🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
بے شک عہد شکن کے لیے قیامت کے روز نشان کھڑا کیا جاۓ گا اور کہا جائیگا اس نے فلاں بن فلاں سے غدر کیا۔
اور ایک مسلمان قاتل سے مقتول ذمی کے وارثین کے خوں بہا قبول کرلینے کی تصدیق کے بعد قاتل کو آزاد کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: "من کان لہ ذمتنا فدمہ کدمنا و دیتہ کدیتنا" [السنن الکبری للبیہقی، ج: 8، ص: 63، کتاب الجراح الحدیث: 15934 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]
جو ہمارا ذمی ہوا اس کا خون ہمارے خون اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔

جاری۔۔۔۔۔



*گزارش*

اردو ، ہندی ، انگریزی زبان پر اگر کسی کو عبور حاصل ہے اور وہ ان زبانوں کے مصطلحات سے اچھی طرح واقف ہے وہ اگر ان مضامین کا ہندی اور انگلش میں ٹرانسلیشن کر دے تو فقیر رضوی اس کا بے حد ممنون ہوگا.

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/882983502272169/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#آیات _جہاد
(معنیٰ و مفہوم، شانِ نزول، پس منظر)
قسطِ سوم
بقلم: بدر الدجیٰ الرضوی المصباحی

(2) یٰۤاَیُّھَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِھِمۡ ھٰذَا ۚ وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ عَیۡلَۃً فَسَوۡفَ یُغۡنِیۡکُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖۤ اِنۡ شَآءَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۸﴾ (التوبہ آیت: 28)
اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں اور اگر تمہیں محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے۔(کنز الایمان)
یہ سورہ توبہ کی دوسری آیت ہے جو اسلام دشمن عناصر کے دل میں کھٹک رہی ہے اس سے پہلے یہ بتادیا گیا ہے کہ سورہ توبہ کی اکثر آیات میں مشرکین سے وہ مشرکین مکہ مراد ہیں جنھوں نے عہد و پیمان کی پاسداری نہیں کی تاہم یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ اس آیت میں مشرکین کو جو نجس قرار دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ اس آیت میں نجاست سے اس کا متبادر مفہوم بول و براز(پیشاب،پاخانہ) مراد نہیں ہے جیسا کہ اسلام دشمن عناصر سمجھ رہے ہیں بلکہ اس سے ان کا وہ شرک مراد ہے جو نجاست کی منزل میں ہے یا انھیں اس آیت میں نجس اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ وہ صحیح طرح سے طہارت اور غسل وغیرہ نہیں کرتے ہیں اور نجاست سے اجتناب نہیں کرتے ہیں جیسا کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ یہ کھڑے کھڑے پیشاب کرتے ہیں اور پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتے ہیں، ایک لوٹا پانی سے اجابت کرتے ہیں ان اسباب و وجوہات کی بنا پر ان پر نجاست کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ بول و براز کی طرح عین نجس ہیں جیسا کہ تفسیر ابی سعود میں ہے: وصفوا بالمصدر مبالغۃ کانھم عین النجاسۃ أو ھم ذو نجس لخبثِ باطنھم او لان معھم الشرک الذی ھو بمنزلۃ النجس او لانھم لا یتطھرون ولایغتسلون ولا یجتنبون النجاسات فھی ملابسۃ لھم۔ (تفسیر ابی سعود ج: 4، ص: 57)
بلکہ علامہ امام ابو زکریا بن شرف نووی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ صحیح مسلم باب الدلیل علی ان المسلم لاینجس کے تحت فرماتے ہیں : طہارت و نجاست میں کافر کا وہی حکم ہے جو مسلم کا حکم ہے یہی شوافع اور جمہور سلف و خلف کا بھی مذہب ہے اور آیت مبارکہ "انما المشرکون نجس" سے کفار و مشرکین کے اعتقاد کی نجاست مراد ہے یہ مراد نہیں ہے کہ بول و براز اور ان کے امثال کی طرح ان کے اعضا نجس ہیں۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : و اما الکافر فحکمہ فی الطھارۃ و النجاسۃ حکم المسلم ھذا مذھبنا و مذھب الجماھیر من السلف و الخلف و أما قول اللہ عزو جل: "اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ" فالمراد نجاسۃ الاعتقاد و الاستقذار و لیس المراد ان اعضاءھم نجسۃ کنجاسۃ البول و الغائط و نحوھما" ( شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارۃ/ باب الدلیل علی ان المسلم لا ینجس، ص162: مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

*فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِھِمۡ ھٰذَا*
تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں (کنزالایمان)
اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ کفار ومشرکین کو مسجد حرام کے قریب آنے سے روکیں۔
‌ یہ حکم مشرکین کی نجاست پر متفرع ہے اور نہی عن القرب مبالغہ کی غرض سے ہے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نزدیک اس آیت میں منع سے مراد مشرکین کو حج و عمرہ سے روکنا ہے،نہ کہ حرم ،مسجد حرام اور دیگر مساجد سے اور امام شافعی کے نزدیک خاص مسجد حرام میں دخول سے روکنا مراد ہے،اور امام مالک کے نزدیک جمیع مساجد سے مشرکین کو روک دینے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ تفسیر ابی سعود میں ہے :و قیل المراد بہ النھی عن الدخول مطلقا،و قیل :المراد بہ المنع عن الحج و العمرۃو ھو مذھب ابی حنیفۃ رحمہ اللہ۔۔۔ولا یمنعون من دخول الحرم و المسجد الحرام و سائر المساجد عندہ و عند الشافعی یمنعون من المسجد الحرام خاصۃ و عند مالک یمنعون من جمیع المساجد (تفسیرِ ابی سعود، ج: 4، 57)
لیکن صاحب تفسیر ابی سعود نے یہاں پر احناف اور شوافع کے مفتیٰ بہ اور راجح قول کی وضاحت نہیں کی ہے ہم یہاں پر اس بابت احناف اور شوافع کے مذاہب پر مختصرا ڈالنا چاہیں گے۔
شوافع کے نزدیک حرم میں کفار و مشرکین کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے تاہم دیگر مساجد میں وہ مسلمانوں کی اجازت سے مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں پھر یہاں پر مشرکین سے خاص بت پرست مراد ہیں یا دیگر اقسام کے کافر مراد ہیں اس پر شوافع نے بحث کی ہے۔ علامہ سبکی فرماتے ہیں: حرم میں تو مطلقا کافر کو داخل ہونے سے روک دیا جائے گا خواہ وہ ذمی ہوں ( مسلم ملک میں غیر مسلم اقلیت) یا مستامن ( عارضی طور پر پاسپورٹ اور ویزے سے آنے والے غیر مسلم)
امام نووی شافعی دمشقی فرماتے ہیں : حرم کے علاوہ باقی مساجد میں مسلمانوں کی اجازت سے کافر کا داخل ہونا جائز ہے (خواہ وہ ذمی ہو یا مستامن بت پرست ہو یا اہل کتاب) اس لیے کہ ثقیف کا ایک وفد رمضان کے مہینے میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آیا آپنے ان کے لیے مسجد میں خیمہ نصب کیا جب وہ اسلام لے آئے تو انہوں نے روزے رکھے اس حدیث کو طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی وہ روایت بھی ہے جس میں ثمامہ بن اثال کو گرفتار کرکے مسجد کے ستون سے باندھنے کا ذکر ہے اس وجہ سے امام شافعی نے حکم لگایا ہے کہ مسلمان کی اجازت سے کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے خواہ وہ غیر اہل کتاب ہو البتہ مکہ کی مساجد اور حرم میں کسی کافر کا داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ علامہ نووی نے "مجموع" میں لکھا ہے کہ ہمارے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ حرم میں کسی کافر کو نہ داخل ہونے دیا جائے اور غیر حرم کی ہر مسجد میں کافر کا داخل ہونا جائز ہے اور مسلمانوں کی اجازت سے وہ رات کو مسجد میں رہ سکتا ہے (تکملہ شرح تہذیب ج 9 ص 436، 437 مطبوعہ دارالفکر بیروت)
احناف کے نزدیک غیر معاہد (جن سے مسلمانوں کا معاہدہ نہ ہوا ہو) مشرکین کو حرم اور اسی طرح باقی مساجد میں داخل ہونے سے منع کیا جائے گا اور اہل ذمہ کو حرم اور اسی طرح باقی مساجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا جائے گا۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سیر کبیر میں فرماتے ہیں: و ذکر عن الزھری ان ابا سفیان بن حرب کان یدخل المسجد فی الھدنۃ وھو کافر غیر ان ذلک لا یحل فی المسجد الحرام قال اللہ تعالی: اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ (سیر کبیر مع شرحہ ج :1، ص 134 مطبوعہ المکتبۃ للثورۃ الاسلامیہ افغانستان )
زہری سے روایت ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کے ایام میں ابو سفیان مسجد میں آتے تھے حالاں کہ اس وقت وہ کافر تھے البتہ یہ مسجد حرام میں جائز نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مشرکین نجس ہیں وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔
امام محمد کے اس قول سے متبادر ہوتا ہے کہ مطلق مشرکین کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا جاۓ گا لیکن جامع صغیر میں انہوں نے اس کی صراحت کی ہے کہ اہل ذمہ کے حرم میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: ولا باس بان یدخل اھل الذمۃ المسجد الحرام" (جامع صغیر ص : 153 مطبوعہ مصطفائی ہند)
امام محمد کی صراحت کے پیشِ نظر فقہاے احناف کا نظریہ یہ ہے کہ اہل ذمہ کو کعبہ شریف اور باقی مساجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا جائے گا یہ ممانعت صرف مشرکین غیر معاہد کے لیے ہے۔
عالمگیری میں ہے:
لا باس بدخولِ اھل الذمۃ المسجد الحرام و سائر المساجد و ھو الصحیح کذا فی المحیط للسرخسی [ فتاویٰ عالمگیری، ج: 5، ص: 346، مطبوعہ مطبع کبریٰ امیریہ بولاق مصر]
یہاں پر "وھو الصحیح" سے اس طرف اشارہ ہے کہ علامہ سرخسی نے شرح سیرِ کبیر میں جو یہ لکھا ہے کہ مسجد حرام اور باقی مساجد میں حربی اور ذمی دونوں کے داخل ہونے کی ممانعت نہیں ہے یہ صحیح نہیں ہے۔
امام مالک کے نزدیک کسی بھی قسم کے غیر مسلم کو کسی بھی مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے خواہ وہ مسجد حرم ہو یا غیر حرم کی مسجد۔
امام احمد بن حنبل کے نزدیک مطلقا حرم (مکۃ المکرمہ کا وہ حصہ جو حرم میں داخل ہے ) میں مشرکین کا داخلہ ممنوع ہے اس میں مسجد حرام کی کوئی تخصیص نہیں ہے اور غیر حرم کی مساجد میں ان کے دو قول ہیں۔
یہ تمام حوالے ہم نے علامہ سعیدی رحمہ اللہ کی شرح صحیح مسلم ج: 3، ص: 681، 682، 683 سے لیے ہیں۔

(جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
*نوٹ:* مصروفیات کی وجہ سے بقیہ قسطیں کچھ وقفے سے جاری کی جائیں گی ان شاء اللہ تعالیٰ.

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/882983978938788/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#معترضہ_آیات_جہاد

(معنیٰ و مفہوم، شانِ نزول، پس منظر)
*قسطِ چہارم*
*بقلم: بدر الدجیٰ الرضوی المصباحی*

(3)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةًؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(۱۲۳)

اے ایمان والو! ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں اور وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔(کنز الایمان)

ابھی حال ہی میں وسیم رضوی کا نیا ویڈیو وائرل ہوا ہے اس میں اس نے سپریم کورٹ میں پیش کردہ چھبیس آیات میں سے 6/آیات کا الٹا سیدھا ترجمہ نہایت ہی غیظ و غضب اور دیدہ دلیری کے ساتھ پڑھ کر سنایا ہے جس میں سے پہلی آیت: فاذا انسلخ الاشھر الحرم۔۔۔۔۔ پر اعتراض کا جواب ہم اپنی دوسری قسط میں دے چکے ہیں۔ اس آیت میں "اشھر حرم" کا ترجمہ اس ناخلف نے "رمضان کے مہینے" سے کیا ہے ،جب کہ "اشھر حرم" سے ذوالقعدہ، ذوالحجہ،محرم اور رجب کے مہینے مراد ہیں۔ حیرت بالاۓ حیرت ہے کہ جس کی قرآن فہمی کا یہ عالم ہے کہ اسے یہ تک نہیں معلوم ہے کہ "اشھر حرم" سے کیا مراد ہے؟ وہ قرآن کی چھبیس آیات کو سپریم کورٹ میں چیلینج کرنے چلا ہے۔ اور *بار بار میڈیا میں اس کو ریپیٹ کر کے یہ ظاہر کر رہا ہےکہ* ختم اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠(البقرۃ ۷)
﴿اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پرپردہ پڑا ہواہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے(کنزالایمان)﴾
کے مصداق ابھی نا پید(ختم ) نہیں ہوۓ ہیں۔

سورہ توبہ کی آیت نمبر: 123 کو اس نے وائرل ویڈیو میں ذکر کیا ہے اور اسے اپنی پٹیشن میں داخل کیا ہے اس کے بارے میں آپ کو یہ بتایا جا چکا ہے کہ سورہ توبہ کی بیشتر آیات میں وہ کفار و مشرکین عرب مراد ہیں جنہوں نے معاہدہ امن کی نہ صرف یہ کہ خلاف ورزی کی بلکہ مسلمانوں پر انتہائی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بدر،احد اور خندق جیسی بھیانک جنگوں سے انہیں دو چار کردیا جن میں احد میں خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرکے دندان مبارک شہید کردیے بلکہ عمرو بن قمیہ نے ایک پتھر اس زور سے مارا کہ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے خود کی کڑیاں رخسار مبارک میں چبھ (دھنس) گئیں جس سے لبہاۓ مبارک اور رخ انور زخمی ہوگئے اور شدید جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ 108 مہاجرین و انصار صحابہ کو شہید کردیا ،اور اس پر بھی انہیں تسلی نہیں ہوئی تو باختلاف روایت دس ہزار یا چوبیس ہزار کی بھاری نفری لے کر تمام قبائل عرب کے ساتھ مدینہ پر حملہ کردیا جس کا دفاع صحابہ کرام نے خندق کھود کر کیا پھر جب معاہدہ حدیبیہ کی قرارداد پاس ہوئی تو اسے بھی اپنے توڑ ڈالا۔ سورہ توبہ کی آیات میں ایسے شریر کفار و مشرکین عرب کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ ہندوستان کے امن پسند شہریوں اور برادران وطن کے ساتھ۔
اس ضروری وضاحت کے بعد اب ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سورہ توبہ کی آیت :123 میں جو قریبی کفار سے اہل ایمان کو جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے کون سے کفار مراد ہیں؟ لیکن اس سے پہلے ہم اس کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن مقدس میں متعدد مقامات پر جو لفظ "کفر" یا اس کے مشتقات مثلا کافر،کفار،کافرین اور کافرون وغیرہ کا ذکر آیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ کیا لفظ کافر سب و شتم (گالی) ہے جیسا کہ وسیم رضوی جیسا ناخلف یہ سمجھ اور سمجھا رہا ہے، اس لئے ہم یہاں پر فرزندان اسلام اور برادران وطن پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کافر کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو برادران وطن کے آزار، تضحیک، تذلیل یا تکلیف کا باعث ہو بلکہ یہ لفظ مسلم کے مقابلے میں محض ایک اصطلاح ہے۔ اللہ تبارک و تعالی کی وحدانیت حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور دیگر انبیا و رسل کی نبوت و رسالت اور تمام شرائع دین کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنے اور ماننے والے کو مسلم کہتے ہیں اور جو اس کا منکر ہو، اسے نہ مانتا ہو اسے کافر کہتے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے: كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ(البقرہ ٢٨) تم کیسے اللہ کے منکر ہوسکتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے تواس نے تمہیں پیدا کیا (کنز الایمان) اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(النساء ١٣٦)
اور جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کو نہ مانے تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں جاپڑا۔ (کنزالایمان )
اور بولا جاتا ہے: کفر باللہ، أو بنعمۃ اللہ۔ اس نے اللہ کا یا اس کی نعمت کا انکار کیا (المعجم الوسیط ک ف ر ، صفحہ 956)
میں نے عربی،اردو، انگلش کی متعدد لغات میں دیکھا اور دکھوایا لیکن کسی بھی لغت میں لفظ کافر کا ایسا معنی تلاش بسیار کے بعد بھی نہیں ملا جس سے کسی بھی زاویے سے اس لفظ سے گالی، سب و شتم کا مفہوم متبادر ہو لھذا ہر کسی کو یہ غلط فہمی دور کرلینی چاہئے کہ لفظ کافر برادران وطن کیلئے گالی ہے، اس سے بھی آسان لفظوں میں آپ کو یہ بتا دوں کہ ایک ہے مسلم اور ایک ہے نان مسلم اور جو نان مسلم ہیں انہیں کو قرآن میں کافر یا کفار سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ سورہ توبہ کی اس آیت میں ہے۔
مسلم اور کافر کے معانی و مفاہیم کی وضاحت کے بعد سورہ توبہ کی اس آیت: (123) میں الاقرب فالاقرب کے فارمولے کے تحت اہل ایمان کو پہلے قریبی کفار سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو سب سے پہلے ان لوگوں تک اسلام کی تبلیغ و انذار کا حکم دیا گیا جو آپ کے بہت قریب تھے اور جن پر آپ کو کافی اعتماد تھا کیوں کہ جو بہت قریب ہوتا ہے وہ سب سے پہلے خیر و فلاح اور اصلاح حال کا مستحق ہوتا ہے
اب اس آیت میں قریبی کفار سے کون سے لوگ مراد ہیں؟ اس میں دو قول ہے:(1) مدینہ کے یہود مراد ہیں مثلا بنو قریظہ، بنونضیر،بنوقینقاع۔ (2) اہل روم، کیوں کہ یہ شام میں رہتے تھے اور شام عراق کے بہ نسبت مدینۃ المنورہ سے زیادہ قریب پڑتا تھا جیسا کہ تفسیر ابی سعود میں ہے:
قیل: ھم الیھود حوالی المدینۃ کبنی قریظۃ والنضیر و خیبر و قیل :الروم فانھم کانوا یسکنون الشام وھو قریب من المدینۃ بالنسبۃ الی العراق و غیرہ (تفسیر ابی سعود ج 4 ص 112)
لیکن قرین قیاس یہ ہے کہ اس سے بنو قریظہ، بنو نضیر، بنو قینقاع کے یہودی مراد ہیں جو مدینے میں آباد تھے اور معاشی اعتبار سے اتنے خوشحال تھے کہ مدینے اور دیگر شہروں کی تجارتی منڈیوں پر ان کا قبضہ تھا لیکن اسی کے ساتھ یہ ہر طرح کی اخلاقی بیماریوں میں بھی مبتلا تھے مثلا یہ سود کھاتے تھے، جھوٹ بولتے تھے، رات دن سازشیں رچا کرتے تھے، احکام الہی میں ذاتی فائدے کیلۓ تحریف (رد و بدل) سے بھی باز نہیں آتے تھے مسلمانوں سے بغض و حسد ان کی فطرت میں داخل تھا۔ عرب اوس و خزرج جو بعد میں انصار صحابہ سے مشہور ہوۓ یہودیوں سے ہمیشہ دبے رہتے تھے کیوں کہ معاشی بد حالی کی بنا پر یہ اکثر یہودیوں کے مقروض رہا کرتے تھے اور قرض کیلۓ یہ یہود مدینہ کے پاس اپنی عورتوں اور بچوں تک کو رہن رکھ دیتے تھے۔ یہود مدینہ کے تفوق اور بالادستی کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ اہل کتاب ہونے کے ساتھ زیرک و دانا اور اہل خرد بھی تھے۔
مکۃ المکرمہ میں صرف ایک قوم اہل اسلام کے سامنے تھی جو بت پرست، جاہل اور اجڈ تھی جب کہ مدینہ مختلف اقوام اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا مرکز تھا اس لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مدینہ منورہ ہجرت کرجانے کے بعد اپنی پیغمبرانہ بصیرت سے یہودِ مدینہ سے ایک معاہدہ کیا جو تاریخ و سیر کی کتابوں میں صحیفہ کے نام سے جانا جاتا ہے جس کی دفعات نہایت جامع اور امن و امان کیلۓ بہت ضروری تھیں جس کا مقصد یہ تھا کہ شہر کے داخلی امن و امان میں کوئی خلل نہ آنے پاۓ او باہر سے کوئی خطرہ درپیش اور نمودار ہو تو مدینے کے تمام قبائل مل کر اور متحد ہوکر اس کا مقابلہ کریں یہ معاہدہ مساوات پر مبنی تھا اور اس کی دفعات میں بلا تفریق اہل مدینہ کے تمام شہری اور مذہبی حقوق کی حفاظت کا نظم کیا گیا تھا لیکن یہود اپنی فطرت سے باز نہیں آۓ اور اسلام اور اہل اسلام کے خلاف درپردہ ریشہ دوانی شروع کردی مثلا اوس و خزرج (انصار صحابہ) میں تفرقہ ڈال کر خانہ جنگی کی وہ آگ دوبارہ بھڑکانے کی کوشش کی جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ہجرت سے پہلے دونوں گروہوں میں پشتوں سے بھڑک رہی تھی اور دونوں گروہوں کی ہلاکت اور تباہی کا باعث بنی ہوئی تھی اس آپسی خانہ جنگی کی وجہ سے ہجرت سے پہلے یہ یہودیوں کے دست نگر بن کر رہ گئے تھے معاہدے کے باوجود یہ شرک اور بت پرستی کو وحدانیت سے بہتر اور قابل ترجیح قرار دیتے تھے جب کہ یہ خود اہل کتاب تھے اور یہ خود کو اس کےلیے بھی آمادہ رکھتے تھے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائیں گے جیسا کہ آج وسیم رضوی کا حال ہے، درپردہ یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھی منصوبہ بندی کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو ہمیشہ یہودیوں سے جان کا خطرہ بنا رہتا تھاجس کی مثال یہ ہے کہ جب حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ تعالی عنہ کا وقت اخیر آیا تو انہوں نے یہ وصیت کردی کہ اگر میرا دم رات میں نکل جاۓ تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہ کرنا کہ مبادا وہ جنازے میں تشریف لائیں اور یہودی ان پر پر حملہ کردیں ۔
جیسا کہ "اسد الغابہ" میں ہے:
فقال :ادفنوني و ألحقوني بربي ،ولا تدعوا رسول اللّه صلّى اللَّه عليه وسلم فإني أخاف عليه اليهود أن يصاب في سبيل"
(أسد الغابة في معرفة الصحابة،ج:٣.ص:٨١)
اس سازش میں منافقین مدینہ بھی پیش پیش رہتے تھےجن کا سردار عبد اللہ بن ابی تھا۔ دیگر یہودی اس کے حلیف تھے۔ مشرکین مکہ بھی برابر انہیں اکسایا کرتے تھے کہ ہمارے صاحب (حضور علیہ الصلوۃ والسلام) کے ساتھ تم برابر لڑتے رہو ورنہ ہم تمہارے ساتھ یہ کریں گے وہ کریں گے۔کعب بن اشرف الگ سے درد سر بنا رہتا تھا۔ حاصل یہ ہے کہ یہود مدینہ اپنے معاہدے پر زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکے ایک مسلمان عورت بنو قینقاع کے محلے میں دودھ بیچنے گئی یہودیوں نے اس کے ساتھ اتنی شرارت کی کہ اسے بر سر بازار ننگا کردیا اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس پر بات کرنے کیلئے طلب کیا تو انہوں نے معاہدے کا کاغذ بھی واپس کردیا اور جنگ وجدال پر آمادہ ہوگئے۔ ان کی عیاری اور شرارت اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے درپردہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے قتل تک کا منصوبہ بنا لیا لیکن بر وقت وحی الہی سے ان کے جان لیوا منصوبے کا آپ کو علم ہوگیا ان اسباب، وجوہات اور حالات کے پیش نظر اس آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ پہلے ان قریبی کفار کی خبر لو پھر دور والوں کو دیکھنا۔ کیوں کہ نسبتا دور والوں سے قریب والے زیادہ خطرناک اور ڈینجرس ہوتے ہیں یہی اس آیت کا مطلب ہے کہ ایمان والے پہلے اپنے قریب رہنے والے یہودی بنونضیر، بنوقریظہ(یہود مدینہ) سے جنگ کریں۔ اس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان اپنے پڑوس ، محلہ ، گاؤں ، قصبے اور شہر کے رہنے والے غیر مسلم برادران وطن کے خلاف بلاوجہ بندوق، اور کلاشنکوف کے ساتھ صف آرا ہوجائیں اور چلتے پھرتے برادر وطن کو بلاوجہ گولیوں سے بھون دیں۔ جیسا کہ وسیم رضوی یہ بھرم پیدا کر رہا ہے اور برادران وطن میں اشتعال پیدا کرکے فریقین کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنا چاہتا ہے۔
اور سورہ توبہ آیۃ: (123) کی صوفیانہ تفسیر یہ ہے کہ اہل ایمان پہلے اپنے قریبی کافر یعنی نفسِ امارہ سے قتال اور جہاد کریں پھر خارجی اور دور والے کافروں کا خیال کریں کہ ان سے جہاد آسان ہے لیکن اپنے قریبی کافر یعنی نفس سرکش سے جہاد بڑا مشکل اور کٹھن کام ہے لھذا تم میں خوب سختی اور غلظت کی ضرورت ہے کہ کسی بھی وقت نفس تم میں نرمی نہ پاۓ کہ تم پر غالب آجاۓ۔ اسی لئےکہا گیا ہے کہ کفار سے جہاد "جہادِ اصغر"(چھوٹا جہاد) ہے اور نفس سے جہاد "جہادِ اکبر"(بڑا جہاد) ہے۔ جہاد اصغر کے لیے تیر و تلوار بازار سے خریدے جا سکتے ہیں مگر اپنے نفس سے لڑنے کے ہتھیار کوچہ و بازار میں نہیں بکتے ہیں اس کے لیے دل میں عشق نبی کی شمع جلانی پڑتی ہے اور نفس کشی اور انتہائی سخت مجاہدہ سے گزرنا پڑتا ہے جو بڑا مشکل کام ہے۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/883293022241217/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نسل نو کے اسلامی وجود پر بد ترین سوالیہ نشان؟

تحریر:- *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: *تحریک علمائے ہند*، جے پور

سن 2017 میں راجستھان میں بھاجپا حکومت تھی۔ اس وقت کی نصاب ساز کمیٹی نے راجستھان تعلیمی بورڈ کی 12ویں کلاس کی پولیٹیکل سائنس کتاب چھاپی، جس میں اسلام کو واضح طور پر دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے ایک سوال اور اس کے جواب میں اسلام کو دہشت گردی کی ایک شکل لکھا، پورا اقتباس دیکھیے:
सवाल:- इस्लामी आतंकवाद से आप क्या समझते है?
जवाब:- इस्लामी आतंकवाद इस्लाम का ही एक रूप है, जो विगत 20-30 वर्षों में अत्यधिक शक्तिशाली बन गया है। आतंकवादियों में किसी एक गुट विशेष के प्रति समर्पण का भाव नहीं होकर, एक समुदाय विशेष के प्रति समर्पण भाव होता है। समुदाय के प्रति प्रतिबद्धता इस्लामिक आतंकवाद की मुख्य प्रवृत्ति है। पंथ या अल्लाह के नाम पर आत्मबलिदान और असीमित बर्बरता, ब्लैकमेल, जबरन धन वसूली और निर्मम नृशंस हत्याएं करना ऐसे आतंकवाद की विशेषता बन गई है। जम्मू कश्मीर में आतंकवाद पूर्णतया धार्मिक व पृथकतावादी श्रेणी में आता है।

چوں کہ ریاستی تعلیمی بورڈ کے نصاب میں یہ اقتباس شامل تھا تو جو بورڈ کی تشریحات، یا دیگر تعلیمی زبانوں میں ترجمے، یا ترجمانیاں تھیں، ان میں بھی یہ اقتباس من و عن یا معمولی رد و بدل کے ساتھ موجود رہا اور اس طرح گویا یہ نہایت شدید متنازع عبارت نقل در نقل کے طور پر آگے سے آگے منتقل ہوتی رہی اور دن دہاڑے حکومتی سرمائے سے ریاستی پلیٹ فارم پر تعلیمی دنیا کے نئے ذہنوں میں زہر کی پرورش ہوتی رہی۔
بھاجپا دور حکومت میں ریاست کے وزیر تعلیم دیونانی بہت متعصب قسم کے انسان تھے، جن کے تعصب پر چوٹ کرتے ہوئے کانگریس کے وزیر تعلیم اور موجودہ کانگریس ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے وزیر تعلیم بنتے ہی پہلے پہل نصاب تعلیم کو دوبارہ سیکولر اور آر ایس ایس آئیڈیالوجی کی مداخلت سے پاک کرنے کا بیان دیا تھا لیکن یہ بیان محض ایک بیان رہا اور اسی طرح کی سیاسی بیان بازیوں کی گھماسان میں کتابیں چھپتی، پڑھائی جاتی اور عام ہوتی رہیں، جن پر آج تین سال کا عرصہ بیت گیا، تب کہیں صوبے کے غیرت مند مسلمانوں کی نظر درج بالا اقتباس پر پڑی اور اسی ہفتے سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاجوں کا ایک روایتی آوازہ بلند ہوا، جس کے انجام میں کافی ٹال مٹول کے بعد 17 مارچ کو جے پور کے لال کوٹھی تھانہ میں ایف آئی آر درج ہوئی۔
اس دوران خبر یہ ہے کہ نصاب ساز کمیٹی کے سرغنہ آں جہانی اور کچھ ذمہ دار ریٹائرڈ ہو چکے ہیں لیکن امید ہے، جو ملزم بھی بچے ہوں گے، اثبات جرم کے بعد انھیں سزا ملے گی۔
اس پورے پس وپیش میں سب سے زیادہ حیران کن سوال یہ ہے:
کیا ان تین سالوں کے دوران لاکھوں کی تعداد میں اسکولوں میں پڑھنے پڑھانے والے مسلم طلبہ اور مسلم اساتذہ کی اس زہریلے مواد پر نظر نہیں پڑی تھی؟
یا
یا انھوں نے ان دیکھی سے کام لیا،
یا پھر ماحول کے زیر اثر انھوں نے اپنی ذہنی پرداخت ہی ایسی بنا لی ہے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی غیرت شکن مواد کو ہضم کر سکتے ہیں؟
بہر صورت سوال تو بنتا ہے اور بہت بڑا بنتا ہے کیوں کہ اگر بنام مسلم ایسی نسل تیار ہونے لگی ہے تو اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنی نسل ضائع کر دی۔
سچ تو یہ ہے کہ سوال صرف ان نسلوں پر بھی نہیں، ان کے پیدا کرنے والوں پر بھی بنتا ہے اور ان کے ان سیاسی، مذہبی اور سماجی رکھوالوں پر بھی جن کے وجود پر یہ نسل نازاں رہتی ہے۔

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/882981928938993/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شادیوں میں غیر اخلاقی رسمیں اور ہماری ذمہ داریاں
از: محمد عارف رضا نعمانی مصباحی

اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ہر شخص اولاد کی خواہش رکھتا ہے ۔جب اولاد اس دنیا میں آتی ہے تو والدین طرح طرح کے خواب دیکھنے لگتے ہیں ۔ان کی تعلیم و تربیت کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔پھران کی اچھی سے اچھی تعلیم و تربیت کا انتظام کرتے ہیں۔جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے تو والدین جہاں ان کے لیے دیگر امور کے لیے فکر مند ہوتے ہیں وہیں ان کی شادی کی بھی فکر کرنے لگتے ہیں۔اچھا رشتہ تلاش کرکے بچے بچیوں کو نکاح کے مقدس رشتے سے جوڑ دیتے ہیں۔
جب شادی کی بات آتی ہے تو لوگ طرح طرح کے رسم و روا ج کو یاد کرنے لگتے ہیں چاہے وہ رسم غیر شرعی ہی کیوں نہ ہو۔میں یہاں خاص طور پر ایک رسم(بارات ) پر گفتگو کروں گا ۔جب دولہا نکاح کے لیے لڑکی کے گھر آتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے کچھ قریبی دوست اور عزیز رشتے دار بھی ہوتے ہیں ۔نوشہ کے ہمراہی کو باراتی کہتے ہیں ۔باراتیوں کی ضیافت لڑکی والے کرتے ہیں ۔کبھی تو وہ بخوشی ضیافت کرتے ہیں تو کبھی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے اور اس کا گھر بس جانے کی خاطر کرتے ہیں۔جب کہ شریعت میں ولیمہ لڑکے کے اوپر ہے ۔لڑکی والوں پر کچھ نہیں ہے۔یہ تو ان کی کشادہ ظرفی ہے کہ رشتے ناطے اور دوست احباب کی دعوت کرکےسب کو اپنی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں ۔حالاں کہ ان کے یہاں بیٹی کی رخصتی کا غم ہوتا ہے کہ وہ لاڈ پیار سے پال پوس کر،زیور تعلیم و ادب سے آراستہ کرکے لڑکے کے سپرد کر دیتے ہیں۔
ولیمہ لڑکے کے اوپر ہے ۔ جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ طیبہ میں انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات فرمائی اور بے سرو سامان مہاجرین کو انصار کا بھائی قرار دیا تو ان کو جہاں مال واسباب اور مکانات کی ضرورت تھی وہیں زندگی گزارنے اورافزائش ِ نسل کے لیے شادیوں کی بھی ضرورت تھی ۔تو مدینہ طیبہ میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا ،پھر سرکار دوعالم ﷺ کی بارگاہ میں تشریف لائے ،آپ پر پیلے پن (شاید ہلدی یا زعفرانی رنگ)کا اثر تھا تو سرکار نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو جواب دیا یارسول اللہ ﷺ میں نے سونے کے نواۃ (پانچ درہم کےبرابر )کے وزن (مہر)پر ایک خاتون سے نکاح کرلیاہے۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ‘‘بَارَک اللہُ لَکَ’’اللہ تمہیں برکت سےنوازےاورفرمایاولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
عن أنس بن مالک رضی اللّٰہُ تعالیٰ عنہ :ان النبی صلی اللّٰہُ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رأى على عبدِ الرَّحمنِ بنِ عوفٍ أثرَ صفرةٍ، فقالَ: ما هذا؟ أو مَه، فقالَ: يا رسولَ اللهِ، إنِّي تَزَوَّجْتُ امرأةً عَلى وَزنِ نَواةٍ من ذَهبٍ، فقالَ: بارَكَ اللّٰہُ لَكَ، أوْلِمْ وَلَو بشاةٍ.
(أخرجہ البخاری(٢٠٤٩)، ومسلم (١٤٢٧)، وأبو داود (٢١٠٩)، والترمذی (١٠٩٤)، والنسائی(٣٣٥١)، وابن ماجہ(١٩٠٧) واللفظ لہ، وأحمد (١٢٧٠٨)۔
اس حدیث پاک میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ولیمہ کرو اگر چہ ایک ہی بکری سے ہو ۔ کیوں کہ آپ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تھے اور مال و اسباب کی فراوانی نہیں تھی ،اس کا خیال کرتے ہوئے نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جتنی استطاعت ہو اتنا ہی ولیمہ کرو ۔کیوں کہ عرب میں بکریاں خوب ہوا کرتی تھیں اور ہر کسی کے پاس آسانی سے دستیاب ہوتی تھیں ،جب کہ اونٹ مہنگا تھا ، اس لیے فرمایاکہ ایک بکری ہی میسر ہو تو اسی سے ولیمہ کرو۔
اس حدیث پاک میں لڑکے کی طرف سے ولیمہ کرنے کا ثبوت ملتا ہےجیسا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ولیمہ کرو۔ایک بات یہ بھی پتا چلی کہ جب نکاح کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی جائے تو اس لفظ ‘‘بارَكَ اللّٰہُ لَكَ’’ سے پیش کی جائے کیوں نبی کریم ﷺنے اس لفظ کو اپنی زبانِ فیض ترجمان سےارشادفرمایا ۔
اب یہاں ایک خاص بات بارات کے حوالے سےیہ پیش کرنی ہے کہ جب نکاح کے لیے دن تاریخ طےکی جاتی ہے تو یہ بات بھی کر لی جاتی ہے کہ آپ کتنی تعداد میں آئیں گےتاکہ ہم آپ کی اچھی طرح خاطر تواضع کر سکیں ۔جب آپ کہیں مہمان بن کر جاتے ہیں تو میزبان آنے والوں کی تعدادبھی پوچھ لیتا ہے تاکہ وقت پرپریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ،ایک دو افراد کم بیش ہوجاتے ہیں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اسی لیے دولہے کے ساتھ آنے والوں کی بھی تعداد پوچھ لی جاتی ہے تاکہ عین وقت پرکسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
ایسے حالات میں تو ہونا یہ چاہیے کہ لڑکی والے سے ہی پوچھا جائے کہ کتنے لوگ ہم لے کر آئیں ؟اور لڑکی والوں کی رضا مندی سے لوگ آئیں تاکہ دونوں لوگ خیر سے نپٹ جائیں کسی کو کوئی پریشانی بھی نہ ہواور نکاح کے ذریعے مبارک رشتہ جڑ جائے۔اب جو غور کرنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر جب باراتیوں کے انتظام کی بات چل رہی ہو تولڑکے والوں کا یہ مطالبہ کہ ہم پانچ سو،چار سو یا تین سو باراتی لائیں گے ۔اگر غیر مسلم سے روابط ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ اس میں
آدھے ہندو باراتی بھی ہوں گے مثلاً ایک سو،دوسو۔ ان کا بھی الگ سے انتظام کرنا پڑے گا ۔ہمارے تعلقات ہندو وں سے بھی ہیں ۔ ہم ان کو نہیں چھوڑ سکتے ۔لہٰذا آپ ان کا بھی انتظام کیجیے گا ۔اور یہ سارا بوجھ لڑکی والے پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ شرعاًکہاں تک درست ہے؟شریعت اس کی کہاں تک اجازت دیتی ہے ؟ یعنی شریعت اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتی،کہ یہ بلاوجہ کسی پر بوجھ ڈالناہوا۔جوعقلاًاورشرعاً کسی طرح درست نہیں۔
میں کہتا ہوں کہ آپ کے لوگوں سے تعلقات ہیں ،آپ کے ملاقاتی غیر مسلم ہیں تو ان کو اپنے گھر بلا کر خوب کھلائیے ، خوب ان کی دعوتیں کیجیے۔ طرح طرح کے پکوان کھلائیے ۔لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنے تعلقات کا سارا بوجھ لڑکی والوں پر ڈال دیا جائے۔ اس غیر اسلامی اور غیر اخلاقی کام میں بےشمار لوگ ملوث ہیں ان کو اپنی روش بدلنی اوراپنی اصلاح کرلینی چاہیے ۔
بنارس کا ایک واقعہ ہےتقریباً ڈیڑھ سو باراتیوں کی بات طے پائی اور بارات رات میں آنے والی تھی ،جب آئی تو باراتی دو گنا یعنی تین سو آگئے ،اب جو رات میں فوری طور پر انتظامات کرنے میں پریشانی ہوئی وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔اس کا احساس اسی کو ہوگا جس پر یہ مصیبت آئی ہو ۔لڑکی والے اپنی عزت اور بیٹی کی خاطر سب جھیل جاتے ہیں ۔اس لیے لوگوں کو ایسا کرنے سے سخت پرہیز کرنا چاہیے ۔ایسا کرنا دھوکا اور ایک مسلمان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانا ہے ۔اس سے باز آنا ضرورچاہیے۔
ایسا ہی ایک واقعہ جھارکھنڈ دیوگھر کے اسہنا گاوں کا ہے ۔سردیوں کی رات تھی ۔دیہات کا جنگلی علاقہ تھااوپر سے رات کی شادی ۔یہاں بھی ایسا ہی ہوا کہ تقریباًآٹھ سو باراتی لے آئے ۔گاوں کی شادی تھی تو بارات میں پورا گاوں ہی امنڈ پڑا تھا ۔رات ۱۰ بجے نکاح ہونا تھا جو ۲ بجے رات کو ہوا ۔کیوں کہ فوری طور پر انتظامات کرنا وہ بھی دیہات کے علاقے میں ۔نہ جانے کیسے کیا ہوگا؟ ۔ایسے ایسے واقعات بہت پیش آتے ہیں ۔لڑکے والوں کو کم از کم یہ تو سوچنا چاہیے کہ ان کے پاس بھی بیٹیاں ہیں یا ان کےقریبی رشتے میں تو ضرور ہوں گی ۔کل ان کے ساتھ ایسا ہوتو کیسا لگے گا ؟
اسی ضمن میں ایک واقعہ اور پیش ہے ۔ایک زمین دار صاحب کی بیٹی کی شادی تھی ،یہاں معاملہ الٹا تھا ۔دو سوباراتیوں کا مطالبہ تھا ۔تو لڑکے والوں نے کہا کہ ٹھیک ہم اس سے زیادہ ہی لائیں گے۔پھر کہتے ہیں کہ میں فلاں فلاں مدرسے کے بچوں کو بارات میں لے آؤں گا تو لڑکی والے کہتے ہیں کہ ان کو نہیں بلکہ رشتے داروں کو لے آئیں تو ان کو پتے کا جواب ملا ۔کہتے ہیں کہ یہ سب بھی ہمارے دینی رشتے دار ہیں ۔بالآخر ۸۰ ،۸۵ لوگ بارات میں پہنچے اور کل ۸ لوگ کھانا کھا پائے ،بقیہ لوگ ناشتہ کرکے واپس آگئے کیوں کہ کھانا گھٹ گیا تھا ۔اسی کو کہتے ہیں جیسی نیت ویسی برکت۔کیوں کہ ان کو دینی مدارس کے طلبہ بارات میں پسند نہیں آئے ، ان کو ہائی فائی انگریز نما لباس پہنے ہوئے لوگ بارات میں چاہئیں ،تاکہ چاروں طرف خوب ان کی سخاوت کے قصیدے پڑھے جائیں۔ ان کی خاطر تواضع کی تعریف کے پل باندھے جائیں ۔ اس لیے ہمیں شادی بیاہ میں خصوصاًاور عام زندگیوں میں عموماً اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے ۔درمیانی راہ اختیار کرنے میں ہی دونوں جہان کی بھلائی ہے۔
بعض ایسی گھٹیا حرکت پر اُتر آتے ہیں کہ باراتیوں کے کھانے میں طرح طرح کے پکوان کی فرمائش کرتے ہیں ۔یہ فرائی ،وہ فرائی،یہ ٹھنڈا ،یہ میٹھا ،اور اس طرح کا بہترین چاول ہونا چاہیے ۔یہ نہایت درجے کی گری ہوئی حرکت ہے ۔مہمان کو میزبان پر اپنی پسند کا بوجھ ڈالناہرگز جائز نہیں،بلکہ جو ملے کھا لینا چاہیے۔غیر ت مند اور نبی آخر الزماں ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے سے اس کی توقع نہیں کی جاتی ۔کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی کھانے کو عیب نہیں لگایا ۔اگر خواہش ہوتی تو کھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے ۔حدیث پاک ملاحظہ ہو:
عن أبي هريرةرضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: ما عابَ النبيُّ ﷺ طَعامًا قَطُّ، إنِ اشْتَھاهُ أكَلَهُ وإلّا تَرَكَهُ.(صحیح البخاری،حدیث نمبر٣٥٦٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی، فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کھانے کو کبھی بھی عیب نہیں لگایا، اگر خواہش ہوتی (یعنی اچھا لگتا )تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے ۔
نبی کریم ﷺ نے اس حدیث پاک سے ہمیں بہت بڑا درس دیا ہے ۔اگر اس پر عمل کر لیں تو گھریلو جھگڑوں کا خاتمہ ہی ہو جائےکیوں کہ زیادہ تر میاں بیوی میں ناراضگی نمک کم ہونے ، دال ،سالن پتلا ہونے سے ہی ہوتی ہے ، ہمیں ایسے حالات میں اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے اور سرکار دوعالم ﷺ کی اس حدیث پاک کو یاد رکھنا چاہیے ۔اس سے آپ کے گھر میں خوشیاں آئیں گی۔
یہاں گفتگو چل رہی تھی شادیوں میں کھانے اور باراتیوں کے لیے فرمائش کرنے کی ۔ تو سن لیجیےہمیں فرمائش کرنے سے بالکل بچناچاہیے ۔میزبان کی طرف سے جو بھی آئےخوشی خوشی تناول کرلے ۔اگر کسی نے فرمائش کی اور میزبان نہ پوری کر سکا یا اس معیار کا انتظام نہ کرسکا تو اس کی دل شکنی ہوگی ، اس کا دل دکھے گا ۔ اسلام میں
کسی کا دل دکھانابہت بڑا گناہ ہے۔
شادیوں کے کھانے میں ایک بات یہ بھی پیش آتی ہے کہ لڑکی والےباراتیوں کاتواچھا سے اچھا انتظام کرتے ہیں چاہےفرمائش ہو یا نہ ہو ۔اور رشتے داروں،گھراتیوں اور محلے کے ان لوگوں کو(جو شادی کے دو دن پہلے سے دو دن بعد تک کام کرتے ہیں اور شادی کے سارے انتظامات سنبھالتے ہیں) تو ان کووہی عام کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم باراتیوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ،یقیناً وہ اہمیت کے حق دار ہیں کیوں کہ وہ مہمان ہیں ۔لیکن آپ عام لوگوں کو بھی وہی کھلائیں جو باراتیوں کو کھلاتے ہیں ۔سب کو اچھا اور ایک جیسا کھلائیں۔باراتیوں کا الگ سے انتظام کرنے میں دوسروں سےکہیں نہ کہیں امتیازانہ سلوک ضروربرتا جاتا ہے جواچھانہیں۔یوں ہی ولیمے میں امرا کو تو بلایا جاتا ہےلیکن فقرا کو چھوڑ دیا جاتا ہےجو ایک مذموم عمل ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے:
عن أبي هريرةرضی اللہ تعالیٰ عنہ قال:قال رسول اللہ ﷺ‘‘ شَرُّ الطَّعامِ طَعامُ الوَلِيمَةِ، يُدْعى لَها الأغْنِياءُ ويُتْرَكُ الفُقَراءُ، ومَن تَرَكَ الدَّعْوَةَ فقَدْ عَصى اللَّهَ ورَسوله ﷺ‘‘۔(صحیح البخاری،حدیث نمبر:٥١٧٧)، وصحیح مسلم (حدیث نمبر :١٤٣٢)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ ‘‘سب سے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں مال داروں کو بلایا جائے اور فقیروں کو چھوڑ دیا جائے ۔اور جو دعوت کو ترک کرے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی ۔(نافرمانی اس لیے ہوئی کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہے کہ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کی جائے۔یہاں اس پر عمل نہیں ہوا۔)
شادیوں میں دعوت کی بابت ایک بات یہ بھی عرض کرنی ہے کہ دعوت دینے میں ہمیں پاس پڑوس کے غریب لوگوں کا بھی ضرور خیال رکھنا چاہیے ۔کیوں کہ محلے میں بہت سارے گھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے یہاں کئی کئی ہفتوں بعد گوشت بنتا ہے ۔تو چند بوٹیاں مل پاتی ہیں ۔اس لیے ایسے لوگوں کاضرور خیال کرنا چاہیے ۔کیوں کہ ان کو کھلانے کے بعد جو خوشیاں انھیں حاصل ہوتی ہیں وہ ہماری زندگی بھر کی خوشیوں کی ضامن ہوتی ہے۔ان کی دعائیں جلدی قبول ہوتی ہیں۔ان کو کھلانے کا ثواب بھی زیادہ ہے۔
مذکورہ حدیث پاک سے ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ وہ کھانا برا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔اس میں یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی دعوت دے تو اس کو قبول کیا جائے کیوں کہ دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کا حق ہے ۔ہاں اگر کسی وجہ سے وہ نہیں آسکتا ہے تو پہلے ہی معذرت کر لے۔دعوت کا انکار نہ کرے ۔اسے ٹھکرائے نہیں۔کیوں کہ دعوت کا انکار کرنا یا قبول نہ کرنا اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا سبب ہے۔اس لیے ہمیں اس حدیث پاک کو یاد رکھنا چاہیے اور اس پر عمل کرنا اور اسےدوسروں تک پہنچانا بھی چاہیے ۔کیوں کہ بہت سے لوگ اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کی بنا پر غلطی کر جاتے ہیں۔اللہ عزوجل ہمیں عملِ خیر کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم

محمد عارف رضا نعمانی مصباحی
ایڈیٹر :پیام برکات،علی گڑھ
رابطہ نمبر : 7860561136

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/883285065575346/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*آیاتِ جہاد*

(معنی و مفہوم، شانِ نزول، پس منظر)

*قسطِ پنجم*

بقلم: بدر الدجیٰ الرضوی المصباحی

(4) اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِیۡھِمۡ نَارًا ؕ کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُھُمۡ بَدَّلۡنٰھُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَھَا لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا. [ النساء، آیت:56]
جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے ، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انھیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں ، بےشک اللہ غالب حکمت والا ہے.( کنز الایمان)
سورہ نسا کی یہ آیت مبارکہ آیاتِ وعید میں سے ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے منکرینِ آیاتِ الہی پر وعید قائم کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم انھیں جہنم میں داخل کریں گے۔
‌‌ اس کی تشریح سے پہلے ہم آپ کو یہ بتا دیں کہ اس کا تعلق ماقبل کی آیات سے ہے لھذا ہم ماقبل کی آیات پر ایک سرسری نظر ڈال لیتے ہیں۔
اس سے پہلے آیت نمبر : 51 ہے ، جس کا شانِ نزول یہ بتایا گیا ہے کہ ستر افراد پر مشتمل یہودیوں کا ایک وفد قریشِ مکہ سے ملاقات کے لیے مدینہ سے مکہ پہنچا جس کی قیادت حی بن اخطب اور کعب بن اشرف جیسے سرکردہ علمائے یہود کررہے تھے اس وفد کا مقصد حضورﷺ کے خلاف جنگ میں قریش مکہ کو اپنا حلیف بنانا اور اس معاہدے کو پامال کرنا تھا جو حضور ﷺ اور یہود کے مابین طے پایا تھا جس پر ہم نے اپنی چوتھی قسط میں روشنی ڈالی ہے، جب ان کے مابین بات چیت شروع ہوئی تو قریش مکہ نے ان سے کہا کہ تم اہل‌ِ کتاب ہو اور ہمارے لحاظ سے محمد (ﷺ) کے زیادہ قریب ہو لھذا ہم تمھاری باتوں پر بآسانی بھروسہ نہیں کرسکتے تاہم اگر تم ہمارے معبودوں کو سجدہ کرکے ہمیں اطمینان دلادو تو ہم تم پر اعتماد کرسکتے ہیں اور محمد ( ﷺ ) کے خلاف جنگ میں تمھیں اپنا حلیف بنا سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مقصد برآری کے لیے یہود بتوں کے آگے سر بجود ہوگئے، عیاری و مکاری ان کی سرشت میں داخل تھی؛ اس لیے انھیں ابلیس کی اطاعت کرنے میں دیر نھیں لگی، پھر ابو سفیان جو اس وقت اسلام نھیں لائے تھے؛ ان سے مخاطب ہوئے اور کعب بن اشرف سے سوال کیا کہ تم تو اہل کتاب اور صاحبِ علم ہو اور ہم تمھارے مقابلے میں گنوار ہیں تم بتاؤ کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں یا محمد (ﷺ) اور ان کے اصحاب؟ کعب بن اشرف نے کہا: محمد(ﷺ) تمھیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ ابو سفیان نے کہا کہ: وہ ہمیں صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیتے ہیں اور سیکڑوں خداؤں کی عبادت سے منع کرتے ہیں کعب بن اشرف نے ابو سفیان سے پوچھا کہ : تھمارا دین کیا ہے ؟ جس کے جواب میں ابو سفیان نے اپنے دین اور معمولات بتاے۔
کعب بن اشرف نے برجستہ کہا : "انتم اھدیٰ سبیلا" [ تفسیر ابی سعود، ج: 2، ص:189] تم ہی سیدھی راہ پر ہو
‌ آیت نمبر: 52، 53 میں اللہ تعالیٰ نے اس فعل پر یہودیوں کی توبیخ کی ہے اور فرمایا ہے کہ: اگر زمین پر ان کو اقتدار اور فرماں روائی حاصل ہوجائے اور یہ زمین کے سیاہ و سفید کے مالک بن جائیں؛ تو دیگر لوگوں کو یہ بے دخل کردیں اور انھیں رہائش اور سکونت کے لیے ایک تل کے برابر بھی جگہ نہ دیں ،آج فلسطینیوں کے ساتھ یہودی جو ظالمانہ سلوک کررہے ہیں وہ دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔
آیت نمبر: 54، میں یہودیوں کی گندی جبلت اور سرشت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ ان لوگوں پر حسد کرتے ہیں ؛ جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی بارش کی ہے، بالخصوص یہ حضور ﷺ اور دیگر اہل ایمان سے کڑھتے ہیں اور ان سے قلبی رنجش اور عداوت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جو نبوت و نصرت، غلبہ اور عزت عطا فرمائی ہے اس سے یہ جلتے ہیں۔
پھر آیت نمبر : 55 میں فرمایا گیا کہ : پھر یہود میں سے کچھ لوگوں نے ایمان و اسلام کی طرف پیش قدمی کی اور عقیدۂ توحید اور حضور ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لے آئے مثلا: حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ والے رضی اللہ تعالی عنہم اور کچھ لوگوں نے منہ پھیر لیا مثلا: کعب بن اشرف اور حی بن اخطب وغیرھما خذلھم اللہ۔
اب اس کے بعد ہم سورۂ نسا کی آیت: 56 کی طرف آتے ہیں جس پر وسیم رِ ضوی نے اعتراض کیا ہے اور اسے اپنی پیٹیشن میں داخل کیا ہے اور وائرل ویڈیو میں اس نے اس کا ترجمہ پیش کیا ہے۔
آیت مبارکہ: "ان الذین کفروا بآیاتنا" میں دو احتمال ہیں:
(1) اس سے عہد رسالت کے کفار مراد ہیں مثلاً : یہود و نصارٰی اور دیگر کفار و مشرکینِ عرب
(2) اولین و آخرین کفار مراد ہیں مثلاً: ماقبلِ عہدِ رسالت، عہد رسالت، ما بعد عہدِ رسالت
پہلی تقدیر پر آیات سے آیاتِ قرآن، حضور ﷺ کے جملہ معجزات، آپ سے صادر تمام ارشادات، احکام و قوانین مراد ہیں اور دوسری صورت میں آیات سے چار مشہور آسمانی کتابیں مثلا: توریت ، انجیل، زبور ، قرآن اور ایک سو کی تعداد میں غیر مشہور صحیفے مراد ہیں حضرت آدم علیہ السلام پر دس، حضرت شیث علیہ السلام پر
پچاس حضرت ادریس علیہ السلام پر تیس حضرت ابراہیم علیہ السلام پر دس جیسا کہ مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"الکتب المنزلۃ مأۃ و اربع کتب، منھا: عشر صحائف نزلت علی آدم و خمسون علی شیث و ثلاثون علی ادریس و عشرۃ علی ابراھیم و الاربعۃ السابقۃ و افضلھا القرآن۔ [ مرقاۃ المفاتیح، ج: 1، ص: 117]
اور وہ تمام معجزات شواہد و احکام مراد ہیں جو گزشتہ تمام انبیا و رسل کو عطا کیے گئے ہیں جیسا کہ تفسیر ابی سعود میں اس آیت کے تحت ہے :
"ان ارید بھم الذین کفروا برسول اللہ ﷺ فالمراد بالآیات إما القرآن أو ما يهم كله و بعضه أو ما يعم سائر معجزاته أيضا الخ" [تفسیر ابی سعود ج: 2،ص: 191]
اس تو ضیح و تشریح کے بعد اب ہم آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیتِ مبارکہ میں تمام منکرینِ آیات کی زجرو تو بیخ کی ہے اور ان پر وعید کی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ: جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے ، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں ، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے.( کنز الایمان)
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جلی ہوئی کھال نئی کھال سے بدل دی جاۓ گی جو شکل و صورت میں پہلی کھال سے الگ ہوگى، لیکن ازروئے مادہ کے وہ وہی کھال ہوگی یعنی صرف وصف میں تبدیلی ہوگی مادہ وہی رہے گا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
"یبدلون جلودا بیضاء کامثال القراطیس۔" (تفسیر ابی سعود ایضا)
ان کی سیاہ کھال کاغذ کے مانند سفید کھال سے بدل دی جاۓ گی یا پھر گوشت سے ہی نئی کھال نکل آۓ گی جیسا کہ دنیا میں جب جلد جل جاتی ہے تو علاج و معالجہ کے بعد کچھ ہی دنوں میں نئی جلد نکل آتی ہے ،کھال میں تبدیلی کا عمل اس لیے ہوگا تاکہ قوت احساس ان کے اندر ختم نہ ہونے پاے اس لیے کہ تعذیب و تنعیم بغیر احساس کے بے معنی ہیں ،اس طرح وہ مسلسل آیات الہی کے انکار کا مزہ چکھتے رہیں گے ۔العیاذ باللہ۔
اس آیت میں رب ذوالجلال نے جو وعید قائم کی ہے وہ فطرت کے تقاضے کے عین مطابق ہے ظاہر ہے جو آیات الہی کا منکر ہو، اس کے وضع کردہ قوانین کے خلاف علم بغاوت بلند کرے، اس کی بتائی ہوئی روش پر نہ چلے اس کے بھیجے ہوۓ نبیوں اور رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف سازش کرے ان کے قتل کے منصوبے بناۓ اللہ کی عبادت کے بجاۓ اپنے ہاتھوں کے تراشیدہ بتوں کی پرستش کرے ،وہ بت جو پرستش کرنے کی صورت میں اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں دے سکتے اور پرستش نہ کرنے کی صورت میں انہیں کوئی ضرر بھی نہیں پہونچا سکتے حتی کہ وہ خود اپنی بھی حفاظت نہیں کر سکتے اللہ فرماتا ہے: "مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ "(الحج/١٢)
ایسے منکرین کو اللہ تو سزا دے گا ہی اور یہ دنیاوی حکومتوں کا بھی نظام ہے مثلا ہمارے ہی ملک میں آپ دیکھ لیں جزا اور سزا کا عمل جاری ہے جو بھی ملکی قوانین کا احترام نہیں کرتا ہے اسے سزا کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور جیسا جرم ہوتا ہے اسی کے اعتبار سے ملک کی آئینی دفعات میں اس کی سزا کا التزام بھی کیا گیا ہے ،اگر کوئی ملک کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا ہے اور غداری کا مرتکب ہوتا ہے تو ہمارے آئین میں اس کیلۓ عمر قید یا پھانسی کی سزا کا التزام کیا گیا ہے جیسا جرم ویسی سزا ۔کماتدین تدان۔
اور ایسا نہیں ہے کہ قرآن میں صرف کفار و مشرکین کے لیے ہی وعید کی گئی ہے، بلکہ عصاۃ(گنہ گار) مومنین کیلۓ بھی قرآن میں وعیدات آئی ہیں وسیم رضوی کو یہ آیات تو قرآن میں نظر آگئیں لیکن ان آیات پر اس کی نظر نہیں پڑی جن میں بے نمازی مسلمانوں کے دردناک عذاب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی سخت زجر و توبیخ کی گئی ہے مثلا یہ آیت مبارکہ:
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴)الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) الخ (الماعون ٤،٥)
تو ان نمازیوں کے لئے خرابی ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں ۔(کنز الایمان)
(ویل جہنم کی اس وادی کا نام ہے جس کی سختی سے جہنم بھی پناہ مانگتا ہے)
اسی طرح قرآن پاک کی یہ آیت:فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ الخ (مریم ٥٩)
تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غی سے جاملیں گے (کنزالایمان)
(غی جہنم کی ایک گرم نہر یا جہنم کی ایک وادی ہے)
اسی طرح قرآن پاک کی یہ آیت جس میں مانعین زکوۃ کیلئے نہایت سخت وعید آئی ہے:
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ الخ (التوبہ ٣٤،٣٥) اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کررکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سناؤ ۔جس دن وہ مال جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا (اور کہا جائے گا) یہ وہ مال ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کر رکھا تھا تو اپنے جمع کرنے کا مزہ
چکھو۔
اس طرح کی بہت سی آیات ہیں ہم نے یہاں بطور نمونہ صرف تین آیات کو ذکر کیا ہے۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ قرآن میں مومنین اور کفار دونوں کیلۓ وعیدات آئی ہیں لھذا اسلام دشمن عناصر کو ان آیات پر بھی نظر رکھنی چاہیے جن میں مومنین کیلۓ بھی وعیدات کا ذکر ہے۔ قرآن مقدس میں جیسا جرم ویسی سزا کا فارمولہ پیش کیا گیا ہے۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔

_________________

نوٹ :
ہم یہ مضمون ان آیات پر لکھ رہے ہیں جن پر اسلام دشمن عناصر کو اعتراض ہے جیسا کہ ظاہر ہے اسی لئے ہم نے اس کا نام "معترضہ آیات جہاد" رکھا ہے اس پر ہمارے کچھ احباب کو اعتراض ہے جن کی تعداد نہ کے برابر ہے پھر بھی ہم اس پر آپ کی راۓ چاہتے ہیں اس سےبہتر اگر کوئی تعبیر ہو جو مکتوب کی طرف مشعر ہو تو بتائیں کیوں کہ عنوان ما یعرف بہ الکتاب کا نام ہے تو ہم اسے قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے

نوٹ:
ان مضامین کی کمپوزنگ، نظر ثانی اور حوالہ جات کی عبارات کو ماخذ سے ملانے میں اور آپ تک پہونچانے میں ہمارے درج ذیل باصلاحیت فارغین تلامذہ ہماری بھر پور اعانت کر رہے ہیں اور ہمارے دست و بازو بنے ہوے ہیں۔ صمیم قلب سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کےلیے خدمت دین کی راہ کشادہ فرمادے، آپ بھی ان کے حق میں دعائے خیر فرمائیں۔
(1) مفتی اشرف نہال مصباحی خیرآباد
(2) مفتی ذیشان ضیا مصباحی خیرآباد
(3) مولانا مصطفی رضا ایس کے نگر۔درجہ فضیلت مدرسہ عربیہ اشرفیہ ضیاءالعلوم خیرآباد

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/884901902080329/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا انس بن مالک کہتے ہیں ، رحمت عالم ﷺ نے ہم سے فرمایا:

کیا تمھیں بتاؤں کہ تمھاری کون سی عورتیں جنتی ہیں ؟

ہم نے عرض کی: حضور کیوں نہیں ، ضرور ارشاد فرمائیں !

فرمایا: ( وہ عورت جو شوہر سے ) محبت کرنے والی ہو ، کثیر اولاد والی ہو ، جب اُسے غصہ آئے ، یا اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے ، یا اس کا خاوند اس سے ناراض ہوجائے تو کہے:

" میرا ہاتھ ، آپ کے ہاتھ میں ہے ؛ میں نے اس وقت تک نہیں سونا ، جب تک آپ راضی نہیں ہوجاتے ۔ "

( انظر: الترغیب والترھیب من الحدیث الشریف ، کتاب النکاح ، باب ترغیب الزوج فی الوفاء ، ص 358 ، ر 2902 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ، س 2014 ء )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3116714288608739&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM