Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آستانہ عالیہ بریلی شریف سے "ماہنامہ اعلی حضرت"بابت مارچ 2016ءکاشمارہ موصول ہوا.اس میں راقم کی تخریج وحواشی کے ساتھ مولاناطیب داناپوری رحمۃ اللہ علیہ کا تکفیردیوبندیہ کے متعلق ایک شبہے کے جواب پرمشتمل رسالہ "صمصام المدینۃ علی الدیوبندیۃ المہینۃ"بھی شائع ہواہے.یہ رسالہ ادارہ تحفظِ عقائدِ اہلِ سنت کراچی اور ادارہ نوربصیرت,کراچی سے بھی شائع ہوچکاہے.
نوٹ:یہ وضاحت ضروری سمجھتاہوں کہ ماہنامہ اعلی حضرت میں میرے نام کے ساتھ مولانالکھاہے جس کا میں قطعاً اہل نہیں ہوں.مدیراعزازی صاحب کواس بابت بتادیاگیاہے آئندہ ان شاءاللّٰہ نام کے ساتھ مولانانہیں لکھاجائے گا.
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2945681235711184&id=100008080090753
نوٹ:یہ وضاحت ضروری سمجھتاہوں کہ ماہنامہ اعلی حضرت میں میرے نام کے ساتھ مولانالکھاہے جس کا میں قطعاً اہل نہیں ہوں.مدیراعزازی صاحب کواس بابت بتادیاگیاہے آئندہ ان شاءاللّٰہ نام کے ساتھ مولانانہیں لکھاجائے گا.
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2945681235711184&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
فضائل حضرت امام جعفر صادق جب نبی رجب کا چاند دیکھتے فضیلت اہل بیت اطہار قرآن سے قرآن اور اہلبیت گمراہی سے بچاتے Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge موضوع #کونڈے_کی_فاتحہ 📜¹ ✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
امام سے پہلے اہلبیت کو سمجھیں
حضور کے سب سے قریب کون ؟
مکالمہ = امام باقر اور امام اعظم
مختصر سوانح امام جعفر صادق
امام جعفر کا علمی مقام و مرتبہ
امام جعفر امام اعظم کی نظر میں
ح جعفر امام اعظم کی مجلس افتاء
نیاز و فاتحہ میں فرق طریقۂ فاتحہ
کونڈوں کی فاتحہ کی حقیقت
امام جعفر کی فاتحہ | فقیہ ملت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #کونڈے_کی_فاتحہ 📜²
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
حضور کے سب سے قریب کون ؟
مکالمہ = امام باقر اور امام اعظم
مختصر سوانح امام جعفر صادق
امام جعفر کا علمی مقام و مرتبہ
امام جعفر امام اعظم کی نظر میں
ح جعفر امام اعظم کی مجلس افتاء
نیاز و فاتحہ میں فرق طریقۂ فاتحہ
کونڈوں کی فاتحہ کی حقیقت
امام جعفر کی فاتحہ | فقیہ ملت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #کونڈے_کی_فاتحہ 📜²
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#جہیز_سے_بھی_زیادہ_مہلک_عناصر
تحریر : عبد الرحمن پٹیل مصباحی
بات صرف جہیز کی نہیں، اصل پرابلم وہ فضا ہے جو نصف صدی سے موجودہ نسل کے گرد بنائی گئی ہے اور دن بہ دن نوجوان اس کے دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں. کرائم پیٹرول جیسے ٹی وی شوز میں دکھائی جانے والی حسین ترین خود کُشیوں سے لے کر درجنوں سِیریَلوں میں پیش کیے جانے والے محبت کے غلیظ ترین ڈھونگ تک اور وہاں سے لے کر عشقیہ فلموں کی ناکام محبت کے نتیجے میں برپا ہونے والے سوسائڈ سِین تک؛ موجودہ نسل کے چاروں طرف ایسے مواد کا ڈھیر لگا ہوا ہے جو ان کی ذہنیت کو مسلسل مجروح کر کے انہیں احساس کمتری کے گہرے کنویں میں دھکیل رہا ہے. فلمی ایکٹروں کے ذریعے کی جانے والی روز مرہ کی خود کشیاں جلتی پر تیل کا کام کرتی ہیں، اور اِس طرح کمزور نفسیاتی بیک گراؤنڈ رکھنے والی نئی نسل بڑی آسانی سے خود کشی کی حماقت کو نجات کا ذریعہ سمجھ لیتی ہے. جہیز جیسی دو چار رسمیں کھائی کے کنارے کھڑے انسان کو چھلانگ لگا کر جان ہلاک کرنے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہیں مگر سوسائڈ کو حقیقی جواز بلکہ مقبولیت اور آگے بڑھ کر کہا جائے تو رواج دینے میں سب سے بڑا ہاتھ ان فلمی اور ڈرامائی تعلیمات کا ہے جو ہمارے گھروں میں داخل ہو چکی ہیں. رہی سہی کسر اسٹینڈ اپ کامیڈی میں بیان ہونے والی بے ہودہ محبت اور مشاعروں میں پڑھی جانے والی جان لیوا شاعری پوری کر دیتی ہے.
ایک طرف تو پرانی نسل نے سماج کا بُت کھڑا کیا ہوا ہے جہاں ہر اچھا برا مناسب نامناسب کام صرف اس لیے کیا اور کرایا جاتا ہے کہ سماج کا دیوتا برا نہ مان جائے، حالاں کہ سماج کے بہت سے واہیات رسم و رواج نہ تو شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں نہ ہی عام اخلاقیات سے اس کی تائید ممکن ہوتی ہے. دوسری طرف نئی نسل "ہم لے کے رہیں گے آزادی" کے کھوکھلے نعروں سے ایسی مرعوب ہو چکی ہے کہ اسے اپنے ہر داخلی و خارجی اور ذاتی و سماجی پرابلم کا واحد حل مغرب پرستی اور اس کی نمائندگی کرنے والے اداکاروں کی اندھا دھند تقلید میں نظر آتا ہے. اب نئی نسل کو کون سمجھائے کہ جو مغرب اپنی آزاد روش کے نتیجے میں یورپ سے لے کر امریکہ تک اخلاقی پسماندگی، نفسیاتی ہیجان، خاندانی ٹکراؤ، سیاسی کرپشن اور روز مرہ کی خود کُشیوں کا جہنم بن چکا ہے اس کی پیروی کر کے اپنی زندگی کو جنت نما بنانے کا تصور؛ ڈراؤنے خواب کے سوا کچھ بھی نہیں. ساتھ ہی پرانے لوگوں کو بھی چاہیے کہ اپنے خود ساختہ سماجی ڈھانچے پر دوبارہ غور کریں اور تمام غیر ضروری بندشوں کو یک قلم مسترد کر دیں تاکہ نئی نسل چند گھسے پٹے رواجوں کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے اپنے بڑوں سے متنفر ہو کر ان کے تجربات کی روشنی سے محروم نہ ہو جائے.
دو نسلوں کی دو طرفہ ہٹ دھرمی اور ان کے گرد چو طرفہ فلمی و ڈرامائی آلودگی سے جو ماحول پیدا ہوا ہے اس سے جنریشن گِیپ وجود میں آیا ہے. یہ حقیقت ہے چاہے ہم اس سے خبر دار ہوں یا نہ ہوں. یہ چیلنج ہے چاہے ہم اس سے آنکھیں بند کر کے پھر غفلت کی نیند سو جائیں، چاہے دو چار گالیاں جہیز کو دے کر آنکھیں چرانے کی کوشش کریں یا پھر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے مقابلے پر آمادہ ہو جائیں. بہر حال چیلنج ہمارے سامنے ہے، اپنے رد عمل کا تعیّن ہمیں خود کرنا ہے.
در اصل موجودہ انسانی سماج بزدل بن چکا ہے. یہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے نئی شروعات کی طرف نہیں بڑھتا بلکہ اپنی ہر غلطی کا کوئی جائز یا ناجائز، معقول یا غیر معقول سبب تلاش کر کے سارا وبال وہاں ڈال دیتا ہے اور اطمینان سے پھر اسی ماحول میں مست ہو جاتا جس کے نتیجے میں پہلا حادثہ پیش آیا تھا پھر دوسرا پھر تیسرا اور پھر نہ جانے کتنے.......یہاں تک کہ عائشہ.
A. R. Patel
17.07.1442
01.03.2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/873170709920115/
تحریر : عبد الرحمن پٹیل مصباحی
بات صرف جہیز کی نہیں، اصل پرابلم وہ فضا ہے جو نصف صدی سے موجودہ نسل کے گرد بنائی گئی ہے اور دن بہ دن نوجوان اس کے دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں. کرائم پیٹرول جیسے ٹی وی شوز میں دکھائی جانے والی حسین ترین خود کُشیوں سے لے کر درجنوں سِیریَلوں میں پیش کیے جانے والے محبت کے غلیظ ترین ڈھونگ تک اور وہاں سے لے کر عشقیہ فلموں کی ناکام محبت کے نتیجے میں برپا ہونے والے سوسائڈ سِین تک؛ موجودہ نسل کے چاروں طرف ایسے مواد کا ڈھیر لگا ہوا ہے جو ان کی ذہنیت کو مسلسل مجروح کر کے انہیں احساس کمتری کے گہرے کنویں میں دھکیل رہا ہے. فلمی ایکٹروں کے ذریعے کی جانے والی روز مرہ کی خود کشیاں جلتی پر تیل کا کام کرتی ہیں، اور اِس طرح کمزور نفسیاتی بیک گراؤنڈ رکھنے والی نئی نسل بڑی آسانی سے خود کشی کی حماقت کو نجات کا ذریعہ سمجھ لیتی ہے. جہیز جیسی دو چار رسمیں کھائی کے کنارے کھڑے انسان کو چھلانگ لگا کر جان ہلاک کرنے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہیں مگر سوسائڈ کو حقیقی جواز بلکہ مقبولیت اور آگے بڑھ کر کہا جائے تو رواج دینے میں سب سے بڑا ہاتھ ان فلمی اور ڈرامائی تعلیمات کا ہے جو ہمارے گھروں میں داخل ہو چکی ہیں. رہی سہی کسر اسٹینڈ اپ کامیڈی میں بیان ہونے والی بے ہودہ محبت اور مشاعروں میں پڑھی جانے والی جان لیوا شاعری پوری کر دیتی ہے.
ایک طرف تو پرانی نسل نے سماج کا بُت کھڑا کیا ہوا ہے جہاں ہر اچھا برا مناسب نامناسب کام صرف اس لیے کیا اور کرایا جاتا ہے کہ سماج کا دیوتا برا نہ مان جائے، حالاں کہ سماج کے بہت سے واہیات رسم و رواج نہ تو شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں نہ ہی عام اخلاقیات سے اس کی تائید ممکن ہوتی ہے. دوسری طرف نئی نسل "ہم لے کے رہیں گے آزادی" کے کھوکھلے نعروں سے ایسی مرعوب ہو چکی ہے کہ اسے اپنے ہر داخلی و خارجی اور ذاتی و سماجی پرابلم کا واحد حل مغرب پرستی اور اس کی نمائندگی کرنے والے اداکاروں کی اندھا دھند تقلید میں نظر آتا ہے. اب نئی نسل کو کون سمجھائے کہ جو مغرب اپنی آزاد روش کے نتیجے میں یورپ سے لے کر امریکہ تک اخلاقی پسماندگی، نفسیاتی ہیجان، خاندانی ٹکراؤ، سیاسی کرپشن اور روز مرہ کی خود کُشیوں کا جہنم بن چکا ہے اس کی پیروی کر کے اپنی زندگی کو جنت نما بنانے کا تصور؛ ڈراؤنے خواب کے سوا کچھ بھی نہیں. ساتھ ہی پرانے لوگوں کو بھی چاہیے کہ اپنے خود ساختہ سماجی ڈھانچے پر دوبارہ غور کریں اور تمام غیر ضروری بندشوں کو یک قلم مسترد کر دیں تاکہ نئی نسل چند گھسے پٹے رواجوں کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے اپنے بڑوں سے متنفر ہو کر ان کے تجربات کی روشنی سے محروم نہ ہو جائے.
دو نسلوں کی دو طرفہ ہٹ دھرمی اور ان کے گرد چو طرفہ فلمی و ڈرامائی آلودگی سے جو ماحول پیدا ہوا ہے اس سے جنریشن گِیپ وجود میں آیا ہے. یہ حقیقت ہے چاہے ہم اس سے خبر دار ہوں یا نہ ہوں. یہ چیلنج ہے چاہے ہم اس سے آنکھیں بند کر کے پھر غفلت کی نیند سو جائیں، چاہے دو چار گالیاں جہیز کو دے کر آنکھیں چرانے کی کوشش کریں یا پھر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے مقابلے پر آمادہ ہو جائیں. بہر حال چیلنج ہمارے سامنے ہے، اپنے رد عمل کا تعیّن ہمیں خود کرنا ہے.
در اصل موجودہ انسانی سماج بزدل بن چکا ہے. یہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے نئی شروعات کی طرف نہیں بڑھتا بلکہ اپنی ہر غلطی کا کوئی جائز یا ناجائز، معقول یا غیر معقول سبب تلاش کر کے سارا وبال وہاں ڈال دیتا ہے اور اطمینان سے پھر اسی ماحول میں مست ہو جاتا جس کے نتیجے میں پہلا حادثہ پیش آیا تھا پھر دوسرا پھر تیسرا اور پھر نہ جانے کتنے.......یہاں تک کہ عائشہ.
A. R. Patel
17.07.1442
01.03.2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/873170709920115/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#کیا_ادب_ایمان_سے_بڑھ_کر_ہے؟
تحریر : غلام مصطفےٰ نعیمی
رکن - روشن مستقبل، دہلی
پچھلے دنوں ایک معروف خانقاہی شیخ کی ایک ویڈیو نگاہ سے گزری جس میں موصوف خانقاہ ومدرسے کے مابین غیر ضروری تقابل کرتے ہوئے یوں فرماتے نظر آئے:
"مدرسہ سے پوچھا جائے کہ ارکان اسلام کتنے ہیں تو جواب ملے گا پانچ، لیکن خانقاہ سے پوچھا جائے تو جواب ملے گا چھ، مدرسے کی ترتیب میں سب سے پہلے توحید ہے اس کے بعد نماز روزہ حج اور زکواۃ ہے۔لیکن خانقاہی ترتیب میں سب سے پہلے ادب ہے پھر توحید اور دیگر اعمال ہیں۔"
پیر صاحب کی گفتگو سے انکشاف ہوا کہ ارکان اسلام پانچ نہیں چھ ہیں۔جس میں سب سے اہم رکن ادب ہے۔جو نہ صرف ایمان سے الگ ہے بلکہ ایمان سے پہلے بھی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل مدارس ارکان اسلام کی تعداد پانچ کیوں بتاتے ہیں، کیا انہیں ارکان اسلام طے کرنے کا حق حاصل ہے، کہ وہ جتنی چاہیں تعداد بیان کردیں؟
لیکن یہ بات آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ ارکان اسلام کی تعداد کسی مولوی یا مدرسے کی نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ ہے۔حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
قَالَ النّبِي ﷺ :بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَهَادَةِ أنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيْتَاءِ الزَّکَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ۔(بخاری شریف کتاب الایمان رقم الحدیث:8)
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔"
اس حدیث پاک سے ثابت ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اسلام نے ہی ارکان اسلام کی تعداد پانچ بتائی ہے۔اب اہل مدرسہ پر اعتراض کا کوئی محل نہیں رہ جاتا کہ وہ تو نبی اکرم ﷺ کا ہی فرمان نقل کرتے ہیں۔اگر کسی کو اس تعداد پر اعتراض ہے تو وہ اعتراض مدرسے پر نہیں بلکہ سیدھا حدیث رسول پر پڑتا ہے۔بات صرف یہیں نہیں رکتی بلکہ یہاں دو سوال اور بھی اٹھتے ہیں:
1-کیا کسی فرد کو حدیث رسول پر اضافہ کرنے کا حق حاصل ہے؟
2-کیا ادب کا مقام توحید ورسالت سے بڑا ہے؟
چند اہم نکات بھی ذہن میں رکھیں جو معاملہ سمجھنے میں معاون ثابت ہوں گے:
🔹ارکان اسلام میں پہلے نمبر پر عقیدہ توحید ورسالت ہے۔بقیہ چار ارکان نماز ،روزہ ،حج اور زکواۃ کا تعلق اعمال سے ہے۔
🔹عقیدہ توحید ورسالت بیج اور درخت کی مانند ہے جس پر قائم رہنا ہمیشہ لازم وضروری ہے۔اگر کسی مسلمان کو توحیدو رسالت کے بعد بقیہ ارکان اربعہ میں کسی پر بھی عمل کا موقع نہیں ملا تب بھی وہ مومن مانا جائے گا۔
🔹عقیدہ توحید ورسالت کی اہمیت اس سے بھی واضح ہے کہ اگر کوئی صاحب ایمان، نماز روزے وغیرہ سے دور ہو تب بھی وہ گنہگار تو ہوگا لیکن رہے گا مومن ہی۔اس کی عملی کمزوریاں قابل مغفرت ہیں۔رب کی رحمت، شفاعت رسول یا سزا کے بعد وہ بخشش کا حقدار ہوگا۔
🔹کوئی شخص عقیدہ توحید قبول نہ کرے بھلے ہی ادب وتہذیب اور احترام واکرام کا پیکر ہو مگر وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔
🔹قبر کی زندگی اخروی زندگی کا پہلا زینہ ہے۔قبر میں انسان سے جو سوالات کئے جاتے ہیں وہ عقائد سے ہی متعلق ہیں۔ تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ تمہارے نبی کون ہیں؟
اگر کوئی عمل عقیدہ توحید سے بڑھ کر ہوتا تو سوالات قبر میں ضرور شامل ہوتا۔
نبی اکرم کا طریقہ تبلیغ:
حضور پر نور ﷺ جب بھی دعوت دین پیش کرتے تو اس طرح فرماتے:
يا أيها الناس قولوا: لا إله إلا اللّه تفلحوا۔(أخرجه الإمام أحمد في مسنده:15448 وأخرجه ابن حبان في صحيحه)
"کہ اے لوگو! کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تا کہ تم فلاح پاؤ۔"
آپ ﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کیا تو ارشاد فرمایا:
وَإِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَلْیَکُن اَوَّلَ، مَاتَدْعُوْھُم إِلَیہ شَھَادَۃُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وفی روایۃ:إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ۔
"تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔دوسری روایت میں ہے کہ تم انہیں سب سے پہلےاس بات کی دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کر لیں۔"
یعنی آپ ﷺ سب سے پہلے دعوت توحید پیش فرماتے اور صحابہ کو بھی اسی منہج وطریقے کی تلقین فرماتے۔اگر توحید سے پہلے کوئی اور رکن ہوتا تو حضور ضرور بالضرور توحید سے پہلے اسی کی دعوت دیتے۔
ادب اور توحید ایک جائزہ
ادب کی تعریف میں کئی اقوال ملتے ہیں مختصراً اتنا سمجھ لیں:
تحریر : غلام مصطفےٰ نعیمی
رکن - روشن مستقبل، دہلی
پچھلے دنوں ایک معروف خانقاہی شیخ کی ایک ویڈیو نگاہ سے گزری جس میں موصوف خانقاہ ومدرسے کے مابین غیر ضروری تقابل کرتے ہوئے یوں فرماتے نظر آئے:
"مدرسہ سے پوچھا جائے کہ ارکان اسلام کتنے ہیں تو جواب ملے گا پانچ، لیکن خانقاہ سے پوچھا جائے تو جواب ملے گا چھ، مدرسے کی ترتیب میں سب سے پہلے توحید ہے اس کے بعد نماز روزہ حج اور زکواۃ ہے۔لیکن خانقاہی ترتیب میں سب سے پہلے ادب ہے پھر توحید اور دیگر اعمال ہیں۔"
پیر صاحب کی گفتگو سے انکشاف ہوا کہ ارکان اسلام پانچ نہیں چھ ہیں۔جس میں سب سے اہم رکن ادب ہے۔جو نہ صرف ایمان سے الگ ہے بلکہ ایمان سے پہلے بھی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل مدارس ارکان اسلام کی تعداد پانچ کیوں بتاتے ہیں، کیا انہیں ارکان اسلام طے کرنے کا حق حاصل ہے، کہ وہ جتنی چاہیں تعداد بیان کردیں؟
لیکن یہ بات آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ ارکان اسلام کی تعداد کسی مولوی یا مدرسے کی نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ ہے۔حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
قَالَ النّبِي ﷺ :بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَهَادَةِ أنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيْتَاءِ الزَّکَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ۔(بخاری شریف کتاب الایمان رقم الحدیث:8)
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔"
اس حدیث پاک سے ثابت ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اسلام نے ہی ارکان اسلام کی تعداد پانچ بتائی ہے۔اب اہل مدرسہ پر اعتراض کا کوئی محل نہیں رہ جاتا کہ وہ تو نبی اکرم ﷺ کا ہی فرمان نقل کرتے ہیں۔اگر کسی کو اس تعداد پر اعتراض ہے تو وہ اعتراض مدرسے پر نہیں بلکہ سیدھا حدیث رسول پر پڑتا ہے۔بات صرف یہیں نہیں رکتی بلکہ یہاں دو سوال اور بھی اٹھتے ہیں:
1-کیا کسی فرد کو حدیث رسول پر اضافہ کرنے کا حق حاصل ہے؟
2-کیا ادب کا مقام توحید ورسالت سے بڑا ہے؟
چند اہم نکات بھی ذہن میں رکھیں جو معاملہ سمجھنے میں معاون ثابت ہوں گے:
🔹ارکان اسلام میں پہلے نمبر پر عقیدہ توحید ورسالت ہے۔بقیہ چار ارکان نماز ،روزہ ،حج اور زکواۃ کا تعلق اعمال سے ہے۔
🔹عقیدہ توحید ورسالت بیج اور درخت کی مانند ہے جس پر قائم رہنا ہمیشہ لازم وضروری ہے۔اگر کسی مسلمان کو توحیدو رسالت کے بعد بقیہ ارکان اربعہ میں کسی پر بھی عمل کا موقع نہیں ملا تب بھی وہ مومن مانا جائے گا۔
🔹عقیدہ توحید ورسالت کی اہمیت اس سے بھی واضح ہے کہ اگر کوئی صاحب ایمان، نماز روزے وغیرہ سے دور ہو تب بھی وہ گنہگار تو ہوگا لیکن رہے گا مومن ہی۔اس کی عملی کمزوریاں قابل مغفرت ہیں۔رب کی رحمت، شفاعت رسول یا سزا کے بعد وہ بخشش کا حقدار ہوگا۔
🔹کوئی شخص عقیدہ توحید قبول نہ کرے بھلے ہی ادب وتہذیب اور احترام واکرام کا پیکر ہو مگر وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔
🔹قبر کی زندگی اخروی زندگی کا پہلا زینہ ہے۔قبر میں انسان سے جو سوالات کئے جاتے ہیں وہ عقائد سے ہی متعلق ہیں۔ تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ تمہارے نبی کون ہیں؟
اگر کوئی عمل عقیدہ توحید سے بڑھ کر ہوتا تو سوالات قبر میں ضرور شامل ہوتا۔
نبی اکرم کا طریقہ تبلیغ:
حضور پر نور ﷺ جب بھی دعوت دین پیش کرتے تو اس طرح فرماتے:
يا أيها الناس قولوا: لا إله إلا اللّه تفلحوا۔(أخرجه الإمام أحمد في مسنده:15448 وأخرجه ابن حبان في صحيحه)
"کہ اے لوگو! کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تا کہ تم فلاح پاؤ۔"
آپ ﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کیا تو ارشاد فرمایا:
وَإِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَلْیَکُن اَوَّلَ، مَاتَدْعُوْھُم إِلَیہ شَھَادَۃُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وفی روایۃ:إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ۔
"تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔دوسری روایت میں ہے کہ تم انہیں سب سے پہلےاس بات کی دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کر لیں۔"
یعنی آپ ﷺ سب سے پہلے دعوت توحید پیش فرماتے اور صحابہ کو بھی اسی منہج وطریقے کی تلقین فرماتے۔اگر توحید سے پہلے کوئی اور رکن ہوتا تو حضور ضرور بالضرور توحید سے پہلے اسی کی دعوت دیتے۔
ادب اور توحید ایک جائزہ
ادب کی تعریف میں کئی اقوال ملتے ہیں مختصراً اتنا سمجھ لیں: