🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اگر ہم اچھا لکھنا اور عمدہ گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اشعار یاد کرنے چاہییں ۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمان سے کہاتھا :

بیٹا ! اچھے اچھے شعر یاد کرو ، تاکہ تمھارے ادب میں اضافہ ہو ۔
جسے اچھے شعر نہ آتے ہوں وہ کبھی ادیب نہیں بن سکتا -
( ملخصاً : شاہکار رسالت ، دسواں باب ، ص 311 )

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کو اِس کثرت سے شعر یاد تھے کہ آپ کو جب کوئی بات پیش آتی ، آپ شعر سنادیا کرتی تھیں -
( انظر: المستطرف فی کل فن مستظرف ، الباب التاسع ، فصل فی ذکر الشعر والشعراءوسرقاتھم ، ص 95 ، دار مکتبۃ الحیاۃ بیروت ، 1412ھ )

اردو زبان کے اچھے شعرا میں شیخ ابراہیم ذوقؔ بھی آتے ہیں ۔
اِن کا شمار اردو زبان کے مُسلَّم اَساتِذہ میں ہوتا ہے ۔
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں:

" ذوق مرحوم اِس ( اردو ) زبان کے مُسلَّم اساتذہ سے تھے ۔ "
( فتاوی رضویہ‌ ، ج 29 ، ص 86 ، )

اگرچہ ذوق خود بڑے پائے کے شاعر تھے ، اور انیس سالہ عمر میں ہی خاقانی ہند کا لقب حاصل کرچکے تھے ؛ لیکن اس کے باوجود انھوں نے شعرا کے سیکڑوں دیوان بھی پڑھے تھے ۔

خود کہتے ہیں:
میں نے اُستادانِ فن کے ساڑھے تین سو دیوان پڑھے ہیں اور ان کا خلاصہ بھی کیا ہے ۔

( تذکرہ شعرا آب حیات ، ت صغرا ماہرؔ ، ص 94 )

اچھا شاعر ، عمدہ لکھاری ، بہترین ادیب ، اور باکمال خطیب بننے کے لیے اشعار یاد کرنا ضروری ہے ؛ اس لیے آج سے اپنی طبیعت کو اس طرف مائل کرلیں ۔

سرِدست جنابِ ذوقؔ مرحوم کے ایک قصیدے سے کچھ اشعار ملاحظہ کریں اور ہوسکے تو انھیں زبانی یاد کرلیں ۔
چاہے معنیٰ و مفہوم دیر سے سمجھ میں آئے لیکن الفاظ کا ردم آپ کو مسحور کردے گا ۔ ؎

صُبحِ سعادت ، نُورِ اِرادت ، تَن بہ رِیاضت ، دل بَہ تمنا
جلوۂ قُدرت ، عالَمِ وَحدت ، چَشمِ بَصیرت ، محوِ تماشا

کانِ مَلاحت ، بحر صَباحت ، جُوے فَصاحت ، گُلشنِ راحت
شور میں لیلیٰ ، نور میں سَلمیٰ ، لہجے میں شِیریں ، جلوے میں عَذرا

تُو دمِ فَرحت ، تُو دمِ عِشرت ، تو دم صَولت ، بَر سرِ دولت
ماہ بَہ سُرطاں ، زُہرہ بَہ میزاں ، تیر بَہ قَوس و شمس بہ جَوزا

تُو بَہ حقیقت ، تُو بَہ طریقت ، تُو بَہ شریعت ، تُو بہ وَدیعت
پاک سَرِشت ونیک نَوِشت و جسمِ مُطَہّر ، قلبِ مُصَفّیٰ

فہم میں لے کر صافی طِینت ، رکھ کے نظر میں اَوجِ قَرِینت
غرقِ حیا ہیں زمزم و کوثر ، سر بَہ زمیں ہیں سِدرہ و طُوبیٰ

خُلقِ کریم و نفسِ نَفِیس و اَبرِ مُفِیض و فائزِ رحمت
آب بقا و خاکِ شِفا و نارِ خلیل و بادِ مسیحا

رُو بَہ رضا و لَب بَہ دُعا و دَست بَہ ہِمت ، پابَہ اِقامت
لب بَہ ہِدایت ، دل بَہ دَرایت ، صَرف بَہ زُہد و محو بَہ تقویٰ

رُوحِ مُجسَّم ، عقلِ مُکَرَّم ، نفسِ مُقدَّس ، جسمِ مُطَہَّر
با تَنِ صافی ، جاں موافی ، پردہ بہ دنیا ، جلوہ بہ عُقبیٰ

تھا جو سخن آغازِ ثنا سے ، ختم سخن ہو حُسنِ اَدا سے
ذوقِؔ سخن داں تیری دعاسے ، طرزِ سخن مَوزوں ہو سراپا

اس قصیدے کے مزید اکیاون شعر ہیں ، اور ہر شعر اپنی مثال آپ ہے ۔
اسی زمین میں فصیح العصر میرزا امجد رازی " مرحوم " نے بھی ایک نعتیہ قصیدہ لکھا ہے جو بے مثال ہے ۔

✍️لقمان شاہد
14-3-2021 ء

https://www.facebook.com/100008105947430/posts/3110827572530744/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسول اللہ ﷺ کے پیارے شہزادے حضرت موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑی شان کے مالک تھے ۔

ایک دفعہ آپ کنویں سے پانی پینے لگے تو دستِ مبارک سے برتن کنویں میں گر گیا ۔

آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:

" جب مجھے پانی کی پیاس لگتی ہے تو میرا پالنے والا تُو ہوتا ہے ، اور جب میں کھانے کا ارادہ کرتا ہوں تو تیری ذات ہی میری طاقت ہوتی ہے ۔
اے میرے اللہ ، اے میرے آقا ﷻ اِس برتن کے علاوہ میرے پاس دوسرا برتن نہیں ہے ، مجھے اِس سے محروم نہ فرما ۔۔۔۔۔۔۔ !

حضرت شَقِیق بَلخی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

اللہ کی قسم ، میں نے دیکھا کہ کنویں کا پانی اوپر آگیا اور آپ نے ہاتھ بڑھا کراپنا برتن پکڑ لیا ۔
پھر آپ نے وضو کرکے نماز ادا کی اور اُس برتن میں مٹی ڈالی اور ہلا کر پی گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں نے طلب کیا ( کہ جو پی رہیں مجھے بھی عنایت فرمائیں ) تو آپ نے میری طرف برتن بڑھا دیا ۔
میں نے جب اس سے پیا تو وہ ( مٹی نہیں تھی ، بلکہ ) شکر اور سَتُو تھے ۔
بخدا میں نے آج تک ایسی لذیذ چیز نوش نہیں کی ۔
( وہ اتنی لذیذ اور برکت والی چیز تھی کہ ) میں نے سیر ہوکر پی تو کئی روز تک مجھے کھانے کی طلب نہ ہوئی ۔

( ملخصاً: مثیر الغرام الساکن الی اشرف الاماکن ، ت امام ابن جوزی رحمہ اللہ ، ص 402 ، 403 ، ط دارالحدیث القاہرہ ، س 1994ء )

امام موسی کاظم کی برکتیں آپ کی حیات ظاہری میں ہی نہیں تھیں ، آج بھی جاری و ساری ہیں ۔

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں :

امام موسی کاظم کی قبر ( بھی دکھوں کا ) تریاقِ مجرب ہے ۔

( حیاۃ الحیوان الکبری ، ت علامہ دمیری رحمہ اللہ ، ج 1 ، ص 160 ، دار احیاءالتراث العربی بیروت )

اللہ پاک مجھے اور آپ کو امام پاک کے دربارِ پر انوار کی با ادب حاضری نصیب فرمائے ۔

✍️لقمان شاہد
15-3-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3112037029076465&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماہِ شعبان شروع ہوچکا ہے ، جو حافظِ قرآن ہیں انھیں آج ہی سے پوری دل جمعی کے ساتھ منزل کی دہرائی شروع کردینی چاہیے ، تاکہ رمضان شریف میں اچھی طرح قرآن پاک سنایا جاسکے ۔

🌸 ویسے تو حافظ جس وقت چاہیں منزل پڑھ سکتے ہیں ، لیکن اگر ظہر تا عصر قرآن پاک پڑھا جائے اور مغرب کے بعد سے لے کر رات گئے تک اسے پکایا جائے ، اور صبح کے وقت دہرایا جائے تو زیادہ فائدہ ہوتا ہے ۔

🌸 اچھی منزل یاد کرنے کے لیے آپ کے پاس دو چیزوں کاہونا ضروری ہے:
¹ دل جمعی اور‌ ² محنت ۔

محنت تو انسان جتنی کرنا چاہے ، کرسکتا ہے ؛ رہی دل جمعی ۔۔۔۔۔۔ تو اس کے لیے کچھ ظاہری اسباب بھی اختیار کرنے ہوتے ہیں ۔ مثلاً:

🌸 گناہوں سے بچنا ہوتا ہے ، تاکہ دل میں نور پیدا ہو اور دل قرآن پاک کی طرف مائل رہے ۔

🌸 قرآن پاک پڑھنے کی فضیلتیں اور حفظ قرآن کی برکتیں ذہن میں رکھیں ، اپنے آپ سے کہیں کہ:
میں وہ کلامِ پاک پڑھ رہا ہوں جس کے ایک ایک حرف کی دس دس نیکیاں ہیں ، اور اگر یہ مجھے زبانی یاد ہوجاتا ہے تو میں فشار قبر اور عذاب قبر سے بچ جاؤں گا ، بلکہ میرے جسم کو قبر کی مٹی بھی نہیں کھائےگی ، اللہ پاک اسے قیامت تک سلامت رکھے گا ۔۔‌‌۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔

🌸 اپنی غذا کا خیال رکھیں ، بادی اور بازاری چیزیں کم سے کم‌ استعمال کریں ۔

🌸 چاٹی کا دیسی گھی میسر آئے تو ضرور استعمال کریں ۔
میرے پردادا جی رحمہ اللہ حافظ قرآن تھے اور ایسے حافظ تھے کہ ایک جگہ بیٹھ کر سارا قرآن پاک زبانی پڑھ دیتے تھے ، نہ کوئی متشابہ لگتا تھا ، نہ غلطی ہوتی تھی ۔
ان کی جتنے شاگرد ہوئے ، سب کی منزلیں مضبوط تھیں ، اور ایسی مضبوط کہ ایک رکعت میں بیس پارے بھی پڑھ دیا کرتے تھے ۔
پردادا جی رحمہ اللہ اپنے شاگردوں کو ہفتے بعد دیسی گھی پلایا کرتے تھے ، روزانہ مکھن کھلاتے تھے ، اور دیسی گھی استعمال کرنے کا پابند بنایا کرتے تھے ۔

حافظ کے لیے بہترین غذا دیسی گھی ہے جسے چاہے تو سالن میں ڈال کر کھا لے ، اور چاہے تو خشک روٹی پر لگا کر کھالے ۔
( پراٹھا نہ کھائے ، یہ معدے کے لیے اچھا نہیں ہوتا ۔ )

🌸 رات کو آدھا کلو دودھ میں آدھا چمچ سونف اور ایک‌ چھوٹی الائچی ڈال کر اُبال لے ، اورجب وہ نیم گرم رہ جائے تو تین چار کھجوریں کھا کر ، پی لے ۔

انشاءاللہ دماغ کو طاقت ملے گی ، حافظہ مضبوط ہوگا ، اور دل جمعی نصیب ہوگی ۔

🌸 اگر کوئی حافظ صاحب دیسی گھی اور دودھ خریدنے کی سکت نہ رکھتے ہوں تو حفاظ سے محبت کرنے والے صاحبِ استطاعت احباب ، رضائے الہی کے لیے انھیں ہدیہ کریں ، اللہ کریم اجر عطافرمائے گا ۔

ویسے بھی رمضان شریف میں جو حافظ صاحب تراویح پڑھاتے ہیں ، خوش عقیدہ مسلمان قرآن پاک کی محبت میں ان کی غذا وغیرہ کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا ہی اچھا ہو کہ یہ خیال رکھنا ابھی سے شروع کردیں ۔

✍️لقمان شاہد
16-3-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3112607745686060&id=100008105947430
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا آپ جانتے ہیں؟

• کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا، سراج الاُمّہ، کاشف الغُمّہ، امامِ اعظم، فقیہ افخم، حضرت سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے۔

• آپ ہر جمعۃ المبارکہ کو اپنے والدین کے ایصال ثواب کے لیے غرباء و مساکین میں ۲۰ سونے کی اشرفیاں یا ٢٠ درہم تقسیم فرماتے۔

• آپ نے زندگی میں کل ۵۵ حج کیے۔

• پینتالیس (٤٥) برس عشاء کے وضو سے نمازِ فجر ادا فرمائی۔

• مسلسل تیس سال روزے رکھے۔

• تیس سال تک ایک رکعت میں قرآنِ پاک ختم کرتے رہے۔

• رمضان المبارک میں اکسٹھ بار قرآنِ کریم ختم کیا کرتے۔ تیس دن میں، تیس رات میں اور ایک تراویح میں۔

• آخری حج میں آپ نے كعبة الله شریف کے اندر کھڑے ہو کر دو رکعت میں پورا قرآنِ پاک ختم کیا۔

• آپ زندگی بھر اپنے استاذِ محترم سیِدنا امام حماد (عليه رحمة الله الجواد) کے مکانِ کی طرف پائوں پھیلا کر نہیں لیٹے۔

• کہا جاتا ہے کہ جس جگہ آپ کی وفات ہوئی اس مقام پر آپ نے سات ہزار (٧٠٠٠) مرتبہ قرآنِ کریم ختم فرمايا تھا۔

بحوالہ :
الخیرات الحِسان لإبن حجر الھیتمي
مناقب الإمام الأعظم ابي حنيفة للمُوَفَّق

Facebook
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وسیم رضوی کے پسِ پردہ بغاوت پر آمادہ کرنے کی سازش

ہندو راشٹر کے قیام کے لیے کوشاں ملک مخالف طاقتیں ملعون وسیم رضوی کے سہارے پہلے مسلمانوں کو بغاوت پر ابھارنے کی کوشش کررہی ہیں اس کے بعد ہندو مسلم جنگ کراکے اپنے ناپاک خواب پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں.
ہم کیا کریں ؟ وسیم رضوی نے قرآن کریم کی 26 آیات نکالنے کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی ہے, خلفائے ثلاثہ پر الزام تراشی اور اسلام و مدارس پر دہشت گردی کا سنگین الزام لگایا ہے. ایسا سن کر غیرت مند مسلمانوں کا خون کھولنا یقینی ہے.
پورے معاملے کے نتائج و نقصانات کیا ہوں گے کہہ پانا مشکل ہے.
ہم نے صلیبی جنگوں کی تاریخیں پڑھیں ہیں اور ان کے ناپاک چالوں سے واقفیت بھی حاصل کی ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ کیسے ہمارے سپہ سالاروں نے ان کی چالوں کو انہیں پر الٹا کردکھایا ہے. آج آر ایس ایس صلیبی جنگوں کی تاریخ دوہرانا چاہتی ہے مگر اس وقت ہمارے پاس ان کی چالوں کو انہیں پر پلٹنے کی کیا تیاری ہے؟ کچھ کہہ پانا مشکل ہے.
امت کے جیالوں, مسلم امہ کے سپہ سالاروں یعنی معزز عالموں! آپ سب سرجوڑ کر بیٹھ کر سنجیدگی سے غور کریے. آپ کے اسلام پر, خلفا پر, آپ کی تعلیم پر, آپ کے مدرسے پر تشدد پھیلانے کا الزام لگ رہا اور ملک کی سب سے بڑی عدالت میں آپ کے خلاف عرضی داخل کردی گئی ہے, بہت ممکن ہے عدالت اس معاملے پر شنوائی نہ کرے مگر آپ کا غیر ذمہ دار مسلم سماج ان سازشوں کا شکار ضرور ہے ہوگا.
اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا وقت آگیا ہے. اس کی شروعات آپ معاملہ فہمی اور آپسی رابطہ سازی سے کریں جس کا پورا محور بدلتے ہندوستان کی تاریخ ہو.

از : محمد شاہ عالم مصباحی
استاذ دارالعلوم اہل سنت انوار الرضا گورا چوکی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/878940606009792/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌴لڑکی کی مرضی 🥀

سیدنا عثمان بن مَظْعُون رضی ‌اللہ ‌تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوگیا ، آپ کی ایک بیٹی تھی جسے آپ نے اپنے بھائی قُدَامہ بن مَظْعُون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کیا تھا ۔
وہ بیٹی جب نکاح کی عمر تک پہنچی تو سیدنا و مولانا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا ، جسے قبول کرکے سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ نکاح کردیا ۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جب اس رشتے کا معلوم ہوا تو وہ لڑکی کی ماں کے پاس گئے اور انھیں مالی طور پر رغبت دلائی ( کہ اپنی بیٹی کا رشتہ میرے ساتھ کریں ، سُکھی رہے گی ۔
چوں کہ وہ ماں تھیں ، انھوں نے بَھلا اِسی میں سمجھا اور ) وہ راضی ہوگئیں ، اور ان کی بیٹی کا رجحان بھی اپنی والدہ کی طرح سیدنا مغیرہ کی طرف ہوگیا ، اور انھوں نے سیدنا ابنِ عمر کے رشتے سے انکار کردیا ۔
( حالاں کہ سیدنا ابن عمر حضرت عثمان بن مظعون کے بھانجے تھے )

یہ معاملہ جب رسولِ خداﷺ کی بارگاہِ اقدس میں پہنچا تو آپ سے حضرت قُدامہ کہنے لگے:

یارسول اللہ ! یہ میری بھتیجی ہے ، جس کے متعلق میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی ۔
حضور ! میں نے اس کا رشتہ اس کے پھوپھی زاد عبد اللہ بن عمر سے کیا ہے اور میں نے اس کی بھلائی اور کفو میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ؛ لیکن یہ لڑکی اور اس کی ماں دوسری طرف مائل ہو گئی ہے ۔

رسول پاک ﷺ نےفرمایا:

" اس یتیم بچی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ۔ "

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے تھے:

اللہ کی قسم! یہ لڑکی میری ملکیت میں آنے کے بعد بھی مجھ سے چھن گئی اور حضرت مغیرہ رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نکاح میں چلی گئی ۔

( ملخصاً: مسند احمد بن حنبل ، ر 6893 ، قال المحقق: صحیح )

اسی طرح حضرت ام سائب رضی اللہ عنھا کے والد نے ان کا نکاح اپنی مرضی کے ایک شخص سے کیا ، تو انھوں نے اس کے ہاں جانے سے انکار کر دیا ، اور کہا:

" میں نے حضرت ابو لُبَابَہ سے شادی کرنی ہے ۔ "

ان کے والد بضد تھے کہ جہاں میں نے نکاح کردیا ہے وہیں جاؤ ، لیکن وہ نہیں مانتی تھیں ۔
جب یہ معاملہ سید عالم ﷺ کے حضور پیش ہو گیا تو عادل و حکیم رسول ﷺ نے فیصلہ سنایاکہ:

" یہ عورت اپنےمعاملے کی ( باپ سے ) زیادہ حق دار ہے ، جہاں یہ چاہتی ہے وہیں اس کی شادی کی جائے ۔ "

اس فرمان عالی کے بعد ان کی شادی سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے کر دی گئی ۔

( ملخصاً: ایضاً ، ر6898 )

¹ جب کسی معاملے میں اللہ و رسول کا حکم آجائے تو مسلمان کو فوراً سرِتسلیم خم کردینا چاہیے ۔

² ہماری بیٹیوں کو اللہ کے رسول نے جو حق دے دیا ہے ، وہ ہم ان سے کسی صورت نہیں چھین سکتے ، چھینیں گے تو ظالم کہلائیں گے ۔
نکاح کے معاملے میں وہ اپنی پسند ، ناپسند کا اختیار رکھتی ہیں اور اس کا اظہار کرنے میں ہم سے زیادہ حق دار ہیں ۔

اللہ کرے یہ بات ہمارے ذہن میں ہمیشہ کے لیے بیٹھ جائے ، اور ہم جو جھوٹی پارسائیاں ، رکھ رکھاؤ ، اور رسم و رواج لیے بیٹھے ہیں ان سے ہماری جان چھوٹ جائے ۔

✍️لقمان شاہد
17-3-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3112932768986891&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مَنقبت در شانِ امام اعظم ابُو حنیفہ
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ

▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہمارے آقا ... ہمارے مولیٰ
امام اعظم ابو حنیفہ
ہمارے ملجاء ہمارے ماویٰ
امام اعظم ابو حنیفہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مفسر شہیر | حکیم الامت
#مفتی_احمد_یار_خان_نعیمی
رَحۡــمَــةُ الــلّٰــهِ تَــعَـالیٰ عَــلَــیۡــه
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ
@islaamic_Knowledge
➻═══════════➻