ کرام کے لائق ہے
[بدر الدين العيني، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ٢٠٩/٤]

.
وَغَايَة اجْتِهَاده أَنه كَانَ لَهُ أجر وَاحِد علىاجْتِهَاده وَأما عَليّ رَضِي الله عَنهُ فَكَانَ لَهُ أَجْرَان
زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیدنا معاویہ کو ایک اجر ملے گا اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دو اجر ملے گے
[ابن حجر الهيتمي، الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة، ٦٢٤/٢]
۔
.
امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں:
فان معاویة واحزابه بغوا عن طاعته مع اعترافهم بانه افضل اھل زمانه وانه الاحق بالامامة بشبهه هی ترک القصاص عن قتله عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنه ونقل فی حاشیة کمال القری عن علی کرم اللہ تعالیٰ وجهه انہ قال اخواننا بغوا علینا ولیسوا کفرة ولا فسقة لما لھم من التاویل وشک نیست کہ خطاء اجتہادی از ملامت دور است واز طعن وتشنیع مرفوع ."
ترجمہ:
بے شک معاویہ اور اس کے لشکر نے اس(حضرت علی سے)بغاوت کی، باوجودیکہ کہ وہ مانتے تھے کہ وہ یعنی سیدنا علی تمام اہل زمانہ سے افضل ہے اور وہ اس سے زیادہ امامت کا مستحق ہے ازروئے شبہ کے اور وہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے قصاص کا ترک کرنا ہے ۔ اور حاشیہ کمال القری میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا ہمارے بھائیوں نے ہم پر بغاوت کی حالانکہ نہ ہی وہ کافر ہیں اور نہ ہی فاسق کیونکہ ان کے لیے تاویل ہے
اور شک نہیں کہ خطائے اجتہادی ملامت سے دور ہے اور طعن وتشنیع سے مرفوع ہے
(مکتوبات امام ربانی 331:1)
.
عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ هُوَ الْمُصِيبَ الْمُحِقَّ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانُوا بُغَاةً مُتَأَوِّلِينَ وَفِيهِ التَّصْرِيحُ بِأَنَّ الطَّائِفَتَيْنِ مُؤْمِنُونَ لَا يَخْرُجُونَ بِالْقِتَالِ عَنِ الْإِيمَانِ وَلَا يَفْسُقُونَ وَهَذَا مَذْهَبُنَا وَمَذْهَبُ مُوَافِقِينَا
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ درستگی پر تھے حق پر تھے اور دوسرا گروہ یعنی سیدنا معاویہ کا گروہ وہ باغی تھے لیکن تاویل کرنے والے تھے دونوں گروہ مومنین ہیں دونوں گروہ ایمان سے نہیں نکلتے اور دونوں گروہ فاسق نہیں ہیں یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی مذہب ہمارے(عقائد میں)موافقین(حنفی حنبلی مالکی وغیرہ تمام اہل سنت)کا مذہب ہے
(شرح مسلم للنووی7/168)
.
.=======================
شیعوں کی معتبر ترین کتاب نہج البلاغۃ میں سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم موجود ہے کہ:
ومن كلام له عليه السلام وقد سمع قوما من أصحابه يسبون أهل الشام أيام حربهم بصفين إني أكره لكم أن تكونوا سبابين، ولكنكم لو وصفتم أعمالهم وذكرتم حالهم كان أصوب في القول
ترجمہ:
جنگ صفین کے موقعے پر اصحابِ علی میں سے ایک قوم اہل الشام (سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرھما رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین) کو برا کہہ رہے تھے، لعن طعن کر رہے تھے
تو
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا:
تمہارا (اہل شام، معاویہ ، عائشہ صحابہ وغیرہ کو) برا کہنا لعن طعن کرنا مجھے سخت ناپسند ہے ، درست یہ ہے تم ان کے اعمال کی صفت بیان کرو...(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ ص437)
.
ثابت ہوا سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہ صحابہ کرام کی تعریف و توصیف کی جائے، شان بیان کی جائے....یہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پسند ہے....ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہھما صحابہ کرام پر لعن طعن گالی و مذمت کرنے والے شیعہ ذاکرین ماکرین رافضی نیم راضی محبانِ اہلِ بیت نہیں بلکہ نافرمان و مردود ہیں،انکےکردار کرتوت حضرت علی کو ناپسند ہیں..سخت ناپسند
.
ان عليا لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلى الشرك ولا إلى النفاق ولكنه كان يقول: هم إخواننا بغوا علينا
ترجمہ:
بےشک سیدنا علی اپنےاہل حرب(سیدنا معاویہ،سیدہ عائشہ اور انکےگروہ)کو نہ تو مشرک کہتےتھےنہ منافق…بلکہ فرمایا کرتےتھےکہ وہ سب ہمارےبھائی ہیں مگر(مجتہد)باغی ہیں(شیعہ کتاب بحارالانوار32/324)
(شیعہ کتاب وسائل الشیعۃ15/83)
(شیعہ کتاب قرب الاسناد ص94)
سیدنا ابوبکر و عمر، سیدنا معاویہ وغیرہ صحابہ کرام کو کھلےعام یا ڈھکے چھپے الفاظ میں منافق بلکہ کافر تک بکنے والے،توہین و گستاخی کرنےوالےرافضی نیم رافضی اپنےایمان کی فکر کریں…یہ محبانِ علی و اہلبیت نہیں بلکہ نافرمانِ علی ہیں،نافرمانِ اہلبیت ہیں
.
شیعہ کتب جھوٹ و تضاد سے بھری ہوئی ہوتی ہیں،کہتے ہیں کہ اسلام کے نام پر بننے والے فرقوں میں سب سے زیادہ جھوٹے مکار شیعہ ہیں
مگر
جھوٹے مکار شیعہ طبرسی کے قلم سے کیا ہی عمدہ سچ نکل ہی گیا، لکھتا ہے
أن رسول الله صلى الله عليه وآله قال: ما وجدتم في كتاب الله عز وجل فالعمل لكم به، ولا عذر لكم في تركه، وما لم يكن في كتاب الله عز وجل وكانت في سنة مني فلا عذر لكم في ترك سنتي، وما لم يكن فيه سنة مني فما قال أصحابي فقولوا، إنما مثل أصحابي فيكم كمثل النجوم، بأيها أخذ اهتدي، وبأي أقاويل أصحابي أخذتم اهتديتم، واختلاف أصحابي لكم رحمة.
ترجمہ:
بےشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کہ جو کچھ قرآن میں ہے اس پر عمل لازم ، اس کے ترک پر کوئی عذر مقبول نہیں…پس اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو میرے سنت میں ڈھنڈو سنت میں مل جائے تو عمل لازم ، جس کے ترک پر کوئی عذر مسموع نہ ہوگا
اور
اگر قرآن و سنت میں نہ پاؤ تو میرے صحابہ کے اقوال میں تلاش کرو، میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کے قول کو بھی اختیار کرو گے ہدایت پاؤ گے اور سنو میرے اصحاب(صحابہ اہلبیت) کا اختلاف رحمت ہے
(احتجاج طبرسی2/105)
.
وقال عليه السلام:يهلك في رجلان: محب مفرط، وباهت مفتر.
قال الرضى رحمه الله تعالى: وهذا مثل قوله عليه السلام: يهلك في اثنان:محب غال، ومبغض قال.الشرح:قد تقدم شرح مثل هذا الكلام، وخلاصة هذا القول: إن الهالك فيه المفرط، والمفرط أما المفرط فالغلاة، ومن قال بتكفير أعيان الصحابة ونفاقهم أو فسقهم
یعنی
حضرت علی نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاکت میں ہیں ایک وہ جو مجھ سے حد سے زیادہ محبت کرے دوسرا وہ جو مجھ سے بغض رکھے مجھ پر بہتان باندھے
یعنی
جو اعیان صحابہ کو کافر کہے یا منافق کہے یا فاسق کہے وہ ہلاکت میں ہے
(شرح نہج البلاغۃ 20/220)
شیعہ رافضی نیم رافضی میں یہ دونوں بری عادتیں بھری پڑی ہیں کوٹ کوٹ کے....اللہ ہدایت دے، مکاروں گمراہوں کے مکر و گمراہی عیاری مکاری سے بچائے....ضدی فسادی کو تباہ و برباد فرمائے
.
بأصحاب نبيكم لا تسبوهم الذين لم يحدثوا بعده حدثا ولم يؤووا محدثا، فإن رسول الله (صلى الله عليه وآله) أوصى بهم
ترجمہ:
حضرت علی وصیت و نصیحت فرماتے ہیں کہ تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق میں تمھیں نصیحت و وصیت کرتا ہوں کہ انکی برائی نہ کرنا ، گالی لعن طعن نہ کرنا(کفر منافقت تو دور کی بات) انہوں نے نہ کوئی بدعت نکالی نہ بدعتی کو جگہ دی،بےشک رسول کریم نے بھی صحابہ کرام کے متعلق ایسی نصیحت و وصیت کی ہے.(بحار الانوار22/306)
.

حضرت علی رض اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:
رأيت أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما أرى أحداً يشبههم منكم لقد كانوا يصبحون شعثاً غبراً وقد باتوا سجداً وقياماً
ترجمہ:
میں(علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے اصحاب محمد یعنی صحابہ کرام(صلی اللہ علیہ وسلم، و رضی اللہ عنھم) کو دیکھا ہے، وہ بہت عجر و انکساری والے، بہت نیک و عبادت گذار تھے
تم(شیعوں)میں سے کوئی بھی انکی مثل نہیں...
(تمام شیعوں کے مطابق صحیح و معتبر ترین کتاب نہج البلاغہ ص181)
.
نوٹ:
ویسے تو ہم کتب شیعہ کے متعلق کہتے ہیں کہ جھوٹ تضاد گستاخی سے بھری پڑی ہیں مگر کچھ سچ بھی لکھا ہے انہون نے لیھذا کتب شیعہ کی بات قرآن و سنت معتبر کتب اہلسنت کے موافق ہوگی تو وہی معتبر...مذکورہ حوالہ جات موافق قرآن و سنت ہیں، موافق کتب اہلسنت ہین لیھذا معتبر
کیونکہ
قَدْ يَصْدُقُ الْكَذُوبَ
ترجمہ:
بہت بڑا جھوٹا کبھی سچ بول دیتا ہے
(فتح الباری9/56، شیعہ کتاب شرح اصول کافی2/25)
اور
امام جعفر صادق نے فرمایا:
الناس ﺃﻭﻟﻌﻮﺍ ﺑﺎﻟﻜﺬﺏ ﻋﻠﻴﻨﺎ، ﻭﻻ ﺗﻘﺒﻠﻮﺍ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﻣﺎ ﺧﺎﻟﻒ ﻗﻮﻝ ﺭﺑﻨﺎ ﻭﺳﻨﺔ ﻧﺒﻴﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ
ترجمہ:
امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ لوگ جو(بظاہر)ہم اہلبیت کے محب کہلاتے ہیں انہوں نے اپنی طرف سے باتیں، حدیثیں گھڑ لی ہیں اور ہم اہلبیت کی طرف منسوب کر دی ہیں جوکہ جھوٹ ہیں،
تو
ہم اہل بیت کی طرف نسبت کرکے جو کچھ کہا جائے تو اسے دیکھو کہ اگر وہ قرآن اور ہمارے نبی حضرت محمد کی سنت کے خلاف ہو تو اسے ہرگز قبول نہ کرو
(شیعہ کتاب رجال کشی ﺹ135, 195، بحار الانوار 2/246,....2/250)
.
دوستو، بھائیو ، اور احباب ذی وقار خاص کر سوشل میڈیا چلانے والے حضرات......خوب ذہن نشین کر لیجیے کہ کسی بھی کتاب یا تحریر یا تقریر یا پوسٹ میں کوئی بات کوئی حدیث لکھی اور اور اہلبیت بی بی فاطمہ ، حضرت علی یا امام جعفر صادق یا کسی بھی اہلبیت کا نام لکھا ہو یا کسی صحابی یا ولی صوفی کا نام لکھا ہو
تو
اسے فورا سچ مت تسلیم کیجیے،فورا جھوٹ بھی مت سمجھیے اگرچہ بظاہر اچھی بات ہو یا بظاہر نامعقول ہو
کیونکہ
اچھی بری بہت سی باتیں شیعوں نے، لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں اور نام اہلبیت و صحابہ اولیاء اسلاف میں سے کسی کا ڈال دیا ہے....اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے...لیھذا تحقیق کیجیے معتبر ذرائع سے تصدیق کراٰلئیے پھر سچ یا جھوٹ کہیے
ویسے تو ہربات کی تصدیق معتمد عالم سے کرائیے مگر بالخصوص جب اہلبیت کے نام سے لکھا ہوا ہو تو اب شدید لازم ہے کہ اسکی تصدیق کرائیے پھر بےشک پھیلائیے
کیونکہ
امام جعفر صادق نے متنبہ کر دیا تھا کہ نام نہاد جھوٹے محبانِ اہلبیت نے اہلبیت کی طرف ایسی باتیں منسوب کر رکھی ہیں جو اہلبیت نے ہرگز نہیں کہیں...رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین