ائمہ مساجد یہ کام کریں
جیسا کہ آپ تمام حضرات کو معلوم ہوگا کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات دن بہ دن دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں بھارت میں بھی حالات سنگین ہوگئے ہیں۔
دوسری طرف باطل فرقے اور نظریات ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کرکے اہل سنت و جماعت سے کاٹ کر اپنے فرقے میں شامل کرتی جارہی ہے۔
اس کے لیے ملت کے ہر طبقے کو قوم و ملت کے عقائد و نظریات کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے آگے آکر کام شروع کردینا چاہیے۔ امت کا سب سے اہم مسئلہ ہے تعلیم کی کمی۔ دینی دنیاوی علم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ہر جگہ پیچھے نظر آتے ہیں۔۔۔
ائمہ مساجد اگر ان نکات پر عمل شروع کردیں تو مسلمانوں میں عقائد کی مضبوطی آجائے اور امت کی اصلاح بھی ہوسکتی ہے۔
۱۔ ہر امام صاحب روز کسی مخصوص نماز کے فورا بعد صرف دو منٹ عوام کو شرعی مسائل سے واقف کرائیں۔ یاد رہے صرف دو منٹ سے زیادہ نہ ہو۔ اکثر عوام وضو، غسل، طہارت، نماز، روزہ، زکوۃ وغیرہ سے واقف نہیں ہوتے۔۔۔ اسی طرح عقائد کے متعلق بھی بتاتے رہیں۔ اللہ تعالی کے بارے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے، ایمان مجمل، ایمان مفصل کی تشریح۔ ۔۔۔ ان باتوں کا علم نہ ہونے سے ہی لوگ گمراہ ہوتے ہیں ۔
۲۔ روزانہ بعد نماز عشا تفسیر بیان کرے۔ یہ بھی صرف ۱۵ سے ۲۰ منٹ۔ تمہید میں وقت نہ لگائیں ۔۔ بہت ساری تفاسیر کی کتب دستیاب ہیں۔ ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
۳۔ خطبات جمعہ میں خاص بیان ہو۔ روشن مستقبل کا خطبہ سنانا کافی ہے۔ ساتھ میں حالات حاضرہ پر مختصر تبصرہ بھی ضروری ہے۔
۴۔ ائمہ حضرات نوجوان طبقے کا خصوصی خیال رکھیں۔ ان سے سلام دعا کرتے رہیں۔ ان کو مسائل کے جواب بتانے کی بھرپور کوشش کریں۔ اگر مسئلہ نہ معلوم ہو تو کتاب یا دیگر عالم سے معلوم کرکے نوجوانوں کی تشفی کی جائے۔۔۔
۵۔ سوشل میڈیا پر نظر رکھیں۔ آج ساری دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اپنے بیانات میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط خبروں اور بد گمانیوں کی تردید کریں اور اصلاح کا کام کرتے رہیں۔
۶۔ علاقے میں اثر رکھنے والی شخصیات سے روابط بنائیں، مقصد یہ ہو کہ وقت پڑنے پر ان سے تعاون مل سکے۔
۷۔ لوگوں سے مسکرا کر ملیں اور ان کے کام آنے کی کوشش کریں۔ اس طرح لوگ خود بخود آپ کے بھی کام آئیں گے۔
۸۔ ہفتے میں تین سے چار روز ائمہ اپنے مقتدیوں کے گھر جائیں اور صرف تیس منٹ ان سے بات کریں، دو تین پڑوسیوں کی پوری فیملی ہو۔ مرد باہر امام صاحب کے ساتھ اور عورتیں گھر میں پردے کے ساتھ جمع ہوں، اور دینی، تعلیمی ضروریات پر بات کریں، حالات حاضرہ پر تشویش کا اظہار کریں.
پہلے ہی سے یہ خبر بھی کہلا دیں کہ چائے کا بھی اہتمام نہ ہو، پانی بھی نہ پئیں گے، تاکہ عوام خرچ کی وجہ سے بلانا نہ چھوڑے، اور یہ بھی کہلا دیں کہ جو اہتمام کرے گا اس کے یہاں دوبارہ نہ جائیں گے.۔۔۔
ان نکات پر عمل کی ضرور کوشش کریں۔ ان شا اللہ دین دنیا میں کامیابی ملے گی اور مستقبل روشن ہوگا۔۔۔
✒️۔۔۔ محمد زبیر قادری
روشن مستقبل
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/873770349860151/
جیسا کہ آپ تمام حضرات کو معلوم ہوگا کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات دن بہ دن دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں بھارت میں بھی حالات سنگین ہوگئے ہیں۔
دوسری طرف باطل فرقے اور نظریات ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کرکے اہل سنت و جماعت سے کاٹ کر اپنے فرقے میں شامل کرتی جارہی ہے۔
اس کے لیے ملت کے ہر طبقے کو قوم و ملت کے عقائد و نظریات کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے آگے آکر کام شروع کردینا چاہیے۔ امت کا سب سے اہم مسئلہ ہے تعلیم کی کمی۔ دینی دنیاوی علم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ہر جگہ پیچھے نظر آتے ہیں۔۔۔
ائمہ مساجد اگر ان نکات پر عمل شروع کردیں تو مسلمانوں میں عقائد کی مضبوطی آجائے اور امت کی اصلاح بھی ہوسکتی ہے۔
۱۔ ہر امام صاحب روز کسی مخصوص نماز کے فورا بعد صرف دو منٹ عوام کو شرعی مسائل سے واقف کرائیں۔ یاد رہے صرف دو منٹ سے زیادہ نہ ہو۔ اکثر عوام وضو، غسل، طہارت، نماز، روزہ، زکوۃ وغیرہ سے واقف نہیں ہوتے۔۔۔ اسی طرح عقائد کے متعلق بھی بتاتے رہیں۔ اللہ تعالی کے بارے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے، ایمان مجمل، ایمان مفصل کی تشریح۔ ۔۔۔ ان باتوں کا علم نہ ہونے سے ہی لوگ گمراہ ہوتے ہیں ۔
۲۔ روزانہ بعد نماز عشا تفسیر بیان کرے۔ یہ بھی صرف ۱۵ سے ۲۰ منٹ۔ تمہید میں وقت نہ لگائیں ۔۔ بہت ساری تفاسیر کی کتب دستیاب ہیں۔ ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
۳۔ خطبات جمعہ میں خاص بیان ہو۔ روشن مستقبل کا خطبہ سنانا کافی ہے۔ ساتھ میں حالات حاضرہ پر مختصر تبصرہ بھی ضروری ہے۔
۴۔ ائمہ حضرات نوجوان طبقے کا خصوصی خیال رکھیں۔ ان سے سلام دعا کرتے رہیں۔ ان کو مسائل کے جواب بتانے کی بھرپور کوشش کریں۔ اگر مسئلہ نہ معلوم ہو تو کتاب یا دیگر عالم سے معلوم کرکے نوجوانوں کی تشفی کی جائے۔۔۔
۵۔ سوشل میڈیا پر نظر رکھیں۔ آج ساری دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اپنے بیانات میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط خبروں اور بد گمانیوں کی تردید کریں اور اصلاح کا کام کرتے رہیں۔
۶۔ علاقے میں اثر رکھنے والی شخصیات سے روابط بنائیں، مقصد یہ ہو کہ وقت پڑنے پر ان سے تعاون مل سکے۔
۷۔ لوگوں سے مسکرا کر ملیں اور ان کے کام آنے کی کوشش کریں۔ اس طرح لوگ خود بخود آپ کے بھی کام آئیں گے۔
۸۔ ہفتے میں تین سے چار روز ائمہ اپنے مقتدیوں کے گھر جائیں اور صرف تیس منٹ ان سے بات کریں، دو تین پڑوسیوں کی پوری فیملی ہو۔ مرد باہر امام صاحب کے ساتھ اور عورتیں گھر میں پردے کے ساتھ جمع ہوں، اور دینی، تعلیمی ضروریات پر بات کریں، حالات حاضرہ پر تشویش کا اظہار کریں.
پہلے ہی سے یہ خبر بھی کہلا دیں کہ چائے کا بھی اہتمام نہ ہو، پانی بھی نہ پئیں گے، تاکہ عوام خرچ کی وجہ سے بلانا نہ چھوڑے، اور یہ بھی کہلا دیں کہ جو اہتمام کرے گا اس کے یہاں دوبارہ نہ جائیں گے.۔۔۔
ان نکات پر عمل کی ضرور کوشش کریں۔ ان شا اللہ دین دنیا میں کامیابی ملے گی اور مستقبل روشن ہوگا۔۔۔
✒️۔۔۔ محمد زبیر قادری
روشن مستقبل
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/873770349860151/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا ضرار رضی الله تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اوصاف بیان کریں۔“
حضرت ضرار رضی الله تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس قدر علوم و معارف کے حامل تھے کہ اس ميں ان کی انتہا کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، آپ رضی الله تعالیٰ عنہ الله عزوجل کے معاملہ اور اس کے دین کی حمایت میں مضبوط ارادے رکھتے تھے، فیصلہ کُن بات کرتے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے تھے، ان کے پہلوؤں سے علم کے سوتے پھوٹتے تھے اور دہن مبارک سے حکمت کے پھول جھڑتے تھے، دنیا اور اس کی رنگینیوں سے وحشت کھاتے اور رات اور اس کے اندھیروں سے اُنْس حاصل کرتے تھے، الله عزوجل کی قسم! آپ رضی الله تعالیٰ عنہ بہت زیادہ آنسو بہانے والے، دور اندیش اور افسوس سے ہاتھ ملنے والے تھے، کیونکہ افسردہ اور غمگین شخص ایسا ہی کرتا ہے، اپنے نفس کو بے چینی و اضطراب سے مخاطب فرماتے، لباس کھردرا پسند کرتے، جو سامنے آ جاتا وہی کھا لیتے، الله عزوجل کی قسم! جب ہم ان سے کچھ پوچھتے تو وہ اس کا جواب دیتے اور جب انہیں دعوت دیتے تو ہماری دعوت قبول فرماتے اور الله عزوجل کی قسم! ہم ان کے قریب رہنے اور ان سے تعلق رکھنے کے باوجود ہیبت کی وجہ سے ان کے سامنے کلام نہ کر سکتے تھے، اگر آپ رضی الله تعالیٰ عنہ مسکراتے تو لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح (دندان مبارک چمکتے)، دینداروں کی تعظیم کرتے اور مسکینوں سے محبت کرتے، طاقتور کو ظلم میں اُمید نہ دلاتے اور کمزور کو انصاف میں مایوس نہ کرتے، الله عزوجل کی قسم کھا کر میں گواہی دیتا ہوں کہ آج بھی انہیں اس حال میں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ جب رات اپنے پردے ڈال دیتی اور ستارے ظاہر ہو جاتے تو آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم جائے نماز پر آ کر اپنی ریش مبارک پکڑ لیتے اور اس شخص کی طرح تڑپتے جسے سانپ نے کاٹ لیا ہو اور غمزدہ شخص کی طرح روتے گویا میں انہیں گریہ وزاری کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں: یَا رَبَّنَا! یَارَبَّنَا! یعنی اے ہمارے رب عزوجل! اے ہمارے رب عزوجل! پھر فرماتے: ’اے دنیا! تو نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے یا ابھی کچھ شوق باقی ہے؟ ہائے افسوس! ہائے افسوس! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکے میں ڈال، میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اب میرا تجھ سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تیری عمر کم ہے جب کہ تیری آسائشیں حقیر اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ آہ! زادِ راہ قلیل ہے اور سفر بہت دور کا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔‘“
اتنا سننے کے بعد حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ کی آنکھیں بھر گئیں اور ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی، آپ رضی الله تعالیٰ عنہ اپنی آستین سے اپنے آنسو پونچھنے لگے اور لوگوں کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں، پھر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
”الله عزوجل ابو الحسن یعنی حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر رحم فرمائے ،اللہ عزوجل کی قسم! آپ رضی الله تعالیٰ عنہ ایسے ہی تھے۔“
(حلیة الاولیاء، ذکر علي بن ابي طالب، رقم ٢٦١، جلد ۱، صفحہ ١٢٦)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/875152346395669/
حضرت ضرار رضی الله تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس قدر علوم و معارف کے حامل تھے کہ اس ميں ان کی انتہا کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، آپ رضی الله تعالیٰ عنہ الله عزوجل کے معاملہ اور اس کے دین کی حمایت میں مضبوط ارادے رکھتے تھے، فیصلہ کُن بات کرتے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے تھے، ان کے پہلوؤں سے علم کے سوتے پھوٹتے تھے اور دہن مبارک سے حکمت کے پھول جھڑتے تھے، دنیا اور اس کی رنگینیوں سے وحشت کھاتے اور رات اور اس کے اندھیروں سے اُنْس حاصل کرتے تھے، الله عزوجل کی قسم! آپ رضی الله تعالیٰ عنہ بہت زیادہ آنسو بہانے والے، دور اندیش اور افسوس سے ہاتھ ملنے والے تھے، کیونکہ افسردہ اور غمگین شخص ایسا ہی کرتا ہے، اپنے نفس کو بے چینی و اضطراب سے مخاطب فرماتے، لباس کھردرا پسند کرتے، جو سامنے آ جاتا وہی کھا لیتے، الله عزوجل کی قسم! جب ہم ان سے کچھ پوچھتے تو وہ اس کا جواب دیتے اور جب انہیں دعوت دیتے تو ہماری دعوت قبول فرماتے اور الله عزوجل کی قسم! ہم ان کے قریب رہنے اور ان سے تعلق رکھنے کے باوجود ہیبت کی وجہ سے ان کے سامنے کلام نہ کر سکتے تھے، اگر آپ رضی الله تعالیٰ عنہ مسکراتے تو لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح (دندان مبارک چمکتے)، دینداروں کی تعظیم کرتے اور مسکینوں سے محبت کرتے، طاقتور کو ظلم میں اُمید نہ دلاتے اور کمزور کو انصاف میں مایوس نہ کرتے، الله عزوجل کی قسم کھا کر میں گواہی دیتا ہوں کہ آج بھی انہیں اس حال میں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ جب رات اپنے پردے ڈال دیتی اور ستارے ظاہر ہو جاتے تو آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم جائے نماز پر آ کر اپنی ریش مبارک پکڑ لیتے اور اس شخص کی طرح تڑپتے جسے سانپ نے کاٹ لیا ہو اور غمزدہ شخص کی طرح روتے گویا میں انہیں گریہ وزاری کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں: یَا رَبَّنَا! یَارَبَّنَا! یعنی اے ہمارے رب عزوجل! اے ہمارے رب عزوجل! پھر فرماتے: ’اے دنیا! تو نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے یا ابھی کچھ شوق باقی ہے؟ ہائے افسوس! ہائے افسوس! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکے میں ڈال، میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اب میرا تجھ سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تیری عمر کم ہے جب کہ تیری آسائشیں حقیر اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ آہ! زادِ راہ قلیل ہے اور سفر بہت دور کا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔‘“
اتنا سننے کے بعد حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ کی آنکھیں بھر گئیں اور ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی، آپ رضی الله تعالیٰ عنہ اپنی آستین سے اپنے آنسو پونچھنے لگے اور لوگوں کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں، پھر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
”الله عزوجل ابو الحسن یعنی حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر رحم فرمائے ،اللہ عزوجل کی قسم! آپ رضی الله تعالیٰ عنہ ایسے ہی تھے۔“
(حلیة الاولیاء، ذکر علي بن ابي طالب، رقم ٢٦١، جلد ۱، صفحہ ١٢٦)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/875152346395669/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*لمحئہ فکر*
*لفظ " ملت " کا بیجا استعمال*
آج کل ایک دو سال سے یہ دیکھا جارہا ہے اس لفظ *" ملت "* کا کچھ زیادہ ہی استعمال ہو رہا
جب کہ یہ لفظ ان اکابر علماء کے لئے استعمال ہوا کرتا تھا جو حقیقت میں پوری ملت ِاسلامیہ کے لئے وہ ایک رہبر و رہنما کی حیثیت رکھتے تھے
جیسے *" پاسبان ملت " مجاہد ملت " بدر ملت " حافظ ملت " برہان ملت "* ان القابات سے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ یہ لفظ ملت کس کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور کیوں کیا جارہاہے ان کے کارنامے کیا ہیں
مجھے اب بتانے کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ *" پاسبان ملت " حافظ ملت " مجاہد ملت " بدر ملت " برہان ملت "* کن شخصیات کو کہا گیا ہے یہ ایسے نام تھے جن کو دنیائے اہلسنت قیامت تلک کبھی بھول نہیں سکتی
اور الحمد للہ آج بھی چند ایسے علماء و اکابرین ہیں جو حقیقت میں ان کے نام کے آگے اس *لفظ ملت* کا استعمال کسی حد تلک درست نظر آتا ہے
مگر افسوس کہ
ایک گاوں یا ایک محلے کے لوگ جس سے اچھی طرح واقف بھی نہیں رہتے اُس شخص کے نام کے آگے بھی اس لفظ *" ملت "* کو لگا رہے ہیں یا خود جناب اپنے نام کے آگے لفظ ملت لگواکے اپنے معتقدین سے لکھوارہے ہیں کہ میں فلانا ملت ہوں *الاماشاءاللہ*
کوئی بشیر احمد ہے تو
*بشیر ملت*
کوئی عبد الطیف ہے تو
*لطیف ملت*
کوئی محمد صابر ہے تو
*صابر ملت*
کوئی ناصر احمد ہے تو
*ناصر ملت*
کوئی مشتاق احمد ہے تو
*مشتاق ملت*
کوئی محمد تسلیم ہے تو
*تسلیم ملت*
جب کے اس کے گھر خاندان محلے کے لوگ اسے تسلیم نہ کرتے ہوں
وہ *تسلیم ملت* بن جاتے ہیں
یعنی ان کو کسی نے ایک دو جگہ جلسے میں کیا بلالیا اب وہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے فلاں فلاں ملت بن گئے
(معذرت چاہتا ہوں میں ان لوگوں سے جو کسی کا نام مذکورہ ناموں میں سے نام ہو )
مطلب یہ کہ یہ *لفظِ ملت* اتنا سستا دکھائی دے رہا ہے کہ ہرکس و ناکس کو بھی چند جہلا پوری ملتِ اسلامیہ کے لئے *محافظ ملت* بنالیتے ہیں
ایک محلہ انکے سنبھالے نہیں سنبھلتا اور یہ جناب ایک دو جلسوں میں مدعو ہوتے ہی
پوری ملت اسلامیہ کے *محافظ ملت* بن جاتے ہیں پوری ملت کے لئے *" قائد ملت"* جیسے القاب کو اپنے نام کے آگے چسپاں کرلیتے ہیں
جسکا جو نام ہے بس اس نام کے آگے ملت لگا لیا اور پوری ملت کے لئے جناب *صابر ملت " ناصر ملت " نصیر ملت " بشیر ملت " حفیظ ملت" لطیف ملت " فاروق ملت " منیر ملت " نظیر ملت " شکور ملت " شاکر ملت"* یعنی جس کا جو نام ہے بس اس نام آگے ملت لگا دیا *الا ماشاءاللہ*
اور پوری ملت اسلامیہ کے لئے فلاں فلاں ملت بن گئے
اللہ تعالی ہمیں اس گھنونے ڈھونگ اور دکھاوے سے حفاظت فرمائے
اور ان جہلا کو بھی اللہ تعالی سمجھ عطا فرمائے جو اس قسم کے بیجا بے موقع محل القابات سے اپنے *ائمہ کو علماء کو شعراء و مقریرین* کو *لفظ ملت* کا بیجا استعمال کرکے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
فقط
مشتاق احمد رضوی نظامی کرناٹک
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2947108568901784&id=100008080090753
*لفظ " ملت " کا بیجا استعمال*
آج کل ایک دو سال سے یہ دیکھا جارہا ہے اس لفظ *" ملت "* کا کچھ زیادہ ہی استعمال ہو رہا
جب کہ یہ لفظ ان اکابر علماء کے لئے استعمال ہوا کرتا تھا جو حقیقت میں پوری ملت ِاسلامیہ کے لئے وہ ایک رہبر و رہنما کی حیثیت رکھتے تھے
جیسے *" پاسبان ملت " مجاہد ملت " بدر ملت " حافظ ملت " برہان ملت "* ان القابات سے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ یہ لفظ ملت کس کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور کیوں کیا جارہاہے ان کے کارنامے کیا ہیں
مجھے اب بتانے کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ *" پاسبان ملت " حافظ ملت " مجاہد ملت " بدر ملت " برہان ملت "* کن شخصیات کو کہا گیا ہے یہ ایسے نام تھے جن کو دنیائے اہلسنت قیامت تلک کبھی بھول نہیں سکتی
اور الحمد للہ آج بھی چند ایسے علماء و اکابرین ہیں جو حقیقت میں ان کے نام کے آگے اس *لفظ ملت* کا استعمال کسی حد تلک درست نظر آتا ہے
مگر افسوس کہ
ایک گاوں یا ایک محلے کے لوگ جس سے اچھی طرح واقف بھی نہیں رہتے اُس شخص کے نام کے آگے بھی اس لفظ *" ملت "* کو لگا رہے ہیں یا خود جناب اپنے نام کے آگے لفظ ملت لگواکے اپنے معتقدین سے لکھوارہے ہیں کہ میں فلانا ملت ہوں *الاماشاءاللہ*
کوئی بشیر احمد ہے تو
*بشیر ملت*
کوئی عبد الطیف ہے تو
*لطیف ملت*
کوئی محمد صابر ہے تو
*صابر ملت*
کوئی ناصر احمد ہے تو
*ناصر ملت*
کوئی مشتاق احمد ہے تو
*مشتاق ملت*
کوئی محمد تسلیم ہے تو
*تسلیم ملت*
جب کے اس کے گھر خاندان محلے کے لوگ اسے تسلیم نہ کرتے ہوں
وہ *تسلیم ملت* بن جاتے ہیں
یعنی ان کو کسی نے ایک دو جگہ جلسے میں کیا بلالیا اب وہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے فلاں فلاں ملت بن گئے
(معذرت چاہتا ہوں میں ان لوگوں سے جو کسی کا نام مذکورہ ناموں میں سے نام ہو )
مطلب یہ کہ یہ *لفظِ ملت* اتنا سستا دکھائی دے رہا ہے کہ ہرکس و ناکس کو بھی چند جہلا پوری ملتِ اسلامیہ کے لئے *محافظ ملت* بنالیتے ہیں
ایک محلہ انکے سنبھالے نہیں سنبھلتا اور یہ جناب ایک دو جلسوں میں مدعو ہوتے ہی
پوری ملت اسلامیہ کے *محافظ ملت* بن جاتے ہیں پوری ملت کے لئے *" قائد ملت"* جیسے القاب کو اپنے نام کے آگے چسپاں کرلیتے ہیں
جسکا جو نام ہے بس اس نام کے آگے ملت لگا لیا اور پوری ملت کے لئے جناب *صابر ملت " ناصر ملت " نصیر ملت " بشیر ملت " حفیظ ملت" لطیف ملت " فاروق ملت " منیر ملت " نظیر ملت " شکور ملت " شاکر ملت"* یعنی جس کا جو نام ہے بس اس نام آگے ملت لگا دیا *الا ماشاءاللہ*
اور پوری ملت اسلامیہ کے لئے فلاں فلاں ملت بن گئے
اللہ تعالی ہمیں اس گھنونے ڈھونگ اور دکھاوے سے حفاظت فرمائے
اور ان جہلا کو بھی اللہ تعالی سمجھ عطا فرمائے جو اس قسم کے بیجا بے موقع محل القابات سے اپنے *ائمہ کو علماء کو شعراء و مقریرین* کو *لفظ ملت* کا بیجا استعمال کرکے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
فقط
مشتاق احمد رضوی نظامی کرناٹک
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2947108568901784&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت اِمامُ المناظرین, شیربیشۂ اہل سنت علامہ مولانا حشمت علی لکھنوی علیہ الرحمۃ کی شانِ اور علمی رُعب ملاحظہ فرمائیں. آپ تحریر فرماتے ہیں:
"مئو ضلع اعظم گڑھ کے وہابی دیوبندی, مولوی حبیب الرحمان ومولوی عبد اللطیف صاحبان کے پاس. اور سنبھل ضلع مراد آباد کے وہابی دیوبندی مولوی منظور صاحب کے پاس اور دوبارہ پھر لاہر پور ضلع سیتا پور کے مولوی ابو الوفا صاحب کے پاس جو اپنے آپ کو شاہجہانپوری کہا کرتے ہیں اور لکھنؤمیں پاٹے نالے کے رہنے والے مولوی عبد الشکور کاکوروی صاحب کے پاس بھدرسے کے وہابی دیوبندی صاحبان بار بار جار ہے ہیں. خوشامدیں کر رہے ہیں لیکن میرے مقابل کفریاتِ وہابیہء دیوبندیہ پر مناظرے کے لیے آنے کے لیے کوئی صاحب تیار نہیں ہو رہے"
(شمع منوّر رَہِ نجات, صفحہ147,148 مطبوعہ رضا اکیڈمی, بمبئی)
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2947237092222265&id=100008080090753
"مئو ضلع اعظم گڑھ کے وہابی دیوبندی, مولوی حبیب الرحمان ومولوی عبد اللطیف صاحبان کے پاس. اور سنبھل ضلع مراد آباد کے وہابی دیوبندی مولوی منظور صاحب کے پاس اور دوبارہ پھر لاہر پور ضلع سیتا پور کے مولوی ابو الوفا صاحب کے پاس جو اپنے آپ کو شاہجہانپوری کہا کرتے ہیں اور لکھنؤمیں پاٹے نالے کے رہنے والے مولوی عبد الشکور کاکوروی صاحب کے پاس بھدرسے کے وہابی دیوبندی صاحبان بار بار جار ہے ہیں. خوشامدیں کر رہے ہیں لیکن میرے مقابل کفریاتِ وہابیہء دیوبندیہ پر مناظرے کے لیے آنے کے لیے کوئی صاحب تیار نہیں ہو رہے"
(شمع منوّر رَہِ نجات, صفحہ147,148 مطبوعہ رضا اکیڈمی, بمبئی)
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2947237092222265&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تاریخ مکہ معظمہ پر فاتح عیسائیت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی نایاب عربی کتاب کانایاب اردو ترجمہ جس کا حضرت کیرانوی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ترجمہ کیا گیا
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948155178797123&id=100008080090753
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948155178797123&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM