اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن
کی غالباً سب سے ضخیم کتاب!
اس کتاب کا نام "منتہی التفصیل لمبحث التفضیل " ہے
یہ کتاب تقریباً 5760 صفحات پر مشتمل تھی۔ یہ کتاب حضرات شیخین سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی افضلیت کے موضوع پر تحریر فرمائی۔
یہ کتاب آپ نے تقریباً 23سال کی عمر میں تصنیف فرمائی ۔اس کتاب کی ضخامت کے پیش نظر آپ نے خیال کیا کہ لوگ اس کے مطالعہ سے قاصر رہیں گے لہذا اس کو مختصر کیا ۔ اصل کتاب تو آج تک دستیاب نہیں ہو سکی، البتہ اس کی تلخیص کا کچھ حصہ دستیاب ہوا جو کہ مطلع القمرین فی ابانۃسبقۃ العمرین کے نام سے شائی ہوئی ہے۔
https://www.alahazratnetwork.org/download/matlaulqamarain/
#HazratAbuBakr
#HazratUmar
#AhmadRaza
#AlaHazrat
#TehqiqateRaza
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2877877982536487&id=100009429394810
کی غالباً سب سے ضخیم کتاب!
اس کتاب کا نام "منتہی التفصیل لمبحث التفضیل " ہے
یہ کتاب تقریباً 5760 صفحات پر مشتمل تھی۔ یہ کتاب حضرات شیخین سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی افضلیت کے موضوع پر تحریر فرمائی۔
یہ کتاب آپ نے تقریباً 23سال کی عمر میں تصنیف فرمائی ۔اس کتاب کی ضخامت کے پیش نظر آپ نے خیال کیا کہ لوگ اس کے مطالعہ سے قاصر رہیں گے لہذا اس کو مختصر کیا ۔ اصل کتاب تو آج تک دستیاب نہیں ہو سکی، البتہ اس کی تلخیص کا کچھ حصہ دستیاب ہوا جو کہ مطلع القمرین فی ابانۃسبقۃ العمرین کے نام سے شائی ہوئی ہے۔
https://www.alahazratnetwork.org/download/matlaulqamarain/
#HazratAbuBakr
#HazratUmar
#AhmadRaza
#AlaHazrat
#TehqiqateRaza
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2877877982536487&id=100009429394810
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
بچوں کو آزادی دیجیے
محترم والدین! آپ نے کبھی نہ کبھی یہ جملہ ضرور سنا ہوگا "روک ٹوک کی زیادتی بچوں کو باغی بنا دیتی ہے" یہ ایک حقیقت ہے جس عمر میں بچوں کا ذہن آزادی چاہتا ہے اس عمر میں اگر بچوں کی آزادی چھین لی جائے تو ان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جب بچے ان منفی اثرات کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں تو نتیجتاً احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ان کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچتا ہے مشکل حالات سے نمٹنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے زندگی کے ہر مرحلے پر انھیں غلطی کا خوف لاحق رہتا ہے اور یہ تمام چیزیں بچوں کا مستقبل تاریک کر دیتی ہے۔
یاد رکھیے! درست تربیت ہی بچے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے لہٰذا جس وقت بچے تربیتی مراحل میں ہوں انھیں کچھ چیزوں کی آزادی دیجیے:
(1) تجربات کی آزادی:
اگر آپ کے بچے کوئی نیا اور اچھا کام کرتے ہیں تو انھیں روک کر ان کی صلاحیت کو زنگ آلود مت کیجیے بلکہ اپنے مفید مشوروں اور تجربہ کے تجربات کی روشنی میں ان کی مدد کیجیے۔
(2) خوف سے آزادی:
یاد رکھیے! بے جا خوف بچوں میں بزدلی اور کم ہمتی پیدا کرتا ہے اگر آپ بچوں پر زور زبردستی کریں گے تو ان میں خوف پیدا ہوگا وہ آپ سے باتیں مشورہ کرتے ہوئے گھبرائیں گے یا پھر وہ ضدی ہوجائیں گے کیونکہ ضرورت سے زیادہ ڈاٹ یا مار پیٹ بچے کے ذہن میں خوف پیدا کر دیتی ہے اپنے رویّے میں نرمی پیدا کیجئے بچوں کو اپنی خامیاں تلاش کرنے کا موقع دیجیے امتحانات اور دیگر اہم کاموں میں ناکامی کی صورت میں انھیں ڈانٹنے یا مارنے کی نہیں بلکہ ان کی ہمت بڑھانے اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
(3) گفتگو کی آزادی:
عدم توجہی کی وجہ سے بچے اور آپ کے درمیان (Communication) گیپ آجاتا ہے جس کی وجہ سے بچہ آپ سے ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے آپ بچے کو ایسا ماحول فراہم کریں بچہ آپ کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہوئے ہر موضوع پر کھل کر بات کر سکے۔
(4) مشورے کی آزادی :
اگر آپ بچے میں قوت فیصلہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو بچے کو مشورہ دینے کی بھی آزادی دیں تاکہ اس کے اندر رائے قائم کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔
(5) کھیل کی آزادی:
اکثر والدین بچے کو چوٹ لگنے کے ڈر سے کھیلنے سے روکتے ہیں جبکہ چوٹ ہی بچے کو احتیاط کرنا سکھاتی ہے بچوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ انھیں بڑی اور گہری چوٹ نہ لگے ہلکی پھلکی خراش یا ٹھوکر لگ کر گر جانا ان کی جسمانی مضبوطی اور شخصی تعمیر کا ذریعہ ہے۔
محترم والدین!
مندرجہ بالا نکات کو سامنے رکھتے ہوئے بچے کی تربیت میں آزادی کا حصہ بھی شامل کیجیے تاکہ بچے کی شخصیت کی تعمیر ہو اس کا مستقبل تاریک کے بجائے تابناک ہو اور وہ معاشرے میں کامیاب فرد کی حیثیت سے زندگی گزار سکے۔
عبد مصطفیٰ آفیشل
محترم والدین! آپ نے کبھی نہ کبھی یہ جملہ ضرور سنا ہوگا "روک ٹوک کی زیادتی بچوں کو باغی بنا دیتی ہے" یہ ایک حقیقت ہے جس عمر میں بچوں کا ذہن آزادی چاہتا ہے اس عمر میں اگر بچوں کی آزادی چھین لی جائے تو ان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جب بچے ان منفی اثرات کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں تو نتیجتاً احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ان کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچتا ہے مشکل حالات سے نمٹنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے زندگی کے ہر مرحلے پر انھیں غلطی کا خوف لاحق رہتا ہے اور یہ تمام چیزیں بچوں کا مستقبل تاریک کر دیتی ہے۔
یاد رکھیے! درست تربیت ہی بچے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے لہٰذا جس وقت بچے تربیتی مراحل میں ہوں انھیں کچھ چیزوں کی آزادی دیجیے:
(1) تجربات کی آزادی:
اگر آپ کے بچے کوئی نیا اور اچھا کام کرتے ہیں تو انھیں روک کر ان کی صلاحیت کو زنگ آلود مت کیجیے بلکہ اپنے مفید مشوروں اور تجربہ کے تجربات کی روشنی میں ان کی مدد کیجیے۔
(2) خوف سے آزادی:
یاد رکھیے! بے جا خوف بچوں میں بزدلی اور کم ہمتی پیدا کرتا ہے اگر آپ بچوں پر زور زبردستی کریں گے تو ان میں خوف پیدا ہوگا وہ آپ سے باتیں مشورہ کرتے ہوئے گھبرائیں گے یا پھر وہ ضدی ہوجائیں گے کیونکہ ضرورت سے زیادہ ڈاٹ یا مار پیٹ بچے کے ذہن میں خوف پیدا کر دیتی ہے اپنے رویّے میں نرمی پیدا کیجئے بچوں کو اپنی خامیاں تلاش کرنے کا موقع دیجیے امتحانات اور دیگر اہم کاموں میں ناکامی کی صورت میں انھیں ڈانٹنے یا مارنے کی نہیں بلکہ ان کی ہمت بڑھانے اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
(3) گفتگو کی آزادی:
عدم توجہی کی وجہ سے بچے اور آپ کے درمیان (Communication) گیپ آجاتا ہے جس کی وجہ سے بچہ آپ سے ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے آپ بچے کو ایسا ماحول فراہم کریں بچہ آپ کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہوئے ہر موضوع پر کھل کر بات کر سکے۔
(4) مشورے کی آزادی :
اگر آپ بچے میں قوت فیصلہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو بچے کو مشورہ دینے کی بھی آزادی دیں تاکہ اس کے اندر رائے قائم کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔
(5) کھیل کی آزادی:
اکثر والدین بچے کو چوٹ لگنے کے ڈر سے کھیلنے سے روکتے ہیں جبکہ چوٹ ہی بچے کو احتیاط کرنا سکھاتی ہے بچوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ انھیں بڑی اور گہری چوٹ نہ لگے ہلکی پھلکی خراش یا ٹھوکر لگ کر گر جانا ان کی جسمانی مضبوطی اور شخصی تعمیر کا ذریعہ ہے۔
محترم والدین!
مندرجہ بالا نکات کو سامنے رکھتے ہوئے بچے کی تربیت میں آزادی کا حصہ بھی شامل کیجیے تاکہ بچے کی شخصیت کی تعمیر ہو اس کا مستقبل تاریک کے بجائے تابناک ہو اور وہ معاشرے میں کامیاب فرد کی حیثیت سے زندگی گزار سکے۔
عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لڑکا، لڑکی، نوکری، رشوت اور لالچ
محمد شاہد علی مصباحی (باگی، جالون)
رکن: روشن مستقبل دہلی
نائب صدر: تحریک علماے بندیل کھنڈ
جب بات جہیز کی ہو تو ہمارا موقف یہ ہے: "جہیز مانگنا بھی غلط ہے اور پچاس ہزار کی نوکری والا لڑکا تلاش کرنا بھی غلط ہے۔"
اگر سب نوکری والا لڑکا ہی تلاش کریں گے تو باقی لڑکے کنوارے رہیں گے کیا؟
ہم جان بوجھ کر دولت مند لڑکا تلاش کرتے ہیں اور خود ہی پوچھتے ہیں آپ کی مانگ کیا ہے؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب تک لڑکے کی نوکری نہیں لگی ہے تب تک کوئی رشتہ نہیں آتا، ماں باپ کسی سے کہتے ہیں تو لڑکی والے تیار نہیں ہوتے، لڑکی والوں کا پہلا سوال ہوتا ہے کہ لڑکا کماتا کتنا ہے؟ ہماری لڑکی کو کیا کھلاے گا؟ کیا پہناے گا؟
مگر جیسے ہی نوکری لگ جاتی ہے تو رشتے والوں کی آمد سے چوکھٹ گھس جاتی ہے۔
اب لڑکے والے کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور ڈیمانڈ کیوں نہ بڑھے جبکہ ڈیمانڈ بڑھنے کی ایک نہیں دو وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ: کہ اسی لڑکے کو سیکڑوں لوگ رجیکٹ کر چکے ہوتے ہیں، تو اب لڑکے والے اپنا غصہ نکالنا چاہتے ہیں۔
دوسری وجہ: رشوت ہے کہ نوکری لگنے میں جو بڑی پیٹی رشوت کی دی ہے؛ اس کی بھرپائی بھی تو کرنی ہے کہیں نہ کہیں سے!
تو جو سامنے ہوگا وہی نظر آئے گا۔ اب لڑکی والے ہی چوکھٹ گھس رہے ہوتے ہیں، تو اس قیمت کا ٹھیکرا انہیں پر پھوٹتا ہے۔
بارہا دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی نوکری لگنے کی خبر ملتی ہے وہی لوگ پہلی فرصت میں رشتہ لگانے پہنچ جاتے ہیں جو کئی بار اسی لڑکے کو پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے رجیکٹ کرچکے ہوتے ہیں۔
تو اب جبکہ اس کے پاس پیسہ ہے تو کیوں نہ آپ سے پوچھے کہ آپ کیا دے سکتے ہیں؟
اس کو رجیکٹ اسی لیے کیا تھا کہ اس کے پاس پیسہ نہیں تھا، سوچتے تھے لڑکی کو کیا کھلاے گا؟ کیا پہناے گا؟
تو اب جب کہ وہ نوکری والا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ تم کتنا دوگے؟
اور آپ بھی کوئی نیک بن کر تو گئے نہیں ہیں اس کے دروازے! آپ بھی لالچ کا پٹارہ لیکر گئے ہیں اور نیت کرکے گئے ہیں گاڑی یا کچھ کیش کے بدلے لڑکا خرید کر ہی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ لوٹیں گے۔
تو اب جب وہ مزید مانگتا ہے تو کیس بات کا؟ الزام کس بات کا؟ یہ تو اپ ہی نے سکھایا تھا کہ رشتہ ہمارے یہاں کردو بولو کون سی گاڑی چاہیے؟ کتنا کیش چاہیے؟
تو آج اسے دوسری گاڑی پسند آگئی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جس طرح اپ نے اسے قیمت دیکر خریدا تھا اب پھر سے لڑکی کی خاطر خریدیں گے۔
تو اب روتے کیوں ہو؟
یہ راستہ اسے آپ ہی نے بتایا ہے!
اب قصور وار صرف لڑکا کیوں؟
میرا اپنا نظریہ یہاں کچھ اور بھی ہے، اور یہ کہ
قصوروار دو فریق نہیں بلکہ تین ہیں۔ اور وہ تیسرا فریق ہے "رشوت"
جب قصور وار تین ہیں تو صرف لڑکے پر ساری بلا کیوں؟
اسی پر ناکامی کا ٹھیکرا کیوں پھوٹے؟
اسی کو جیل کی ہوا کیوں کھانی پڑے؟
رشتہ بگڑنے کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا جہیز یاد کرنا:
آپ رشتہ کرتے وقت اسلام کو فالو نہیں کرتے اور جب رشتہ بگڑ جاتا ہے یا کچھ اونچ نیچ ہوجاتی ہے تو حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کا جہیز یاد آ جاتا ہے۔
اگر آپ کو جہیز حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یاد آتا ہے، تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غربت کیوں بھول جاتے ہیں رشتہ کرتے وقت؟
اسلام سے سیکھیں رشتہ کیسے کیا جاتا ہے:
فرمان خدا وندی ملاحظہ کریں: وَ اَنۡکِحُوا الۡاَیَامٰی مِنۡکُمۡ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنۡ عِبَادِکُمۡ وَ اِمَآئِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغۡنِہِمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ سورہ نور، آیت: ۳۲﴾
ترجمہ: اور نکاح کر دو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انھیں غنی کر دے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
اللہ عزوجل تو فرما رہا ہے اگر غریب ہوں، نادار ہوں تب بھی نکاح کردو اللہ انہیں غنی فرمادیگا، بے نیاز کردیگا۔
مگر نا بابا نا ! ہم تو نوکری والا ہی تلاش کریں گے!
حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ. ( بخاری شریف، حدیث نمبر: 5090)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
محمد شاہد علی مصباحی (باگی، جالون)
رکن: روشن مستقبل دہلی
نائب صدر: تحریک علماے بندیل کھنڈ
جب بات جہیز کی ہو تو ہمارا موقف یہ ہے: "جہیز مانگنا بھی غلط ہے اور پچاس ہزار کی نوکری والا لڑکا تلاش کرنا بھی غلط ہے۔"
اگر سب نوکری والا لڑکا ہی تلاش کریں گے تو باقی لڑکے کنوارے رہیں گے کیا؟
ہم جان بوجھ کر دولت مند لڑکا تلاش کرتے ہیں اور خود ہی پوچھتے ہیں آپ کی مانگ کیا ہے؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب تک لڑکے کی نوکری نہیں لگی ہے تب تک کوئی رشتہ نہیں آتا، ماں باپ کسی سے کہتے ہیں تو لڑکی والے تیار نہیں ہوتے، لڑکی والوں کا پہلا سوال ہوتا ہے کہ لڑکا کماتا کتنا ہے؟ ہماری لڑکی کو کیا کھلاے گا؟ کیا پہناے گا؟
مگر جیسے ہی نوکری لگ جاتی ہے تو رشتے والوں کی آمد سے چوکھٹ گھس جاتی ہے۔
اب لڑکے والے کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور ڈیمانڈ کیوں نہ بڑھے جبکہ ڈیمانڈ بڑھنے کی ایک نہیں دو وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ: کہ اسی لڑکے کو سیکڑوں لوگ رجیکٹ کر چکے ہوتے ہیں، تو اب لڑکے والے اپنا غصہ نکالنا چاہتے ہیں۔
دوسری وجہ: رشوت ہے کہ نوکری لگنے میں جو بڑی پیٹی رشوت کی دی ہے؛ اس کی بھرپائی بھی تو کرنی ہے کہیں نہ کہیں سے!
تو جو سامنے ہوگا وہی نظر آئے گا۔ اب لڑکی والے ہی چوکھٹ گھس رہے ہوتے ہیں، تو اس قیمت کا ٹھیکرا انہیں پر پھوٹتا ہے۔
بارہا دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی نوکری لگنے کی خبر ملتی ہے وہی لوگ پہلی فرصت میں رشتہ لگانے پہنچ جاتے ہیں جو کئی بار اسی لڑکے کو پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے رجیکٹ کرچکے ہوتے ہیں۔
تو اب جبکہ اس کے پاس پیسہ ہے تو کیوں نہ آپ سے پوچھے کہ آپ کیا دے سکتے ہیں؟
اس کو رجیکٹ اسی لیے کیا تھا کہ اس کے پاس پیسہ نہیں تھا، سوچتے تھے لڑکی کو کیا کھلاے گا؟ کیا پہناے گا؟
تو اب جب کہ وہ نوکری والا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ تم کتنا دوگے؟
اور آپ بھی کوئی نیک بن کر تو گئے نہیں ہیں اس کے دروازے! آپ بھی لالچ کا پٹارہ لیکر گئے ہیں اور نیت کرکے گئے ہیں گاڑی یا کچھ کیش کے بدلے لڑکا خرید کر ہی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ لوٹیں گے۔
تو اب جب وہ مزید مانگتا ہے تو کیس بات کا؟ الزام کس بات کا؟ یہ تو اپ ہی نے سکھایا تھا کہ رشتہ ہمارے یہاں کردو بولو کون سی گاڑی چاہیے؟ کتنا کیش چاہیے؟
تو آج اسے دوسری گاڑی پسند آگئی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جس طرح اپ نے اسے قیمت دیکر خریدا تھا اب پھر سے لڑکی کی خاطر خریدیں گے۔
تو اب روتے کیوں ہو؟
یہ راستہ اسے آپ ہی نے بتایا ہے!
اب قصور وار صرف لڑکا کیوں؟
میرا اپنا نظریہ یہاں کچھ اور بھی ہے، اور یہ کہ
قصوروار دو فریق نہیں بلکہ تین ہیں۔ اور وہ تیسرا فریق ہے "رشوت"
جب قصور وار تین ہیں تو صرف لڑکے پر ساری بلا کیوں؟
اسی پر ناکامی کا ٹھیکرا کیوں پھوٹے؟
اسی کو جیل کی ہوا کیوں کھانی پڑے؟
رشتہ بگڑنے کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا جہیز یاد کرنا:
آپ رشتہ کرتے وقت اسلام کو فالو نہیں کرتے اور جب رشتہ بگڑ جاتا ہے یا کچھ اونچ نیچ ہوجاتی ہے تو حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کا جہیز یاد آ جاتا ہے۔
اگر آپ کو جہیز حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یاد آتا ہے، تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غربت کیوں بھول جاتے ہیں رشتہ کرتے وقت؟
اسلام سے سیکھیں رشتہ کیسے کیا جاتا ہے:
فرمان خدا وندی ملاحظہ کریں: وَ اَنۡکِحُوا الۡاَیَامٰی مِنۡکُمۡ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنۡ عِبَادِکُمۡ وَ اِمَآئِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغۡنِہِمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ سورہ نور، آیت: ۳۲﴾
ترجمہ: اور نکاح کر دو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انھیں غنی کر دے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
اللہ عزوجل تو فرما رہا ہے اگر غریب ہوں، نادار ہوں تب بھی نکاح کردو اللہ انہیں غنی فرمادیگا، بے نیاز کردیگا۔
مگر نا بابا نا ! ہم تو نوکری والا ہی تلاش کریں گے!
حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ. ( بخاری شریف، حدیث نمبر: 5090)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
(1) اس کے مال کی وجہ سے۔
(2) اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے۔
(3) اس کی خوبصورتی کی وجہ سے۔
(4) اس کے دین کی وجہ سے
اور تو دین دار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی۔ ( یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی۔)
یا رکھیں ! یہ حکم طرفین کے لیے یکساں ہے۔ لڑکی میں بھی دین داری دیکھیں اور لڑکے میں بھی۔
غور کریں! مذہب اسلام تو کہتا ہے کہ شادی نہ مال دیکھ کر کرو، نہ خوبصورتی دیکھ کر، نہ دنیاوی جاہ و جلال کے حصول کی خاطر بلکہ شادی دین دیکھ کر کرو!
یعنی: اگر لڑکا یا لڑکی مالدار ہے تو شادی صرف مالداری کی بنیاد پر نہ کرو!
اگر خوبصورت ہیں تو صرف خوبصورتی کی بنیاد نہ رشتہ نہ کرو!
اگر جاہ و منزلت والے ہیں تو رشتہ صرف جاہ و منزلت کی بنیاد پر نہ کرو!
بلکہ رشتہ کرنے میں دین داری دیکھو!
اگرچہ غریب ہو مگر دین دار ہو تو رشتہ کرلو! اگرچہ خوبصورت نہیں ہے مگر دین دار ہے تو رشتہ کرلو! اگرچہ جاہ و منزلت نہیں ہے مگر دین داری ہے تو رشتہ کرلو!
یقین جانو! اگر رشتے دین داری کی بنیاد پر ہوں تو جہیز کی بات ہی نہ آے گی۔
نہ جہیز کے لیے لڑکی ستائی جاے گی اور نہ ہی مالدار نہ ہونے کی بنیاد پر غریب لڑکوں کے رشتے رکیں گے۔
یہ ساری تباہی رک سکتی ہے، بس شرط یہ کہ دین داری کو اختیار کرلو!
مگر ہمارا لالچ ہمیں یہ نہیں کرنے دیتا اور پھر جب کوئی بات بگڑتی ہے تو قصور وار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔
جبکہ قصور وار ہم خود بھی ہوتے ہیں!
اللہ عزوجل ہم سب کو عقل سلیم عطا فرماے!
#محمد_شاہد_علی_مصباحی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/874249293145590/
(2) اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے۔
(3) اس کی خوبصورتی کی وجہ سے۔
(4) اس کے دین کی وجہ سے
اور تو دین دار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی۔ ( یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی۔)
یا رکھیں ! یہ حکم طرفین کے لیے یکساں ہے۔ لڑکی میں بھی دین داری دیکھیں اور لڑکے میں بھی۔
غور کریں! مذہب اسلام تو کہتا ہے کہ شادی نہ مال دیکھ کر کرو، نہ خوبصورتی دیکھ کر، نہ دنیاوی جاہ و جلال کے حصول کی خاطر بلکہ شادی دین دیکھ کر کرو!
یعنی: اگر لڑکا یا لڑکی مالدار ہے تو شادی صرف مالداری کی بنیاد پر نہ کرو!
اگر خوبصورت ہیں تو صرف خوبصورتی کی بنیاد نہ رشتہ نہ کرو!
اگر جاہ و منزلت والے ہیں تو رشتہ صرف جاہ و منزلت کی بنیاد پر نہ کرو!
بلکہ رشتہ کرنے میں دین داری دیکھو!
اگرچہ غریب ہو مگر دین دار ہو تو رشتہ کرلو! اگرچہ خوبصورت نہیں ہے مگر دین دار ہے تو رشتہ کرلو! اگرچہ جاہ و منزلت نہیں ہے مگر دین داری ہے تو رشتہ کرلو!
یقین جانو! اگر رشتے دین داری کی بنیاد پر ہوں تو جہیز کی بات ہی نہ آے گی۔
نہ جہیز کے لیے لڑکی ستائی جاے گی اور نہ ہی مالدار نہ ہونے کی بنیاد پر غریب لڑکوں کے رشتے رکیں گے۔
یہ ساری تباہی رک سکتی ہے، بس شرط یہ کہ دین داری کو اختیار کرلو!
مگر ہمارا لالچ ہمیں یہ نہیں کرنے دیتا اور پھر جب کوئی بات بگڑتی ہے تو قصور وار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔
جبکہ قصور وار ہم خود بھی ہوتے ہیں!
اللہ عزوجل ہم سب کو عقل سلیم عطا فرماے!
#محمد_شاہد_علی_مصباحی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/874249293145590/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
امام سے پہلے اہلبیت کو سمجھیں حضور کے سب سے قریب کون ؟ مکالمہ = امام باقر اور امام اعظم مختصر سوانح امام جعفر صادق امام جعفر کا علمی مقام و مرتبہ امام جعفر امام اعظم کی نظر میں ح جعفر امام اعظم کی مجلس افتاء نیاز و فاتحہ میں فرق طریقۂ فاتحہ کونڈوں کی فاتحہ…
صحیح تاریخ وصال پندرہ رجب ہے!
کونڈے کے برتن دوسری جگہ لے جانا
جہاں فاتحہ ہو وہیں کِھلانا جہالت ہے
فاتحہ سے پہلے لکڑہارے کی کہانی
امام جعفر کے اخلاص و سادگی
حضرت امام جعفر کی سخاوت
کشف کے ذریعہ جنبی کے حلات
ٹھوکر مار کر مری ہوئی گائے زندہ
آپ نے کھوئی ہوئی چادر لوٹا دی
حضور اور اہل بیت | قرب جنت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #کونڈے_کی_فاتحہ 📜³
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
کونڈے کے برتن دوسری جگہ لے جانا
جہاں فاتحہ ہو وہیں کِھلانا جہالت ہے
فاتحہ سے پہلے لکڑہارے کی کہانی
امام جعفر کے اخلاص و سادگی
حضرت امام جعفر کی سخاوت
کشف کے ذریعہ جنبی کے حلات
ٹھوکر مار کر مری ہوئی گائے زندہ
آپ نے کھوئی ہوئی چادر لوٹا دی
حضور اور اہل بیت | قرب جنت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #کونڈے_کی_فاتحہ 📜³
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✮محمد ضیاءالدین خان قادری✮
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُه
ُ
بعدہٗ عرض یہ ہے کہ نماز جمعہ میں جو اذان ثانی ہوتی ہےتومواذن (اشھدان محمدالرسول اللہ) پڑھتا ہے اس وقت اسم محمد ﷺ پر انگوٹھا چومنا کیسا ہے
اگر نہیں چومنا چائے تو اس کی وجہ کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جب (والھکم ) پڑھتے ہیں تو ایک جگہ ( مآ کان محمدٌ) آتا ہے تو اس مقام پر بھی انگوٹھا چومتے ہیں تو اس جگہ انگوٹھا چومنا کیسا ہے اگر نہیں چومنا چائے تو کیوں اس کی وجہ کیا ہے دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کریں خاص مہربانی ہوگی ۔
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الملک الوھاب
اللھم ھدایة الحق والصواب
خطبہ اور تلاوت توجہ سے سننا اور خاموش رہنا واجب ہے، اور انگوٹھے چومنا توجہ سے سننے کے منافی ہے.
قال الله تعالی فی القرآن المجید
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿ الاعراف ٢٠٤﴾
ترجمہ
جب قرآن پڑھا جاۓ تو کان لگاکر سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جاۓ ۔
فتاوی حامدیہ میں اس آیت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
یہ آیت کریمہ اگرچہ درباۂ نماز وارد ہے مگر ،، اِذَا قُرِیَٔ ،، عام ہے اور خصوص سبب کا لحاظ نہیں عموم لفظ کا اعتبار ہے اور انصات واجب بلکہ حسب تصریح امام برہان الدین مرغینانی صاحب ،،ہدایہ ،، فرض
،، رد المختار ،، میں ہے :
قولہ افتراض الانصات عبر بالافتراض تبعا للھدایة و عبر فی النھر بالوجوب قال الطحطاوی وھو الاولی لان ترکہ مکروہ تحریما
یعنی خاموش کو فرض سے تعبير کیا صاحب ،، ہدایہ ،، کی اتباع میں اور ،، نہر ،، میں وجوب سے تعبير کیا ، امام طحطاوی نے فرمایا : یہی اولی ہے اس لیۓ اس کا ترک مکروہ تحریمی ہے ۔
اور جمعہ میں اذان ثانی کا جواب دینا اس لیۓ جاٸز نہیں کہ ہمارے مذہب ( حنفی ) میں مفتی بہ قول یہ ہے کہ
جب امام خطبہ دینے کے لیۓ منبر پر بیٹھے اس وقت سے لیکر ختم نماز تک ہر قسم کا کلام منع ہے چاہے وہ کلام دینی ہو یا دنیوی اور خطبہ کی اذان کا جواب دینا دینی کلام ہے اس وجہ سے یہ بھی جائز نہیں ۔
رد المختار میں ہے کہ
اجابة الاذان حینئذ مکروہ .
[ رد المختار جلد ٢ صفحہ ١٦٠ باب الجمعة ]
در مختار مع شامی میں ہے کہ
اذا خرج الامام من الحجرة ان کان و الا فقیامہ للصعود شرح المجمع فلا صلاة وکلام الی تمامھا ۔
[ در مختار مع شامی جلد ٢ صفحہ ١٥٨ ]
اور تنقیح ضروری حاشیہ قدوری شریف میں ہے ۔
فی العیون المراد بہ (ای الکلام) اجابة المٶذن اما غیرہ من الکلام فیکرہ بالاجماع ۔
[ تنقیح الضروری حاشیہ قدوری صفحہ ٣٧ ]
فتاوی عالمگیری میں ہے :
إذا خرج الامام فلا صلاة و لا کلام
جب امام خطبہ کے لیۓ نکلے تو اس کے بعد نماز اور گفتگو جاٸز نہیں ہے ۔
[ الفتاوی الھندیة ، کتاب الصلوة ، الباب السادس عشر فی صلاة الجمعة : ١ / ١٥٨ ]
و اذا صلی علی النبی ﷺ یصلی الناس علیہ فی انفسھم امتثالا للأمر ، و السنة الانصات ، کذا فی التاتارخانیة ناقلا عن الحجة ،،،
اور جب وہ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے تو لوگ اپنے دلوں میں درود شریف کا ورد کریں ، حکم کی بجا آوری کے پیش نظر سنت سکوت ہے ، اسی طرح تاتارخانیہ میں بروایت حجہ ہے اور دل میں درود پڑھنے سے مراد یہ کہ پورے خطبہ میں خاموش رہے ۔
[ الفتاوی التاتارخانیة ، کتاب الصلوة الفصل الخامس و العشرون فی صلاة الجمعة : ١ / ٥٤٤ ]
طحاوی میں ہے : ،، قولہ فی انفسھم ...
الانصات بجمیعھا ،،
لکھتے ہیں :
قولہ : و السنة الانصات . ھذا أ حد اقوال : ....... والمشھور الوجوب ۔
سکوت سنت ہے یہ ان کا قول ہے جبکہ مشہور وجوب ہے ۔
[ حاشیة الطحاوی علی المراقی باب الجمعة ، ١ / ٥٤٤ ]
لہذا جب تلاوت کی جاۓ تو چپ چاپ بغور سنیں
اور جمعہ میں جو اذان ثانی ہوتی اسے بھی بغور سنیں دوران اذان کوٸی بھی کلام نہ کریں اگر چہ وہ دینی کلام ہی کیوں نہ ہو ۔
ہاں اس وقت دل میں درود پاک پڑھے ،
تلاوت قرآن عظیم کے وقت اور خطبہ کے وقت جب جب حضور ﷺ کا نام پاک سنے تو دل میں درود پاک پڑھے ، زبان سے نہ پڑھے ، نہ انگوٹھا چومے ۔
فتاوی مفتٸ اعظم جلد ٣ صفحہ ١٢٩
فتاوی مصطفویہ صفحہ ٢٢٠
فتاوی حامدیہ صفحہ ٢٥٢
فتاوی امجدیہ جلد ١ صفحہ ٢٩٥
فتاوی فقیہ ملت جلد ١ صفحہ ٢٤٣
و الله تعالی ﷻ اعلم بالصواب
✍ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بہراٸچ شریف یوپی الھند
ُ
بعدہٗ عرض یہ ہے کہ نماز جمعہ میں جو اذان ثانی ہوتی ہےتومواذن (اشھدان محمدالرسول اللہ) پڑھتا ہے اس وقت اسم محمد ﷺ پر انگوٹھا چومنا کیسا ہے
اگر نہیں چومنا چائے تو اس کی وجہ کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جب (والھکم ) پڑھتے ہیں تو ایک جگہ ( مآ کان محمدٌ) آتا ہے تو اس مقام پر بھی انگوٹھا چومتے ہیں تو اس جگہ انگوٹھا چومنا کیسا ہے اگر نہیں چومنا چائے تو کیوں اس کی وجہ کیا ہے دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کریں خاص مہربانی ہوگی ۔
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الملک الوھاب
اللھم ھدایة الحق والصواب
خطبہ اور تلاوت توجہ سے سننا اور خاموش رہنا واجب ہے، اور انگوٹھے چومنا توجہ سے سننے کے منافی ہے.
قال الله تعالی فی القرآن المجید
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿ الاعراف ٢٠٤﴾
ترجمہ
جب قرآن پڑھا جاۓ تو کان لگاکر سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جاۓ ۔
فتاوی حامدیہ میں اس آیت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
یہ آیت کریمہ اگرچہ درباۂ نماز وارد ہے مگر ،، اِذَا قُرِیَٔ ،، عام ہے اور خصوص سبب کا لحاظ نہیں عموم لفظ کا اعتبار ہے اور انصات واجب بلکہ حسب تصریح امام برہان الدین مرغینانی صاحب ،،ہدایہ ،، فرض
،، رد المختار ،، میں ہے :
قولہ افتراض الانصات عبر بالافتراض تبعا للھدایة و عبر فی النھر بالوجوب قال الطحطاوی وھو الاولی لان ترکہ مکروہ تحریما
یعنی خاموش کو فرض سے تعبير کیا صاحب ،، ہدایہ ،، کی اتباع میں اور ،، نہر ،، میں وجوب سے تعبير کیا ، امام طحطاوی نے فرمایا : یہی اولی ہے اس لیۓ اس کا ترک مکروہ تحریمی ہے ۔
اور جمعہ میں اذان ثانی کا جواب دینا اس لیۓ جاٸز نہیں کہ ہمارے مذہب ( حنفی ) میں مفتی بہ قول یہ ہے کہ
جب امام خطبہ دینے کے لیۓ منبر پر بیٹھے اس وقت سے لیکر ختم نماز تک ہر قسم کا کلام منع ہے چاہے وہ کلام دینی ہو یا دنیوی اور خطبہ کی اذان کا جواب دینا دینی کلام ہے اس وجہ سے یہ بھی جائز نہیں ۔
رد المختار میں ہے کہ
اجابة الاذان حینئذ مکروہ .
[ رد المختار جلد ٢ صفحہ ١٦٠ باب الجمعة ]
در مختار مع شامی میں ہے کہ
اذا خرج الامام من الحجرة ان کان و الا فقیامہ للصعود شرح المجمع فلا صلاة وکلام الی تمامھا ۔
[ در مختار مع شامی جلد ٢ صفحہ ١٥٨ ]
اور تنقیح ضروری حاشیہ قدوری شریف میں ہے ۔
فی العیون المراد بہ (ای الکلام) اجابة المٶذن اما غیرہ من الکلام فیکرہ بالاجماع ۔
[ تنقیح الضروری حاشیہ قدوری صفحہ ٣٧ ]
فتاوی عالمگیری میں ہے :
إذا خرج الامام فلا صلاة و لا کلام
جب امام خطبہ کے لیۓ نکلے تو اس کے بعد نماز اور گفتگو جاٸز نہیں ہے ۔
[ الفتاوی الھندیة ، کتاب الصلوة ، الباب السادس عشر فی صلاة الجمعة : ١ / ١٥٨ ]
و اذا صلی علی النبی ﷺ یصلی الناس علیہ فی انفسھم امتثالا للأمر ، و السنة الانصات ، کذا فی التاتارخانیة ناقلا عن الحجة ،،،
اور جب وہ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے تو لوگ اپنے دلوں میں درود شریف کا ورد کریں ، حکم کی بجا آوری کے پیش نظر سنت سکوت ہے ، اسی طرح تاتارخانیہ میں بروایت حجہ ہے اور دل میں درود پڑھنے سے مراد یہ کہ پورے خطبہ میں خاموش رہے ۔
[ الفتاوی التاتارخانیة ، کتاب الصلوة الفصل الخامس و العشرون فی صلاة الجمعة : ١ / ٥٤٤ ]
طحاوی میں ہے : ،، قولہ فی انفسھم ...
الانصات بجمیعھا ،،
لکھتے ہیں :
قولہ : و السنة الانصات . ھذا أ حد اقوال : ....... والمشھور الوجوب ۔
سکوت سنت ہے یہ ان کا قول ہے جبکہ مشہور وجوب ہے ۔
[ حاشیة الطحاوی علی المراقی باب الجمعة ، ١ / ٥٤٤ ]
لہذا جب تلاوت کی جاۓ تو چپ چاپ بغور سنیں
اور جمعہ میں جو اذان ثانی ہوتی اسے بھی بغور سنیں دوران اذان کوٸی بھی کلام نہ کریں اگر چہ وہ دینی کلام ہی کیوں نہ ہو ۔
ہاں اس وقت دل میں درود پاک پڑھے ،
تلاوت قرآن عظیم کے وقت اور خطبہ کے وقت جب جب حضور ﷺ کا نام پاک سنے تو دل میں درود پاک پڑھے ، زبان سے نہ پڑھے ، نہ انگوٹھا چومے ۔
فتاوی مفتٸ اعظم جلد ٣ صفحہ ١٢٩
فتاوی مصطفویہ صفحہ ٢٢٠
فتاوی حامدیہ صفحہ ٢٥٢
فتاوی امجدیہ جلد ١ صفحہ ٢٩٥
فتاوی فقیہ ملت جلد ١ صفحہ ٢٤٣
و الله تعالی ﷻ اعلم بالصواب
✍ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بہراٸچ شریف یوپی الھند
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✮محمد ضیاءالدین خان قادری✮
سوال
کیا مسجد میں نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں ؟اگر پڑھ سکتے ہیں تو کیا دلیل ہے ؟
الجواب بعون الملک الوہاب
مذہب حنفی میں مسجد میں نماز جنازہ مکروہ تحریمی ہے خواہ میت (جنازہ) مسجد کے اندر ہو یا باہر ہو سب نمازی مسجد کے اندر ہوں یا بعض ہرحال میں مسجد کے اندر نماز جنازہ مکروہ تحریمی اور منع ہے -
ہدایہ میں ہے
لایصلی علی میت فی مسجد جماعة لقول النبی ﷺ : من صلی علی جنازة فی المسجد فلا اجر لہ
ترجمہ
مسجد جماعت میں کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھی جاٸیگی اس لیۓ کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی اسکے لیۓ اجر نہیں
الھدایہ مطبوعہ مجلس برکات مبارک پور
فصل فی الصلوة علی المیت جلد ١ صفحہ ١٦١
اور بحرالراٸق میں ہے
ولافی مسجد لحدیث ابی داٶد مرفوعا من صلی علی میت فی المسجد فلا اجر لہ وفی روایة فلاشیٸ لہ
ترجمہ
مسجد میں نماز جنازہ نہ پڑھی جاۓ اس لیۓ کہ ابو داٶد شریف کی حدیث مرفوع ہے کہ جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی اسکے لیۓ کوٸی ثواب نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ اسکے لیۓ کچھ نہیں
بحرالراٸق جلد دوم صفحہ ١٨٦
اور فتاوی عالمگیری میں ہے
صلوة الجنازة فی المسجد الذی تقام فیہ الجماعة مکروھة
ترجمہ
جس مسجد میں جماعت قاٸم کی جاتی ہے اس میں نماز جنازہ مکروہ ہے
فتاوی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ ١٥٥
اور فتاوی شامی میں ہے
کما تکرہ الصلوة علیھا فی المسجد یکرہ ادخالھا فیہ
ترجمہ
جیساکہ نماز جنازہ مسجد میں مکروہ ہے جنازہ کا مسجد میں داخل کرنا بھی مکروہ ہے
فتاوی شامی جلد اول صفحہ ٥٩٣
اور اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
صحیح یہ ہے کہ مسجد میں نہ نماز جنازہ ہو نہ امام جنازہ نہ صف جنازہ یہ سب مکروہ ہیں
فتاوی رضویہ (مترجم) جلد ٩ صفحہ ٢٦٤
محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بهرائچ شریف یوپی الهند
کیا مسجد میں نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں ؟اگر پڑھ سکتے ہیں تو کیا دلیل ہے ؟
الجواب بعون الملک الوہاب
مذہب حنفی میں مسجد میں نماز جنازہ مکروہ تحریمی ہے خواہ میت (جنازہ) مسجد کے اندر ہو یا باہر ہو سب نمازی مسجد کے اندر ہوں یا بعض ہرحال میں مسجد کے اندر نماز جنازہ مکروہ تحریمی اور منع ہے -
ہدایہ میں ہے
لایصلی علی میت فی مسجد جماعة لقول النبی ﷺ : من صلی علی جنازة فی المسجد فلا اجر لہ
ترجمہ
مسجد جماعت میں کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھی جاٸیگی اس لیۓ کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی اسکے لیۓ اجر نہیں
الھدایہ مطبوعہ مجلس برکات مبارک پور
فصل فی الصلوة علی المیت جلد ١ صفحہ ١٦١
اور بحرالراٸق میں ہے
ولافی مسجد لحدیث ابی داٶد مرفوعا من صلی علی میت فی المسجد فلا اجر لہ وفی روایة فلاشیٸ لہ
ترجمہ
مسجد میں نماز جنازہ نہ پڑھی جاۓ اس لیۓ کہ ابو داٶد شریف کی حدیث مرفوع ہے کہ جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی اسکے لیۓ کوٸی ثواب نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ اسکے لیۓ کچھ نہیں
بحرالراٸق جلد دوم صفحہ ١٨٦
اور فتاوی عالمگیری میں ہے
صلوة الجنازة فی المسجد الذی تقام فیہ الجماعة مکروھة
ترجمہ
جس مسجد میں جماعت قاٸم کی جاتی ہے اس میں نماز جنازہ مکروہ ہے
فتاوی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ ١٥٥
اور فتاوی شامی میں ہے
کما تکرہ الصلوة علیھا فی المسجد یکرہ ادخالھا فیہ
ترجمہ
جیساکہ نماز جنازہ مسجد میں مکروہ ہے جنازہ کا مسجد میں داخل کرنا بھی مکروہ ہے
فتاوی شامی جلد اول صفحہ ٥٩٣
اور اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
صحیح یہ ہے کہ مسجد میں نہ نماز جنازہ ہو نہ امام جنازہ نہ صف جنازہ یہ سب مکروہ ہیں
فتاوی رضویہ (مترجم) جلد ٩ صفحہ ٢٦٤
محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بهرائچ شریف یوپی الهند