🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
پہلے زیارت قبور کی ممانعت تھی
ابتداء اسلام میں زیارت قبور ...
والدین کی قبروں کی زیارت پر ...
شیخین کے عمل سے زیارت صالحین
ابو بکر و عمر کا ام ایمن کی زیارت
حضرت ام ایمن کے فضائل ...
دعاء زیارت قبور
درود قبرستان مردوں کی بخشش
قبر پر تازہ ٹہنی رکھنے سے عذاب ...
قبروں پر تر شاخیں اللہ کا ذکر کرتی

Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #شب_براءت شب برأت ³
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
یہ ہے شبِ برات ہے رحمتِ الٰہی سے لبریز ، کائنات یہ ہے شبِ برات بندوں کی سَمت ، رب کا خصوصی ہے التفات یہ ہے شبِ برات کھولے ہیں رب تعالیٰ نے عفو و کرم کے باب سب توبہ کرنے والوں کی دوزخ سے ہے نجات یہ ہے شبِ برات آواز دے رہی ہے ہمیں رحمتِ خدا آؤ قبول ہوں…
شب برات

گناہوں پر نادم وشرمندہ ہوکر توبہ کرنے والوں کے لیے عفو و کرم کی خاص رات "شبِ برات"

کرم کی آ تی ہے ایسی بَہار توبہ سے
کہ پھول بنتے ہیں فطرت کے خار توبہ سے

ضیاے عفو سے ذرے بھی جگمگاتے ہیں
عروج دیتا ہے پروردگار توبہ سے

خدا نے خود کو"غفورُُ رَّحیم" فرمایا
کہ مجرموں کو نہ ہو، کوئ عار توبہ سے

عنایت ایسی کہ "التائبُ کَمَن لاذنبْ"
خدا کو بندوں پہ آتا ہے پیار توبہ سے

رضاے مولٰی کا ملتا ہے اس کو پروانہ
کہ جس کی آنکھ ہوئ اشکبار توبہ سے

سنبھال لیتی ہے آغوشِ مغفرت اُس کو
جو ہے معافی کا امیدوار توبہ سے

ندامتوں سے ، سزا بھی جزا میں ڈھلتی ہے
بہشت پاتے ہیں عصیاں شعار، توبہ سے

اگر ارادۂ ترکِ گنہ ، نہیں پختہ
تو فائدہ نہیں ایسی ہزار توبہ سے

چلو چلیں درِمولٰی پہ صدقِ دل سے ہم
دلِ حزیں کو ملے گا قرار توبہ سے

نہ جانے کتنوں کو اللہ نے رہائ دی
لگی ہے کشتئ اعمال پار ، توبہ سے

کریم مولٰی نے بخشش کے باب کھول دییے
رہِ نجات ہوئ سازگار توبہ سے

درِ کریم پہ پتھر بھی بن گیے گوہر
بسے ہیں ٹوٹے دلوں کے دیار توبہ سے

جبیں پہ خاک ندامت لگائیے تو سہی
بڑھے گا فکر و عمل کا وقار توبہ سے

پہن کـے بیٹھیے پوشاک انکساری کی
اُتر ہی جائے گا عصیاں کا بار توبہ سے

اِسی سے رب کی رضا پا گیے "سِری سقطی"
ہوا ہے ولیوں میں ان کا شمار توبہ سے

سُرور ایسا ہے"لاتقنطوا" کے مُژدے میں
کہ دل کو سَیر نہیں ، بار بار توبہ سے

ہو عاجزی کی زمیں پر سدا جبیں میری
لباسِ روح رہے تار تار توبہ سے

غرور سے ہو فریدی کی زندگی محفوظ
ہو خاکساری کا دل پر حصار توبہ

از فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جسم وجاں کو ہلا دینے والا ایک عربی نعتیہ قصیدہ
روح کو چھونے والا۔

عبد العزیز جویدہ کے شاہکار قصیدے کا اردو ترجمہ
از : فیضان فیصل
تشکر : خطاط تنویر شمسی عطاری

یہ بات سچ ہے
کہ میں نے آپ کے رخِ انور کا دیدار نہیں کیا
آپ کی شیریں آواز میرے کانوں میں نہیں گھلی
کسی سفر میں آپ کا ہمراہ نہیں بن سکا

اور یہ بھی سچ ہے
کہ میں احد میں سپردِ خاک و خوں نہ ہوا
بدر میں اربابِ کفر سے گتھم گتھا نہ ہوا
نہ ہجرت کی راہوں میں نکلا
نہ انصار کی صف میں شامل ہو سکا
یہ نوبت بھی نہیں آ سکی
کہ میں حرا کے باہر آپ کو زادِ راہ پہنچا آتا

مگر اے اللّٰہ کے رسول!
اللّٰہ کی قسم! مجھے آپ سے محبت ہے
محبت کے شعلے میرے دل کو راکھ راکھ کیے دیتے ہیں
کیا اس بے ڈھنگی محبت کے قبول ہونے کا کوئی راستہ ہے؟!

اللّٰہ کے رسول!
یقیناً مجھ سے تاخیر ہوئی ہے
مگر معاملہ میرے بس میں نہیں تھا
ہاں مجھے اختیار ہوتا تو شاید میں جلدی کرتا
لیکن ایک چیز کھٹک جاتی ہے
کیا میں آپ کے صحابہ کے سامنے ٹِک پاتا؟!

وہ انس کہ جو سراپا خدمت بنے رہے
اسلام کی قوت کا باعث بننے والے عمر
تن تنہا آپ کی تصدیق کرنے والے ابو بکر
ہمہ وقت کے ناصر و وزیر، علی
بارہا مال لٹانے والے عثمان
وہ حمزہ، وہ سعد، وہ خالد
میں کون اور کیا ہوتا ان ہستیوں کے سامنے؟!
میرا اسلام تو مجھے والد سے ملا
بڑے شرف و آسائش کے ساتھ!

میں نے بلال کو صدائے تکبیر بلند کرتے نہیں سنا
میرے جسم کو گرم ریت پر بھونا نہیں گیا
میرے ہاتھوں سے کوئی بت پاش پاش نہیں ہوا
نہ ہی کفر کے لشکروں سے کبھی سامنا ہوا
کبھی کوئی تیر میرے سینے کے پار نہیں اترا

بس اے اللّٰہ کے رسول!
میں بے بضاعت و بے سلیقہ
ایک امتی ہوں کہ جس کے سینے میں ایک دل
آپ کی یاد میں مسلسل پھڑکتا ہے
اللہ کی قسم! مجھے آپ سے محبت ہے
یہی میری نجات ہے ...

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/888440815066822/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*روشن مستقبل کی ٹویٹر ایکٹیوٹی*

ظلم کے خلاف، ایک قدم اور!!!

ٹویٹر پر، ابھی ہمارا ہیش ٹیگ : #تعلیمات_اسلام روزانہ کثرت سے استعمال ہورہا ہے۔ جس میں ہم ہندی، انگریزی اور دیگر علاقائی زبانوں میں تعلیمات اسلام پیش کررہے ہیں۔

در اصل ابھی تک ٹویٹر پر اسلام مخالف مواد ہی نظر آتا تھا، مگر *اس ہیش ٹیگ کا فائدہ یہ ہے کہ اسلام مخالف مواد کے ساتھ ساتھ اب کثرت کے ساتھ، اسلامی مواد بھی نظر آنے لگا ہے۔*

نیز جب کسی ہیش ٹیگ کے ساتھ کوئی مواد پیش کیا جاتا ہے تو وہ یکجا ہو جاتا ہے، جسے کبھی بھی بآسانی سرچ کرکے نکالا جاسکتا ہے۔ اور دیگر ضروری مقامات یا مواقع پر ری یوز کیا جاسکتا ہے۔

ہمارا ارادہ ہے کہ کچھ وقت کے بعد یہی مواد ہم کاپی کراکے ہندی اور انگریزی ہیش ٹیگ کے ساتھ بھی ٹویٹ کرائیں گے۔ تاکہ غیر مسلم بھی ان تعلیمات کو دیکھ اور پڑھ سکیں۔ اور درست اسلامی تعلیمات سے رو شناس ہو سکیں ۔ اور اس طرح ہم ان کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کریں ۔

رام پال کے بھکتوں کے علاوہ ، دوسرے غیر مسلم بھکت بھی آئے دن مسلموں کے خلاف ٹرینڈ چلاتے تھے لیکن........... اب آئی ٹی سیل کے کمزور ہونے سے یہ معاملہ پہلے کی نسبت کم ہوگیا ہے۔

اب ہمیں ٹویٹر پر رام پالی بہت پریشان کرتے ہیں یہ ایک ساتھ پانچ یا سات ہیش ٹیگ اسلام کے خلاف ٹرینڈ کرانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی ٹیم بڑی ہونے کے ساتھ منظم اور ماہر ہے۔

اس کے جواب میں جہاں تعلیمات اسلام پیش کرنا ضروری ہیں وہیں ان کی حوصلہ شکنی بھی لازم ہے۔
اور اس کام کے لیے بڑی اور مضبوط ٹیم کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے روشن مستقبل دہلی کی کوششیں جاری ہیں۔

کیوں کہ رام پال کے بھکت ایک یا دو گھنٹوں میں ایک لاکھ تک ٹویٹ کرتے ہیں۔ اور ہم پورے دن میں پچاس ہزار۔

تو ہمیں افراد سازی کی ضرورت ہے اور سب کا ایک گروپ میں ہونا بھی ضروری ہے۔

آپ حضرات روشن مستقبل کے ٹویٹر ٹرینڈ گروپ میں شامل ہونا چاہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔

گروپ میں ہماری ٹیم کے ماہرین روزانہ ایک دو گھنٹہ ٹویٹر کے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہیں اور لوگوں کو ٹویٹر چلانے کی ٹریننگ بھی دیتے ہیں۔
اس لیے آپ ہمارے گروپ سے جُڑیں۔ بقیہ کام وہاں ہو جائےگا۔

اس کے علاوہ موب لنچنگ کے خلاف اور مظلوموں کے سپورٹ میں بھی ہم ٹرینڈ چلا کر انتظامیہ پر کارروائی کا دباو بناتے ہیں۔

ہم اپنی قوم کو بیدار کرنے کے ساتھ مظلوموں کی آواز اٹھانے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں اور اس پر عمل بھی پوری شدت سے کرتے ہیں۔

لہٰذا آپ بھی ہمارے ساتھ آئیں اور مل کر ظلم کو روکنے اور ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کی کوشش کریں۔

محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/886542661916253/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سکھر کے اُجڑے چمن کا رد بلیغ

ہر صحابی نبی جنتی جنتی، سیدنا علی و سیدنا معاویہ جنتی جنتی نعروں کے برحق ہونے کے دلائل و حوالہ جات اور شبہات اعتراضات کا ازالہ اور چمن زمان کو دعوتِ رجوع .................!!
.
چمن زمان صاحب لکھتے ہیں
صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین میں سے بعض ہستیوں کے بارے میں *#غلو* سے کام لیا جارہا ہے... ان حضرات(چمن زمان بمع گروپ کے علاوہ جو ہیں مثلا دعوت اسلامی وغیرہ) نے گزشتہ چند ماہ پہلے باب نظریات میں اضافہ کرتے ہوئے چند نعرے اپنے نظریات و عقائد کا حصہ بنائے جیسے ہر صحابی نبی جنتی جنتی ، معاویہ و علی جنتی جنتی، ابوسفیان معاویہ جنتی جنتی
(دیکھیے جدید نعرے ص6,7)
مزہد کہتے ہیں
یہ نعرے ابن حزم بدمذہب سے پہلے کسی نے نہیں لگائے
(دیکھیے جدید نعرےص45)
.
جواب:اول بات تو یہ ہے کہ یہ نعرہ ابن حزم(وفات تقریبا456ھجری) سے پہلے ہی لگایا جا چکا تھا جیسے کہ ہم ان دلائل سے ظاہر کر رہے ہیں
①*صحابی سیدنا ابن عباس کا عقیدہ:*
مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْح} فتح مَكَّة {وَقَاتل} الْعَدو مَعَ النبى صلى الله عَلَيْهِ وَسلم {أُولَئِكَ} أهل هَذِه الصّفة {أَعْظَمُ دَرَجَةً} فَضِيلَة ومنزلة عِنْد الله بِالطَّاعَةِ وَالثَّوَاب {مِّنَ الَّذين أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ} من بعد فتح مَكَّة {وَقَاتَلُواْ} الْعَدو فِي سَبِيل الله مَعَ النبى صلى الله عَلَيْهِ وَسلم {وكلا} كلا لفريقين من أنْفق وَقَاتل من قبل الْفَتْح وَبعد الْفَتْح {وَعَدَ الله الْحسنى} الْجنَّة
یعنی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے جن صحابہ کرام نے خرچ کیا جہاد کیا اور فتح مکہ کے بعد جنہوں نے خرچ کیا جہاد کیا ان کے درجات میں اگرچہ تفاوت ہے لیکن سب صحابہ کرام سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(تنوير المقباس من تفسير ابن عباس ص457)
.
*②امام القرظی تابعی( وفات180ھجری تقریبا) کا عقیدہ:*
وقال محمد بن كعب القرظي: أوجب الله لجميع الصحابة الجنة والرضوان
ترجمہ
محمد بن كعب القرظي علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے تمام صحابہ کے لیے جنت اور رضامندی کو واجب کردیا ہے
(أنموذج اللبيب في خصائص الحبيب1/236)
.
*③امام مقاتل وفات تقرہبا150ھجری کا عقیدہ:*
لا يَسْتَوِي مِنْكُمْ فى الفضل والسابقة مَنْ أَنْفَقَ مِنْ ماله قَبْلِ الْفَتْحِ فتح مكة «وَقاتَلَ» «1» العدو أُولئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً يعني جزاء مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ من بعد فتح مكة وَقاتَلُوا «2» العدو وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنى يعني الجنة، يعني كلا الفريقين وعد الله الجنة
یعنی
جن صحابہ نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا قتال کیا اور جہاد کیا انکا درجہ زیادہ عظیم ہے ان صحابہ سے کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا جہاد کیا لیکن سب صحابہ کے لئے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے
(تفسير مقاتل بن سليمان4/239)
.
*④امام ابن وھب وفات تقریبا192ہجری کا عقیدہ:*
{لا يستوي منكم من أنفق من قبل الفتح}، قال: فتح مكة...فَالْحُسْنَى الْجَنَّةُ
یعنی
فتح مکہ سے پہلے جنہوں نے خرچ کیا وہ عظیم درجے والے ہیں ان کے برابر نہیں ہو سکتے وہ صحابہ کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا لیکن سب صحابہ کے لئے جنت کا وعدہ ہے
(تفسير القرآن من الجامع لابن وهب62 ,1/176)

.
*⑤امام سمرقندی وفات تقریبا 373ھجری کا عقیدہ:*
.من أنفق وقاتل مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ يعني: فتح مكة. ونزلت الآية في شأن أصحاب رسول الله صلّى الله عليه وسلم المهاجرين والأنصار. يعني: الذين أنفقوا أموالهم مع رسول الله صلّى الله عليه وسلم، وقاتلوا الكفار، لا يستوي حالهم وحال غيرهم. ويقال: هذا التفضيل لجميع أصحابه رضي الله عنهم أجمعين.
وعد الله كلا الحسني يعني الجنة
یعنی
یہ آیت مبارکہ صحابہ کرام کے بارے میں نازل ہوئی کہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا تھا جہاد کیا کہ یہ عظیم مرتبے والے ہیں ان کے مرتبے کو وہ صحابہ نہیں پہنچ سکتے کہ جو فتح مکہ کے بعد والے ہیں لیکن سب کے سب صحابہ کے لیے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير السمرقندي = بحر العلوم3/403ملتقطا)
.
*⑥امام ابن ابی زمنین وفات399ھجری کاعقیدہ:*
لا یَسْتَوِي من أنْفق مِنْكُم من قبل الْفَتْح وَقَاتل، وَهُوَ فتح مَكَّة.
(أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ لْحُسْنَى} يَعْنِي: الْجنَّة؛ من أنْفق وَقَاتل قبل فتح مَكَّة وَبعده
یعنی
تم صحابہ کرام میں سے جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیا ان کا درجہ ان صحابہ کرام سے زیادہ ہے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا لیکن سب صحابہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے، چاہے فتح مکہ سے پہلے والے ہوں یا فتح مکہ کے بعد والے
(تفسير القرآن العزيز لابن أبي زمنين4/349,350)
.
*جواب دوئم*
اگر بالفرض مان لیا جائے کہ یہ نعرہ ابن حزم کا اختراع کردہ ہے تو بعد کے معتبر علماء کا اس نعرے کو اپنا لینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ابن حزم کے مردود قولوں میں سے نہیں ہے جیسے کہ نیچے تفصیل آرہی ہے
.====================
چمن زمان صاحب لکھتے ہیں
تلاش بسیار کے باوجود کتب متقدمین و متاخرین میں تمام تر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے جنتی ہونے کا نظریہ بطور فکر اہلسنت نہ مل سکا جن علماء نے ذکر کیا انہوں نے اسے ابن حزم ظاہری کے حوالے سے نقل کیا اور ابن حزم ظاہری کے بارے میں گزارش کیا جا چکا ہے کہ وہ بد عقیدہ اور بدمزہب قسم کا شخص تھا
(دیکھیے جدید نعرے ص67,68)
۔
جواب نمبر1:
الحديث:
الكَلِمَةُ الحِكْمَةُ ضَالَّةُ المُؤْمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے تو جہاں وہ پائے اسے لے لے
(سنن الترمذي ت شاكر ,5/51 حدیث2687)
(سنن ابن ماجه ,2/1395حدیث4169)
۔
قَدْ يَصْدُقُ الْكَذُوبَ
ترجمہ:
بہت بڑا جھوٹا کبھی سچ بول دیتا ہے
(فتح الباری9/56،)
اول بات تو یہ ہے کہ ابن حزم سے پہلے کے علماء نے صحابہ کرام کو جنتی قرار دے دیا تھا ، یہ نعرہ لگا لیا تھا جیسے کہ اوپر بیان ہوا البتہ اگر آپ کے دعوے کو مان بھی لیا جائے کہ ابن حزم سے پہلے کسی نے جنتی قرار نہ دیا تھا تو بھی ابن حزم کی بات کو رد کر دینا برحق نہیں کیونکہ بہت بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ اور دانشمندی کی بات کہہ دیتا ہے لہذا ابن حزم کی بات کو قرآن و سنت و آثار و اقوال اہلسنت پر رکھیں گے اگر وہ اس کے موافق ہوا تو اسے قبول کریں گے... اسکا یہ نعرہ قرآن و سنت و اقوال و آثار کے موافق ہے لیھذا مقبول
.
جواب نمبر2:
ابن حزم سے قبل کے علماء کا عقیدہ بتایا جاچکا کہ ہر صحابی نبی جنتی جنتی...اکثر تفاسیر سے یہی نعرہ و معنی ثابت ہوتا ہے بطور تبرک ہم صرف بارہ وہ حوالے پیش کر رہے ہین جنہوں نے خود سے تفسیر کی، ابن حزم کا قول نقل کرتے ہوئے تفسیر نہ کی...لہذا کہنا کہ بعد کے علماء نے ابن حزم کی پیروی کی یہ سراسر جھوٹ کہلائے گا بدگمانی کہلائے گی کم علمی کم توجہی کہلائے گی
.
①يعني: فتح مكة {وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى} كلا الفريقين وعد الله الحسنى الجنة
یعنی
فتح مکہ سے پہلے والے اور فتح مکہ کے بعد والے سب صحابہ کرام سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(التفسير الوسيط4/246)
.
②يستوي منكم مَنْ أنفق من قبل الفتح} يعني: فتح مكَّة {وقاتل} جاهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أعداء الله {أولئك أعظم درجة} يعني: عند الله {من الذين أنفقوا من بعد} الفتح {وقاتلوا وكلاً} من الفريقين {وعد الله الحسنى} الجنَّة
یعنی
فتح مکہ سے پہلے جن صحابہ کرام نے خرچ کیا اور جہاد کیا ان کا درجہ ان سے زیادہ ہے کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا لیکن سب صحابہ سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(الوجيز للواحدي تحت سورہ حدید ایت10)
.
③ثواباً جزيلاً وهو الجنة، و (منهم) هنا بيانية وليست تبعيضية، (وعد الله الذين آمنوا وعملوا الصالحات منهم) هذه بيان لجميع الصحابة، وليست لبعض منهم
یعنی
فتح مکہ والے اور فتح مکہ کے بعد والے سب سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے یہ آیت و فضیلت تمام صحابہ کرام کے لئے ہے بعض کے لئے نہیں ہے
(تفسير محمد إسماعيل المقدم تفسیر سورہ فتح آیت25_29)
.
④ أَي: لَا يَسْتَوِي من أنْفق وَقَاتل قبل فتح مَكَّة، وَمن أنْفق وَقَاتل بعد فتح مَكَّة..{وكلا وعد الله الْحسنى} أَي: الْجنَّة
یعنی
جن صحابہ کرام نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ اور وہ صحابہ کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا جہاد کیا برابر نہیں ہو سکتے لیکن تمام صحابہ کرام سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(السمعاني، أبو المظفر5/367,368)
.
⑤لاَ يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ ... الآية: الأشهر في هذه الآية أَنَّها نزلت بعد الفتح، واخْتُلِفَ في الفتح المشار إليه فقال أبو سعيد الخُدْرِيُّ والشَّعْبِيُّ «1» : هو فتح الحديبية، وقال قتادة، ومجاهد، وزيد بن أسلم «2» : هو فتح مكة الذي أزال الهجرة، قال ع «3» : وهذا هو المشهور...والْحُسْنى: الجنة،
یعنی
آیت میں فتح سے مراد کیا ہے ایک قول یہ ہے کہ فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور یہی قول مشہور ہے اور اچھے وعدے سے مراد جنت ہے یعنی تمام صحابہ کرام کے لیے جنت کا وعدہ ہے
(تفسير الثعالبي5/380)
.
.
⑥لاَ يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الفتح وقاتل} أي فتح مكة قبل عز الإسلام وقوة أهله ودخول الناس في دين الله أفواجاً ومن أنفق من بعد الفتح فحذف لأن قوله مّنَ الذين أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ يدل عليه {أولئك} الذين أنفقوا قبل الفتح وهم السابقون الأولون من المهاجرين والأنصار الذين قال فيهم النبي صلى الله عليه وسلم لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهباً ما
بلغ مد احدم ولا نصيفه
{أَعْظَمُ دَرَجَةً مّنَ الذين أَنفَقُواْ مِن بَعْدُ وقاتلوا وَكُلاًّ} أي كل واحد من الفريقين {وَعَدَ الله الحسنى} أي المثوبة الحسنى وهي الجنة
خلاصہ
وہ صحابہ کرام کے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد کیا اور خرچ کیا اور وہ صحابہ کرام کہ جو جنہوں نے فتح مکہ کے بعد جہاد کیا خرچ کیا دونوں برابر نہیں ہو سکتے لیکن دونوں کے لیے اللہ تعالی نے اچھا وعدہ ہے یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير النسفي 3/435)
.
.
⑦لا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ قبل فتح مكة قبل عز الإسلام وقوّة أهله ودخول الناس في دين الله أفواجا وقلة الحاجة إلى القتال والنفقة فيه، ومن أنفق من بعد الفتح فحذف لوضوح الدلالة أُولئِكَ الذين أنفقوا قبل الفتح وهم السابقون الأولون من المهاجرين والأنصار الذين قال فيهم النبي صلى الله عليه وسلم:
«لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما بلغ مدّ أحدهم ولا نصيفه» «2» أَعْظَمُ دَرَجَةً. وقرئ:
قبل الفتح وَكُلًّا وكل واحد من الفريقين وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنى أى المثوبة الحسنى وهي الجنة
خلاصہ
وہ صحابہ کرام کے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد کیا اور خرچ کیا اور وہ صحابہ کرام کے جو جنہوں نے فتح مکہ کے بعد جہاد کیا خرچ کیا دونوں برابر نہیں ہو سکتے لیکن دونوں کے لیے اللہ تعالی نے اچھا وعدہ ہے یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير الزمخشري 4/474)
.

⑧الْمُرَادُ بِهَذَا الْفَتْحِ فَتْحُ مَكَّةَ،: أَيْ وَكُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ وَعَدَ اللَّه بالحسنى أَيِ الْمَثُوبَةَ الْحُسْنَى، وَهِيَ الْجَنَّةُ
آیت میں فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور دونوں فریقین یعنی سب صحابہ کے لئے اللہ تعالی نے اچھا وعدہ یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير29/453)
.
⑨وَالْجُمْهُورُ على أن المراد بالفتح هاهنا فَتْحُ مَكَّةَ،
جمہور اور اکثر علماء اس بات پے ہیں کہ یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہے
(تفسير ابن كثير ط العلمية8/46)
.
.10:أَكْثَرُ الْمُفَسِّرِينَ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْفَتْحِ فَتْحُ مَكَّةَ...(وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنى) أَيِ الْمُتَقَدِّمُونَ الْمُتَنَاهُونَ السَّابِقُونَ، وَالْمُتَأَخِّرُونَ اللَّاحِقُونَ، وَعَدَهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا الْجَنَّةَ مَعَ تَفَاوُتِ الدَّرَجَاتِ
یعنی
اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور اللہ تعالی نے سب صحابہ کے لئے جنت کا وعدہ کیا ہے درجات کی اونچ نیچ کے ساتھ
(تفسير القرطبی,17/239,241)
.
11:وَظَاهِرُ لَفْظِ الْفَتْحِ أَنَّهُ فَتْحُ مَكَّةَ فَإِنَّ هَذَا الْجِنْسَ الْمُعَرَّفَ صَارَ عَلَمًا بِالْغَلَبَةِ عَلَى فَتْحِ مَكَّةَ، وَهَذَا قَوْلُ جُمْهُورِ الْمُفَسِّرِينَ
یعنی
ظاہر یہی ہے کہ فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور یہ جمہور مفسرین کا قول ہے
(التحرير والتنوير 27/374 )
.
12:لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ} يَعْنِي فَتْحَ مَكَّةَ فِي قَوْلِ أَكْثَرِ الْمُفَسِّرِينَ، وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: هُوَ صُلْحُ الْحُدَيْبِيَةِ {وَقَاتَلَ} يَقُولُ: لَا يَسْتَوِي فِي الْفَضْلِ مَنْ أَنْفَقَ مَالَهُ وَقَاتَلَ الْعَدُوَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ مَعَ مَنْ أَنْفَقَ وَقَاتَلَ بَعْدَهُ {أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا} .وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى} أَيْ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ وَعَدَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
یعنی
امام شعبی کا قول ہے کہ فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے لیکن اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہےاور وہ صحابہ کرام کہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا جہاد کیا ان کا درجہ عظیم ہے ان صحابہ کرام سے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا جہاد کیا اور اللہ تعالی نے دونوں فریقین یعنی سب صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ کیا ہے
(تفسير البغوي - طيبة8/33,34)
.===================
چمن زمان صاحب لکھتے ہیں
ہم باب نظریات میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی شخصیت پر مکمل اعتماد کرتے ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس باب میں مستقل رسالہ لکھا،صحابہ کرام کے بارے میں صحابہ کے جنتی ہونے کا نظریہ کہیں بھی بیان نہیں فرمایا
(دیکھیےجدید نعرے ص57,58)
.
جواب:
سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں صحابہ کرام جنتی ہیں جہنم سے دور، جہنم کی بھنک تک نہ پائیں گے:
رب عزوجل کہ عالم الغیب والشہادہ ہے اس نے صحابہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی دو قسمیں فرمائیں ، مومنین قبل الفتح جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے راہ خدا میں خرچ و جہاد کیا اور مومنین بعد الفتح جنہوں نے بعد کو، فریق اول کو دوم پر تفضیل عطا فرمائی کہ:لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا؂ ۲