🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت اِمامُ المناظرین, شیربیشۂ اہل سنت علامہ مولانا حشمت علی لکھنوی علیہ الرحمۃ کی شانِ اور علمی رُعب ملاحظہ فرمائیں. آپ تحریر فرماتے ہیں:
"مئو ضلع اعظم گڑھ کے وہابی دیوبندی, مولوی حبیب الرحمان ومولوی عبد اللطیف صاحبان کے پاس. اور سنبھل ضلع مراد آباد کے وہابی دیوبندی مولوی منظور صاحب کے پاس اور دوبارہ پھر لاہر پور ضلع سیتا پور کے مولوی ابو الوفا صاحب کے پاس جو اپنے آپ کو شاہجہانپوری کہا کرتے ہیں اور لکھنؤمیں پاٹے نالے کے رہنے والے مولوی عبد الشکور کاکوروی صاحب کے پاس بھدرسے کے وہابی دیوبندی صاحبان بار بار جار ہے ہیں. خوشامدیں کر رہے ہیں لیکن میرے مقابل کفریاتِ وہابیہء دیوبندیہ پر مناظرے کے لیے آنے کے لیے کوئی صاحب تیار نہیں ہو رہے"
(شمع منوّر رَہِ نجات, صفحہ147,148 مطبوعہ رضا اکیڈمی, بمبئی)

میثم قادری

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2947237092222265&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تاریخ مکہ معظمہ پر فاتح عیسائیت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی نایاب عربی کتاب کانایاب اردو ترجمہ جس کا حضرت کیرانوی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ترجمہ کیا گیا

میثم عباس قادری رضوی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948155178797123&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
راقم کی تحریک سے
شائع ہونے والی نئی کتاب

نام کتاب :
اشرف السیر (کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن)
مؤلف : حضرتِ شارحِ بخاری فقیہِ اعظمِ ہند علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ

عام قیمت : 250
ناشر : فرید بک سٹال
38 - اردو بازار , لاہور

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948789828733658&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پاک و ہند کے مسلمان بڑے غیور تھے ، دینی اقدار اور ناموس رسالت کی خاطر مرمٹتے تھے ۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے قائد علامہ فضل حق خیر آبادی اور سید کفایت علی کافی جیسے تھے ۔۔۔۔۔۔ سرسید احمد خاں جیسے نہیں ۔

پھر جب سرسید جیسے قائد بنے تو جو حال ہوا وہ‌اکبر الہ آبادی کی زبانی سنیے ؎

دیکھ کاریگریِ حضرتِ سید ، اے شیخ !
دیکھیے لوچ وہ مذہب میں کمانی کی طرح

بحرِ ہستی کا یہی دور چلا جاتا ہے
برف کی طرح جمے ، بہہ گئےپانی کی طرح

( مطلب: اے شیخ ! سرسید کی کاریگری تو ذرا دیکھو کہ اس نے لوگوں کو مذہب کے معاملے میں گاڑی کی کمانی کی طرح کیسا لچک دار بنا دیا ۔
اب ان کا حال یہ‌ ہے کہ:
ان کے مذہبی جذبات برف کی طرح جم گئے ہیں ، اور اس جمی ہوئی برف پر جب بیرونی طاقتوں کے خوف کی دھوپ پڑتی ہے تو پگھل کر بَہ جاتی ہے ، کسی کام نہیں آتی )

اگر جذبات کی لچک ختم کر کے ان میں دینی حرارت پیدا کرنی ہے توحضرت کافی و خیر آبادی کی طرف پھر سے رجوع کریں ۔

✍️لقمان شاہد
28-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3100002620279906&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اگرآپ کو تفضیلی ، تفسیقی یا رافضی تنگ کرتے ہیں تو پورے ذوق کے ساتھ تین بار یہ پڑھ لیں ؎

اے مظہرِ جلالِ اَحَد ، یا علی مَدَد
اے تاجدارِ علم و خِرَد ، یا علی مدد

اے جاۓ نازشِ اب وجد ، یا علی مدد
اے غم گُسارِ کُنجِ لحد ، یا علی مدد

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3100127090267459&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسول پاک ﷺ کا فرمان ہے:

مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے چاہے وہ گناہ گار ہو ، کیوں کہ اس کا گناہ اس کی ذات تک رہتا ہے ( اس کی دعا اور بددعا پر اثر انداز نہیں ہوتا ) ۔

( مسنداحمدبن حنبل ، ر 9775 ، قال المنذری رحمہ اللہ: حسن )

فیس بک پر مسلمانوں کی عزتیں اچھالنے والے ، انھیں ذلیل و رسوا کرنے والے ، الزام تراشیوں سے کام لینے والے ، اور بے حکمِ شرعی صحیح العقیدہ مسلمانوں پر نصب و خروج کی تہمتیں لگانے والے ظالموں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں کسی مظلوم کی بددعا اِن کے برے خاتمے کاسبب نہ بن جائے ۔

✍️لقمان شاہد
3-3-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3102190363394465&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
باپ بیٹا بستر پر لیٹے ہیں تو بیٹا کہتا ہے:

بابا آپ کو ایک بات بتاؤں ؟

میں نے کہا: بتاؤ !

کہتا ہے:

بابا حضور غوث پاک کا اتنا بڑامقام ہے ، اتنا بڑا مقام ہے کہ جس تک کوئی ولی نہیں پہنچ سکتا ۔
لیکن حضور غوث پاک بھی اگر ایک ہزار سال تک سجدے میں رہیں تو کسی صحابی کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے ۔

پتاہے اس کی وجہ کیاہے ؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابی نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہوتا ہے ، اور جس نے ہمارےپیارے نبی ﷺ کو ایک بار بھی ایمان کی نظر سے دیکھ لیا ہو قیامت تک کوئی بھی ولی اس کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا ۔

✍️لقمان شاہد
3-3-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3102704680009700&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مزار مبارک خلیفہ اعلی حضرت شیخ الحدیث حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادری قدس سرہ

آج حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمۃ کے مزار شریف پر حاضری کا شرف ملا تو یہ واقعہ یاد آ رہا تھا، آپ بھی پڑھئے

ایک بار حضرت کو کسی نے خطاب کیلئے بلایا تو آپ ایک شاگرد کو ساتھ لے کر خطاب کیلئے روانہ ہو گئے، مشکل اور طویل سفر کے بعد وہاں پہنچے، خطاب فرمایا اور واپس ہو لئے، شاگرد نے عرض کی: حضرت ان لوگوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا آپ اس قدر مشقت اٹھا کر یہاں تشریف لائے اور انھوں نے تو کھانا تک نہیں پوچھا بلکہ کرایہ بھی نہیں دیا۔
حضرت نے فرمایا: یہ لوگ ہمارے محسن ہیں۔
شاگرد کو اس بات پر حیرت ہوئی تو فرمایا:
علم دین ہم نے حاصل کیا یے تو اسے دوسروں تک پہنچانا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کیلئے ہر دکھ جوکھم ہم ہی اٹھاتے مگر ان لوگوں نے ہمارا کام بہت آسان کر دیا؛ سارے انتظامات کئے، پنڈال سجایا، منچ بنایا، سپیکر لگائے، بینر چھپوائے، تشہیر کی، بندے اکٹھے کئے اور سب تیاری کر کے ہمیں دعوت دی کہ آئیے خطاب فرمائیے۔
ہمیں تو ان کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ان لوگوں نے ہمارے بہت سے کام کر کے ہم پر احسان کیا ہے۔

اللہ اللہ ہمارے اسلاف کی سوچ اور جذبہ
ہم لوگ بھی اگر اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی منصبی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے اندر ایسا جذبہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو دین متین کی خدمت اور حصول ثواب کے بہت سے ذرائع موجود ہیں۔

محمد مزمل رضا قادری عطاری
02-03-2021

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2950188205260487&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتاویٰ رضویہ کا علمی مقام

مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی علیہ الرحمۃ والرضوان (۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)کی بلند پایہ ،قابل قدر اور ہمہ جہت شخصیت نہ صرف برصغیر ہندوپاک بلکہ پورے عالم اسلام میں کسی تعارف وتبصرے کی محتاج نہیں ،آپ کی ذات بلا شبہہ برہان الٰہی ہے ،معجزۂ رسول ہے ،وہبی علوم وفنون کا ایک ایسا بحر ذخار ہے جس کی گہرائی ،وسعت اور گیرائی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ،حکمت ودانائی کا ایک بیش بہا خزانہ ہے جس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی ،علم ومشاہدہ ،فقہ وتدبر کا ایسا عمیق سمندر ہے جس میں غوطہ لگانے والا ’’ہل من مزید ‘‘ کا نعرہ بلند کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایسے نادر ونایاب موتی لے کر نکلتا ہے جس سے آنکھیں خیرہ ہوتیں ،قلوب اذہان کو روشنی ملتی ،اہل اسلام کے ایمان وایقان کو جلا ملتی اور عقائدو اعمال کی تزئین کاری ہوتی ہے۔اللہ عز وجل نے آپ کو حرارت ایمانی ،استقامت علی الدین ،تصلب فی الدین اور عشق رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایسا وافر وبیش بہا خزانہ عطا فرمایا بلا شبہہ جو تائید ربانی اور خالص عطائے الٰہی کا مظہر اتم ہے ۔امام احمد رضا قدس سرہ نے تقریباً ۵۴ سال تک مسند افتا کو رونق بخشی ،ایک ہزار سے زائد کتب ورسائل تحریر فرمائے ،۵۵سے زیادہ علوم وفنون میں تبحر حاصل کیا ، ان گنت تحقیقات علمیہ وادبیہ پیش کیے ،بے شمار فتاویٰ لکھے اور اس قدر باریک بینی اور دقت نظر سے لا ینحل مسائل کا تصفیہ فرمایا کہ اپنے وقت کا بڑے سے بڑا تنقید نگار بھی قلم ہاتھ میں لیے سوچتا رہ گیا ،وقت کے مقتدر علما وفقہا نے جن چار شخصیات کے بارے میں متفقہ طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلم کو خطا سے محفوظ رکھا ہے امام احمد رضا کی ذات ان میں ایک ہے ۔آپ کے فتاویٰ کا خوب صورت مجموعہ ’’العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ‘‘کے مبارک نام سے نہ صرف یہ کہ مشہور ہے بلکہ علماوفقہا ومفتیان کرام کے لیے ایک ضرورت ہے ،ہر کوئی ان کی اہمیت وافادیت تسلیم کرتا ہے ۔

انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سید عبدالرحمٰن بخاری لکھتے ہیں :

’’لوگ احمد رضا کو اپنے عہد کا مجدد کہتے ہیں اور میں اسے آنے والے ہر دور کے لیے اپنے رسول صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معجزہ سمجھتا ہوں۔ لوگ اسے فاضل بریلوی پکارتے ہیں اور میں اسے آیت الٰہی دیکھتا ہوں ۔لوگ اسے فقیہ وعالم ٹھہراتے ہیں اور میں اسے فہم دین میں ’’حجت ‘‘گردانتا ہوں ‘‘

(سہ ماہی افکار رضاممبئی شمارہ اپریل تا جون ۲۰۰۰ء ص۵۸)

امام احمد رضا کی آفاقی ذات پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ حنیف خان رضوی بریلوی (مرتب جامع الاحادیث)رقم طراز ہیں :

’’امام احمد رضا بلا شبہہ اپنے دور میں پوری دنیا کے لیے مرجع فتاویٰ تھے ۔ آپ کے دارالافتا میں بر اعظم ایشیا،افریقہ،یورپ اور امریکہ سے استفتا آتے تھے اور ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہو جاتے تھے اور سب کے جواب اسی شرح وبسط کے ساتھ مجتہدانہ شان سے دیے جاتے ،لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید سے سر مو انحراف نہیں ہوتا بلکہ اپنے مسلک حنفی پر شدت سے کار بند رہتے ،آپ کے فتاویٰ سے عوام وخواص ،علما وصلحا اور مفتیا ن دین متین وقاضیان عدالت سبھی مستفید ہوتے تھے اور آج بھی ہو رہے ہیں ،آپ کی اس شان فقاہت اور تبحر علمی سے متاثر ہو کر ہی علمائے عرب وعجم نے بالاتفاق چودہویں صدی کا مجدد تسلیم کیا اور علمائے حرمین شریفین زاد ہما شرفاً وتعظیماً تو کثیر تعداد میں آپ کے سامنے زانوے ادب طے کرتے نظر آئے ،آپ سے سندیں حاصل کیں ا‘‘ (مقدمہ فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص۷)

حافظ کتب حرم شریف مکہ حضرت علامہ سید اسماعیل خلیل مکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ آپ کی علمی تحقیقات اور فقہی جواہر پاروں کو دیکھ کر پکار اٹھے: (ترجمہ)’’میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اگر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فتاویٰ کو دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور ان فتاویٰ کے مؤلف یعنی امام احمد رضا کو اپنے تلامذہ میں شامل کرلیتے‘‘(الاجازۃ المتنیۃ لعلماء بکۃ والمدینۃص۲۲ص)

تاج العلما اولاد رسول حضرت محمد میاں مارہروی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’اعلیٰ حضرت کو میں علامہ ابن عابدین شامی پر فوقیت دیتا ہوں ،کیوں کہ جو جامعیت اعلیٰ حضرت کے ہاں ہے وہ ابن عابدین شامی کے ہاں نہیں ‘‘(امام احمد رضا کی فقہی بصیرت ص۶۴)

فتاویٰ رضویہ کے علمی مقام اور جامعیت ،آپ کی شان فقاہت ،علمیت ،اور محققانہ قدرووقار کا آپ سے نظریاتی اختلاف رائے رکھنے والوں نے بھی اعتراف کیا ۔ماہ نامہ’’ معارف ‘‘اعظم گڑھ کا فتاویٰ رضویہ پر یہ تبصرہ پڑھئے اور عش عش کر اٹھئے ،لکھتا ہے :