🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
*"ربیع الآخِر، "جمادی الأُولیٰ" اور "جُمادَی الآخِرۃ"*
__________

تحریر :
- نثار مصباحی (خلیل آباد)
- شاہد مصباحی (جمشید پور)

﴿( نوٹ : یہ تحریر تقریبا 20 دن پہلے کی ہے۔ اس تحریر کی بنیاد اسی عنوان پر برادرِ گرامی مفتی شاہد رضا مصباحی (مرکزی دار القراءت، جمشید پور) کی ایک مختصر تحریر ہے، جس کا مسودہ انھوں نے میرے پاس از راہِ دوستی ایک نظر دیکھنے کے لیے بھیجا تھا۔ خاکسار نے ان کی تحریر میں حذف و ترمیم کی، اسے آراستہ کیا، اور اصل تحریر سے بھی زیادہ مقدار میں اضافے درج کیے۔ اس طرح یہ مکمل تحریر سامنے آئی۔ اس تحریر میں فقیر کا حصہ ۷۵ فیصد بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے انھوں نے ایثار کرتے ہوئے فرمایا کہ اب یہ آپ ہی کے نام سے شائع ہوگی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سبقت اور تقدم انہی کے لیے ہے۔ خاکسار نے علمی امانت و انصاف اور برادر گرامی کے تقدم کی وجہ سے ان کا نام بھی لکھنا ضروری سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نثار مصباحی۔)﴾

اسلامی قمری کیلنڈر کے ۶ مہینوں کے نام مفرد ہیں(محرم، صفر، رجب، شعبان، رمضان، شوال) اور باقی ۶ مہینوں کے نام مرکب ہیں۔(ربیع الأوّل، ربیع الآخِر، جُمادَیٰ الأُولى، جُمَادَیٰ الآخِرَۃ، ذی القعدۃ، ذی الحجۃ)۔
مرکب اسما میں"ربیع" اور "جُمَادَی" کے الفاظ دو-دو مہینوں کے درمیان مشترک ہیں۔ اسی لیے ان کے نام رکھنے میں "ربیع" کے ساتھ "الأول" اور "الآخر" (صفت) لگا کر دونوں مہینوں کو الگ نام دے دیا گیا، ("ربیع الأول" اور "ربیع الآخر"۔) اسی طرح "جمادی" کے ساتھ "الأولیٰ" اور "الآخرۃ" (صفت) لگا کر دونوں مہینوں کو الگ نام دیا گیا۔ یعنی "جمادی الأولیٰ" اور "جمادی الآخرۃ"۔ اسی خاص ہیئت و ترکیب کے ساتھ یہ ان مہینوں کے "عَلَم"(نام) ہیں۔
یہ چاروں مہینے اپنے ناموں کی ساخت کے معاملے میں باقی آٹھ مہینوں سے الگ ہیں۔
ان چاروں مہینوں میں "ربیع الاول" کا نام لکھنے اور بولنے میں لوگ کسی قسم کی غلطی نہیں کرتے۔ لیکن باقی تینوں میں کرتے ہیں۔
((نوٹ : بعض ائمہ نے ربیع الأول اور ربیع الآخِر کے لفظ "ربیع" پر تنوین کو درست اور اضافت یعنی بلاتنوین کو نادرست کہا ہے۔ مگر یہ اسی طرح عوام و خواص میں رائج ہونے کی وجہ سے اب نادرست نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ اب تنوین والی صورت بالکل نامانوس ہو چکی ہے۔))

⚪️ کچھ لوگ "ربیع الآخِر" کو "ربیع الثانی" کہہ کر ایک غلطی کرتے ہیں، جب کہ "جمادی الأولی" اور "جمادی الآخرہ" میں متعدد غلطیاں ہوتی ہیں۔
بےتوجہی کے سبب ان ناموں کو غلط لکھنے اور بولنے کی خامی بعض اہلِ علم میں بھی در آئی ہے۔
"جمادی" والے دونوں ناموں میں زیادہ غلطی "جمادی الآخرۃ" میں ہوتی ہے۔ بعض لوگ اس مہینے کو *جمادی الثانی*، یا *جمادی الثانیۃ*، تو کچھ افراد *جمادی الآخِر*، تو بہت سے لوگ *جمادی الأُخْرَیٰ* بولتے اور لکھتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ صحت کے قریب مگر غلط *جمادی الآخَرۃ* بولتے ہیں۔ یوں ہی کچھ لوگ *"جمادی الأُولیٰ"* کو *"جمادی الأوّل"* کہہ دیا کرتے ہیں۔ بعض ناواقف لوگ ان دونوں ناموں میں *"جُمادَی"* کو *"جَمَادِی"* یا *"جُمادِی"* بولنے کی غلطی بھی کرتے ہیں۔
یہ سارے طریقے غلط ہیں۔
تفصیل یہ ہے:
⚪️ ربیع الاول کے بعد والے مہینے کا نام "ربیع الآخِر" ہے، ربیع الثانی نہیں۔ اور اس کے بعد والے مہینے کا نام "جُمادَی الاُولیٰ" ہے، جمادی الأوّل نہیں۔ یوں ہی "جُمَادی" والے دوسرے مہینے کا صحیح نام "جُمادَی الآخِرَۃ" ہے۔(جمادی لفظ کی جیم پر ضمہ اور دال پر فتحہ، اور آخر میں الف مقصورہ ہے۔ اور "الآخِرۃ" میں خا پر کسرہ ہے۔)، کچھ اور نہیں۔
*ربیع الآخِر، جُمادَی الأُولیٰ، جُمَادَی الآخِرۃ۔ یہی ان تینوں مہینوں کے ناموں کی درست صورت ہے۔ ان مہینوں کے یہی نام رکھے گئے۔ اور اصولوں کے مطابق یہی درست ہیں۔ اس لیے ان کے سوا اوپر مذکور سبھی صورتیں نادرست ہیں۔*
ان صورتوں کے صحیح نہ ہونے کی پہلی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ عَلَم یعنی نام میں تبدیلی ہے، اور اعلام(ناموں) میں تصرف اور تبدیلی درست نہیں۔
امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت فتاوی رضویہ میں اسی خطا کی اصلاح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"مہینے کا عَلَم "جُمَادَی الآخِرۃ" ہے۔ اَعلام میں تصرف کیسا؟"

⚪️ عربی زبان کی مشہور و مستند لغات: الصحاح، تاج العروس، اور لسان العرب، وغیرہ میں ہے:
جُمادَی فُعالَی کے وزن پر ہے۔جیسے حُبارَی۔ یہ جمد سے مشتق ہے، جس کا معنی جمنا،خشک ہونا، منجمد ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے:ظلت العین جُمادی: آنكھ منجمد ہوگئی، خشک ہو گئی۔
اس کی جمع : جُمادیات ہے۔
- الصحاح للجوہری میں ہے:
*جُمادَى الأولى وجُمادَى الآخِرة، بفتح الدال من أسماء الشهور، وهو فُعَالَى من الجَمْدِ.*
1
- تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
جُمَادَى ،كحُبَارى: مِنْ أَسْمَاءِ الشُّهُور العرَبيَّة. وهما جُمَادَيَانِ. فُعَالى من الجَمْد،
*مَعْرفَةٌ؛ لكَونهَا علَماً على الشَّهْر.* مُؤنَّثَة۔
سُمِّيَتْ بذالك لجمُودِ الماءِ فِيهَا عِنْد تسمِيةِ الشُّهُورِ.
قَالَ الفرَّاءُ: الشُّهُور كلّها مُذَكّرة إِلاّ جُمادَيَينِ فإِنّهما مُؤنّثان.
- لسان العرب میں ہے:
جُمَادَى الأُولى وَجُمَادَى الْآخِرَةِ، *بِفَتْحِ الدَّالِ فِيهِمَا*، مِنْ أَسماء الشُّهُورِ، وَهُوَ فُعَالَى منَ الجمد۔ ابْنُ سِيدَهْ: وَجُمَادَى مِنْ أَسماء الشُّهُورِ مَعْرِفَةٌ سُمِّيَتْ بِذَلِكَ لِجُمُودِ الْمَاءِ فِيهَا عِنْدَ تَسْمِيَةِ الشُّهُورِ؛ وَقَال الْفَرَّاءُ: *الشُّهُورُ كُلُّهَا مُذَكَّرَةٌ إِلا جُمَادَيَيْنِ فإِنهما مؤَنثان*۔

- امام فرّاء (متوفی ٢٠٧ھ) کی طرف منسوب کتاب *"الأیام و اللیالی والشہور"* میں ہے :
"الشهور كلها مذكرة، تقول: هذا شهر كذا، إلا جماديين، فإنهما مؤنثان. لأن جُمادَى جاءت على بنية فُعَالَى، و فُعَالَى لا تكون إلا للمؤنث. تقول: هذه جُمادَى الأُولى وَ هذه جُمَادَى الآخِرَة."

مذکورہ عبارات سے جہاں یہ واضح ہوا کہ صحیح و درست جُمادَی( جیم کے ضمہ اور دال کے فتحہ کے ساتھ )ہے ،وہیں یہ باتیں بھی معلوم ہوئیں:
◼️ جمادی الأولی اور جمادی الآخرۃ یہ دونوں عربی مہینوں کے عَلَم(نام) ہیں۔
◼️ دونوں ناموں میں "جمادی" کی دال پر فتحہ ہے۔ کوئی اور حرکت نہیں۔
◼️ "جمادی الأولی اور جمادی الآخرۃ" مونث ہیں۔ اور ان دونوں کے علاوہ سارے عربی مہینوں کے نام مذکر ہیں۔
◼️ جب ان مہینوں کے نام رکھے جا رہے تھے اس وقت عربوں کے یہاں سال کے پانچویں اور چھٹے مہینے میں سخت سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا اس لیے وہ ان دونوں مہینوں کو "جمادی" کہنے لگے۔ (ان دو مہینوں کی ایک اور وجہِ تسمیہ بھی بیان کی گئی ہے، جو بعض متعلقه کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔)

⚪️ واضح رہے کہ مہینوں کے نام اہلِ عرب سے جس طرح منقول ہیں اسی طرح لازم ہیں۔ ان کی صورت مسخ نہیں کی جا سکتی، اور نہ ہی قیاس کی بنیاد پر انھیں بدلا جا سکتا ہے۔ اگر قیاس کی بنیاد پر تبدیلی درست ہوتی تو امام فراء کے بقول: اگر جیم کے کسرہ کے ساتھ "جِماد"(بر وزنِ: عِطاش و کِسال) بھی وارد ہوتا تو بھی درست ہوتا۔ مگر اہلِ عرب سے یہ صرف "فُعَالَیٰ" کے وزن پر منقول ہے۔ اس لیے یہی لازم ہے۔
*"الأیام و اللیالی والشہور"* میں ہے :
*"قال الفراء : هكذا جاء عن العرب بضم الجيم، لا غير. و لو جاء جِماد بالكسر كان صوابا"*
(الأیام و اللیالی والشہور، ص ۴۲)

⚪️ ان چاروں مہینوں (ربیع الأول، ربیع الآخِر، جمادی الأولی، جمادی الآخِرۃ) کے نام دو-دو لفظوں سے مرکب ہیں، اور یہ سبھی مرکب توصیفی یعنی موصوف-صفت ہیں۔ موصوف و صفت کے بارے میں یہ ضابطہ سب کو معلوم ہے کہ اگر وہ وصف اسی موصوف کا ہو، اس کے کسی متعلق کا نہ ہو، تو تذکیر و تانیث میں موصوف و صفت دونوں کے درمیان مطابقت ضروری ہے۔ اور یہاں اول و آخر ہونا "ربیع" و "جمادی" ہی کا وصف ہے۔ اسی وجہ سے "ربیع" مذکر کے ساتھ "الأول" اور "الآخِر" مذکر صفتیں ہیں اور "جمادی" مونث ہے تو اس کے ساتھ "الاُولیٰ" اور "الآخِرۃ" مونث صفتیں ہیں۔ ("الأول" کی مونث "الاُولیٰ" ہے، اور "الآخِر" کی مونث "الآخِرۃ" ہے۔)
اسی سے ظاہر ہو گیا کہ جمادی کے ساتھ "الثانی" یا "الآخِر" لگا کر "جمادی الثانی" اور "جمادی الآخِر" کہنا، یا "جُمَادَیٰ الاُولیٰ" کو "جمادی الأول" کہنا درست نہیں۔ کیوں کہ یہاں موصوف و صفت کے درمیان تذکیر و تانیث میں مطابقت نہیں ہے۔
- تاج العروس میں ہے:
والآخِرُ: خلافُ الأَوَّلِ
وَهِي، أَي الأُنْثَى : الآخِرَۃ، بهاءٍ۔
- مختار الصحاح میں ہے:
وَالْآخِرُ: بِكَسْرِ الْخَاءِ بَعْدَ الْأَوَّلِ وَهُوَ صِفَةٌ تَقُولُ:جَاءَ آخِرًا، أَيْ أَخِيرًا۔
وَالْأُنْثَى : آخِرَةٌ۔
- ابن بَرّي المقدسي المصري (متوفی ۵۸۲ھ) اپنی کتاب *"غلط الضعفاء من الفقهاء"*(غلط الفقہاء-صفحہ ۲۸) میں ایک غلطی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"يقولون: (جُمَادى الأَوَّلِ) و (جُمادَى الآخِرِ) . والمشهورُ: جُمادَى الأُولى وجُمادَى الآخِرةُ، *لأَنَّ النعْتَ لجُمادَى، وهي مؤنثةٌ.*"

- امام ابن مکی الصقلی(ابو حفص عمر بن خلف النحوی) متوفی ۵۰۱ھ اپنی کتاب "تثقيف اللسان" میں لکھتے ہیں:
"يقولون : في جمادِي الأوّل۔
*والصواب : جُمادَى الأُولى بفتح الدال، على وزن حُبارى*. إلا أنها تكتب بالياء، و ألفها للتأنيث. و ليس في الشهور مؤنث سوى جمادى. ولذلك كان نعتها مؤنثا، فقيل: جُمادى الأولى وجُمادَى الآخِرة. *و لا يجوز "الأوَّل" و لا "الآخِر"*.
1
ترجمہ : لوگ "فِی جمادِی الأوّل"(دال کے کسرہ کے ساتھ) کہتے ہیں۔ جب کہ درست "جُمَادَی الأُولی"(دال کے فتحہ کے ساتھ) ہے، حُبَارَیٰ کے وزن پر۔ البتہ اسے "ی" کے ساتھ لکھا جائے گا، اور اس کا الف(مقصورہ) تانیث کے لیے ہے۔ مہینوں میں "جُمادَی" کے سوا کوئی مونث نہیں۔ اسی لیے اس کی صفت بھی مونث آئی، اور "جُمَادَی الأُولىٰ" و "جُمَادَی الآخِرَۃ" کہا گیا۔ اور (مذکر صفت کے ساتھ) "جمادی الأول" و "جمادی الآخِر" جائز نہیں۔ (تثقيف اللسان و تلقيح الجنان، ص ٢٢١)

⚪️ نیز "ربیع الآخِر" کو "ربیع الثانی" کہنا یا "جمادی الآخرۃ" کی صفت "الثانیہ" لگا کر "جمادی الثانیہ" کہنا درست نہیں (اگر چہ بعض اہلِ علم کے کلام میں یہ موجود ہے) کیوں کہ یہاں اگرچہ موصوف و صفت میں مطابقت ہے، مگر اہلِ عرب بغیر ثالث کے "ثانی" نہیں بولتے ، یعنی اگر "تیسرا" نہ ہو تو "دوسرا" نہیں بولتے ہیں۔ جب کہ یہاں نہ تو کوئی تیسرا "ربیع" ہے اور نہ تیسرا "جمادی"۔ اس لیے "الآخر" اور "الآخِرۃ" کی جگہ "الثانی" اور الثانیۃ" کا استعمال، وضع شدہ عَلَم اور طریقۂ عرب کے خلاف ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے۔
- اعلی حضرت امام احمد رضا قادری ایک نام نہاد عرب کی عربی پر گرفت فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں:
*"جمادی الثانی" ؟؟!!* مونث کی صفت مذکر؟؟!! حضرت نے "جمادی" کا کوئی تیسرا بھی دیکھا ہوگا، کہ عرب "ثانی" بے "ثالث" نہیں بولتے۔"(فتاوی رضویہ)
یعنی "جمادی الثانی" کہنے میں دو خرابیاں ہیں: پہلی یہ کہ جمادی مونث کی صفت "الثانی" مذکر لائی گئی ہے۔ جو درست نہیں۔ اور دوسری یہ کہ "الثانی"(دوسرا) وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی تیسرا بھی ہو، جب کہ یہاں کوئی تیسرا "جمادی" نہیں ہے۔
((نوٹ : یہ لحاظ کچھ حد تک ہماری اردو زبان میں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر ہماری کوئی تحریر دو قسطوں میں ہوتی ہے تو ہم پہلی قسط کے لیے "پہلی قسط" کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور دوسری کے لیے "آخری قسط" یا "دوسری اور آخری قسط" لکھتے ہیں۔ صرف "دوسری قسط" نہیں لکھتے تاکہ ہر ناظر یہ جان لے کہ اس تحریر کی کوئی تیسری قسط نہیں ہے۔ اگر اس آخری قسط کو صرف "دوسری قسط" لکھا جائے تو ناظر کو تیسری قسط کے بھی موجود ہونے کا اِیہام ہوگا۔))

- ماضی قریب کے معروف عراقی زبان داں ڈاکٹر مصطفی جواد (متوفی ۱۹۶۹ء) نے اپنی کتاب *"قل، ولا تقل"* کے حصہ دوم میں لکھا ہے:
قل: جُمادى الأولى وجُمادى الآخرة۔
ولا تقل: جَماد الأول وجَماد الثاني،
لأن جُمادَى على وزن فُعالى هو الإسم الصحيح لهذا الشهر، والألف فيه للتأنيث، ولذلك قالوا : “الأولى” و “الآخِرة”۔ وجُمادى مثل قُصارى من أوزان الأسماء المفردة۔
للعرب جُماديان : الأولى والآخرة، وربيعان : الأول والآخِر، ولغيرهم كانونان : الأول والثاني، ولو كانوا عرباً لقالوا : “الآخِر”۔ ولهم تشرينان : الأول والثاني، ولو كانوا عرباً لقالوا “تشرين الآخِر”.
ولا يخفى ما في قول العرب “الآخِر والآخِرة” من فائدة، وذلك أنهم أرادوا أن يُفهموا السامع أنه ليس عندهم ربيع ثالث ولا جمادى ثالثة، على حين ان قول غيرهم “تشرين الثاني” لا يمنع أن يأتي “تشرين ثالث” وقولهم “كانون الثاني” لا ينفي أن يكون لهم “كانون ثالث”.

ترجمہ : "جُمادَى الأُولىٰ" اور "جُمَادَى الآخِرَۃ" کہو۔ "جَماد الأول" اور "جماد الثانی" نہ کہو۔ اس لیے کہ فُعَالَیٰ کے وزن پر جُمَادَیٰ ہی اس مہینے کا صحیح نام ہے۔ اس میں الف(مقصورہ) تانیث کے لیے ہے۔ اسی لیے اہلِ عرب نے (جُمَادَی کے ساتھ مونث صفت لاتے ہوئے) "الاُولیٰ" اور "الآخِرَۃ" کہا ہے۔
قُصارَیٰ کی طرح جُمادی اسماے مُفردہ کے اوزان سے ہے۔
اہلِ عرب کے یہاں دو "جمادی" ہیں: "الأُولىٰ" اور "الآخِرَۃ"۔ اور دو "ربیع" ہیں: "الأَوَّل" اور "الآخِر"۔ اور غیروں کے دو "کانون" ہیں: "کانون الأول"(دسمبر)، اور "کانون الثانی"(جنوری)۔ اسی طرح غیروں کے یہاں دو "تشرین" ہیں: "تشرين الأول"(اکتوبر) اور "تشرین الثانی"(نومبر)۔(یعنی انھوں نے "آخِر" کے بجاے "ثانی" کہا ہے) اگر یہ لوگ عرب ہوتے تو یہ لوگ ضرور "تشرین الآخِر" کہتے۔(تشرین الثانی نہ کہتے)۔
اہلِ عرب نے جو "الآخِر" اور "الآخِرَۃ" کہا ہے، اس کا فائدہ پوشیدہ نہ رہے۔ انھوں نے چاہا کہ سامع کو یہ سمجھا دیں کہ ان کے یہاں کوئی تیسرا "ربیع" نہیں، اور نہ ہی کوئی تیسرا "جُمادی" ہے۔ (اس لیے انھوں نے "ربیع الآخِر" اور "جمادی الآخرۃ" کہا۔ اگر وہ "ربیع الثانی" اور "جمادی الثانیۃ" کہتے تو یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ اور تیسرے ربیع و جمادی کی نفی نہیں ہو پاتی۔) جب کہ غیروں کا قول "تشرین الثانی" کسی "تشرین ثالث" کی آمد کو نہیں روکتا، اور ان کا قول "کانون الثانی" کسی "کانونِ ثالث" کی نفی نہیں کرتا۔
(قل و لا تقل، حصہ دوم ص ۷۶)
1
- علامہ ابوالعباس احمد الفیومی المقری (متوفی ۷۷۰ھ-تقریباً) اپنی مشہور زمانہ اور مستند فقہی ڈکشنری "المصباح المنير" میں لکھتے ہیں:
"ربيع الشهور اثنان، قالوا: لا يقال فيهما إلاَّ (شهر ربيع الأوَّل، وشهر ربيع الآخر"
ترجمہ : مہینوں کے "ربیع" دو ہیں۔ علما فرماتے ہیں کہ: ان دونوں مہینوں کو "ماہِ ربیع الاول" اور "ماہِ ربیع الآخِر" کے سوا کچھ اور نہیں کہا جائے گا۔ (المصباح المنير)

⚪️ کچھ لوگ "جمادی" کی دال پر کسرہ دیتے ہوئے اسے "جَمادِی" یا "جُمَادِی" کہتے ہیں۔ یہ بھی صحیح نہیں۔ کیوں کہ مہینے کا نام "جُمَادَی" دراصل "فُعَالَیٰ" (مونث) کے وزن پر "جُمَادَی" ہے۔ جیسا کہ اوپر تصریحات ہم نے ذکر کی ہیں۔ اس لیے دال کو کسرہ دینے سے کلمہ اپنے وزن سے ہٹ جائے گا۔
علاوہ ازیں دال کو کسرہ دینے میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ کلامِ عرب میں مونث کے لیے "فُعَالِی" کا وزن بغیر ہا کے ہے ہی نہیں۔ یعنی اگر کلامِ عرب میں کوئی کلمہ فُعَالِی"(بکسر اللام) کے وزن پر آیا ہے تو اس کے آخر میں حرف ہا (گول تا/ۃ جو وقف کی صورت میں ہا ہوجاتی ہے) ضرور آیا ہے۔ جیسے "قُراسِیہ" "صُراحِیہ" اور "عُفارِیہ" وغیرہ۔ اور یہاں لفظ "جمادی" ہے "جمادیہ" نہیں ہے، اس لیے یہاں دال کو کسرہ دے کر "جُمادِی" نہیں کہا جا سکتا۔

- امامِ نحو، علامہ ابو بکر زبیدی اندلسی (متوفی ۳۷۹ھ) فرماتے ہیں:

“يقولون "جُمادِي الأولى" فيكسرون الدال. ﴿قال أبو بكر :﴾ والصواب “جُمادَى”، وليس في الكلام “فُعالِي” إلا والهاء لازمة نحو “قُرَاسِيّة” و “عُفَارِيّة” و “صُرَاحِيّة”۔

(التهذيب بمحكم الترتيب،(الجمع بين كتابي أبي بكر الزبيدي في لحن العامة) ، مولف : ابن شُہَید اندلسی، ص ٧٦، طبع : دار البشائر الإسلامية، ط اول، ١٤٢٢ھ/۲۰۰۲ء)

⚪️ "جُمادَی" کی صفت "الآخِرۃ" ہے۔ یہ خا کے کسرہ کے ساتھ ہے ، اور "آخِر" کی مونث ہے۔ "آخِر" اول کی ضد ہے۔ جس کا معنی پچھلا اور آخری ہے۔ قرآن کریم میں ہے : هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ (الحديد : ٣)
کہا جاتا ہے : الیوم الآخِر، آخری دن یعنی قیامت کا دن۔
اسی سے ملتا جلتا ایک لفظ "آخَر/الآخَر" ہے، خا کے فتحہ کے ساتھ۔ اس کی مونث "فُعلیٰ" کے وزن پر "أُخْریٰ" آتی ہے ۔اس کا معنی "ایک اور"، "دوسرا"، اور "غیر" ہے۔
کہا جاتا ہے:ثوبٌ آخَر۔ دوسرا کپڑا۔
یعنی "اُخری" اور "آخِرۃ" دو الگ لفظ ہیں۔ اور دونوں کا معنی بھی الگ ہے۔ "آخِرہ" یہ آخری کے معنے میں ہے اور "اول" کا مقابل ہے۔ جب کہ "اُخریٰ" صرف "ایک اور"، "غیر" اور "دوسرا" کے معنے میں ہے۔ یہ "اوّل" کا مقابل نہیں ہے۔ اور نہ ہی "آخری" ہونے پر یہ دلالت کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے :
وَ لِیَ فِیهَا مَـَٔارِبُ أُخۡرَىٰ [طه : 18]
وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَیۡكَ مَرَّةً أُخۡرَىٰۤ [طه : 37]
وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ [طه : 55]
وَٱضۡمُمۡ یَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَاۤءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۤءٍ ءَایَةً أُخۡرَىٰ [طه : 22]
قَدۡ كَانَ لَكُمۡ ءَایَةࣱ فِی فِئَتَیۡنِ ٱلۡتَقَتَاۖ فِئَةࣱ تُقَـٰتِلُ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ وَأُخۡرَىٰ كَافِرَةࣱ [آل عمران : 13]
ان تمام آیات میں "اُخْرَیٰ" : "دوسرا"، اور "ایک اور" کے معنے میں ہے۔ کہیں بھی آخری ہونے پر اس کی دلالت نہیں ہے۔
بہت سے لوگ "جمادی الآخِرۃ" کو "جمادی الاُخریٰ" لکھتے اور بولتے ہیں۔ اگرچہ بعض کتابوں میں اسے صحیح کہا گیا ہے مگر یہ بھی صحیح نہیں۔ کیوں کہ یہ نام میں تبدیلی بھی ہے اور یہ اول کے مقابل آخری کا معنی بھی نہیں دیتا جو اس مہینے کے نام میں مقصود ہے۔ اور جس فائدے کے لیے اہلِ عرب نے جمادی کے ساتھ "آخرہ" کا لفظ استعمال کیا ہے، "اُخریٰ" کہنے سے وہ فائدہ منتفی ہوجاتا ہے۔ "اُخریٰ" کا لفظ اس معنی و افادہ سے خالی ہے، وہ اولیت و آخریت پر دلالت ہی نہیں کرتا، بلکہ محض "ایک اور" پر دلالت کرتا ہے۔ جب کہ "آخرۃ" "آخری" کا معنی دیتا اور آخریت پر دلالت کرتا ہے۔ حاصل یہ کہ "اُخری" کہنے سے آخریت کا وہ فائدہ اور تخصیص حاصل نہیں ہوتی، جو "آخِرَہ" کہنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ عَلَم میں تبدیلی بھی ہے، لہذا درست نہیں۔
- تاج العروس میں ہے :
"والآخَر: بفَتْحِ الخاءِ : أَحَدُ الشَّيْئين،بِمَعْنى غَيْرٍ، كقولكَ: رجلٌ آخَرُ، وثَوْبٌ آخَرُ
والأُنْثَى:أُخْرَى."
- مختار الصحاح میں ہے :
وَالْآخَرُ،بِفَتْحِ الْخَاءِ: أَحَدُ الشَّيْئَيْنِ وَهُوَ اسْمٌ عَلَى أَفْعَلَ. وَالْأُنْثَى:أُخْرَى"

- علامہ فیومی "المصباح المنير" میں لکھتے ہیں :
«و(جُمادى) من الشهور، مؤنَّثة، قال ابن الأنباري: وأسماء الشهور كلّها مُذَكَّرة إلا جُمادَيين، فهما مؤنثتان،................والأولى والآخرة: صفة لها، *فالآخرة بمعنى المتأخِّرة*، قالوا : *ولا يقال: جُمَادى الأُخرى؛ لأنَّ الأخرى بمعنى الواحدة، فتتناول المتقدمة و المتأخرة فيحصل اللبس، فقيل الآخِرة لتخَتصّ بالمتأخِّرة"*.
⚪️ اسی سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ کچھ لوگ جو ناواقفی میں "جمادی الآخَرۃ"(خا کے فتحہ کے ساتھ) کہہ دیتے ہیں، یہ بھی صحیح نہیں۔ کیوں کہ آخری کا معنی دینے والے "الآخِر" کی مونث بھی خا کے کسرہ ہی کے ساتھ "الآخِرۃ" ہے۔ خا پر فتحہ دینا خطا ہے۔ اور اگر "آخَر/الآخَر"(بفتحِ خا) کو دیکھا جائے تو اس کی مونث "الآخَرۃ"(بفتح خا) نہیں آتی ہے بلکہ "اُخری" آتی ہے۔ اس لیے خا کے فتحے کے ساتھ "جمادی الآخَرۃ" کہنا بھی کسی طور سے صحیح نہیں بن رہا ہے۔

حاصل یہ کہ "جُمَادَی الآخِرۃ" کو "جمادی الأُخْریٰ" یا "جمادی الآخِر" یا "جمادی الثانیۃ" یا "جمادی الثانی" یا "جمادی الآخَرۃ" کہنا صحیح نہیں۔ اسی طرح "جمادی الأولی" کو "جمادی الأول" کہنا یا دونوں ناموں میں "جُمَادَی" (بروزنِ فُعَالَیٰ) کو اس کے وزن سے ہٹا کر "جُمَادِی" و "جَمادِی" کہنا بھی صحیح نہیں۔ نیز ربیع الآخِر کو ربیع الثانی کہنا درست نہیں۔

ہم فتاوی رضویہ کے اس جملے کو "حرفِ آخِر" کے طور پر درج کرتے ہوئے اپنی گفتگو ختم کرتے ہیں کہ :
*"مہینے کا عَلَم "جُمادَی الآخِرۃ"ہے۔ اَعلام میں تصرف کیسا؟!"*
واللہ تعالی اعلم۔

*✍️ نثار مصباحی*
۱۲ فروری ۲۰۲۱ء (جمعہ)

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/863200220917164/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملاوحامدا::ومصلیا ومسلما

تکفیر دہلوی اورعلمائے اہل سنت وجماعت

قسط سوم

سوال:حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی قدس سرہ القوی نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تھی یا تکفیر کلامی؟امام احمدرضا قادری نے اسماعیل دہلوی کی شہرت توبہ کی وجہ سے تکفیر نہیں کی یا کسی احتمال کے سبب؟علامہ خیرآبادی اور امام احمدرضا قادری کے فتویٰ میں فرق کیا ہے؟

جواب:حر مین طیبین سے دیوبندیوں کے لیے کفر کا فتویٰ آیا،تب سے ہی دیابنہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی قدس سرہ القوی نے اسماعیل دہلوی کو کافر کہا اور امام احمد رضا قادری اس کو کافر نہیں کہتے ہیں تو اس کا کیا جواب ہے؟

دیابنہ بھی دہلوی کو کافرنہیں مانتے ہیں،لیکن ہم پر اعتراض کرتے ہیں، حالاں کہ ہم اسے کافر فقہی مانتے ہیں۔دیابنہ اپنے بارے میں بتائیں کہ وہ دہلوی کو کافر نہیں کہتے ہیں تو ان کا کیا حکم ہوگا؟دیابنہ جواعتراض ہم پر کرتے ہیں،وہ اعتراض ان پر واپس پلٹتا ہے،لیکن اشخاص اربعہ پر علمائے حرمین طیبین کے فتویٰ کفرکودیکھ کربد حواسی کے عالم میں وہ سنیوں پر اعتراض کیے جاتے ہیں اور انہیں کچھ خیال نہیں گزرتا کہ اعتراض ان پر بھی پلٹے گا۔

دراصل ڈوبنے والا تنکے کا سہارا ڈھونڈتا ہے،حالاں کہ تنکا اسے ڈوبنے سے بچا نہیں سکتا۔

علمائے اہل سنت وجماعت باربار جواب دے چکے کہ حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ القوی نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی تھی۔ امام احمدرضا قادری بھی اس تکفیر فقہی کوتسلیم فرماتے ہیں۔الکوکبۃ الشہابیہ اور سل السیوف الہندیہ میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کو آپ نے تسلیم فرمایا، اوراسے بحکم فقہا قطعی،یقینی واجماعی کافر قراردیا۔

امام احمدرضا قادری باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر تھے۔ متکلمین کافر فقہی کو گمراہ کہتے ہیں اور جب کافر کہتے ہیں تو فقہا کی طرف نسبت کرتے ہوئے کہتے ہیں،مثلاً کافر فقہی ہے،بحکم فقہا کافر ہے،فقہا کے یہاں کافر ہے۔آپ نے دہلوی کے بارے میں الکوکبۃ الشہابیہ اور سل السیوف الہندیہ میں ایسا ہی رقم فرمایا ہے۔

امام ممدوح نے مذہب متکلمین کے مطابق اسماعیل دہلوی کو گمراہ قرار دیا،اور فرمایا:
”اگر اس کے ضلالت وگمرہی پر آگاہی ہوکر اسے اہل حق جانتا ہوتو خود اسی کی مثل گمراہ وبددین ہے“۔(فتاویٰ رضویہ جلدسوم:ص189-رضا اکیڈمی ممبئ)

جس درجہ کے منکر کو فقہا کافر فقہی کہتے ہیں،اسی درجہ والے کو متکلمین اپنی اصطلاح میں گمراہ کہتے ہیں۔فقہا بھی اس کو کافر کلامی سے ایک درجہ نیچے قرار دیتے ہیں،اسی لیے کافرفقہی کی بیوی کو بائنہ قرار نہیں دیتے، اور اس کے اعمال سابقہ کو باطل قرار نہیں دیتے۔

جب کہ یہی فقہا کافر کلامی کی بیوی کوبائنہ قرار دیتے ہیں اوراس کے سابقہ اعمال کو باطل کہتے ہیں،یہاں تک کہ اگر وہ حج کر چکا ہو،تو اس کے لیے دوبارہ حج کا حکم دیتے ہیں۔

رشید احمدگنگوہی اوردہلوی کی تکفیر فقہی کا اقرار:

مسلک دیوبند کے مجتہد مطلق رشید احمد گنگوہی نے اقرار کیا ہے کہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر،تکفیر فقہی تھی۔گنگوہی سے تکفیر دہلوی کے بارے میں سوال ہوا تواس نے جواب دیا کہ جو حضرات اسماعیل دہلوی کوکافر کہتے ہیں،وہ بتاویل کافر کہتے ہیں،یعنی کسی تاویل کے سبب قائلین تکفیرکے یہاں اسماعیل دہلوی کافر ہے،اور کفر بالتاویل کفر فقہی ہے،کفر کلامی نہیں۔

کفربالتاویل کا مفہوم یہ ہے کہ کسی قول میں متعدد معانی ہوں اوراس کے بعض معانی کفریہ ہوں۔کفر کلامی میں قول کفری معنی میں متعین ہوتا ہے۔وہاں کفری معنی کے علاوہ دوسرا کوئی معنی نہیں پایا جاتا۔سوال وجواب مندرجہ ذیل ہیں۔

السوال:جو شخص کہ حضرت مولانا مولوی اسماعیل صاحب شہید کو کافر ومردود کہتا ہے تو وہ شخص خود کافر ہے یا فاسق؟اگر وہ کافر ہے تو اس کے ساتھ کفار کا سا معاملہ کر نا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب:مولانا محمد اسماعیل صاحب کو جو لوگ کافر کہتے ہیں،بتاویل کہتے ہیں۔ اگر چہ وہ تاویل ان کی غلط ہے،لہٰذا ان لوگوں کوکافر کہنا اور معاملہ کفار سا نہ کرنا چاہئے۔
(فتاویٰ رشیدیہ مبو ب: ص51)

توضیح:گنگوہی کو اقرار ہے کہ اہل سنت وجماعت اسماعیل دہلوی کو تاویل کے سبب کافر کہتے ہیں،لہٰذا اہل سنت کو نہ کافر کہا جاسکتا ہے،نہ ان سے کافروں کی طرح معاملہ کیا جاسکتا ہے،کیوں کہ بلا تاویل کسی کوکافرکہاجائے،تب کافرکہنے والے پر کفر پلٹتا ہے۔

جب گنگوہی نے صراحت کردی کہ دہلوی پر تاویل کے سبب حکم کفر عائد کیا گیا ہے تووہ کفر کلامی نہیں،بلکہ کفرفقہی ہے۔کفر کلامی کفربالتاویل نہیں،بلکہ کفر التزامی کانام ہے۔

اور حکم کفر کس نے عائد کیا تھا؟ شرق وغرب کومعلوم ہے کہ حضرت علامہ خیرآبادی اور علمائے اہل سنت نے عائد فرمایا تھا،اور گنگوہی نے اعتراف کرلیا کہ وہ کفر فقہی تھا، اور امام احمد رضا قادری نے بھی یہی بتایا کہ دہلوی فقہا کے یہاں کافر ہے تو علامہ خیرآبادی،امام احمد رضا اورگنگوہی سب دہلوی کو کافر فقہی مان رہے ہیں۔ اب دیوبندیوں کا شور مچانا غلط ہے۔
حضرت علامہ خیر آبادی قدس سرہ العزیز نے تحقیق الفتویٰ میں استلزام کفر ثابت فرمایا ہے۔تحقیق الفتویٰ کی عبارتیں دیکھ لی جائیں۔کفر لزومی میں استلزام کفر ثابت کیا جاتا ہے۔

کفر کلامی میں استلزام نہیں ہوتا ہے، بلکہ کفر کا التزام ہوتا ہے۔ جب تحقیقی مباحث میں استلزام ثابت کیا گیا ہے تو خلاصہ فتویٰ(جو آخر میں درج ہے) میں کفر کلامی کا فتویٰ کیسے دیا جا سکتاہے۔

لوگ خلاصہ فتویٰ میں ”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“کے اصول کا استعمال دیکھ کروہم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔انہیں یہ گمان گزرتا ہے کہ اس اصول کا استعمال صرف کفر کلامی میں ہوتا ہے، حالاں کہ اس قاعدہ کلیہ کا استعمال کفر فقہی میں بھی ہوتا ہے اور کفر کلامی میں بھی۔

کفر کلامی کا حکم یہ ہے کہ جو کافرکلامی کے کفر میں شک کرے،یا اس کو مومن مانے تو وہ بھی اسی کی طرح کافرکلامی ہے۔تکفیرکلامی میں ”من شک:الخ“ کا قاعدہ کلیہ استعمال کر کے اسی حکم کویاد دلانا مقصود ہوتا ہے،تاکہ مومنین کافرکلامی اورایسے قطعی کفریات کلامیہ سے دور بھاگیں،اور اپنا دین وایمان محفوظ رکھیں: ع / یار بد بدتر بود ازماربد

کفر فقہی قطعی کا حکم یہ ہے کہ جو کافرفقہی قطعی کے کفر میں شک کرے،یا اس کو مومن مانے تو وہ بھی اسی کی طرح کافرفقہی ہے۔تکفیرفقہی قطعی میں ”من شک:الخ“ کا قاعدہ کلیہ استعمال کرکے اسی حکم کویاد دلانا مقصود ہوتا ہے،تاکہ مومنین کافرفقہی اورایسے قطعی کفریات فقہیہ سے دور بھاگیں،اور اپنا دین وایمان محفوظ رکھیں: ع / یار بد بدتر بود ازماربد

کفر فقہی قطعی اجتہادیات میں سے نہیں۔کفر فقہی لزومی ظنی اجتہادیات میں سے ہے۔ بعض ائمہ وفقہاکے یہاں کوئی امر کفر لزومی ظنی ہے اور بعض فقہاکے یہاں اس میں لزوم کفر ثابت نہیں ہوتا ہے۔چوں کہ اس کفر فقہی لزومی، ظنی،اجتہادی میں فقہا کے درمیان اختلاف ہوتا ہے تو اس کفر فقہی لزومی ظنی میں ”من شک:الخ“کا استعمال دیکھنے میں نہیں آیا۔

کفر فقہی قطعی جس میں ضروری دینی کا انکار قطعی بالمعنی الاعم ہو،یا ضروری دینی کا استخفاف قطعی بالمعنی الاعم ہو،وہاں ملزم پرتمام فقہا ومتکلمین کے یہاں شرعی حکم ثابت ہوگا۔ فقہا اس کو کافر فقہی کہیں گے اور متکلمین اس کو گمراہ کہیں گے۔حکم ایک ہی ہے۔تعبیر کا لفظ الگ ہے۔

متکلمین صرف کافر کلامی پر لفظ کافرکا اطلاق کرتے ہیں اور فقہا کافر فقہی وکافر کلامی دونوں کے لیے کافرومرتدکا لفظ استعمال کرتے ہیں۔یہ محض تعبیرواصطلاح کا فرق ہے۔

کافر فقہی کے لئے من شک:الخ کا استعمال

عہد ماضی کے روافض جو کافر کلامی نہیں تھے,بلکہ کافر فقہی تھے۔ان کے شر سے محفوظ رکھنے کے واسطے متقدمین فقہائے کرام نے ان کی تکفیر فقہی میں "من شک فی کفرہ فقد کفر"کا اصول استعمال فرمایا تھا۔فتاوی رضویہ جلد ششم(ص:37-رضا اکیڈمی ممبئ)میں کافر فقہی روافض کی تکفیر فقہی سے متعلق اسلاف کرام کی عبارتیں منقول ہیں۔جن میں اس اصول(من شک;الخ)کا استعمال ہوا ہے۔

تکفیر دہلوی کا پس منظر :

29:ربیع الثانی 1240ھ کوجامع مسجد دہلی میں اسماعیل دہلوی کے بہنوئی اوررفیق کار عبد الحئ بڈھانوی سے سنی علماکامناظرہ ہوا۔علامہ خیرآبادی اس مباحثہ میں موجودنہیں تھے۔علمائے اہل سنت میں سے علامہ رشید الدین خاں دہلوی مباحثہ فرمارہے تھے۔ اسماعیل دہلوی بھی اس میں موجود اور خاموش تھا،پھر مباحثہ کے درمیان ہی ناراض ہوکر بھاگ نکلا۔

مناظرہ کے بعدایک سائل نے حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمۃ والرضوا ن کے پاس تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارت نقل کر کے بھیجی،اورتین سوال کیا۔اس وقت تقویۃ الایمان شائع نہیں ہوئی تھی، نہ ہی اس کے نسخے عام ہوئے تھے۔

حضرت علامہ خیرآبادی نے بحث شفاعت کی عبارتوں پر چند سوالات فارسی زبان میں رقم فرمائے،جن کا مجموعہ ”تقریر اعتراضات برتقویۃ الایمان‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔

اسماعیل دہلوی نے تقریر اعتراضات کے جواب میں رسالہ:”یک روزی“لکھا۔ اسی رسالہ میں امکان کذب اور امکان نظیر کا قول کیا،لیکن کذب کے وقوع اور نظیرکے وقوع کا صریح انکار کیا۔تحقیق الفتویٰ:مقام ثانی میں امکان نظیر وامکان کذب کا رد مرقوم ہے۔

حضرت علامہ خیرآبادی قدس سرہ القوی نے مقام رابع میں اسماعیل دہلوی کے شرعی حکم کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ مقام رابع کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا ہے:

”المقام الرابع:درحکم اقتراف استخفاف بہ شان آں حضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وحضرات سائر انبیاء علیہم السلام وحال مرتکب ایں جریمہ شنیعہ عند الفقہاء وعلماء الشریعہ“۔
(تحقیق الفتویٰ:فارسی نسخہ:ص 399-مکتبہ قادریہ لاہور)

توضیح:حضرت علامہ خیرآبادی صریح لفظوں میں فرما رہے ہیں کہ فقہا اور علمائے شریعت کے اقوال کے مطابق حکم کا بیان ہورہا ہے،لیکن دیابنہ کویہ وہم ہوگیا ہے کہ متکلمین کے طورپر حکم کا بیان ہوا ہے اور یہ کفر کلامی ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ متکلمین بھی علمائے شریعت ہیں، لیکن جب صراحت موجودہے کہ فقہا کے اصول واقوال کے مطابق حکم شرعی کا بیان ہے تو اس سے واضح ہوگیا
کہ یہ کفر فقہی ہے،کفر کلامی نہیں۔کفر کلامی کا حکم نافذکرتے تو فرماتے کہ متکلمین اورعلمائے شریعت کے مطابق حکم شرعی کا بیان ہے۔

فقہا کا ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ کفر فقہی کا حکم تھا،اور فقہا کے اصول کے مطابق دہلوی کی تکفیر کی جارہی تھی،نیز متاخرین فقہائے احناف کفر فقہی کا حکم جاری فرماتے تھے۔وہ باب تکفیر میں متکلمین کا مذہب اختیار نہیں کرتے تھے۔

نیز اسلامی سلطنت میں قاضی مقلد کو اپنے فقہی مذہب کے مطابق فیصلہ کا حکم ہے۔وہ متکلمین کے مذہب یا دیگر فقہی مذاہب کے اعتبار سے فیصلہ نہیں کرسکتے تھے۔

دیوبندیوں کو چیلنج

دیوبندی ٹولہ سرجوڑ کربیٹھے۔وہ تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارت اور رسالہ یک روزی کی عبارتوں کی روشنی میں دہلوی پر کفرکلامی کا حکم ثابت کرنے کی کوشش کریں، تب ظاہرہوجائے گا کہ ان عبارتوں پر کفر کلامی کا حکم عائدہو سکتا ہے یا نہیں؟

درحقیقت ان عبارتوں کی بنیاد پر کفر کلامی کا فتویٰ امکان سے باہر ہے۔پہلے طبع آزمائی کریں،اس کے بعد بتائیں کہ نتیجہ کیا نکلا۔بلا تحقیق زبان کھولنے سے کیا فائدہ؟

اسماعیل دہلوی سے متعلق تین جوابات:

اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے متعلق علمائے اہل سنت وجماعت تین جواب دیتے ہیں۔
ان میں سے ایک تحقیقی جواب ہے۔دو الزامی جواب ہے۔تفصیل درج ذیل ہے۔

(الف)علمائے اہل سنت وجماعت کاتحقیقی جواب:

تحقیقی جواب وہی ہے جو ماقبل میں مرقوم ہوا کہ حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمۃوالرضوان نے کفر فقہی کا فتویٰ دیا تھا۔امام احمد رضا قادری نے اس کو تسلیم فرمایا۔فقہا کے اصول کے مطابق اسے کافر مانا اور چوں کہ وہ متکلمین کے اصول کے مطابق کافر نہیں تھا توآپ نے اسے کافر کلامی نہیں کہا۔ علامہ خیرآبادی قدس سرہ القوی نے بھی اسے کافر کلامی نہیں کہا تھا،پس دونوں محققین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے ”الموت الاحمر“میں اس کی مکمل تفصیل رقم فرمادی ہے۔

(ب)علمائے اہل سنت وجماعت کاپہلا الزامی جواب:

الزامی جواب اسکات خصم کے لیے ہوتا ہے۔ا س میں جوکچھ ذکر کیا جاتا ہے،وہ مناظر ومباحث کے اعتقاد پر محمول نہیں کیا جاتا،مثلاً رافضی نے کہا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا ذکر قرآن مجیدمیں نہیں تو ہم انہیں خلیفہ کیسے مان لیں۔

سنی نے جواب میں کہا کہ اگر ہم یہ کہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا ذکر قرآن مجید میں نہیں، پس ہم خلافت مرتضوی پر اعتراض کریں تو تمہارا کیا جواب ہے؟

یہ محض الزامی جواب ہے،جورافضی کوخاموش کرنے کے واسطے دیا گیا۔ معاذاللہ کوئی سنی، خلیفہ راشد ہادی ومہدی شیرخداحضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر ہرگز اعتراض نہیں کرتا۔ یہ محض الزام خصم کے طوپر کہہ دیا گیا۔

ایسے مباحث کا شمار مناظرانہ مباحث میں ہوتا ہے۔ارباب فقہ وافتا پر واضح ہے کہ مناظرانہ مباحث کے وہ احکام نہیں جو عام مباحث اورعام کلمات کے احکام ہیں۔بحث ومناظرہ میں بیان کردہ الزامی جوابات کو اعتقادپر محمول نہیں کیا جاتا۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے رسالہ ”القمع المبین فی آمال المکذبین“(فتاویٰ رضویہ جلد 15ص 470تا472-ص511-جامعہ نظامیہ لاہور)کے اخیر میں مناظرانہ مباحث کے احکام مرقوم ہیں۔ اسی طرح فتاویٰ رضویہ جلد15ص 514 تا519میں بحث ومناظرہ کے احکام مرقوم ہیں۔مناظرہ اور افتا دونوں کے احکام جداگانہ ہیں۔

چوں کہ کفر کلامی اور کفر فقہی کافرق سمجھناعوام کے لیے مشکل تھا،اور دیابنہ عوام الناس میں بد گمانی اور گمرہی پھیلا رہے تھے،اس لیے علمائے اہل سنت وجماعت نے عوام مسلمین کے ایمان کے تحفظ کے لیے دیوبندیوں کو الزامی جواب دیا اورفرمایا کہ تمہارے گنگوہی کی فتاویٰ رشیدیہ میں لکھا کہ اسماعیل دہلوی کی توبہ کی شہرت ہے۔

جب توبہ کی شہرت ہے تو شہرت توبہ کے سبب مفتی کو شبہہ لاحق ہوگا اور مفتی بطور احتیاط قلم روک لے گا۔ علامہ خیر آبادی قدس سرہ العزیز کے عہد میں توبہ کی کوئی خبر ہی نہیں تھی تو انہوں نے تکفیر فرمائی تھی۔یہ محض الزامی جواب ہے۔پہلاجواب تحقیقی ہے۔

رشید احمد گنگوہی نے بھی شہرت توبہ کا ذکر کیا ہے۔ اس کی عبارت درج ذیل ہے:

السوال:تقویۃ الایمان میں کوئی مسئلہ ایسا بھی ہے جو قابل عمل نہیں، یا کل اس کے مسائل صحیح اور علمائے دین کو مقبول ہیں،اور ایک بات یہ مشہور ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب شہید نے اپنے انتقال کے وقت بہت سے آدمیوں کے روبرو بعض مسائل تقویۃ الایمان سے تو بہ کی ہے۔آپ نے بھی کہیں یہ بات سنی ہے یا محض افترا ہے؟

الجواب:بندہ کے نزدیک سب مسائل اس کے صحیح ہیں۔اگر چہ بعض مسائل میں بظاہر تشدد ہے اور تو بہ کر نا ان کا بعض مسائل سے محض افترا اہل بدعت کا ہے۔
(فتاویٰ رشیدیہ مبوب ص۵۸- جسیم بکڈ پو دہلی)
”ایک بات یہ مشہور ہے کہ مولوی اسما عیل صاحب شہید نے اپنے انتقال کے وقت بہت سے آدمیوں کے رو برو بعض مسائل تفویۃ الایمان سے تو بہ کی ہے“۔
رشید احمد گنگوہی نے اس شہرت تو بہ کا انکار نہیں کیا،بلکہ شہرت تو بہ کو شہرت کا ذبہ ٹھہرایا۔ چناں چہ صفحہ ۲۲۱: پر لکھتا ہے:”توبہ کر نا ان کا بعض مسائل سے افترااہل بدعت کا ہے“۔

جب گنگو ہی خود ما نتا ہے کہ بدعتیوں نے اسماعیل دہلوی پر افترا کر کے یہ شہرت دی ہے کہ انہوں نے اپنے کفریات سے تو بہ کر لی تھی تو شہرت حاصل ہو گئی۔

اب اس شہرت تو بہ کی موجود گی میں احتیاط یہی ہے کہ اسماعیل دہلوی کے اقوال کفر یہ کو کفر ہی کہا جائے،اور خود اسماعیل دہلوی کو کافر کہنے سے کف لسان کیا جائے“۔
(مبلغ وہابیہ کا گریز ص258-حشمتی اکیڈمی پیلی بھیت)

(ج)علمائے اہل سنت وجماعت کادوسرا الزامی جواب:

بعض علما نے دیوبندیوں کویہ الزامی جواب دیا کہ بالفرض اگرمان لیا جائے کہ حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ العزیز نے کفر کلامی کا فتویٰ دیا تھا، اورامام احمد رضا قادری کو کوئی احتمال نظر آیا اور انہوں نے دہلوی کوکافر فقہی قرار دیاتوتمہارا کیا جواب ہے؟

یہ محض الزامی جواب ہے،اورفرض وتقدیر کے طورپر ہے،تاکہ اہل باطل خاموش ہو جائیں اور مسلمانوں کو بہکانا بند کریں۔اہل سنت و جماعت کا تحقیقی جواب وہی ہے کہ ہمارے دونوں اماموں نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی کی ہے، تکفیر کلامی نہیں۔

جب کفر کلامی کا صحیح فتویٰ عائد ہوجائے تو کافرکلامی کوکافر ماننا ضروریات دین سے ہو جاتا ہے۔اس میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔منکرپر”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“کا حکم عائدہوتا ہے۔فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی کے منکرین کی اسی قانون شرعی کے سبب تکفیر کی جاتی ہے۔اگرحضرت علامہ خیرآبادی قدس سرہ العزیز اسماعیل دہلوی پر کفر کلامی کا حکم عائد فرماتے تو بعد والوں کو اس سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی۔

ہاں، تکفیر کلامی سے اختلاف کی ایک صورت یہ ہے کہ کفرکلامی کا فتویٰ ہی غلط ہو تو اس صورت میں اختلاف ضروری ہے،لیکن یہ فتویٰ تکفیر کلامی کا فتویٰ نہیں ہوگا،بلکہ ایک غلط فتویٰ ہوگا۔تکفیر کلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔

اسماعیل دہلوی کے کفرفقہی کو محض فرض محال کے طورپرکفر کلامی مان کر دیوبندیوں کو الزا می جواب دیا جاتا ہے۔وہ الزام خصم کے طورپر ہے۔ ایسے امور کواعتقاد پر محمول نہیں کیا جاتا۔

الزام خصم ا س لیے کہ دیابنہ مسلمانوں کوبہکانا بند کردیں اور خاموش ہوجائیں۔ ہمارا اصلی جواب وہی ہے جو صورت اول میں بیان ہوا کہ حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی اور امام احمد رضا قادری دونوں محققین نے اسماعیل دہلوی کو کافر فقہی قرار دیا ہے،پس دونوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔عوام کو سمجھانے کے واسطے توبہ کی بات کہہ دی جاتی ہے۔

عوام مسلمین کوتوبہ کی بات بتانا:

مشہور محاورہ ہے:کلموا الناس علیٰ قدر عقولہم۔لوگوں سے ان کی عقل کے مطابق بات کرو۔نہ کہ اپنی عقل کے مطابق۔عوام الناس کفر فقہی اور کفر کلامی کا فرق سمجھنے سے قاصر ہیں، پس ان کو توبہ کی بات بتادی جاتی ہے،اورتوبہ کی ایک خبر بھی ہے۔یہ جھوٹ یا افترا نہیں۔

(1)حدیث شریف میں ہے:(امرنا ان نکلم الناس علی قدر عقولہم)
(الدیلمی:عن ابن عباس)(کنز العمال:جلددہم:ص439-مکتبہ شاملہ)

ترجمہ: ہمیں حکم دیا گیا کہ لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق بات کہیں۔

(2)(قال علی:حدثوا الناس بما یعرفون-أ تحبون ان یُکَذَّبَ اللّٰہُ ورسولُہ)(صحیح البخاری:جلد اول:باب من خص بالعلم قوما دون قوم کراہیۃ ان لا یفہموا)

ترجمہ:شیرخدا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں سے وہ بات کہو جس کووہ جان سکیں (یعنی جس کووہ سمجھ سکیں)۔کیا تم یہ پسند کرتے ہوکہ اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کی تکذیب کی جائے۔

توضیح: ارشاد مر تضوی کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے ایسی بات کہی جائے جو وہ سمجھ نہ سکیں تووہ لوگ اس بات کو جھٹلائیں گے،حالاں کہ وہ دین کی سچی بات ہے،لیکن وہ اپنی ناسمجھی کے سبب اسے نہیں مانیں گے اور جھٹلائیں گے،جس سے اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کی تکذیب ہوگی،پس لوگوں سے ایسی بات کہی جائے جووہ سمجھ سکیں۔

(3)(عن عبد اللّٰہ بن مسعود قال:ما أنت بِمُحَدِّثٍ قومًا حدیثًا لا تبلغہ عقولہم الا کان لبعضہم فتنۃ)(صحیح لمسلم:جلداول:مقدمہ،باب النہی عن الحدیث بکل ما سمع)

تر جمہ:صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم کسی قوم کو ایسی بات نہ کہوکہ جہاں تک ان کی عقل نہ پہنچ سکے(جو ان کی سمجھ میں نہ آئے)،ورنہ وہ بات ان میں سے بعض لوگوں کے لیے فتنہ ہوگی۔
توضیح: اس فرمان مبارک کا بھی وہی مفہوم ہے کہ لوگوں سے وہی بات کہی جائے جووہ سمجھ سکیں،ورنہ لوگ انکار کریں گے اور فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ کفر فقہی اور کفر کلامی کافرق عوام کی سمجھ سے باہر ہے،اسی لیے علمائے اہل سنت نے اسماعیل دہلوی کی توبہ کی بات بتاکر عوام کو سمجھانے کی کوشش کی اور جہاد کے دوران سرحدی علاقوں میں دہلوی نے علمائے اہل سنت سے مباحثہ میں شکست کھاکر توبہ کی تھی،

لیکن پھر اپنے عقائد پر قائم رہا تو سنی حضرات ان کے ساتھ شریک جہاد نہ ہوئے۔ بعض سنی حضرات لاعلمی میں ساتھ ہو گئے تھے،پھران لوگوں کی بدعقید گی کا علم ہواتو ساتھ چھوڑ دئیے۔سرحدی پٹھانوں کے ساتھ جنگ میں دہلوی اور اس کا پیر سید احمد رائے بریلوی ہلاک ہوگیا۔انجام کار دہلوی کوواپس دہلی آنا میسر نہ ہوا۔

ان شاء اللہ تعالیٰ قسط چہارم میں تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارت اور رسالہ یک روزی کی عبارتوں کا تجزیہ پیش کیا جائے گا اور واضح کیا جائے گا کہ ان عبارتوں کے سبب اسماعیل دہلوی پر کفر کلامی کا حکم عائد نہیں ہوسکتا۔حضرت علامہ خیرآبادی،امام احمد رضا قادری کی عبارتیں اور اسلاف کرام کی عبارتوں سے نظائر رقم کیے جائیں گے۔تکفیر دہلوی، جنگی حالات،توبہ وغیرہ سے متعلق تفصیلی بحث:البرکات النبویہ:رسالہ دہم میں ہے۔

طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:12:فروری 2021
٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/863332147570638/
توبہ کا ثبوت ہوتو اس پر عمل ہوگا۔اگر کسی عالم اہل سنت کو توبہ کی ایسی خبر موصول ہوئی کہ جس کے سبب کف لسان کیا جا سکے اور اسی سبب سے انہوں نے کف لسان کیا ہو تو کوئی حرج نہیں۔اس اعتبارسے یہ بھی تحقیقی جواب ہوگا۔الموت الاحمر کے حاشیہ میں حضورمفتی اعظم ہندنے تحریر فرمایاکہ احتمال توبہ کی وجہ سے بھی کسی کی تکفیر سے کف لسان کرناہوگا۔

”متکلم میں احتمال یہ کہ اس کلام سے اس کی توبہ ورجوع مسموع ہو،یہ اگر بہ ثبوت قطعی ثابت ہو،جب تو ظاہر کہ اس کی تکفیر حرام،بلکہ بفتوائے کثیر فقہا خود کفر، اورایسا ثبوت ہوکہ متردد کردے،جب بھی قائل کے بارے میں کف لسان درکار،اگر چہ قول کفر صریح ناقابل تاویل ہو۔حدیث کا ارشاد ہے:کیف وقدقیل،اور اگر نری افواہ بے سروپا،یاکن فیکون کے بعد اس کے بعض ہواخواہوں کا مکابرانہ ادعاہوتو اس پر التفات نہ ہوگا:فاحفظ- ۲۱: منہ“۔ (حاشیہ:الموت الاحمرص53-جامعۃ الرضابریلی شریف)

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کو توبہ کی ایسی روایت موصول نہ ہوسکی کہ اس سبب سے کف لسان کیا جاسکے،اسی وجہ سے آپ نے اسماعیل دہلوی کا شرعی حکم بیان فرمایا کہ وہ کافر فقہی ہے اور متکلمین کے یہاں گمراہ ہے۔جو اس کوگمراہ نہ مانے،وہ بھی گمراہ ہے۔

توبہ کی خبر بھی تھی،بعض اس توبہ کو سچی توبہ کہتے،بعض کہتے کہ صرف لوگوں کودکھانے کے واسطے توبہ کیا تھا، بعض توبہ کی خبر ہی کا انکار کرتے تھے۔متعددمؤرخین نے توبہ کا ذکر کیاہے کہ جب دہلوی جنگ کرنے گیا تھا تو علما کے کہنے پرسرحدی علاقوں میں توبہ کیا تھا، لیکن یہ محض ایک دکھاوا تھا۔اس کی تفصیلی بحث ”البرکات النبویہ:رسالہ دہم میں ہے۔

توبہ کی خبر کے سبب کف لسان
صد رالافاضل حضرت علامہ نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ القوی نے تحریر فرمایا کہ اسماعیل دہلوی کی توبہ کی خبر مشہورتھی۔اسی شہرت کے سبب علمانے اس کو کافر کہنے سے کف لسا ن فرمایا،کیوں کہ ایک شبہہ پیداہوچکا تھا۔ہاں، علمائے حق نے اس کے اقوال کوکفریہ بتایا۔

صدرالافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادی(۸۷۸۱؁ھ-۸۴۹۱؁ھ) نے تحریر فرمایا:

(۱)”تقویۃ الایمان کے کثیر کفر یات مذکور ہوچکے ہیں۔حضرات انبیائے کرام اور سید انبیا علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی تو ہین وتنقیص کے کلمات اور ان کی شان میں بے ادبانہ بد گو ئیوں اور گستاخیوں سے کتاب بھر ی ہوئی ہے۔ایسے کلمات بے شک کفر ہیں“۔
(اطیب البیان ص474- مکتبہ نعیمیہ دہلی)

(۲)”لیکن چوں کہ اسماعیل کی نسبت یہ مشہور تھا کہ اس نے اپنے تمام اقوال سے توبہ کرلی تھی،اس لیے علمائے محتاطین نے اس کو کافر کہنے سے احتیاطًا زبان روکی، اور اقوال کو کفر وضلال بتا یا۔اس کا تو اللہ کو علم ہے کہ اس نے واقع میں تو بہ کی تھی یا نہیں۔

اگر چہ آج کل کے وہابیہ جو اس کے کفر یات کی حمایت وترویج کر تے ہیں،وہ تو بہ کے منکر ہیں (اور پر انے وہابی اکثر یہی کہا کر تے تھے کہ مولوی اسماعیل صاحب ان کفریات سے توبہ کر کے مرے ہیں)

چنا نچہ مولوی رشید احمد گنگو ہی سے کسی نے سوال کیا کہ ایک بات یہ مشہور ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب شہید نے اپنے انتقال کے وقت بہت سے آدمیوں کے روبرو بعض مسائل تفویت الایمان سے تو بہ کی ہے، آپ نے بھی یہ بات کہیں سنی ہے،یا محض افتراہے؟

اس کے جواب میں لکھتے ہیں ”تو بہ کر نا ان کا بعض مسائل سے محض افتراء اہل بدعت کا ہے“۔ (فتاویٰ رشیدیہ ج۱ ص۲۶)، لیکن جن علمانے سنا کہ اس کی نسبت تو بہ کی شہرت ہے، انہوں نے احتیاط کی،اور مفتی کو ایسا ہی چاہئے جیسا کہ ائمہ دین نے یزید کی تکفیر ولعن سے احتیاط کی“۔ (اطیب البیان ص474- مکتبہ نعیمیہ دہلی)

(۳)”احتمال تو بہ کی وجہ سے علمائے کرام یزید جیسے بد بخت شقی پلید کے حق میں لعن سے احتیاط فر ما تے ہیں۔ یہی حال اسماعیل کا ہے جس کی توبہ کی شہرت تھی،لیکن اسماعیل کے بعد وہابیہ کے اور دوسرے پیشواؤں نے شان انبیا علیہم السلام میں شدید گستا خیاں کیں،اور توہین کے نہایت نا پاک کلمات لکھے،اور باوجود بار بارر د کے ان پر مصر رہے۔تو بہ کی طرف مائل نہ ہوئے۔ان کی تکفیر میں علمائے عرب وعجم نے کوئی تأمل نہ فر مایااور نہ ایسی حالت میں شریعت طاہرہ تأمل کی اجازت دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان حضرات کو ان کی نیت وحسن عمل کی جزاعطا فر ما ئے، اور اپنے بندوں کو کفر وضلالت سے بچائے:آمین“۔
(اطیب البیان ص475-مکتبہ نعیمیہ دہلی)

شیر بیشہ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی خاں لکھنوی علیہ الرحمۃوالرضوان نے تحریر فرمایا کہ اسماعیل دہلوی کی توبہ کی شہرت تھی،پس شبہہ کویہ کافی ہے۔عبارت درج ذیل ہے:

”اسماعیل دہلوی کی بھی اس کے کفریات سے تو بہ مشہور ہے۔چناں چہ فتاویٰ رشیدیہ مبوب حصہ او ل صفحہ ۱۲۱: پر رشید احمد صاحب گنگوہی کا مستفتی لکھتا ہے:
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بنگلہ دیش کے دیوبندی مولوی کاصریح جھوٹ:

کتاب "البُدُورُالمَضِیَّۃُ فی تراجم الحنفیۃ"کچھ عرصہ قبل عرب کے ایک ادارے کی جانب سے شائع ہوئی ہے.اس کتاب میں سیدی اعلٰی حضرت امامِ اہل سنت کے تذکرہ میں غلط بیانی سے کام لیاگیاہے.اوراب اس کتاب کی ایک اورغلط بیانی سامنے آئی ہے.(اہل علم جانتے ہیں کہ دیوبندی "رضاخانی"سےامام احمدرضاخان فاضلِ بریلوی کے متبعین مرادلیتے ہیں)اس کتاب کے دیوبندی مؤلف نےمولاناکرم الدین دبیرکو"فاتح قادیانیت" اور"فاتح رضاخانیت" لکھاہے.
اس کے مؤلف سے سوال ہے کہ قادیانیت کے خلاف مولاناکرم الدین دبیرنے کتابیں لکھیں.عدالتوں میں مرزاقادیانی کے خلاف کیس لَڑے.لیکن ہمارے خلاف(جنہیں آپ رضاخانی کہتے ہی )انہوں نے کوئی کتاب لکھی؟مناظرہ کیا؟اگرنہیں اوریقینًانہیں.توپھران کو"فاتح رضاخانیت"لکھناشرمناک جھوٹ نہیں تواورکیاہے؟
اس سے بڑا جھوٹ اوردجل وفریب اورکیاہوسکتاہے کہ
1.جومولاناکرم الدین دبیردیوبندیوں کوکافرسمجھتے تھے(جیساکہ"الصوارام الہندیہ"پردرج آپ کی تقریظ سے واضح ہے.تادمِ انتقال آپ نے اپنے اس فتویٰ سے رجوع نہیں کیا.بلکہ اس پرقائم رہے)
2.دیوبندیوں کے خلاف مناظرہ سلاں والی میں اہل سنت کی طرف سے صدرمناظرمقررہوئے
3."تذکاربگویہ"جلد3میں آپ کاایک خط شامل ہے جس میں آپ نے لکھاہے کہ دیوبندی میرانام سن کرمناظرہ سے فرارہوگئے.
ان کے بارے میں آپ یہ لکھ دیں کہ وہ "فاتح رضاخانیت"تھے.والی اللّٰہ المشتکی۔یقینًایوم حساب قریب ہے.بجائے اس کے کہ آپ یہ تسلیم کرتے کہ وہ اہل سنت وجماعت بریلوی سے تعلق رکھتے تھے.آپ نے اُلٹاان کو"فاتح رضاخانیت"لکھ دیا.ایسی بے حیائی,بے شرمی آپ کوہی جچتی ہے.سچ کہا سیدی اعلٰی حضرت نے:

شرمِ نبی,خوفِ خدا,یہ بھی نہیں,وہ بھی نہیں

نوٹ:مولاناکرم الدین دبیرکے انتقال کےبعدآپ کے بیٹےقاضی مظہرحسین دیوبندی نے آپ کے متعلق یہ مشہورکردیاکہ آپ دیوبندی ہوگئے تھے.اس جھوٹ کاتفصیلی رد راقم نے مولاناکرم الدین دبیرکی کتاب"آفتاب ہدایت"طبع اوّل کی عکسی اشاعت کے ساتھ شائع شدہ اپنے مقالے میں کیاہے(جو20*26کے 92صفحات پرمشتمل ہے)اورانٹرنیٹ پربھی موجودہے.ابھی اس موضوع پرمزیدموادراقم کے پاس جمع ہوگیاہےجس کوبوقت فرصت شامل کرکے اس مقالہ کوالگ سے کتابی صورت میں شائع کیاجائے گا.ان شاءاللّٰہ تعالٰی۔

میثم قادری
12.2.2021

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2935147816764526&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسئلہ:زلزلہ آنے کا کیا باعث ہے ؟
الجواب : اصلی باعث آدمیوں کے گناہ ہیں ،اور پیدا يوں ہوتا ہے کہ ایک پہاڑ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشےزمین کے اندر اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں جیسے بڑے درخت کی جڑیں دور تک اندر اندر پھیلتی ہیں، جس زمین پر معاذاللّٰہ زلزلہ کا حکم ہوتا ہے وہ پہاڑ اپنے اس جگہ کے ریشے کو جنبش دیتا ہے زمیں ہلنے لگتی ہے۔
واللّٰہ تعالی اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ,جلد27,صفحہ93)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2935239636755344&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
":تین چیزیں ایک هی جگه پرورش پاتی هیں۔۔۔۔
*1"پهول 2"کانٹے 3 " خوشبو*

2 " : تین چیزیں ہر ایک کو ملتی ہیں۔۔۔۔
*1 " خوشی 2"غم 3"موت*

3 " :تین چیزیں ہر ایک کی الگ الگ ہوتی ہیں۔۔۔۔۔
*1"صورت 2"سیرت 3"قسمت*

4 " : تین باتوں کو کبھی چهوٹا نہ سمجهو۔۔۔۔۔
*1" قرض 2" فرض 3"مرض*

5": تین چیزوں کو کبھی نہ ٹهکراؤ۔۔۔۔
*1" دعوت 2"تحفہ 3" مشوره*

6":تین چیزوں کو ہر کوئی اپنا لے۔۔۔۔۔
*1"صبر 2"رزق 3"شکر*

7": تین چیزوں کو ہمیشہ پاک رکهو۔۔۔۔۔
*1"جسم 2"لباس 3" خیالات*

8 " : تین چیزوں کو ہمیشہ یاد رکهو۔۔۔۔
*1"نعمت 2" احسان 3" موت*

9":تین چیزوں کو ہمیشہ حاصل کرو۔۔۔۔
*1"علم 2"اخلاق 3"ہنر*

10": تین چیزوں سے پرہیز کرو۔۔۔۔۔
*1حسد 2" غیبت 3" چغلخوری*

11": تین چیزوں کو ہمیشہ قابو میں رکهو۔۔۔۔۔
*1" زبان 2 "غصہ 3" نفس*

12": تین چیزوں کے لیے لڑو۔۔۔۔۔
*1"وطن 2" حق 3" عزت*

13": تین چیزیں ہمیشہ واپس نہیں آتیں۔۔۔۔
*1 " زندگی 2" وقت 3"جوانی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM