Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا ضرار رضی الله تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اوصاف بیان کریں۔“
حضرت ضرار رضی الله تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس قدر علوم و معارف کے حامل تھے کہ اس ميں ان کی انتہا کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، آپ رضی الله تعالیٰ عنہ الله عزوجل کے معاملہ اور اس کے دین کی حمایت میں مضبوط ارادے رکھتے تھے، فیصلہ کُن بات کرتے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے تھے، ان کے پہلوؤں سے علم کے سوتے پھوٹتے تھے اور دہن مبارک سے حکمت کے پھول جھڑتے تھے، دنیا اور اس کی رنگینیوں سے وحشت کھاتے اور رات اور اس کے اندھیروں سے اُنْس حاصل کرتے تھے، الله عزوجل کی قسم! آپ رضی الله تعالیٰ عنہ بہت زیادہ آنسو بہانے والے، دور اندیش اور افسوس سے ہاتھ ملنے والے تھے، کیونکہ افسردہ اور غمگین شخص ایسا ہی کرتا ہے، اپنے نفس کو بے چینی و اضطراب سے مخاطب فرماتے، لباس کھردرا پسند کرتے، جو سامنے آ جاتا وہی کھا لیتے، الله عزوجل کی قسم! جب ہم ان سے کچھ پوچھتے تو وہ اس کا جواب دیتے اور جب انہیں دعوت دیتے تو ہماری دعوت قبول فرماتے اور الله عزوجل کی قسم! ہم ان کے قریب رہنے اور ان سے تعلق رکھنے کے باوجود ہیبت کی وجہ سے ان کے سامنے کلام نہ کر سکتے تھے، اگر آپ رضی الله تعالیٰ عنہ مسکراتے تو لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح (دندان مبارک چمکتے)، دینداروں کی تعظیم کرتے اور مسکینوں سے محبت کرتے، طاقتور کو ظلم میں اُمید نہ دلاتے اور کمزور کو انصاف میں مایوس نہ کرتے، الله عزوجل کی قسم کھا کر میں گواہی دیتا ہوں کہ آج بھی انہیں اس حال میں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ جب رات اپنے پردے ڈال دیتی اور ستارے ظاہر ہو جاتے تو آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم جائے نماز پر آ کر اپنی ریش مبارک پکڑ لیتے اور اس شخص کی طرح تڑپتے جسے سانپ نے کاٹ لیا ہو اور غمزدہ شخص کی طرح روتے گویا میں انہیں گریہ وزاری کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں: یَا رَبَّنَا! یَارَبَّنَا! یعنی اے ہمارے رب عزوجل! اے ہمارے رب عزوجل! پھر فرماتے: ’اے دنیا! تو نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے یا ابھی کچھ شوق باقی ہے؟ ہائے افسوس! ہائے افسوس! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکے میں ڈال، میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اب میرا تجھ سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تیری عمر کم ہے جب کہ تیری آسائشیں حقیر اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ آہ! زادِ راہ قلیل ہے اور سفر بہت دور کا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔‘“
اتنا سننے کے بعد حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ کی آنکھیں بھر گئیں اور ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی، آپ رضی الله تعالیٰ عنہ اپنی آستین سے اپنے آنسو پونچھنے لگے اور لوگوں کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں، پھر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
”الله عزوجل ابو الحسن یعنی حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر رحم فرمائے ،اللہ عزوجل کی قسم! آپ رضی الله تعالیٰ عنہ ایسے ہی تھے۔“
(حلیة الاولیاء، ذکر علي بن ابي طالب، رقم ٢٦١، جلد ۱، صفحہ ١٢٦)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/875152346395669/
حضرت ضرار رضی الله تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس قدر علوم و معارف کے حامل تھے کہ اس ميں ان کی انتہا کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، آپ رضی الله تعالیٰ عنہ الله عزوجل کے معاملہ اور اس کے دین کی حمایت میں مضبوط ارادے رکھتے تھے، فیصلہ کُن بات کرتے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے تھے، ان کے پہلوؤں سے علم کے سوتے پھوٹتے تھے اور دہن مبارک سے حکمت کے پھول جھڑتے تھے، دنیا اور اس کی رنگینیوں سے وحشت کھاتے اور رات اور اس کے اندھیروں سے اُنْس حاصل کرتے تھے، الله عزوجل کی قسم! آپ رضی الله تعالیٰ عنہ بہت زیادہ آنسو بہانے والے، دور اندیش اور افسوس سے ہاتھ ملنے والے تھے، کیونکہ افسردہ اور غمگین شخص ایسا ہی کرتا ہے، اپنے نفس کو بے چینی و اضطراب سے مخاطب فرماتے، لباس کھردرا پسند کرتے، جو سامنے آ جاتا وہی کھا لیتے، الله عزوجل کی قسم! جب ہم ان سے کچھ پوچھتے تو وہ اس کا جواب دیتے اور جب انہیں دعوت دیتے تو ہماری دعوت قبول فرماتے اور الله عزوجل کی قسم! ہم ان کے قریب رہنے اور ان سے تعلق رکھنے کے باوجود ہیبت کی وجہ سے ان کے سامنے کلام نہ کر سکتے تھے، اگر آپ رضی الله تعالیٰ عنہ مسکراتے تو لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح (دندان مبارک چمکتے)، دینداروں کی تعظیم کرتے اور مسکینوں سے محبت کرتے، طاقتور کو ظلم میں اُمید نہ دلاتے اور کمزور کو انصاف میں مایوس نہ کرتے، الله عزوجل کی قسم کھا کر میں گواہی دیتا ہوں کہ آج بھی انہیں اس حال میں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ جب رات اپنے پردے ڈال دیتی اور ستارے ظاہر ہو جاتے تو آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم جائے نماز پر آ کر اپنی ریش مبارک پکڑ لیتے اور اس شخص کی طرح تڑپتے جسے سانپ نے کاٹ لیا ہو اور غمزدہ شخص کی طرح روتے گویا میں انہیں گریہ وزاری کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں: یَا رَبَّنَا! یَارَبَّنَا! یعنی اے ہمارے رب عزوجل! اے ہمارے رب عزوجل! پھر فرماتے: ’اے دنیا! تو نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے یا ابھی کچھ شوق باقی ہے؟ ہائے افسوس! ہائے افسوس! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکے میں ڈال، میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اب میرا تجھ سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تیری عمر کم ہے جب کہ تیری آسائشیں حقیر اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ آہ! زادِ راہ قلیل ہے اور سفر بہت دور کا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔‘“
اتنا سننے کے بعد حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ کی آنکھیں بھر گئیں اور ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی، آپ رضی الله تعالیٰ عنہ اپنی آستین سے اپنے آنسو پونچھنے لگے اور لوگوں کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں، پھر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
”الله عزوجل ابو الحسن یعنی حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر رحم فرمائے ،اللہ عزوجل کی قسم! آپ رضی الله تعالیٰ عنہ ایسے ہی تھے۔“
(حلیة الاولیاء، ذکر علي بن ابي طالب، رقم ٢٦١، جلد ۱، صفحہ ١٢٦)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/875152346395669/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*لمحئہ فکر*
*لفظ " ملت " کا بیجا استعمال*
آج کل ایک دو سال سے یہ دیکھا جارہا ہے اس لفظ *" ملت "* کا کچھ زیادہ ہی استعمال ہو رہا
جب کہ یہ لفظ ان اکابر علماء کے لئے استعمال ہوا کرتا تھا جو حقیقت میں پوری ملت ِاسلامیہ کے لئے وہ ایک رہبر و رہنما کی حیثیت رکھتے تھے
جیسے *" پاسبان ملت " مجاہد ملت " بدر ملت " حافظ ملت " برہان ملت "* ان القابات سے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ یہ لفظ ملت کس کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور کیوں کیا جارہاہے ان کے کارنامے کیا ہیں
مجھے اب بتانے کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ *" پاسبان ملت " حافظ ملت " مجاہد ملت " بدر ملت " برہان ملت "* کن شخصیات کو کہا گیا ہے یہ ایسے نام تھے جن کو دنیائے اہلسنت قیامت تلک کبھی بھول نہیں سکتی
اور الحمد للہ آج بھی چند ایسے علماء و اکابرین ہیں جو حقیقت میں ان کے نام کے آگے اس *لفظ ملت* کا استعمال کسی حد تلک درست نظر آتا ہے
مگر افسوس کہ
ایک گاوں یا ایک محلے کے لوگ جس سے اچھی طرح واقف بھی نہیں رہتے اُس شخص کے نام کے آگے بھی اس لفظ *" ملت "* کو لگا رہے ہیں یا خود جناب اپنے نام کے آگے لفظ ملت لگواکے اپنے معتقدین سے لکھوارہے ہیں کہ میں فلانا ملت ہوں *الاماشاءاللہ*
کوئی بشیر احمد ہے تو
*بشیر ملت*
کوئی عبد الطیف ہے تو
*لطیف ملت*
کوئی محمد صابر ہے تو
*صابر ملت*
کوئی ناصر احمد ہے تو
*ناصر ملت*
کوئی مشتاق احمد ہے تو
*مشتاق ملت*
کوئی محمد تسلیم ہے تو
*تسلیم ملت*
جب کے اس کے گھر خاندان محلے کے لوگ اسے تسلیم نہ کرتے ہوں
وہ *تسلیم ملت* بن جاتے ہیں
یعنی ان کو کسی نے ایک دو جگہ جلسے میں کیا بلالیا اب وہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے فلاں فلاں ملت بن گئے
(معذرت چاہتا ہوں میں ان لوگوں سے جو کسی کا نام مذکورہ ناموں میں سے نام ہو )
مطلب یہ کہ یہ *لفظِ ملت* اتنا سستا دکھائی دے رہا ہے کہ ہرکس و ناکس کو بھی چند جہلا پوری ملتِ اسلامیہ کے لئے *محافظ ملت* بنالیتے ہیں
ایک محلہ انکے سنبھالے نہیں سنبھلتا اور یہ جناب ایک دو جلسوں میں مدعو ہوتے ہی
پوری ملت اسلامیہ کے *محافظ ملت* بن جاتے ہیں پوری ملت کے لئے *" قائد ملت"* جیسے القاب کو اپنے نام کے آگے چسپاں کرلیتے ہیں
جسکا جو نام ہے بس اس نام کے آگے ملت لگا لیا اور پوری ملت کے لئے جناب *صابر ملت " ناصر ملت " نصیر ملت " بشیر ملت " حفیظ ملت" لطیف ملت " فاروق ملت " منیر ملت " نظیر ملت " شکور ملت " شاکر ملت"* یعنی جس کا جو نام ہے بس اس نام آگے ملت لگا دیا *الا ماشاءاللہ*
اور پوری ملت اسلامیہ کے لئے فلاں فلاں ملت بن گئے
اللہ تعالی ہمیں اس گھنونے ڈھونگ اور دکھاوے سے حفاظت فرمائے
اور ان جہلا کو بھی اللہ تعالی سمجھ عطا فرمائے جو اس قسم کے بیجا بے موقع محل القابات سے اپنے *ائمہ کو علماء کو شعراء و مقریرین* کو *لفظ ملت* کا بیجا استعمال کرکے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
فقط
مشتاق احمد رضوی نظامی کرناٹک
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2947108568901784&id=100008080090753
*لفظ " ملت " کا بیجا استعمال*
آج کل ایک دو سال سے یہ دیکھا جارہا ہے اس لفظ *" ملت "* کا کچھ زیادہ ہی استعمال ہو رہا
جب کہ یہ لفظ ان اکابر علماء کے لئے استعمال ہوا کرتا تھا جو حقیقت میں پوری ملت ِاسلامیہ کے لئے وہ ایک رہبر و رہنما کی حیثیت رکھتے تھے
جیسے *" پاسبان ملت " مجاہد ملت " بدر ملت " حافظ ملت " برہان ملت "* ان القابات سے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ یہ لفظ ملت کس کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور کیوں کیا جارہاہے ان کے کارنامے کیا ہیں
مجھے اب بتانے کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ *" پاسبان ملت " حافظ ملت " مجاہد ملت " بدر ملت " برہان ملت "* کن شخصیات کو کہا گیا ہے یہ ایسے نام تھے جن کو دنیائے اہلسنت قیامت تلک کبھی بھول نہیں سکتی
اور الحمد للہ آج بھی چند ایسے علماء و اکابرین ہیں جو حقیقت میں ان کے نام کے آگے اس *لفظ ملت* کا استعمال کسی حد تلک درست نظر آتا ہے
مگر افسوس کہ
ایک گاوں یا ایک محلے کے لوگ جس سے اچھی طرح واقف بھی نہیں رہتے اُس شخص کے نام کے آگے بھی اس لفظ *" ملت "* کو لگا رہے ہیں یا خود جناب اپنے نام کے آگے لفظ ملت لگواکے اپنے معتقدین سے لکھوارہے ہیں کہ میں فلانا ملت ہوں *الاماشاءاللہ*
کوئی بشیر احمد ہے تو
*بشیر ملت*
کوئی عبد الطیف ہے تو
*لطیف ملت*
کوئی محمد صابر ہے تو
*صابر ملت*
کوئی ناصر احمد ہے تو
*ناصر ملت*
کوئی مشتاق احمد ہے تو
*مشتاق ملت*
کوئی محمد تسلیم ہے تو
*تسلیم ملت*
جب کے اس کے گھر خاندان محلے کے لوگ اسے تسلیم نہ کرتے ہوں
وہ *تسلیم ملت* بن جاتے ہیں
یعنی ان کو کسی نے ایک دو جگہ جلسے میں کیا بلالیا اب وہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے فلاں فلاں ملت بن گئے
(معذرت چاہتا ہوں میں ان لوگوں سے جو کسی کا نام مذکورہ ناموں میں سے نام ہو )
مطلب یہ کہ یہ *لفظِ ملت* اتنا سستا دکھائی دے رہا ہے کہ ہرکس و ناکس کو بھی چند جہلا پوری ملتِ اسلامیہ کے لئے *محافظ ملت* بنالیتے ہیں
ایک محلہ انکے سنبھالے نہیں سنبھلتا اور یہ جناب ایک دو جلسوں میں مدعو ہوتے ہی
پوری ملت اسلامیہ کے *محافظ ملت* بن جاتے ہیں پوری ملت کے لئے *" قائد ملت"* جیسے القاب کو اپنے نام کے آگے چسپاں کرلیتے ہیں
جسکا جو نام ہے بس اس نام کے آگے ملت لگا لیا اور پوری ملت کے لئے جناب *صابر ملت " ناصر ملت " نصیر ملت " بشیر ملت " حفیظ ملت" لطیف ملت " فاروق ملت " منیر ملت " نظیر ملت " شکور ملت " شاکر ملت"* یعنی جس کا جو نام ہے بس اس نام آگے ملت لگا دیا *الا ماشاءاللہ*
اور پوری ملت اسلامیہ کے لئے فلاں فلاں ملت بن گئے
اللہ تعالی ہمیں اس گھنونے ڈھونگ اور دکھاوے سے حفاظت فرمائے
اور ان جہلا کو بھی اللہ تعالی سمجھ عطا فرمائے جو اس قسم کے بیجا بے موقع محل القابات سے اپنے *ائمہ کو علماء کو شعراء و مقریرین* کو *لفظ ملت* کا بیجا استعمال کرکے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
فقط
مشتاق احمد رضوی نظامی کرناٹک
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2947108568901784&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت اِمامُ المناظرین, شیربیشۂ اہل سنت علامہ مولانا حشمت علی لکھنوی علیہ الرحمۃ کی شانِ اور علمی رُعب ملاحظہ فرمائیں. آپ تحریر فرماتے ہیں:
"مئو ضلع اعظم گڑھ کے وہابی دیوبندی, مولوی حبیب الرحمان ومولوی عبد اللطیف صاحبان کے پاس. اور سنبھل ضلع مراد آباد کے وہابی دیوبندی مولوی منظور صاحب کے پاس اور دوبارہ پھر لاہر پور ضلع سیتا پور کے مولوی ابو الوفا صاحب کے پاس جو اپنے آپ کو شاہجہانپوری کہا کرتے ہیں اور لکھنؤمیں پاٹے نالے کے رہنے والے مولوی عبد الشکور کاکوروی صاحب کے پاس بھدرسے کے وہابی دیوبندی صاحبان بار بار جار ہے ہیں. خوشامدیں کر رہے ہیں لیکن میرے مقابل کفریاتِ وہابیہء دیوبندیہ پر مناظرے کے لیے آنے کے لیے کوئی صاحب تیار نہیں ہو رہے"
(شمع منوّر رَہِ نجات, صفحہ147,148 مطبوعہ رضا اکیڈمی, بمبئی)
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2947237092222265&id=100008080090753
"مئو ضلع اعظم گڑھ کے وہابی دیوبندی, مولوی حبیب الرحمان ومولوی عبد اللطیف صاحبان کے پاس. اور سنبھل ضلع مراد آباد کے وہابی دیوبندی مولوی منظور صاحب کے پاس اور دوبارہ پھر لاہر پور ضلع سیتا پور کے مولوی ابو الوفا صاحب کے پاس جو اپنے آپ کو شاہجہانپوری کہا کرتے ہیں اور لکھنؤمیں پاٹے نالے کے رہنے والے مولوی عبد الشکور کاکوروی صاحب کے پاس بھدرسے کے وہابی دیوبندی صاحبان بار بار جار ہے ہیں. خوشامدیں کر رہے ہیں لیکن میرے مقابل کفریاتِ وہابیہء دیوبندیہ پر مناظرے کے لیے آنے کے لیے کوئی صاحب تیار نہیں ہو رہے"
(شمع منوّر رَہِ نجات, صفحہ147,148 مطبوعہ رضا اکیڈمی, بمبئی)
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2947237092222265&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تاریخ مکہ معظمہ پر فاتح عیسائیت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی نایاب عربی کتاب کانایاب اردو ترجمہ جس کا حضرت کیرانوی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ترجمہ کیا گیا
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948155178797123&id=100008080090753
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948155178797123&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
راقم کی تحریک سے
شائع ہونے والی نئی کتاب
نام کتاب :
اشرف السیر (کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن)
مؤلف : حضرتِ شارحِ بخاری فقیہِ اعظمِ ہند علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ
عام قیمت : 250
ناشر : فرید بک سٹال
38 - اردو بازار , لاہور
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948789828733658&id=100008080090753
شائع ہونے والی نئی کتاب
نام کتاب :
اشرف السیر (کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن)
مؤلف : حضرتِ شارحِ بخاری فقیہِ اعظمِ ہند علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ
عام قیمت : 250
ناشر : فرید بک سٹال
38 - اردو بازار , لاہور
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948789828733658&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پاک و ہند کے مسلمان بڑے غیور تھے ، دینی اقدار اور ناموس رسالت کی خاطر مرمٹتے تھے ۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے قائد علامہ فضل حق خیر آبادی اور سید کفایت علی کافی جیسے تھے ۔۔۔۔۔۔ سرسید احمد خاں جیسے نہیں ۔
پھر جب سرسید جیسے قائد بنے تو جو حال ہوا وہاکبر الہ آبادی کی زبانی سنیے ؎
دیکھ کاریگریِ حضرتِ سید ، اے شیخ !
دیکھیے لوچ وہ مذہب میں کمانی کی طرح
بحرِ ہستی کا یہی دور چلا جاتا ہے
برف کی طرح جمے ، بہہ گئےپانی کی طرح
( مطلب: اے شیخ ! سرسید کی کاریگری تو ذرا دیکھو کہ اس نے لوگوں کو مذہب کے معاملے میں گاڑی کی کمانی کی طرح کیسا لچک دار بنا دیا ۔
اب ان کا حال یہ ہے کہ:
ان کے مذہبی جذبات برف کی طرح جم گئے ہیں ، اور اس جمی ہوئی برف پر جب بیرونی طاقتوں کے خوف کی دھوپ پڑتی ہے تو پگھل کر بَہ جاتی ہے ، کسی کام نہیں آتی )
اگر جذبات کی لچک ختم کر کے ان میں دینی حرارت پیدا کرنی ہے توحضرت کافی و خیر آبادی کی طرف پھر سے رجوع کریں ۔
✍️لقمان شاہد
28-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3100002620279906&id=100008105947430
اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے قائد علامہ فضل حق خیر آبادی اور سید کفایت علی کافی جیسے تھے ۔۔۔۔۔۔ سرسید احمد خاں جیسے نہیں ۔
پھر جب سرسید جیسے قائد بنے تو جو حال ہوا وہاکبر الہ آبادی کی زبانی سنیے ؎
دیکھ کاریگریِ حضرتِ سید ، اے شیخ !
دیکھیے لوچ وہ مذہب میں کمانی کی طرح
بحرِ ہستی کا یہی دور چلا جاتا ہے
برف کی طرح جمے ، بہہ گئےپانی کی طرح
( مطلب: اے شیخ ! سرسید کی کاریگری تو ذرا دیکھو کہ اس نے لوگوں کو مذہب کے معاملے میں گاڑی کی کمانی کی طرح کیسا لچک دار بنا دیا ۔
اب ان کا حال یہ ہے کہ:
ان کے مذہبی جذبات برف کی طرح جم گئے ہیں ، اور اس جمی ہوئی برف پر جب بیرونی طاقتوں کے خوف کی دھوپ پڑتی ہے تو پگھل کر بَہ جاتی ہے ، کسی کام نہیں آتی )
اگر جذبات کی لچک ختم کر کے ان میں دینی حرارت پیدا کرنی ہے توحضرت کافی و خیر آبادی کی طرف پھر سے رجوع کریں ۔
✍️لقمان شاہد
28-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3100002620279906&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اگرآپ کو تفضیلی ، تفسیقی یا رافضی تنگ کرتے ہیں تو پورے ذوق کے ساتھ تین بار یہ پڑھ لیں ؎
اے مظہرِ جلالِ اَحَد ، یا علی مَدَد
اے تاجدارِ علم و خِرَد ، یا علی مدد
اے جاۓ نازشِ اب وجد ، یا علی مدد
اے غم گُسارِ کُنجِ لحد ، یا علی مدد
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3100127090267459&id=100008105947430
اے مظہرِ جلالِ اَحَد ، یا علی مَدَد
اے تاجدارِ علم و خِرَد ، یا علی مدد
اے جاۓ نازشِ اب وجد ، یا علی مدد
اے غم گُسارِ کُنجِ لحد ، یا علی مدد
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3100127090267459&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسول پاک ﷺ کا فرمان ہے:
مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے چاہے وہ گناہ گار ہو ، کیوں کہ اس کا گناہ اس کی ذات تک رہتا ہے ( اس کی دعا اور بددعا پر اثر انداز نہیں ہوتا ) ۔
( مسنداحمدبن حنبل ، ر 9775 ، قال المنذری رحمہ اللہ: حسن )
فیس بک پر مسلمانوں کی عزتیں اچھالنے والے ، انھیں ذلیل و رسوا کرنے والے ، الزام تراشیوں سے کام لینے والے ، اور بے حکمِ شرعی صحیح العقیدہ مسلمانوں پر نصب و خروج کی تہمتیں لگانے والے ظالموں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں کسی مظلوم کی بددعا اِن کے برے خاتمے کاسبب نہ بن جائے ۔
✍️لقمان شاہد
3-3-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3102190363394465&id=100008105947430
مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے چاہے وہ گناہ گار ہو ، کیوں کہ اس کا گناہ اس کی ذات تک رہتا ہے ( اس کی دعا اور بددعا پر اثر انداز نہیں ہوتا ) ۔
( مسنداحمدبن حنبل ، ر 9775 ، قال المنذری رحمہ اللہ: حسن )
فیس بک پر مسلمانوں کی عزتیں اچھالنے والے ، انھیں ذلیل و رسوا کرنے والے ، الزام تراشیوں سے کام لینے والے ، اور بے حکمِ شرعی صحیح العقیدہ مسلمانوں پر نصب و خروج کی تہمتیں لگانے والے ظالموں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں کسی مظلوم کی بددعا اِن کے برے خاتمے کاسبب نہ بن جائے ۔
✍️لقمان شاہد
3-3-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3102190363394465&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM