🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت علقمہ‌کا جو مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہےکہ: ماں کی نافرمانی کی وجہ سے ان کی زبان پر کلمہ طیبہ جاری نہیں ہورہا تھا ، تو رسول اللہ نے انھیں جلانے کا حکم دیا ۔ ماں سے یہ دیکھا نہ‌گیا تو اُس نے بیٹے کو معاف کردیا ، تب جاکے زبان پر کلمہ جاری ہوا ۔ …
اس روایت کو محدثین نے "فائد بن عبدالرحمن "کی سند سے نقل کیا ہے۔۔۔۔۔ فائد بن عبدالرحمن راوی کی " ابن ابی اوفی " سے نقل کردہ روایات کو محدثین نے بلکل غیر معتبر قرار دیا ھے


ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد کہتے تھے کہ یہ گیا گذرا راوی ہے، اس کی روایات نہ لکھی جائیں، ابن ابی اوفی سے اس کی نقل کردہ روایات باطل ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔۔۔۔ اگر اس کی روایات کے جھوٹ ہونے پر قسم کھائی جائے تو غلط نہ ہوگا۔

ﻭﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺎﺗﻢ: ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﻰ ﻳﻘﻮﻝ: ﻓﺎﺋﺪ ﺫﺍﻫﺐ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻻ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ، ﻭﺃﺣﺎﺩﻳﺜﻪ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻰ ﺃﻭﻓﻰ ﺑﻮﺍﻃﻴﻞ ﻻ ﺗﻜﺎﺩ ﺗﺮﻯ ﻟﻬﺎ ﺃﺻﻼ، ﻛﺄﻧﻪ ﻻ ﻳﺸﺒﻪ ﺣﺪﻳﺚ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻰ ﺃﻭﻓﻰ، ﻭﻟﻮ ﺃﻥ ﺭﺟﻼ ﺣﻠﻒ ﺃﻥ ﻋﺎﻣﺔ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻛﺬﺏ ﻟﻢ ﻳﺤﻨﺚ


ابن حبان نے اِس راوی کی روایات کو ناقابل اعتماد قرار دیا.

ﻭﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ: ﻛﺎﻥ ﻣﻤﻦ ﻳﺮﻭﻯ ﺍﻟﻤﻨﺎﻛﻴﺮ ﻋﻦ ﺍﻟﻤﺸﺎﻫﻴﺮ، ﻭﻳﺄﺗﻲ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺃﻭﻓﻰ ﺑﺎﻟﻤﻌﻀﻼﺕ، ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺍﻻﺣﺘﺠﺎﺝ ﺑﻪ. [“ﺍﻟﻤﺠﺮﻭﺣﻴﻦ” ‏(2/203)]

امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ ابن أبی أوفی سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔

ﻭﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺤﺎﻛﻢ ﺭﺣﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ: ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺃﻭﻓﻰ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ.

(ﺍﻟﻤﺪﺧﻞ ﺇﻟﻰ ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ:‏155)

موضوع من گھڑت ھے
ابو الورقاء اس قصہ کو ابن ابی اوفی سے نقل کرتا ھ اور امام حاکم نے تصریح کی ھ
روى عن ابن أبي أوفى أحاديث موضوعة
اسی طرح ابو حاتم نے بھی
وأحاديثه عن ابن أبي أوفى بواطيل لا تكاد ترى لها أصلا، ولو أن رجلا حلف أن عامة حديثه كذب لم يحنث
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مولوی رشید گنگوہی کے فتوی وقوعِ کذبِ باری تعالٰی کاعکس:
مولوی رشیداحمدگنگوہی دیوبندی کےفتوی وقوعِ کذبِ باری تعالٰی کاعکس پیشِ خدمت ہے.اس فتوی میں گنگوہی صاحب نے کہاہے کہ "ایساشخص جس نے کہاہے کہ اللّٰہ تعالٰی جھوٹ بول چکاہے اس کوکافرتوکجافاسق بھی نہ کہاجائے".نعوذباللّٰہ من ذلک.اس فتوی کی بِناپرحرمین شریفین اورمتحدہ ہندوستان کے علمانے گنگوہی صاحب کوکافرقراردیا.فتوی وقوعِ کذبِ باری تعالٰی کےساتھ رشیدگنگوہی دیوبندی صاحب کی ایک قلمی تحریرکاعکس ان کے مکاتیب کے مجموعہ بنام "مکاتیبِ رشیدیہ"سے پیش کیاگیاہے.مکاتیب رشیدیہ کی قلمی تحریرکااس قلمی فتوی وقوعِ کذبِ باری تعالٰی سے تقابل کرکےاس بات کاثبوت دیاگیاہے کہ فتوی وقوعِ کذبِ باری تعالٰی گنگوہی صاحب نےہی لکھا ہے.اسی لیے تومَرتے دم تک گنگوہی صاحب کواس سے انکارکی توفیق نہ ہوسکی.لیکن جیسے ہی گنگوہی صاحب مَرے تودیوبندیوں نے اس فتوی کاانکارکرناشروع کردیا.

میثم قادری

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2938985099714131&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہمارا مزاج ساری دنیا سے الگ ہے ، ہم اپنے نبی سے اتنی محبت کرتے ہیں ، اتنی محبت کرتے ہیں ، اتنی محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جو لفظوں میں بیان ہی نہیں کی جاسکتی ۔
ہم اپنے آقاﷺ سے منسوب ہر چیز کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن چیزوں سے حضور نے محبت فرمائی اُن سے خاص اُنس رکھتے ہیں ۔

بعض شاطر اِسی عقیدت سے فائدہ اٹھا کر ہمیں بلیک میل کرنے لگ جاتے ہیں ۔

بلیک میلروں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ حضور ﷺ کی ذات پاک کو ہی معیار سمجھا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سے محبت ومودت کریں ، جس کا ادب و احترام کریں ، جس کی تعریف و توصیف کریں حضور ہی کے لیے کریں ۔

مثلاً: صحابہ کرام سے اس طرح محبت کا اظہار نہ کریں کہ انھیں بات بات میں اہلِ بیت پاک کے مقابل لاکھڑا کریں ، اہلِ بیت پاک کے ذکر کو کم کرنے کے لیے ان کا بار بار تذکرہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کہ یہ طرز خارجیوں اور ناصبیوں کی تو ہوسکتی ہے حضور ﷺ کے سچے غلاموں کی نہیں ہو سکتی ۔

اِسی طرح: اہلِ بیت پاک کا ذکر اِس لیے کرنا کہ صحابہ کرام کا ذکر مٹایا جائے ، صحابہ کو ان کے مقابلے میں معاذاللہ حقیر قرار دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رافضیت و تفضیلیت ہے ، حبیبِ پاک ﷺ کے عاشقوں کی " روشِ سُنیت " نہیں ۔

✍️ لقمان شاہد
17-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3091652061114962&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدنا سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولا علی پاک سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔

ایک بندے نے آپ سےپوچھا:

آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اتنی زیادہ محبت کیوں کرتے ہیں ؟

کہنے لگے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے:

جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ، اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔

( المستدرک علی الصحیحین ، ج 3 ، ص 100 ، ر 4691 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ‌۔ قال الحاکم: ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ۔
وافقہ الذھبی رحمہ اللہ )

جس سے محبت ہوجائے اس کی ہر ادا پیاری لگتی ہے ، اس کی یاد دل کو سکون دیتی ہے ، اس کا نام باعثِ اطمینان ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بار بار اسی کا ذکر کرتا رہتا ہے ؎

کبھی اُن کا نام لینا ، کبھی اُن کی بات کرنا
مِرا ذوق اُن کی چاہت ، مِرا شوق اُن پہ مرنا

ہم ہزار بار بغض علی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، اور بار بار دعا کرتے ہیں کہ:

اے اللہ ! ہمیں حضرت علی کی لازوال محبت عطا فرما ۔
اپنے پیارے رسول کے صدقے ، آپ کو ہمارے دلوں سے کبھی جدا نہ کرنا ۔

✍️لقمان شاہد
18-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3092270367719798&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وہی سب سے میٹھی زبان ہے
جو مِرے نبی کی ثنا کرے
رہے جس میں یاد حضور کی,
مِرا رب وہ دل بھی عطاکرے

مِرا سُکھ مدینے میں حاضری,
مِرا دکھ مدینے سے واپسی
جو وہاں چلو تو دعا کرو,
نہ خُدا وہاں سے جُدا کرے

یہ صدا درود و سلام کی,
ہے یہی مَتاع غلام کی
مِرے ساتھ آخری سانس تک,
یہ صدا ہی جائے ۔۔۔۔۔۔ خدا کرے !!

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3092179807728854&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دلّی راجستھان تمہارا یا خواجہ

مشہور، زودگو شستہ اسلوب شاعر، ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی (مالے گاؤں) کا لکھا ہوا ایک کلام، خواجۂ خواجگاں، شاہ ہندوستاں حضور سیدنا غریب نواز خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں:

دلّی راجستھان تمہارا یا خواجہ
سارا ہندوستان تمہارا یا خواجہ

ہم کو پڑھایاہے وحدت کا درس آکر
پیارا ہے احسان تمہارا یا خواجہ

شاہِ دنیٰ کا عشق و الفت بخش دیا
اعلیٰ ہے فیضان تمہارا یا خواجہ

شاید ہم بھی بُت خانوں میں جا بستے
صدقہ ہے ایمان تمہارا یا خواجہ

آپ کے صدقے میں ہے ملا اسلام ہمیں
بھولیں کیوں احسان تمہارا یا خواجہ

کیسا الم اور کیسا غم ، جب تھام لیا
وہ نوری دامان تمہارا یا خواجہ

مجھ کو غم نے گھیرا ہے غم دور کرو
میں ہوں مدح خوان تمہارا یا خواجہ

بد خصلت ہوں کردو نگاہِ لطف وکرم
بن جاوں انسان تمہارا یا خواجہ

کیوں کر خوفِ حشر و نشر و قبر رہے
جب ہے خود رحمٰن تمہارا یا خواجہ

ذاتِ والا فہمِ عاجز سے ہے ورا
کس کو ہو عرفان تمہارا یا خواجہ

ہو جائے گر آپ کا لطفِ بے پایاں
ہوجائے عرفان تمہارا یا خواجہ

اہلِ باطل دیکھ کے ڈر ڈر جاتے ہیں
الفت کا پَیکان تمہارا یا خواجہ

ساگر کا سب پانی سمایا کوزے میں
سنتے ہی فرمان تمہارا یا خواجہ

مجھ کو میرے گھروالوں کو دکھلادو
دربارِ ذی شان تمہارا یا خواجہ

دل میں تمنا پیارے خواجہ ہے یہ بسی
بن جاؤں دربان تمہارا یا خواجہ

صرف فقیرانِ دنیا ہی منگتا نہیں
منگتا ہر سلطان تمہارا یا خواجہ

اہلِ حاجت کا ہے ڈیرا صبح و مسا
منگتا ہر انسان تمہارا یا خواجہ

ہندو ، مسلم ، سکھ ہو یا عیسائی ہو
منگتا ہر انسان تمہارا یا خواجہ

ذکر تمہارا کرتے کرتے مُشاہدؔ بھی
بن جاے حسّان تمہارا یا خواجہ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/867556230488614/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آپ کا نامِ نامی ”حَسَن“ ہے!
شجرہ حَسن، نسب حَسن، گھرانہ حَسن، ذات حَسن، بات حَسن، کام حَسن، انداز حَسن، سیرت حَسن، صُورت حَسن۔۔۔ جِس زاوئیے سے دیکھیے حَسن ہی حَسن!

”غریب نواز“ لقب ہے اور پہچان بھی!
آپ کے بعد اِس دُنیا میں کِتنے غریب پَرور ہوئے، مگر! جب بھی جہاں بھی غریب نواز کہا سُنا جائے گا، وجُودِ خیال آپ ہی کی ذاتِ گرامی کے گِرد محوِ طواف ہوگا۔ مَشہُور ہے کہ جو کُفّار و مُشرکین آپ کی سعئ جمیلہ سے مسلمان ہوتے اُن میں سے اکثر کا قیام و طعام اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی اشیاء آپ ہی کے درِ دولت سے مہیا ہوتیں۔ اسی لیے آپ کو ”غریب نواز“ کہا جاتا ہے۔

سُنو! سُنو! میرے حاجت روا غریب نواز؛
میں دے رہا ہوں صدا پہ صدا غریب نواز!

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/867576937153210/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عرس مبارک
خواجۂ خواجگاں ، شہنشاہِ ہندو ستاں ، عطاے نبی آخر الزماں ، عاشق رسولِ کون و مکاں ، فدائے آل رسول و اصحابِ سیدِ انس و جاں ، رہنماے ناقصاں و کاملاں ، ولیِ عالیشان وذیشاں ، قطبِ دوراں ، شہبازِ عارفاں ، قاطعِ کفر و طغیاں ، محبِّ شہِ جیلاں ، محبوبِ خالقِ دوجہاں ، محافظِ دین وایماں ، گلشنِ شیر خدا کے گلِ شادماں ، شمعِ شبستانِ ِعاشقاں ، راحت ِقلوبِ مسلماں ، مالکِ بارگاہِ جنت نشاں ، مبلغِ عقیدہ وایماں ، فخرِ ہندوستاں ، خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہٗ العزیز کا عرس مبارک ہو۔
اللہ کریم ہمیں آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم!
... مشاہد رضوی بلاگر ٹیم

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/867821673795403/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا حضور غوث پاک اور سرکار غریب نواز کی ملاقات ہوئی؟

چند غیر معتبر کتابوں میں اس طرح کے واقعات درج ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیھم الرحمہ کی ملاقات ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کی ملاقات ثابت نہیں- اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

اس پر سارے مؤرخین کا اتفاق ہے کہ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال 561ھ میں ہوا ہے، اس پر بھی قریب قریب اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت 537ھ میں ہوئی اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز نے 15 سال کی عمر سے علم ظاہری کے حصول کے لیے سفر کیا- ایک مدت تک آپ سمرقند و بخارا میں علم حاصل کرتے رہے- علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد مرشد کی تلاش میں نکلے پھر بیس سال تک مرشد کی خدمت میں حاضر رہے- بیس سال کے بعد خلافت سے سرفراز فرمائے گئے پھر مدینۂ منورہ میں حاضر ہوئے اور سرکار اعظم ﷺ نے ہندستان کی ولایت عطا فرمائی-

اب حساب لگائیں کہ 15 سال کی عمر تک حضرت غریب نواز اپنے وطن میں رہے اور بیس سال تک علم ظاہر طلب فرماتے رہے تو یہ (15+20) 35 سال ہو گئے- 537ھ میں ولادت ہوئی، 35 سال تک علم ظاہر کی طلب میں رہے (537+35) یعنی 572ھ میں آپ نے عراق کا رخ کیا جب کہ سرکار غوث اعظم کا وصال 561ھ میں ہو چکا تھا یعنی حضرت خواجہ اجمیری نے جب عراق کا رخ کیا اس سے 11 سال پہلے حضور غوث پاک کا وصال ہو چکا تھا پھر ملاقات کیسے ہوئی؟

(ملخصاً و ملتقطاً: فتاوی شارح بخاری، ج2، ص128 تا 131، ط دائرۃ البرکات گھوسی، س1433ھ)

مذکورہ تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سرکار غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیھم الرحمہ کی ملاقات ثابت نہیں-

عبد مصطفی