🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
https://t.me/SirfUrduTahrir/8107

بیکار کاموں اور باتوں سے خود کو بچائیے - پارٹ 1

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(المؤمنون۔۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف اِلتفات نہیں کرتے۔
اس آیت کے تحت فلاح پانے والے مؤمنین کا وصف تفسیر خازن میں بیان کیا گیا ہےکہ
"ھو كل باطل ولهو"۔ھکذا مفھوم تفسیر البغوی و تفسیر الرازی۔
کہ وہ ہر لہو و باطل سے بچتے ہیں،
تفسیر ابن کثیر میں ہے۔
"ما لا فائدة فيه من الأقوال والأفعال"
ایسی باتیں اور کام کہ جن میں کوئی فائدہ نہ ہو۔
لَغْو سے کیا مراد ہے؟
صراط الجنان میں ہے۔
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’لغو سے مراد ہر وہ قول، فعل اور ناپسندیدہ یا مباح کام ہے جس کا مسلمان کودینی یا دُنْیَوی کوئی فائدہ نہ ہو جیسے مذاق مَسخری،بیہودہ گفتگو،کھیل کود،فضول کاموں میں وقت ضائع کرنا، شہوات پوری کرنے میں ہی لگے رہنا وغیرہ وہ تمام کام جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کو اپنی آخرت کی بہتری کے لئے نیک اعمال کرنے میں مصروف رہنا چاہئے یا وہ اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے بقدرِ ضرورت (حلال) مال کمانے کی کوشش میں لگا رہے۔ ( صاوی، المؤمنون، تحت الآیۃ :۳ ،۴ / ۱۳۵۶-۱۳۵۷ )
(صراط الجنان تحت الآیۃ: 3 المؤمنون)
اَحادیث میں بھی لا یعنی اور بیکار کاموں سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے: جیسے کہ مشکاۃ المصابیح میں ہے۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ» ".
رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَحْمَدُ.
(مشکاۃالمصابیح کتاب الآداب حدیث4840)
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور تاجدارِ رسالت ،شہنشاہِ نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’کسی شخص کے اسلام کی اچھائی میں سے یہ ہے کہ وہ لایعنی چیز چھوڑ دے۔‘‘
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
یعنی جوچیز کار آمد نہ ہو اس میں نہ پڑے، زبان و دل و جوارح کو بے کار باتوں کی طرف متوجہ نہ کرے۔
(بہار شریعت حصہ 16)
قَالَ النَّوَوِيُّ: هَذَا أَحَدُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي عَلَيْهَا مَدَارُ الْإِسْلَامِ۔
امام نووی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن پر اسلام کا دارو مدار ہے۔
(مرقات المفاتیح تحت حدیث 4840)

عبد مجتبیٰ .......... جاری۔۔۔۔۔

Urdu Tahreer YouTube Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیکار کاموں اور باتوں سے
خود کو بچائیے پارٹ 2

وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ: «لَيْسَ يَتَحَسَّرُ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَّا عَلَى سَاعَةٍ مَرَّتْ بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهَا» ،
اور حدیث پاک میں آیا ہے اہل جنت کو کوئی حسرت نہیں ہوگی سوائے اس گھڑی کے جس کو انہوں نے گزارا اور اس گھڑی میں اللہ کا ذکر نہیں کیا ۔ آو کما قال
(مرقات المفاتیح کتاب الآداب تحت حدیث 4840)
پیارے بھائیوں!بے کار کاموں میں سے ایک گفتگو کرنا بھی ہے ،
یاد رہے کہ زبان کی حفاظت و نگہداشت اور فضولیات ولَغْویات سے اسے باز رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ زیادہ سرکشی اور سب سے زیادہ فساد و نقصان اسی زبان سے رونما ہوتا ہے اور جو شخص زبان کو کھلی چھٹی دے دیتا اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے تو شیطان اسے ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔زبان کی حفاظت کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے نیک اعمال کی حفاظت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص زبان کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ ہر وقت گفتگو میں مصروف رہتا ہے تو ایسا شخص لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہونے سے بچ نہیں پاتا، یونہی اس سے کفریہ الفاظ نکل جانے کا بہت اندیشہ رہتا ہے اور یہ دونوں ایسے عمل ہیں جس سے بندے کے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔
(صراط الجنان)
حضرت امام حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے کسی شخص نے کہا: اے ابو سعید!فلاں شخص نے آپ کی غیبت کی ہے۔ یہ سن کر آپ نے غیبت کرنے والے آدمی کو کھجوروں کا تھال بھر کر بھیجا اور ساتھ میں یہ پیغام بھیجا:سنا ہے کہ تم نے مجھے اپنی نیکیاں تحفے میں دی ہیں ،تو میں نے بھی چاہا کی تمہیں اس کا بدلہ دے دوں۔
منقول ہے کہ حضرت سید نا ابن مبارک رحمۃ اللہ تعالی کے پاس غیبت کا تذکرہ ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالی نے فرمایا: اگر میں غیبت کرتا تو اپنی ماں کی ضرور کرتا کیوںکہ وہ میری نیکیوں کی زیادہ حقدار ہے۔۔
(ملخصا منھاج العابدین، ص143تا144, مکتبۃ المدینہ)

جاری۔۔۔

عبد مجتبیٰ

اردو تحریر آفیشل ٹیلی گرام چینل
سبسکرائب کریں اور شیئر کریں

Urdu Tahreer YouTube Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قصیدہ بردہ شریف کی روحانی برکات

’’قصیدہ بردہ شریف ‘‘( مؤلفہ حضرت امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اﷲ علیہ المتوفی695،ہجری )جو عربی زبان میں مدحت مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر مشتمل ، علوم وفنون کا جامع ،عربی ادب کا شاہکار اور زبان وبیان کے لحاظ سے انتہائی فصیح وبلیغ قصیدہ ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ قصیدہ بارگاہ ِ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں مقبول اور اتنا مقبول ہے کہ اِس کے اشعار دربارِ خداوندی میں مستجاب اور روحانی فوائد کا خزینہ ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق کتاب اﷲ کے بعد قصائد میں سب سے زیادہ شرحیں اِس قصیدے کی لکھی گئیں،یہ ایسا قصیدہ ہے کہ فصاحت وبلاغت اور اِخلاص ومحبت کے لحاظ سے حضور علیہ السلام کی نعت میں آج تک اِ س شان کا کوئی قصیدہ نہیں لکھا گیا یہی وجہ ہے کہ اِس قصیدہ کا ایک ایک شعر بلکہ ایک ایک لفظ پُر تاثیر ہے ،بعض شعروں کی تاثیر تو ایسی ثابت ہوئی ہے کہ بڑے بڑے صالحین اور عام لوگوں نے اُس کے مفید ہونے کی متواتر شہادت دی جس کے بارے میں شک کرنا خلاف اِخلاص ہے ۔ یاد رہے کسی بھی عمل یا وظیفہ سے کماحقہ روحانی فیوض و برکات اُس وقت حاصل کئے جاسکتے ہیں جب اُس عمل کو اُس کے تمام آداب واحترام سے بجا لایاجائے ۔شارح قصیدہ بردہ علامہ عمربن احمد الخرپوتی رومی المتوفی1299ہجری نے مکمل طو ر پر فوائد وبرکات حاصل کرنے کی آٹھ شرائط بیان فرمائی ہیں ، وہ یہ ہیں: (1)پڑھنے والا وضو کرکے (2)قبلہ رُو ہوکر (3)صحیح مخارج واِعراب کے ساتھ (4) اِس کے معانی کو سمجھ کر اور اِن میں غور وفکر کرتے ہوئے (5) نظم کے اَنداز میں پڑھتے ہوئے نہ کہ نثر میں ( 6)اِ سے زبانی یاد کرے (7)اِس قصیدہ کو بطور عمل پڑھنے سے قبل کسی عامل کامل بزرگ سے اجازت لے کر (8) ہر شعر کے ساتھ صلوٰۃ وسلام والا پہلا مکمل شعر مَوْلَایَ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّہِمِ(عصیدۃ الشھدۃ شرح قصیدۃ البردہ صفحہ 38) قصیدہ بردہ کے شارحین نے ہرہر شعر کے اثرات وبرکات کا تذکرہ اپنی شروحات میں کیا ہے ۔یہ قصیدہ بے پناہ روحانی خوبیوں کا مخزن ہے جس مکان میں یہ قصیدہ موجود ہوگا وہ ہر بلا سے محفوظ رہے گا اور اِس کا پڑھنا قضائے حاجات اور حل مشکلات کے لئے بے حد نافع ومجرب ہے ۔ شیخ ابراہیم بن محمد باجوری علیہ الرحمۃ المتوفی 1276ہجری اور علامہ عمر بن احمد الخرپوتی المتوفی 1299ہجری نے اِ س قصیدہ کی شرح میں بعض ابیات کے جو فوائد وتاثیرات کو بیان فرمایا ہے اُن کا مختصر اردو ترجمہ نذرقارئین کیا جاتا ہے ۔ان شاء اﷲ اِن اعمال کی برکت سے ہر شخص اپنی مراد کو پہنچے گا۔ (1)قصیدہ بردہ کے پہلے تین اشعار کو ہرن کی کھال پر لکھ کر ایسے شخص کے بازو پر باندھاجائے جس کی زبان میں لکنت کا مرض ہو تو زبان کی لکنت دور ہوجائے گی ۔اشعار درج ذیل ہیں اَمِنْ تَذَکُّرِ جِیْرَانٍ بِذِیْ سَلَمِ مَزَجْتَ دَمْعًاجَرٰی مِنْ مُقْلَۃٍ بِدَمِ اَمْ ھَبَّتِ الرِّیْحُ مِنْ تِلْقَائِ کَاظِمَۃٍ وَاَوْمَضَ الْبَرْقُ فِی الظَّلْمَائِ مِنْ اِضَمِ فَمَا لِعیْنَیْکَ اِنْ قُلْتَ اکْفُفَا ھَمَتَا وَمَا لِقَلْبِکَ اِنْ قُلْتَ اسْتَفِقْ یَھِمِ (2)علامہ خرپوتی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اگر کسی کو ضعف قلب ،سانس کی تنگی یعنی دمہ کامرض ہو تو اِس شعر کے حروف(یعنی ہر حرف کو علیحدہ علیحدہ ل و ل اال ہ وی …الخ کرکے ) سیب پرلکھ کر کھلائیں تو چند دِنوں میں صحت یاب ہوگا ۔ لَوْلَاالْھَوٰی لَمْ تُرِقْ دَمْعًا عَلٰی طَلَل وَلَا اَرِقْتَ لِذِکْرِالْبَانِ وَالْعَلَمِ (3)اہل علم فرماتے ہیں قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو بعد نماز عشا سونے سے قبل پڑھتے رہیں یہاں تک کہ نیند کا غلبہ ہوجائے تو ان شاء اﷲ خواب میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوگی ۔وہ شعر درج ذیل ہے نَعَمْ سَرٰی طَیْفُ مَنْ اَھْوٰی فَاَرَّقَنِیْ وَالْحُبُّ یَعْتَرِضُ اللَّذَّاتِ بِالْاََلَمِ (4) ہر جائز حاجت ومقصد کے لیے قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو تین مرتبہ پڑھ کر وہ کام شروع کریں تو ان شاء اﷲ وہ مقصد وحاجت پوری ہوگی ۔وہ شعر درج ذیل ہے فَکَیْفَ تُنْکِرُ حُبًّا بَعْدَ مَا شَھِدَتْ بِہٖ عَلَیْکَ عُدُوْلُ الدَّمْعِ وَالسَّقَمِ (5)اگر دشمن کا ڈر ہو یا کسی سے تکلیف واذیت پہنچنے کا خوف ہو تو ایک گول کاغذ کے کنارے کنارے اِس شعر کو لکھ کر عمامہ یا ٹوپی میں رکھیں اور یہ شعر پیشانی کی طرف رہے ان شاء اﷲ دشمن ذلیل ورسوا ہوگا۔وہ شعر درج ذیل ہے مَحَضْتَنِی النُصْحَ لٰکِنْ لَّسْتُ اَسْمَعُہٗ اِنَّ الْمُحِبَّ عَنِ الْعُذَّالِ فِیْ صَمَمِ (6) اگر کسی کی دینی ودنیاوی حاجات ہوں اسے چاہیے کہ ایک ہی مجلس میں قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو ایک ہزار مرتبہ پڑھیں تو اﷲ تعالیٰ اُس کی ہر حاجت پوری فرمائے گا ۔وہ شعر درج ذیل ہے ھُوَ الْحَبِیْبُ الَّذِیْ تُرْجٰی شَفَاعَتُہٗ لِکُلِّ ھَوْلٍ مِّنَ الْاَھْوَالِ مُقْتَحِمِ (7) جملہ مصائب سے حفاظت کے لئے قصیدہ بردہ شریف کے اِسشعر کو روزانہ ایک ہزار
بار پڑھنا نہایت مفید ومجرب ہے ۔وہ شعر درج ذیل ہے مُحَمَّدٌ سَیِّدُ الْکَوْنَیْنِ وَالثَّقَلَیْنِ وَالْفَرِیْقَیْنِ مِنْ عُرْبٍ وَّمِنْ عَجَمِ (8)شارح قصیدہ بردہ علاہ خرپوتی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں اگر کوئی مسافر قصیدہ بردہ کے اِ س شعر کے پہلے مصرعہ کو گھر چھوڑ دے اور دوسرا مصرعہ اپنے پاس رکھ لے تو ان شاء اﷲ العزیزگھر ہر قسم کی آفات سے محفوظ رہے گا اور گھر خیر وعافیت کے ساتھ واپس آئے گا ۔وہ شعر درج ذیل ہے مَاسَامَنِی الدَّھْرُ ضَیْمًا وَاسْتَجَرتُ بِہٖ اِلَّا وَنِلْتُ جِوَارًا مِنْہُ لَمْ یُضَمِ (9) قصیدہ بردہ کے اِ ن دو اشعار کو مکمل باطہارت پڑھ کر مرگی ،فالج اور دیگر جلدی مہلک اَمراض کے مریض پر دم کیا جائے اور لکھ کر تعویذ گلے میں ڈالاجائے تو ان شاء اﷲ مرض سے افاقہ ہوگا ۔اشعار در ج ذیل ہیں تَبَارَکَ اللّٰہُ مَا وَحْیٌ بِمُکْتَسَبٍ وَلَا نَبِیٌّ عَلٰی غَیْبٍ بِمُتَّھِمِ کَمْ اَبْرَاَتْ وَصَبًا بِاللَّمْسِ رَاحَتُہُ وَاَطْلَقَتْ اَرِبًا مِنْ رِبْقَۃِ اللَّمَمِ (10) قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو جس مقصد کے لیے بتوسل حضور کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم دعا کرے تو ان شاء اﷲ العزیز قبول ہوگی ۔ فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَھَا وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ مختصراً اِن کے علاوہ دیگر اَبیات کے فوائد وبرکات بھی بے شمار ہیں ،غرضیکہ بحسن ِعقیدت باطہارت اورمکمل آداب واحترام کے ساتھ اِ س مقدس قصیدہ کا پڑھنا بے حد مفید ومقبول ہے ۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
میں عطّاؔر کیسے بنا ؟

شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے ایک مَدَنی مذاکرے میں جو کچھ ارشاد فرمایا اُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:

’’ میں عطّاؔر کیسے بنا ؟

یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ میں اُن دنوں میں نُور مسجد ( کاغذی بازار باب المدینہ کراچی ) میں اِمامت کرتا تھا ۔ دعوتِ اسلامی کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت بھی تھا میں نے غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کی بارگاہ میں ایک سلام لکھا تھا؛

سلطان اولیاء کو ہمارا سلام ہو
جیلاں کے پیشوا کو ہمارا سلام ہو


پھر کسی طرح میں نے غالباً 30 روپے میں ایک ہزار پرچے خوبصورت (فریم میں لگائے جانے والے) چھپوائے تاکہ انہیں مفت بانٹ سکوں۔ ایک بار میرے پاس ایک شیوڈ نوجوان مجھے ڈھونڈتا ہوا نور مسجد آیا اور مجھ سے یہ پرچہ مانگا ۔ میں نے اسے اپنے مختصر سے حجرے میں بٹھایا اور اس پر انفرادی کوشش بھی کی ۔ اس دوران پتا چلا کہ اُس کا عطر کا ہول سیل کا کاروبار ہے ۔ مجھے عطر لگانے کا بہت شوق تھا میں نے اُسے اپنے اِس شوق کے بارے میں بتایا تو اُس نے مجھے اپنی دوکان کا پتا سمجھایا ۔ میں اُس کی دکان پر عطر خریدنے گیا تو مجھے بہت سستا محسوس ہو ا ۔ میں نے کچھ خالی شیشیاں خریدیں اور ہول سیل میں عطر خرید کر وہ شیشیاں بھریں اور عطر بیچنا شروع کردیا ۔ عطر کے کام کی نسبت سے میں نے اپنا تخلص عطّاؔر رکھا، یوں میں عطّاؔر بن گیا۔ اس میں ایک بہت بڑے بزرگ (جو ’’ تذکرۃ الاولیاء ‘‘ کے مؤلف بھی ہیں ) حضرت سیدنا شیخ فرید الدین عطّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارْ کی نسبت بھی ہے ۔ یہ تخلص اتنا مشہور ہوا کہ لوگ مجھے الیاس کم اور عطّاؔر زیادہ کہتے ہیں۔

( مدنی مذاکرہ، نمبر 26 )

Urdu Tahreer ʸᵒᵘᵀᵘᵇᵉ Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc

اردو تحریر آفیشل ٹیلی گرام چینل
سبسکرائب کریں اور شیئر کریں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*وہ بابرکت خانوادہ جس کی مسلسل چار پشتیں صحابی ہیں !*

تحریر : نثار مصباحی
رکن: روشن مستقبل، دہلی

سيدنا ابو بكر صديقِ اَكبر، رضی اللہ تعالی عنہ اکیلے ایسے صحابی ہیں جن کے نسب و نسل میں مسلسل چار پشتیں "صحابی" ہیں۔
ان چاروں حضرات کے نام ایک ساتھ اس طرح ہیں:
"محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر صدیق بن أبی قحافہ عثمان" (رضی اللہ تعالی عنہم)

اس اِجمال کی تفصیل یہ ہے کہ :
۱- سیدنا صدیقِ اکبر کے والد گرامی : سیدنا ابو قُحافَہ عثمان رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔
۲- سیدنا ابو بکر خود صحابی، بلکہ علی الاِطلاق "أفضل الصحابۃ"، اور انبیاء و مرسلین(رُسُلِ بشر و رُسُلِ ملائکہ) کے بعد مطلقاً تمام انس و جن اور فرشتوں سے "اَفضَل" ہیں۔
۳- سیدنا ابو بکر کے بیٹے سیدنا "عبد الرحمن" بھی صحابی ہیں۔
اور
۴- سیدنا عبد الرحمن بن أبی بکر کے بیٹے سیدنا "محمد بن عبدالرحمن" بھی صحابی ہیں۔
یعنی حضرت ابو بکر صدیق کے والد صحابی، وہ خود صحابی، ان کے بیٹے صحابی، اور ان کے ایک پوتے بھی صحابی ہین۔ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔

⬅️ امام حافظ ابن حِبان (متوفی 354ھ) "کتاب الثقات" میں حضرت محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر کے تعارف میں لکھتے ہیں:
"هَؤُلَاء الْأَرْبَعَة فِي نسق وَاحِد لَهُم من النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَة : أَبُو قُحَافَة، وَابْنه أَبُو بكر، وَابْنه عَبْد الرَّحْمَن بْن أبي بكر، وَابْنه أَبُو عَتيق مُحَمَّد بْن عَبْد الرَّحْمَن۔ وَلَيْسَ هَذَا لأحد من هَذِه الْأمة غَيرهم" (کتاب الثقات، ابن حِبّان)
ترجمہ :
ایک ہی ترتیب میں یہ چار حضرات ایسے ہیں جنھیں دیدارِ رسول(صحابیت) کا شرف ملا ہے :
۱-ابو قُحافَہ، ۲-ان کے بیٹے ابو بکر، ۳-ان کے بیٹے عبد الرحمن بن ابی بکر، اور پھر ۴-ان کے بیٹے ابوعتیق محمد بن عبد الرحمن۔
یہ شرف اس امت میں ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ (کتاب الثقات)

⬅️ امام ابن عبد البر القرطبي رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 463ھ) تذکارِ صحابہ کی اپنی معروف کتاب "الاستیعاب" میں حضرت محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر کے تعارف میں لکھتے ہیں:
"أدرك النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وأبوه وجده وأبو جده أَبُو قحافة أربعتهم، وليست هَذِهِ المنقبة لغيرهم، ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا فِي الإِسْلامِ أَدْرَكُوا هُمْ وَأَبْنَاؤُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ إِلا هَؤُلاءِ الأَرْبَعَةُ: أَبُو قحافة، وابنه أبو بكر، وابنه عبد الرحمن بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنُهُ أَبُو عَتِيقِ بْنُ عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي قُحَافَةَ. قال عَبْد الرَّحْمَنِ بْن شيبة: واسم أبى عتيق محمد."
ترجمہ :
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ پانے کا شرف ملا ہے انھیں، ان کے والد، ان کے دادا، اور ان کے دادا(ابوبکر) کے والد ابوقُحافہ، اِن چاروں کو۔ یہ فضیلت ان حضرات کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ یہ امام بخاری نے ذکر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: مجھ سے عبد الرحمن بن شیبہ نے بیان کیا، وہ محمد بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن قاسم سے روایت کرتے ہیں کہ موسی بن عقبہ(امامِ مغازی) نے کہا : اسلام میں ہمیں کسی اور کے بارے میں یہ علم نہیں کہ انھوں نے اور ان کی اولادوں نے (مسلسل) چار لوگوں تک صحابیت کا شرف پایا ہو سواے اِن چار حضرات کے :
ابو قُحافہ، ان کے بیٹے ابو بکر، ان کے بیٹے عبد الرحمن بن أبی بکر، اور ان کے بیٹے ابو عتیق بن عبد الرحمن بن أبی بکر بن ابی قُحافَہ۔
عبد الرحمن بن شیبہ کہتے ہیں کہ ابو عتیق کا نام محمد ہے۔ (الاستیعاب)

⬅️ امام ابو نُعَیم اصفہانی (متوفی 430ھ) اپنی کتاب "معرفۃ الصحابہ" میں لکھتے ہیں:
وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: " لَا نَعْلَمُ أَرْبَعَةً أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ وَأَبْنَاؤُهُمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةَ: أَبُو قُحَافَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَأَبُو عَتِيقِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَاسْمُ أَبِي عَتِيقٍ مُحَمَّدٌ "
(نوٹ : اس عبارت کا بھی تقریبا وہی مفہوم ہے جو الاستیعاب والی عبارت کا ہے، اس لیے ترجمے کی ضرورت نہیں)
⬅️ امام ابن اثیر جزری "اُسْدُ الغابہ" میں لکھتے ہیں:
مُحَمَّد بْن عبد الرحمن بْن أَبِي بكر الصديق -واسمه عَبْد اللہ بْن عثمان- وهو المعروف بأبي عتيق القرشي التيمي، أدرك رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وأبوه: عبد الرحمن، وجده أَبُو بكر الصديق، وجد أبيه أَبُو قحافة لكلهم صحبة، وليست هَذِه المنقبة لغيرهم۔
ترجمہ :
محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر صدیق، قرشی تیمی۔ ابو بکر صدیق کا نام "عبد اللہ بن عثمان" ہے۔
یہ (یعنی محمد بن عبدالرحمن) "ابو عتیق"(کنیت) کے ساتھ مشہور ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ یہ خود، ان کے والد عبد الرحمن، ان کے دادا ابو بکر صدیق، اور ان کے والد کے دادا ابو قُحافَہ، یہ سب کے سب صحابی ہیں۔ یہ فضیلت اِن حضرات کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔
(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ)

خلاصۂ کلام یہ کہ مسلسل چار پشتوں کا مرتبۂ صحابیت پر فائز ہونا ایک ایسا وصفِ کمال ہے جو صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کا خاصہ ہے۔ ان کے سوا کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہیں۔ (ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء.)

((نوٹ : واضح رہے کہ محمد بن عبد الرحمن کی کنیت "ابو عتیق" ہے۔ یہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے ہیں۔ یعنی عبد الرحمن بن ابی بکر کے بیٹے ہیں۔ جب کہ "محمد بن ابی بکر" بلاواسطہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے ہیں، جو سفرِ حجۃ الوداع کے موقعے پر ۲۵ ذی قعدہ ۱۰ھ کو ذوالحلیفہ کے پاس پیدا ہوئے۔ ان کا نام بھی "محمد" ہے، اس لیے بعض لوگوں کو دونوں میں اشتباہ ہو سکتا ہے۔))

بعض لوگوں نے خانوادۂ صدیقِ اکبر کی چار پشتوں کی صحابیت اِس طرح بھی بیان کی ہے:
۱- حضرت ابو بکر کے والد حضرت ابو قُحافَہ،
۲- حضرت ابو بکر صدیقِ اکبر،
۳- حضرت اَسما بنت ابو بکر
۴- حضرت اسما کے بیٹے اور صدیقِ اکبر کے نواسے : سیدنا عبد اللہ بن زُبیر رضی اللہ تعالی عنہما۔
یقینا یہ بیان بھی ایک حقیقت ہے اور یہ بھی خانوادۂ صدیقِ اکبر کی ایک خاصیت ہے۔ بلکہ یہ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ جہاں ایک طرف آپ کے والد صحابی ہیں وہیں دوسری طرف آپ کے بیٹے اور پوتے کے صحابی ہونے کے ساتھ آپ کی بیٹی اور آپ کے نواسے بھی صحابیت کے درجے پر سرفراز ہیں۔
یقینا یہ "آلِ ابو بکر" پر ربِ عظیم کا خاص فضل ہے۔

#نثارمصباحی (خلیل آباد)
۲۲ جمادی الآخرۃ ۱۴۴۲ھ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/859897764580743/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اگر ایک جگہ کچھ لڑکیاں بیٹھی ہوں
اور کسی کا بھائی وہاں سے گزرے
تو کوئی ایک لڑکی اچانک بول اٹھتی ہے
’’شازیہ ! تمہارا بھائی کتنا ہینڈ سم ہے‘
یہ تو ایک دم ہیرو ہے‘‘۔
لیکن اگر ایک جگہ کچھ لڑکے بیٹھے ہوں
اور کسی کی بہن وہاں سے گذرے
تو کیا کوئی لڑکا ایسا جملہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے؟؟؟
نہیں کر سکتا ناں!

اس لیے کہ سوسائٹی نے طے کردیا ہے
کہ ایسے جملے صرف لڑکیاں کہہ سکیں گی‘ لڑکے نہیں

میں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ
ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی
مذہب سے کہیں زیادہ طاقتور سوسائٹی ہوچکی ہے۔
دوسری شادی کرنا کوئی جرم نہیں‘
لیکن بیوی جتنی مرضی مذہبی ہو,
وہ ہر گز ہرگز اِس چیز کو تسلیم نہیں کرتی
اور سوتن کے نام پر خونخوار ہوجاتی ہے۔

اسی طرح مذہب میں شادی کے لیے بالغ مرد و عورت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں‘
90 سال کا بابا20 سال کی لڑکی سے شادی کرسکتاہے
اور 80 سال کی مائی کسی 25 سالہ جوان لڑکے سے شادی کر سکتی ہے‘
لیکن دیکھ لیجئے‘
ایسا جب بھی ہوتاہے
سوسائٹی میں طنز کے تیر چلنا شروع ہوجاتے ہیں
حالانکہ مذہب میں ’’بے جوڑشادی‘‘ کا کوئی تصور نہیں‘
اگر عورت اور مرد بالغ ہیں تو پھر دونوں کی عمروں میں 100 سال کا فرق ہی کیوں نہ ہو‘
وہ شادی کر سکتے ہیں۔
ہماری سوسائٹی میں تو لوگ جوان اولاد کے ہوتے ہوئے مزید اولاد پیدا کرنے سے بھی شرماتے ہیں
کیونکہ سوسائٹی اسے اچھا نہیں سمجھتی۔

مستحق کا زکواۃ لینا اتنا ہی ضروری ہے
جتنا صاحبِ حیثیت کا زکواۃ ادا کرنا‘
لیکن دیکھ لیجئے‘
زکواۃ لینا گالی بن گیا ہے‘
مجبور سے مجبور شریف آدمی بھی ادھارلینا گوارا کر لیتاہے‘
زکواۃ نہیں لیتا ‘
حالانکہ ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی جو شخص زکواۃ نہیں لیتا
وہ بھی ایک طرح سے گنہگار ہی ٹھہرتاہے
کیونکہ اگر وہ زکواۃ نہیں لے گا
تو کوئی دوسرا غیر مستحق یہ رقم لے اڑے گا

۔اصل میں سوسائٹی اپنے آپ میں بڑی ظالم چیز ہے‘
یہ معاشرتی معاملات کو دیکھتے ہوئے اپنے ضابطے خود طے کرلیتی ہے‘
یہ مذہب کو مانتی تو ہے
لیکن صرف عبادات کی حد تک‘
عملی معاملات میں یہ صرف اپنے اصولوں کو ترجیح دیتی ہے۔

پسند کی شادی مذہب میں کوئی جرم نہیں‘
لیکن ہماری سوسائٹی میں یہ اب بھی کسی حد تک ناپسندیدہ چیز ہی سمجھی جاتی ہے۔
مذہب کہتا ہے کہ بچے بالغ ہوجائیں تو جلد سے جلد ان کی شادی کردو‘
لیکن سوسائٹی کہتی ہے کہ صرف بالغ نہیں‘ بلکہ جب اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں تب کرو چاہے جب تک 35 سال تک ہی کیوں نہ پہنچ جائیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت کم ایسے لڑکے لڑکیاں ہیں جو 18 سال کی عمر کو پہنچتے ہی شادی شدہ ہوجاتے ہیں۔
مذہب کہتا ہے کہ اولاد کو حرام کے لقمے سے بچاؤ‘
سوسائٹی کہتی ہے کہ نہیں‘ اولاد کے لیے جوکچھ ہوسکتا ہے کر گذرو ‘
مذہب ذات برادری کو محض پہچان کا ذریعہ قرار دیتا ہے‘
لیکن سوسائٹی اِسے باعثِ فخر قرار دیتی ہے۔

کبھی غور کیجئے گا‘
سوسائٹی کے اصول کوئی نہیں بناتا‘
یہ اپنا آئین خود تحریر کرتی ہے
اور لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں
سوسائٹی نے لوگوں کے ذہن میں یہ بات بھی ڈال دی ھے کہ مذھب کے بغیر رھا جاسکتا ھے لیکن سوسائٹی کے بغیر نہیں

لیکن لوگ یہ بھول گئے ھیں کہ سوسائٹی کے بنا رھا جاسکتا ھے مذہب کے بغیر نہیں
لیکن فی زمانہ ھم مذھب کو اپنی مرضی سے چلانا چاھتے ھیں اور سوسائٹی سے رشتہ توڑنے کو تیار نہیں۔
مذھب میں اپنی طرف سے پیدا کی گئی مرضی اور سوسائٹی کے اسی دوغلے معیار نے ہمارے قول و فعل میں عجیب سا تضاد بھر دیا ہے‘

دین و دنیا کو اپنی چالاکی سے رام کرتے کرتے ہم عجیب سی مخلوق بن گئے ہیں
منقول

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2930160813929893&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سُنّی مسلمانوں کے خلاف شرک و کفر کے نصاب*
اسلامیات کی آڑ میں وہابی فکر کا اسکولوں میں داخلہ افسوس ناک!

اہلِ سُنّت کا ہر عقیدہ کتاب و سُنّت سے ثابت ہے.... نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت، شان، رفعت اور وجہِ شان پہلو سے ایک طبقہ انکار کرتا ہے..... وہ طبقہ قرآن مجید کی ان آیات کو فراموش کر دیتا ہے کہ:

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٓ ٖ اَحَدًا o
اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٝ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاo
"غیب کا جاننے والا وہی ہے، سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو-"
(سورۃ جن:26-27، ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی)

وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں (سورۃ تکویر:24)

ان آیاتِ قرآنی کے انکار پر مبنی مضمون ہمارے طلبہ کو پڑھایا جا رہا ہے....جن طلبہ کے اُجلے ذہنوں میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت کا نقش جمانا تھا؛ محبتوں کی سوغات دینی تھی؛ وہاں عظمتوں کے انکار کی فکر بٹھائی جا رہی ہے.... اور یہ سب مسلم اسٹاف، مسلم ٹیچر، مسلم چئیرمین کے سائے میں ہو رہا ہے..... دیکھو! کیسی سخت عبارت ہے.... جسے اسکولوں میں زبردستی داخل کر دیا گیا ہے:

"کسی بھی مخلوق کو مدد کے لیے پکارنا اور ان کی طرف علمِ غیب کی نسبت کرنا یعنی یہ سمجھنا کہ ان کو غیب کا حال معلوم ہوتا ہے شرک و کفر ہے-"
(اسلامیات نویں، سبق نمبر 5، صفحہ نمبر 17، بھٹکل، مضمون بعنوان یہ بھی شرک ہے)

مسلمانو! دیکھا کیسے مسلمانوں کو بے دھڑک مشرک کہہ دیا..... کفر کا فتویٰ جَڑ دیا......دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ؛ کیا ہم اللہ کی عطا سے اس کے محبوب جانِ مخلوقِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عالمِ غیب نہیں مانتے؟..... بلاشبہ مانتے ہیں.... کیوں کہ یہی قرآن مجید کا عقیدہ ہے..... یہی بزرگوں کا عقیدہ ہے:
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
(اعلیٰ حضرت)
مسلمانو! کیا یہی سبق سکھانے کے لیے بچوں/بچیوں کو اسکول بھیجتے ہو؟...... کیسے ہیں وہ اساتذہ جو بچوں کو یہ زہر پلا رہے ہیں.... شاید ایسی ہی تعلیمات نے عالَم میں اسلام کی منفی شبیہ پیش کی..... اور مہذب و عظیم دین کو بدنام کیا.... اس طرح کی تعلیم تو بانی وہابیت ابن عبدالوہاب نجدی کی ہے..... جنھوں نے دُنیا بھر کے مسلمانوں کو مشرک قرار دیا.... مسلمانوں سے قتال کیا.... جن کی تعلیمات میں تشدد ہے.....جنھوں نے مسلمانوں پر دہشت گردی کی..... ان کے نزدیک حرمین کے مسلمان بھی مشرک تھے.....سعودی مفتی عبدالعزیز بن باز لکھتے ہیں:

’’اہل حرمین اپنے سابقہ موقف مثلاً گنبدوں کی تعظیم، قبروں پر تعمیر، قبروں کے پاس شرک کا ارتکاب اور اہل قبر سے فریاد طلبی پر جمے رہے۔‘‘
(محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت، طبع ریاض، ص۴۹)
’’حرمین شریفین اور یمن میں شرک و بدعت… کا رواج جڑ پکڑ گیا تھا۔‘‘
(حوالہ سابق ص۲۷)
دیکھا! اہلِ حرمین، اہلِ یمن جن کی گٹھی میں ایمان ہے... جن کی زندگیاں اسلام کے لیے وقف تھیں؛ انھیں مشرک کہہ ڈالا.... پھر ان مسلمانوں سے خود ساختہ "جہاد" کیا.....مفتی عبدالعزیز بن باز ’’محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’تن من دھن کی بازی لگا دی۔‘‘(ص۳۰)… ’’دعوت جاری رکھی اور پھر ’’جہاد‘‘ شروع کیا۔‘‘ (ص۳۷)…’’ ۱۱۵۸ھ میں زبان و قلم اور دلیل و برہان کے ساتھ ہی جہاد بالسیف کا آغاز ہو گیا، اور پھر جہاد بالسیف سے دعوت کا کام بدستور جاری رہا۔‘‘(ص۴۳)… ’’تقریباً پچاس سال تک جہاد‘‘ (ص۴۶)(یعنی پچاس سال تک مسلمانوں کے لہو سے ہولی کھیلتے رہے۔)

مسلمانوں کو مشرک سمجھ کر کیے جانے والے تشدد کو "جہاد" نہیں "دہشت گردی" کہا جائے گا.....

آج مسلمانوں کو مشرک قرار دینے والا زہر ننھے ذہنوں میں بِٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے.... اس بابت ہم اسکولوں کی انتظامیہ سے دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ وہ اپنے یہاں ٹٹولیں کہ اسلامیات کے نام پر کہیں "شرک" کے الزام تو نہیں پلائے جا رہے.... کہیں مسلکی عصبیت کو عقیدہ بنا کر عقیدتوں کا استحصال تو نہیں ہو رہا؟.....اہلِ سُنّت کو مالیگاؤں کے ماحول کا جائزہ لینا چاہیے... اور ایسے نصاب سے تعلیمی معاشرے کو پاک کرنا چاہیے..... تا کہ امن و محبت کی پاکیزہ فضا قائم ہو..... نفرتیں دور ہوں.... اور وفاداریِ بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اقبالی پیغام یاد رہے:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

فکر و نظر:
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
***
٦ فروری ٢٠١٩ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2930160940596547&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بحرِ مُتَقارِب میں لکھی گئی یہ منقبتِ صدیق اکبر پتا نہیں کس کی ہے ، لیکن ہے کمال ۔
ہوسکے تو اسے ایک بار پڑھ لیجیے ۔

جب ہم پیارے صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکرِ خیر کرتے ہیں تو حضور خوش ہوتے ہیں ، اور جب آپ ﷺ خوش ہوتے ہیں تو خداے پاک ﷻ بھی خوش ہوتا ہے ۔

میں نے تو اس منقبت کو بار بار پڑھا ہے ۔۔۔‌‌‌۔۔۔۔۔ پہلے ایک‌ ایک شعر سمجھ کر پڑھا ، پھر ایک ایک شعر کی تقطیع کی ، پھر آپ کی آسانی کے لیے حرکات ( زبر زیر پیش ) کا اہتما‌م کیا ؛ کیوں کہ آج کل لوگ الفاظ کو بہت غلط پڑھتے ہیں ، بعض دفعہ تو ایسا غلط پڑھتے ہیں کہ معنیٰ ہی بدل جاتا ہے ۔
مثلاً ایک لفظ انبیا ہی لے لیجیے:
انبیا نبی کی جمع ہے ، جس کا درست تلفظ ب کے نیچے زیر کے ساتھ ہے ، یعنی: اَنْبِیَا ۔
اگر اس کی ب کو ساکن کر کے ( اَنبْیا ) پڑھ دیا جائے تو اس کا معنی کچا آم بن جائے گا ۔
پھر شعر میں تو درست تلفظ بہت زیادہ ملحوظ رہنا چاہیے ، یہاں اگر ساکن حرف کو متحرک کردیں گے اور متحرک کو ساکن کردیں گے تو شعر ہی غلط ہوجائے گا ۔

🌴منقبت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ 🌴

ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣَﺪَﺩﮔﺎﺭ ، ﭘﮩﻼ ﺻﺤﺎﺑﯽ
ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗَﺪَﻡ ﭘﺮ ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ

ﻭﮦ ﺍﻓﻀﻞ ﺑَﺸَﺮ ﺑﻌﺪ ﺍَﺯ ﺍَﻧﺒِﯿﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺻﺪﺍﻗﺖ ، ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﻭَﻓﺎ ﮨﮯ

صحابی وہ ایسا ، ﺍِﻣﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻋﻠﯽٰ
ﻣﺤﻤﺪ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺩﻡ ﻭﻓﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ

ﻭﮦ ﺻِﺪِّﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ کہ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟَﻘَﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋَﺮَﺏ ﮨﮯ

ﺑَﺸَﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﻣِﻌﯿﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮ ﺍ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﺍُﻭﻧﭽﺎ ﻭﮦ ﻣِﯿﻨﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮﺍ

ﭼَﭩﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻗَﺪَﻡ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﺍ ایک ﺑﺎﺏِ ﺣَﺮَﻡ ﺗﮭﺎ

ﺧُﺪﺍ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ، ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ
کہیں ﻗُﺪﺳﯽ ﺁﻣﯿﻦ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ

ﺯمیں ﭘﺮ ﻭﮦ ﻋﺮﺵِ ﺑَﺮﯾﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧِﺮﺍﻻ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺟُﺪﺍ ﮨﮯ

ﺩُﻋﺎ ﮐﮯ لیے ﻭﮦ ﺍَﮔَﺮ ﻟَﺐ ﮨِﻼ ﺩﮮ
ﺧُﺪﺍ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﻟُﭩﺎ ﺩﮮ

ﻭﮨﯽ ’’ ﺛﺎﻧِﯽَ ﺍﺛْﻨَﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﮨﮯ ﻣُﺨﺎﻃَﺐ
ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ لیے ﮨﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﻣَﺮﺍﺗِﺐ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ؟ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ !
ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ؟ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ !

ﺭِﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻗَﺪْﻣﻮﮞ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﻭﮦ ﻻ ﮐﺮ
ﭼﻠﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ

ﺑَﺠُﺰ ﺍَﻧﺒﯿﺎ ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ
ﻭﮨﯽ ﺻﺮﻑ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ، ﻭﮨﯽ ﮨﮯ !

ﮐﻮﺋﯽ ﺍُﻣَّﺘﯽ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺘﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨَﻤﺴَﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ

ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ’’ ﺻِﺪِّﯾﻖ ‘‘ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ
ﺩﯾﮯ ﮨﯿﮟ ﻣَﮕَﺮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺭﺗﺒﮯ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺧُﺪﺍ ﺳﮯ ﺩُﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﻣُﺼﻄﻔﯽٰ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ

ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﭘﺮ

ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ، ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣِﺮﺍ ﮨﺮ ﻧَﻔَﺲ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ

ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﻟَﻮﭨﻮﮞ ، ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺁﺅﮞ
ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ ، ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ

ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﮐﺮِ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﮨﮯ
ﻭﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﻢِ ﮔَﺮﺍﻣﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺳَﻤﻨﺪﺭ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ
ﻭﮦ ﻏﻢ ﺧﻮﺍﺭ ﭘﮩﻼ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ

ﻧﺒﯽ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮨﭩﺎﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻧﺒﯽ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯿﮟ ﮨﮯ

ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﯽ ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ

ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ، ﺑﭽﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ
ﻭﮦ ﺑﺎﺭِﺧِﻼﻓﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ

ﺻﺪﺍﻗﺖ ، ﺷُﺠﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺍِﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ

ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﻓِﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺣﯿﺎﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ

ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﻓَﻘَﻂ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣُﺠﺎہِد ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﮨﮯ ﻏﺎﺯﯼ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻧﻤﺎﺯﯼ

ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﭼﺮﺍﻍِ ﻭﻓﺎ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ
ﺣﺒﯿﺐِ ﺣﺒﯿﺐِ ﺧﺪﺍ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ

ﺗِﺮﺍ ﺛﺎﻧﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﺭﮨﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﻭﮦ ﻓَﻮﻻﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﻭﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑُﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ

ﺭِﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺩَﺭ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ

ﻣُﺤﻤﺪ ﻣُﺤﻤﺪ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ

ﻭﮦ ﺣُﮑﻢِ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺑﮩﺖ ﺟﺎﮔﻨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ

ﻣﻘﺎﻡِ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻧَﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﺍﻋﯽ
ﺑِﻼﺧﻮﻑ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺍُﮌﺍﺋﯽ

ﺧﻼﻓﺖ ﭘﮧ ﺣﻖ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﺛﺎﺑِﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ

ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺍِﻃﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﻃﺎﻋﺖ
ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ

ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻭَﻓﺎ ﮐﺎ ﺳَﻤﻨﺪﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ
ﺗﺠﮭﮯ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺍﮎ ﻣُﻨَﻮَّﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ

ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺑُﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ
ﺗُﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻣﯿﮟ ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ !!

ﻭﮦ ﺻِﺪّﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟَﻘَﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋَﺮَﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣَﺪَﺩﮔﺎﺭ ، ﭘﮩﻼ ﺻَﺤﺎﺑﯽ
ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗَﺪَﻡ پر ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ

✍️لقمان شاہد
6-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3083064561973712&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✮ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی✮
بسم الله الرحمن الرحیم

الصبر

قال الله تعالی فی القرآن العظیم

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ .
﴿ البقرة ١٥٣ ﴾

قال صاحب روح البیان تحت هذه الآیة
لم یقل الله تعالی مع المصلین لاشتمال الصلوة علی الصبر ، فالصبر عند الله محبوب ، وكنز لایفنی دائما ، وحسنة من حسنات ، وثمرة من ثمرات ، وعلامة من علامات الصالحین ، وثروة من ثروات الایمان ، ونعمة من نعم الله تعالی ، فمن اخذ بطرف الصبر نال هدفه ، ومن ترك ذیله ضل عن الصراط المستقیم ، ومن صبر علی اوقات الحزن والهم رضی الله تعالی عنه .

زملائی الافاضل !
قال علی رضی الله تعالی عنه :
الصبر ركن من الایمان

وقال ابن مسعود رضی الله تعالی عنه :
الصبر نصف من الایمان .

و قال جنید البغدادی رحمة الله تعالی علیه :
لایستطیع المؤمن ان یجد حلاوة الایمان بغیر الصبر علی المصائب .

ایها الناس !
اعلموا ان معنی الصبر فی اللغة الحبس .

وفی الاصطلاح ، ان یصبر الانسان علی ما كتب الله فی ذمته ویحبس نفسه عن لذات الدنیا ، ویقتل اهواءه ، ویكتفی مایجده .

فیاایها الناس !
جعل الله تعالی بعض الناس امیرا و غنیا ، والبعض فقیرا معدما ، ولاینبغی للانسان ان یعتقد بان الله تعالی لم یعدل بینهم بل ینبغی لهم فی كل مرحلة ان یشكروه ، ویتمسكوا بحبل الصبر ،
لان النبی صلی الله تعالی علیه وسلم قال :
عجبا لامر المؤمن ، ان امره كله خیر ، ولیس ذاك لاحد الا للمؤمن ، ان اصابته سراء شكر ، فكان خیرا له ، وان اصابته ضراء ، صبر فكان خیرا له .
الصحیح المسلم .


اخوانی الاعزاء !
الصبر اصعب شیئ علی النفس ، واكرهه علی القلب ، وافضل الاعمال مااشق علی النفس .
والصبر من خواص الانسان لانه یملك العقل والشهوة .
واما الحیوانات فلا عقل لها .
واما الملائكة فهم مجردون من الشهوة ، وهذا الامر صعب لصاحب القدرة ،
ولكن للصابرین درجات كثیرة ،
لقول ابن عباس رضی الله تعالی عنه

الصبر فی القرآن علی اوجه :

صبر علی اداء فرائض الله .
صبر علی محارم الله تعالی .
صبر فی المصیبة عند الصدمة الاولی .
فمن صبر علی اداء فرائض الله تعالی ، فله ثلاث مأة درجة .
ومن صبر عن محارم الله ،
فله ست مأة درجة .
ومن صبر فی المصیبة عندالصدمة الاولی ،
فله تسع مأة درجة .


زملائی الافاضل !

قد وعد الله تعالی ثوابا عظیما لمن صبر فی البؤس ، و الالم ، والهم ، والحزن ، والكرب ، والصعوبة ، والمشقة ، والشدة ، والمحنة ، والاضطراب والازعاج ،

كقوله تعالی :
وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ﴿ البقرة ١٥٥ ﴾
أی بان یعطیهم ثوابا عظیما .

فعلینا ان نصبر علی ما ابتلینا فی الدنیا ، وننهج منهج الانبیاء والمرسلین والصالحین فیه .

وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین .

──────⊱◈◈◈⊰──────
محمد ضياءالدين القادري الحنفي
بهرائج ، یوفی ، الهند
──────⊱◈◈◈⊰──────
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM