🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
فتاویٰ رضویہ کا علمی مقام

مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی علیہ الرحمۃ والرضوان (۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)کی بلند پایہ ،قابل قدر اور ہمہ جہت شخصیت نہ صرف برصغیر ہندوپاک بلکہ پورے عالم اسلام میں کسی تعارف وتبصرے کی محتاج نہیں ،آپ کی ذات بلا شبہہ برہان الٰہی ہے ،معجزۂ رسول ہے ،وہبی علوم وفنون کا ایک ایسا بحر ذخار ہے جس کی گہرائی ،وسعت اور گیرائی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ،حکمت ودانائی کا ایک بیش بہا خزانہ ہے جس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی ،علم ومشاہدہ ،فقہ وتدبر کا ایسا عمیق سمندر ہے جس میں غوطہ لگانے والا ’’ہل من مزید ‘‘ کا نعرہ بلند کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایسے نادر ونایاب موتی لے کر نکلتا ہے جس سے آنکھیں خیرہ ہوتیں ،قلوب اذہان کو روشنی ملتی ،اہل اسلام کے ایمان وایقان کو جلا ملتی اور عقائدو اعمال کی تزئین کاری ہوتی ہے۔اللہ عز وجل نے آپ کو حرارت ایمانی ،استقامت علی الدین ،تصلب فی الدین اور عشق رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایسا وافر وبیش بہا خزانہ عطا فرمایا بلا شبہہ جو تائید ربانی اور خالص عطائے الٰہی کا مظہر اتم ہے ۔امام احمد رضا قدس سرہ نے تقریباً ۵۴ سال تک مسند افتا کو رونق بخشی ،ایک ہزار سے زائد کتب ورسائل تحریر فرمائے ،۵۵سے زیادہ علوم وفنون میں تبحر حاصل کیا ، ان گنت تحقیقات علمیہ وادبیہ پیش کیے ،بے شمار فتاویٰ لکھے اور اس قدر باریک بینی اور دقت نظر سے لا ینحل مسائل کا تصفیہ فرمایا کہ اپنے وقت کا بڑے سے بڑا تنقید نگار بھی قلم ہاتھ میں لیے سوچتا رہ گیا ،وقت کے مقتدر علما وفقہا نے جن چار شخصیات کے بارے میں متفقہ طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلم کو خطا سے محفوظ رکھا ہے امام احمد رضا کی ذات ان میں ایک ہے ۔آپ کے فتاویٰ کا خوب صورت مجموعہ ’’العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ‘‘کے مبارک نام سے نہ صرف یہ کہ مشہور ہے بلکہ علماوفقہا ومفتیان کرام کے لیے ایک ضرورت ہے ،ہر کوئی ان کی اہمیت وافادیت تسلیم کرتا ہے ۔

انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سید عبدالرحمٰن بخاری لکھتے ہیں :

’’لوگ احمد رضا کو اپنے عہد کا مجدد کہتے ہیں اور میں اسے آنے والے ہر دور کے لیے اپنے رسول صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معجزہ سمجھتا ہوں۔ لوگ اسے فاضل بریلوی پکارتے ہیں اور میں اسے آیت الٰہی دیکھتا ہوں ۔لوگ اسے فقیہ وعالم ٹھہراتے ہیں اور میں اسے فہم دین میں ’’حجت ‘‘گردانتا ہوں ‘‘

(سہ ماہی افکار رضاممبئی شمارہ اپریل تا جون ۲۰۰۰ء ص۵۸)

امام احمد رضا کی آفاقی ذات پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ حنیف خان رضوی بریلوی (مرتب جامع الاحادیث)رقم طراز ہیں :

’’امام احمد رضا بلا شبہہ اپنے دور میں پوری دنیا کے لیے مرجع فتاویٰ تھے ۔ آپ کے دارالافتا میں بر اعظم ایشیا،افریقہ،یورپ اور امریکہ سے استفتا آتے تھے اور ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہو جاتے تھے اور سب کے جواب اسی شرح وبسط کے ساتھ مجتہدانہ شان سے دیے جاتے ،لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید سے سر مو انحراف نہیں ہوتا بلکہ اپنے مسلک حنفی پر شدت سے کار بند رہتے ،آپ کے فتاویٰ سے عوام وخواص ،علما وصلحا اور مفتیا ن دین متین وقاضیان عدالت سبھی مستفید ہوتے تھے اور آج بھی ہو رہے ہیں ،آپ کی اس شان فقاہت اور تبحر علمی سے متاثر ہو کر ہی علمائے عرب وعجم نے بالاتفاق چودہویں صدی کا مجدد تسلیم کیا اور علمائے حرمین شریفین زاد ہما شرفاً وتعظیماً تو کثیر تعداد میں آپ کے سامنے زانوے ادب طے کرتے نظر آئے ،آپ سے سندیں حاصل کیں ا‘‘ (مقدمہ فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص۷)

حافظ کتب حرم شریف مکہ حضرت علامہ سید اسماعیل خلیل مکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ آپ کی علمی تحقیقات اور فقہی جواہر پاروں کو دیکھ کر پکار اٹھے: (ترجمہ)’’میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اگر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فتاویٰ کو دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور ان فتاویٰ کے مؤلف یعنی امام احمد رضا کو اپنے تلامذہ میں شامل کرلیتے‘‘(الاجازۃ المتنیۃ لعلماء بکۃ والمدینۃص۲۲ص)

تاج العلما اولاد رسول حضرت محمد میاں مارہروی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’اعلیٰ حضرت کو میں علامہ ابن عابدین شامی پر فوقیت دیتا ہوں ،کیوں کہ جو جامعیت اعلیٰ حضرت کے ہاں ہے وہ ابن عابدین شامی کے ہاں نہیں ‘‘(امام احمد رضا کی فقہی بصیرت ص۶۴)

فتاویٰ رضویہ کے علمی مقام اور جامعیت ،آپ کی شان فقاہت ،علمیت ،اور محققانہ قدرووقار کا آپ سے نظریاتی اختلاف رائے رکھنے والوں نے بھی اعتراف کیا ۔ماہ نامہ’’ معارف ‘‘اعظم گڑھ کا فتاویٰ رضویہ پر یہ تبصرہ پڑھئے اور عش عش کر اٹھئے ،لکھتا ہے :
’’مولانااحمد رضا خان صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبر دست عالم ،مصنف اور فقیہ تھے ،انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں ،قرآن کا ایک سلیس ترجمہ بھی کیا ہے ۔ان علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ ہزار ہا فتووں کے جوابات بھی انہوں نے دیے ہیں ،ان کے بعض فتاوے کئی کئی صفحے کے ہیں ،فقہ اور حدیث پر ان کی نطر بڑی وسیع ہے دو جلدیں اس سے پہلے شائع ہو چکی ہیں ِاب تیسری جلد دارالاشاعت مبارک پور اعظم گڑھ نے شائع کی ہے ،اس جلد میں ۸۴۲ مسائل ہیں ابھی ان کے فتاوے کی آٹھ جلدیں اور باقی ہیں ان فتاویٰ میں بعض پیدا شدہ مسائل کے متعلق بھی فتوے ہیں جن کا جواب مولانا نے بڑی وسعت نظری سے دیا ہے ۔بہر حال مولانا کے مخصوص خیالات (مسئلہ تکفیر )سے قطع نظر ان کے فتاویٰ اس قابل ہیںکہ ان کا مطالعہ کیا جائے ،ان سے معلومات میں اضافہ ہوتا ہے‘‘ (معارف اعظم گڑھ فروری ۱۹۶۲ئ)

ہفت روزہ’’ شہاب‘‘ لاہور نے بھی برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا ،ملاحظہ ہو:

’’مولانا غلام علی صاحب نائب مولانا مودودی صاحب نے مولانا احمد رضا خان صاحب کی کتابیں لے کر مطالعہ فرمائیں تو فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ،ان کی بعض تصانیف اور فتاویٰ کے مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی وہ بہت کم علمامیں پائی جاتی ہے اور عشق خدا ورسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے ۔مجھے تو ان سے سوائے مسئلہ تکفیر کے کسی مسئلہ میں کوئی خاص اختلاف نہیں ۔جتنے بھی اختلاف ہیں وہ بہت معمولی ہیں ،البتہ علمائے دیو بند کی تکفیر کے بارے میں انہوں نے تشدد برتا ہے ،یہ علاحدہ بات ہے کہ وہ ا س میں مخلص نظر آتے ہیں تا ہم ان کے نتیجے سے ہم متفق نہیں کہ ان کی عبارات کی کوئی قابل قبول تاویل نہیں۔ اگر چہ وہ عبارات قابل اعتراض ہیں مگر ان کی نیت پر شبہہ اور تکفیر پر اصرار زیادتی ہے۔ ( ہفت روزہ شہاب لاہور ۲۵؍نومبر ۱۹۶۲ئ)

فتاویٰ رضویہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ سولات کا جواب دینے میں سائل کی نفسیات کا بھر پور خیال ملحوظ رکھا گیا ہے ،قدرتی طور پر امام احمد رضا کو احساس ہوجاتا تھا کہ مستفتی کی اپنی علمی قابلیت ولیاقت کس معیار کی ہے ،اس کا تعلق عوام سے ہے یا خواص سے ؟تفصیلی جواب کا طالب ہے یا اجمالاً نفس جواب کا متمنی ہے ؟دوسری بات یہ کہ آپ کا اسلوب تحقیق بہت بلند ہے ،انداز تحریر بڑا دلکش ہے ،در حقیقت فتاویٰ رضویہ دلائل وبراہین ،شواہد ونظائر کا ایسا خوب صورت امتزاج ہے کہ قاری کے دل میں شک وشبہہ کی گنجائش یکسر ختم ہوجاتی ہے اور وہ مزید کسی دلیل کا متقاضی نہیں ہوتا ،اگر غیر جانب دار ہے ،عناد وعداوت سے پرے ہوکر ان کا مطالعہ کرتا ہے تو حق قبول کرنا اس کی مجبوری بن جاتی ہے ،اردو،عربی اور فارسی تین زبانوں میں موجود یہ فتاویٰ مسائل شرعیہ کا ایک عظیم شاہ کار ہیں ،علوم وفنون کا گراں قدر سرمایہ ہیں ،تحقیقات وتنقیحات کا حسین گل دستہ ہیں ،محققانہ جلال ،عالمانہ وفقیہانہ جمال کے آبدار موتیوں سے سجے دکھائی دیتے ہیںاور مجتہدانہ شان ٹپکتی ہے ۔ ؎

وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے

اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر ۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے
=======================
#TehqiqateRaza🌹

https://www.facebook.com/104955781414791/posts/178055844104784/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن
کی غالباً سب سے ضخیم کتاب!
اس کتاب کا نام "منتہی التفصیل لمبحث التفضیل " ہے
یہ کتاب تقریباً 5760 صفحات پر مشتمل تھی۔ یہ کتاب حضرات شیخین سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی افضلیت کے موضوع پر تحریر فرمائی۔
یہ کتاب آپ نے تقریباً 23سال کی عمر میں تصنیف فرمائی ۔اس کتاب کی ضخامت کے پیش نظر آپ نے خیال کیا کہ لوگ اس کے مطالعہ سے قاصر رہیں گے لہذا اس کو مختصر کیا ۔ اصل کتاب تو آج تک دستیاب نہیں ہو سکی، البتہ اس کی تلخیص کا کچھ حصہ دستیاب ہوا جو کہ مطلع القمرین فی ابانۃسبقۃ العمرین کے نام سے شائی ہوئی ہے۔

https://www.alahazratnetwork.org/download/matlaulqamarain/
#HazratAbuBakr
#HazratUmar
#AhmadRaza
#AlaHazrat
#TehqiqateRaza

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2877877982536487&id=100009429394810
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بچوں کو آزادی دیجیے

محترم والدین! آپ نے کبھی نہ کبھی یہ جملہ ضرور سنا ہوگا "روک ٹوک کی زیادتی بچوں کو باغی بنا دیتی ہے" یہ ایک حقیقت ہے جس عمر میں بچوں کا ذہن آزادی چاہتا ہے اس عمر میں اگر بچوں کی آزادی چھین لی جائے تو ان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جب بچے ان منفی اثرات کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں تو نتیجتاً احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ان کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچتا ہے مشکل حالات سے نمٹنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے زندگی کے ہر مرحلے پر انھیں غلطی کا خوف لاحق رہتا ہے اور یہ تمام چیزیں بچوں کا مستقبل تاریک کر دیتی ہے۔

یاد رکھیے! درست تربیت ہی بچے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے لہٰذا جس وقت بچے تربیتی مراحل میں ہوں انھیں کچھ چیزوں کی آزادی دیجیے:

(1) تجربات کی آزادی:
اگر آپ کے بچے کوئی نیا اور اچھا کام کرتے ہیں تو انھیں روک کر ان کی صلاحیت کو زنگ آلود مت کیجیے بلکہ اپنے مفید مشوروں اور تجربہ کے تجربات کی روشنی میں ان کی مدد کیجیے۔

(2) خوف سے آزادی:
یاد رکھیے! بے جا خوف بچوں میں بزدلی اور کم ہمتی پیدا کرتا ہے اگر آپ بچوں پر زور زبردستی کریں گے تو ان میں خوف پیدا ہوگا وہ آپ سے باتیں مشورہ کرتے ہوئے گھبرائیں گے یا پھر وہ ضدی ہوجائیں گے کیونکہ ضرورت سے زیادہ ڈاٹ یا مار پیٹ بچے کے ذہن میں خوف پیدا کر دیتی ہے اپنے رویّے میں نرمی پیدا کیجئے بچوں کو اپنی خامیاں تلاش کرنے کا موقع دیجیے امتحانات اور دیگر اہم کاموں میں ناکامی کی صورت میں انھیں ڈانٹنے یا مارنے کی نہیں بلکہ ان کی ہمت بڑھانے اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

(3) گفتگو کی آزادی:
عدم توجہی کی وجہ سے بچے اور آپ کے درمیان (Communication) گیپ آجاتا ہے جس کی وجہ سے بچہ آپ سے ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے آپ بچے کو ایسا ماحول فراہم کریں بچہ آپ کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہوئے ہر موضوع پر کھل کر بات کر سکے۔

(4) مشورے کی آزادی :
اگر آپ بچے میں قوت فیصلہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو بچے کو مشورہ دینے کی بھی آزادی دیں تاکہ اس کے اندر رائے قائم کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔

(5) کھیل کی آزادی:
اکثر والدین بچے کو چوٹ لگنے کے ڈر سے کھیلنے سے روکتے ہیں جبکہ چوٹ ہی بچے کو احتیاط کرنا سکھاتی ہے بچوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ انھیں بڑی اور گہری چوٹ نہ لگے ہلکی پھلکی خراش یا ٹھوکر لگ کر گر جانا ان کی جسمانی مضبوطی اور شخصی تعمیر کا ذریعہ ہے۔

محترم والدین!
مندرجہ بالا نکات کو سامنے رکھتے ہوئے بچے کی تربیت میں آزادی کا حصہ بھی شامل کیجیے تاکہ بچے کی شخصیت کی تعمیر ہو اس کا مستقبل تاریک کے بجائے تابناک ہو اور وہ معاشرے میں کامیاب فرد کی حیثیت سے زندگی گزار سکے۔

عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لڑکا، لڑکی، نوکری، رشوت اور لالچ
محمد شاہد علی مصباحی (باگی، جالون)
رکن: روشن مستقبل دہلی
نائب صدر: تحریک علماے بندیل کھنڈ

جب بات جہیز کی ہو تو ہمارا موقف یہ ہے: "جہیز مانگنا بھی غلط ہے اور پچاس ہزار کی نوکری والا لڑکا تلاش کرنا بھی غلط ہے۔"
اگر سب نوکری والا لڑکا ہی تلاش کریں گے تو باقی لڑکے کنوارے رہیں گے کیا؟
ہم جان بوجھ کر دولت مند لڑکا تلاش کرتے ہیں اور خود ہی پوچھتے ہیں آپ کی مانگ کیا ہے؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب تک لڑکے کی نوکری نہیں لگی ہے تب تک کوئی رشتہ نہیں آتا، ماں باپ کسی سے کہتے ہیں تو لڑکی والے تیار نہیں ہوتے، لڑکی والوں کا پہلا سوال ہوتا ہے کہ لڑکا کماتا کتنا ہے؟ ہماری لڑکی کو کیا کھلاے گا؟ کیا پہناے گا؟
مگر جیسے ہی نوکری لگ جاتی ہے تو رشتے والوں کی آمد سے چوکھٹ گھس جاتی ہے۔
اب لڑکے والے کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور ڈیمانڈ کیوں نہ بڑھے جبکہ ڈیمانڈ بڑھنے کی ایک نہیں دو وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ: کہ اسی لڑکے کو سیکڑوں لوگ رجیکٹ کر چکے ہوتے ہیں، تو اب لڑکے والے اپنا غصہ نکالنا چاہتے ہیں۔
دوسری وجہ: رشوت ہے کہ نوکری لگنے میں جو بڑی پیٹی رشوت کی دی ہے؛ اس کی بھرپائی بھی تو کرنی ہے کہیں نہ کہیں سے!
تو جو سامنے ہوگا وہی نظر آئے گا۔ اب لڑکی والے ہی چوکھٹ گھس رہے ہوتے ہیں، تو اس قیمت کا ٹھیکرا انہیں پر پھوٹتا ہے۔
بارہا دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی نوکری لگنے کی خبر ملتی ہے وہی لوگ پہلی فرصت میں رشتہ لگانے پہنچ جاتے ہیں جو کئی بار اسی لڑکے کو پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے رجیکٹ کرچکے ہوتے ہیں۔
تو اب جبکہ اس کے پاس پیسہ ہے تو کیوں نہ آپ سے پوچھے کہ آپ کیا دے سکتے ہیں؟
اس کو رجیکٹ اسی لیے کیا تھا کہ اس کے پاس پیسہ نہیں تھا، سوچتے تھے لڑکی کو کیا کھلاے گا؟ کیا پہناے گا؟
تو اب جب کہ وہ نوکری والا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ تم کتنا دوگے؟
اور آپ بھی کوئی نیک بن کر تو گئے نہیں ہیں اس کے دروازے! آپ بھی لالچ کا پٹارہ لیکر گئے ہیں اور نیت کرکے گئے ہیں گاڑی یا کچھ کیش کے بدلے لڑکا خرید کر ہی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ لوٹیں گے۔
تو اب جب وہ مزید مانگتا ہے تو کیس بات کا؟ الزام کس بات کا؟ یہ تو اپ ہی نے سکھایا تھا کہ رشتہ ہمارے یہاں کردو بولو کون سی گاڑی چاہیے؟ کتنا کیش چاہیے؟
تو آج اسے دوسری گاڑی پسند آگئی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جس طرح اپ نے اسے قیمت دیکر خریدا تھا اب پھر سے لڑکی کی خاطر خریدیں گے۔
تو اب روتے کیوں ہو؟
یہ راستہ اسے آپ ہی نے بتایا ہے!
اب قصور وار صرف لڑکا کیوں؟
میرا اپنا نظریہ یہاں کچھ اور بھی ہے، اور یہ کہ
قصوروار دو فریق نہیں بلکہ تین ہیں۔ اور وہ تیسرا فریق ہے "رشوت"
جب قصور وار تین ہیں تو صرف لڑکے پر ساری بلا کیوں؟
اسی پر ناکامی کا ٹھیکرا کیوں پھوٹے؟
اسی کو جیل کی ہوا کیوں کھانی پڑے؟

رشتہ بگڑنے کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا جہیز یاد کرنا:
آپ رشتہ کرتے وقت اسلام کو فالو نہیں کرتے اور جب رشتہ بگڑ جاتا ہے یا کچھ اونچ نیچ ہوجاتی ہے تو حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کا جہیز یاد آ جاتا ہے۔

اگر آپ کو جہیز حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یاد آتا ہے، تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غربت کیوں بھول جاتے ہیں رشتہ کرتے وقت؟

اسلام سے سیکھیں رشتہ کیسے کیا جاتا ہے:
فرمان خدا وندی ملاحظہ کریں: وَ اَنۡکِحُوا الۡاَیَامٰی مِنۡکُمۡ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنۡ عِبَادِکُمۡ وَ اِمَآئِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغۡنِہِمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ سورہ نور، آیت: ۳۲﴾
ترجمہ: اور نکاح کر دو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انھیں غنی کر دے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،

اللہ عزوجل تو فرما رہا ہے اگر غریب ہوں، نادار ہوں تب بھی نکاح کردو اللہ انہیں غنی فرمادیگا، بے نیاز کردیگا۔
مگر نا بابا نا ! ہم تو نوکری والا ہی تلاش کریں گے!
حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ. ( بخاری شریف، حدیث نمبر: 5090)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
(1) اس کے مال کی وجہ سے۔
(2) اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے۔
(3) اس کی خوبصورتی کی وجہ سے۔
(4) اس کے دین کی وجہ سے
اور تو دین دار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی۔ ( یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی۔)
یا رکھیں ! یہ حکم طرفین کے لیے یکساں ہے۔ لڑکی میں بھی دین داری دیکھیں اور لڑکے میں بھی۔

غور کریں! مذہب اسلام تو کہتا ہے کہ شادی نہ مال دیکھ کر کرو، نہ خوبصورتی دیکھ کر، نہ دنیاوی جاہ و جلال کے حصول کی خاطر بلکہ شادی دین دیکھ کر کرو!
یعنی: اگر لڑکا یا لڑکی مالدار ہے تو شادی صرف مالداری کی بنیاد پر نہ کرو!
اگر خوبصورت ہیں تو صرف خوبصورتی کی بنیاد نہ رشتہ نہ کرو!
اگر جاہ و منزلت والے ہیں تو رشتہ صرف جاہ و منزلت کی بنیاد پر نہ کرو!
بلکہ رشتہ کرنے میں دین داری دیکھو!
اگرچہ غریب ہو مگر دین دار ہو تو رشتہ کرلو! اگرچہ خوبصورت نہیں ہے مگر دین دار ہے تو رشتہ کرلو! اگرچہ جاہ و منزلت نہیں ہے مگر دین داری ہے تو رشتہ کرلو!

یقین جانو! اگر رشتے دین داری کی بنیاد پر ہوں تو جہیز کی بات ہی نہ آے گی۔
نہ جہیز کے لیے لڑکی ستائی جاے گی اور نہ ہی مالدار نہ ہونے کی بنیاد پر غریب لڑکوں کے رشتے رکیں گے۔

یہ ساری تباہی رک سکتی ہے، بس شرط یہ کہ دین داری کو اختیار کرلو!
مگر ہمارا لالچ ہمیں یہ نہیں کرنے دیتا اور پھر جب کوئی بات بگڑتی ہے تو قصور وار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔
جبکہ قصور وار ہم خود بھی ہوتے ہیں!

اللہ عزوجل ہم سب کو عقل سلیم عطا فرماے!
#محمد_شاہد_علی_مصباحی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/874249293145590/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
امام سے پہلے اہلبیت کو سمجھیں حضور کے سب سے قریب کون ؟ مکالمہ = امام باقر اور امام اعظم مختصر سوانح امام جعفر صادق امام جعفر کا علمی مقام و مرتبہ امام جعفر امام اعظم کی نظر میں ح جعفر امام اعظم کی مجلس افتاء نیاز و فاتحہ میں فرق طریقۂ فاتحہ کونڈوں کی فاتحہ…
صحیح تاریخ وصال پندرہ رجب ہے!
کونڈے کے برتن دوسری جگہ لے جانا
جہاں فاتحہ ہو وہیں کِھلانا جہالت ہے
فاتحہ سے پہلے لکڑہارے کی کہانی
امام جعفر کے اخلاص و سادگی
حضرت امام جعفر کی سخاوت
کشف کے ذریعہ جنبی کے حلات
ٹھوکر مار کر مری ہوئی گائے زندہ
آپ نے کھوئی ہوئی چادر لوٹا دی
حضور اور اہل بیت | قرب جنت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #کونڈے_کی_فاتحہ 📜³
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی