🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نسل نو کے اسلامی وجود پر بد ترین سوالیہ نشان؟

تحریر:- *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: *تحریک علمائے ہند*، جے پور

سن 2017 میں راجستھان میں بھاجپا حکومت تھی۔ اس وقت کی نصاب ساز کمیٹی نے راجستھان تعلیمی بورڈ کی 12ویں کلاس کی پولیٹیکل سائنس کتاب چھاپی، جس میں اسلام کو واضح طور پر دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے ایک سوال اور اس کے جواب میں اسلام کو دہشت گردی کی ایک شکل لکھا، پورا اقتباس دیکھیے:
सवाल:- इस्लामी आतंकवाद से आप क्या समझते है?
जवाब:- इस्लामी आतंकवाद इस्लाम का ही एक रूप है, जो विगत 20-30 वर्षों में अत्यधिक शक्तिशाली बन गया है। आतंकवादियों में किसी एक गुट विशेष के प्रति समर्पण का भाव नहीं होकर, एक समुदाय विशेष के प्रति समर्पण भाव होता है। समुदाय के प्रति प्रतिबद्धता इस्लामिक आतंकवाद की मुख्य प्रवृत्ति है। पंथ या अल्लाह के नाम पर आत्मबलिदान और असीमित बर्बरता, ब्लैकमेल, जबरन धन वसूली और निर्मम नृशंस हत्याएं करना ऐसे आतंकवाद की विशेषता बन गई है। जम्मू कश्मीर में आतंकवाद पूर्णतया धार्मिक व पृथकतावादी श्रेणी में आता है।

چوں کہ ریاستی تعلیمی بورڈ کے نصاب میں یہ اقتباس شامل تھا تو جو بورڈ کی تشریحات، یا دیگر تعلیمی زبانوں میں ترجمے، یا ترجمانیاں تھیں، ان میں بھی یہ اقتباس من و عن یا معمولی رد و بدل کے ساتھ موجود رہا اور اس طرح گویا یہ نہایت شدید متنازع عبارت نقل در نقل کے طور پر آگے سے آگے منتقل ہوتی رہی اور دن دہاڑے حکومتی سرمائے سے ریاستی پلیٹ فارم پر تعلیمی دنیا کے نئے ذہنوں میں زہر کی پرورش ہوتی رہی۔
بھاجپا دور حکومت میں ریاست کے وزیر تعلیم دیونانی بہت متعصب قسم کے انسان تھے، جن کے تعصب پر چوٹ کرتے ہوئے کانگریس کے وزیر تعلیم اور موجودہ کانگریس ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے وزیر تعلیم بنتے ہی پہلے پہل نصاب تعلیم کو دوبارہ سیکولر اور آر ایس ایس آئیڈیالوجی کی مداخلت سے پاک کرنے کا بیان دیا تھا لیکن یہ بیان محض ایک بیان رہا اور اسی طرح کی سیاسی بیان بازیوں کی گھماسان میں کتابیں چھپتی، پڑھائی جاتی اور عام ہوتی رہیں، جن پر آج تین سال کا عرصہ بیت گیا، تب کہیں صوبے کے غیرت مند مسلمانوں کی نظر درج بالا اقتباس پر پڑی اور اسی ہفتے سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاجوں کا ایک روایتی آوازہ بلند ہوا، جس کے انجام میں کافی ٹال مٹول کے بعد 17 مارچ کو جے پور کے لال کوٹھی تھانہ میں ایف آئی آر درج ہوئی۔
اس دوران خبر یہ ہے کہ نصاب ساز کمیٹی کے سرغنہ آں جہانی اور کچھ ذمہ دار ریٹائرڈ ہو چکے ہیں لیکن امید ہے، جو ملزم بھی بچے ہوں گے، اثبات جرم کے بعد انھیں سزا ملے گی۔
اس پورے پس وپیش میں سب سے زیادہ حیران کن سوال یہ ہے:
کیا ان تین سالوں کے دوران لاکھوں کی تعداد میں اسکولوں میں پڑھنے پڑھانے والے مسلم طلبہ اور مسلم اساتذہ کی اس زہریلے مواد پر نظر نہیں پڑی تھی؟
یا
یا انھوں نے ان دیکھی سے کام لیا،
یا پھر ماحول کے زیر اثر انھوں نے اپنی ذہنی پرداخت ہی ایسی بنا لی ہے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی غیرت شکن مواد کو ہضم کر سکتے ہیں؟
بہر صورت سوال تو بنتا ہے اور بہت بڑا بنتا ہے کیوں کہ اگر بنام مسلم ایسی نسل تیار ہونے لگی ہے تو اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنی نسل ضائع کر دی۔
سچ تو یہ ہے کہ سوال صرف ان نسلوں پر بھی نہیں، ان کے پیدا کرنے والوں پر بھی بنتا ہے اور ان کے ان سیاسی، مذہبی اور سماجی رکھوالوں پر بھی جن کے وجود پر یہ نسل نازاں رہتی ہے۔

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/882981928938993/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شادیوں میں غیر اخلاقی رسمیں اور ہماری ذمہ داریاں
از: محمد عارف رضا نعمانی مصباحی

اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ہر شخص اولاد کی خواہش رکھتا ہے ۔جب اولاد اس دنیا میں آتی ہے تو والدین طرح طرح کے خواب دیکھنے لگتے ہیں ۔ان کی تعلیم و تربیت کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔پھران کی اچھی سے اچھی تعلیم و تربیت کا انتظام کرتے ہیں۔جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے تو والدین جہاں ان کے لیے دیگر امور کے لیے فکر مند ہوتے ہیں وہیں ان کی شادی کی بھی فکر کرنے لگتے ہیں۔اچھا رشتہ تلاش کرکے بچے بچیوں کو نکاح کے مقدس رشتے سے جوڑ دیتے ہیں۔
جب شادی کی بات آتی ہے تو لوگ طرح طرح کے رسم و روا ج کو یاد کرنے لگتے ہیں چاہے وہ رسم غیر شرعی ہی کیوں نہ ہو۔میں یہاں خاص طور پر ایک رسم(بارات ) پر گفتگو کروں گا ۔جب دولہا نکاح کے لیے لڑکی کے گھر آتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے کچھ قریبی دوست اور عزیز رشتے دار بھی ہوتے ہیں ۔نوشہ کے ہمراہی کو باراتی کہتے ہیں ۔باراتیوں کی ضیافت لڑکی والے کرتے ہیں ۔کبھی تو وہ بخوشی ضیافت کرتے ہیں تو کبھی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے اور اس کا گھر بس جانے کی خاطر کرتے ہیں۔جب کہ شریعت میں ولیمہ لڑکے کے اوپر ہے ۔لڑکی والوں پر کچھ نہیں ہے۔یہ تو ان کی کشادہ ظرفی ہے کہ رشتے ناطے اور دوست احباب کی دعوت کرکےسب کو اپنی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں ۔حالاں کہ ان کے یہاں بیٹی کی رخصتی کا غم ہوتا ہے کہ وہ لاڈ پیار سے پال پوس کر،زیور تعلیم و ادب سے آراستہ کرکے لڑکے کے سپرد کر دیتے ہیں۔
ولیمہ لڑکے کے اوپر ہے ۔ جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ طیبہ میں انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات فرمائی اور بے سرو سامان مہاجرین کو انصار کا بھائی قرار دیا تو ان کو جہاں مال واسباب اور مکانات کی ضرورت تھی وہیں زندگی گزارنے اورافزائش ِ نسل کے لیے شادیوں کی بھی ضرورت تھی ۔تو مدینہ طیبہ میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا ،پھر سرکار دوعالم ﷺ کی بارگاہ میں تشریف لائے ،آپ پر پیلے پن (شاید ہلدی یا زعفرانی رنگ)کا اثر تھا تو سرکار نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو جواب دیا یارسول اللہ ﷺ میں نے سونے کے نواۃ (پانچ درہم کےبرابر )کے وزن (مہر)پر ایک خاتون سے نکاح کرلیاہے۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ‘‘بَارَک اللہُ لَکَ’’اللہ تمہیں برکت سےنوازےاورفرمایاولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
عن أنس بن مالک رضی اللّٰہُ تعالیٰ عنہ :ان النبی صلی اللّٰہُ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رأى على عبدِ الرَّحمنِ بنِ عوفٍ أثرَ صفرةٍ، فقالَ: ما هذا؟ أو مَه، فقالَ: يا رسولَ اللهِ، إنِّي تَزَوَّجْتُ امرأةً عَلى وَزنِ نَواةٍ من ذَهبٍ، فقالَ: بارَكَ اللّٰہُ لَكَ، أوْلِمْ وَلَو بشاةٍ.
(أخرجہ البخاری(٢٠٤٩)، ومسلم (١٤٢٧)، وأبو داود (٢١٠٩)، والترمذی (١٠٩٤)، والنسائی(٣٣٥١)، وابن ماجہ(١٩٠٧) واللفظ لہ، وأحمد (١٢٧٠٨)۔
اس حدیث پاک میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ولیمہ کرو اگر چہ ایک ہی بکری سے ہو ۔ کیوں کہ آپ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تھے اور مال و اسباب کی فراوانی نہیں تھی ،اس کا خیال کرتے ہوئے نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جتنی استطاعت ہو اتنا ہی ولیمہ کرو ۔کیوں کہ عرب میں بکریاں خوب ہوا کرتی تھیں اور ہر کسی کے پاس آسانی سے دستیاب ہوتی تھیں ،جب کہ اونٹ مہنگا تھا ، اس لیے فرمایاکہ ایک بکری ہی میسر ہو تو اسی سے ولیمہ کرو۔
اس حدیث پاک میں لڑکے کی طرف سے ولیمہ کرنے کا ثبوت ملتا ہےجیسا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ولیمہ کرو۔ایک بات یہ بھی پتا چلی کہ جب نکاح کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی جائے تو اس لفظ ‘‘بارَكَ اللّٰہُ لَكَ’’ سے پیش کی جائے کیوں نبی کریم ﷺنے اس لفظ کو اپنی زبانِ فیض ترجمان سےارشادفرمایا ۔
اب یہاں ایک خاص بات بارات کے حوالے سےیہ پیش کرنی ہے کہ جب نکاح کے لیے دن تاریخ طےکی جاتی ہے تو یہ بات بھی کر لی جاتی ہے کہ آپ کتنی تعداد میں آئیں گےتاکہ ہم آپ کی اچھی طرح خاطر تواضع کر سکیں ۔جب آپ کہیں مہمان بن کر جاتے ہیں تو میزبان آنے والوں کی تعدادبھی پوچھ لیتا ہے تاکہ وقت پرپریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ،ایک دو افراد کم بیش ہوجاتے ہیں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اسی لیے دولہے کے ساتھ آنے والوں کی بھی تعداد پوچھ لی جاتی ہے تاکہ عین وقت پرکسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
ایسے حالات میں تو ہونا یہ چاہیے کہ لڑکی والے سے ہی پوچھا جائے کہ کتنے لوگ ہم لے کر آئیں ؟اور لڑکی والوں کی رضا مندی سے لوگ آئیں تاکہ دونوں لوگ خیر سے نپٹ جائیں کسی کو کوئی پریشانی بھی نہ ہواور نکاح کے ذریعے مبارک رشتہ جڑ جائے۔اب جو غور کرنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر جب باراتیوں کے انتظام کی بات چل رہی ہو تولڑکے والوں کا یہ مطالبہ کہ ہم پانچ سو،چار سو یا تین سو باراتی لائیں گے ۔اگر غیر مسلم سے روابط ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ اس میں
آدھے ہندو باراتی بھی ہوں گے مثلاً ایک سو،دوسو۔ ان کا بھی الگ سے انتظام کرنا پڑے گا ۔ہمارے تعلقات ہندو وں سے بھی ہیں ۔ ہم ان کو نہیں چھوڑ سکتے ۔لہٰذا آپ ان کا بھی انتظام کیجیے گا ۔اور یہ سارا بوجھ لڑکی والے پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ شرعاًکہاں تک درست ہے؟شریعت اس کی کہاں تک اجازت دیتی ہے ؟ یعنی شریعت اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتی،کہ یہ بلاوجہ کسی پر بوجھ ڈالناہوا۔جوعقلاًاورشرعاً کسی طرح درست نہیں۔
میں کہتا ہوں کہ آپ کے لوگوں سے تعلقات ہیں ،آپ کے ملاقاتی غیر مسلم ہیں تو ان کو اپنے گھر بلا کر خوب کھلائیے ، خوب ان کی دعوتیں کیجیے۔ طرح طرح کے پکوان کھلائیے ۔لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنے تعلقات کا سارا بوجھ لڑکی والوں پر ڈال دیا جائے۔ اس غیر اسلامی اور غیر اخلاقی کام میں بےشمار لوگ ملوث ہیں ان کو اپنی روش بدلنی اوراپنی اصلاح کرلینی چاہیے ۔
بنارس کا ایک واقعہ ہےتقریباً ڈیڑھ سو باراتیوں کی بات طے پائی اور بارات رات میں آنے والی تھی ،جب آئی تو باراتی دو گنا یعنی تین سو آگئے ،اب جو رات میں فوری طور پر انتظامات کرنے میں پریشانی ہوئی وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔اس کا احساس اسی کو ہوگا جس پر یہ مصیبت آئی ہو ۔لڑکی والے اپنی عزت اور بیٹی کی خاطر سب جھیل جاتے ہیں ۔اس لیے لوگوں کو ایسا کرنے سے سخت پرہیز کرنا چاہیے ۔ایسا کرنا دھوکا اور ایک مسلمان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانا ہے ۔اس سے باز آنا ضرورچاہیے۔
ایسا ہی ایک واقعہ جھارکھنڈ دیوگھر کے اسہنا گاوں کا ہے ۔سردیوں کی رات تھی ۔دیہات کا جنگلی علاقہ تھااوپر سے رات کی شادی ۔یہاں بھی ایسا ہی ہوا کہ تقریباًآٹھ سو باراتی لے آئے ۔گاوں کی شادی تھی تو بارات میں پورا گاوں ہی امنڈ پڑا تھا ۔رات ۱۰ بجے نکاح ہونا تھا جو ۲ بجے رات کو ہوا ۔کیوں کہ فوری طور پر انتظامات کرنا وہ بھی دیہات کے علاقے میں ۔نہ جانے کیسے کیا ہوگا؟ ۔ایسے ایسے واقعات بہت پیش آتے ہیں ۔لڑکے والوں کو کم از کم یہ تو سوچنا چاہیے کہ ان کے پاس بھی بیٹیاں ہیں یا ان کےقریبی رشتے میں تو ضرور ہوں گی ۔کل ان کے ساتھ ایسا ہوتو کیسا لگے گا ؟
اسی ضمن میں ایک واقعہ اور پیش ہے ۔ایک زمین دار صاحب کی بیٹی کی شادی تھی ،یہاں معاملہ الٹا تھا ۔دو سوباراتیوں کا مطالبہ تھا ۔تو لڑکے والوں نے کہا کہ ٹھیک ہم اس سے زیادہ ہی لائیں گے۔پھر کہتے ہیں کہ میں فلاں فلاں مدرسے کے بچوں کو بارات میں لے آؤں گا تو لڑکی والے کہتے ہیں کہ ان کو نہیں بلکہ رشتے داروں کو لے آئیں تو ان کو پتے کا جواب ملا ۔کہتے ہیں کہ یہ سب بھی ہمارے دینی رشتے دار ہیں ۔بالآخر ۸۰ ،۸۵ لوگ بارات میں پہنچے اور کل ۸ لوگ کھانا کھا پائے ،بقیہ لوگ ناشتہ کرکے واپس آگئے کیوں کہ کھانا گھٹ گیا تھا ۔اسی کو کہتے ہیں جیسی نیت ویسی برکت۔کیوں کہ ان کو دینی مدارس کے طلبہ بارات میں پسند نہیں آئے ، ان کو ہائی فائی انگریز نما لباس پہنے ہوئے لوگ بارات میں چاہئیں ،تاکہ چاروں طرف خوب ان کی سخاوت کے قصیدے پڑھے جائیں۔ ان کی خاطر تواضع کی تعریف کے پل باندھے جائیں ۔ اس لیے ہمیں شادی بیاہ میں خصوصاًاور عام زندگیوں میں عموماً اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے ۔درمیانی راہ اختیار کرنے میں ہی دونوں جہان کی بھلائی ہے۔
بعض ایسی گھٹیا حرکت پر اُتر آتے ہیں کہ باراتیوں کے کھانے میں طرح طرح کے پکوان کی فرمائش کرتے ہیں ۔یہ فرائی ،وہ فرائی،یہ ٹھنڈا ،یہ میٹھا ،اور اس طرح کا بہترین چاول ہونا چاہیے ۔یہ نہایت درجے کی گری ہوئی حرکت ہے ۔مہمان کو میزبان پر اپنی پسند کا بوجھ ڈالناہرگز جائز نہیں،بلکہ جو ملے کھا لینا چاہیے۔غیر ت مند اور نبی آخر الزماں ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے سے اس کی توقع نہیں کی جاتی ۔کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی کھانے کو عیب نہیں لگایا ۔اگر خواہش ہوتی تو کھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے ۔حدیث پاک ملاحظہ ہو:
عن أبي هريرةرضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: ما عابَ النبيُّ ﷺ طَعامًا قَطُّ، إنِ اشْتَھاهُ أكَلَهُ وإلّا تَرَكَهُ.(صحیح البخاری،حدیث نمبر٣٥٦٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی، فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کھانے کو کبھی بھی عیب نہیں لگایا، اگر خواہش ہوتی (یعنی اچھا لگتا )تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے ۔
نبی کریم ﷺ نے اس حدیث پاک سے ہمیں بہت بڑا درس دیا ہے ۔اگر اس پر عمل کر لیں تو گھریلو جھگڑوں کا خاتمہ ہی ہو جائےکیوں کہ زیادہ تر میاں بیوی میں ناراضگی نمک کم ہونے ، دال ،سالن پتلا ہونے سے ہی ہوتی ہے ، ہمیں ایسے حالات میں اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے اور سرکار دوعالم ﷺ کی اس حدیث پاک کو یاد رکھنا چاہیے ۔اس سے آپ کے گھر میں خوشیاں آئیں گی۔
یہاں گفتگو چل رہی تھی شادیوں میں کھانے اور باراتیوں کے لیے فرمائش کرنے کی ۔ تو سن لیجیےہمیں فرمائش کرنے سے بالکل بچناچاہیے ۔میزبان کی طرف سے جو بھی آئےخوشی خوشی تناول کرلے ۔اگر کسی نے فرمائش کی اور میزبان نہ پوری کر سکا یا اس معیار کا انتظام نہ کرسکا تو اس کی دل شکنی ہوگی ، اس کا دل دکھے گا ۔ اسلام میں
کسی کا دل دکھانابہت بڑا گناہ ہے۔
شادیوں کے کھانے میں ایک بات یہ بھی پیش آتی ہے کہ لڑکی والےباراتیوں کاتواچھا سے اچھا انتظام کرتے ہیں چاہےفرمائش ہو یا نہ ہو ۔اور رشتے داروں،گھراتیوں اور محلے کے ان لوگوں کو(جو شادی کے دو دن پہلے سے دو دن بعد تک کام کرتے ہیں اور شادی کے سارے انتظامات سنبھالتے ہیں) تو ان کووہی عام کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم باراتیوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ،یقیناً وہ اہمیت کے حق دار ہیں کیوں کہ وہ مہمان ہیں ۔لیکن آپ عام لوگوں کو بھی وہی کھلائیں جو باراتیوں کو کھلاتے ہیں ۔سب کو اچھا اور ایک جیسا کھلائیں۔باراتیوں کا الگ سے انتظام کرنے میں دوسروں سےکہیں نہ کہیں امتیازانہ سلوک ضروربرتا جاتا ہے جواچھانہیں۔یوں ہی ولیمے میں امرا کو تو بلایا جاتا ہےلیکن فقرا کو چھوڑ دیا جاتا ہےجو ایک مذموم عمل ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے:
عن أبي هريرةرضی اللہ تعالیٰ عنہ قال:قال رسول اللہ ﷺ‘‘ شَرُّ الطَّعامِ طَعامُ الوَلِيمَةِ، يُدْعى لَها الأغْنِياءُ ويُتْرَكُ الفُقَراءُ، ومَن تَرَكَ الدَّعْوَةَ فقَدْ عَصى اللَّهَ ورَسوله ﷺ‘‘۔(صحیح البخاری،حدیث نمبر:٥١٧٧)، وصحیح مسلم (حدیث نمبر :١٤٣٢)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ ‘‘سب سے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں مال داروں کو بلایا جائے اور فقیروں کو چھوڑ دیا جائے ۔اور جو دعوت کو ترک کرے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی ۔(نافرمانی اس لیے ہوئی کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہے کہ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کی جائے۔یہاں اس پر عمل نہیں ہوا۔)
شادیوں میں دعوت کی بابت ایک بات یہ بھی عرض کرنی ہے کہ دعوت دینے میں ہمیں پاس پڑوس کے غریب لوگوں کا بھی ضرور خیال رکھنا چاہیے ۔کیوں کہ محلے میں بہت سارے گھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے یہاں کئی کئی ہفتوں بعد گوشت بنتا ہے ۔تو چند بوٹیاں مل پاتی ہیں ۔اس لیے ایسے لوگوں کاضرور خیال کرنا چاہیے ۔کیوں کہ ان کو کھلانے کے بعد جو خوشیاں انھیں حاصل ہوتی ہیں وہ ہماری زندگی بھر کی خوشیوں کی ضامن ہوتی ہے۔ان کی دعائیں جلدی قبول ہوتی ہیں۔ان کو کھلانے کا ثواب بھی زیادہ ہے۔
مذکورہ حدیث پاک سے ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ وہ کھانا برا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔اس میں یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی دعوت دے تو اس کو قبول کیا جائے کیوں کہ دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کا حق ہے ۔ہاں اگر کسی وجہ سے وہ نہیں آسکتا ہے تو پہلے ہی معذرت کر لے۔دعوت کا انکار نہ کرے ۔اسے ٹھکرائے نہیں۔کیوں کہ دعوت کا انکار کرنا یا قبول نہ کرنا اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا سبب ہے۔اس لیے ہمیں اس حدیث پاک کو یاد رکھنا چاہیے اور اس پر عمل کرنا اور اسےدوسروں تک پہنچانا بھی چاہیے ۔کیوں کہ بہت سے لوگ اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کی بنا پر غلطی کر جاتے ہیں۔اللہ عزوجل ہمیں عملِ خیر کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم

محمد عارف رضا نعمانی مصباحی
ایڈیٹر :پیام برکات،علی گڑھ
رابطہ نمبر : 7860561136

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/883285065575346/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*آیاتِ جہاد*

(معنی و مفہوم، شانِ نزول، پس منظر)

*قسطِ پنجم*

بقلم: بدر الدجیٰ الرضوی المصباحی

(4) اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِیۡھِمۡ نَارًا ؕ کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُھُمۡ بَدَّلۡنٰھُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَھَا لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا. [ النساء، آیت:56]
جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے ، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انھیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں ، بےشک اللہ غالب حکمت والا ہے.( کنز الایمان)
سورہ نسا کی یہ آیت مبارکہ آیاتِ وعید میں سے ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے منکرینِ آیاتِ الہی پر وعید قائم کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم انھیں جہنم میں داخل کریں گے۔
‌‌ اس کی تشریح سے پہلے ہم آپ کو یہ بتا دیں کہ اس کا تعلق ماقبل کی آیات سے ہے لھذا ہم ماقبل کی آیات پر ایک سرسری نظر ڈال لیتے ہیں۔
اس سے پہلے آیت نمبر : 51 ہے ، جس کا شانِ نزول یہ بتایا گیا ہے کہ ستر افراد پر مشتمل یہودیوں کا ایک وفد قریشِ مکہ سے ملاقات کے لیے مدینہ سے مکہ پہنچا جس کی قیادت حی بن اخطب اور کعب بن اشرف جیسے سرکردہ علمائے یہود کررہے تھے اس وفد کا مقصد حضورﷺ کے خلاف جنگ میں قریش مکہ کو اپنا حلیف بنانا اور اس معاہدے کو پامال کرنا تھا جو حضور ﷺ اور یہود کے مابین طے پایا تھا جس پر ہم نے اپنی چوتھی قسط میں روشنی ڈالی ہے، جب ان کے مابین بات چیت شروع ہوئی تو قریش مکہ نے ان سے کہا کہ تم اہل‌ِ کتاب ہو اور ہمارے لحاظ سے محمد (ﷺ) کے زیادہ قریب ہو لھذا ہم تمھاری باتوں پر بآسانی بھروسہ نہیں کرسکتے تاہم اگر تم ہمارے معبودوں کو سجدہ کرکے ہمیں اطمینان دلادو تو ہم تم پر اعتماد کرسکتے ہیں اور محمد ( ﷺ ) کے خلاف جنگ میں تمھیں اپنا حلیف بنا سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مقصد برآری کے لیے یہود بتوں کے آگے سر بجود ہوگئے، عیاری و مکاری ان کی سرشت میں داخل تھی؛ اس لیے انھیں ابلیس کی اطاعت کرنے میں دیر نھیں لگی، پھر ابو سفیان جو اس وقت اسلام نھیں لائے تھے؛ ان سے مخاطب ہوئے اور کعب بن اشرف سے سوال کیا کہ تم تو اہل کتاب اور صاحبِ علم ہو اور ہم تمھارے مقابلے میں گنوار ہیں تم بتاؤ کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں یا محمد (ﷺ) اور ان کے اصحاب؟ کعب بن اشرف نے کہا: محمد(ﷺ) تمھیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ ابو سفیان نے کہا کہ: وہ ہمیں صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیتے ہیں اور سیکڑوں خداؤں کی عبادت سے منع کرتے ہیں کعب بن اشرف نے ابو سفیان سے پوچھا کہ : تھمارا دین کیا ہے ؟ جس کے جواب میں ابو سفیان نے اپنے دین اور معمولات بتاے۔
کعب بن اشرف نے برجستہ کہا : "انتم اھدیٰ سبیلا" [ تفسیر ابی سعود، ج: 2، ص:189] تم ہی سیدھی راہ پر ہو
‌ آیت نمبر: 52، 53 میں اللہ تعالیٰ نے اس فعل پر یہودیوں کی توبیخ کی ہے اور فرمایا ہے کہ: اگر زمین پر ان کو اقتدار اور فرماں روائی حاصل ہوجائے اور یہ زمین کے سیاہ و سفید کے مالک بن جائیں؛ تو دیگر لوگوں کو یہ بے دخل کردیں اور انھیں رہائش اور سکونت کے لیے ایک تل کے برابر بھی جگہ نہ دیں ،آج فلسطینیوں کے ساتھ یہودی جو ظالمانہ سلوک کررہے ہیں وہ دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔
آیت نمبر: 54، میں یہودیوں کی گندی جبلت اور سرشت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ ان لوگوں پر حسد کرتے ہیں ؛ جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی بارش کی ہے، بالخصوص یہ حضور ﷺ اور دیگر اہل ایمان سے کڑھتے ہیں اور ان سے قلبی رنجش اور عداوت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جو نبوت و نصرت، غلبہ اور عزت عطا فرمائی ہے اس سے یہ جلتے ہیں۔
پھر آیت نمبر : 55 میں فرمایا گیا کہ : پھر یہود میں سے کچھ لوگوں نے ایمان و اسلام کی طرف پیش قدمی کی اور عقیدۂ توحید اور حضور ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لے آئے مثلا: حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ والے رضی اللہ تعالی عنہم اور کچھ لوگوں نے منہ پھیر لیا مثلا: کعب بن اشرف اور حی بن اخطب وغیرھما خذلھم اللہ۔
اب اس کے بعد ہم سورۂ نسا کی آیت: 56 کی طرف آتے ہیں جس پر وسیم رِ ضوی نے اعتراض کیا ہے اور اسے اپنی پیٹیشن میں داخل کیا ہے اور وائرل ویڈیو میں اس نے اس کا ترجمہ پیش کیا ہے۔
آیت مبارکہ: "ان الذین کفروا بآیاتنا" میں دو احتمال ہیں:
(1) اس سے عہد رسالت کے کفار مراد ہیں مثلاً : یہود و نصارٰی اور دیگر کفار و مشرکینِ عرب
(2) اولین و آخرین کفار مراد ہیں مثلاً: ماقبلِ عہدِ رسالت، عہد رسالت، ما بعد عہدِ رسالت
پہلی تقدیر پر آیات سے آیاتِ قرآن، حضور ﷺ کے جملہ معجزات، آپ سے صادر تمام ارشادات، احکام و قوانین مراد ہیں اور دوسری صورت میں آیات سے چار مشہور آسمانی کتابیں مثلا: توریت ، انجیل، زبور ، قرآن اور ایک سو کی تعداد میں غیر مشہور صحیفے مراد ہیں حضرت آدم علیہ السلام پر دس، حضرت شیث علیہ السلام پر
پچاس حضرت ادریس علیہ السلام پر تیس حضرت ابراہیم علیہ السلام پر دس جیسا کہ مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"الکتب المنزلۃ مأۃ و اربع کتب، منھا: عشر صحائف نزلت علی آدم و خمسون علی شیث و ثلاثون علی ادریس و عشرۃ علی ابراھیم و الاربعۃ السابقۃ و افضلھا القرآن۔ [ مرقاۃ المفاتیح، ج: 1، ص: 117]
اور وہ تمام معجزات شواہد و احکام مراد ہیں جو گزشتہ تمام انبیا و رسل کو عطا کیے گئے ہیں جیسا کہ تفسیر ابی سعود میں اس آیت کے تحت ہے :
"ان ارید بھم الذین کفروا برسول اللہ ﷺ فالمراد بالآیات إما القرآن أو ما يهم كله و بعضه أو ما يعم سائر معجزاته أيضا الخ" [تفسیر ابی سعود ج: 2،ص: 191]
اس تو ضیح و تشریح کے بعد اب ہم آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیتِ مبارکہ میں تمام منکرینِ آیات کی زجرو تو بیخ کی ہے اور ان پر وعید کی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ: جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے ، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں ، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے.( کنز الایمان)
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جلی ہوئی کھال نئی کھال سے بدل دی جاۓ گی جو شکل و صورت میں پہلی کھال سے الگ ہوگى، لیکن ازروئے مادہ کے وہ وہی کھال ہوگی یعنی صرف وصف میں تبدیلی ہوگی مادہ وہی رہے گا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
"یبدلون جلودا بیضاء کامثال القراطیس۔" (تفسیر ابی سعود ایضا)
ان کی سیاہ کھال کاغذ کے مانند سفید کھال سے بدل دی جاۓ گی یا پھر گوشت سے ہی نئی کھال نکل آۓ گی جیسا کہ دنیا میں جب جلد جل جاتی ہے تو علاج و معالجہ کے بعد کچھ ہی دنوں میں نئی جلد نکل آتی ہے ،کھال میں تبدیلی کا عمل اس لیے ہوگا تاکہ قوت احساس ان کے اندر ختم نہ ہونے پاے اس لیے کہ تعذیب و تنعیم بغیر احساس کے بے معنی ہیں ،اس طرح وہ مسلسل آیات الہی کے انکار کا مزہ چکھتے رہیں گے ۔العیاذ باللہ۔
اس آیت میں رب ذوالجلال نے جو وعید قائم کی ہے وہ فطرت کے تقاضے کے عین مطابق ہے ظاہر ہے جو آیات الہی کا منکر ہو، اس کے وضع کردہ قوانین کے خلاف علم بغاوت بلند کرے، اس کی بتائی ہوئی روش پر نہ چلے اس کے بھیجے ہوۓ نبیوں اور رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف سازش کرے ان کے قتل کے منصوبے بناۓ اللہ کی عبادت کے بجاۓ اپنے ہاتھوں کے تراشیدہ بتوں کی پرستش کرے ،وہ بت جو پرستش کرنے کی صورت میں اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں دے سکتے اور پرستش نہ کرنے کی صورت میں انہیں کوئی ضرر بھی نہیں پہونچا سکتے حتی کہ وہ خود اپنی بھی حفاظت نہیں کر سکتے اللہ فرماتا ہے: "مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ "(الحج/١٢)
ایسے منکرین کو اللہ تو سزا دے گا ہی اور یہ دنیاوی حکومتوں کا بھی نظام ہے مثلا ہمارے ہی ملک میں آپ دیکھ لیں جزا اور سزا کا عمل جاری ہے جو بھی ملکی قوانین کا احترام نہیں کرتا ہے اسے سزا کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور جیسا جرم ہوتا ہے اسی کے اعتبار سے ملک کی آئینی دفعات میں اس کی سزا کا التزام بھی کیا گیا ہے ،اگر کوئی ملک کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا ہے اور غداری کا مرتکب ہوتا ہے تو ہمارے آئین میں اس کیلۓ عمر قید یا پھانسی کی سزا کا التزام کیا گیا ہے جیسا جرم ویسی سزا ۔کماتدین تدان۔
اور ایسا نہیں ہے کہ قرآن میں صرف کفار و مشرکین کے لیے ہی وعید کی گئی ہے، بلکہ عصاۃ(گنہ گار) مومنین کیلۓ بھی قرآن میں وعیدات آئی ہیں وسیم رضوی کو یہ آیات تو قرآن میں نظر آگئیں لیکن ان آیات پر اس کی نظر نہیں پڑی جن میں بے نمازی مسلمانوں کے دردناک عذاب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی سخت زجر و توبیخ کی گئی ہے مثلا یہ آیت مبارکہ:
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴)الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) الخ (الماعون ٤،٥)
تو ان نمازیوں کے لئے خرابی ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں ۔(کنز الایمان)
(ویل جہنم کی اس وادی کا نام ہے جس کی سختی سے جہنم بھی پناہ مانگتا ہے)
اسی طرح قرآن پاک کی یہ آیت:فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ الخ (مریم ٥٩)
تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غی سے جاملیں گے (کنزالایمان)
(غی جہنم کی ایک گرم نہر یا جہنم کی ایک وادی ہے)
اسی طرح قرآن پاک کی یہ آیت جس میں مانعین زکوۃ کیلئے نہایت سخت وعید آئی ہے:
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ الخ (التوبہ ٣٤،٣٥) اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کررکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سناؤ ۔جس دن وہ مال جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا (اور کہا جائے گا) یہ وہ مال ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کر رکھا تھا تو اپنے جمع کرنے کا مزہ
چکھو۔
اس طرح کی بہت سی آیات ہیں ہم نے یہاں بطور نمونہ صرف تین آیات کو ذکر کیا ہے۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ قرآن میں مومنین اور کفار دونوں کیلۓ وعیدات آئی ہیں لھذا اسلام دشمن عناصر کو ان آیات پر بھی نظر رکھنی چاہیے جن میں مومنین کیلۓ بھی وعیدات کا ذکر ہے۔ قرآن مقدس میں جیسا جرم ویسی سزا کا فارمولہ پیش کیا گیا ہے۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔

_________________

نوٹ :
ہم یہ مضمون ان آیات پر لکھ رہے ہیں جن پر اسلام دشمن عناصر کو اعتراض ہے جیسا کہ ظاہر ہے اسی لئے ہم نے اس کا نام "معترضہ آیات جہاد" رکھا ہے اس پر ہمارے کچھ احباب کو اعتراض ہے جن کی تعداد نہ کے برابر ہے پھر بھی ہم اس پر آپ کی راۓ چاہتے ہیں اس سےبہتر اگر کوئی تعبیر ہو جو مکتوب کی طرف مشعر ہو تو بتائیں کیوں کہ عنوان ما یعرف بہ الکتاب کا نام ہے تو ہم اسے قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے

نوٹ:
ان مضامین کی کمپوزنگ، نظر ثانی اور حوالہ جات کی عبارات کو ماخذ سے ملانے میں اور آپ تک پہونچانے میں ہمارے درج ذیل باصلاحیت فارغین تلامذہ ہماری بھر پور اعانت کر رہے ہیں اور ہمارے دست و بازو بنے ہوے ہیں۔ صمیم قلب سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کےلیے خدمت دین کی راہ کشادہ فرمادے، آپ بھی ان کے حق میں دعائے خیر فرمائیں۔
(1) مفتی اشرف نہال مصباحی خیرآباد
(2) مفتی ذیشان ضیا مصباحی خیرآباد
(3) مولانا مصطفی رضا ایس کے نگر۔درجہ فضیلت مدرسہ عربیہ اشرفیہ ضیاءالعلوم خیرآباد

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/884901902080329/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا انس بن مالک کہتے ہیں ، رحمت عالم ﷺ نے ہم سے فرمایا:

کیا تمھیں بتاؤں کہ تمھاری کون سی عورتیں جنتی ہیں ؟

ہم نے عرض کی: حضور کیوں نہیں ، ضرور ارشاد فرمائیں !

فرمایا: ( وہ عورت جو شوہر سے ) محبت کرنے والی ہو ، کثیر اولاد والی ہو ، جب اُسے غصہ آئے ، یا اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے ، یا اس کا خاوند اس سے ناراض ہوجائے تو کہے:

" میرا ہاتھ ، آپ کے ہاتھ میں ہے ؛ میں نے اس وقت تک نہیں سونا ، جب تک آپ راضی نہیں ہوجاتے ۔ "

( انظر: الترغیب والترھیب من الحدیث الشریف ، کتاب النکاح ، باب ترغیب الزوج فی الوفاء ، ص 358 ، ر 2902 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ، س 2014 ء )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3116714288608739&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسول پاک ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:

عورتو‍ ں سے نکاح اُن کی خوب صورتی کی وجہ سے نہ کرو ، ہوسکتا ہے خوب صورتی‌ اُنھیں ہلاکت میں ڈال دے ۔
اور ان سے مال و دولت کی خاطر بھی نکاح نہ کرو ، ہوسکتا ہے مال اُنھیں سرکش بنا دے ۔
اُن سے نکاح دین‌ کی وجہ سے کرو ، ( اور یاد رکھو ! ) کالے رنگ کی کان کٹی لونڈی دین دار ہو تو وہ ( حسن و جمال والی مال دار عورت سے ) زیادہ بہتر ہے ۔

( الترغیب والترھیب من الحدیث الشریف ، کتاب النکاح ، باب ترغیب فی غض البصر ۔۔۔۔۔۔ ، ص355 ، ر2877 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ، س 2014 ء )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3117348731878628&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض حادثے انسان کو اندرونی طور پر توڑ کے رکھ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ:

" اب سنبھل نہیں پاؤں گا ۔ "

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رحمت والا رب اسے سنبھال لیتا ہے ، اور اس یقین کا موقع عطافرماتا ہے کہ:

میرے پیارے بندے میں تیرے ساتھ ہوں ، تجھ سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ !

تجھے حادثے اس لیے پیش نہیں آتے کہ تو ہمت ہار جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو تجھے مضبوط کرنے اور تیرا اجر و ثواب بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں ۔

✍️لقمان شاہد
22-3-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3117609521852549&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا آپ جانتے ہیں؟

• ماہ شعبان کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں آیت درود و سلام نازل ہوئی۔ یعنی؛

إن الله وملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما

بے شک الله اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ [سورۃ الاحزاب، آیت ۵٦]

• شیخ شہاب الدین احمد بن حجازی الفشنی نے ابن ابی الصیف الیمنی (رحمہما الله تعالی) سے نقل کیا کہ شعبان کا مہینہ محبوب کریم ﷺ پر درود و سلام کا مہینہ ہے کیونکہ اس میں آیتِ درود و سلام (سورۃ الاحزاب، آیت ۵٦) نازل ہوئی تھی۔ [تحفة الإخوان للفشني، صفحہ ٦۷]

• امام شہاب الدین القسطلانی (رحمہ الله تعالی) فرماتے ہیں: بعض علماء کا قول ہے کہ شعبان کا مہینہ صلاۃ و سلام کا مہینہ ہے کیونکہ اس میں آیتِ درود و سلام (سورۃ الاحزاب، آیت ۵٦) نازل ہوئی تھی۔ [المواھب اللدنیة، جلد ۳، صفحہ ۳۲۲]

• امام حافظ ابن حجر (رحمہ الله تعالی) نے ابو ذر الھروی سے نقل کیا کہ پیارے آقا و مولیٰ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم ہجرت کے دوسرے سال نازل ہوا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اسراء و معراج کی شب نازل ہوا۔ [ما ذا في شعبان، صفحہ ۲۵]

صلوا على الحبيب...
صلى الله على محمد ﷺ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/885195345391369/
کیا آپ جانتے ہیں؟

• ماہ شعبان کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں آیت درود و سلام نازل ہوئی۔

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/885195345391369/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فضائل شب براءت و زیارت قبور
شب برأت کی فضیلت قرآن حدیث
لوح محفوظ میں لکھا ہوا فرشتوں
رات میں قیام کرو اور دن میں روزہ
بکریوں کے بالوں کے برابر بخشش
صحاح ستہ میں ترمذی و ابن ماجہ
امراض و وبا سے نجات برکتِ رزق
رب دینے کو تیار بندوں کو فرصت ن
کون بخشش سے محروم رہتے ہیں؟
شب قدر کے بعد شب براءت افضل
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #شب_براءت شب برأت ¹
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی