فارسی کی لنک 👇👇👇
*اشرف البیان مع تفسیر اظہار العرفان*
فارسی ترجمۂ قران
*غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ*
اردو ترجمۂ از فارسی ترجمہ وتفسیر جدید
*اولا د غوث الاعظم حضرت علامہ سید شاہ ممتاز اشرفی الجیلانی صاحب*
یہ *ترجمۂ قرآن فارسی* میں ہے اور ایک عظیم علمی شاہکار ہے کیونکہ اس زمانے میں فارسی بولی اور سمجھی جاتی تھی اس لئے آپ نے فارسی میں ترجمہ کیا اس کا اصل نسخہ *مختار اشرف لائبریری خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکارکلاں کچھوچھہ شریف* ( امبیڈکر نگر ،اترپردیش)میں موجود ہے ۔
واضح رہے کہ یہ ترجمۂ قرآن کریم *غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ* نے اپنے *دور سلطنت 727 ہجری* میں خود تحریر فرمایا ۔
ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی بڑی گہری نظرتھی کیونکہ بہت سے مقامات پر آپ نے اس انداز سے ترجمہ کیا ہے کہ قاری کے ذہن کے تمام شکوک و شبہات دور ہوجائے اکثر دیکھا گیا ہے کہ مترجمین اس طرف توجہ نہیں دیتے اور ایسا ترجمہ کرتے ہیں کہ جس کو پڑھ کر ذہن الجھ جاتا ہے اور انسانی عقل و حواس اس بات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا لیکن *غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ کا یہ ترجمہ *ان تمام چیزوں سے باہر ہے اور اس ترجمہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا گیا جس سے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم* میں ادنیٰ سی گستاخی کا شائبہ پیدا ہو بلکہ ادب ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت احتیاط سے ترجمہ کیا گیا اور آپ نے نہایت سلیس فارسی زبان میں ترجمہ کیا ہے اور اب تک جتنے ترجمے ہوئے ہیں ان سب تراجم میں یہ ترجمہ قرآن منفرد نظر آتا ہے ۔
*ایک غلط فہمی کا ازالہ*
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فارسی زبان میں سے سب سے پہلے ترجمۂ قرآن *حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1176ہجری) کا ہے* جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ *غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ ( المتوفی 808 ہجری) کا ترجمہ قرآن آپ سے بھی پہلے کاہے*۔
طالب دعا :
*آل رسول احمد الاشرفی القادری کٹیہاری*
7317380929
*ڈاؤنلوڈ کے لئے لنک یہ ہیں*
https://www.scribd.com/document/349180544/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-01
https://www.scribd.com/document/349180244/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-02
https://www.scribd.com/document/349180652/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-03
https://www.scribd.com/document/349180545/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-04
https://www.scribd.com/document/349183106/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-05
*اشرف البیان مع تفسیر اظہار العرفان*
فارسی ترجمۂ قران
*غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ*
اردو ترجمۂ از فارسی ترجمہ وتفسیر جدید
*اولا د غوث الاعظم حضرت علامہ سید شاہ ممتاز اشرفی الجیلانی صاحب*
یہ *ترجمۂ قرآن فارسی* میں ہے اور ایک عظیم علمی شاہکار ہے کیونکہ اس زمانے میں فارسی بولی اور سمجھی جاتی تھی اس لئے آپ نے فارسی میں ترجمہ کیا اس کا اصل نسخہ *مختار اشرف لائبریری خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکارکلاں کچھوچھہ شریف* ( امبیڈکر نگر ،اترپردیش)میں موجود ہے ۔
واضح رہے کہ یہ ترجمۂ قرآن کریم *غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ* نے اپنے *دور سلطنت 727 ہجری* میں خود تحریر فرمایا ۔
ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی بڑی گہری نظرتھی کیونکہ بہت سے مقامات پر آپ نے اس انداز سے ترجمہ کیا ہے کہ قاری کے ذہن کے تمام شکوک و شبہات دور ہوجائے اکثر دیکھا گیا ہے کہ مترجمین اس طرف توجہ نہیں دیتے اور ایسا ترجمہ کرتے ہیں کہ جس کو پڑھ کر ذہن الجھ جاتا ہے اور انسانی عقل و حواس اس بات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا لیکن *غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ کا یہ ترجمہ *ان تمام چیزوں سے باہر ہے اور اس ترجمہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا گیا جس سے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم* میں ادنیٰ سی گستاخی کا شائبہ پیدا ہو بلکہ ادب ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت احتیاط سے ترجمہ کیا گیا اور آپ نے نہایت سلیس فارسی زبان میں ترجمہ کیا ہے اور اب تک جتنے ترجمے ہوئے ہیں ان سب تراجم میں یہ ترجمہ قرآن منفرد نظر آتا ہے ۔
*ایک غلط فہمی کا ازالہ*
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فارسی زبان میں سے سب سے پہلے ترجمۂ قرآن *حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1176ہجری) کا ہے* جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ *غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ ( المتوفی 808 ہجری) کا ترجمہ قرآن آپ سے بھی پہلے کاہے*۔
طالب دعا :
*آل رسول احمد الاشرفی القادری کٹیہاری*
7317380929
*ڈاؤنلوڈ کے لئے لنک یہ ہیں*
https://www.scribd.com/document/349180544/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-01
https://www.scribd.com/document/349180244/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-02
https://www.scribd.com/document/349180652/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-03
https://www.scribd.com/document/349180545/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-04
https://www.scribd.com/document/349183106/Ashraful-Byan-With-Tafseer-e-Izharul-Irfan-Part-05
Scribd
Ashraful Byan With Tafseer e Izharul Irfan Part 01
اظہار البیان مع تفسیر اظہار العرفان
فارسی ترجمۂ قران
غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ
اردو ترجمۂ از فارسی ترجمہ وتفسیر جدید
اولا د غوث الاعظم حضرت علامہ سید شاہ ممتاز اشرفی الجیلانی…
فارسی ترجمۂ قران
غوث العالم محبوب یزدانی قدوۃ الکبریٰ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کچھوچھوی رضی اللہ عنہ
اردو ترجمۂ از فارسی ترجمہ وتفسیر جدید
اولا د غوث الاعظم حضرت علامہ سید شاہ ممتاز اشرفی الجیلانی…
*کتب بینی ایک نہایت مفید مشغلہ ہے*
یہ علم میں اضافے اور پریشانیوں سے چھٹکارے کے لیے نہایت موثر نسخہ ہے ۔
صدیوں پہلے کے ایک عرب مصنف ’الجاحظ‘ نے ایک پریشان حال شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا :
کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامندانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے ۔
یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا ۔
یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا
۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا ۔
جب آپ پڑھتے ہوئے کتاب کے ورق پر ورق الٹتے جائیں گے تو آپ کی ذہانت بڑھتی رہے گی اور کئی مفید باتیں آپ کے ذہن میں اپنے لیے جگہ بناتی رہیں گی ۔
سوانحِ حیات پر لکھی ہوئی کتابوں سے آپ کو عام لوگوں کی پسند کی باتیں بھی معلوم ہوتی رہیں گی
اور بادشاہوں کے طور طریقوں کا بھی پتا چلتا رہے گا۔
یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات آپ ایک ماہ کی کتب بینی سے اتنا کچھ سیکھ جاتے ہیں کہ وہ لوگوں کی زبانی صدی بھر میں سنی ہوئی باتوں سے بڑھ کر ہوتا ہے ۔
ہارڈ کاپی گھر بیٹھے کیسے حاصل کریں اس کے آپ جوائن کریں
*گروپ نمبر1*
https://chat.whatsapp.com/ARdUtGYCahbJhveO1luOsj
---------------------------
*گروپ نمبر2*
https://chat.whatsapp.com/HoMBNaYkJNkJg5PPchcsY3
---------------
برائے مہربانی ایک ہی گروپ جوائن کریں
✍ حسن نوری گونڈوی
یہ علم میں اضافے اور پریشانیوں سے چھٹکارے کے لیے نہایت موثر نسخہ ہے ۔
صدیوں پہلے کے ایک عرب مصنف ’الجاحظ‘ نے ایک پریشان حال شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا :
کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامندانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے ۔
یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا ۔
یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا
۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا ۔
جب آپ پڑھتے ہوئے کتاب کے ورق پر ورق الٹتے جائیں گے تو آپ کی ذہانت بڑھتی رہے گی اور کئی مفید باتیں آپ کے ذہن میں اپنے لیے جگہ بناتی رہیں گی ۔
سوانحِ حیات پر لکھی ہوئی کتابوں سے آپ کو عام لوگوں کی پسند کی باتیں بھی معلوم ہوتی رہیں گی
اور بادشاہوں کے طور طریقوں کا بھی پتا چلتا رہے گا۔
یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات آپ ایک ماہ کی کتب بینی سے اتنا کچھ سیکھ جاتے ہیں کہ وہ لوگوں کی زبانی صدی بھر میں سنی ہوئی باتوں سے بڑھ کر ہوتا ہے ۔
ہارڈ کاپی گھر بیٹھے کیسے حاصل کریں اس کے آپ جوائن کریں
*گروپ نمبر1*
https://chat.whatsapp.com/ARdUtGYCahbJhveO1luOsj
---------------------------
*گروپ نمبر2*
https://chat.whatsapp.com/HoMBNaYkJNkJg5PPchcsY3
---------------
برائے مہربانی ایک ہی گروپ جوائن کریں
✍ حسن نوری گونڈوی
WhatsApp.com
WhatsApp Group Invite
*Kya Aapne Kabhi Suna Hai?*
(Part 1)
*Kya Aapne Kabhi Suna Hai* Ke Imam -e- Ahle Sunnat Aala Hazrat Radiallaho Ta'ala Anho Ek Sahabi -e- Rasool Ki Aulaad Hain?
Ji Haan! Aala Hazrat Rehmatullahi Ta'ala Alaih Ek Sahabi -e- Rasool Ki Aulaad Hain Chunanche,
Aap Rehmatullahi Ta'ala Alaih Ka Nasabi Silsila Afghanistan Ke Mash'hoor Wa Maroof Qabeele Bad'hich (بڑہیچ) Se Ja Milta Hai Jo Afghano Ke Jadde Amjad Qais Abdur Rasheed (Jinhein Sarkaar -e- Do Aalam, Noor -e- Mujassam, Shahe Bani Adam, Sallallaho Alaihi Wasallam Ki Khidmat -e- Aaliya Mein Haaziri De Kar Deen -e- Islam Qubool Karne Ki Sa'adat Haasil Huyi) Ke Pote "شرجنون" Ke Paanch Beto Mein Se Chauthe Bete "بڑہیچ" Se Ja Milta Hai (Goya Aap Ek Sahabi -e- Rasool Ki Aulaad Mein Se Hain)
تفصیل کے لیے دیکھیں:
(فیضان اعلٰی حضرت، ص59، از حافظ محمد ریحان احمد قادری رضوی عطاری، ایم اے اسلامیات بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان)
(شاہ امام احمد رضا خان بڑہیچ افغانی از قلم محمد اکبر اعوان مطبوعہ کراچی، ص35)
Post Is Continue...
Your Beloved
Abde Mustafa
Muhammad Sabir Ismayeeli Qadri Razvi
(Muballigh -e- Bazme Faizan -e- Raza)
Contact us | +919102520764
Join Our Telegram Channel :-
http://t.me/bazmefaizaneraza
Bazme Faizan -e- Raza Pvt. Ltd.
(India)
(Part 1)
*Kya Aapne Kabhi Suna Hai* Ke Imam -e- Ahle Sunnat Aala Hazrat Radiallaho Ta'ala Anho Ek Sahabi -e- Rasool Ki Aulaad Hain?
Ji Haan! Aala Hazrat Rehmatullahi Ta'ala Alaih Ek Sahabi -e- Rasool Ki Aulaad Hain Chunanche,
Aap Rehmatullahi Ta'ala Alaih Ka Nasabi Silsila Afghanistan Ke Mash'hoor Wa Maroof Qabeele Bad'hich (بڑہیچ) Se Ja Milta Hai Jo Afghano Ke Jadde Amjad Qais Abdur Rasheed (Jinhein Sarkaar -e- Do Aalam, Noor -e- Mujassam, Shahe Bani Adam, Sallallaho Alaihi Wasallam Ki Khidmat -e- Aaliya Mein Haaziri De Kar Deen -e- Islam Qubool Karne Ki Sa'adat Haasil Huyi) Ke Pote "شرجنون" Ke Paanch Beto Mein Se Chauthe Bete "بڑہیچ" Se Ja Milta Hai (Goya Aap Ek Sahabi -e- Rasool Ki Aulaad Mein Se Hain)
تفصیل کے لیے دیکھیں:
(فیضان اعلٰی حضرت، ص59، از حافظ محمد ریحان احمد قادری رضوی عطاری، ایم اے اسلامیات بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان)
(شاہ امام احمد رضا خان بڑہیچ افغانی از قلم محمد اکبر اعوان مطبوعہ کراچی، ص35)
Post Is Continue...
Your Beloved
Abde Mustafa
Muhammad Sabir Ismayeeli Qadri Razvi
(Muballigh -e- Bazme Faizan -e- Raza)
Contact us | +919102520764
Join Our Telegram Channel :-
http://t.me/bazmefaizaneraza
Bazme Faizan -e- Raza Pvt. Ltd.
(India)
شرف الدین یحییٰ منیری-
7۔ سلسلہ زاہدیہ: حضرت خواجہ بدرالدین بدر عالم زاہدی-
8۔ سلسلہ شطاریہ: حضرت حاجی محمد بن عارف القادری-
9۔سلسلہ نقشبندیہ: حضرت خواجہ سید بہاءالدین نقشبند-
10۔ سلسلہ مداریہ: حضرت خواجہ سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار،منکپور-
11۔ سلسلہ تابعیہ خضریہ: حضرت خضر علیہ السلام-
12۔ سلسلہ تابعیہ رضائیہ: حضرت شیخ ابوالرضا حاجی بابا رتن ہندی۔
نیز حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت قدس سرہ نے اپنی تمام خلافتیں عطا فرمائی تھیں۔
*خلفاے مخدوم اشرف:*
1- حضرت ابوالحسن سید عبدالرزاق جیلانی اشرفی کچھوچھوی، جانشین اول، فرزند آگوشی و جد امجد سادات قادریہ اشرفیہ، کچھوچھہ و جائس-
2-حضرت شیخ شمس الدین بن نظام الدین صدیقی اودھی-
3-حضرت حاجی شیخ نظام یمنی (جامع ملفوظات اشرفیہ)
4-حضرت جمشید بیگ قلندر ترک-
5-حضرت ملک العلماء قاضی شہاب الدین دولت آبادی (848-849/1445-1446ء)
6-حضرت مولانا قاضی ابو محمد عرف معین مئھن سدہوری-
7-حضرت سید رضا عرف شاہ راجا-
8-قاضی رکن الدین-
9-حضرت شیخ سلیمان محدث-
10-حضرت شیخ تاج الدین-
11-حضرت شیخ سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار منکپور-
12-حضرت شیخ نورالدین-
13-حضرت شیخ محمد در یتیم-
14-حضرت شیخ الاسلام احمد آبادی-
15-حضرت شیخ کبیر العباسی-
16-حضرت شیخ مبارک گجراتی-
17-حضرت سید عثمان بن خضر-
18-حضرت شیخ حسین دونیروی-
19-حضرت شیخ صفی الدین مسند عالی سیف-
20-حضرت شیخ معروف الدیموی-
21-حضرت شیخ رکن الدین شاہباز-
22-حضرت شیخ محمود کنتوری-
23-حجرت شیخ قیام الدین شاہباز-
24-حضرت شیخ عبداللہ بنارسی-
25-حضرت شیخ اصیل الدین جرہ باز-
26-حضرت ابوالوفا خورازمی-
27-حضرت شیخ جمیل الدین سپید باز-
28-حضرت شیخ احمد قتال-
29-حضرت قاضی حجت-
30-حضرت ابوالمکارم خجندی-
31-حضرت شیخ عارف مکرانی-
32-حضرت ملا کریم-
33-حضرت شیخ حاجی فخرالدین-
34-حضرت ابوالمکارم ہروی-
35-حضرت شیخ صفی الدین رودولوی-
36-حضرت شیخ داؤد-
37-حضرت شیخ سماء الدین رودولوی-
38-حضرت شیخ آدم عثمان-
39-حضرت مولانا درالبحر، مدینۃ الاشرف-
40-حضرت شیخ خیرالدین سدہوری-
41-حضرت مولانا نورالدین ظفرآبادی-
42-حضرت قاضی محمد سدہوروی-
43-حضرت مولانا ابوالمظفر محمد لکھنوی-
44-حضرت ملک محمود-
45-حضرت علامہ مولانا علام الدین جائسی-
46-حضرت بابا حسین کتاب دار-
47-حضرت شیخ کمال جائسی-
48-حضرت سید حسن علم بردار-
49-حضرت سید عبدالوہاب-
50-حضرت شیخ جمال الدین راؤت-
51-حضرت مولانا عزیزالدین شجرہ نویس-
52-حضرت قاضی رفیع الدین اودھی-
53-حضرت سید حسام الدین زنجانی ثم پونوی، پونہ-
54-حضرت شیخ یحییٰ کلاہ دار-
55-حضرت شیخ سعد اللہ کیسہ دراز-
56-حضرت مولانا خوجنگی محمد-
57-حضرت شیخ ابوالوصل-
58-حضرت شیخ ابابکر-
59-حضرت شیخ سیف الدین جونوی-
60-حضرت شیخ صفی الدین اردیلی-
61-حضرت شیخ عمر-
62-حضرت شیخ سید علی لاہوری-
63-حضرت شیخ لدھن مورث حضرات تاج پور-
64-حضرت شیخ ابو سعید خزری-
65-حضرت شیخ نظام الدین بریلوی-
66-حضرت خواجہ عبداللہ-
67-حضرت سید سیدی-
68-حضرت خواجہ حسن-
69-حضرت شیخ علی دوستی سمنانی-
70-حضرت امیر علی بیگ ترکی-
71-حضرت عبدالرحمن-
72-حضرت قاضی بیگ-
73-حضرت خواجہ سعد الدین خالدی-
74-حضرت شیخ قطب الدین یحییٰ-
75-حضرت مولانا قاضی سدھا اودھی-
76-حضرت خواجہ نظام الدین علاء-
77-حضرت شیخ زاہد بن نور-
78-حضرت شیخ محی الدین-
79-حضرت شیخ محی الدین ثانی-
80-حضرت امیر تنگر قلی ترکی-
81-حضرت میر علی-
82-حضرت شیخ عثمان مشکوری-
83-حضرت شیخ پیر علی ارلات ترکی-
84-حضرت محمد حاجی قنوجی-
85-حضرت شیخ زین الدین خواہر زادہ-
86-حضرت قل علی قلندر ترکی چینی-
87-حضرت شیخ ابوالقاسم-
88-حضرت شیخ نجم الدین صغیر-
89-حضرت شیخ نجم الدین کبیر-
90-حضرت بابا قلی ترک-
91-حضرت شیخ علی سمنانی-
92-حضرت شیخ طٰحہٰ سمنانی-
93-حضرت شیخ گوہر علی-
94-حضرت سید علی قلندر-
95-حضرت تقی الدین-
96-حضرت قطب الدین کرکری-
97-حضرت مولانا شرافت اللہ امام- 98-حضرت سید حمید الدین محمد آبادی-
99-حضرت شیخ نجم الدین عرف شاہ رمضان-
100-حجرت شیخ عبدالرحمن خجندی-
101-حضرت شیخ یحییٰ کلاہ دار-
102-حضرت شیخ پیارے رودولوی-
103-حضرت میر معلی-
*تصانیف مخدوم اشرف:*
1۔ ترجمہ قرآن بزبان فارسی(727ھ/1327ء قرآن پاک کا پہلا فارسی ترجمہ،جو خود مخدوم اشرف کا لکھا ہوا آج ھی کچھوچھہ شریف میں مختار اشرف لائبریری میں موجود ہے، اسی فارسی ترجمے کا اردو ترجمہ علامہ مولانا سید مختار اشرفی نے کراچی سے ’’اظہار البیان‘‘ کے نام سے شائع کیا۔)
2۔ رسالہ تصوف و اخلاق(اردو زبان و نثر میں پہلی کتاب ہے۔ اس سے قبل کوئئی کتاب اردو نثر میں نہیں لکھی گئی تھی۔ اسے سب سے پہلے میر نذر علی دردؔ کاکوروی نے دریافت کیا، یہ تحقیقی مقالہ بعنوان ’’شمالی ہند اور اُردو‘‘ سالنامہ یادگار رضا 1934ء میں شائع ہوا۔ پروفیسر حامد حسن قادری نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب: ’’داستان تاریخ نثر اردو‘‘
7۔ سلسلہ زاہدیہ: حضرت خواجہ بدرالدین بدر عالم زاہدی-
8۔ سلسلہ شطاریہ: حضرت حاجی محمد بن عارف القادری-
9۔سلسلہ نقشبندیہ: حضرت خواجہ سید بہاءالدین نقشبند-
10۔ سلسلہ مداریہ: حضرت خواجہ سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار،منکپور-
11۔ سلسلہ تابعیہ خضریہ: حضرت خضر علیہ السلام-
12۔ سلسلہ تابعیہ رضائیہ: حضرت شیخ ابوالرضا حاجی بابا رتن ہندی۔
نیز حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت قدس سرہ نے اپنی تمام خلافتیں عطا فرمائی تھیں۔
*خلفاے مخدوم اشرف:*
1- حضرت ابوالحسن سید عبدالرزاق جیلانی اشرفی کچھوچھوی، جانشین اول، فرزند آگوشی و جد امجد سادات قادریہ اشرفیہ، کچھوچھہ و جائس-
2-حضرت شیخ شمس الدین بن نظام الدین صدیقی اودھی-
3-حضرت حاجی شیخ نظام یمنی (جامع ملفوظات اشرفیہ)
4-حضرت جمشید بیگ قلندر ترک-
5-حضرت ملک العلماء قاضی شہاب الدین دولت آبادی (848-849/1445-1446ء)
6-حضرت مولانا قاضی ابو محمد عرف معین مئھن سدہوری-
7-حضرت سید رضا عرف شاہ راجا-
8-قاضی رکن الدین-
9-حضرت شیخ سلیمان محدث-
10-حضرت شیخ تاج الدین-
11-حضرت شیخ سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار منکپور-
12-حضرت شیخ نورالدین-
13-حضرت شیخ محمد در یتیم-
14-حضرت شیخ الاسلام احمد آبادی-
15-حضرت شیخ کبیر العباسی-
16-حضرت شیخ مبارک گجراتی-
17-حضرت سید عثمان بن خضر-
18-حضرت شیخ حسین دونیروی-
19-حضرت شیخ صفی الدین مسند عالی سیف-
20-حضرت شیخ معروف الدیموی-
21-حضرت شیخ رکن الدین شاہباز-
22-حضرت شیخ محمود کنتوری-
23-حجرت شیخ قیام الدین شاہباز-
24-حضرت شیخ عبداللہ بنارسی-
25-حضرت شیخ اصیل الدین جرہ باز-
26-حضرت ابوالوفا خورازمی-
27-حضرت شیخ جمیل الدین سپید باز-
28-حضرت شیخ احمد قتال-
29-حضرت قاضی حجت-
30-حضرت ابوالمکارم خجندی-
31-حضرت شیخ عارف مکرانی-
32-حضرت ملا کریم-
33-حضرت شیخ حاجی فخرالدین-
34-حضرت ابوالمکارم ہروی-
35-حضرت شیخ صفی الدین رودولوی-
36-حضرت شیخ داؤد-
37-حضرت شیخ سماء الدین رودولوی-
38-حضرت شیخ آدم عثمان-
39-حضرت مولانا درالبحر، مدینۃ الاشرف-
40-حضرت شیخ خیرالدین سدہوری-
41-حضرت مولانا نورالدین ظفرآبادی-
42-حضرت قاضی محمد سدہوروی-
43-حضرت مولانا ابوالمظفر محمد لکھنوی-
44-حضرت ملک محمود-
45-حضرت علامہ مولانا علام الدین جائسی-
46-حضرت بابا حسین کتاب دار-
47-حضرت شیخ کمال جائسی-
48-حضرت سید حسن علم بردار-
49-حضرت سید عبدالوہاب-
50-حضرت شیخ جمال الدین راؤت-
51-حضرت مولانا عزیزالدین شجرہ نویس-
52-حضرت قاضی رفیع الدین اودھی-
53-حضرت سید حسام الدین زنجانی ثم پونوی، پونہ-
54-حضرت شیخ یحییٰ کلاہ دار-
55-حضرت شیخ سعد اللہ کیسہ دراز-
56-حضرت مولانا خوجنگی محمد-
57-حضرت شیخ ابوالوصل-
58-حضرت شیخ ابابکر-
59-حضرت شیخ سیف الدین جونوی-
60-حضرت شیخ صفی الدین اردیلی-
61-حضرت شیخ عمر-
62-حضرت شیخ سید علی لاہوری-
63-حضرت شیخ لدھن مورث حضرات تاج پور-
64-حضرت شیخ ابو سعید خزری-
65-حضرت شیخ نظام الدین بریلوی-
66-حضرت خواجہ عبداللہ-
67-حضرت سید سیدی-
68-حضرت خواجہ حسن-
69-حضرت شیخ علی دوستی سمنانی-
70-حضرت امیر علی بیگ ترکی-
71-حضرت عبدالرحمن-
72-حضرت قاضی بیگ-
73-حضرت خواجہ سعد الدین خالدی-
74-حضرت شیخ قطب الدین یحییٰ-
75-حضرت مولانا قاضی سدھا اودھی-
76-حضرت خواجہ نظام الدین علاء-
77-حضرت شیخ زاہد بن نور-
78-حضرت شیخ محی الدین-
79-حضرت شیخ محی الدین ثانی-
80-حضرت امیر تنگر قلی ترکی-
81-حضرت میر علی-
82-حضرت شیخ عثمان مشکوری-
83-حضرت شیخ پیر علی ارلات ترکی-
84-حضرت محمد حاجی قنوجی-
85-حضرت شیخ زین الدین خواہر زادہ-
86-حضرت قل علی قلندر ترکی چینی-
87-حضرت شیخ ابوالقاسم-
88-حضرت شیخ نجم الدین صغیر-
89-حضرت شیخ نجم الدین کبیر-
90-حضرت بابا قلی ترک-
91-حضرت شیخ علی سمنانی-
92-حضرت شیخ طٰحہٰ سمنانی-
93-حضرت شیخ گوہر علی-
94-حضرت سید علی قلندر-
95-حضرت تقی الدین-
96-حضرت قطب الدین کرکری-
97-حضرت مولانا شرافت اللہ امام- 98-حضرت سید حمید الدین محمد آبادی-
99-حضرت شیخ نجم الدین عرف شاہ رمضان-
100-حجرت شیخ عبدالرحمن خجندی-
101-حضرت شیخ یحییٰ کلاہ دار-
102-حضرت شیخ پیارے رودولوی-
103-حضرت میر معلی-
*تصانیف مخدوم اشرف:*
1۔ ترجمہ قرآن بزبان فارسی(727ھ/1327ء قرآن پاک کا پہلا فارسی ترجمہ،جو خود مخدوم اشرف کا لکھا ہوا آج ھی کچھوچھہ شریف میں مختار اشرف لائبریری میں موجود ہے، اسی فارسی ترجمے کا اردو ترجمہ علامہ مولانا سید مختار اشرفی نے کراچی سے ’’اظہار البیان‘‘ کے نام سے شائع کیا۔)
2۔ رسالہ تصوف و اخلاق(اردو زبان و نثر میں پہلی کتاب ہے۔ اس سے قبل کوئئی کتاب اردو نثر میں نہیں لکھی گئی تھی۔ اسے سب سے پہلے میر نذر علی دردؔ کاکوروی نے دریافت کیا، یہ تحقیقی مقالہ بعنوان ’’شمالی ہند اور اُردو‘‘ سالنامہ یادگار رضا 1934ء میں شائع ہوا۔ پروفیسر حامد حسن قادری نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب: ’’داستان تاریخ نثر اردو‘‘
میں اسے پورے طور پر سراہا۔)…
3۔ رسالہ حجۃ الذاکرین-
4۔ بشارۃ المریدین و رسالہ قبریہ- 5۔تحقیقات عشق-
6۔ رسالہ غوثیہ-
7۔ رسالہ مناقب اصحاب کاملین و مراتب خلفا راشدین…
8۔بشارت الاخوان…
9۔ارشاد الاخوان…
10۔ فواید الاشرف…
11۔ اشرف الفوائد…
12۔ رسالہ بحث وحدت الوجود… 13۔ مکتوبات اشرفی…
14۔ اشرف الانساب…
15۔مناقب السادات…
16۔ فتاویٰ اشرفیہ…
17۔ دیوان اشرفی (مجموعہ کلام)…
18۔ شرح ہدایہ (فقہ)…
19۔نحو اشرفیہ…
20۔ شرح عوارف(تصوف)…
21۔ شرح فصوص الحکم…
22۔ قوائد العقائد…
23۔ اصول فصول…
24۔ شرح تربیت و بیان…
25۔ بحرالاذکار…
26۔ بشارۃ الذاکرین…
27۔ تنبیہ الاخوان…
28۔ زیچ سامانی…
29۔ تفسیر نور بخشیہ…
30۔ کنزالاسرار…
31۔ مکتوبات اشرفی:
(اس کے پہلے جامع حضرت نظام یمنی ہیں جنہوں نے 787ھ/1386ء میں جمع کیا تھا، پھر حضرت سید عبدالرزاق نورالعین نے مزید مکتوبات کو شامل کرتے ہوئے 869ھ/1465ء میں مکتوبات کو جمع فرمایا۔ مکتوبات اشرفی کو مولانا مفتی سید مختار اشرفی، کراچی نے دو جلدوں میں شائع فرمایا، جس میں پہلی جلد میں مقدمہ کے ساتھ 42؍ مکتوبات ہیں اور دوسری جلد میں 31؍ مکتوبات ہیں، مکتوبات کی کل تعداد 74؍ ہے۔)
*معاصرین مخدوم(بر صغیر):*
1۔ مخدوم سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار (242-838ھ/857ء-1435ء ) کل عمر 595؍ سال پائی۔
2۔ مخدوم سید جلال الدین بخاری قادری سہروردی اوچی (707-785ھ/1308-1384ء)
3۔ مخدوم جہاں سید شرف الدین یحییٰ منیری فردوسی (724-782ھ/1324-1381ء)
4۔ مخدوم علاء الحق گنج نبات چشتی بنگالی (800ھ/1398ء)
5۔ مخدوم دکن بندہ نواز گیسو دراز سید محمد حسینی چشتی دکنی(720-825ھ/1321-1422)
6۔ مخدوم کشمیر امیر سید علی حمدانی کشمیری(713-786ھ/1314-1385ء)
7۔ شیخ عبداللہ شطاری (890ھ/1485ء)
8۔ حضرت میر سید یداللہ چشتی دکنی (نبیرہ بندہ نواز)
9۔ حضرت شیخ احمد نورا الحق قطب عالم پنڈوی (722-818ھ/1322-1416ء)
*معاصرین مخدوم (عرب):*
1۔ حضرت امام عبداللہ یافعی شافعی محدث مکہ (698-768ھ/1299-1367ء )… مؤلف ’’روض الریاحین فی حکایات الصالحین‘‘۔
2۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی (659-736ھ/1261-1336ء) رکن الدین ابوالمکارم-
3۔ حضرت شیخ بہاء الدین نقشبند (718-791ھ/1319-1389ء)
4۔ حضرت سید شاہ نعمت اللہ ولی حلبی(730-827؍834ھ/1330-1424-1431ء)
5۔ حضرت خواجہ محمد پارسا (756-822ھ/1355-1419)
6۔ حضرت خواجہ احمد قطب الدین چشتی ابن خواجہ قطب الدین مودود چشتی(777ھ/1376ء)
7۔ حضرت خواجہ حافظ شیرازی (726-792ھ/1326-1390ء)
8۔ حضرت شیخ ابوالوفا خورازمی)(835ھ/1381ء)
9۔ حضرت شیخ خلیل اتا(782ھ/1381ء)
10۔ حضرت علامہ نجم الدین حنفی ابن صاحب ہدایہ علامہ امام برہان الدین مرغینائی (708-808ھ/ 1309؍1406-1429ء)
*مخدوم اشرف کے دیگر معاصرینِ عرب:*
1۔ امام ھافظ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر ابن ناصر شافعی دمشقی (777-842ھ/1367-1438ء)
2۔ امام ابن حجر شافعی عسقلانی(773-852ھ/1372-1449ء)
3۔امام ابن رجب حنبلی بغدادی (736-795ھ/1336-139)
4۔ امام عماد الدین اسماعیل بن عمر ابن کثیر شافعی (701-774ھ/1301-1373ء)
5۔ امام ولی الدین ابو عبداللہ محمد بن خطیب تبریری[صاحبِ مشکوٰۃ المصابیح](741ھ/1341ء)
6۔ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی (673-748ھ/1274-1348ء)
7۔ امام ابو محمد عبداللہ بن یوسف حنفی زیلعی[صاحبِ نصب الرایۃ لاحادیث الھدایۃ] (762ھ/1361ء)
8۔ امام تقی الدین علی بن عبدالکافی شافعی السبکی (683-756ھ/1284-1355ء)
9۔ امام احافظ یوسف بن زکی المنری(657-742ھ/1284-1355ء)
10۔ امام نورالدین ابوالحسن علی بن ابی بکر شافعی الہیثمی(735-807ھ/1335 -1405ء)
11۔ شیخ ابن القیم الجوزیہ[صاحبِ کتاب الروح] (691-751ھ/1292-1350ء)
*حضرت مخدوم اشرف کے تفصیلی حالات کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید ہوگا۔*
1۔ لطائف اشرفی؛ ملفوظات مخدوم اشرف: از؛حضرت شیخ نظام یمنی
2۔ صحائف اشرفی (کامل دو حصے) از:شیخ المشائخ اعلیٰ حضرت سید علی حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی-
3۔ حیات غوث العالم ؛ از: محدث اعظم ہند سید محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی-
4۔ حیات سید اشرف جہانگیر سمنانی؛ از: ڈاکٹر سید وحید اشرف کچھوچھوی-
5۔ سید اشرف جہانگیر سمنانی کی علمی، دینی اور روحانی خدمات کا تحقیقی جائزہ…از: ڈاکٹر محمد اشرف جیلانی (پی۔ایچ۔ڈی تھیسِس ، زیر نگرانی- ڈاکٹر جلال الدین نوری، کراچی یونی ورسٹی)
*جامع و مرتب: بشارت علی صدیقی اشرفی نعیمی حیدرآبادی*
*کمپوزنگ: عتیق الرحمن رضوی، مالیگاوں*
*ترسیل کار:*
*اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد دکن*
3۔ رسالہ حجۃ الذاکرین-
4۔ بشارۃ المریدین و رسالہ قبریہ- 5۔تحقیقات عشق-
6۔ رسالہ غوثیہ-
7۔ رسالہ مناقب اصحاب کاملین و مراتب خلفا راشدین…
8۔بشارت الاخوان…
9۔ارشاد الاخوان…
10۔ فواید الاشرف…
11۔ اشرف الفوائد…
12۔ رسالہ بحث وحدت الوجود… 13۔ مکتوبات اشرفی…
14۔ اشرف الانساب…
15۔مناقب السادات…
16۔ فتاویٰ اشرفیہ…
17۔ دیوان اشرفی (مجموعہ کلام)…
18۔ شرح ہدایہ (فقہ)…
19۔نحو اشرفیہ…
20۔ شرح عوارف(تصوف)…
21۔ شرح فصوص الحکم…
22۔ قوائد العقائد…
23۔ اصول فصول…
24۔ شرح تربیت و بیان…
25۔ بحرالاذکار…
26۔ بشارۃ الذاکرین…
27۔ تنبیہ الاخوان…
28۔ زیچ سامانی…
29۔ تفسیر نور بخشیہ…
30۔ کنزالاسرار…
31۔ مکتوبات اشرفی:
(اس کے پہلے جامع حضرت نظام یمنی ہیں جنہوں نے 787ھ/1386ء میں جمع کیا تھا، پھر حضرت سید عبدالرزاق نورالعین نے مزید مکتوبات کو شامل کرتے ہوئے 869ھ/1465ء میں مکتوبات کو جمع فرمایا۔ مکتوبات اشرفی کو مولانا مفتی سید مختار اشرفی، کراچی نے دو جلدوں میں شائع فرمایا، جس میں پہلی جلد میں مقدمہ کے ساتھ 42؍ مکتوبات ہیں اور دوسری جلد میں 31؍ مکتوبات ہیں، مکتوبات کی کل تعداد 74؍ ہے۔)
*معاصرین مخدوم(بر صغیر):*
1۔ مخدوم سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار (242-838ھ/857ء-1435ء ) کل عمر 595؍ سال پائی۔
2۔ مخدوم سید جلال الدین بخاری قادری سہروردی اوچی (707-785ھ/1308-1384ء)
3۔ مخدوم جہاں سید شرف الدین یحییٰ منیری فردوسی (724-782ھ/1324-1381ء)
4۔ مخدوم علاء الحق گنج نبات چشتی بنگالی (800ھ/1398ء)
5۔ مخدوم دکن بندہ نواز گیسو دراز سید محمد حسینی چشتی دکنی(720-825ھ/1321-1422)
6۔ مخدوم کشمیر امیر سید علی حمدانی کشمیری(713-786ھ/1314-1385ء)
7۔ شیخ عبداللہ شطاری (890ھ/1485ء)
8۔ حضرت میر سید یداللہ چشتی دکنی (نبیرہ بندہ نواز)
9۔ حضرت شیخ احمد نورا الحق قطب عالم پنڈوی (722-818ھ/1322-1416ء)
*معاصرین مخدوم (عرب):*
1۔ حضرت امام عبداللہ یافعی شافعی محدث مکہ (698-768ھ/1299-1367ء )… مؤلف ’’روض الریاحین فی حکایات الصالحین‘‘۔
2۔ حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی (659-736ھ/1261-1336ء) رکن الدین ابوالمکارم-
3۔ حضرت شیخ بہاء الدین نقشبند (718-791ھ/1319-1389ء)
4۔ حضرت سید شاہ نعمت اللہ ولی حلبی(730-827؍834ھ/1330-1424-1431ء)
5۔ حضرت خواجہ محمد پارسا (756-822ھ/1355-1419)
6۔ حضرت خواجہ احمد قطب الدین چشتی ابن خواجہ قطب الدین مودود چشتی(777ھ/1376ء)
7۔ حضرت خواجہ حافظ شیرازی (726-792ھ/1326-1390ء)
8۔ حضرت شیخ ابوالوفا خورازمی)(835ھ/1381ء)
9۔ حضرت شیخ خلیل اتا(782ھ/1381ء)
10۔ حضرت علامہ نجم الدین حنفی ابن صاحب ہدایہ علامہ امام برہان الدین مرغینائی (708-808ھ/ 1309؍1406-1429ء)
*مخدوم اشرف کے دیگر معاصرینِ عرب:*
1۔ امام ھافظ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر ابن ناصر شافعی دمشقی (777-842ھ/1367-1438ء)
2۔ امام ابن حجر شافعی عسقلانی(773-852ھ/1372-1449ء)
3۔امام ابن رجب حنبلی بغدادی (736-795ھ/1336-139)
4۔ امام عماد الدین اسماعیل بن عمر ابن کثیر شافعی (701-774ھ/1301-1373ء)
5۔ امام ولی الدین ابو عبداللہ محمد بن خطیب تبریری[صاحبِ مشکوٰۃ المصابیح](741ھ/1341ء)
6۔ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی (673-748ھ/1274-1348ء)
7۔ امام ابو محمد عبداللہ بن یوسف حنفی زیلعی[صاحبِ نصب الرایۃ لاحادیث الھدایۃ] (762ھ/1361ء)
8۔ امام تقی الدین علی بن عبدالکافی شافعی السبکی (683-756ھ/1284-1355ء)
9۔ امام احافظ یوسف بن زکی المنری(657-742ھ/1284-1355ء)
10۔ امام نورالدین ابوالحسن علی بن ابی بکر شافعی الہیثمی(735-807ھ/1335 -1405ء)
11۔ شیخ ابن القیم الجوزیہ[صاحبِ کتاب الروح] (691-751ھ/1292-1350ء)
*حضرت مخدوم اشرف کے تفصیلی حالات کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید ہوگا۔*
1۔ لطائف اشرفی؛ ملفوظات مخدوم اشرف: از؛حضرت شیخ نظام یمنی
2۔ صحائف اشرفی (کامل دو حصے) از:شیخ المشائخ اعلیٰ حضرت سید علی حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی-
3۔ حیات غوث العالم ؛ از: محدث اعظم ہند سید محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی-
4۔ حیات سید اشرف جہانگیر سمنانی؛ از: ڈاکٹر سید وحید اشرف کچھوچھوی-
5۔ سید اشرف جہانگیر سمنانی کی علمی، دینی اور روحانی خدمات کا تحقیقی جائزہ…از: ڈاکٹر محمد اشرف جیلانی (پی۔ایچ۔ڈی تھیسِس ، زیر نگرانی- ڈاکٹر جلال الدین نوری، کراچی یونی ورسٹی)
*جامع و مرتب: بشارت علی صدیقی اشرفی نعیمی حیدرآبادی*
*کمپوزنگ: عتیق الرحمن رضوی، مالیگاوں*
*ترسیل کار:*
*اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد دکن*
🌴 ❗️ ایمان کی حفاظت ❗️🌴
کسی بھی بدعقیدہ وگمراہ اور بدمذہب کی کتاب اپلوڈ کرنے سے عوام اور کم معلومات رکھنے والوں کے بھٹکنے اور گمراہی میں جا پڑنے کا شدید خطرہ ھوتا ھے اسی وجہ سے علماے کرام فرماتے ہیں کہ عام لوگوں کو بدمذہبوں کی کتابوں کا مطالعہ کرنا ناجائز و حرام ہے،
یاد رہے کہ بدمذہبوں کی کتابیں بوقت ضرورت صرف اور صرف ایسے علماے کرام کو پڑھنے کی اجازت ہے جو متصلب ہوں اور رد بدمذہباں میں مہارت رکھتے ہوں عام لوگوں کے لیے ان کی کتابیں دیکھنا تک جائز نہیں ہے کیونکہ شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی.
ان باتوں کے پیش نظر کوئی ایسا گروپ یا چینل تشکیل نہیں دیا جا سکتا جس میں بدمذہبوں کی کتابیں شیئر کی جائیں کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اوقات علما حضرات بھی بدمذہبوں کی کتابیں عوام کے گروپوں میں شئیر کر رہے ہوتے ہیں نیز اس بات کی کون ضمانت دے گا کہ ہم جو گروپ یا چینل بنائیں گے اس میں سے کتابیں عام لوگوں کو شئیر نہیں کی جائیں گی..!
لہذا بدمذہبوں کی کتابیں شیئر کرنے کے لیے چینل بنانے میں نقصان کا زیادہ اندیشہ ہے.
جن علماے کرام کو شرعی اجازت کے ساتھ کسی مقصد کے تحت بدمذہبوں کی کوئی کتاب دیکھنے کی ضرورت پیش آئے وہ اس فیلڈ میں مہارت رکھنے والے علماے کرام سے پرسنل میں رابطہ فرمائیں ان کی ضرورت پوری کردی جائے گی، بصورت دیگر اپنی ذاتی کتاب خرید فرمائیں.
والسلام مع الاکرام. اللہ تعالی ہم سب کا ایمان سلامت رکھے.
📴📴بد مذہبوں کی کچھ نشاندہی📴📴
مولانا زید ابوالحسن فاروقی مجددی کو مفتی شریف الحق امجدی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے فتاوی شارح بخاری ج3، ص542 پر بدمذہب، صلح کلی اور دیوبندیوں کا ہم عقیدہ قرار دیا ہے،
لہذا اس کی کوئی کتاب شئیر نہ کی جائے، اور نہ ان کا مطالعہ کیا جائے.
دوسروں کو بھی اس بات سے آگاہ کیا جائے.
محمد خالد متین نے قادیانیت پر بہت کام کیا ہے اور بہت سی کتابیں لکھی ہیں، لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یہ بدمذہب شخص ہے،اس کی کوئی کتاب ہرگز ہرگز شئیر نہ کی جائے،
دوسروں کو بھی اس بات سے آگاہ کیا جائے.
اس وقت تک اردو میں لکھی ہوئی محاضرات کے نام سے کتب سب بد مذہبوں کی ہیں مثلاً محاضرات قرآن، محاضرات حدیث وغیرہ وغیرہ،
لہذا ان کتب کو شیئر نہ کیا جائے
اسی طرح صائم چشتی کہ اس پر رافضیت کا غلبہ تھا
طالب ہاشمی بھی سنی نہیں لاعلمی کی وجہ سے اس کی کتابیں بھی اکثر گروپ میں شامل ہوتی ہے.
اور مولوی حکیم محمد اختر جسے دیوبندی عارف باللہ مجدد زمانہ
شیخ العرب و العجم جیسے القابات سے یاد کرتے ہیں
سرزمینِ پاک وہند میں جن لوگوں نے کلمہ پڑھ کر رسولِ محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورگستاخانہ جملے کہے اور اس پر ڈٹ گئے ؛ اُنھیں دیوبندی ، وہابی کہاجاتا ہے -
جن مسلمانوں نے اپنے نبی کی محبت کی خاطر ان کی بھرپور مخالفت کی انھیں سنی بریلوی کہا جاتا ہے -
اور جو کلمہ گو سنی کہلا کر دیوبندیوں وہابیوں کو اچھا سمجھتے ہیں ، اور سنیوں بریلویوں کو کوستے رہتے ہیں انھیں صلح کلی ومسلکی لبرل کہا جاتا ہے -
لیکن ہائے افسوس سنی کے بھولے پن پر کہ بیشتر گروپ میں اس کی کتابیں موجود بھی ہے
اور ساتھ ہی اس کے واقعات کے ایس ایم ایس بنا کر بہت شوق سے بیان کرتے ہیں
تمام ایڈمن حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ان بد مذہبوں کی کتابوں سے اپنے گروپ و چینل کو پاک فرمائیں
❤️ اس کی بہت سی وجوہات ہیں❤️❤️
۔ 1). مصنف کے بارے میں تصدیق نہیں کہ سنی ہے ..
2). کتاب دینی مسائل اور دین کی ضامن ہوتی ہے . عوام قصے اور کہانیاں پڑھ کر بہک جاتے ہیں .اور کسی بھی گمراہ بد مذہب کی کتاب پڑھنے لگ جاتے ہیں .
3). یہ طریقہ بد مذہب جماعتوں کی طرف سے بہت عام ہے اب ۔نام بدل بدل کر اور گمراہ کیا جا رہا ہے . اور آپ ضامن ہیں اس کتاب اور مصنف کے بھی جسکا علم نہیں ۔
عوام کو کسی مصنف کی کتاب پسند آ جاۓ تو وہ ہمیشہ اسی مصنف کے نام سے تلاش Search کرنے کی کوشش کرتے ہیں
.۔ 4). مدنی التجا :
بد مذہبوں کی کتابوں کے بجائے علماء اہلسنت کی کتب شائع کرنا مفید ہے ۔ تاکہ عوام علماء حق کی طرف زیادہ راغب ہوں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کسی بھی بدعقیدہ وگمراہ اور بدمذہب کی کتاب اپلوڈ کرنے سے عوام اور کم معلومات رکھنے والوں کے بھٹکنے اور گمراہی میں جا پڑنے کا شدید خطرہ ھوتا ھے اسی وجہ سے علماے کرام فرماتے ہیں کہ عام لوگوں کو بدمذہبوں کی کتابوں کا مطالعہ کرنا ناجائز و حرام ہے،
یاد رہے کہ بدمذہبوں کی کتابیں بوقت ضرورت صرف اور صرف ایسے علماے کرام کو پڑھنے کی اجازت ہے جو متصلب ہوں اور رد بدمذہباں میں مہارت رکھتے ہوں عام لوگوں کے لیے ان کی کتابیں دیکھنا تک جائز نہیں ہے کیونکہ شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی.
ان باتوں کے پیش نظر کوئی ایسا گروپ یا چینل تشکیل نہیں دیا جا سکتا جس میں بدمذہبوں کی کتابیں شیئر کی جائیں کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اوقات علما حضرات بھی بدمذہبوں کی کتابیں عوام کے گروپوں میں شئیر کر رہے ہوتے ہیں نیز اس بات کی کون ضمانت دے گا کہ ہم جو گروپ یا چینل بنائیں گے اس میں سے کتابیں عام لوگوں کو شئیر نہیں کی جائیں گی..!
لہذا بدمذہبوں کی کتابیں شیئر کرنے کے لیے چینل بنانے میں نقصان کا زیادہ اندیشہ ہے.
جن علماے کرام کو شرعی اجازت کے ساتھ کسی مقصد کے تحت بدمذہبوں کی کوئی کتاب دیکھنے کی ضرورت پیش آئے وہ اس فیلڈ میں مہارت رکھنے والے علماے کرام سے پرسنل میں رابطہ فرمائیں ان کی ضرورت پوری کردی جائے گی، بصورت دیگر اپنی ذاتی کتاب خرید فرمائیں.
والسلام مع الاکرام. اللہ تعالی ہم سب کا ایمان سلامت رکھے.
📴📴بد مذہبوں کی کچھ نشاندہی📴📴
مولانا زید ابوالحسن فاروقی مجددی کو مفتی شریف الحق امجدی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے فتاوی شارح بخاری ج3، ص542 پر بدمذہب، صلح کلی اور دیوبندیوں کا ہم عقیدہ قرار دیا ہے،
لہذا اس کی کوئی کتاب شئیر نہ کی جائے، اور نہ ان کا مطالعہ کیا جائے.
دوسروں کو بھی اس بات سے آگاہ کیا جائے.
محمد خالد متین نے قادیانیت پر بہت کام کیا ہے اور بہت سی کتابیں لکھی ہیں، لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یہ بدمذہب شخص ہے،اس کی کوئی کتاب ہرگز ہرگز شئیر نہ کی جائے،
دوسروں کو بھی اس بات سے آگاہ کیا جائے.
اس وقت تک اردو میں لکھی ہوئی محاضرات کے نام سے کتب سب بد مذہبوں کی ہیں مثلاً محاضرات قرآن، محاضرات حدیث وغیرہ وغیرہ،
لہذا ان کتب کو شیئر نہ کیا جائے
اسی طرح صائم چشتی کہ اس پر رافضیت کا غلبہ تھا
طالب ہاشمی بھی سنی نہیں لاعلمی کی وجہ سے اس کی کتابیں بھی اکثر گروپ میں شامل ہوتی ہے.
اور مولوی حکیم محمد اختر جسے دیوبندی عارف باللہ مجدد زمانہ
شیخ العرب و العجم جیسے القابات سے یاد کرتے ہیں
سرزمینِ پاک وہند میں جن لوگوں نے کلمہ پڑھ کر رسولِ محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورگستاخانہ جملے کہے اور اس پر ڈٹ گئے ؛ اُنھیں دیوبندی ، وہابی کہاجاتا ہے -
جن مسلمانوں نے اپنے نبی کی محبت کی خاطر ان کی بھرپور مخالفت کی انھیں سنی بریلوی کہا جاتا ہے -
اور جو کلمہ گو سنی کہلا کر دیوبندیوں وہابیوں کو اچھا سمجھتے ہیں ، اور سنیوں بریلویوں کو کوستے رہتے ہیں انھیں صلح کلی ومسلکی لبرل کہا جاتا ہے -
لیکن ہائے افسوس سنی کے بھولے پن پر کہ بیشتر گروپ میں اس کی کتابیں موجود بھی ہے
اور ساتھ ہی اس کے واقعات کے ایس ایم ایس بنا کر بہت شوق سے بیان کرتے ہیں
تمام ایڈمن حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ان بد مذہبوں کی کتابوں سے اپنے گروپ و چینل کو پاک فرمائیں
❤️ اس کی بہت سی وجوہات ہیں❤️❤️
۔ 1). مصنف کے بارے میں تصدیق نہیں کہ سنی ہے ..
2). کتاب دینی مسائل اور دین کی ضامن ہوتی ہے . عوام قصے اور کہانیاں پڑھ کر بہک جاتے ہیں .اور کسی بھی گمراہ بد مذہب کی کتاب پڑھنے لگ جاتے ہیں .
3). یہ طریقہ بد مذہب جماعتوں کی طرف سے بہت عام ہے اب ۔نام بدل بدل کر اور گمراہ کیا جا رہا ہے . اور آپ ضامن ہیں اس کتاب اور مصنف کے بھی جسکا علم نہیں ۔
عوام کو کسی مصنف کی کتاب پسند آ جاۓ تو وہ ہمیشہ اسی مصنف کے نام سے تلاش Search کرنے کی کوشش کرتے ہیں
.۔ 4). مدنی التجا :
بد مذہبوں کی کتابوں کے بجائے علماء اہلسنت کی کتب شائع کرنا مفید ہے ۔ تاکہ عوام علماء حق کی طرف زیادہ راغب ہوں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
ایک اہم وضاحت:
کسی بھی بدعقیدہ وگمراہ اور بدمذہب کی کتاب اپلوڈ کرنے سے سادہ لوح اور کم معلومات رکھنے والوں کے بٹھکنے اور گمراہی میں جا پڑنے کا شدید خطرہ ھوتا ھے اسی وجہ سے علماے کرام فرماتے ہیں کہ عام لوگوں کو بدمذہبوں کی کتابوں کا مطالعہ کرنا ناجائز و حرام ہے،
یاد رہے کہ بدمذہبوں کی کتابیں بوقت ضرورت صرف اور صرف ایسے علماے کرام کو پڑھنے کی اجازت ہے جو متصلب ہوں اور رد بدمذہباں میں مہارت رکھتے ہوں، عام لوگوں کے لیے ان کی کتابیں دیکھنا تک جائز نہیں ہے کیونکہ شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی.
لہذا ہرگز ہرگز بدمذہبوں کی کتابیں شیئر نہ کریں ورنہ ثواب کے بجائے آپ کے لیے گناہوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور معاذاللہ اس کتاب کو پڑھ کر کوئی شخص گمراہ یا بدمذہب ہوگیا تو اس کا وبال آپ پر آئے گا.
کسی بھی بدعقیدہ وگمراہ اور بدمذہب کی کتاب اپلوڈ کرنے سے سادہ لوح اور کم معلومات رکھنے والوں کے بٹھکنے اور گمراہی میں جا پڑنے کا شدید خطرہ ھوتا ھے اسی وجہ سے علماے کرام فرماتے ہیں کہ عام لوگوں کو بدمذہبوں کی کتابوں کا مطالعہ کرنا ناجائز و حرام ہے،
یاد رہے کہ بدمذہبوں کی کتابیں بوقت ضرورت صرف اور صرف ایسے علماے کرام کو پڑھنے کی اجازت ہے جو متصلب ہوں اور رد بدمذہباں میں مہارت رکھتے ہوں، عام لوگوں کے لیے ان کی کتابیں دیکھنا تک جائز نہیں ہے کیونکہ شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی.
لہذا ہرگز ہرگز بدمذہبوں کی کتابیں شیئر نہ کریں ورنہ ثواب کے بجائے آپ کے لیے گناہوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور معاذاللہ اس کتاب کو پڑھ کر کوئی شخص گمراہ یا بدمذہب ہوگیا تو اس کا وبال آپ پر آئے گا.
*مذمّت مذمّت مذّمت مذّمت مذّمت*
««««««««««««»»»»»»»»»»»»
*سنّی عداوت اسلامی کی گنڈہ گردی*
گلبرگہ میں ایس ڈی آئی کے مبلغین نے عالم بر حق پر جان لیوا حملہ کیا
*گلبرگہ*۔آج مورخہ 15 اکتوبر بروز اتوار کو گلبرگہ کے مشہور *عالم باعمل قائد اہلسنت حضرت علامہ مولانا بہاؤ الدین مصباحی* پر گلبرگہ سنّی دعوت اسلامی کے گنڈے مبلغین نے جان لیوا حملہ کردیا۔حضرت کے ہمراہیوں کی جان توڑ کوشش کی وجہ سے یہ گنڈے مبلغین اپنے خونی مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن حضرت کو بہت ساری چوٹیں آئیں ہیں ۔معاملہ کا خلاصہ کرتے ہوئے حضرت قبلہ صاحب نے بتایا کہ انھوں نے مالیگاؤں کے مبلغ امین القادری کی سیادت کے تعلق سے کچھ استفسار کیا تھا جس پر حقیقت کی سچائی کو دین کے نام پر دنیا کا کاروبار کرنے والی "عداوت اسلامی" برداشت نہ کرسکی اور اپنی حقیقی شکل میں سامنے آگئی اور اس کے گنڈے مبلغین میں سے *مخدوم نوری ،غلام محمد نوری، سہیل کاریگر*۔اور دیگر چائنا مبلغین نے پہلے جھوٹ بول کر یہ افواہ پھیلائی کہ مولانا صاحب نے خواجہ بندہ نواز کی شان میں گستاخی کی ہے پھر بھیڑ جمع کرکے حضرت پر حملہ کردیا ۔لیکن جسے خدا رکھے اسے کون چکھے وہ اپنے خونی سازش میں ناکام ہوئے اور اللہ تعالی نے اپنے بندے کی حفاظت فرمائی۔
*ہم خادمین علمائے اہلسنت وجماعت،اور مسلک اعلیحضرت کے ماننے والے* اس عداوت اسلامی کے عالمی گنڈہ گردی کی پوری شدت کے ساتھ مذمت کرتے ہیں اور حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان گنڈوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچائیں ۔ ورنہ عوام اہلسنت کا احتجاج رنگ لائے گا تو عوام ان کو اپنے ہاتھوں سے سزا دیگی پھر ان کی جھوٹی مظلومیت کسی کام نہ آئےگی۔
*ترسیل حقیقت: خادمین علمائے اہلسنت و جماعت گلبرگہ،کرناٹک*
««««««««««««»»»»»»»»»»»»
*سنّی عداوت اسلامی کی گنڈہ گردی*
گلبرگہ میں ایس ڈی آئی کے مبلغین نے عالم بر حق پر جان لیوا حملہ کیا
*گلبرگہ*۔آج مورخہ 15 اکتوبر بروز اتوار کو گلبرگہ کے مشہور *عالم باعمل قائد اہلسنت حضرت علامہ مولانا بہاؤ الدین مصباحی* پر گلبرگہ سنّی دعوت اسلامی کے گنڈے مبلغین نے جان لیوا حملہ کردیا۔حضرت کے ہمراہیوں کی جان توڑ کوشش کی وجہ سے یہ گنڈے مبلغین اپنے خونی مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن حضرت کو بہت ساری چوٹیں آئیں ہیں ۔معاملہ کا خلاصہ کرتے ہوئے حضرت قبلہ صاحب نے بتایا کہ انھوں نے مالیگاؤں کے مبلغ امین القادری کی سیادت کے تعلق سے کچھ استفسار کیا تھا جس پر حقیقت کی سچائی کو دین کے نام پر دنیا کا کاروبار کرنے والی "عداوت اسلامی" برداشت نہ کرسکی اور اپنی حقیقی شکل میں سامنے آگئی اور اس کے گنڈے مبلغین میں سے *مخدوم نوری ،غلام محمد نوری، سہیل کاریگر*۔اور دیگر چائنا مبلغین نے پہلے جھوٹ بول کر یہ افواہ پھیلائی کہ مولانا صاحب نے خواجہ بندہ نواز کی شان میں گستاخی کی ہے پھر بھیڑ جمع کرکے حضرت پر حملہ کردیا ۔لیکن جسے خدا رکھے اسے کون چکھے وہ اپنے خونی سازش میں ناکام ہوئے اور اللہ تعالی نے اپنے بندے کی حفاظت فرمائی۔
*ہم خادمین علمائے اہلسنت وجماعت،اور مسلک اعلیحضرت کے ماننے والے* اس عداوت اسلامی کے عالمی گنڈہ گردی کی پوری شدت کے ساتھ مذمت کرتے ہیں اور حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان گنڈوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچائیں ۔ ورنہ عوام اہلسنت کا احتجاج رنگ لائے گا تو عوام ان کو اپنے ہاتھوں سے سزا دیگی پھر ان کی جھوٹی مظلومیت کسی کام نہ آئےگی۔
*ترسیل حقیقت: خادمین علمائے اہلسنت و جماعت گلبرگہ،کرناٹک*
*✨Mumbra Kausa Me "URS-E-AALA HAZRAT Imam Ahmed Raza khan RaziAllahu Anho"💫*
*Date And Address:💐*
_*21, October, 2017 (Saturday),* Just After Namaz-E-Isha._
_Masjid Hidayat Rasool Wa Madarsa Qadriyah Razviya, Opp. Baba Medical, Kausa Kabrastan Road, Chand Nagar Kausa Mumbra._
*Zair-E-Saya-E-Karam:💐*
_Sarkaar Tajush'Shariyah Hazrat *Allama Akhtar Raza khan Qadri Azhari* Al'Maroof Huzoor Azhari Miya Sahab Qibla MaddeZillahul Aali Wal Noorani._
*Wa*
_Sarkaar Muhaddis-E-Kabeer Hazrat *Allama Ziya-Ul-Mustafa Qadri Amjadi* Al'Maroof Huzoor Allama Sahab Qibla MaddeZillahul Aali Wal Noorani._
*Muqar'rir-E-Khusoosi:💐*
_Qazi-E-Mumbai, Nawasa-E-Sarkaar Sadrush'Shariyah, Khalifa-E-Sarkaar Tajush'Shariyah Wa Sarkaar Muhaddis-E-Kabeer, Mahmood-Ul-Ulma, *Hazrat Allama Mufti Mahmood Akhtar Sahab Qibla Qadri Razvi Amjadi Maddezillahul Aali Wal Noorani.*_
*Naat Khwan:💐*
_Maddah-Khair-Ul-Anaam, Bulbul-E-Baag-E-Raza, Shahenshah-E-Tarannum, Aseer-E-Sarkaar Tajush'Shariyah *Janaab Alhaaj Muhammad Sadiq Razvi Sahab.*_
*MinJanib:💐*
_*Gulamaan-E-Tajush'Shariyah Wa Muhaddis-E-Kabeer*_
Contact: 8652466346 / 8291015085
*Date And Address:💐*
_*21, October, 2017 (Saturday),* Just After Namaz-E-Isha._
_Masjid Hidayat Rasool Wa Madarsa Qadriyah Razviya, Opp. Baba Medical, Kausa Kabrastan Road, Chand Nagar Kausa Mumbra._
*Zair-E-Saya-E-Karam:💐*
_Sarkaar Tajush'Shariyah Hazrat *Allama Akhtar Raza khan Qadri Azhari* Al'Maroof Huzoor Azhari Miya Sahab Qibla MaddeZillahul Aali Wal Noorani._
{Qazi-Ul-Quzzat Fil Hind,Bareily Sharif}*Wa*
_Sarkaar Muhaddis-E-Kabeer Hazrat *Allama Ziya-Ul-Mustafa Qadri Amjadi* Al'Maroof Huzoor Allama Sahab Qibla MaddeZillahul Aali Wal Noorani._
{Naib Qazi-Ul-Quzzat Fil Hind,Ghosi Sharif}*Muqar'rir-E-Khusoosi:💐*
_Qazi-E-Mumbai, Nawasa-E-Sarkaar Sadrush'Shariyah, Khalifa-E-Sarkaar Tajush'Shariyah Wa Sarkaar Muhaddis-E-Kabeer, Mahmood-Ul-Ulma, *Hazrat Allama Mufti Mahmood Akhtar Sahab Qibla Qadri Razvi Amjadi Maddezillahul Aali Wal Noorani.*_
{Sadar All India Jama'at Raza-E-Mustafa, Maharashtra Wa Sadar Mufti Razvi Amjadi Dar-Ul-Ifta Mumbai}*Naat Khwan:💐*
_Maddah-Khair-Ul-Anaam, Bulbul-E-Baag-E-Raza, Shahenshah-E-Tarannum, Aseer-E-Sarkaar Tajush'Shariyah *Janaab Alhaaj Muhammad Sadiq Razvi Sahab.*_
{Mumbai}.*MinJanib:💐*
_*Gulamaan-E-Tajush'Shariyah Wa Muhaddis-E-Kabeer*_
Contact: 8652466346 / 8291015085
*یہ کتابیں ان مقامات سے حاصل کر سکتے ہیں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
📚 *کنز الایمان اور مخالفین مع داستان فرار پر ایک نظر*
مصنف'' محمد ممتاز تیمور قادری پاکستان
صفحات ::552
*موضوع* :: امام اہلسنت اعلی حضرت پر کیے گئے اعتراضات و الزامات کا مدلل جواب حاسدین و مخالفین اعلی حضرت کی نیند اڑانے والے کتاب
📚 *لباس خضر*
مرتب:: *علامہ طارق نجمی صاحب قبلہ*
صفحات ::180
موضوع :: صوفیت کے نام پر شریعت کا کھلواڑ کرنے والے ابو میاں آلہ آبادی کے افکار و نظریات پر لاجواب کتاب
📚 *مسلک اعتدال*
مصنف :: *علامہ پیر ثاقب شامی حفظہ اللہ*
صفحات :: 112
عمدہ طباعت
*موضوع* ::: اہلسنت کے مابین فروعی اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کی تضلیل و تفسیق کرنے والوں کے لیے مشعل راہ
----------------------------------
*طالب کتاب*
نام
مکمل پتہ
پیٹیم پہ قیمت ادا کریں
پرسنل رابطہ کریں
+918485880123
----------------------------------
*--آپ مالیگاؤں سےہیں؟---*
تو آپ محترم انیس رضوی صاحب اور محترم رمضان بھائی سے کتاب لے سکتے ہیں
☎ 8482952578
-------------------------------
*آپ کتاب یہاں سے حاصل کریں*
*---آپ ممبئی سے ہیں؟---*
تو دس نمبر روڈ ہندوستان گلی نیا بس ڈپو شیواجی نگر گوونڈی میں کلام الدین بھائی سے رابطہ کریں
☎09769731490
-----------------------
*----آپ اندور سے ہیں؟-----*
آپ فردوس نگر موسی کھیڑی پانی ٹاکی کے پاس محترم اسلم بھائی سے کتاب لے سکتے ہیں
☎ 9516574818
یا آپ ڈاکٹر طارق صاحب سے رابطہ کریں
☎ 9827570181
اندور اور اس کے آس پاس کے علماء و طلباء نازش اہلسنت علامہ و مولانا شہزاد صاحب قبلہ سے رابطہ کریں
☎ 9907578672
------------------------
*آپ سناود یا دیواس وغیرہ یا مالوہ سےہیں؟*
تو آپ محترم لالہ خان صاحب سے رابطہ کریں
☎ 9826278179
-------------------------------
اس کے علاوہ کتاب بک کرانے کے لئے ہندوستان کے کسی بھی کونے سے آپ اس نمبر پر رابطہ کریں
+918485880123
حسن نوری گونڈوی
آپ کتاب کی قیمت پیٹیم سے بھی چکا سکتے ہیں یا آپ کسی موبائل والے کی دکان سے بھی پیٹیم کروا سکتے ہیں
مزید جانکاری کے لیے جوائن کریں
گروپ نمبر1
https://chat.whatsapp.com/ARdUtGYCahbJhveO1luOsj
گروپ نمبر2
https://chat.whatsapp.com/HoMBNaYkJNkJg5PPchcsY3
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
📚 *کنز الایمان اور مخالفین مع داستان فرار پر ایک نظر*
مصنف'' محمد ممتاز تیمور قادری پاکستان
صفحات ::552
*موضوع* :: امام اہلسنت اعلی حضرت پر کیے گئے اعتراضات و الزامات کا مدلل جواب حاسدین و مخالفین اعلی حضرت کی نیند اڑانے والے کتاب
📚 *لباس خضر*
مرتب:: *علامہ طارق نجمی صاحب قبلہ*
صفحات ::180
موضوع :: صوفیت کے نام پر شریعت کا کھلواڑ کرنے والے ابو میاں آلہ آبادی کے افکار و نظریات پر لاجواب کتاب
📚 *مسلک اعتدال*
مصنف :: *علامہ پیر ثاقب شامی حفظہ اللہ*
صفحات :: 112
عمدہ طباعت
*موضوع* ::: اہلسنت کے مابین فروعی اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کی تضلیل و تفسیق کرنے والوں کے لیے مشعل راہ
----------------------------------
*طالب کتاب*
نام
مکمل پتہ
پیٹیم پہ قیمت ادا کریں
پرسنل رابطہ کریں
+918485880123
----------------------------------
*--آپ مالیگاؤں سےہیں؟---*
تو آپ محترم انیس رضوی صاحب اور محترم رمضان بھائی سے کتاب لے سکتے ہیں
☎ 8482952578
-------------------------------
*آپ کتاب یہاں سے حاصل کریں*
*---آپ ممبئی سے ہیں؟---*
تو دس نمبر روڈ ہندوستان گلی نیا بس ڈپو شیواجی نگر گوونڈی میں کلام الدین بھائی سے رابطہ کریں
☎09769731490
-----------------------
*----آپ اندور سے ہیں؟-----*
آپ فردوس نگر موسی کھیڑی پانی ٹاکی کے پاس محترم اسلم بھائی سے کتاب لے سکتے ہیں
☎ 9516574818
یا آپ ڈاکٹر طارق صاحب سے رابطہ کریں
☎ 9827570181
اندور اور اس کے آس پاس کے علماء و طلباء نازش اہلسنت علامہ و مولانا شہزاد صاحب قبلہ سے رابطہ کریں
☎ 9907578672
------------------------
*آپ سناود یا دیواس وغیرہ یا مالوہ سےہیں؟*
تو آپ محترم لالہ خان صاحب سے رابطہ کریں
☎ 9826278179
-------------------------------
اس کے علاوہ کتاب بک کرانے کے لئے ہندوستان کے کسی بھی کونے سے آپ اس نمبر پر رابطہ کریں
+918485880123
حسن نوری گونڈوی
آپ کتاب کی قیمت پیٹیم سے بھی چکا سکتے ہیں یا آپ کسی موبائل والے کی دکان سے بھی پیٹیم کروا سکتے ہیں
مزید جانکاری کے لیے جوائن کریں
گروپ نمبر1
https://chat.whatsapp.com/ARdUtGYCahbJhveO1luOsj
گروپ نمبر2
https://chat.whatsapp.com/HoMBNaYkJNkJg5PPchcsY3
WhatsApp.com
WhatsApp Group Invite