🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
بحرِ مُتَقارِب میں لکھی گئی یہ منقبتِ صدیق اکبر پتا نہیں کس کی ہے ، لیکن ہے کمال ۔
ہوسکے تو اسے ایک بار پڑھ لیجیے ۔

جب ہم پیارے صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکرِ خیر کرتے ہیں تو حضور خوش ہوتے ہیں ، اور جب آپ ﷺ خوش ہوتے ہیں تو خداے پاک ﷻ بھی خوش ہوتا ہے ۔

میں نے تو اس منقبت کو بار بار پڑھا ہے ۔۔۔‌‌‌۔۔۔۔۔ پہلے ایک‌ ایک شعر سمجھ کر پڑھا ، پھر ایک ایک شعر کی تقطیع کی ، پھر آپ کی آسانی کے لیے حرکات ( زبر زیر پیش ) کا اہتما‌م کیا ؛ کیوں کہ آج کل لوگ الفاظ کو بہت غلط پڑھتے ہیں ، بعض دفعہ تو ایسا غلط پڑھتے ہیں کہ معنیٰ ہی بدل جاتا ہے ۔
مثلاً ایک لفظ انبیا ہی لے لیجیے:
انبیا نبی کی جمع ہے ، جس کا درست تلفظ ب کے نیچے زیر کے ساتھ ہے ، یعنی: اَنْبِیَا ۔
اگر اس کی ب کو ساکن کر کے ( اَنبْیا ) پڑھ دیا جائے تو اس کا معنی کچا آم بن جائے گا ۔
پھر شعر میں تو درست تلفظ بہت زیادہ ملحوظ رہنا چاہیے ، یہاں اگر ساکن حرف کو متحرک کردیں گے اور متحرک کو ساکن کردیں گے تو شعر ہی غلط ہوجائے گا ۔

🌴منقبت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ 🌴

ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣَﺪَﺩﮔﺎﺭ ، ﭘﮩﻼ ﺻﺤﺎﺑﯽ
ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗَﺪَﻡ ﭘﺮ ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ

ﻭﮦ ﺍﻓﻀﻞ ﺑَﺸَﺮ ﺑﻌﺪ ﺍَﺯ ﺍَﻧﺒِﯿﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺻﺪﺍﻗﺖ ، ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﻭَﻓﺎ ﮨﮯ

صحابی وہ ایسا ، ﺍِﻣﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻋﻠﯽٰ
ﻣﺤﻤﺪ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺩﻡ ﻭﻓﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ

ﻭﮦ ﺻِﺪِّﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ کہ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟَﻘَﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋَﺮَﺏ ﮨﮯ

ﺑَﺸَﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﻣِﻌﯿﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮ ﺍ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﺍُﻭﻧﭽﺎ ﻭﮦ ﻣِﯿﻨﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮﺍ

ﭼَﭩﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻗَﺪَﻡ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﺍ ایک ﺑﺎﺏِ ﺣَﺮَﻡ ﺗﮭﺎ

ﺧُﺪﺍ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ، ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ
کہیں ﻗُﺪﺳﯽ ﺁﻣﯿﻦ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ

ﺯمیں ﭘﺮ ﻭﮦ ﻋﺮﺵِ ﺑَﺮﯾﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧِﺮﺍﻻ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺟُﺪﺍ ﮨﮯ

ﺩُﻋﺎ ﮐﮯ لیے ﻭﮦ ﺍَﮔَﺮ ﻟَﺐ ﮨِﻼ ﺩﮮ
ﺧُﺪﺍ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﻟُﭩﺎ ﺩﮮ

ﻭﮨﯽ ’’ ﺛﺎﻧِﯽَ ﺍﺛْﻨَﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﮨﮯ ﻣُﺨﺎﻃَﺐ
ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ لیے ﮨﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﻣَﺮﺍﺗِﺐ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ؟ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ !
ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ؟ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ !

ﺭِﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻗَﺪْﻣﻮﮞ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﻭﮦ ﻻ ﮐﺮ
ﭼﻠﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ

ﺑَﺠُﺰ ﺍَﻧﺒﯿﺎ ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ
ﻭﮨﯽ ﺻﺮﻑ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ، ﻭﮨﯽ ﮨﮯ !

ﮐﻮﺋﯽ ﺍُﻣَّﺘﯽ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺘﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨَﻤﺴَﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ’’ ﺻِﺪِّﯾﻖ ‘‘ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ
ﺩﯾﮯ ﮨﯿﮟ ﻣَﮕَﺮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺭﺗﺒﮯ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺧُﺪﺍ ﺳﮯ ﺩُﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﻣُﺼﻄﻔﯽٰ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ

ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﭘﺮ

ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ، ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣِﺮﺍ ﮨﺮ ﻧَﻔَﺲ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ

ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﻟَﻮﭨﻮﮞ ، ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺁﺅﮞ
ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ ، ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ

ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﮐﺮِ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﮨﮯ
ﻭﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﻢِ ﮔَﺮﺍﻣﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺳَﻤﻨﺪﺭ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ
ﻭﮦ ﻏﻢ ﺧﻮﺍﺭ ﭘﮩﻼ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ

ﻧﺒﯽ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮨﭩﺎﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻧﺒﯽ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯿﮟ ﮨﮯ

ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﯽ ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ

ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ، ﺑﭽﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ
ﻭﮦ ﺑﺎﺭِﺧِﻼﻓﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ

ﺻﺪﺍﻗﺖ ، ﺷُﺠﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺍِﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ

ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﻓِﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺣﯿﺎﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ

ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﻓَﻘَﻂ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣُﺠﺎہِد ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﮨﮯ ﻏﺎﺯﯼ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻧﻤﺎﺯﯼ

ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﭼﺮﺍﻍِ ﻭﻓﺎ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ
ﺣﺒﯿﺐِ ﺣﺒﯿﺐِ ﺧﺪﺍ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ

ﺗِﺮﺍ ﺛﺎﻧﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﺭﮨﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﻭﮦ ﻓَﻮﻻﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﻭﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑُﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ

ﺭِﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺩَﺭ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ

ﻣُﺤﻤﺪ ﻣُﺤﻤﺪ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ

ﻭﮦ ﺣُﮑﻢِ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺑﮩﺖ ﺟﺎﮔﻨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ

ﻣﻘﺎﻡِ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻧَﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﺍﻋﯽ
ﺑِﻼﺧﻮﻑ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺍُﮌﺍﺋﯽ

ﺧﻼﻓﺖ ﭘﮧ ﺣﻖ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﺛﺎﺑِﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ

ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺍِﻃﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﻃﺎﻋﺖ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ

ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻭَﻓﺎ ﮐﺎ ﺳَﻤﻨﺪﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ
ﺗﺠﮭﮯ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺍﮎ ﻣُﻨَﻮَّﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ

ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺑُﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ
ﺗُﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻣﯿﮟ ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ !!

ﻭﮦ ﺻِﺪّﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟَﻘَﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋَﺮَﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣَﺪَﺩﮔﺎﺭ ، ﭘﮩﻼ ﺻَﺤﺎﺑﯽ
ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗَﺪَﻡ پر ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ

✍️لقمان شاہد
6-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3083064561973712&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✮ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی✮
بسم الله الرحمن الرحیم

الصبر

قال الله تعالی فی القرآن العظیم

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ .
﴿ البقرة ١٥٣ ﴾

قال صاحب روح البیان تحت هذه الآیة
لم یقل الله تعالی مع المصلین لاشتمال الصلوة علی الصبر ، فالصبر عند الله محبوب ، وكنز لایفنی دائما ، وحسنة من حسنات ، وثمرة من ثمرات ، وعلامة من علامات الصالحین ، وثروة من ثروات الایمان ، ونعمة من نعم الله تعالی ، فمن اخذ بطرف الصبر نال هدفه ، ومن ترك ذیله ضل عن الصراط المستقیم ، ومن صبر علی اوقات الحزن والهم رضی الله تعالی عنه .

زملائی الافاضل !
قال علی رضی الله تعالی عنه :
الصبر ركن من الایمان

وقال ابن مسعود رضی الله تعالی عنه :
الصبر نصف من الایمان .

و قال جنید البغدادی رحمة الله تعالی علیه :
لایستطیع المؤمن ان یجد حلاوة الایمان بغیر الصبر علی المصائب .

ایها الناس !
اعلموا ان معنی الصبر فی اللغة الحبس .

وفی الاصطلاح ، ان یصبر الانسان علی ما كتب الله فی ذمته ویحبس نفسه عن لذات الدنیا ، ویقتل اهواءه ، ویكتفی مایجده .

فیاایها الناس !
جعل الله تعالی بعض الناس امیرا و غنیا ، والبعض فقیرا معدما ، ولاینبغی للانسان ان یعتقد بان الله تعالی لم یعدل بینهم بل ینبغی لهم فی كل مرحلة ان یشكروه ، ویتمسكوا بحبل الصبر ،
لان النبی صلی الله تعالی علیه وسلم قال :
عجبا لامر المؤمن ، ان امره كله خیر ، ولیس ذاك لاحد الا للمؤمن ، ان اصابته سراء شكر ، فكان خیرا له ، وان اصابته ضراء ، صبر فكان خیرا له .
الصحیح المسلم .


اخوانی الاعزاء !
الصبر اصعب شیئ علی النفس ، واكرهه علی القلب ، وافضل الاعمال مااشق علی النفس .
والصبر من خواص الانسان لانه یملك العقل والشهوة .
واما الحیوانات فلا عقل لها .
واما الملائكة فهم مجردون من الشهوة ، وهذا الامر صعب لصاحب القدرة ،
ولكن للصابرین درجات كثیرة ،
لقول ابن عباس رضی الله تعالی عنه

الصبر فی القرآن علی اوجه :

صبر علی اداء فرائض الله .
صبر علی محارم الله تعالی .
صبر فی المصیبة عند الصدمة الاولی .
فمن صبر علی اداء فرائض الله تعالی ، فله ثلاث مأة درجة .
ومن صبر عن محارم الله ،
فله ست مأة درجة .
ومن صبر فی المصیبة عندالصدمة الاولی ،
فله تسع مأة درجة .


زملائی الافاضل !

قد وعد الله تعالی ثوابا عظیما لمن صبر فی البؤس ، و الالم ، والهم ، والحزن ، والكرب ، والصعوبة ، والمشقة ، والشدة ، والمحنة ، والاضطراب والازعاج ،

كقوله تعالی :
وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ﴿ البقرة ١٥٥ ﴾
أی بان یعطیهم ثوابا عظیما .

فعلینا ان نصبر علی ما ابتلینا فی الدنیا ، وننهج منهج الانبیاء والمرسلین والصالحین فیه .

وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین .

──────⊱◈◈◈⊰──────
محمد ضياءالدين القادري الحنفي
بهرائج ، یوفی ، الهند
──────⊱◈◈◈⊰──────
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مدح خوانی:

محافلِ میلاد میں حمد باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ بوڑھے یا جوان مرد کا خوش الحانی سے نعتیہ اشعار کا پڑھنا اور حاضرین کا نیت نیک سے سننا جائز ہے ۔بلکہ مستحب و مستحسن ہے ۔بخاری شریف کی صحیح حدیث میں ہے ۔حضور نبی اکرم ﷺ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کےلئے منبر بچھواتے تھے اور وہ اس پر کھڑے ہو کر نعت اقدس سناتے تھے ۔جبکہ حضور نبی اکرم ﷺ سنتے تھے ۔ان کے علاوہ دیگر صحابہ نے بھی بارگاہِ رسالت ﷺ میں کھڑے ہو کر نعت خوانی کا شرف حاصل کیا ہے ۔ تا ہم نعت خوانی کےلئے چند آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے :
1۔نعت سادہ خوش الحانی کے ساتھ ہو ،گانوں کی طرز پر نہ پڑھی جائے ۔(فتاویٰ رضویہ جلد23صفحہ363)
2۔نعت خوانی آلاتِ لہو و لعب اور افعالِ لغو مثلاً مزا میر وغیرہ کے ساتھ نہ کی جائے ۔(فتاویٰ رضویہ جلد 24صفحہ79)

دف اور نعت خوانی: دف کا حکم عام آلاتِ لہو و لعب سا نہیں ۔بلکہ خوشی کے لمحات میں اس کا استعمال جائز ہے ۔مگر اس کےلئے چند شرائط ہیں ۔امام احمد رضا خاں رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :”اوقات مسرور میں دف جائز ہے ۔بشرطیکہ اس میں جلا جل یعنی جھانج نہ ہو ۔نہ وہ موسیقی کے تان سر پر بجایا جائے ،ورنہ وہ بھی ممنوع ۔“(فتاویٰ رضویہ 25صفحہ37)

ذکر والی نعت خوانی سے پرہیز:علماءاسلام نے ذکر والی مروجہ نعت خوانی کو بھی ناجائز قرار دیا ہے ۔اس لئے محافل میلاد کو اس سے پاک کرنا چاہئے۔امام احمد رضا خان بریلوی رحمة اللہ علیہ کے عظیم علمی خانوادہ کے چشم و چراغ حضرت مفتی اختر رضا خان بریلوی اس کے متعلق فرماتے ہیں :”نعت میں ذکر کی آواز اس طرح سنائی دیتی ہے جیسے دف کے ساتھ ذکر ہو رہا ہو اور ایسی آواز جو دف سے مشابہ ہو منہ سے نکالنا جائز نہیں کہ طریقہ فساق ہے اور ذکر و غیرہ میں شبہ ناجائز ،نیز اللہ تعالیٰ عزوجل کے نام مبارک کو بصورت مزامیر پیش کرنے میں نوعِ اہانت بھی ہے ۔اس لئے اس کا عدم جواز شدید ترین ہے ۔اگر چہ نیت خیر ہو“( فتویٰ بریلی شریف )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2931838277095480&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جو دوسروں کیلئے گڑھا کھودتے ہیں ۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں پہنچ گئیں،یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے.

قاضی نے پوچھا
تم دونوں میں سے کس نے بات پہلے کرنی ہے؟

ان میں سے بڑھی عمر والی خاتون نے دوسری سے کہا تم اپنی بات قاضی صاحب کے آگے رکھو.

وہ کہنے لگی قاضی صاحب یہ میری پھوپھی ہے میں اسے امی کہتی ہوں چونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد اسی نے میری پرورش کی ہے یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی.

قاضی نے پوچھا اس کے بعد ؟

وہ کہنے لگی پھر میرے چچا کے بیٹے نے منگنی کا پیغام بھیجا انہوں نے ان سے میری شادی کر دی،میری شادی کو کئی سال گزر گئے ازدواجی زندگی خوب گزر رہی تھی ایک دن میری یہ پھوپھی میرے گھر آئی اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی آفر کرلی ساتھ یہ شرط رکھ لی کہ پہلی بیوی(یعنی میں) کا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دے،میرے شوہر نے کنواری دوشیزہ سے شادی کے چکر میں شرط مان لی میرے شوہر کی دوسری شادی ہوئی سہاگ رات کو میری پھوپھی میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا تمہارے شوہر کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی بیاہ دی ہے تمہارا شوہر نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیا ہے میں تجھے تیرے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں.

جج صاحب میری طلاق ہوگئی.

کچھ عرصے بعد میری پھوپھی کا شوہر سفر سے تھکے ہارے پہنچ گیا وہ ایک شاعر اور حسن پرست انسان تھے میں بن سنور کر اس کے آگے بیٹھ گئی اور ان سے کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اس نے فوری ہاں کرلی،میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی(یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیں اس نے ایسا ہی کیا میں نے وکالت کا حق استعمال کرتے ہوئے پھوپھی کو طلاق دے ڈالی اور پھوپھی کے سابقہ شوہر سے شادی کرلی.

قاضی حیرت سے پھر ؟

وہ کہنے لگی قاضی صاحب کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی.

کچھ عرصہ بعد میرے اس شاعر شوہر کا انتقال ہوا میری یہ پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرتے پہنچ گئی میں نے ان سے کہا کہ میرے شوہر نے تمہیں اپنی زندگی میں طلاق دی تھی اب وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، جھگڑا طول پکڑا اس دوران میری عدت بھی گزر گئی ایک دن میری یہ پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد(میرا سابقہ شوہر) کو لیکر میرے گھر آئی اور وراثت کے جھگڑے میں میرے اسی سابق شوہر کو ثالث بنایا اس نے مجھے کئی سالوں بعد دیکھا تھا مرد اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا ہے چنانچہ مجھ سے یوں مل کر اس کی پہلی محبت نے انگڑائی لی میں نے ان سے کہا کیا پھر مجھ سے شادی کروگے؟
اس نے ہاں کرلی
میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ اپنی پہلی بیوی(میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے ہاتھ میں دیں،اس نے ایسا ہی کیا.
میں نے اپنے سابق شوہر سے شادی کرلی اور اس کی بیوی کو شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دے دی.

قاضی ابن ابی لیلی سر پکڑ کر بیٹھ گئے پھر پوچھا کہ
اس کیس میں اب مسئلہ کیا ہے؟

میری پھوپھی کہنے لگی :
قاضی صاحب کیا یہ حرام نہیں کہ میں اور میری بیٹی دونوں کی یہ لڑکی طلاق کروا چکی پھر میرا شوہر اور میری بیٹی کا شوہر بھی لے اڑی اسی پر بس نہیں دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کرلیا۔

قاضی ابن ابی لیلی کہنے لگے:
مجھے تو اس کیس میں حرام کہیں نظر نہیں آیا،طلاق بھی جائز ہے،وکالت بھی جائز ہے،طلاق کے بعد بیوی سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جاسکتی ہے بشرطیکہ درمیان میں کسی اور سے اس کی شادی ہو کر طلاق یا شوہر فوت ہوا ہو تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے.

اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہا کہ جو کوئی اپنے بھائی کیلئے گڑھا کھودے گا خود اس گڑھے میں گرے گا یہ بڑھیا تو گڑھے کی بجائے گہرے سمندر میں گر گئی.

كتاب :جمع الجواهر في - الحُصري.
بشکریہ جناب امین نورانی صاحب

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2931204763825498&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اِس دور میں جس پیر کے مرید ۔۔۔۔۔۔ اور استاد کے شاگرد ۔۔۔۔۔۔ ایسے باصلاحیت ہوں کہ:

اپنے پیر استاد کی غلطی کو غلط کَہ سکیں ، اور اس کی اصلاح کرسکیں ؛ اُس پیر استاد سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

وہ ایسا پیر استاد ہوگا جس نے مریدوں اور شاگردوں کو محض شخصیت نہیں پڑھائی ہوگی ، دین اور علم سکھایا ہوگا ۔

✍️لقمان شاہد
7-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3083837211896447&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سو بار قربان رسول پاک ﷺ کے پیارے نواسے امام عالی مقام ، سیِّدُ الشُھَدا ، امام حسین پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ‌‌‌‌۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی ذات کتنی عظیم ہے ، الفاظ جس کی عظمت و رفعت بیان ہی نہیں کرسکتے ؎

حُسَین فکرِ بَشَر کی عظیم منزِل ہے
حُسَین سینۂ انساں میں جاگتا دل ہے

حُسین ایک علامت ہے زندگی کے لیے
حسین عزمِ سفر ہے مسافروں کے لیے

فَسردہ پھولوں کے دامن پہ مثلِ شَبنم ہے
حُسین ۔۔۔۔۔۔ زِیست کا اک با وقار پرچم ہے

✍️ لقمان شاہد
8-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3084679345145567&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اہل سنت کے ہاں نہ اہلِ بیت کو صحابہ کی وجہ سے مانا جاتا ہے ، نہ صحابہ کو اہل بیت کی وجہ سے ۔
ان‌ ہستیوں کو صرف اور صرف اللہ و رسول کے لیے مانا جاتا ہے ۔

امام نبھانی رحمہ اللہ فرماتےہیں:

اے عاقل و مُنصِف مومن ! تجھ پر مخفی نہیں رہناچاہیے کہ:

بلاشبہہ ہم سیدنا علی المرتضی سے محبت اللہ و رسول کے لیے کرتے ہیں ، اور اسی طرح تمام اہل بیت اور جمیع صحابہ سے محبت محض اللہ اور اس کے رسول کے لیے کرتے ہیں ۔

( اسالیب البدیعۃ فی فضل الصحابۃ واقناع الشیعۃ مع شواھد الحق ، فصل فی شوؤن رؤسا الاصحاب الذین خالفوا علیا رضی اللہ عنہ عنھم و طلحۃ ۔‌‌‌۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ص399 )

اللہ پاک راہِ راست سے بھٹک جانے والوں کو ہدایت دے ، اور ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھے ؛ نجات صرف اور صرف اتباعِ اہل سنت میں ہے ۔

✍️لقمان شاہد
8-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3084753535138148&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیٹے والے لمبا چوڑا جہیز لینا چھوڑ دیں ، اور بیٹی والے قیمتی ملبوسات ، بےتحاشہ زیورات اور فضول اخراجات کا مطالبہ ترک کردیں تو نکاح جیسی مبارک سنت آسانی سے عام ہوسکتی ہے ۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3085001911779977&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض لوگ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی انسانیت سے دور ہوتے‌ ہیں ، کیوں کہ انھیں کسی‌ صاحبِ دل انسان کی صحبت میسر نہیں آئی ہوتی‌ ۔
انسان کو ، انسان ہی انسان بناتے ہیں ؎

کورسز چار حرف سِکھاتے ہیں
آدمی ، آدمی بناتے ہیں !

✍️لقمان شاہد
9-2-2021ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3085391278407707&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ تحریر مولانا Hafiz Hamza زیدت معالیھم کی ہے ۔
مجھے بہت پسند آئی تو میں نے ان کی اجازت سےاس میں کچھ ترمیم و اضافہ کر کے آپ کے حضور پیش کردیا ۔

الحمد للہ میں نے آج سے اس فارمولے پر عمل کی نیت کر لی ہے ، آپ بھی کرلیجیے ؛ اللہ آپ سے راضی ہو !

📖 12 منٹ مطالعہ📒

12 منٹ مطالعہ ایک فارمولا ہے ، ایک قاعدہ ہے ، جس کی مدد سے ہم بیسیوں کتابوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں ۔

جی ہاں !

اگر ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنی معاشی ، تعلیمی اور دیگر مصروفیات میں سے 12منٹ نکالنا چاہیں ، تو یہ کوئی مشکل بات نہیں ؛ جب کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر کافی وقت فضولیات کی نظر کرتے ہوئے
" ایسے ہی" گزاردیتے ہیں !

لہذا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج سے ہم 12 منٹ نکالنے کی سچی نیت کرلیتے ہیں ، اور اس وقت میں پڑھنے کے لیے کوئی سی کتاب منتخب کرلیتے ہیں ۔

" کتاب کا موضوع کیا ہو" ؟

1️⃣ مطالعے کا موضوع ایسا ہو جس میں زیادہ غور و فکر نہ کرنا پڑے ، اور بہ آسانی تسلسل سے پڑھا جاسکے ۔

مثلا: تاریخ ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ، صحابہ کرام علیہم الرضوان ، ائمہ اسلام اور اولیاے عظام کی سوانح وغیرہ ۔

2️⃣ 12منٹ فارمولا سے مکمل فائدہ حاصل کرنے کے لیے لازمی ہے کہ:

اسی زبان میں کتاب کو پڑھا جائے جس پر عبور ہو ۔

( خیال رہے کہ آپ کا یہ وقت آپ کی ہر طرح کی مصروفیت کے علاوہ ہوگا ، اگر چہ وہ تعلیمی مصروفیت ہی کیوں نہ ہو )

🌹"اس فارمولا کے حیرت انگیز فوائد!"🌹

عام طور پر ایک متوسط رفتار کا حامل شخص ایک منٹ میں ایک صفحہ پڑھ سکتا ہے۔
تو اس لحاظ سے بارہ منٹ میں بارہ صفحات ہوجانے چاہییں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہم آسانی کے لیے دس صفحات رکھ لیتے ہیں ۔
لہذا اس تناظر میں اگر دیکھیں تو
ایک مہینے میں 300 اور سال میں 3600 صفحات بنتے ہیں ۔۔۔۔ !
یوں 12 منٹ فارمولا پر عمل کرتے ہوئے آپ بہت ساری کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کرسکتے ہیں۔

کیا عملی زندگی میں یہ ممکن ہے ؟؟

جی ہاں ممکن ہے !!

دنیائے اسلام کی تاریخی درس گاہ " الجامعۃ الازہر " کے علوم الحدیث کے استاد ، شیخ احمد معبد نے ایک بار اپنے لیکچر میں کہا کہ:
میں نے اس فارمولا کی مدد سے " فتح الباری ، تهذيب التهذيب وغیرہ " کا از ابتدا تا انتہا مطالعہ کیا ہے !!!

( اگر آپ آج ہی سے ایک ماہ تک روزانہ بارہ منٹ مطالعہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہر ماہ یا دو تین ماہ بعد ایک ایک منٹ بڑھاتے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس پر مرتے دم تک ثابت قدم بھی رہتے ہیں ، تو انشاءاللہ تعالیٰ اس کے آپ کو بے شمار فوائد نصیب ہوں گے ۔ )

✍️حمزہ شاہد
٢٧جمادی الآخرة ١٤٤٢ھ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3085516151728553&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM