*وہ بابرکت خانوادہ جس کی مسلسل چار پشتیں صحابی ہیں !*
تحریر : نثار مصباحی
رکن: روشن مستقبل، دہلی
سيدنا ابو بكر صديقِ اَكبر، رضی اللہ تعالی عنہ اکیلے ایسے صحابی ہیں جن کے نسب و نسل میں مسلسل چار پشتیں "صحابی" ہیں۔
ان چاروں حضرات کے نام ایک ساتھ اس طرح ہیں:
"محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر صدیق بن أبی قحافہ عثمان" (رضی اللہ تعالی عنہم)
اس اِجمال کی تفصیل یہ ہے کہ :
۱- سیدنا صدیقِ اکبر کے والد گرامی : سیدنا ابو قُحافَہ عثمان رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔
۲- سیدنا ابو بکر خود صحابی، بلکہ علی الاِطلاق "أفضل الصحابۃ"، اور انبیاء و مرسلین(رُسُلِ بشر و رُسُلِ ملائکہ) کے بعد مطلقاً تمام انس و جن اور فرشتوں سے "اَفضَل" ہیں۔
۳- سیدنا ابو بکر کے بیٹے سیدنا "عبد الرحمن" بھی صحابی ہیں۔
اور
۴- سیدنا عبد الرحمن بن أبی بکر کے بیٹے سیدنا "محمد بن عبدالرحمن" بھی صحابی ہیں۔
یعنی حضرت ابو بکر صدیق کے والد صحابی، وہ خود صحابی، ان کے بیٹے صحابی، اور ان کے ایک پوتے بھی صحابی ہین۔ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
⬅️ امام حافظ ابن حِبان (متوفی 354ھ) "کتاب الثقات" میں حضرت محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر کے تعارف میں لکھتے ہیں:
"هَؤُلَاء الْأَرْبَعَة فِي نسق وَاحِد لَهُم من النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَة : أَبُو قُحَافَة، وَابْنه أَبُو بكر، وَابْنه عَبْد الرَّحْمَن بْن أبي بكر، وَابْنه أَبُو عَتيق مُحَمَّد بْن عَبْد الرَّحْمَن۔ وَلَيْسَ هَذَا لأحد من هَذِه الْأمة غَيرهم" (کتاب الثقات، ابن حِبّان)
ترجمہ :
ایک ہی ترتیب میں یہ چار حضرات ایسے ہیں جنھیں دیدارِ رسول(صحابیت) کا شرف ملا ہے :
۱-ابو قُحافَہ، ۲-ان کے بیٹے ابو بکر، ۳-ان کے بیٹے عبد الرحمن بن ابی بکر، اور پھر ۴-ان کے بیٹے ابوعتیق محمد بن عبد الرحمن۔
یہ شرف اس امت میں ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ (کتاب الثقات)
⬅️ امام ابن عبد البر القرطبي رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 463ھ) تذکارِ صحابہ کی اپنی معروف کتاب "الاستیعاب" میں حضرت محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر کے تعارف میں لکھتے ہیں:
"أدرك النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وأبوه وجده وأبو جده أَبُو قحافة أربعتهم، وليست هَذِهِ المنقبة لغيرهم، ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا فِي الإِسْلامِ أَدْرَكُوا هُمْ وَأَبْنَاؤُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ إِلا هَؤُلاءِ الأَرْبَعَةُ: أَبُو قحافة، وابنه أبو بكر، وابنه عبد الرحمن بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنُهُ أَبُو عَتِيقِ بْنُ عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي قُحَافَةَ. قال عَبْد الرَّحْمَنِ بْن شيبة: واسم أبى عتيق محمد."
ترجمہ :
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ پانے کا شرف ملا ہے انھیں، ان کے والد، ان کے دادا، اور ان کے دادا(ابوبکر) کے والد ابوقُحافہ، اِن چاروں کو۔ یہ فضیلت ان حضرات کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ یہ امام بخاری نے ذکر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: مجھ سے عبد الرحمن بن شیبہ نے بیان کیا، وہ محمد بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن قاسم سے روایت کرتے ہیں کہ موسی بن عقبہ(امامِ مغازی) نے کہا : اسلام میں ہمیں کسی اور کے بارے میں یہ علم نہیں کہ انھوں نے اور ان کی اولادوں نے (مسلسل) چار لوگوں تک صحابیت کا شرف پایا ہو سواے اِن چار حضرات کے :
ابو قُحافہ، ان کے بیٹے ابو بکر، ان کے بیٹے عبد الرحمن بن أبی بکر، اور ان کے بیٹے ابو عتیق بن عبد الرحمن بن أبی بکر بن ابی قُحافَہ۔
عبد الرحمن بن شیبہ کہتے ہیں کہ ابو عتیق کا نام محمد ہے۔ (الاستیعاب)
⬅️ امام ابو نُعَیم اصفہانی (متوفی 430ھ) اپنی کتاب "معرفۃ الصحابہ" میں لکھتے ہیں:
وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: " لَا نَعْلَمُ أَرْبَعَةً أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ وَأَبْنَاؤُهُمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةَ: أَبُو قُحَافَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَأَبُو عَتِيقِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَاسْمُ أَبِي عَتِيقٍ مُحَمَّدٌ "
(نوٹ : اس عبارت کا بھی تقریبا وہی مفہوم ہے جو الاستیعاب والی عبارت کا ہے، اس لیے ترجمے کی ضرورت نہیں)
تحریر : نثار مصباحی
رکن: روشن مستقبل، دہلی
سيدنا ابو بكر صديقِ اَكبر، رضی اللہ تعالی عنہ اکیلے ایسے صحابی ہیں جن کے نسب و نسل میں مسلسل چار پشتیں "صحابی" ہیں۔
ان چاروں حضرات کے نام ایک ساتھ اس طرح ہیں:
"محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر صدیق بن أبی قحافہ عثمان" (رضی اللہ تعالی عنہم)
اس اِجمال کی تفصیل یہ ہے کہ :
۱- سیدنا صدیقِ اکبر کے والد گرامی : سیدنا ابو قُحافَہ عثمان رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔
۲- سیدنا ابو بکر خود صحابی، بلکہ علی الاِطلاق "أفضل الصحابۃ"، اور انبیاء و مرسلین(رُسُلِ بشر و رُسُلِ ملائکہ) کے بعد مطلقاً تمام انس و جن اور فرشتوں سے "اَفضَل" ہیں۔
۳- سیدنا ابو بکر کے بیٹے سیدنا "عبد الرحمن" بھی صحابی ہیں۔
اور
۴- سیدنا عبد الرحمن بن أبی بکر کے بیٹے سیدنا "محمد بن عبدالرحمن" بھی صحابی ہیں۔
یعنی حضرت ابو بکر صدیق کے والد صحابی، وہ خود صحابی، ان کے بیٹے صحابی، اور ان کے ایک پوتے بھی صحابی ہین۔ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
⬅️ امام حافظ ابن حِبان (متوفی 354ھ) "کتاب الثقات" میں حضرت محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر کے تعارف میں لکھتے ہیں:
"هَؤُلَاء الْأَرْبَعَة فِي نسق وَاحِد لَهُم من النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَة : أَبُو قُحَافَة، وَابْنه أَبُو بكر، وَابْنه عَبْد الرَّحْمَن بْن أبي بكر، وَابْنه أَبُو عَتيق مُحَمَّد بْن عَبْد الرَّحْمَن۔ وَلَيْسَ هَذَا لأحد من هَذِه الْأمة غَيرهم" (کتاب الثقات، ابن حِبّان)
ترجمہ :
ایک ہی ترتیب میں یہ چار حضرات ایسے ہیں جنھیں دیدارِ رسول(صحابیت) کا شرف ملا ہے :
۱-ابو قُحافَہ، ۲-ان کے بیٹے ابو بکر، ۳-ان کے بیٹے عبد الرحمن بن ابی بکر، اور پھر ۴-ان کے بیٹے ابوعتیق محمد بن عبد الرحمن۔
یہ شرف اس امت میں ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ (کتاب الثقات)
⬅️ امام ابن عبد البر القرطبي رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 463ھ) تذکارِ صحابہ کی اپنی معروف کتاب "الاستیعاب" میں حضرت محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر کے تعارف میں لکھتے ہیں:
"أدرك النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وأبوه وجده وأبو جده أَبُو قحافة أربعتهم، وليست هَذِهِ المنقبة لغيرهم، ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا فِي الإِسْلامِ أَدْرَكُوا هُمْ وَأَبْنَاؤُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ إِلا هَؤُلاءِ الأَرْبَعَةُ: أَبُو قحافة، وابنه أبو بكر، وابنه عبد الرحمن بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنُهُ أَبُو عَتِيقِ بْنُ عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي قُحَافَةَ. قال عَبْد الرَّحْمَنِ بْن شيبة: واسم أبى عتيق محمد."
ترجمہ :
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ پانے کا شرف ملا ہے انھیں، ان کے والد، ان کے دادا، اور ان کے دادا(ابوبکر) کے والد ابوقُحافہ، اِن چاروں کو۔ یہ فضیلت ان حضرات کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ یہ امام بخاری نے ذکر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: مجھ سے عبد الرحمن بن شیبہ نے بیان کیا، وہ محمد بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن قاسم سے روایت کرتے ہیں کہ موسی بن عقبہ(امامِ مغازی) نے کہا : اسلام میں ہمیں کسی اور کے بارے میں یہ علم نہیں کہ انھوں نے اور ان کی اولادوں نے (مسلسل) چار لوگوں تک صحابیت کا شرف پایا ہو سواے اِن چار حضرات کے :
ابو قُحافہ، ان کے بیٹے ابو بکر، ان کے بیٹے عبد الرحمن بن أبی بکر، اور ان کے بیٹے ابو عتیق بن عبد الرحمن بن أبی بکر بن ابی قُحافَہ۔
عبد الرحمن بن شیبہ کہتے ہیں کہ ابو عتیق کا نام محمد ہے۔ (الاستیعاب)
⬅️ امام ابو نُعَیم اصفہانی (متوفی 430ھ) اپنی کتاب "معرفۃ الصحابہ" میں لکھتے ہیں:
وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: " لَا نَعْلَمُ أَرْبَعَةً أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ وَأَبْنَاؤُهُمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةَ: أَبُو قُحَافَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَأَبُو عَتِيقِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَاسْمُ أَبِي عَتِيقٍ مُحَمَّدٌ "
(نوٹ : اس عبارت کا بھی تقریبا وہی مفہوم ہے جو الاستیعاب والی عبارت کا ہے، اس لیے ترجمے کی ضرورت نہیں)
⬅️ امام ابن اثیر جزری "اُسْدُ الغابہ" میں لکھتے ہیں:
مُحَمَّد بْن عبد الرحمن بْن أَبِي بكر الصديق -واسمه عَبْد اللہ بْن عثمان- وهو المعروف بأبي عتيق القرشي التيمي، أدرك رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وأبوه: عبد الرحمن، وجده أَبُو بكر الصديق، وجد أبيه أَبُو قحافة لكلهم صحبة، وليست هَذِه المنقبة لغيرهم۔
ترجمہ :
محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر صدیق، قرشی تیمی۔ ابو بکر صدیق کا نام "عبد اللہ بن عثمان" ہے۔
یہ (یعنی محمد بن عبدالرحمن) "ابو عتیق"(کنیت) کے ساتھ مشہور ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ یہ خود، ان کے والد عبد الرحمن، ان کے دادا ابو بکر صدیق، اور ان کے والد کے دادا ابو قُحافَہ، یہ سب کے سب صحابی ہیں۔ یہ فضیلت اِن حضرات کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔
(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ)
خلاصۂ کلام یہ کہ مسلسل چار پشتوں کا مرتبۂ صحابیت پر فائز ہونا ایک ایسا وصفِ کمال ہے جو صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کا خاصہ ہے۔ ان کے سوا کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہیں۔ (ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء.)
((نوٹ : واضح رہے کہ محمد بن عبد الرحمن کی کنیت "ابو عتیق" ہے۔ یہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے ہیں۔ یعنی عبد الرحمن بن ابی بکر کے بیٹے ہیں۔ جب کہ "محمد بن ابی بکر" بلاواسطہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے ہیں، جو سفرِ حجۃ الوداع کے موقعے پر ۲۵ ذی قعدہ ۱۰ھ کو ذوالحلیفہ کے پاس پیدا ہوئے۔ ان کا نام بھی "محمد" ہے، اس لیے بعض لوگوں کو دونوں میں اشتباہ ہو سکتا ہے۔))
بعض لوگوں نے خانوادۂ صدیقِ اکبر کی چار پشتوں کی صحابیت اِس طرح بھی بیان کی ہے:
۱- حضرت ابو بکر کے والد حضرت ابو قُحافَہ،
۲- حضرت ابو بکر صدیقِ اکبر،
۳- حضرت اَسما بنت ابو بکر
۴- حضرت اسما کے بیٹے اور صدیقِ اکبر کے نواسے : سیدنا عبد اللہ بن زُبیر رضی اللہ تعالی عنہما۔
یقینا یہ بیان بھی ایک حقیقت ہے اور یہ بھی خانوادۂ صدیقِ اکبر کی ایک خاصیت ہے۔ بلکہ یہ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ جہاں ایک طرف آپ کے والد صحابی ہیں وہیں دوسری طرف آپ کے بیٹے اور پوتے کے صحابی ہونے کے ساتھ آپ کی بیٹی اور آپ کے نواسے بھی صحابیت کے درجے پر سرفراز ہیں۔
یقینا یہ "آلِ ابو بکر" پر ربِ عظیم کا خاص فضل ہے۔
#نثارمصباحی (خلیل آباد)
۲۲ جمادی الآخرۃ ۱۴۴۲ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/859897764580743/
مُحَمَّد بْن عبد الرحمن بْن أَبِي بكر الصديق -واسمه عَبْد اللہ بْن عثمان- وهو المعروف بأبي عتيق القرشي التيمي، أدرك رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وأبوه: عبد الرحمن، وجده أَبُو بكر الصديق، وجد أبيه أَبُو قحافة لكلهم صحبة، وليست هَذِه المنقبة لغيرهم۔
ترجمہ :
محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر صدیق، قرشی تیمی۔ ابو بکر صدیق کا نام "عبد اللہ بن عثمان" ہے۔
یہ (یعنی محمد بن عبدالرحمن) "ابو عتیق"(کنیت) کے ساتھ مشہور ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ یہ خود، ان کے والد عبد الرحمن، ان کے دادا ابو بکر صدیق، اور ان کے والد کے دادا ابو قُحافَہ، یہ سب کے سب صحابی ہیں۔ یہ فضیلت اِن حضرات کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔
(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ)
خلاصۂ کلام یہ کہ مسلسل چار پشتوں کا مرتبۂ صحابیت پر فائز ہونا ایک ایسا وصفِ کمال ہے جو صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کا خاصہ ہے۔ ان کے سوا کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہیں۔ (ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء.)
((نوٹ : واضح رہے کہ محمد بن عبد الرحمن کی کنیت "ابو عتیق" ہے۔ یہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے ہیں۔ یعنی عبد الرحمن بن ابی بکر کے بیٹے ہیں۔ جب کہ "محمد بن ابی بکر" بلاواسطہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے ہیں، جو سفرِ حجۃ الوداع کے موقعے پر ۲۵ ذی قعدہ ۱۰ھ کو ذوالحلیفہ کے پاس پیدا ہوئے۔ ان کا نام بھی "محمد" ہے، اس لیے بعض لوگوں کو دونوں میں اشتباہ ہو سکتا ہے۔))
بعض لوگوں نے خانوادۂ صدیقِ اکبر کی چار پشتوں کی صحابیت اِس طرح بھی بیان کی ہے:
۱- حضرت ابو بکر کے والد حضرت ابو قُحافَہ،
۲- حضرت ابو بکر صدیقِ اکبر،
۳- حضرت اَسما بنت ابو بکر
۴- حضرت اسما کے بیٹے اور صدیقِ اکبر کے نواسے : سیدنا عبد اللہ بن زُبیر رضی اللہ تعالی عنہما۔
یقینا یہ بیان بھی ایک حقیقت ہے اور یہ بھی خانوادۂ صدیقِ اکبر کی ایک خاصیت ہے۔ بلکہ یہ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ جہاں ایک طرف آپ کے والد صحابی ہیں وہیں دوسری طرف آپ کے بیٹے اور پوتے کے صحابی ہونے کے ساتھ آپ کی بیٹی اور آپ کے نواسے بھی صحابیت کے درجے پر سرفراز ہیں۔
یقینا یہ "آلِ ابو بکر" پر ربِ عظیم کا خاص فضل ہے۔
#نثارمصباحی (خلیل آباد)
۲۲ جمادی الآخرۃ ۱۴۴۲ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/859897764580743/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اگر ایک جگہ کچھ لڑکیاں بیٹھی ہوں
اور کسی کا بھائی وہاں سے گزرے
تو کوئی ایک لڑکی اچانک بول اٹھتی ہے
’’شازیہ ! تمہارا بھائی کتنا ہینڈ سم ہے‘
یہ تو ایک دم ہیرو ہے‘‘۔
لیکن اگر ایک جگہ کچھ لڑکے بیٹھے ہوں
اور کسی کی بہن وہاں سے گذرے
تو کیا کوئی لڑکا ایسا جملہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے؟؟؟
نہیں کر سکتا ناں!
اس لیے کہ سوسائٹی نے طے کردیا ہے
کہ ایسے جملے صرف لڑکیاں کہہ سکیں گی‘ لڑکے نہیں
میں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ
ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی
مذہب سے کہیں زیادہ طاقتور سوسائٹی ہوچکی ہے۔
دوسری شادی کرنا کوئی جرم نہیں‘
لیکن بیوی جتنی مرضی مذہبی ہو,
وہ ہر گز ہرگز اِس چیز کو تسلیم نہیں کرتی
اور سوتن کے نام پر خونخوار ہوجاتی ہے۔
اسی طرح مذہب میں شادی کے لیے بالغ مرد و عورت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں‘
90 سال کا بابا20 سال کی لڑکی سے شادی کرسکتاہے
اور 80 سال کی مائی کسی 25 سالہ جوان لڑکے سے شادی کر سکتی ہے‘
لیکن دیکھ لیجئے‘
ایسا جب بھی ہوتاہے
سوسائٹی میں طنز کے تیر چلنا شروع ہوجاتے ہیں
حالانکہ مذہب میں ’’بے جوڑشادی‘‘ کا کوئی تصور نہیں‘
اگر عورت اور مرد بالغ ہیں تو پھر دونوں کی عمروں میں 100 سال کا فرق ہی کیوں نہ ہو‘
وہ شادی کر سکتے ہیں۔
ہماری سوسائٹی میں تو لوگ جوان اولاد کے ہوتے ہوئے مزید اولاد پیدا کرنے سے بھی شرماتے ہیں
کیونکہ سوسائٹی اسے اچھا نہیں سمجھتی۔
مستحق کا زکواۃ لینا اتنا ہی ضروری ہے
جتنا صاحبِ حیثیت کا زکواۃ ادا کرنا‘
لیکن دیکھ لیجئے‘
زکواۃ لینا گالی بن گیا ہے‘
مجبور سے مجبور شریف آدمی بھی ادھارلینا گوارا کر لیتاہے‘
زکواۃ نہیں لیتا ‘
حالانکہ ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی جو شخص زکواۃ نہیں لیتا
وہ بھی ایک طرح سے گنہگار ہی ٹھہرتاہے
کیونکہ اگر وہ زکواۃ نہیں لے گا
تو کوئی دوسرا غیر مستحق یہ رقم لے اڑے گا
۔اصل میں سوسائٹی اپنے آپ میں بڑی ظالم چیز ہے‘
یہ معاشرتی معاملات کو دیکھتے ہوئے اپنے ضابطے خود طے کرلیتی ہے‘
یہ مذہب کو مانتی تو ہے
لیکن صرف عبادات کی حد تک‘
عملی معاملات میں یہ صرف اپنے اصولوں کو ترجیح دیتی ہے۔
پسند کی شادی مذہب میں کوئی جرم نہیں‘
لیکن ہماری سوسائٹی میں یہ اب بھی کسی حد تک ناپسندیدہ چیز ہی سمجھی جاتی ہے۔
مذہب کہتا ہے کہ بچے بالغ ہوجائیں تو جلد سے جلد ان کی شادی کردو‘
لیکن سوسائٹی کہتی ہے کہ صرف بالغ نہیں‘ بلکہ جب اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں تب کرو چاہے جب تک 35 سال تک ہی کیوں نہ پہنچ جائیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت کم ایسے لڑکے لڑکیاں ہیں جو 18 سال کی عمر کو پہنچتے ہی شادی شدہ ہوجاتے ہیں۔
مذہب کہتا ہے کہ اولاد کو حرام کے لقمے سے بچاؤ‘
سوسائٹی کہتی ہے کہ نہیں‘ اولاد کے لیے جوکچھ ہوسکتا ہے کر گذرو ‘
مذہب ذات برادری کو محض پہچان کا ذریعہ قرار دیتا ہے‘
لیکن سوسائٹی اِسے باعثِ فخر قرار دیتی ہے۔
کبھی غور کیجئے گا‘
سوسائٹی کے اصول کوئی نہیں بناتا‘
یہ اپنا آئین خود تحریر کرتی ہے
اور لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں
سوسائٹی نے لوگوں کے ذہن میں یہ بات بھی ڈال دی ھے کہ مذھب کے بغیر رھا جاسکتا ھے لیکن سوسائٹی کے بغیر نہیں
لیکن لوگ یہ بھول گئے ھیں کہ سوسائٹی کے بنا رھا جاسکتا ھے مذہب کے بغیر نہیں
لیکن فی زمانہ ھم مذھب کو اپنی مرضی سے چلانا چاھتے ھیں اور سوسائٹی سے رشتہ توڑنے کو تیار نہیں۔
مذھب میں اپنی طرف سے پیدا کی گئی مرضی اور سوسائٹی کے اسی دوغلے معیار نے ہمارے قول و فعل میں عجیب سا تضاد بھر دیا ہے‘
دین و دنیا کو اپنی چالاکی سے رام کرتے کرتے ہم عجیب سی مخلوق بن گئے ہیں
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2930160813929893&id=100008080090753
اور کسی کا بھائی وہاں سے گزرے
تو کوئی ایک لڑکی اچانک بول اٹھتی ہے
’’شازیہ ! تمہارا بھائی کتنا ہینڈ سم ہے‘
یہ تو ایک دم ہیرو ہے‘‘۔
لیکن اگر ایک جگہ کچھ لڑکے بیٹھے ہوں
اور کسی کی بہن وہاں سے گذرے
تو کیا کوئی لڑکا ایسا جملہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے؟؟؟
نہیں کر سکتا ناں!
اس لیے کہ سوسائٹی نے طے کردیا ہے
کہ ایسے جملے صرف لڑکیاں کہہ سکیں گی‘ لڑکے نہیں
میں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ
ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی
مذہب سے کہیں زیادہ طاقتور سوسائٹی ہوچکی ہے۔
دوسری شادی کرنا کوئی جرم نہیں‘
لیکن بیوی جتنی مرضی مذہبی ہو,
وہ ہر گز ہرگز اِس چیز کو تسلیم نہیں کرتی
اور سوتن کے نام پر خونخوار ہوجاتی ہے۔
اسی طرح مذہب میں شادی کے لیے بالغ مرد و عورت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں‘
90 سال کا بابا20 سال کی لڑکی سے شادی کرسکتاہے
اور 80 سال کی مائی کسی 25 سالہ جوان لڑکے سے شادی کر سکتی ہے‘
لیکن دیکھ لیجئے‘
ایسا جب بھی ہوتاہے
سوسائٹی میں طنز کے تیر چلنا شروع ہوجاتے ہیں
حالانکہ مذہب میں ’’بے جوڑشادی‘‘ کا کوئی تصور نہیں‘
اگر عورت اور مرد بالغ ہیں تو پھر دونوں کی عمروں میں 100 سال کا فرق ہی کیوں نہ ہو‘
وہ شادی کر سکتے ہیں۔
ہماری سوسائٹی میں تو لوگ جوان اولاد کے ہوتے ہوئے مزید اولاد پیدا کرنے سے بھی شرماتے ہیں
کیونکہ سوسائٹی اسے اچھا نہیں سمجھتی۔
مستحق کا زکواۃ لینا اتنا ہی ضروری ہے
جتنا صاحبِ حیثیت کا زکواۃ ادا کرنا‘
لیکن دیکھ لیجئے‘
زکواۃ لینا گالی بن گیا ہے‘
مجبور سے مجبور شریف آدمی بھی ادھارلینا گوارا کر لیتاہے‘
زکواۃ نہیں لیتا ‘
حالانکہ ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی جو شخص زکواۃ نہیں لیتا
وہ بھی ایک طرح سے گنہگار ہی ٹھہرتاہے
کیونکہ اگر وہ زکواۃ نہیں لے گا
تو کوئی دوسرا غیر مستحق یہ رقم لے اڑے گا
۔اصل میں سوسائٹی اپنے آپ میں بڑی ظالم چیز ہے‘
یہ معاشرتی معاملات کو دیکھتے ہوئے اپنے ضابطے خود طے کرلیتی ہے‘
یہ مذہب کو مانتی تو ہے
لیکن صرف عبادات کی حد تک‘
عملی معاملات میں یہ صرف اپنے اصولوں کو ترجیح دیتی ہے۔
پسند کی شادی مذہب میں کوئی جرم نہیں‘
لیکن ہماری سوسائٹی میں یہ اب بھی کسی حد تک ناپسندیدہ چیز ہی سمجھی جاتی ہے۔
مذہب کہتا ہے کہ بچے بالغ ہوجائیں تو جلد سے جلد ان کی شادی کردو‘
لیکن سوسائٹی کہتی ہے کہ صرف بالغ نہیں‘ بلکہ جب اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں تب کرو چاہے جب تک 35 سال تک ہی کیوں نہ پہنچ جائیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت کم ایسے لڑکے لڑکیاں ہیں جو 18 سال کی عمر کو پہنچتے ہی شادی شدہ ہوجاتے ہیں۔
مذہب کہتا ہے کہ اولاد کو حرام کے لقمے سے بچاؤ‘
سوسائٹی کہتی ہے کہ نہیں‘ اولاد کے لیے جوکچھ ہوسکتا ہے کر گذرو ‘
مذہب ذات برادری کو محض پہچان کا ذریعہ قرار دیتا ہے‘
لیکن سوسائٹی اِسے باعثِ فخر قرار دیتی ہے۔
کبھی غور کیجئے گا‘
سوسائٹی کے اصول کوئی نہیں بناتا‘
یہ اپنا آئین خود تحریر کرتی ہے
اور لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں
سوسائٹی نے لوگوں کے ذہن میں یہ بات بھی ڈال دی ھے کہ مذھب کے بغیر رھا جاسکتا ھے لیکن سوسائٹی کے بغیر نہیں
لیکن لوگ یہ بھول گئے ھیں کہ سوسائٹی کے بنا رھا جاسکتا ھے مذہب کے بغیر نہیں
لیکن فی زمانہ ھم مذھب کو اپنی مرضی سے چلانا چاھتے ھیں اور سوسائٹی سے رشتہ توڑنے کو تیار نہیں۔
مذھب میں اپنی طرف سے پیدا کی گئی مرضی اور سوسائٹی کے اسی دوغلے معیار نے ہمارے قول و فعل میں عجیب سا تضاد بھر دیا ہے‘
دین و دنیا کو اپنی چالاکی سے رام کرتے کرتے ہم عجیب سی مخلوق بن گئے ہیں
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2930160813929893&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سُنّی مسلمانوں کے خلاف شرک و کفر کے نصاب*
اسلامیات کی آڑ میں وہابی فکر کا اسکولوں میں داخلہ افسوس ناک!
اہلِ سُنّت کا ہر عقیدہ کتاب و سُنّت سے ثابت ہے.... نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت، شان، رفعت اور وجہِ شان پہلو سے ایک طبقہ انکار کرتا ہے..... وہ طبقہ قرآن مجید کی ان آیات کو فراموش کر دیتا ہے کہ:
عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٓ ٖ اَحَدًا o
اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٝ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاo
"غیب کا جاننے والا وہی ہے، سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو-"
(سورۃ جن:26-27، ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی)
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں (سورۃ تکویر:24)
ان آیاتِ قرآنی کے انکار پر مبنی مضمون ہمارے طلبہ کو پڑھایا جا رہا ہے....جن طلبہ کے اُجلے ذہنوں میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت کا نقش جمانا تھا؛ محبتوں کی سوغات دینی تھی؛ وہاں عظمتوں کے انکار کی فکر بٹھائی جا رہی ہے.... اور یہ سب مسلم اسٹاف، مسلم ٹیچر، مسلم چئیرمین کے سائے میں ہو رہا ہے..... دیکھو! کیسی سخت عبارت ہے.... جسے اسکولوں میں زبردستی داخل کر دیا گیا ہے:
"کسی بھی مخلوق کو مدد کے لیے پکارنا اور ان کی طرف علمِ غیب کی نسبت کرنا یعنی یہ سمجھنا کہ ان کو غیب کا حال معلوم ہوتا ہے شرک و کفر ہے-"
(اسلامیات نویں، سبق نمبر 5، صفحہ نمبر 17، بھٹکل، مضمون بعنوان یہ بھی شرک ہے)
مسلمانو! دیکھا کیسے مسلمانوں کو بے دھڑک مشرک کہہ دیا..... کفر کا فتویٰ جَڑ دیا......دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ؛ کیا ہم اللہ کی عطا سے اس کے محبوب جانِ مخلوقِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عالمِ غیب نہیں مانتے؟..... بلاشبہ مانتے ہیں.... کیوں کہ یہی قرآن مجید کا عقیدہ ہے..... یہی بزرگوں کا عقیدہ ہے:
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
(اعلیٰ حضرت)
مسلمانو! کیا یہی سبق سکھانے کے لیے بچوں/بچیوں کو اسکول بھیجتے ہو؟...... کیسے ہیں وہ اساتذہ جو بچوں کو یہ زہر پلا رہے ہیں.... شاید ایسی ہی تعلیمات نے عالَم میں اسلام کی منفی شبیہ پیش کی..... اور مہذب و عظیم دین کو بدنام کیا.... اس طرح کی تعلیم تو بانی وہابیت ابن عبدالوہاب نجدی کی ہے..... جنھوں نے دُنیا بھر کے مسلمانوں کو مشرک قرار دیا.... مسلمانوں سے قتال کیا.... جن کی تعلیمات میں تشدد ہے.....جنھوں نے مسلمانوں پر دہشت گردی کی..... ان کے نزدیک حرمین کے مسلمان بھی مشرک تھے.....سعودی مفتی عبدالعزیز بن باز لکھتے ہیں:
’’اہل حرمین اپنے سابقہ موقف مثلاً گنبدوں کی تعظیم، قبروں پر تعمیر، قبروں کے پاس شرک کا ارتکاب اور اہل قبر سے فریاد طلبی پر جمے رہے۔‘‘
(محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت، طبع ریاض، ص۴۹)
’’حرمین شریفین اور یمن میں شرک و بدعت… کا رواج جڑ پکڑ گیا تھا۔‘‘
(حوالہ سابق ص۲۷)
دیکھا! اہلِ حرمین، اہلِ یمن جن کی گٹھی میں ایمان ہے... جن کی زندگیاں اسلام کے لیے وقف تھیں؛ انھیں مشرک کہہ ڈالا.... پھر ان مسلمانوں سے خود ساختہ "جہاد" کیا.....مفتی عبدالعزیز بن باز ’’محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’تن من دھن کی بازی لگا دی۔‘‘(ص۳۰)… ’’دعوت جاری رکھی اور پھر ’’جہاد‘‘ شروع کیا۔‘‘ (ص۳۷)…’’ ۱۱۵۸ھ میں زبان و قلم اور دلیل و برہان کے ساتھ ہی جہاد بالسیف کا آغاز ہو گیا، اور پھر جہاد بالسیف سے دعوت کا کام بدستور جاری رہا۔‘‘(ص۴۳)… ’’تقریباً پچاس سال تک جہاد‘‘ (ص۴۶)(یعنی پچاس سال تک مسلمانوں کے لہو سے ہولی کھیلتے رہے۔)
مسلمانوں کو مشرک سمجھ کر کیے جانے والے تشدد کو "جہاد" نہیں "دہشت گردی" کہا جائے گا.....
آج مسلمانوں کو مشرک قرار دینے والا زہر ننھے ذہنوں میں بِٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے.... اس بابت ہم اسکولوں کی انتظامیہ سے دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ وہ اپنے یہاں ٹٹولیں کہ اسلامیات کے نام پر کہیں "شرک" کے الزام تو نہیں پلائے جا رہے.... کہیں مسلکی عصبیت کو عقیدہ بنا کر عقیدتوں کا استحصال تو نہیں ہو رہا؟.....اہلِ سُنّت کو مالیگاؤں کے ماحول کا جائزہ لینا چاہیے... اور ایسے نصاب سے تعلیمی معاشرے کو پاک کرنا چاہیے..... تا کہ امن و محبت کی پاکیزہ فضا قائم ہو..... نفرتیں دور ہوں.... اور وفاداریِ بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اقبالی پیغام یاد رہے:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
فکر و نظر:
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
***
٦ فروری ٢٠١٩ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2930160940596547&id=100008080090753
اسلامیات کی آڑ میں وہابی فکر کا اسکولوں میں داخلہ افسوس ناک!
اہلِ سُنّت کا ہر عقیدہ کتاب و سُنّت سے ثابت ہے.... نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت، شان، رفعت اور وجہِ شان پہلو سے ایک طبقہ انکار کرتا ہے..... وہ طبقہ قرآن مجید کی ان آیات کو فراموش کر دیتا ہے کہ:
عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٓ ٖ اَحَدًا o
اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٝ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاo
"غیب کا جاننے والا وہی ہے، سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو-"
(سورۃ جن:26-27، ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی)
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں (سورۃ تکویر:24)
ان آیاتِ قرآنی کے انکار پر مبنی مضمون ہمارے طلبہ کو پڑھایا جا رہا ہے....جن طلبہ کے اُجلے ذہنوں میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت کا نقش جمانا تھا؛ محبتوں کی سوغات دینی تھی؛ وہاں عظمتوں کے انکار کی فکر بٹھائی جا رہی ہے.... اور یہ سب مسلم اسٹاف، مسلم ٹیچر، مسلم چئیرمین کے سائے میں ہو رہا ہے..... دیکھو! کیسی سخت عبارت ہے.... جسے اسکولوں میں زبردستی داخل کر دیا گیا ہے:
"کسی بھی مخلوق کو مدد کے لیے پکارنا اور ان کی طرف علمِ غیب کی نسبت کرنا یعنی یہ سمجھنا کہ ان کو غیب کا حال معلوم ہوتا ہے شرک و کفر ہے-"
(اسلامیات نویں، سبق نمبر 5، صفحہ نمبر 17، بھٹکل، مضمون بعنوان یہ بھی شرک ہے)
مسلمانو! دیکھا کیسے مسلمانوں کو بے دھڑک مشرک کہہ دیا..... کفر کا فتویٰ جَڑ دیا......دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ؛ کیا ہم اللہ کی عطا سے اس کے محبوب جانِ مخلوقِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عالمِ غیب نہیں مانتے؟..... بلاشبہ مانتے ہیں.... کیوں کہ یہی قرآن مجید کا عقیدہ ہے..... یہی بزرگوں کا عقیدہ ہے:
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
(اعلیٰ حضرت)
مسلمانو! کیا یہی سبق سکھانے کے لیے بچوں/بچیوں کو اسکول بھیجتے ہو؟...... کیسے ہیں وہ اساتذہ جو بچوں کو یہ زہر پلا رہے ہیں.... شاید ایسی ہی تعلیمات نے عالَم میں اسلام کی منفی شبیہ پیش کی..... اور مہذب و عظیم دین کو بدنام کیا.... اس طرح کی تعلیم تو بانی وہابیت ابن عبدالوہاب نجدی کی ہے..... جنھوں نے دُنیا بھر کے مسلمانوں کو مشرک قرار دیا.... مسلمانوں سے قتال کیا.... جن کی تعلیمات میں تشدد ہے.....جنھوں نے مسلمانوں پر دہشت گردی کی..... ان کے نزدیک حرمین کے مسلمان بھی مشرک تھے.....سعودی مفتی عبدالعزیز بن باز لکھتے ہیں:
’’اہل حرمین اپنے سابقہ موقف مثلاً گنبدوں کی تعظیم، قبروں پر تعمیر، قبروں کے پاس شرک کا ارتکاب اور اہل قبر سے فریاد طلبی پر جمے رہے۔‘‘
(محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت، طبع ریاض، ص۴۹)
’’حرمین شریفین اور یمن میں شرک و بدعت… کا رواج جڑ پکڑ گیا تھا۔‘‘
(حوالہ سابق ص۲۷)
دیکھا! اہلِ حرمین، اہلِ یمن جن کی گٹھی میں ایمان ہے... جن کی زندگیاں اسلام کے لیے وقف تھیں؛ انھیں مشرک کہہ ڈالا.... پھر ان مسلمانوں سے خود ساختہ "جہاد" کیا.....مفتی عبدالعزیز بن باز ’’محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’تن من دھن کی بازی لگا دی۔‘‘(ص۳۰)… ’’دعوت جاری رکھی اور پھر ’’جہاد‘‘ شروع کیا۔‘‘ (ص۳۷)…’’ ۱۱۵۸ھ میں زبان و قلم اور دلیل و برہان کے ساتھ ہی جہاد بالسیف کا آغاز ہو گیا، اور پھر جہاد بالسیف سے دعوت کا کام بدستور جاری رہا۔‘‘(ص۴۳)… ’’تقریباً پچاس سال تک جہاد‘‘ (ص۴۶)(یعنی پچاس سال تک مسلمانوں کے لہو سے ہولی کھیلتے رہے۔)
مسلمانوں کو مشرک سمجھ کر کیے جانے والے تشدد کو "جہاد" نہیں "دہشت گردی" کہا جائے گا.....
آج مسلمانوں کو مشرک قرار دینے والا زہر ننھے ذہنوں میں بِٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے.... اس بابت ہم اسکولوں کی انتظامیہ سے دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ وہ اپنے یہاں ٹٹولیں کہ اسلامیات کے نام پر کہیں "شرک" کے الزام تو نہیں پلائے جا رہے.... کہیں مسلکی عصبیت کو عقیدہ بنا کر عقیدتوں کا استحصال تو نہیں ہو رہا؟.....اہلِ سُنّت کو مالیگاؤں کے ماحول کا جائزہ لینا چاہیے... اور ایسے نصاب سے تعلیمی معاشرے کو پاک کرنا چاہیے..... تا کہ امن و محبت کی پاکیزہ فضا قائم ہو..... نفرتیں دور ہوں.... اور وفاداریِ بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اقبالی پیغام یاد رہے:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
فکر و نظر:
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
***
٦ فروری ٢٠١٩ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2930160940596547&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بحرِ مُتَقارِب میں لکھی گئی یہ منقبتِ صدیق اکبر پتا نہیں کس کی ہے ، لیکن ہے کمال ۔
ہوسکے تو اسے ایک بار پڑھ لیجیے ۔
جب ہم پیارے صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکرِ خیر کرتے ہیں تو حضور خوش ہوتے ہیں ، اور جب آپ ﷺ خوش ہوتے ہیں تو خداے پاک ﷻ بھی خوش ہوتا ہے ۔
میں نے تو اس منقبت کو بار بار پڑھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ایک ایک شعر سمجھ کر پڑھا ، پھر ایک ایک شعر کی تقطیع کی ، پھر آپ کی آسانی کے لیے حرکات ( زبر زیر پیش ) کا اہتمام کیا ؛ کیوں کہ آج کل لوگ الفاظ کو بہت غلط پڑھتے ہیں ، بعض دفعہ تو ایسا غلط پڑھتے ہیں کہ معنیٰ ہی بدل جاتا ہے ۔
مثلاً ایک لفظ انبیا ہی لے لیجیے:
انبیا نبی کی جمع ہے ، جس کا درست تلفظ ب کے نیچے زیر کے ساتھ ہے ، یعنی: اَنْبِیَا ۔
اگر اس کی ب کو ساکن کر کے ( اَنبْیا ) پڑھ دیا جائے تو اس کا معنی کچا آم بن جائے گا ۔
پھر شعر میں تو درست تلفظ بہت زیادہ ملحوظ رہنا چاہیے ، یہاں اگر ساکن حرف کو متحرک کردیں گے اور متحرک کو ساکن کردیں گے تو شعر ہی غلط ہوجائے گا ۔
🌴منقبت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ 🌴
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣَﺪَﺩﮔﺎﺭ ، ﭘﮩﻼ ﺻﺤﺎﺑﯽ
ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗَﺪَﻡ ﭘﺮ ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ
ﻭﮦ ﺍﻓﻀﻞ ﺑَﺸَﺮ ﺑﻌﺪ ﺍَﺯ ﺍَﻧﺒِﯿﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺻﺪﺍﻗﺖ ، ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﻭَﻓﺎ ﮨﮯ
صحابی وہ ایسا ، ﺍِﻣﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻋﻠﯽٰ
ﻣﺤﻤﺪ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺩﻡ ﻭﻓﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺻِﺪِّﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ کہ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟَﻘَﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋَﺮَﺏ ﮨﮯ
ﺑَﺸَﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﻣِﻌﯿﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮ ﺍ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﺍُﻭﻧﭽﺎ ﻭﮦ ﻣِﯿﻨﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮﺍ
ﭼَﭩﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻗَﺪَﻡ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﺍ ایک ﺑﺎﺏِ ﺣَﺮَﻡ ﺗﮭﺎ
ﺧُﺪﺍ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ، ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ
کہیں ﻗُﺪﺳﯽ ﺁﻣﯿﻦ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ
ﺯمیں ﭘﺮ ﻭﮦ ﻋﺮﺵِ ﺑَﺮﯾﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧِﺮﺍﻻ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺟُﺪﺍ ﮨﮯ
ﺩُﻋﺎ ﮐﮯ لیے ﻭﮦ ﺍَﮔَﺮ ﻟَﺐ ﮨِﻼ ﺩﮮ
ﺧُﺪﺍ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﻟُﭩﺎ ﺩﮮ
ﻭﮨﯽ ’’ ﺛﺎﻧِﯽَ ﺍﺛْﻨَﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﮨﮯ ﻣُﺨﺎﻃَﺐ
ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ لیے ﮨﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﻣَﺮﺍﺗِﺐ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ؟ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ !
ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ؟ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ !
ﺭِﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻗَﺪْﻣﻮﮞ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﻭﮦ ﻻ ﮐﺮ
ﭼﻠﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ
ﺑَﺠُﺰ ﺍَﻧﺒﯿﺎ ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ
ﻭﮨﯽ ﺻﺮﻑ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ، ﻭﮨﯽ ﮨﮯ !
ﮐﻮﺋﯽ ﺍُﻣَّﺘﯽ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺘﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨَﻤﺴَﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ’’ ﺻِﺪِّﯾﻖ ‘‘ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ
ﺩﯾﮯ ﮨﯿﮟ ﻣَﮕَﺮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺭﺗﺒﮯ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺧُﺪﺍ ﺳﮯ ﺩُﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﻣُﺼﻄﻔﯽٰ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﭘﺮ
ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ، ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣِﺮﺍ ﮨﺮ ﻧَﻔَﺲ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﻟَﻮﭨﻮﮞ ، ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺁﺅﮞ
ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ ، ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﮐﺮِ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﮨﮯ
ﻭﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﻢِ ﮔَﺮﺍﻣﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺳَﻤﻨﺪﺭ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ
ﻭﮦ ﻏﻢ ﺧﻮﺍﺭ ﭘﮩﻼ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ
ﻧﺒﯽ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮨﭩﺎﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻧﺒﯽ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯿﮟ ﮨﮯ
ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﯽ ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ
ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ، ﺑﭽﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ
ﻭﮦ ﺑﺎﺭِﺧِﻼﻓﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ، ﺷُﺠﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺍِﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ
ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﻓِﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺣﯿﺎﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﻓَﻘَﻂ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣُﺠﺎہِد ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﮨﮯ ﻏﺎﺯﯼ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻧﻤﺎﺯﯼ
ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﭼﺮﺍﻍِ ﻭﻓﺎ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ
ﺣﺒﯿﺐِ ﺣﺒﯿﺐِ ﺧﺪﺍ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ
ﺗِﺮﺍ ﺛﺎﻧﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﺭﮨﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﻭﮦ ﻓَﻮﻻﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﻭﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑُﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﺭِﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺩَﺭ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣُﺤﻤﺪ ﻣُﺤﻤﺪ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﺣُﮑﻢِ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺑﮩﺖ ﺟﺎﮔﻨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻣﻘﺎﻡِ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻧَﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﺍﻋﯽ
ﺑِﻼﺧﻮﻑ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺍُﮌﺍﺋﯽ
ﺧﻼﻓﺖ ﭘﮧ ﺣﻖ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﺛﺎﺑِﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺍِﻃﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﻃﺎﻋﺖ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ
ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻭَﻓﺎ ﮐﺎ ﺳَﻤﻨﺪﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ
ﺗﺠﮭﮯ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺍﮎ ﻣُﻨَﻮَّﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ
ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺑُﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ
ﺗُﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻣﯿﮟ ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ !!
ﻭﮦ ﺻِﺪّﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟَﻘَﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋَﺮَﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣَﺪَﺩﮔﺎﺭ ، ﭘﮩﻼ ﺻَﺤﺎﺑﯽ
ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗَﺪَﻡ پر ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ
✍️لقمان شاہد
6-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3083064561973712&id=100008105947430
ہوسکے تو اسے ایک بار پڑھ لیجیے ۔
جب ہم پیارے صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکرِ خیر کرتے ہیں تو حضور خوش ہوتے ہیں ، اور جب آپ ﷺ خوش ہوتے ہیں تو خداے پاک ﷻ بھی خوش ہوتا ہے ۔
میں نے تو اس منقبت کو بار بار پڑھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ایک ایک شعر سمجھ کر پڑھا ، پھر ایک ایک شعر کی تقطیع کی ، پھر آپ کی آسانی کے لیے حرکات ( زبر زیر پیش ) کا اہتمام کیا ؛ کیوں کہ آج کل لوگ الفاظ کو بہت غلط پڑھتے ہیں ، بعض دفعہ تو ایسا غلط پڑھتے ہیں کہ معنیٰ ہی بدل جاتا ہے ۔
مثلاً ایک لفظ انبیا ہی لے لیجیے:
انبیا نبی کی جمع ہے ، جس کا درست تلفظ ب کے نیچے زیر کے ساتھ ہے ، یعنی: اَنْبِیَا ۔
اگر اس کی ب کو ساکن کر کے ( اَنبْیا ) پڑھ دیا جائے تو اس کا معنی کچا آم بن جائے گا ۔
پھر شعر میں تو درست تلفظ بہت زیادہ ملحوظ رہنا چاہیے ، یہاں اگر ساکن حرف کو متحرک کردیں گے اور متحرک کو ساکن کردیں گے تو شعر ہی غلط ہوجائے گا ۔
🌴منقبت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ 🌴
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣَﺪَﺩﮔﺎﺭ ، ﭘﮩﻼ ﺻﺤﺎﺑﯽ
ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗَﺪَﻡ ﭘﺮ ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ
ﻭﮦ ﺍﻓﻀﻞ ﺑَﺸَﺮ ﺑﻌﺪ ﺍَﺯ ﺍَﻧﺒِﯿﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺻﺪﺍﻗﺖ ، ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﻭَﻓﺎ ﮨﮯ
صحابی وہ ایسا ، ﺍِﻣﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻋﻠﯽٰ
ﻣﺤﻤﺪ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺩﻡ ﻭﻓﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺻِﺪِّﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ کہ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟَﻘَﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋَﺮَﺏ ﮨﮯ
ﺑَﺸَﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﻣِﻌﯿﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮ ﺍ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﺍُﻭﻧﭽﺎ ﻭﮦ ﻣِﯿﻨﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮﺍ
ﭼَﭩﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻗَﺪَﻡ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﺍ ایک ﺑﺎﺏِ ﺣَﺮَﻡ ﺗﮭﺎ
ﺧُﺪﺍ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ، ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ
کہیں ﻗُﺪﺳﯽ ﺁﻣﯿﻦ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ
ﺯمیں ﭘﺮ ﻭﮦ ﻋﺮﺵِ ﺑَﺮﯾﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧِﺮﺍﻻ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺟُﺪﺍ ﮨﮯ
ﺩُﻋﺎ ﮐﮯ لیے ﻭﮦ ﺍَﮔَﺮ ﻟَﺐ ﮨِﻼ ﺩﮮ
ﺧُﺪﺍ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﻟُﭩﺎ ﺩﮮ
ﻭﮨﯽ ’’ ﺛﺎﻧِﯽَ ﺍﺛْﻨَﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﮨﮯ ﻣُﺨﺎﻃَﺐ
ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ لیے ﮨﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﻣَﺮﺍﺗِﺐ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ؟ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ !
ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ؟ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ !
ﺭِﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻗَﺪْﻣﻮﮞ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﻭﮦ ﻻ ﮐﺮ
ﭼﻠﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ
ﺑَﺠُﺰ ﺍَﻧﺒﯿﺎ ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ
ﻭﮨﯽ ﺻﺮﻑ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ، ﻭﮨﯽ ﮨﮯ !
ﮐﻮﺋﯽ ﺍُﻣَّﺘﯽ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺘﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨَﻤﺴَﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ’’ ﺻِﺪِّﯾﻖ ‘‘ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ
ﺩﯾﮯ ﮨﯿﮟ ﻣَﮕَﺮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺭﺗﺒﮯ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺧُﺪﺍ ﺳﮯ ﺩُﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﻣُﺼﻄﻔﯽٰ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﭘﺮ
ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ، ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣِﺮﺍ ﮨﺮ ﻧَﻔَﺲ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﻟَﻮﭨﻮﮞ ، ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺁﺅﮞ
ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ ، ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﮐﺮِ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﮨﮯ
ﻭﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﻢِ ﮔَﺮﺍﻣﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺳَﻤﻨﺪﺭ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ
ﻭﮦ ﻏﻢ ﺧﻮﺍﺭ ﭘﮩﻼ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ
ﻧﺒﯽ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮨﭩﺎﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻧﺒﯽ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯿﮟ ﮨﮯ
ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﯽ ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ
ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ، ﺑﭽﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ
ﻭﮦ ﺑﺎﺭِﺧِﻼﻓﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ، ﺷُﺠﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺍِﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ
ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﻓِﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺣﯿﺎﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﻓَﻘَﻂ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣُﺠﺎہِد ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﮨﮯ ﻏﺎﺯﯼ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻧﻤﺎﺯﯼ
ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﭼﺮﺍﻍِ ﻭﻓﺎ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ
ﺣﺒﯿﺐِ ﺣﺒﯿﺐِ ﺧﺪﺍ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ
ﺗِﺮﺍ ﺛﺎﻧﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﺭﮨﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﻭﮦ ﻓَﻮﻻﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﻭﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑُﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﺭِﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺩَﺭ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣُﺤﻤﺪ ﻣُﺤﻤﺪ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﺣُﮑﻢِ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺑﮩﺖ ﺟﺎﮔﻨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻣﻘﺎﻡِ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻧَﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﺍﻋﯽ
ﺑِﻼﺧﻮﻑ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺍُﮌﺍﺋﯽ
ﺧﻼﻓﺖ ﭘﮧ ﺣﻖ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﺛﺎﺑِﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺍِﻃﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﻃﺎﻋﺖ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ
ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻭَﻓﺎ ﮐﺎ ﺳَﻤﻨﺪﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ
ﺗﺠﮭﮯ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺍﮎ ﻣُﻨَﻮَّﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ
ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺑُﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ
ﺗُﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻣﯿﮟ ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ !!
ﻭﮦ ﺻِﺪّﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟَﻘَﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋَﺮَﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣَﺪَﺩﮔﺎﺭ ، ﭘﮩﻼ ﺻَﺤﺎﺑﯽ
ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗَﺪَﻡ پر ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ
✍️لقمان شاہد
6-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3083064561973712&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✮ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی✮
بسم الله الرحمن الرحیم
الصبر
قال الله تعالی فی القرآن العظیم
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ .
﴿ البقرة ١٥٣ ﴾
قال صاحب روح البیان تحت هذه الآیة
لم یقل الله تعالی مع المصلین لاشتمال الصلوة علی الصبر ، فالصبر عند الله محبوب ، وكنز لایفنی دائما ، وحسنة من حسنات ، وثمرة من ثمرات ، وعلامة من علامات الصالحین ، وثروة من ثروات الایمان ، ونعمة من نعم الله تعالی ، فمن اخذ بطرف الصبر نال هدفه ، ومن ترك ذیله ضل عن الصراط المستقیم ، ومن صبر علی اوقات الحزن والهم رضی الله تعالی عنه .
زملائی الافاضل !
قال علی رضی الله تعالی عنه :
الصبر ركن من الایمان
وقال ابن مسعود رضی الله تعالی عنه :
الصبر نصف من الایمان .
و قال جنید البغدادی رحمة الله تعالی علیه :
لایستطیع المؤمن ان یجد حلاوة الایمان بغیر الصبر علی المصائب .
ایها الناس !
اعلموا ان معنی الصبر فی اللغة الحبس .
وفی الاصطلاح ، ان یصبر الانسان علی ما كتب الله فی ذمته ویحبس نفسه عن لذات الدنیا ، ویقتل اهواءه ، ویكتفی مایجده .
فیاایها الناس !
جعل الله تعالی بعض الناس امیرا و غنیا ، والبعض فقیرا معدما ، ولاینبغی للانسان ان یعتقد بان الله تعالی لم یعدل بینهم بل ینبغی لهم فی كل مرحلة ان یشكروه ، ویتمسكوا بحبل الصبر ،
لان النبی صلی الله تعالی علیه وسلم قال :
عجبا لامر المؤمن ، ان امره كله خیر ، ولیس ذاك لاحد الا للمؤمن ، ان اصابته سراء شكر ، فكان خیرا له ، وان اصابته ضراء ، صبر فكان خیرا له .
الصحیح المسلم .
اخوانی الاعزاء !
الصبر اصعب شیئ علی النفس ، واكرهه علی القلب ، وافضل الاعمال مااشق علی النفس .
والصبر من خواص الانسان لانه یملك العقل والشهوة .
واما الحیوانات فلا عقل لها .
واما الملائكة فهم مجردون من الشهوة ، وهذا الامر صعب لصاحب القدرة ،
ولكن للصابرین درجات كثیرة ،
لقول ابن عباس رضی الله تعالی عنه
الصبر فی القرآن علی اوجه :
صبر علی اداء فرائض الله .
صبر علی محارم الله تعالی .
صبر فی المصیبة عند الصدمة الاولی .
فمن صبر علی اداء فرائض الله تعالی ، فله ثلاث مأة درجة .
ومن صبر عن محارم الله ،
فله ست مأة درجة .
ومن صبر فی المصیبة عندالصدمة الاولی ،
فله تسع مأة درجة .
زملائی الافاضل !
قد وعد الله تعالی ثوابا عظیما لمن صبر فی البؤس ، و الالم ، والهم ، والحزن ، والكرب ، والصعوبة ، والمشقة ، والشدة ، والمحنة ، والاضطراب والازعاج ،
كقوله تعالی :
وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ﴿ البقرة ١٥٥ ﴾
أی بان یعطیهم ثوابا عظیما .
فعلینا ان نصبر علی ما ابتلینا فی الدنیا ، وننهج منهج الانبیاء والمرسلین والصالحین فیه .
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین .
──────⊱◈◈◈⊰──────
✍ محمد ضياءالدين القادري الحنفي
بهرائج ، یوفی ، الهند
──────⊱◈◈◈⊰──────
الصبر
قال الله تعالی فی القرآن العظیم
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ .
﴿ البقرة ١٥٣ ﴾
قال صاحب روح البیان تحت هذه الآیة
لم یقل الله تعالی مع المصلین لاشتمال الصلوة علی الصبر ، فالصبر عند الله محبوب ، وكنز لایفنی دائما ، وحسنة من حسنات ، وثمرة من ثمرات ، وعلامة من علامات الصالحین ، وثروة من ثروات الایمان ، ونعمة من نعم الله تعالی ، فمن اخذ بطرف الصبر نال هدفه ، ومن ترك ذیله ضل عن الصراط المستقیم ، ومن صبر علی اوقات الحزن والهم رضی الله تعالی عنه .
زملائی الافاضل !
قال علی رضی الله تعالی عنه :
الصبر ركن من الایمان
وقال ابن مسعود رضی الله تعالی عنه :
الصبر نصف من الایمان .
و قال جنید البغدادی رحمة الله تعالی علیه :
لایستطیع المؤمن ان یجد حلاوة الایمان بغیر الصبر علی المصائب .
ایها الناس !
اعلموا ان معنی الصبر فی اللغة الحبس .
وفی الاصطلاح ، ان یصبر الانسان علی ما كتب الله فی ذمته ویحبس نفسه عن لذات الدنیا ، ویقتل اهواءه ، ویكتفی مایجده .
فیاایها الناس !
جعل الله تعالی بعض الناس امیرا و غنیا ، والبعض فقیرا معدما ، ولاینبغی للانسان ان یعتقد بان الله تعالی لم یعدل بینهم بل ینبغی لهم فی كل مرحلة ان یشكروه ، ویتمسكوا بحبل الصبر ،
لان النبی صلی الله تعالی علیه وسلم قال :
عجبا لامر المؤمن ، ان امره كله خیر ، ولیس ذاك لاحد الا للمؤمن ، ان اصابته سراء شكر ، فكان خیرا له ، وان اصابته ضراء ، صبر فكان خیرا له .
الصحیح المسلم .
اخوانی الاعزاء !
الصبر اصعب شیئ علی النفس ، واكرهه علی القلب ، وافضل الاعمال مااشق علی النفس .
والصبر من خواص الانسان لانه یملك العقل والشهوة .
واما الحیوانات فلا عقل لها .
واما الملائكة فهم مجردون من الشهوة ، وهذا الامر صعب لصاحب القدرة ،
ولكن للصابرین درجات كثیرة ،
لقول ابن عباس رضی الله تعالی عنه
الصبر فی القرآن علی اوجه :
صبر علی اداء فرائض الله .
صبر علی محارم الله تعالی .
صبر فی المصیبة عند الصدمة الاولی .
فمن صبر علی اداء فرائض الله تعالی ، فله ثلاث مأة درجة .
ومن صبر عن محارم الله ،
فله ست مأة درجة .
ومن صبر فی المصیبة عندالصدمة الاولی ،
فله تسع مأة درجة .
زملائی الافاضل !
قد وعد الله تعالی ثوابا عظیما لمن صبر فی البؤس ، و الالم ، والهم ، والحزن ، والكرب ، والصعوبة ، والمشقة ، والشدة ، والمحنة ، والاضطراب والازعاج ،
كقوله تعالی :
وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ﴿ البقرة ١٥٥ ﴾
أی بان یعطیهم ثوابا عظیما .
فعلینا ان نصبر علی ما ابتلینا فی الدنیا ، وننهج منهج الانبیاء والمرسلین والصالحین فیه .
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین .
──────⊱◈◈◈⊰──────
✍ محمد ضياءالدين القادري الحنفي
بهرائج ، یوفی ، الهند
──────⊱◈◈◈⊰──────
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مدح خوانی:
محافلِ میلاد میں حمد باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ بوڑھے یا جوان مرد کا خوش الحانی سے نعتیہ اشعار کا پڑھنا اور حاضرین کا نیت نیک سے سننا جائز ہے ۔بلکہ مستحب و مستحسن ہے ۔بخاری شریف کی صحیح حدیث میں ہے ۔حضور نبی اکرم ﷺ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کےلئے منبر بچھواتے تھے اور وہ اس پر کھڑے ہو کر نعت اقدس سناتے تھے ۔جبکہ حضور نبی اکرم ﷺ سنتے تھے ۔ان کے علاوہ دیگر صحابہ نے بھی بارگاہِ رسالت ﷺ میں کھڑے ہو کر نعت خوانی کا شرف حاصل کیا ہے ۔ تا ہم نعت خوانی کےلئے چند آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے :
1۔نعت سادہ خوش الحانی کے ساتھ ہو ،گانوں کی طرز پر نہ پڑھی جائے ۔(فتاویٰ رضویہ جلد23صفحہ363)
2۔نعت خوانی آلاتِ لہو و لعب اور افعالِ لغو مثلاً مزا میر وغیرہ کے ساتھ نہ کی جائے ۔(فتاویٰ رضویہ جلد 24صفحہ79)
دف اور نعت خوانی: دف کا حکم عام آلاتِ لہو و لعب سا نہیں ۔بلکہ خوشی کے لمحات میں اس کا استعمال جائز ہے ۔مگر اس کےلئے چند شرائط ہیں ۔امام احمد رضا خاں رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :”اوقات مسرور میں دف جائز ہے ۔بشرطیکہ اس میں جلا جل یعنی جھانج نہ ہو ۔نہ وہ موسیقی کے تان سر پر بجایا جائے ،ورنہ وہ بھی ممنوع ۔“(فتاویٰ رضویہ 25صفحہ37)
ذکر والی نعت خوانی سے پرہیز:علماءاسلام نے ذکر والی مروجہ نعت خوانی کو بھی ناجائز قرار دیا ہے ۔اس لئے محافل میلاد کو اس سے پاک کرنا چاہئے۔امام احمد رضا خان بریلوی رحمة اللہ علیہ کے عظیم علمی خانوادہ کے چشم و چراغ حضرت مفتی اختر رضا خان بریلوی اس کے متعلق فرماتے ہیں :”نعت میں ذکر کی آواز اس طرح سنائی دیتی ہے جیسے دف کے ساتھ ذکر ہو رہا ہو اور ایسی آواز جو دف سے مشابہ ہو منہ سے نکالنا جائز نہیں کہ طریقہ فساق ہے اور ذکر و غیرہ میں شبہ ناجائز ،نیز اللہ تعالیٰ عزوجل کے نام مبارک کو بصورت مزامیر پیش کرنے میں نوعِ اہانت بھی ہے ۔اس لئے اس کا عدم جواز شدید ترین ہے ۔اگر چہ نیت خیر ہو“( فتویٰ بریلی شریف )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2931838277095480&id=100008080090753
محافلِ میلاد میں حمد باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ بوڑھے یا جوان مرد کا خوش الحانی سے نعتیہ اشعار کا پڑھنا اور حاضرین کا نیت نیک سے سننا جائز ہے ۔بلکہ مستحب و مستحسن ہے ۔بخاری شریف کی صحیح حدیث میں ہے ۔حضور نبی اکرم ﷺ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کےلئے منبر بچھواتے تھے اور وہ اس پر کھڑے ہو کر نعت اقدس سناتے تھے ۔جبکہ حضور نبی اکرم ﷺ سنتے تھے ۔ان کے علاوہ دیگر صحابہ نے بھی بارگاہِ رسالت ﷺ میں کھڑے ہو کر نعت خوانی کا شرف حاصل کیا ہے ۔ تا ہم نعت خوانی کےلئے چند آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے :
1۔نعت سادہ خوش الحانی کے ساتھ ہو ،گانوں کی طرز پر نہ پڑھی جائے ۔(فتاویٰ رضویہ جلد23صفحہ363)
2۔نعت خوانی آلاتِ لہو و لعب اور افعالِ لغو مثلاً مزا میر وغیرہ کے ساتھ نہ کی جائے ۔(فتاویٰ رضویہ جلد 24صفحہ79)
دف اور نعت خوانی: دف کا حکم عام آلاتِ لہو و لعب سا نہیں ۔بلکہ خوشی کے لمحات میں اس کا استعمال جائز ہے ۔مگر اس کےلئے چند شرائط ہیں ۔امام احمد رضا خاں رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :”اوقات مسرور میں دف جائز ہے ۔بشرطیکہ اس میں جلا جل یعنی جھانج نہ ہو ۔نہ وہ موسیقی کے تان سر پر بجایا جائے ،ورنہ وہ بھی ممنوع ۔“(فتاویٰ رضویہ 25صفحہ37)
ذکر والی نعت خوانی سے پرہیز:علماءاسلام نے ذکر والی مروجہ نعت خوانی کو بھی ناجائز قرار دیا ہے ۔اس لئے محافل میلاد کو اس سے پاک کرنا چاہئے۔امام احمد رضا خان بریلوی رحمة اللہ علیہ کے عظیم علمی خانوادہ کے چشم و چراغ حضرت مفتی اختر رضا خان بریلوی اس کے متعلق فرماتے ہیں :”نعت میں ذکر کی آواز اس طرح سنائی دیتی ہے جیسے دف کے ساتھ ذکر ہو رہا ہو اور ایسی آواز جو دف سے مشابہ ہو منہ سے نکالنا جائز نہیں کہ طریقہ فساق ہے اور ذکر و غیرہ میں شبہ ناجائز ،نیز اللہ تعالیٰ عزوجل کے نام مبارک کو بصورت مزامیر پیش کرنے میں نوعِ اہانت بھی ہے ۔اس لئے اس کا عدم جواز شدید ترین ہے ۔اگر چہ نیت خیر ہو“( فتویٰ بریلی شریف )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2931838277095480&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جو دوسروں کیلئے گڑھا کھودتے ہیں ۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں پہنچ گئیں،یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے.
قاضی نے پوچھا
تم دونوں میں سے کس نے بات پہلے کرنی ہے؟
ان میں سے بڑھی عمر والی خاتون نے دوسری سے کہا تم اپنی بات قاضی صاحب کے آگے رکھو.
وہ کہنے لگی قاضی صاحب یہ میری پھوپھی ہے میں اسے امی کہتی ہوں چونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد اسی نے میری پرورش کی ہے یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی.
قاضی نے پوچھا اس کے بعد ؟
وہ کہنے لگی پھر میرے چچا کے بیٹے نے منگنی کا پیغام بھیجا انہوں نے ان سے میری شادی کر دی،میری شادی کو کئی سال گزر گئے ازدواجی زندگی خوب گزر رہی تھی ایک دن میری یہ پھوپھی میرے گھر آئی اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی آفر کرلی ساتھ یہ شرط رکھ لی کہ پہلی بیوی(یعنی میں) کا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دے،میرے شوہر نے کنواری دوشیزہ سے شادی کے چکر میں شرط مان لی میرے شوہر کی دوسری شادی ہوئی سہاگ رات کو میری پھوپھی میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا تمہارے شوہر کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی بیاہ دی ہے تمہارا شوہر نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیا ہے میں تجھے تیرے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں.
جج صاحب میری طلاق ہوگئی.
کچھ عرصے بعد میری پھوپھی کا شوہر سفر سے تھکے ہارے پہنچ گیا وہ ایک شاعر اور حسن پرست انسان تھے میں بن سنور کر اس کے آگے بیٹھ گئی اور ان سے کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اس نے فوری ہاں کرلی،میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی(یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیں اس نے ایسا ہی کیا میں نے وکالت کا حق استعمال کرتے ہوئے پھوپھی کو طلاق دے ڈالی اور پھوپھی کے سابقہ شوہر سے شادی کرلی.
قاضی حیرت سے پھر ؟
وہ کہنے لگی قاضی صاحب کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی.
کچھ عرصہ بعد میرے اس شاعر شوہر کا انتقال ہوا میری یہ پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرتے پہنچ گئی میں نے ان سے کہا کہ میرے شوہر نے تمہیں اپنی زندگی میں طلاق دی تھی اب وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، جھگڑا طول پکڑا اس دوران میری عدت بھی گزر گئی ایک دن میری یہ پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد(میرا سابقہ شوہر) کو لیکر میرے گھر آئی اور وراثت کے جھگڑے میں میرے اسی سابق شوہر کو ثالث بنایا اس نے مجھے کئی سالوں بعد دیکھا تھا مرد اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا ہے چنانچہ مجھ سے یوں مل کر اس کی پہلی محبت نے انگڑائی لی میں نے ان سے کہا کیا پھر مجھ سے شادی کروگے؟
اس نے ہاں کرلی
میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ اپنی پہلی بیوی(میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے ہاتھ میں دیں،اس نے ایسا ہی کیا.
میں نے اپنے سابق شوہر سے شادی کرلی اور اس کی بیوی کو شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دے دی.
قاضی ابن ابی لیلی سر پکڑ کر بیٹھ گئے پھر پوچھا کہ
اس کیس میں اب مسئلہ کیا ہے؟
میری پھوپھی کہنے لگی :
قاضی صاحب کیا یہ حرام نہیں کہ میں اور میری بیٹی دونوں کی یہ لڑکی طلاق کروا چکی پھر میرا شوہر اور میری بیٹی کا شوہر بھی لے اڑی اسی پر بس نہیں دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کرلیا۔
قاضی ابن ابی لیلی کہنے لگے:
مجھے تو اس کیس میں حرام کہیں نظر نہیں آیا،طلاق بھی جائز ہے،وکالت بھی جائز ہے،طلاق کے بعد بیوی سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جاسکتی ہے بشرطیکہ درمیان میں کسی اور سے اس کی شادی ہو کر طلاق یا شوہر فوت ہوا ہو تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے.
اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہا کہ جو کوئی اپنے بھائی کیلئے گڑھا کھودے گا خود اس گڑھے میں گرے گا یہ بڑھیا تو گڑھے کی بجائے گہرے سمندر میں گر گئی.
كتاب :جمع الجواهر في - الحُصري.
بشکریہ جناب امین نورانی صاحب
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2931204763825498&id=100008080090753
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں پہنچ گئیں،یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے.
قاضی نے پوچھا
تم دونوں میں سے کس نے بات پہلے کرنی ہے؟
ان میں سے بڑھی عمر والی خاتون نے دوسری سے کہا تم اپنی بات قاضی صاحب کے آگے رکھو.
وہ کہنے لگی قاضی صاحب یہ میری پھوپھی ہے میں اسے امی کہتی ہوں چونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد اسی نے میری پرورش کی ہے یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی.
قاضی نے پوچھا اس کے بعد ؟
وہ کہنے لگی پھر میرے چچا کے بیٹے نے منگنی کا پیغام بھیجا انہوں نے ان سے میری شادی کر دی،میری شادی کو کئی سال گزر گئے ازدواجی زندگی خوب گزر رہی تھی ایک دن میری یہ پھوپھی میرے گھر آئی اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی آفر کرلی ساتھ یہ شرط رکھ لی کہ پہلی بیوی(یعنی میں) کا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دے،میرے شوہر نے کنواری دوشیزہ سے شادی کے چکر میں شرط مان لی میرے شوہر کی دوسری شادی ہوئی سہاگ رات کو میری پھوپھی میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا تمہارے شوہر کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی بیاہ دی ہے تمہارا شوہر نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیا ہے میں تجھے تیرے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں.
جج صاحب میری طلاق ہوگئی.
کچھ عرصے بعد میری پھوپھی کا شوہر سفر سے تھکے ہارے پہنچ گیا وہ ایک شاعر اور حسن پرست انسان تھے میں بن سنور کر اس کے آگے بیٹھ گئی اور ان سے کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اس نے فوری ہاں کرلی،میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی(یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیں اس نے ایسا ہی کیا میں نے وکالت کا حق استعمال کرتے ہوئے پھوپھی کو طلاق دے ڈالی اور پھوپھی کے سابقہ شوہر سے شادی کرلی.
قاضی حیرت سے پھر ؟
وہ کہنے لگی قاضی صاحب کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی.
کچھ عرصہ بعد میرے اس شاعر شوہر کا انتقال ہوا میری یہ پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرتے پہنچ گئی میں نے ان سے کہا کہ میرے شوہر نے تمہیں اپنی زندگی میں طلاق دی تھی اب وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، جھگڑا طول پکڑا اس دوران میری عدت بھی گزر گئی ایک دن میری یہ پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد(میرا سابقہ شوہر) کو لیکر میرے گھر آئی اور وراثت کے جھگڑے میں میرے اسی سابق شوہر کو ثالث بنایا اس نے مجھے کئی سالوں بعد دیکھا تھا مرد اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا ہے چنانچہ مجھ سے یوں مل کر اس کی پہلی محبت نے انگڑائی لی میں نے ان سے کہا کیا پھر مجھ سے شادی کروگے؟
اس نے ہاں کرلی
میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ اپنی پہلی بیوی(میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے ہاتھ میں دیں،اس نے ایسا ہی کیا.
میں نے اپنے سابق شوہر سے شادی کرلی اور اس کی بیوی کو شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دے دی.
قاضی ابن ابی لیلی سر پکڑ کر بیٹھ گئے پھر پوچھا کہ
اس کیس میں اب مسئلہ کیا ہے؟
میری پھوپھی کہنے لگی :
قاضی صاحب کیا یہ حرام نہیں کہ میں اور میری بیٹی دونوں کی یہ لڑکی طلاق کروا چکی پھر میرا شوہر اور میری بیٹی کا شوہر بھی لے اڑی اسی پر بس نہیں دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کرلیا۔
قاضی ابن ابی لیلی کہنے لگے:
مجھے تو اس کیس میں حرام کہیں نظر نہیں آیا،طلاق بھی جائز ہے،وکالت بھی جائز ہے،طلاق کے بعد بیوی سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جاسکتی ہے بشرطیکہ درمیان میں کسی اور سے اس کی شادی ہو کر طلاق یا شوہر فوت ہوا ہو تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے.
اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہا کہ جو کوئی اپنے بھائی کیلئے گڑھا کھودے گا خود اس گڑھے میں گرے گا یہ بڑھیا تو گڑھے کی بجائے گہرے سمندر میں گر گئی.
كتاب :جمع الجواهر في - الحُصري.
بشکریہ جناب امین نورانی صاحب
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2931204763825498&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اِس دور میں جس پیر کے مرید ۔۔۔۔۔۔ اور استاد کے شاگرد ۔۔۔۔۔۔ ایسے باصلاحیت ہوں کہ:
اپنے پیر استاد کی غلطی کو غلط کَہ سکیں ، اور اس کی اصلاح کرسکیں ؛ اُس پیر استاد سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !
وہ ایسا پیر استاد ہوگا جس نے مریدوں اور شاگردوں کو محض شخصیت نہیں پڑھائی ہوگی ، دین اور علم سکھایا ہوگا ۔
✍️لقمان شاہد
7-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3083837211896447&id=100008105947430
اپنے پیر استاد کی غلطی کو غلط کَہ سکیں ، اور اس کی اصلاح کرسکیں ؛ اُس پیر استاد سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !
وہ ایسا پیر استاد ہوگا جس نے مریدوں اور شاگردوں کو محض شخصیت نہیں پڑھائی ہوگی ، دین اور علم سکھایا ہوگا ۔
✍️لقمان شاہد
7-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3083837211896447&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سو بار قربان رسول پاک ﷺ کے پیارے نواسے امام عالی مقام ، سیِّدُ الشُھَدا ، امام حسین پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی ذات کتنی عظیم ہے ، الفاظ جس کی عظمت و رفعت بیان ہی نہیں کرسکتے ؎
حُسَین فکرِ بَشَر کی عظیم منزِل ہے
حُسَین سینۂ انساں میں جاگتا دل ہے
حُسین ایک علامت ہے زندگی کے لیے
حسین عزمِ سفر ہے مسافروں کے لیے
فَسردہ پھولوں کے دامن پہ مثلِ شَبنم ہے
حُسین ۔۔۔۔۔۔ زِیست کا اک با وقار پرچم ہے
✍️ لقمان شاہد
8-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3084679345145567&id=100008105947430
حُسَین فکرِ بَشَر کی عظیم منزِل ہے
حُسَین سینۂ انساں میں جاگتا دل ہے
حُسین ایک علامت ہے زندگی کے لیے
حسین عزمِ سفر ہے مسافروں کے لیے
فَسردہ پھولوں کے دامن پہ مثلِ شَبنم ہے
حُسین ۔۔۔۔۔۔ زِیست کا اک با وقار پرچم ہے
✍️ لقمان شاہد
8-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3084679345145567&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اہل سنت کے ہاں نہ اہلِ بیت کو صحابہ کی وجہ سے مانا جاتا ہے ، نہ صحابہ کو اہل بیت کی وجہ سے ۔
ان ہستیوں کو صرف اور صرف اللہ و رسول کے لیے مانا جاتا ہے ۔
امام نبھانی رحمہ اللہ فرماتےہیں:
اے عاقل و مُنصِف مومن ! تجھ پر مخفی نہیں رہناچاہیے کہ:
بلاشبہہ ہم سیدنا علی المرتضی سے محبت اللہ و رسول کے لیے کرتے ہیں ، اور اسی طرح تمام اہل بیت اور جمیع صحابہ سے محبت محض اللہ اور اس کے رسول کے لیے کرتے ہیں ۔
( اسالیب البدیعۃ فی فضل الصحابۃ واقناع الشیعۃ مع شواھد الحق ، فصل فی شوؤن رؤسا الاصحاب الذین خالفوا علیا رضی اللہ عنہ عنھم و طلحۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ص399 )
اللہ پاک راہِ راست سے بھٹک جانے والوں کو ہدایت دے ، اور ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھے ؛ نجات صرف اور صرف اتباعِ اہل سنت میں ہے ۔
✍️لقمان شاہد
8-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3084753535138148&id=100008105947430
ان ہستیوں کو صرف اور صرف اللہ و رسول کے لیے مانا جاتا ہے ۔
امام نبھانی رحمہ اللہ فرماتےہیں:
اے عاقل و مُنصِف مومن ! تجھ پر مخفی نہیں رہناچاہیے کہ:
بلاشبہہ ہم سیدنا علی المرتضی سے محبت اللہ و رسول کے لیے کرتے ہیں ، اور اسی طرح تمام اہل بیت اور جمیع صحابہ سے محبت محض اللہ اور اس کے رسول کے لیے کرتے ہیں ۔
( اسالیب البدیعۃ فی فضل الصحابۃ واقناع الشیعۃ مع شواھد الحق ، فصل فی شوؤن رؤسا الاصحاب الذین خالفوا علیا رضی اللہ عنہ عنھم و طلحۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ص399 )
اللہ پاک راہِ راست سے بھٹک جانے والوں کو ہدایت دے ، اور ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھے ؛ نجات صرف اور صرف اتباعِ اہل سنت میں ہے ۔
✍️لقمان شاہد
8-2-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3084753535138148&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM