🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام الائمہ سراج الامۃ کاشف الغمہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ

کے حوالےسے تقریباً 60 آن‌لائن کتب
مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ

https://www.ataunnabi.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85&m=1

آپ تابعی بزرگ – مجتہد - محدث
اور عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت

فقہ حنفی کے بانی – اور کـروڑوں
حنفیوں کے امام ہیں!! سـبحان اللہ
فہرستِ کتب 📚 مع لِنکس ↶
شان و عظمت | سیرت و سوانح
حضرت نعمان بن ثابت المعروف:
امام‌اعظم ابو‌حنیفہ رضی‌اللہ‌عنہ
Qist ❶ Book ⁰¹To³⁰
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10404
Qist ❷ Book ³¹To⁵⁰
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10405

مسند امام اعـظم 📚¹⁵
امام اعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10274

فقہ اکبر 📚¹² فقه الاکبر
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10213

کتاب الآثار 📚⁶ کتاب الاٰثار
حضرت امام‌اعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10225
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💫 مطلب کی آواز

آج ایک بھائی پوچھ رہے تھے کہ:

" بریلی فوبیا " میں مبتلا جناب ناصر رام پوری اور ان کےاحبابِ ذی وقار نے پاکستان میں شروع مسئلہ ختم نبوت پر کوئی پوسٹ نہیں کی اور نہ ہی دھرنے والوں کی حمایت میں کچھ لکھا ہے ، جب کہ تمام ممالک کے اہل سنت وجماعت اس عظیم الشان دھرنے کی بھرپور تائید کررہے ہیں -

میں نے ان سے عرض کی:

ایک لُہار سارادن لوہاکُوٹتا تھا ، اُس کا کتا آرام سے پاس سویا رہتا ؛ جیسے ہی وہ ہتھوڑا رکھ کرکھانا کھانے بیٹھتا تو کتا جاگ اٹھتا -
لوہارنے ایک دن اُس سے کہا:
ڈھیٹ کہیں کے ، ہتھوڑے کی ٹَھک ٹَھک تو تجھے بیدار نہیں کرتی ، مگر لقمے کی پچ پچ سے فوراً تیری آنکھ کھل جاتی ہے —

اُس نےکہا: عالی جناب !
" اپنے مطلب کی آواز ہرکوئی سن لیتاہے "

پاکستان میں ایک فرد (مولانا منشا تابش قصوری صاحب) کا مسئلہ بنا تو ان لوگوں نے اُس کو اِتنا اچھالا ، اِتنا اچھالا جیسےجماعتِ اہل سنت کا واحد اور ناقابلِ حل یہی مسئلہ ہو ؛ لیکن افسوس کہ پاکستان میں ختم نبوت کے دفاع کے لیے اٹھنے والی لاکھوں لاکھ شیوخ وعلما ، اور سنی بریلوی عوام کی آوازیں ہنوز اِن کی سماعت تک نہیں پہنچ سکیں!!
جو لوگ فتنہ انگیز دھیمی سی آواز پر ایسے بیدارہوجاتے ہیں جیسے کبھی سوئے ہی نہیں تھے ، اُن کے گوش مسلسل پندرہ دنوں کے فلک شگاف نعروں:
" لبیک یارسول اللہ ، تاجدار ختم نبوت زندہ باد "
سے بہرے کیوں ہیں -
محض اس لیے کہ یہ ان کے مطلب کی آواز نہیں ؟؟
اس آواز میں سنیوں بریلویوں کا عشق رسول میں ڈوبا ہوا اتفاق ہے ، جب کہ یہ لوگ توافتراق کے خواہاں ہیں —

لقمان شاہد

2/3/1439
21/11/2017

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2960941530851821&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیٹی کی رضا🥀

ام المومنین صدیقہ بنتِ صدیق اکبر سیدہ عائشہ پاک فرماتی ہیں:

ایک نوجوان لڑکی رسالت مآب ﷺ کے پاس حاضر ہوکر عرض کرنے لگی:

اے اللہ کے رسول! میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے ، وہ میری وجہ سے اُس پست کو بلند کرنا چاہتاہے ۔

رحمتِ عالم ﷺ نے اُس لڑکی کو اختیار دے دیا ( کہ چاہے تو نکاح قائم رکھو اور چاہے تو اس سے علاحدگی اختیار کرلو ، تمھارے اوپر کوئی جبر نہیں ) ۔

اُس نے ( رحیم‌ و کریم آقا ﷺ کا فطرت کے عین مطابق حکم سن کر ) عرض کی:

حضور! جو فیصلہ میرے والد گرامی نے کر دیا ہے میں اسے ہی برقرار رکھتی ہوں ۔
میں نےآپ سے یہ بات اس لیے پوچھی تا کہ عورتوں کو پتا چل جائے کہ:

ان لیس للآباء من الامر شئ ۔
نکاح کے معاملے میں والدین کو کوئی حق نہیں ( کہ بیٹیوں پر زبردستی کریں ) ۔

( مسند احمد بن حنبل ، مسند عائشہ رضی اللہ عنھا ، ر25557 ، قال المحقق: صحیح )

🌸 اگرچہ شریعت میں نکاح کے معاملے میں بیٹیوں پر کوئی جبر نہیں ، لیکن اس کے باوجود جو بیٹیاں والدین کی رضا کو ترجیح دیتی ہیں وہ بڑی سعادت مند ہیں ۔

🌺 والدین کو چاہیے کہ نکاح کے معاملے میں اپنی مرضی ٹھونسنے کے بجائے ، پیار محبت اور باہمی رضا مندی سے بیٹیوں کو اپنے گھر بھیجیں ، تاکہ ان کی زندگی سکون و اطمینان سے گزرے اور عمر بھر دلی دعائیں دیتی رہیں ۔

🌸 بے شک آپ نے بیٹی کو پالا پوسا ہوتا ہے اور اِس احسان کا بدلہ وہ زندگی بھر نہیں چکا سکتی ۔۔۔۔۔۔۔
آپ اس کے مستقبل کے لیے بھی بہتر ہی سوچتے ہیں ، جس کا وہ کبھی انکار نہیں کرسکتی ؛ لیکن تھوڑا سا اس پر غور کرلیا کریں کہ:
جس گھر کی طرف اسے ہمیشہ کے لیے روانہ کر رہے ہیں ، وہاں جانے پہ وہ کتنی رضا مند ہے ۔
اُس گھر میں اس نے رہنا ہے ، آپ نے نہیں ؛ اس گھر کا برا بھلا اس کے ساتھ پیش آنا ہے ، آپ کے ساتھ نہیں ؛ بلکہ کل کلاں اس گھر سے اُسی کی میت اٹھائی جانی ہے آپ کی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر کیوں آپ اپنی مرضی اس کی خوشی پر قربان نہیں کردیتے !!

✍️لقمان شاہد
17-3-2021

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3113361548944013&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#معترضہ_آیاتِ_جہاد
( معنیٰ و مفہوم ، شانِ نزول، پس منظر)
بقلم: بدر الدجیٰ رضوی مصباحی
قسط اول
آیاتِ معترضہ کا صحیح معنیٰ و مفہوم پسِ منظر اور شانِ نزول سے پہلے جہاد کا لغوی اور شرعی مفہوم اور اس کی اقسام کی وضاحت بے حد ضروری ہے۔
جھاد: جَھْد سے مشتق ہے جو بہت سے معانی کے لیے موضوع ہے مثلا: مشقت، انتہا، گنجائش، طاقت، انتہائی کوشش۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ مشتق میں ماخذ اشتقاق کا معنیٰ ومفہوم ماخوذ ہوتا ہے لھذا جہاد کے لغوی معنیٰ میں بھی یہ سب معانی ماخوذ ہوں گے اور شرع میں دینِ حق کے فروغ اور اس کی سر بلندی کے لیے انتہائی جد و جہد کا نام "جہاد" ہے جس کی کئی صورتیں ہیں، جہاد ہم زبان سے بھی کرسکتے ہیں اور مال سے بھی کرسکتے ہیں قلم سے بھی کرسکتے ہیں ، اپنے علم سے بھی کرسکتے ہیں اور بوقت ضرورت اپنی جان کو خطرے میں ڈال کربھی کرسکتے ہیں۔ شرع میں جہاد صرف قتل و قتال اور جنگ و جدال کا نام نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر جہاد کا یہی معنیٰ بتا کر وسیم رِضوی جیسے لوگ برادرانِ وطن کے ذہن کو پراگندہ کرنے اور مذہب اسلام کے خلاف غیر اسلامی دنیا کو بڑھکانے کا کام کرتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بوقتِ ضرورت مخصوص شرائط کے ساتھ غیر ذمی کفار سے جنگ کرنے کا نام بھی جہاد ہے، لیکن یہ کہنا کہ "جہاد" صرف اسی معنیٰ میں مستعمل ہے ؛ یہ نفس الامر کے صریح خلاف ہے قرآن و احادیث میں بہت سے مقامات پر اس معنیٰ کے علاوہ دیگر معانی پر جہاد کا اطلاق ہوا ہے مثلا: قرآن مجید کی آیت مبارکہ : وَ مَنۡ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفۡسِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿6﴾ (العنکبوت، آیت: 6)اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے بیشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے۔ ( کنز الایمان)
اس آیت مبارکہ میں جہاد کا اطلاق متعدد معانی پر ہوا ہے، مثلا: اطاعتِ الٰہی پر، صبر و تحمل ، جہاد بالنفس ، شیطان کی مخالفت اور اعداے دین کے ساتھ جنگ (خزائن العرفان)
اسی طرح قرآن پاک کی یہ آیت مبارکہ: وَ الَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَھْدِیَنَّھُمۡ سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿69﴾ (العنکبوت، آیت: 69)
اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (کنزالایمان)
اس آیت مبارکہ میں مجاہدہ پر جہاد کا اطلاق ہوا ہے یعنی تمام ظاہری اور باطنی اعمال اور عادات و اطوارمیں رضاے الہی کے لیے ہواے نفس اور شیطانی وسوسوں کے خلاف جد و جہد کرنے کا نام جہاد ہے بلکہ احادیث میں اسے جہادِ اکبر کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے صاحبِ تفسیرِ ابی سعود اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: " اطلق المجاھدۃ لیعم جھاد الاعادی الظاھرۃ والباطنۃ" ( تفسیر ابی سعود، ج : 7، ص: 48)
اسی طرح قرآن مجید کی آیت مبارکہ : وَّ جَاہِدُوۡا بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿41﴾ ( التوبہ، آیت: 41)
اور اللہ کی راہ میں لڑو اپنے مال اور جان سے ( کنز الایمان)
اس آیت میں اگر ممکن ہو تو مال اور جان دونوں سے اور اگر ممکن نہ ہو تو دونوں میں سے جس سے ممکن ہو اس سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور ایک قول کے مطابق اس آیت میں صرف قسم اول (جھاد بالمال) کا حکم ہے۔ ( تفسیر ابی سعود، ج:4، ص: 67)
اسی طرح حدیث میں ظالم و جابر فرماں روا کے سامنے حق بات کہنے کو افضل الجھاد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: " افضل الجھاد کلمۃ عند سلطان جائر"[ شعب الایمان للبیہقی ، ج: 6، ص: 93، الحدیث: 7581، دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]
جہاد کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی خدمت گزاری پر بھی جہاد کا اطلاق کیا گیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے : "جَاء رَجُلٌ اِلَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فاستأذنہ فی الجہاد۔ قَالَ احیٌّ والداک؟ قال: نَعَمْ۔ قَالَ ففیھما فجاھد"[ صحیح البخاری، ص: 733، الحدیث: 3004، کتاب الجھاد و السیر دار الفکر ، بیروت، لبنان]
ایک شخص بارگاہِ رسالت ﷺ میں آیا اور اس نے آپﷺ سے جہاد میں جانے کی اجازت مانگی تو آپﷺ نے اس سے پوچھا : کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: بس انھیں کی خدمت کر۔
یہاں پر ہم نے صرف چند آیتیں اور حدیثیں پیش کی ہیں ورنہ قرآن اور کتبِ احادیث میں بہت سی آیات و احادیث ہیں جن میں جہاد کا اطلاق حرب و ضرب کے علاوہ دیگر معانی پر ہوا ہے اس سے یہ اچھی طرح مبرہن ہوگیا کہ"جھاد" کا لفظ صرف کفار و مشرکین ، یہود و نصارٰی اور دیگر اسلام دشمن طاقتوں سے نبرد آزما ہونے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ چار حرفی لفظ اپنے آپ میں بڑی وسعت رکھتا ہے۔
اتنی وضاحت کے بعد اب ہم آپ کی توجہ ان آیات جہاد کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں،جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کی یہ آیات دنیا میں "آتنک"پھیلا رہی ہیں اور دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہیں،لیکن اس سے پہلے ہم یہاں آپ کو یہ بتاتے ہوئے چلیں کہ اعلان نبوت کے آغاز سے لے کر ١٣/سال تک مکۃ المکرمہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے مٹھی بھر جاں نثاروں کے ساتھ وہ ظالمانہ سلوک کیا گیا جس کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے۔غریب اور مفلوک الحال مسلمانوں کو مسلسل ظلم تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا،حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گردن میں رسی ڈال کر مکہ کی گرم پہاڑیوں اور سنگلاخ وادیوں میں گھسیٹا جاتا،دوپہر کے وقت جب کہ سورج انگارے اگل رہا ہوتا انہیں زمین پر لٹا کر سینے پر پتھروں کی وزنی سیلیں رکھ دی جاتیں،مشکیں باندھ کر لاٹھی اور ڈنڈوں سے پیٹا جاتا،دھوپ میں دیر تک بٹھایا جاتا۔حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوئلہ دہکا کر آگ پر لٹایا جاتا،ان کی چھاتی پر ایک شخص پیر رکھ کر کھڑا رہتا،تاکہ وہ کروٹ نہ بدل سکیں ،اور اتنی دیر تک لٹایا جاتا کہ بھڑکتے ہوے کوئلے سرد پڑ جاتے۔حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ان کے والدین حضرت یاسر اور حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر روزآنہ مشق ستم کیا جاتا،حتی کہ حضرت سمیہ کی اندام نہانے پر نیزہ مار کر انھیں شہید کر دیا گیا،حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کا چچا چٹائی میں لپیٹ کر الٹا لٹکا دیتا اور نیچے دھواں دیتا تا کہ وہ گھٹ گھٹ کر بے جان ہوجائیں۔حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسلام قبول کرنے کی پاداش میں ان کی ماں نے گھر سے نکال دیا۔صحابہ تو صحابہ خود بانی اسلام بھی ان کے ظلم و تشدد نہیں بچ سکے ،یہاں تک جب حضرت عمر اور حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اسلام قبول کر لیا تو قریش مکہ کے غیظ و غضب کی آگ اتنی تیز ہوگئی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ پورے بنی ہاشم کا مقاطعہ کردیا،اس لیے نہیں کہ وہ اسلام قبول کر چکے تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ درپردہ آپ کی حمایت کر رہے تھے،حتی کہ مجبور ہوکر پورے تین سال تک آپ کو بنی ہاشم کے ساتھ شعب ابی طالب میں پناہ گزیں ہونا پڑا،جب قریش کا ظلم و ستم حد سے تجاوز کر گیا،تو آپ نے جاں نثاران اسلام کو ہدایت فرمائی کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں ،جب وہ حبشہ ہجرت کر گئے تو قریش کا ایک وفد نجاشی کے دربار میں تحفہ اور تحائف لے کر پہنچ گیا،تاکہ گفت و شنید کر کے ان مظلوموں کو وہاں سے بھی نکلوا دیا جائے،یہ اور بات کہ نجاشی نے حضرت سیدنا جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریر سے متاثر ہوکر قریش کے سفیروں کو نہ صرف یہ کہ ناکام واپس کر دیا بلکہ اسلام بھی قبول کرلیا،١٣/سال تک مسلسل ظلم و تشدد کا نشانہ بننے اور انتہائی کٹھن اور صبر آزما حالات سے گزرنے کے باوجود صحابہ کرام کو قریش سے نبرد آزما ہونے کے لیے تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی،صحابہ کرام بے کسی کے عالم میں جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فریاد کرتے اور ظالموں سے اپنے دفاع کے لیے تلوار اٹھانے کی اجازت طلب کرتے تو آپ فرماتے:"صبر کرو مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا"حتی کہ ایک دن وہ آیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معیت میں مدینہ ہجرت کر گئے،پھر یکے بعد دیگرے آپ کے صحابہ نے بھی ہمیشہ کے لیے اپنے وطن مکۃ المکرمہ کو خیرباد کہہ دیا اور وہ بھی مدینہ چلے آے،اتنی دور چلے جانے کے باوجود بھی انھیں ابتدائی دنوں میں سکون سے رہنا میسر نہیں آیا قریش مکہ نے مدینہ کے یہودیوں سے سازباز کرکے مدینہ کی زمین بھی ان پر تنگ کر دی ،مدینۃ المنورہ میں صحابہ کرام کے ابتدائی حالات یہ تھے کہ وہ ہر وقت جنگ جیسی حالت میں رہتے،اور خود کو چوکنا رکھتے کہ نہ جانے کب کدھر سے حملہ ہوجاے اور راتوں کو وہ جگ جگ کر پہرے دیتے اور کڑی نگرانی رکھتے ،حتی کہ قدرت کو ان پر ترس آہی گیااور سورۂ حج کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی جس میں فدیان اسلام کو پہلی بار کفارو مشرکین مکہ کے ساتھ اپنے دفاع میں جہاد کی اجازت دی گئی:
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْر. (الحج/۳۹)
پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ اُن کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔ (کنزالایمان)
اس آیت سے پہلے دس بیس نہیں بلکہ ستر سے زیادہ آیات ایسی نازل ہوئی ہیں جن میں صحابۂ کرام کو ظالموں سے قتال کرنے سے روک دیا گیا تھا ، صحابۂ کرام خون سے لہو لہان پٹے پٹائے جب بھی سرکار علیہ الصلاۃ والسلام سے فریاد کرتے تو سرکار یہی جواب دیتے: "اصبروا فانی لم أومر بالقتال" تم صبر کرو کیوں کہ مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا ہے جیسا کہ تفسیر ابی سعود میں ہے: کان المشرکون یؤوذونھم و کانوا یاتونہ ﷺ بین مضروب و مشجوح و یتظلون الیہ فیقولﷺ لھم: اصبروا فانی لم اومر بالقتال حتیٰ ھاجروا
فانزلت و ھی اول آیۃ نزلت فی القتال بعد مانھی عنہ نیف و سبعین آیۃ (تفسیر ابی سعود، ج: 6، ص: 108)
اس کے ما بعد آیت: 40 میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مظلومیت کو بھی آشکارا فرمادیا کہ یہ لوگ ناحق اپنے گھروں سے نکالے گئے ان کا اگر کوئی جرم تھا تو صرف یہ جرم تھا کہ یہ لوگ اپنے رب کی ربوبیت کا اعتراف کرتے تھے اور اٹھتے بیٹھتے یہ لوگ کہتے تھے " ربنا اللہ" ہمارا رب اللہ ہے اور اس آیت میں متصلا بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو دفاعی جنگ کی اجازت دی اس کی وجہ بھی بیان کردی کہ اگر اللہ آدمیوں کو ایک دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو روئے زمیں پر کوئی بھی ایسا عبادت خانہ باقی نھیں بچتا جس میں اللہ تعالیٰ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے۔

جاری۔۔۔
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/882982572272262/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#معترضہ_آیات_جہاد
( معنیٰ و مفہون ، شانِ نزول، پسِ منظر)
قسطِ دوم
بقلم: بدر الدجیٰ الرضوی المصباحی

ناخلف وسیم رضوی نے ابھی حال ہی میں غیر متبدل قرآن پاک کی چھبیس آیات جہاد کے خلاف سپریم کورٹ میں جو پٹیشن (عرضی) داخل کی ہے اور انہیں خلفاۓ ثلاثہ رضی اللہ عنھم کے اخلاط کا نتیجہ قرار دے کر قرآن مقدس سے حذف کرنے کا جو ناجائز مطالبہ کیا ہے یہ اس کا کوئی نیا کارنامہ نہیں ہے یہ کام آج سے دو دہائی قبل وشو ہندو پریشد کی تنظیم اپنے دفتر سے بڑے پیمانے پر ایک پمفلٹ کی اشاعت اور اس کی تقسیم کے ذریعے انجام دے چکی ہے لیکن وشو ہندو پریشد بھی یہ ہمت نہیں جٹا پائی کہ سپریم کورٹ جا کر قرآن کو چیلنج کرے لیکن آج اس کی ناجائز اولاد وسیم رضوی نے ان آیات کے خلاف بنام مسلمان سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر عالم اسلام کو نہ صرف یہ کہ حیرت میں ڈال دیا ہے بلکہ ان کے خاموش جذبات میں ہیجان پیدا کردیا ہے اور ضروریات دین کا انکار کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہے آج شیعی علما اور مشائخ کے مراکز بھی اس کی ناپاک حرکت پر بڑے پیمانے پر اسے مرتد قرار دے رہے ہیں جس کے لیے وہ مبارکباد کے قابل ہیں بلکہ اس کے چھوٹے بھائی نے بھی نہایت دل گیر لب و لہجے میں تقریری بیان دے کر مع اہل خانہ، والدہ، بھائی اور بہن کے اس سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔
اتنی تفصیل کے بعد اب ہم ان آیات معترضہ کو یکے بعد دیگرے پیش کریں گے پھر مستند تفاسیر کی روشنی میں ان کے معانی و مفاہیم، شان نزول اور پس منظر پر روشنی ڈالیں گے تاکہ یہ واضح ہوجاۓ کہ اسلام دین فطرت اور خدائی قانون کا نام ہے یہ کسی انسان کا وضع کردہ نہیں ہے اور قرآن خدا کی نازل کردہ غیر متبدل کتاب ہے جو ہر طرح کے حشو و زوائد سے پاک و صاف ہے اس میں خلفاۓ ثلاثہ یا اربعہ یا کسی اور انسان کی کسی آمیزش کا قطعا کوئی دخل نہیں ہے اور اس کی ساری دفعات، کلیات و جزئیات فطرت کے تقاضے کے عین مطابق ہیں اور یہ کسی بھی قسم کے قطع و برید اور زیادت و نقصان سے محفوظ ہے اور ہمیشہ محفوظ رہے گا اور یہ کہ قرآن صلح و آشتی، امن و امان کا داعی اور نقیب ہے اس کا دہشت گردی اور آتنک سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

*معترضہ آیاتِ جہاد اور ان کامفہوم و معنیٰ*

فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡھُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡھُمۡ وَ خُذُوۡھُمۡ وَ احۡصُرُوۡھُمۡ وَ اقۡعُدُوۡا لَھُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَھُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ( التوبہ ، آیت : 5)
پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور قید کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکات دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (کنزالایمان)
یہاں پر آپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ اسلام دشمن طاقتوں کو جن آیاتِ جہاد پر اعتراض ہے ان میں اکثر کا تعلق سورۂ توبہ سے ہے لھذا یہاں پر یہ جان لینا ضروری ہے کہ سورۂ توبہ کا نزول کن حالات اور کن اسباب و علل سے ہوا۔
سورۂ توبہ کی ابتدائی 30 یا 40 آیات کا نزول فتحِ مکہ کے بعد 9 ہجری میں ہوا مسلمانوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی اجازت اور حضور ﷺ کے اتفاق سے مشرکینِ مکہ اور دیگر قبائلِ عرب سے جنگ بندی کا معاہدہ کر رکھا تھا جس کی پاسداری فریقین پر ضروری تھی مسلمان اس عہد و پیمان پر عمل پیرا رہے لیکن بنو ضمرہ اور بنو کنانہ کو چھوڑ کر دیگر مشرکین مکہ اور قبائل عرب نے عہد شکنی کی جس کا ذکر سورۂ توبہ کی آیت نمبر 4 میں صراحت کے ساتھ موجود ہے حتی کہ صلح حدیبیہ کے آخری معاہدے کو بھی انھوں نے پسِ پشت ڈال دیا جس کی دفعات بظاہر مسلمانوں کی کمزوری کی طرف مُشعِر تھیں۔اس ترقی یافتہ دور میں غیر مسلم دنیا بھی عہد و پیمان کا احترام کرتی ہے اور ایفائے عہد کو ہر حال میں لازم قرار دیتی ہے اور اسلام میں تو ایفاے عہد کی سخت تاکید کی گئی ہے قرآن مجید میں جا بجا عہد و پیمان پر عمل آوری کا حکم دیا گیا ہے اور یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ تم عہد پورا کرو بے شک عہد سے سوال ہوگا۔ وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَھْدِ ۚ اِنَّ الۡعَھْدَ کَانَ مَسۡئُوۡلًا ( بنی اسرائیل ، آیت: 34) لیکن ظاہر ہے کہ جب ایک فریق عہد شکنی بر اتر آتا ہے تو عہد خود بخود ساقط ہوجاتا ہے اور یہی یہاں پر بھی ہوا، جب مشرکینِ مکہ کی عہد شکنی سامنے آگئی تو حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو 9 ہجری میں حج کے موقع پر امیر الحج بنا کر مکۃ المکرمہ روانہ فرمایا اور ان کے پیچھے عضبا ( اونٹنی ) پر سوار کرکے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی مکۃ المکرمہ بھیجا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے یوم ترویہ ( 8/ ذی الحجہ ) کو خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ نے مناسک حج بیان فرمائے اور
یوم نحر 10/ ذی الحجہ ) کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے جمرہ عقبہ کے پاس کھڑے ہوکر مشرکین مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! میں تمھاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرستادہ بن کر آیا ہوں مشرکین نے کہا: آپ ہمارے لیے کیا پیغام لے کر آیے ہیں؟ اس کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سورۂ توبہ کی ابتدائی 30 یا 40 آیات طیبات کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ میں تمھارے پاس چار باتوں کا حکم لے کر آیا ہوں (1) اس سال کے بعد کوئی مشرک کعبہ شریف کے پاس نہ آئے (2) کوئی شخص برہنہ ہوکر کعبہ شریف کا طواف نہ کرے (3) جنت میں سوائے اہل ایمان کے کوئی داخل نہیں ہوگا (4) ہر ذمی کے عہد کو پورا کیا جائے گا ( تفسیر ابی سعود ج: 4، ص: 41)
مذکورہ تفصیل سے یہ مبرہن ہوگیا کہ آیت نمبر 5 میں جن مشرکین کو اشہر حرم کے بعد مارنے یا ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے عام کفار و مشرکین مراد نہیں ہیں بلکہ اس کا تعلق ان مشرکینِ عرب سے ہے جنھوں نے مسلمانوں سے نہ صرف یہ کہ عہد شکنی کی بلکہ دعوت اسلام کی پامالی کے لیے اپنی ناپاک مساعی صرف کردیں جیسا کہ "فاقتلوا المشرکین" کی تفسیر میں صاحب تفسیر ابی سعود فرماتے ہیں : " الناکثین خاصۃ فلایکون قتال الباقین مفھوما من عبارۃ النص بل من دلالتہ" [ تفسیر ابی سعود ج: 4، ص: 43]
اور صاحبِ مدارک نے بھی اس کی یہی تفسیر بیان کی ہے فرماتے ہیں :" الذین نقضوکم و ظاھروا علیکم" [ تفسیر النسفی ، ج: 2، ص: 116، اصح المطابع ممبئی ]
بلکہ اس سورت میں اول سے آخر تک خطاب انھیں کفار و مشرکین کے ساتھ ہے جنھوں نے اپنے عہد کی پاسداری نہیں کی جیسا کہ اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں صاحب تفسیر ابی سعود فرماتے ہیں : المراد بالمشرکین الناکثون لان البراءۃ انما ھی فی شانھم [ ایضا، ص: 44]
ان مستند اور معتبر تفسیرات سے یہ عیاں ہوگیا کہ سورۂ توبہ کی اس آیت مبارکہ میں جو مشرکین و کفار کو قتل کرنے اور وہ جہاں ملیں وہاں انھیں مارنے اور دھر پکڑ کا جو حکم دیا گیا ہے اس سے عام کفار و مشرکین اور برادران وطن مراد نہیں ہیں جیسا کہ وسیم رضوی اور اسلام دشمن عناصر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں بلکہ اس سے خاص عہد رفتہ کے وہ مشرکین مکہ اور قبائل عرب مراد ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ قتل و غارت گری، دھوکہ دھڑی اور عہد شکنی جیسے بھیانک جرائم کا ارتکاب کیا قرآن ہرگز اس امر کا داعی نہیں ہے کہ بلا وجہ چلتے پھرتے بے قصور یا دیگر لوگوں پر کلاشنکوف سے گولیاں برسائی جائیں اور سیکڑوں بچوں کو یتیم اور عورتوں کے سروں سے سہاگ کی ردائیں چھین لی جائیں قرآن تو اس کا داعی ہے کہ اگر ایک انسان نے بلا وجہ کسی بھی انسان کی جان لے لی خواہ وہ کسی بھی مذہب کا متبع ہو تو گویا کہ وہ روۓ زمین کے تمام انسانوں کا قاتل ہے اور اگر کسی نے کسی بھی مظلوم و مقہور کمزور اور ناتواں انسان کی جان بچائی تو گویا کہ اس نے روۓ زمین کے تمام انسانوں کی جان بچانے کا کام کیا قرآن فرماتا ہے:مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًاۚ(المائدہ آیت: 32)
جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلا لیا (کنز الایمان) بلکہ اگر کہیں پر صحیح طرح اسلامی حکومت کا نظام نافذ ہو تو وہاں پر غیر مسلم اقلیت کی جان و مال اور حقوق اتنے ہی محفوظ ہیں جتنے کہ مسلم اکثریت کی جان و مال اور حقوق محفوظ ہیں انہیں بھی اپنے مذہب پر عمل کرنے اور عبادت خانے کی تعمیر کا وہی حق حاصل ہے جو مسلم اکثریت کو حاصل ہے جیسا کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ"( المستدرک للحاکم، ج: 2، ص: 142، کتاب قسم الفئی، دار المعرفہ، بیروت ، لبنان )
جس نے کسی معاہد کو بلا جرم قتل کیا اس پر جنت حرام ہے
اور ایک اور مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں " مَنْ قَتَلَ نفسا مُعَاهَدۃ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لیوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خمسمائۃ عام ‏"‌‏.‏(جمع الجوامع للسیوطی، ج: 9، ص: 721، دار السعادۃ،)
جس شخص نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں پاسکے گا باوجویکہ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی مسافت سے سونگھی جاتی ہے۔ اور عہد و پیمان کے بعد اسے توڑ دینے والے کی سرزنش حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس انداز میں کر رہے ہیں: " اِن الغادِر یُنصب لہ لواء یوم القیامۃ فیقول ھذہ غدرۃ فلان بن فلان" ( جمع الجوامع للسیوطی، ج: 8، ص: 370، دار السعادۃ،)
بے شک عہد شکن کے لیے قیامت کے روز نشان کھڑا کیا جاۓ گا اور کہا جائیگا اس نے فلاں بن فلاں سے غدر کیا۔
اور ایک مسلمان قاتل سے مقتول ذمی کے وارثین کے خوں بہا قبول کرلینے کی تصدیق کے بعد قاتل کو آزاد کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: "من کان لہ ذمتنا فدمہ کدمنا و دیتہ کدیتنا" [السنن الکبری للبیہقی، ج: 8، ص: 63، کتاب الجراح الحدیث: 15934 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]
جو ہمارا ذمی ہوا اس کا خون ہمارے خون اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔

جاری۔۔۔۔۔



*گزارش*

اردو ، ہندی ، انگریزی زبان پر اگر کسی کو عبور حاصل ہے اور وہ ان زبانوں کے مصطلحات سے اچھی طرح واقف ہے وہ اگر ان مضامین کا ہندی اور انگلش میں ٹرانسلیشن کر دے تو فقیر رضوی اس کا بے حد ممنون ہوگا.

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/882983502272169/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#آیات _جہاد
(معنیٰ و مفہوم، شانِ نزول، پس منظر)
قسطِ سوم
بقلم: بدر الدجیٰ الرضوی المصباحی

(2) یٰۤاَیُّھَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِھِمۡ ھٰذَا ۚ وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ عَیۡلَۃً فَسَوۡفَ یُغۡنِیۡکُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖۤ اِنۡ شَآءَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۸﴾ (التوبہ آیت: 28)
اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں اور اگر تمہیں محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے۔(کنز الایمان)
یہ سورہ توبہ کی دوسری آیت ہے جو اسلام دشمن عناصر کے دل میں کھٹک رہی ہے اس سے پہلے یہ بتادیا گیا ہے کہ سورہ توبہ کی اکثر آیات میں مشرکین سے وہ مشرکین مکہ مراد ہیں جنھوں نے عہد و پیمان کی پاسداری نہیں کی تاہم یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ اس آیت میں مشرکین کو جو نجس قرار دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ اس آیت میں نجاست سے اس کا متبادر مفہوم بول و براز(پیشاب،پاخانہ) مراد نہیں ہے جیسا کہ اسلام دشمن عناصر سمجھ رہے ہیں بلکہ اس سے ان کا وہ شرک مراد ہے جو نجاست کی منزل میں ہے یا انھیں اس آیت میں نجس اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ وہ صحیح طرح سے طہارت اور غسل وغیرہ نہیں کرتے ہیں اور نجاست سے اجتناب نہیں کرتے ہیں جیسا کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ یہ کھڑے کھڑے پیشاب کرتے ہیں اور پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتے ہیں، ایک لوٹا پانی سے اجابت کرتے ہیں ان اسباب و وجوہات کی بنا پر ان پر نجاست کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ بول و براز کی طرح عین نجس ہیں جیسا کہ تفسیر ابی سعود میں ہے: وصفوا بالمصدر مبالغۃ کانھم عین النجاسۃ أو ھم ذو نجس لخبثِ باطنھم او لان معھم الشرک الذی ھو بمنزلۃ النجس او لانھم لا یتطھرون ولایغتسلون ولا یجتنبون النجاسات فھی ملابسۃ لھم۔ (تفسیر ابی سعود ج: 4، ص: 57)
بلکہ علامہ امام ابو زکریا بن شرف نووی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ صحیح مسلم باب الدلیل علی ان المسلم لاینجس کے تحت فرماتے ہیں : طہارت و نجاست میں کافر کا وہی حکم ہے جو مسلم کا حکم ہے یہی شوافع اور جمہور سلف و خلف کا بھی مذہب ہے اور آیت مبارکہ "انما المشرکون نجس" سے کفار و مشرکین کے اعتقاد کی نجاست مراد ہے یہ مراد نہیں ہے کہ بول و براز اور ان کے امثال کی طرح ان کے اعضا نجس ہیں۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : و اما الکافر فحکمہ فی الطھارۃ و النجاسۃ حکم المسلم ھذا مذھبنا و مذھب الجماھیر من السلف و الخلف و أما قول اللہ عزو جل: "اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ" فالمراد نجاسۃ الاعتقاد و الاستقذار و لیس المراد ان اعضاءھم نجسۃ کنجاسۃ البول و الغائط و نحوھما" ( شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارۃ/ باب الدلیل علی ان المسلم لا ینجس، ص162: مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

*فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِھِمۡ ھٰذَا*
تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں (کنزالایمان)
اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ کفار ومشرکین کو مسجد حرام کے قریب آنے سے روکیں۔
‌ یہ حکم مشرکین کی نجاست پر متفرع ہے اور نہی عن القرب مبالغہ کی غرض سے ہے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نزدیک اس آیت میں منع سے مراد مشرکین کو حج و عمرہ سے روکنا ہے،نہ کہ حرم ،مسجد حرام اور دیگر مساجد سے اور امام شافعی کے نزدیک خاص مسجد حرام میں دخول سے روکنا مراد ہے،اور امام مالک کے نزدیک جمیع مساجد سے مشرکین کو روک دینے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ تفسیر ابی سعود میں ہے :و قیل المراد بہ النھی عن الدخول مطلقا،و قیل :المراد بہ المنع عن الحج و العمرۃو ھو مذھب ابی حنیفۃ رحمہ اللہ۔۔۔ولا یمنعون من دخول الحرم و المسجد الحرام و سائر المساجد عندہ و عند الشافعی یمنعون من المسجد الحرام خاصۃ و عند مالک یمنعون من جمیع المساجد (تفسیرِ ابی سعود، ج: 4، 57)
لیکن صاحب تفسیر ابی سعود نے یہاں پر احناف اور شوافع کے مفتیٰ بہ اور راجح قول کی وضاحت نہیں کی ہے ہم یہاں پر اس بابت احناف اور شوافع کے مذاہب پر مختصرا ڈالنا چاہیں گے۔
شوافع کے نزدیک حرم میں کفار و مشرکین کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے تاہم دیگر مساجد میں وہ مسلمانوں کی اجازت سے مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں پھر یہاں پر مشرکین سے خاص بت پرست مراد ہیں یا دیگر اقسام کے کافر مراد ہیں اس پر شوافع نے بحث کی ہے۔ علامہ سبکی فرماتے ہیں: حرم میں تو مطلقا کافر کو داخل ہونے سے روک دیا جائے گا خواہ وہ ذمی ہوں ( مسلم ملک میں غیر مسلم اقلیت) یا مستامن ( عارضی طور پر پاسپورٹ اور ویزے سے آنے والے غیر مسلم)
امام نووی شافعی دمشقی فرماتے ہیں : حرم کے علاوہ باقی مساجد میں مسلمانوں کی اجازت سے کافر کا داخل ہونا جائز ہے (خواہ وہ ذمی ہو یا مستامن بت پرست ہو یا اہل کتاب) اس لیے کہ ثقیف کا ایک وفد رمضان کے مہینے میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آیا آپنے ان کے لیے مسجد میں خیمہ نصب کیا جب وہ اسلام لے آئے تو انہوں نے روزے رکھے اس حدیث کو طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی وہ روایت بھی ہے جس میں ثمامہ بن اثال کو گرفتار کرکے مسجد کے ستون سے باندھنے کا ذکر ہے اس وجہ سے امام شافعی نے حکم لگایا ہے کہ مسلمان کی اجازت سے کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے خواہ وہ غیر اہل کتاب ہو البتہ مکہ کی مساجد اور حرم میں کسی کافر کا داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ علامہ نووی نے "مجموع" میں لکھا ہے کہ ہمارے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ حرم میں کسی کافر کو نہ داخل ہونے دیا جائے اور غیر حرم کی ہر مسجد میں کافر کا داخل ہونا جائز ہے اور مسلمانوں کی اجازت سے وہ رات کو مسجد میں رہ سکتا ہے (تکملہ شرح تہذیب ج 9 ص 436، 437 مطبوعہ دارالفکر بیروت)
احناف کے نزدیک غیر معاہد (جن سے مسلمانوں کا معاہدہ نہ ہوا ہو) مشرکین کو حرم اور اسی طرح باقی مساجد میں داخل ہونے سے منع کیا جائے گا اور اہل ذمہ کو حرم اور اسی طرح باقی مساجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا جائے گا۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سیر کبیر میں فرماتے ہیں: و ذکر عن الزھری ان ابا سفیان بن حرب کان یدخل المسجد فی الھدنۃ وھو کافر غیر ان ذلک لا یحل فی المسجد الحرام قال اللہ تعالی: اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ (سیر کبیر مع شرحہ ج :1، ص 134 مطبوعہ المکتبۃ للثورۃ الاسلامیہ افغانستان )
زہری سے روایت ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کے ایام میں ابو سفیان مسجد میں آتے تھے حالاں کہ اس وقت وہ کافر تھے البتہ یہ مسجد حرام میں جائز نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مشرکین نجس ہیں وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔
امام محمد کے اس قول سے متبادر ہوتا ہے کہ مطلق مشرکین کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا جاۓ گا لیکن جامع صغیر میں انہوں نے اس کی صراحت کی ہے کہ اہل ذمہ کے حرم میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: ولا باس بان یدخل اھل الذمۃ المسجد الحرام" (جامع صغیر ص : 153 مطبوعہ مصطفائی ہند)
امام محمد کی صراحت کے پیشِ نظر فقہاے احناف کا نظریہ یہ ہے کہ اہل ذمہ کو کعبہ شریف اور باقی مساجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا جائے گا یہ ممانعت صرف مشرکین غیر معاہد کے لیے ہے۔
عالمگیری میں ہے:
لا باس بدخولِ اھل الذمۃ المسجد الحرام و سائر المساجد و ھو الصحیح کذا فی المحیط للسرخسی [ فتاویٰ عالمگیری، ج: 5، ص: 346، مطبوعہ مطبع کبریٰ امیریہ بولاق مصر]
یہاں پر "وھو الصحیح" سے اس طرف اشارہ ہے کہ علامہ سرخسی نے شرح سیرِ کبیر میں جو یہ لکھا ہے کہ مسجد حرام اور باقی مساجد میں حربی اور ذمی دونوں کے داخل ہونے کی ممانعت نہیں ہے یہ صحیح نہیں ہے۔
امام مالک کے نزدیک کسی بھی قسم کے غیر مسلم کو کسی بھی مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے خواہ وہ مسجد حرم ہو یا غیر حرم کی مسجد۔
امام احمد بن حنبل کے نزدیک مطلقا حرم (مکۃ المکرمہ کا وہ حصہ جو حرم میں داخل ہے ) میں مشرکین کا داخلہ ممنوع ہے اس میں مسجد حرام کی کوئی تخصیص نہیں ہے اور غیر حرم کی مساجد میں ان کے دو قول ہیں۔
یہ تمام حوالے ہم نے علامہ سعیدی رحمہ اللہ کی شرح صحیح مسلم ج: 3، ص: 681، 682، 683 سے لیے ہیں۔

(جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
*نوٹ:* مصروفیات کی وجہ سے بقیہ قسطیں کچھ وقفے سے جاری کی جائیں گی ان شاء اللہ تعالیٰ.

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/882983978938788/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#معترضہ_آیات_جہاد

(معنیٰ و مفہوم، شانِ نزول، پس منظر)
*قسطِ چہارم*
*بقلم: بدر الدجیٰ الرضوی المصباحی*

(3)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةًؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(۱۲۳)

اے ایمان والو! ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں اور وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔(کنز الایمان)

ابھی حال ہی میں وسیم رضوی کا نیا ویڈیو وائرل ہوا ہے اس میں اس نے سپریم کورٹ میں پیش کردہ چھبیس آیات میں سے 6/آیات کا الٹا سیدھا ترجمہ نہایت ہی غیظ و غضب اور دیدہ دلیری کے ساتھ پڑھ کر سنایا ہے جس میں سے پہلی آیت: فاذا انسلخ الاشھر الحرم۔۔۔۔۔ پر اعتراض کا جواب ہم اپنی دوسری قسط میں دے چکے ہیں۔ اس آیت میں "اشھر حرم" کا ترجمہ اس ناخلف نے "رمضان کے مہینے" سے کیا ہے ،جب کہ "اشھر حرم" سے ذوالقعدہ، ذوالحجہ،محرم اور رجب کے مہینے مراد ہیں۔ حیرت بالاۓ حیرت ہے کہ جس کی قرآن فہمی کا یہ عالم ہے کہ اسے یہ تک نہیں معلوم ہے کہ "اشھر حرم" سے کیا مراد ہے؟ وہ قرآن کی چھبیس آیات کو سپریم کورٹ میں چیلینج کرنے چلا ہے۔ اور *بار بار میڈیا میں اس کو ریپیٹ کر کے یہ ظاہر کر رہا ہےکہ* ختم اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠(البقرۃ ۷)
﴿اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پرپردہ پڑا ہواہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے(کنزالایمان)﴾
کے مصداق ابھی نا پید(ختم ) نہیں ہوۓ ہیں۔

سورہ توبہ کی آیت نمبر: 123 کو اس نے وائرل ویڈیو میں ذکر کیا ہے اور اسے اپنی پٹیشن میں داخل کیا ہے اس کے بارے میں آپ کو یہ بتایا جا چکا ہے کہ سورہ توبہ کی بیشتر آیات میں وہ کفار و مشرکین عرب مراد ہیں جنہوں نے معاہدہ امن کی نہ صرف یہ کہ خلاف ورزی کی بلکہ مسلمانوں پر انتہائی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بدر،احد اور خندق جیسی بھیانک جنگوں سے انہیں دو چار کردیا جن میں احد میں خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرکے دندان مبارک شہید کردیے بلکہ عمرو بن قمیہ نے ایک پتھر اس زور سے مارا کہ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے خود کی کڑیاں رخسار مبارک میں چبھ (دھنس) گئیں جس سے لبہاۓ مبارک اور رخ انور زخمی ہوگئے اور شدید جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ 108 مہاجرین و انصار صحابہ کو شہید کردیا ،اور اس پر بھی انہیں تسلی نہیں ہوئی تو باختلاف روایت دس ہزار یا چوبیس ہزار کی بھاری نفری لے کر تمام قبائل عرب کے ساتھ مدینہ پر حملہ کردیا جس کا دفاع صحابہ کرام نے خندق کھود کر کیا پھر جب معاہدہ حدیبیہ کی قرارداد پاس ہوئی تو اسے بھی اپنے توڑ ڈالا۔ سورہ توبہ کی آیات میں ایسے شریر کفار و مشرکین عرب کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ ہندوستان کے امن پسند شہریوں اور برادران وطن کے ساتھ۔
اس ضروری وضاحت کے بعد اب ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سورہ توبہ کی آیت :123 میں جو قریبی کفار سے اہل ایمان کو جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے کون سے کفار مراد ہیں؟ لیکن اس سے پہلے ہم اس کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن مقدس میں متعدد مقامات پر جو لفظ "کفر" یا اس کے مشتقات مثلا کافر،کفار،کافرین اور کافرون وغیرہ کا ذکر آیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ کیا لفظ کافر سب و شتم (گالی) ہے جیسا کہ وسیم رضوی جیسا ناخلف یہ سمجھ اور سمجھا رہا ہے، اس لئے ہم یہاں پر فرزندان اسلام اور برادران وطن پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کافر کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو برادران وطن کے آزار، تضحیک، تذلیل یا تکلیف کا باعث ہو بلکہ یہ لفظ مسلم کے مقابلے میں محض ایک اصطلاح ہے۔ اللہ تبارک و تعالی کی وحدانیت حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور دیگر انبیا و رسل کی نبوت و رسالت اور تمام شرائع دین کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنے اور ماننے والے کو مسلم کہتے ہیں اور جو اس کا منکر ہو، اسے نہ مانتا ہو اسے کافر کہتے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے: كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ(البقرہ ٢٨) تم کیسے اللہ کے منکر ہوسکتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے تواس نے تمہیں پیدا کیا (کنز الایمان) اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(النساء ١٣٦)
اور جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کو نہ مانے تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں جاپڑا۔ (کنزالایمان )
اور بولا جاتا ہے: کفر باللہ، أو بنعمۃ اللہ۔ اس نے اللہ کا یا اس کی نعمت کا انکار کیا (المعجم الوسیط ک ف ر ، صفحہ 956)
میں نے عربی،اردو، انگلش کی متعدد لغات میں دیکھا اور دکھوایا لیکن کسی بھی لغت میں لفظ کافر کا ایسا معنی تلاش بسیار کے بعد بھی نہیں ملا جس سے کسی بھی زاویے سے اس لفظ سے گالی، سب و شتم کا مفہوم متبادر ہو لھذا ہر کسی کو یہ غلط فہمی دور کرلینی چاہئے کہ لفظ کافر برادران وطن کیلئے گالی ہے، اس سے بھی آسان لفظوں میں آپ کو یہ بتا دوں کہ ایک ہے مسلم اور ایک ہے نان مسلم اور جو نان مسلم ہیں انہیں کو قرآن میں کافر یا کفار سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ سورہ توبہ کی اس آیت میں ہے۔
مسلم اور کافر کے معانی و مفاہیم کی وضاحت کے بعد سورہ توبہ کی اس آیت: (123) میں الاقرب فالاقرب کے فارمولے کے تحت اہل ایمان کو پہلے قریبی کفار سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو سب سے پہلے ان لوگوں تک اسلام کی تبلیغ و انذار کا حکم دیا گیا جو آپ کے بہت قریب تھے اور جن پر آپ کو کافی اعتماد تھا کیوں کہ جو بہت قریب ہوتا ہے وہ سب سے پہلے خیر و فلاح اور اصلاح حال کا مستحق ہوتا ہے
اب اس آیت میں قریبی کفار سے کون سے لوگ مراد ہیں؟ اس میں دو قول ہے:(1) مدینہ کے یہود مراد ہیں مثلا بنو قریظہ، بنونضیر،بنوقینقاع۔ (2) اہل روم، کیوں کہ یہ شام میں رہتے تھے اور شام عراق کے بہ نسبت مدینۃ المنورہ سے زیادہ قریب پڑتا تھا جیسا کہ تفسیر ابی سعود میں ہے:
قیل: ھم الیھود حوالی المدینۃ کبنی قریظۃ والنضیر و خیبر و قیل :الروم فانھم کانوا یسکنون الشام وھو قریب من المدینۃ بالنسبۃ الی العراق و غیرہ (تفسیر ابی سعود ج 4 ص 112)
لیکن قرین قیاس یہ ہے کہ اس سے بنو قریظہ، بنو نضیر، بنو قینقاع کے یہودی مراد ہیں جو مدینے میں آباد تھے اور معاشی اعتبار سے اتنے خوشحال تھے کہ مدینے اور دیگر شہروں کی تجارتی منڈیوں پر ان کا قبضہ تھا لیکن اسی کے ساتھ یہ ہر طرح کی اخلاقی بیماریوں میں بھی مبتلا تھے مثلا یہ سود کھاتے تھے، جھوٹ بولتے تھے، رات دن سازشیں رچا کرتے تھے، احکام الہی میں ذاتی فائدے کیلۓ تحریف (رد و بدل) سے بھی باز نہیں آتے تھے مسلمانوں سے بغض و حسد ان کی فطرت میں داخل تھا۔ عرب اوس و خزرج جو بعد میں انصار صحابہ سے مشہور ہوۓ یہودیوں سے ہمیشہ دبے رہتے تھے کیوں کہ معاشی بد حالی کی بنا پر یہ اکثر یہودیوں کے مقروض رہا کرتے تھے اور قرض کیلۓ یہ یہود مدینہ کے پاس اپنی عورتوں اور بچوں تک کو رہن رکھ دیتے تھے۔ یہود مدینہ کے تفوق اور بالادستی کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ اہل کتاب ہونے کے ساتھ زیرک و دانا اور اہل خرد بھی تھے۔
مکۃ المکرمہ میں صرف ایک قوم اہل اسلام کے سامنے تھی جو بت پرست، جاہل اور اجڈ تھی جب کہ مدینہ مختلف اقوام اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا مرکز تھا اس لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مدینہ منورہ ہجرت کرجانے کے بعد اپنی پیغمبرانہ بصیرت سے یہودِ مدینہ سے ایک معاہدہ کیا جو تاریخ و سیر کی کتابوں میں صحیفہ کے نام سے جانا جاتا ہے جس کی دفعات نہایت جامع اور امن و امان کیلۓ بہت ضروری تھیں جس کا مقصد یہ تھا کہ شہر کے داخلی امن و امان میں کوئی خلل نہ آنے پاۓ او باہر سے کوئی خطرہ درپیش اور نمودار ہو تو مدینے کے تمام قبائل مل کر اور متحد ہوکر اس کا مقابلہ کریں یہ معاہدہ مساوات پر مبنی تھا اور اس کی دفعات میں بلا تفریق اہل مدینہ کے تمام شہری اور مذہبی حقوق کی حفاظت کا نظم کیا گیا تھا لیکن یہود اپنی فطرت سے باز نہیں آۓ اور اسلام اور اہل اسلام کے خلاف درپردہ ریشہ دوانی شروع کردی مثلا اوس و خزرج (انصار صحابہ) میں تفرقہ ڈال کر خانہ جنگی کی وہ آگ دوبارہ بھڑکانے کی کوشش کی جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ہجرت سے پہلے دونوں گروہوں میں پشتوں سے بھڑک رہی تھی اور دونوں گروہوں کی ہلاکت اور تباہی کا باعث بنی ہوئی تھی اس آپسی خانہ جنگی کی وجہ سے ہجرت سے پہلے یہ یہودیوں کے دست نگر بن کر رہ گئے تھے معاہدے کے باوجود یہ شرک اور بت پرستی کو وحدانیت سے بہتر اور قابل ترجیح قرار دیتے تھے جب کہ یہ خود اہل کتاب تھے اور یہ خود کو اس کےلیے بھی آمادہ رکھتے تھے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائیں گے جیسا کہ آج وسیم رضوی کا حال ہے، درپردہ یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھی منصوبہ بندی کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو ہمیشہ یہودیوں سے جان کا خطرہ بنا رہتا تھاجس کی مثال یہ ہے کہ جب حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ تعالی عنہ کا وقت اخیر آیا تو انہوں نے یہ وصیت کردی کہ اگر میرا دم رات میں نکل جاۓ تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہ کرنا کہ مبادا وہ جنازے میں تشریف لائیں اور یہودی ان پر پر حملہ کردیں ۔