مسجد میں شب بیداری | جاگنا
ہمارے اسلاف اور شب براءت
بڑے گروہ کی پیروی کرو | حدیث
شب براءت اور علمائے دیوبند
مولوی اشرف علی تھانوی
مولوی دلاور حسین کملائی
شب برأت تقی عثمانی کی نظر میں
شب براءت میں حلوہ پکانے کی وجہ
بغیر دلیل شرعی کے حرمت کا حکم
زیارت کا لغوی معنیٰ و مفہوم
زیارت قبور کی اجازت ہے ابن ماجہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #شب_براءت شب برأت ²
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
ہمارے اسلاف اور شب براءت
بڑے گروہ کی پیروی کرو | حدیث
شب براءت اور علمائے دیوبند
مولوی اشرف علی تھانوی
مولوی دلاور حسین کملائی
شب برأت تقی عثمانی کی نظر میں
شب براءت میں حلوہ پکانے کی وجہ
بغیر دلیل شرعی کے حرمت کا حکم
زیارت کا لغوی معنیٰ و مفہوم
زیارت قبور کی اجازت ہے ابن ماجہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #شب_براءت شب برأت ²
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#_کیا_ہم_مکی_دور_کی_طرف_بڑھ_رہے_ہیں؟
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
اسلام کا مکی دور نہایت آزمائشوں اور مشکلات سے بھرا ہوا تھا۔شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں عقیدہ توحید ورسالت قبول کرنے اور اس کی حفاظت وتبلیغ کی ذمہ داری ہی مسلمانوں کے سپرد فرمائی۔دیگر عبادات اس زمانے میں فرض نہیں کی گئیں۔نماز کی فرضیت بھی ہجرت سے کچھ وقت پہلے ہی ہوئی، زیادہ تر عبادات مدنی دور میں فرض ہوئیں۔کیوں کہ اس دور آزمائش میں عقیدہ توحید ورسالت کی حفاظت ہی سب سے اہم اور ضروری تھا۔اِس وقت بھارتی مسلمان بھی کچھ ایسی ہی آزمائشوں سے گزر رہے ہیں جہاں ایمان کی حفاظت کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ایک طرف شدت پسندوں کا طبقہ ہے جو حکومت کے زور پر مسلمانوں کو "ہندو" بنانے اور ثابت کرنے کی کوشش و سازش میں مصروف ہے۔دوسری جانب لادینیت (Athism) کا طوفان نئی نسلوں کو اپنا شکار بنا رہا ہے۔تیسری جانب سیکولرزم کے نام پر عقیدہ توحید کو پامال کرنے کی روایت عام ہوتی جارہی ہے۔ان حملوں سے ذرا سی مہلت ملتی ہے تو انسانیت (Humanity) کے نام پر دین اسلام سے باغی بنانے کی پر زور کوششیں جاری ہیں۔یعنی بھارتی مسلمانوں کے ایمان پر ہر چہار جانب سے یلغار ہورہی ہے۔
مکی دور میں آزمائشوں اور دشمنوں کی کثرت کی بنا پر عقیدہ توحید ورسالت کی حفاظت اور تبلیغ سب سے اہم تھی۔کیا آج اس دور آزمائش میں ہمیں عقیدہ توحید ورسالت کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے؟
حالیہ دنوں میں ہونے والے کچھ اہم واقعات پر نگاہ ڈالیں تو تصویر زیادہ صاف نظر آئے گی:
1-بابری مسجد کی مقبوضہ زمین پر بننے والے رام مندر کے لیے بعض مسلمانوں کی جانب سے کھل کر چندہ دیا جانا۔
2-قرآن کریم سے بعض آیات نکالنے کے لیے سپریم کورٹ میں رٹ فائل کیا جانا۔
3-ایڈیڈ مدارس دینیہ میں شرکیہ تقریبات کا انعقاد۔
4-نصاب تعلیم میں اکثریتی فرقے کے عقائد ونظریات کی شمولیت۔
5-الحاد وبے دینی عام کرنے کے لیے مغل شہزادے دارا شکوہ کی قبر تلاشنا۔
6-اکثریت کے تعلیم یافتہ طبقے کا شان رسالت میں گستاخیاں کرنا۔
7-مسلمانوں سے زبردستی شرکیہ نعرے لگوانے کا بڑھتا رجحان۔
8-گھر واپسی کے نام پر کھلے عام ارتدادی مہم چلانا۔
یہ سارے کام چوری چھپے نہیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر کیے جارہے ہیں۔جو افراد اور تنظیمیں ان کاموں میں ملوث ہیں انہیں حکومت و انتظامیہ کی کھلی حمایت حاصل ہے۔اسی لیے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوتی ہے نہ کسی طرح کی سختی۔جبکہ مسلمان محض مزاحمت کرنے پر ہی تختہ ستم بنا دیا جاتا ہے۔
عقیدہ توحید ورسالت اور ہمارا طرز عمل؟
عقیدہ توحید ورسالت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔جس پر ایمان کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔اگر یہ عقیدہ نہ رہے تو پھر کسی بھی چیز کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ہے۔لیکن توحید ورسالت کی اتنی اہمیت کے باوجود ہماری غفلت ولاپرواہی کا عالم یہ ہے کہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کلمہ توحید کا مفہوم تو دور سنانے تک سے معذور ہے۔بارہا نکاح خوانی کے موقع پر دیکھنے میں آتا ہے کہ قاضی کے پڑھانے کے باوجود دولہا کلمہ نہیں پڑھ پاتا۔اب جس جوان کو 25/30 سال کی عمر میں کلمہ یاد نہ ہو اسے عقیدہ توحید ورسالت کی باریکیاں کیا معلوم ہوں گی؟
بات محض نوجوانوں ہی کی نہیں ہے بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں کتنے ہی ایسے گاؤں دیہات ہیں جہاں عمر رسیدہ مسلمان اپنے گھروں میں رام کتھائیں کراتے ہیں۔دوسروں کی پوجا ارچنا میں شریک ہوتے ہیں۔گھروں پر دوسروں کے دھارمک بھگوانوں کی تصویریں لگاتے ہیں۔بہتوں کے نام تک بھی ہندوانی ہوتے ہیں۔ان لوگوں کے ایمان وعقائد کی حفاظت واصلاح کس کے ذمے ہے؟
کوئی یہ نہ سمجھے کہ گاؤں دیہات کے لوگ اپنی کم علمی اور جہالت کی وجہ سے ایسے کام کرتے ہیں، شہری مسلمان ان سب خرافات سے محفوظ ہیں؟شہر کا نوجوان بھی دیہاتی جوان کی طرح محفل نکاح میں اُسی وقت پریشان نظر آتا ہے جب اسے کلمہ پڑھنے کو کہا جاتا ہے۔اپنی تعلیم اور شہری ہونے کے احساس میں بعض لوگ اتنے آزاد خیال ہوجاتے ہیں کہ کفریہ کاموں میں ملوث بھی ہوتے ہیں اور ٹوکنے پر لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ جیسی آیتیں سنا کر کٹ حجتی بھی کرتے ہیں۔گویا شرکیہ کام کرنے سے بھی ان کے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اسلام دشمن طاقتیں عقیدہ توحید ورسالت کی اہمیت کے پیش نظر مختلف حیلوں بہانوں سے عقیدہ اسلام پر حملہ آور ہیں۔اس کام کے لیے درج ذیل حربے استعمال کیے جارہے ہیں:
🔹سنیما اور میڈیا کے ذریعے ایسے لوگوں/کہانیوں کو پروموٹ کرنا جو توحید وشرک کا سنگم ہوں۔
🔹لبرلزم کے نام پر بین المذاہب شادیوں کو بڑھاوا دینا۔
🔹سیکولرزم کے نام پر کفریہ رسم ورواج میں شامل ہونا۔
🔹سوشل ورک کے نام پر کفریہ تقاریب کو بڑھاوا دیا جانا۔
🔹معبودان باطلہ کے جے پکارنا اور خود کو ان سے منسوب کرنا۔
🔹اللہ تعالیٰ ودیگر معبودان باطلہ کو ایک قرار دینا۔
ہمارے کرنے کے کام:
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
اسلام کا مکی دور نہایت آزمائشوں اور مشکلات سے بھرا ہوا تھا۔شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں عقیدہ توحید ورسالت قبول کرنے اور اس کی حفاظت وتبلیغ کی ذمہ داری ہی مسلمانوں کے سپرد فرمائی۔دیگر عبادات اس زمانے میں فرض نہیں کی گئیں۔نماز کی فرضیت بھی ہجرت سے کچھ وقت پہلے ہی ہوئی، زیادہ تر عبادات مدنی دور میں فرض ہوئیں۔کیوں کہ اس دور آزمائش میں عقیدہ توحید ورسالت کی حفاظت ہی سب سے اہم اور ضروری تھا۔اِس وقت بھارتی مسلمان بھی کچھ ایسی ہی آزمائشوں سے گزر رہے ہیں جہاں ایمان کی حفاظت کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ایک طرف شدت پسندوں کا طبقہ ہے جو حکومت کے زور پر مسلمانوں کو "ہندو" بنانے اور ثابت کرنے کی کوشش و سازش میں مصروف ہے۔دوسری جانب لادینیت (Athism) کا طوفان نئی نسلوں کو اپنا شکار بنا رہا ہے۔تیسری جانب سیکولرزم کے نام پر عقیدہ توحید کو پامال کرنے کی روایت عام ہوتی جارہی ہے۔ان حملوں سے ذرا سی مہلت ملتی ہے تو انسانیت (Humanity) کے نام پر دین اسلام سے باغی بنانے کی پر زور کوششیں جاری ہیں۔یعنی بھارتی مسلمانوں کے ایمان پر ہر چہار جانب سے یلغار ہورہی ہے۔
مکی دور میں آزمائشوں اور دشمنوں کی کثرت کی بنا پر عقیدہ توحید ورسالت کی حفاظت اور تبلیغ سب سے اہم تھی۔کیا آج اس دور آزمائش میں ہمیں عقیدہ توحید ورسالت کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے؟
حالیہ دنوں میں ہونے والے کچھ اہم واقعات پر نگاہ ڈالیں تو تصویر زیادہ صاف نظر آئے گی:
1-بابری مسجد کی مقبوضہ زمین پر بننے والے رام مندر کے لیے بعض مسلمانوں کی جانب سے کھل کر چندہ دیا جانا۔
2-قرآن کریم سے بعض آیات نکالنے کے لیے سپریم کورٹ میں رٹ فائل کیا جانا۔
3-ایڈیڈ مدارس دینیہ میں شرکیہ تقریبات کا انعقاد۔
4-نصاب تعلیم میں اکثریتی فرقے کے عقائد ونظریات کی شمولیت۔
5-الحاد وبے دینی عام کرنے کے لیے مغل شہزادے دارا شکوہ کی قبر تلاشنا۔
6-اکثریت کے تعلیم یافتہ طبقے کا شان رسالت میں گستاخیاں کرنا۔
7-مسلمانوں سے زبردستی شرکیہ نعرے لگوانے کا بڑھتا رجحان۔
8-گھر واپسی کے نام پر کھلے عام ارتدادی مہم چلانا۔
یہ سارے کام چوری چھپے نہیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر کیے جارہے ہیں۔جو افراد اور تنظیمیں ان کاموں میں ملوث ہیں انہیں حکومت و انتظامیہ کی کھلی حمایت حاصل ہے۔اسی لیے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوتی ہے نہ کسی طرح کی سختی۔جبکہ مسلمان محض مزاحمت کرنے پر ہی تختہ ستم بنا دیا جاتا ہے۔
عقیدہ توحید ورسالت اور ہمارا طرز عمل؟
عقیدہ توحید ورسالت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔جس پر ایمان کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔اگر یہ عقیدہ نہ رہے تو پھر کسی بھی چیز کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ہے۔لیکن توحید ورسالت کی اتنی اہمیت کے باوجود ہماری غفلت ولاپرواہی کا عالم یہ ہے کہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کلمہ توحید کا مفہوم تو دور سنانے تک سے معذور ہے۔بارہا نکاح خوانی کے موقع پر دیکھنے میں آتا ہے کہ قاضی کے پڑھانے کے باوجود دولہا کلمہ نہیں پڑھ پاتا۔اب جس جوان کو 25/30 سال کی عمر میں کلمہ یاد نہ ہو اسے عقیدہ توحید ورسالت کی باریکیاں کیا معلوم ہوں گی؟
بات محض نوجوانوں ہی کی نہیں ہے بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں کتنے ہی ایسے گاؤں دیہات ہیں جہاں عمر رسیدہ مسلمان اپنے گھروں میں رام کتھائیں کراتے ہیں۔دوسروں کی پوجا ارچنا میں شریک ہوتے ہیں۔گھروں پر دوسروں کے دھارمک بھگوانوں کی تصویریں لگاتے ہیں۔بہتوں کے نام تک بھی ہندوانی ہوتے ہیں۔ان لوگوں کے ایمان وعقائد کی حفاظت واصلاح کس کے ذمے ہے؟
کوئی یہ نہ سمجھے کہ گاؤں دیہات کے لوگ اپنی کم علمی اور جہالت کی وجہ سے ایسے کام کرتے ہیں، شہری مسلمان ان سب خرافات سے محفوظ ہیں؟شہر کا نوجوان بھی دیہاتی جوان کی طرح محفل نکاح میں اُسی وقت پریشان نظر آتا ہے جب اسے کلمہ پڑھنے کو کہا جاتا ہے۔اپنی تعلیم اور شہری ہونے کے احساس میں بعض لوگ اتنے آزاد خیال ہوجاتے ہیں کہ کفریہ کاموں میں ملوث بھی ہوتے ہیں اور ٹوکنے پر لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ جیسی آیتیں سنا کر کٹ حجتی بھی کرتے ہیں۔گویا شرکیہ کام کرنے سے بھی ان کے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اسلام دشمن طاقتیں عقیدہ توحید ورسالت کی اہمیت کے پیش نظر مختلف حیلوں بہانوں سے عقیدہ اسلام پر حملہ آور ہیں۔اس کام کے لیے درج ذیل حربے استعمال کیے جارہے ہیں:
🔹سنیما اور میڈیا کے ذریعے ایسے لوگوں/کہانیوں کو پروموٹ کرنا جو توحید وشرک کا سنگم ہوں۔
🔹لبرلزم کے نام پر بین المذاہب شادیوں کو بڑھاوا دینا۔
🔹سیکولرزم کے نام پر کفریہ رسم ورواج میں شامل ہونا۔
🔹سوشل ورک کے نام پر کفریہ تقاریب کو بڑھاوا دیا جانا۔
🔹معبودان باطلہ کے جے پکارنا اور خود کو ان سے منسوب کرنا۔
🔹اللہ تعالیٰ ودیگر معبودان باطلہ کو ایک قرار دینا۔
ہمارے کرنے کے کام:
مکی دور کا جائزہ لیا جائے تو نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کی جدوجہد سے ہمیں دو اہم پیغام ملتے ہیں:
1-تبلیغ دین
2-استقامت علی الدین
یعنی پہلا بنیادی کام دین کی تبلیغ کرنا ہے۔جو کسی بھی حال میں نہ چھوٹنے پائے۔
دوسرا اہم کام اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہنا ہے۔کسی مالی، سیاسی یا دنیوی فائدے کی خاطر اسلامی عقیدے سے سمجھوتا نہ کیا جائے۔
اس محاذ پر ہم اپنا جائزہ لیں تو صرف مایوسی ہی نظر آتی ہے کہ ہم لوگوں نے غیروں تک تبلیغ دین کا کام تقریباً بالکل ہی چھوڑ رکھا ہے۔اسی کا فائدہ اٹھا کر شدت پسند تنظیمیں انہیں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں سنا کر متنفر کرتی ہیں۔مسلمانوں کا دشمن بناتی ہیں۔اگر دعوت وتبلیغ کا کام جاری ہوتا تو دنیا ہمارے دین کی حقانیت اور ہمارے عادات و اخلاق سے واقف اور متاثر ہوتی ہے۔جس سے لاکھوں بندگان خدا کو اللہ تعالیٰ معرفت حاصل ہوتی اور مسلمانوں کی قوت بھی بڑھتی مگر ہم نے اپنے آپ کو صرف کلمہ گو افراد کی اصلاح تک ہی محدود رکھا۔جبکہ اصلاح عقیدہ بہرحال اصلاح اعمال سے زیادہ اہم اور مقدم ہے۔
اغیار کا حال تو یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی مذہبی تقاریب، عبادت گاہوں، مخصوص شناخت اور لباس کسی بھی قیمت پر چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ہر مقام پر برملا اظہار کرتے ہیں، اور ہمارے لوگ اتنے سیکولر ہونا چاہتے ہیں کہ انھیں دیکھ کر یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کہ مسلمان ہیں بلکہ وہ لوگ اپنے رویّوں سے یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے ان سے بڑا ہندو کوئی ہے ہی نہیں!معمولی سے سیاسی اور مالی فائدے کی خاطر عقیدے سے سمجھوتا کرلیا جاتا ہے۔کفریہ کاموں میں بہ رضا ورغبت شامل ہوتے ہے۔طرفہ تماشا یہ کہ اسے روشن خیالی اور وسعت ظرفی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ سراسر خوش فہمی اور نادانی ہے۔جو لوگ ایسے کاموں میں ملوث ہوتے ہیں وہ کبھی عزت حاصل نہیں کرپاتے ہمیشہ اہل اقتدار کی جوٹھن ہی کھاتے ہیں۔
آج جب کہ ہم اپنے ایمانی وجود کی لڑائی لڑ رہے ہیں، تو کیا ہم اصلاح عقیدہ کے لیے کوئی مؤثر اور مفید قدم اٹھائیں گے یا اسے بھی کسی سیاسی پارٹی سے پورا کرانے کی امید رکھیں گے؟
9 شعبان المعظم 1442ھ
23 مارچ 2021 بروز منگل
نوٹ: ایسے ہی فکر انگیز اور تحقیقی مضامین پر مشتمل فقیر کی دو کتابیں "منزلوں کے نشاں اور ہمارے عہد کا بھارت" منظر عام پر آچکی ہیں۔حاصل کرنے کے لیے 9717285505 پر رابطہ کریں۔
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/885264415377411/
1-تبلیغ دین
2-استقامت علی الدین
یعنی پہلا بنیادی کام دین کی تبلیغ کرنا ہے۔جو کسی بھی حال میں نہ چھوٹنے پائے۔
دوسرا اہم کام اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہنا ہے۔کسی مالی، سیاسی یا دنیوی فائدے کی خاطر اسلامی عقیدے سے سمجھوتا نہ کیا جائے۔
اس محاذ پر ہم اپنا جائزہ لیں تو صرف مایوسی ہی نظر آتی ہے کہ ہم لوگوں نے غیروں تک تبلیغ دین کا کام تقریباً بالکل ہی چھوڑ رکھا ہے۔اسی کا فائدہ اٹھا کر شدت پسند تنظیمیں انہیں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں سنا کر متنفر کرتی ہیں۔مسلمانوں کا دشمن بناتی ہیں۔اگر دعوت وتبلیغ کا کام جاری ہوتا تو دنیا ہمارے دین کی حقانیت اور ہمارے عادات و اخلاق سے واقف اور متاثر ہوتی ہے۔جس سے لاکھوں بندگان خدا کو اللہ تعالیٰ معرفت حاصل ہوتی اور مسلمانوں کی قوت بھی بڑھتی مگر ہم نے اپنے آپ کو صرف کلمہ گو افراد کی اصلاح تک ہی محدود رکھا۔جبکہ اصلاح عقیدہ بہرحال اصلاح اعمال سے زیادہ اہم اور مقدم ہے۔
اغیار کا حال تو یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی مذہبی تقاریب، عبادت گاہوں، مخصوص شناخت اور لباس کسی بھی قیمت پر چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ہر مقام پر برملا اظہار کرتے ہیں، اور ہمارے لوگ اتنے سیکولر ہونا چاہتے ہیں کہ انھیں دیکھ کر یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کہ مسلمان ہیں بلکہ وہ لوگ اپنے رویّوں سے یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے ان سے بڑا ہندو کوئی ہے ہی نہیں!معمولی سے سیاسی اور مالی فائدے کی خاطر عقیدے سے سمجھوتا کرلیا جاتا ہے۔کفریہ کاموں میں بہ رضا ورغبت شامل ہوتے ہے۔طرفہ تماشا یہ کہ اسے روشن خیالی اور وسعت ظرفی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ سراسر خوش فہمی اور نادانی ہے۔جو لوگ ایسے کاموں میں ملوث ہوتے ہیں وہ کبھی عزت حاصل نہیں کرپاتے ہمیشہ اہل اقتدار کی جوٹھن ہی کھاتے ہیں۔
آج جب کہ ہم اپنے ایمانی وجود کی لڑائی لڑ رہے ہیں، تو کیا ہم اصلاح عقیدہ کے لیے کوئی مؤثر اور مفید قدم اٹھائیں گے یا اسے بھی کسی سیاسی پارٹی سے پورا کرانے کی امید رکھیں گے؟
9 شعبان المعظم 1442ھ
23 مارچ 2021 بروز منگل
نوٹ: ایسے ہی فکر انگیز اور تحقیقی مضامین پر مشتمل فقیر کی دو کتابیں "منزلوں کے نشاں اور ہمارے عہد کا بھارت" منظر عام پر آچکی ہیں۔حاصل کرنے کے لیے 9717285505 پر رابطہ کریں۔
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/885264415377411/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آیات جہاد اور شہزادگان ابلیس کی فتنہ پروری
مذہب اسلام میں جہاد در اصل دفاعی نظام کا نام ہے۔اسے ڈیفنس سسٹم(Defence System)سے تعبیر کیا جائے۔
اسلام دین فطرت ہے۔اس کے تمام اصول وضوابط فطرت انسانیہ اور عقل سلیم کے مطابق ہیں۔
جو علما و دانشوران اور وکلا دنیا کے بڑے ممالک کے دفاعی قوانین اور ان کی باریکیوں سے واقف وآشنا ہیں۔وہ ان آیات مقدسہ اور دنیا کے عظیم ممالک کے دفاعی قوانین کا تقابل رقم کریں اور مضامین کو عالمی زبانوں مثلا انگلش,عربی,فرانسیسی ودیگر زبانوں میں شائع کریں۔
دراصل یہ ایک بہت بڑی سازش ہے جو سلطنت عثمانیہ کے عہد اخیر سے ہی جاری ہے۔اس سازش کا ذکر "ہمفرے کے اعترافات"نامی رسالے میں بھی موجود ہے۔
یہ ایک انگریزی جاسوس "ہمفرے"کے بیانات وانکشافات پر مشتمل کتاب ہے,جسے سلطنت عثمانیہ کی تباہی کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔
جلسوں اور کانفرنسوں میں بھی یہی ذکر کیا جائے کہ ظلم وجبر کے دفاع اور شر وفساد کو دور کرنے کے واسطے جو نظام خداوندی ہے,اسی دفاعی نظام کا نام جہاد ہے اور اس کی مختلف صورتیں ہیں۔
جہاد بالنفس۔یہ شیطانی وسوسوں اور اس کے شروفساد سے روکنے کے لئے ہے۔
جہاد بالقلم۔یہ فکری ونظریاتی شر وفساد سے اقوام عالم کو محفوظ رکھنے کے لئے ہے۔
جہاد بالسیف۔یہ ظالموں اور جابروں کے شر وفساد سے انسانوں کی حفاظت کے لئے ہے۔
دنیا کا ہر ملک اپنی سرحدوں پر حفاظتی دستے مقرر کرتا ہے۔ہر ملک میں وزارت دفاع اور مستقل دفاعی محکمہ ہوتا ہے۔لاکھوں کی تعداد میں فوجی ہوتے ہیں۔اندرون ملک فتنہ وفساد کی روک تھام کے لئے پولیس کا نظام ہوتا ہے۔یہ سب ڈیفنس اور کنٹرول سسٹم کی لازمی چیزیں ہیں۔
لوگوں کو جہاد اور دہشت گردی کا فرق بتانا ضروری ہے۔
نیز یہ بھی بتانا ہے کہ دہشت گردی میں سب سے اعلی پوزیشن پر یہود و نصاری ہیں۔اس کے ثبوت و شواہد بھی جمع کرنے ہیں۔
جہاد ایک دفاعی نظام ہے اور دہشت گردی اقدامی حرکت ہے۔دفاع اور اقدام میں فرق ہے۔
چوں کہ اقوام عالم کے لئے ڈیفنس کا مفہوم بالکل آسان ترین اور بدیہی ہے,اس لئے لفظ جہاد کی تشریح میں یہ ضرور کہا جائے کہ جہاد ڈیفنس سسٹم کا نام ہے۔یہ اقدامی حرکت نہیں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
23:مارچ 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/885326892037830/
مذہب اسلام میں جہاد در اصل دفاعی نظام کا نام ہے۔اسے ڈیفنس سسٹم(Defence System)سے تعبیر کیا جائے۔
اسلام دین فطرت ہے۔اس کے تمام اصول وضوابط فطرت انسانیہ اور عقل سلیم کے مطابق ہیں۔
جو علما و دانشوران اور وکلا دنیا کے بڑے ممالک کے دفاعی قوانین اور ان کی باریکیوں سے واقف وآشنا ہیں۔وہ ان آیات مقدسہ اور دنیا کے عظیم ممالک کے دفاعی قوانین کا تقابل رقم کریں اور مضامین کو عالمی زبانوں مثلا انگلش,عربی,فرانسیسی ودیگر زبانوں میں شائع کریں۔
دراصل یہ ایک بہت بڑی سازش ہے جو سلطنت عثمانیہ کے عہد اخیر سے ہی جاری ہے۔اس سازش کا ذکر "ہمفرے کے اعترافات"نامی رسالے میں بھی موجود ہے۔
یہ ایک انگریزی جاسوس "ہمفرے"کے بیانات وانکشافات پر مشتمل کتاب ہے,جسے سلطنت عثمانیہ کی تباہی کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔
جلسوں اور کانفرنسوں میں بھی یہی ذکر کیا جائے کہ ظلم وجبر کے دفاع اور شر وفساد کو دور کرنے کے واسطے جو نظام خداوندی ہے,اسی دفاعی نظام کا نام جہاد ہے اور اس کی مختلف صورتیں ہیں۔
جہاد بالنفس۔یہ شیطانی وسوسوں اور اس کے شروفساد سے روکنے کے لئے ہے۔
جہاد بالقلم۔یہ فکری ونظریاتی شر وفساد سے اقوام عالم کو محفوظ رکھنے کے لئے ہے۔
جہاد بالسیف۔یہ ظالموں اور جابروں کے شر وفساد سے انسانوں کی حفاظت کے لئے ہے۔
دنیا کا ہر ملک اپنی سرحدوں پر حفاظتی دستے مقرر کرتا ہے۔ہر ملک میں وزارت دفاع اور مستقل دفاعی محکمہ ہوتا ہے۔لاکھوں کی تعداد میں فوجی ہوتے ہیں۔اندرون ملک فتنہ وفساد کی روک تھام کے لئے پولیس کا نظام ہوتا ہے۔یہ سب ڈیفنس اور کنٹرول سسٹم کی لازمی چیزیں ہیں۔
لوگوں کو جہاد اور دہشت گردی کا فرق بتانا ضروری ہے۔
نیز یہ بھی بتانا ہے کہ دہشت گردی میں سب سے اعلی پوزیشن پر یہود و نصاری ہیں۔اس کے ثبوت و شواہد بھی جمع کرنے ہیں۔
جہاد ایک دفاعی نظام ہے اور دہشت گردی اقدامی حرکت ہے۔دفاع اور اقدام میں فرق ہے۔
چوں کہ اقوام عالم کے لئے ڈیفنس کا مفہوم بالکل آسان ترین اور بدیہی ہے,اس لئے لفظ جہاد کی تشریح میں یہ ضرور کہا جائے کہ جہاد ڈیفنس سسٹم کا نام ہے۔یہ اقدامی حرکت نہیں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
23:مارچ 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/885326892037830/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت ابوعبدالرحمن المعروف امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے سیدنا معاویہ بن سفیان صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم (رضی اللہ عنہما) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اسلام گویا ایک گھر ہے جس کے دروازے ہیں اسلام کے دروازے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں پس جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اذیت دی گویا اس نے اسلام کو اذیت دینے کا ارادہ کیا کیونکہ جو دروازہ توڑنا چاہتا ہے وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے پس جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے ۔ (تہذیب الکمال جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 339 ، 349 مؤسسۃ الرسالہ)
معلوم ہوا صحابی رسول حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوء اعتقاد رکھنے والا صرف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کی تنقیص پر نہیں رکتا ہے بلکہ وہ جمیع اصحاب نبوی رضی اللہ عنہم پر تبراء سے بھی پھر باز نہیں آتا ہے جسکا بالکل آج کل مشاہدہ ہورہا ہے ۔
یہ بھی معلوم ہوا امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھتے تھے امام نسائی کہ واقعہ سے غلط مفھوم گھڑ کر جو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں وہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو آنکھیں کھول کر پڑھیں شائد اگر ضمیر زندہ ہو تو توبہ رجوع کی توفیق مل جائے اللہ تعالی ہم سب کو آل و اصحاب کا ادب نصیب فرمائے آمین ۔
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور امام نسائی کی شہادت کی جھوٹی داستان
محترم قارئینِ کرام : بعض لوگ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار کرنے کے لیے امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے قصے سے دلیل لیتے ہیں ، جس میں مذکور ہے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی نفی کی لیکن یہ واقعہ باسند صحیح ثابت نہیں اس کی سند میں مجہول اور غیر معتبر راوی موجود ہیں لہٰذا ایسی بے سروپا روایات کا کوئی اعتبار نہیں ۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کی جھوٹی داستان
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا انکارکرنے کے لیے چھپے رافضی اور کھلے رافضی جھوٹ اور ھٹ دھرمی دیکھاتے ہیں اور انہیں ہم باربار بتا چکے ہیں کہ جوروایات آپ لوگ پیش کر رہے ہیں وہ بے سند ہیں ، ضعیف ہیں اگر ثابت بھی ہیں تو ان کا وہ مطلب نہیں ہے جو آپ لوگ نکالنا چاہتے ہیں لیکن چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں کی ہٹ دھرمی کی انتہاء ہے کہ وہی بے سند روایات بار بار بیان کرتے ہیں جیسا کہ : امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کی جھوٹی داستان ، چھپے رافضی اور کھلے رافضی کہتے ہیں کہ : امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ دمشق میں گئےوہاں لوگ تین سوسال گزرنے کے بعد منبروں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بُرا بھلا کہتے تھے ، امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کو بڑا غصہ آیا ، انہوں نے ارادہ کیا کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے فضائل پر کتاب لکھوں تو وہاں لوگوں نے کہا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں بھی کوئی حدیث بیان کریں تو انہوں نے میرے والی بات کہ میری زبان بند ہی رہنے دوتو وہاں کے لوگوں نے اصرار کیا کہ آپ بتائیں تو امام صاحب نے فرمایا کہ اللہ معاویہ کو صحابی ہونے کی وجہ سے چھوڑ دے تو تمہارے لیے کافی نہیں ؟ اور پھر کہا کہ مجھے تو معاویہ کے بارے میں صرف ایک صحیح حدیث کا پتہ ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے کہ اللہ معاویہ کا پیٹ نہ بھرے ، پس اتنی بات تھی کہ ناصبی ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو اتنا مارا کہ ان کی شرمگاہ پر بھی زخم بن گئےحتی کہ وہ قریب المرگ ہوگئے پھر ان کو ان کی خواہش کے مطابق مکہ لے کر جایا گیا اور وہاں ہی ان کو دفن کردیاگیا ۔
ہم کہتے ہیں کہ یہ جھوٹی روایت ہے ، چھپے رافضی اور کھلے رافضی خود کہتے ہیں کہ تاریخ کی جھوٹی روایات کھوٹے سکوں کی مانند ہیں تو ہم پوچھتے ہیں کہ یہ کھوٹے سکے آپ کیوں بیان کرتے ہیں ؟ ہم پہلے بھی کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کا واقعہ ثابت نہیں ہے پھر چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں نے ایک ڈھونگ بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ ” ان کی شہادت کا واقعہ توتواتر کے ساتھ ساری کتابوں میں نقل ہورہا ہے” ۔
واہ چھپے رافضیو اور کھلے رافضیو ہم نے اس پر ایک مضمون لکھا تھا ”ضعیف روایات اور متواتر کا ڈھونگ” اس میں ہم نے بتایا تھا کہ جو روایت ضعیف ہو اور وہ چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں کے حق میں ہواس کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ متواتر ہوگئی ہےاور کچھ روایتیں بہت ساری کتابوں میں موجود ہوتی ہیں لیکن ان کو ماننا نہیں ہوتا تو صاف انکار کر دیتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت ابوعبدالرحمن المعروف امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے سیدنا معاویہ بن سفیان صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم (رضی اللہ عنہما) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اسلام گویا ایک گھر ہے جس کے دروازے ہیں اسلام کے دروازے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں پس جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اذیت دی گویا اس نے اسلام کو اذیت دینے کا ارادہ کیا کیونکہ جو دروازہ توڑنا چاہتا ہے وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے پس جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے ۔ (تہذیب الکمال جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 339 ، 349 مؤسسۃ الرسالہ)
معلوم ہوا صحابی رسول حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوء اعتقاد رکھنے والا صرف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کی تنقیص پر نہیں رکتا ہے بلکہ وہ جمیع اصحاب نبوی رضی اللہ عنہم پر تبراء سے بھی پھر باز نہیں آتا ہے جسکا بالکل آج کل مشاہدہ ہورہا ہے ۔
یہ بھی معلوم ہوا امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھتے تھے امام نسائی کہ واقعہ سے غلط مفھوم گھڑ کر جو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں وہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو آنکھیں کھول کر پڑھیں شائد اگر ضمیر زندہ ہو تو توبہ رجوع کی توفیق مل جائے اللہ تعالی ہم سب کو آل و اصحاب کا ادب نصیب فرمائے آمین ۔
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور امام نسائی کی شہادت کی جھوٹی داستان
محترم قارئینِ کرام : بعض لوگ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار کرنے کے لیے امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے قصے سے دلیل لیتے ہیں ، جس میں مذکور ہے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی نفی کی لیکن یہ واقعہ باسند صحیح ثابت نہیں اس کی سند میں مجہول اور غیر معتبر راوی موجود ہیں لہٰذا ایسی بے سروپا روایات کا کوئی اعتبار نہیں ۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کی جھوٹی داستان
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا انکارکرنے کے لیے چھپے رافضی اور کھلے رافضی جھوٹ اور ھٹ دھرمی دیکھاتے ہیں اور انہیں ہم باربار بتا چکے ہیں کہ جوروایات آپ لوگ پیش کر رہے ہیں وہ بے سند ہیں ، ضعیف ہیں اگر ثابت بھی ہیں تو ان کا وہ مطلب نہیں ہے جو آپ لوگ نکالنا چاہتے ہیں لیکن چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں کی ہٹ دھرمی کی انتہاء ہے کہ وہی بے سند روایات بار بار بیان کرتے ہیں جیسا کہ : امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کی جھوٹی داستان ، چھپے رافضی اور کھلے رافضی کہتے ہیں کہ : امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ دمشق میں گئےوہاں لوگ تین سوسال گزرنے کے بعد منبروں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بُرا بھلا کہتے تھے ، امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کو بڑا غصہ آیا ، انہوں نے ارادہ کیا کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے فضائل پر کتاب لکھوں تو وہاں لوگوں نے کہا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں بھی کوئی حدیث بیان کریں تو انہوں نے میرے والی بات کہ میری زبان بند ہی رہنے دوتو وہاں کے لوگوں نے اصرار کیا کہ آپ بتائیں تو امام صاحب نے فرمایا کہ اللہ معاویہ کو صحابی ہونے کی وجہ سے چھوڑ دے تو تمہارے لیے کافی نہیں ؟ اور پھر کہا کہ مجھے تو معاویہ کے بارے میں صرف ایک صحیح حدیث کا پتہ ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے کہ اللہ معاویہ کا پیٹ نہ بھرے ، پس اتنی بات تھی کہ ناصبی ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو اتنا مارا کہ ان کی شرمگاہ پر بھی زخم بن گئےحتی کہ وہ قریب المرگ ہوگئے پھر ان کو ان کی خواہش کے مطابق مکہ لے کر جایا گیا اور وہاں ہی ان کو دفن کردیاگیا ۔
ہم کہتے ہیں کہ یہ جھوٹی روایت ہے ، چھپے رافضی اور کھلے رافضی خود کہتے ہیں کہ تاریخ کی جھوٹی روایات کھوٹے سکوں کی مانند ہیں تو ہم پوچھتے ہیں کہ یہ کھوٹے سکے آپ کیوں بیان کرتے ہیں ؟ ہم پہلے بھی کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کا واقعہ ثابت نہیں ہے پھر چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں نے ایک ڈھونگ بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ ” ان کی شہادت کا واقعہ توتواتر کے ساتھ ساری کتابوں میں نقل ہورہا ہے” ۔
واہ چھپے رافضیو اور کھلے رافضیو ہم نے اس پر ایک مضمون لکھا تھا ”ضعیف روایات اور متواتر کا ڈھونگ” اس میں ہم نے بتایا تھا کہ جو روایت ضعیف ہو اور وہ چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں کے حق میں ہواس کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ متواتر ہوگئی ہےاور کچھ روایتیں بہت ساری کتابوں میں موجود ہوتی ہیں لیکن ان کو ماننا نہیں ہوتا تو صاف انکار کر دیتے ہیں ۔
ہم نے اس وقت بھی پوچھا تھا کہ اگر آپ اسےمتواتر کہتے ہیں تو متواتر کی شرطیں کیا ہیں ؟ متواتر تو تب ہوگی جب اس کو ہردور مین اتنی بڑی تعداد بیان کرے کہ ان کا جھوٹ پر اکٹھا ہونا ناممکن ہو ۔
چھپے رافضی اور کھلے رافضیو سب کو چھوڑیں ، چھپے رافضیو اور کھلے رافضیو صرف سات ثقہ ایسے بندے پیش کر دیں جو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے دور میں اس واقعہ کو بیان کرتے ہوں ، سات کو چھوڑیں چھپے رافضی اور کھلے رافضیو صر ف تین بندے ہی پیش کردو جو اس واقعہ کو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے دور میں بیان کرتے ہوں ، تین کو بھی چھوڑیں ، چھپے رافضی اور کھلے رافضیو صر ف دو بندے ہی ایسے پیش کردو جو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے دور میں اس واقعہ کو بیان کرتے ہوں ، تاقیامت اس کا جواب دینا چھپے رافضیوں اور کھلے رافضیوں پر فرض بھی ہے اور قرض بھی ، ہم چھپے رافضیوں اور کھلے رافضیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ آپ اس واقعہ میں متواتر کی شرطیں ثابت کریں یا پھر اس کے ضعیف ہونے پر علی الاعلان توبہ کریں اور اس سے رجوع کریں ، اللہ آپ لوگوں کو توفیق عطافرمائے ۔
اسی طرح امام اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف یہ قول منسوب ہے : لا يصح عن النبى صلى الله عليه وسلم فى فضل معاوية بن أبي سفيان شيئ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں کچھ بھی ثابت نہیں ۔ (تاريخ دمشق لابن عساكر : 105/59، سير أعلام النبلاء للذهبي : 132/3) ، اس بات کو ذکر کرنے کے بعد حافظ جمال الدین مزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں یہ بات امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق سوء اعتقاد پر دلالت نہیں کرتی بلکے ان کے متعلق برائی سے روکنے پر دلالت کرتی ہے ۔
یہ قول ثابت نہیں ہو سکا کیونکہ اس کی سند میں ابوالعباس اصم کے والد یعقوب بن یوسف بن معقل ، ابوفضل ، نیشاپوری کی توثیق نہیں ملی ۔ بعض کتب میں اس سند سے ابوالعباس اصم کے والد کا واسطہ گر گیا ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/886234271947092/
چھپے رافضی اور کھلے رافضیو سب کو چھوڑیں ، چھپے رافضیو اور کھلے رافضیو صرف سات ثقہ ایسے بندے پیش کر دیں جو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے دور میں اس واقعہ کو بیان کرتے ہوں ، سات کو چھوڑیں چھپے رافضی اور کھلے رافضیو صر ف تین بندے ہی پیش کردو جو اس واقعہ کو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے دور میں بیان کرتے ہوں ، تین کو بھی چھوڑیں ، چھپے رافضی اور کھلے رافضیو صر ف دو بندے ہی ایسے پیش کردو جو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے دور میں اس واقعہ کو بیان کرتے ہوں ، تاقیامت اس کا جواب دینا چھپے رافضیوں اور کھلے رافضیوں پر فرض بھی ہے اور قرض بھی ، ہم چھپے رافضیوں اور کھلے رافضیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ آپ اس واقعہ میں متواتر کی شرطیں ثابت کریں یا پھر اس کے ضعیف ہونے پر علی الاعلان توبہ کریں اور اس سے رجوع کریں ، اللہ آپ لوگوں کو توفیق عطافرمائے ۔
اسی طرح امام اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف یہ قول منسوب ہے : لا يصح عن النبى صلى الله عليه وسلم فى فضل معاوية بن أبي سفيان شيئ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں کچھ بھی ثابت نہیں ۔ (تاريخ دمشق لابن عساكر : 105/59، سير أعلام النبلاء للذهبي : 132/3) ، اس بات کو ذکر کرنے کے بعد حافظ جمال الدین مزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں یہ بات امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق سوء اعتقاد پر دلالت نہیں کرتی بلکے ان کے متعلق برائی سے روکنے پر دلالت کرتی ہے ۔
یہ قول ثابت نہیں ہو سکا کیونکہ اس کی سند میں ابوالعباس اصم کے والد یعقوب بن یوسف بن معقل ، ابوفضل ، نیشاپوری کی توثیق نہیں ملی ۔ بعض کتب میں اس سند سے ابوالعباس اصم کے والد کا واسطہ گر گیا ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/886234271947092/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ ہے شبِ برات
ہے رحمتِ الٰہی سے لبریز ، کائنات
یہ ہے شبِ برات
بندوں کی سَمت ، رب کا خصوصی ہے التفات
یہ ہے شبِ برات
کھولے ہیں رب تعالیٰ نے عفو و کرم کے باب
سب توبہ کرنے والوں کی دوزخ سے ہے نجات
یہ ہے شبِ برات
آواز دے رہی ہے ہمیں رحمتِ خدا
آؤ قبول ہوں گے تمہارے مطالبات
یہ ہے شبِ برات
تم سجدہ کر کے مانگو پریشانیوں کا حل
ٹل جائیں گی دعا و عبادت سے مشکلات
یہ ہے شبِ برات
"أَمرٍ حَکیم" سے یہ اشارہ ملا ہمیں
طے ہوں گے سال بھر کے اہم سب مقدَّمات
یہ ہے شبِ برات
قرآں میں اِس کو "لَیلِ مبارک" کہا گیا
اتری ہوئ زمیں پہ فرشتوں کی ہے برات
یہ ہے شبِ برات
سرکار کی عطا سے دوبالا ہے اِس کا فیض
پائ ہے اِس نے جانِ جہاں سے نئ حیات
یہ ہے شبِ برات
رو رو کے گِڑ گِڑا کے معافی طلب کرو
سلجھیں گے ایک لمحے میں بگڑے معاملات
یہ ہے شبِ برات
آقا بَقِیعِ پاک گیے "تِرمِذِی" میں ہے
بہرِ دعا قبور پہ جائیں ہم آج رات
یہ ہے شبِ برات
رب کو مناؤ اشکِ ندامت لیے ہوئے
ہوں گے بحال، رب سے تمہارے تعلقات
یہ ہے شبِ برات
کثرت کریں نوافل و ذکر و درود کی
ہم پر خداے پاک کی ہوں گی نوازشات
یہ ہے شبِ برات
سب چھوڑ کر فریدی چلو بارگاہِ رب
تم بھی سمیٹو فضلِ خدا کی تجلیات
یہ ہے شبِ برات
از فریدی صدیقی مصباحی، بارہ بنکوی مسقط عمان
+96899633908
ہے رحمتِ الٰہی سے لبریز ، کائنات
یہ ہے شبِ برات
بندوں کی سَمت ، رب کا خصوصی ہے التفات
یہ ہے شبِ برات
کھولے ہیں رب تعالیٰ نے عفو و کرم کے باب
سب توبہ کرنے والوں کی دوزخ سے ہے نجات
یہ ہے شبِ برات
آواز دے رہی ہے ہمیں رحمتِ خدا
آؤ قبول ہوں گے تمہارے مطالبات
یہ ہے شبِ برات
تم سجدہ کر کے مانگو پریشانیوں کا حل
ٹل جائیں گی دعا و عبادت سے مشکلات
یہ ہے شبِ برات
"أَمرٍ حَکیم" سے یہ اشارہ ملا ہمیں
طے ہوں گے سال بھر کے اہم سب مقدَّمات
یہ ہے شبِ برات
قرآں میں اِس کو "لَیلِ مبارک" کہا گیا
اتری ہوئ زمیں پہ فرشتوں کی ہے برات
یہ ہے شبِ برات
سرکار کی عطا سے دوبالا ہے اِس کا فیض
پائ ہے اِس نے جانِ جہاں سے نئ حیات
یہ ہے شبِ برات
رو رو کے گِڑ گِڑا کے معافی طلب کرو
سلجھیں گے ایک لمحے میں بگڑے معاملات
یہ ہے شبِ برات
آقا بَقِیعِ پاک گیے "تِرمِذِی" میں ہے
بہرِ دعا قبور پہ جائیں ہم آج رات
یہ ہے شبِ برات
رب کو مناؤ اشکِ ندامت لیے ہوئے
ہوں گے بحال، رب سے تمہارے تعلقات
یہ ہے شبِ برات
کثرت کریں نوافل و ذکر و درود کی
ہم پر خداے پاک کی ہوں گی نوازشات
یہ ہے شبِ برات
سب چھوڑ کر فریدی چلو بارگاہِ رب
تم بھی سمیٹو فضلِ خدا کی تجلیات
یہ ہے شبِ برات
از فریدی صدیقی مصباحی، بارہ بنکوی مسقط عمان
+96899633908