🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مولوی اشرف علی تھانوی کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی گستاخی:
.مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کوکسی نے بتایاکہ اسے کشف ہواہے کہ آپ کے گھرحضرت عائشہ تشریف لانے والی ہیں توموصوف تھانوی صاحب کے ذہن میں فوراًخیال آیاکہ مجھے کوئی کم سِن(چھوٹی عمرکی)بیوی ملے گی.
(نوٹ:یہ واقعہ ماہنامہ الامدادتھانہ بھون بابت 1335ہجری کے حوالے سے بیان کیاجاتاہے.لیکن وہ ہمیں دستیاب نہیں ہوسکا.لیکن یہی واقعہ تھانوی صاحب نے اپنی ایک کتاب بنام "الخطوب المذیبہ"میں بیان کیاہے جو"اصلاح انقلاب امت"نامی مجموعہ میں شامل ہے.اس لیے اس کتاب سے یہ واقعہ پیش کیاگیاہے)
یہ تھانوی صاحب جیسے لوگوں کاہی حوصلہ ہے کہ ماں گھرمیں آئے توبیوی کاخیال ذہن میں لے آئے کہ بیوی ملے گی.اسی لیے توسیدی اعلٰی حضرت نے اپنے قصیدہ الاستمدادمیں فرمایاتھا.
ماں کاادب کافربھی کرے گا
ان کی سنوکیاگاتے یہ ہیں
ماں کاآناواقعہ ڈھالیں
زن کاذہن لڑاتے یہ ہیں
جن پرلاکھوں مائیں تصدق
تعبیران کی بناتے یہ ہیں
کیوں ادب صدیقہ کریں کیا
دین کادیناپھراتے یہ ہیں
وہ تومسلمانوں کی ماں ہیں
کب اسلام رکھاتے یہ ہیں
مولوی منظورنعمانی دیوبندی نے اپنی کتاب "سیف یمانی"میں اوران کے مناظروں کے مجموعے بنام"فتوحاتِ نعمانیہ"میں تھانوی صاحب کے اس واقعہ کادفاع کچھ یوں ہے کہ امام عبدالغنی نابلسی نے "تعطیرالانام"میں لکھاہے کہ "اگرکوئی خواب میں دیکھے کہ اُمہات المؤمنین میں سے کوئی اس کے گھرآئی ہیں تواس کامطلب اس کی شادی ہوگی".
منظورنعمانی دیوبندی کاجواب الجواب:
منظورنعمانی دیوبندی صاحب نے تھانوی صاحب کادفاع کرتے ہوئےیہاں دجل کیاہےکیونکہ تھانوی صاحب نے جوواقعہ حضرت عائشہ کے حوالے سے بیان کیاہے وہ خواب نہیں بلکہ کشف کاواقعہ ہے.جس کی دلیل اس واقعہ کے شروع میں تھانوی صاحب کے لکھے ہوئے یہ الفاظ ہیں"ایک ذاکرصالح کومکشوف ہوا"
اوریہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ کشف اورخواب الگ الگ چیزیں ہیں.
لہٰذاکشف کی تعبیرخواب سے کرنے والے دیوبندکے سپوتوں کویہ حوالہ فائدہ نہیں دے گا.مولوی منظورنعمانی نےامام عبدالغنی نابلسی کی کتاب کے جس مقام سے یہ تعبیرپیش کی ہے وہاں ساتھ یہ بھی لکھاہے کہ "اگرخواب دیکھنے والاکنواراہو"اورتھانوی صاحب اس وقت اپنے مذہب کے مطابق شادی شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ پچاس سال سے زیادہ عمرگذارچکے تھے.یعنی کنوارے نہیں تھے.اس لحاظ سے بھی تھانوی صاحب کادفاع کتاب "تعطیرالانام" کی عبارت سے نہیں ہوسکتا.اللّٰہ تعالٰی ان دیابنہ کوتاویلاتِ فاسدہ کی بہ جائے سچی توبہ نصیب فرمائے آمین.

میثم عباس قادری رضوی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2945681112377863&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آستانہ عالیہ بریلی شریف سے "ماہنامہ اعلی حضرت"بابت مارچ 2016ءکاشمارہ موصول ہوا.اس میں راقم کی تخریج وحواشی کے ساتھ مولاناطیب داناپوری رحمۃ اللہ علیہ کا تکفیردیوبندیہ کے متعلق ایک شبہے کے جواب پرمشتمل رسالہ "صمصام المدینۃ علی الدیوبندیۃ المہینۃ"بھی شائع ہواہے.یہ رسالہ ادارہ تحفظِ عقائدِ اہلِ سنت کراچی اور ادارہ نوربصیرت,کراچی سے بھی شائع ہوچکاہے.
نوٹ:یہ وضاحت ضروری سمجھتاہوں کہ ماہنامہ اعلی حضرت میں میرے نام کے ساتھ مولانالکھاہے جس کا میں قطعاً اہل نہیں ہوں.مدیراعزازی صاحب کواس بابت بتادیاگیاہے آئندہ ان شاءاللّٰہ نام کے ساتھ مولانانہیں لکھاجائے گا.

میثم عباس قادری رضوی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2945681235711184&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
فضائل حضرت امام جعفر صادق جب نبی رجب کا چاند دیکھتے فضیلت اہل بیت اطہار قرآن سے قرآن اور اہلبیت گمراہی سے بچاتے Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge موضوع #کونڈے_کی_فاتحہ 📜¹ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
امام سے پہلے اہلبیت کو سمجھیں
حضور کے سب سے قریب کون ؟
مکالمہ = امام باقر اور امام اعظم
مختصر سوانح امام جعفر صادق
امام جعفر کا علمی مقام و مرتبہ
امام جعفر امام اعظم کی نظر میں
ح جعفر امام اعظم کی مجلس افتاء
نیاز و فاتحہ میں فرق طریقۂ فاتحہ
کونڈوں کی فاتحہ کی حقیقت
امام جعفر کی فاتحہ | فقیہ ملت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #کونڈے_کی_فاتحہ 📜²
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#جہیز_سے_بھی_زیادہ_مہلک_عناصر

تحریر : عبد الرحمن پٹیل مصباحی

بات صرف جہیز کی نہیں، اصل پرابلم وہ فضا ہے جو نصف صدی سے موجودہ نسل کے گرد بنائی گئی ہے اور دن بہ دن نوجوان اس کے دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں. کرائم پیٹرول جیسے ٹی وی شوز میں دکھائی جانے والی حسین ترین خود کُشیوں سے لے کر درجنوں سِیریَلوں میں پیش کیے جانے والے محبت کے غلیظ ترین ڈھونگ تک اور وہاں سے لے کر عشقیہ فلموں کی ناکام محبت کے نتیجے میں برپا ہونے والے سوسائڈ سِین تک؛ موجودہ نسل کے چاروں طرف ایسے مواد کا ڈھیر لگا ہوا ہے جو ان کی ذہنیت کو مسلسل مجروح کر کے انہیں احساس کمتری کے گہرے کنویں میں دھکیل رہا ہے. فلمی ایکٹروں کے ذریعے کی جانے والی روز مرہ کی خود کشیاں جلتی پر تیل کا کام کرتی ہیں، اور اِس طرح کمزور نفسیاتی بیک گراؤنڈ رکھنے والی نئی نسل بڑی آسانی سے خود کشی کی حماقت کو نجات کا ذریعہ سمجھ لیتی ہے. جہیز جیسی دو چار رسمیں کھائی کے کنارے کھڑے انسان کو چھلانگ لگا کر جان ہلاک کرنے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہیں مگر سوسائڈ کو حقیقی جواز بلکہ مقبولیت اور آگے بڑھ کر کہا جائے تو رواج دینے میں سب سے بڑا ہاتھ ان فلمی اور ڈرامائی تعلیمات کا ہے جو ہمارے گھروں میں داخل ہو چکی ہیں. رہی سہی کسر اسٹینڈ اپ کامیڈی میں بیان ہونے والی بے ہودہ محبت اور مشاعروں میں پڑھی جانے والی جان لیوا شاعری پوری کر دیتی ہے.

ایک طرف تو پرانی نسل نے سماج کا بُت کھڑا کیا ہوا ہے جہاں ہر اچھا برا مناسب نامناسب کام صرف اس لیے کیا اور کرایا جاتا ہے کہ سماج کا دیوتا برا نہ مان جائے، حالاں کہ سماج کے بہت سے واہیات رسم و رواج نہ تو شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں نہ ہی عام اخلاقیات سے اس کی تائید ممکن ہوتی ہے. دوسری طرف نئی نسل "ہم لے کے رہیں گے آزادی" کے کھوکھلے نعروں سے ایسی مرعوب ہو چکی ہے کہ اسے اپنے ہر داخلی و خارجی اور ذاتی و سماجی پرابلم کا واحد حل مغرب پرستی اور اس کی نمائندگی کرنے والے اداکاروں کی اندھا دھند تقلید میں نظر آتا ہے. اب نئی نسل کو کون سمجھائے کہ جو مغرب اپنی آزاد روش کے نتیجے میں یورپ سے لے کر امریکہ تک اخلاقی پسماندگی، نفسیاتی ہیجان، خاندانی ٹکراؤ، سیاسی کرپشن اور روز مرہ کی خود کُشیوں کا جہنم بن چکا ہے اس کی پیروی کر کے اپنی زندگی کو جنت نما بنانے کا تصور؛ ڈراؤنے خواب کے سوا کچھ بھی نہیں. ساتھ ہی پرانے لوگوں کو بھی چاہیے کہ اپنے خود ساختہ سماجی ڈھانچے پر دوبارہ غور کریں اور تمام غیر ضروری بندشوں کو یک قلم مسترد کر دیں تاکہ نئی نسل چند گھسے پٹے رواجوں کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے اپنے بڑوں سے متنفر ہو کر ان کے تجربات کی روشنی سے محروم نہ ہو جائے.

دو نسلوں کی دو طرفہ ہٹ دھرمی اور ان کے گرد چو طرفہ فلمی و ڈرامائی آلودگی سے جو ماحول پیدا ہوا ہے اس سے جنریشن گِیپ وجود میں آیا ہے. یہ حقیقت ہے چاہے ہم اس سے خبر دار ہوں یا نہ ہوں. یہ چیلنج ہے چاہے ہم اس سے آنکھیں بند کر کے پھر غفلت کی نیند سو جائیں، چاہے دو چار گالیاں جہیز کو دے کر آنکھیں چرانے کی کوشش کریں یا پھر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے مقابلے پر آمادہ ہو جائیں. بہر حال چیلنج ہمارے سامنے ہے، اپنے رد عمل کا تعیّن ہمیں خود کرنا ہے.

در اصل موجودہ انسانی سماج بزدل بن چکا ہے. یہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے نئی شروعات کی طرف نہیں بڑھتا بلکہ اپنی ہر غلطی کا کوئی جائز یا ناجائز، معقول یا غیر معقول سبب تلاش کر کے سارا وبال وہاں ڈال دیتا ہے اور اطمینان سے پھر اسی ماحول میں مست ہو جاتا جس کے نتیجے میں پہلا حادثہ پیش آیا تھا پھر دوسرا پھر تیسرا اور پھر نہ جانے کتنے.......یہاں تک کہ عائشہ.
A. R. Patel
17.07.1442
01.03.2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/873170709920115/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM