Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جن کا بیان 📜
بہارِ شریعت جلد 1 حصہ اول
✍ سجاد بشیر مدنی صاحب
جن آگ سے پیدا کیے گٸے ہیں
ان میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گٸ ہے کہ جو شکل چاہے بن جاٸیں۔۔۔
ان کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں۔۔۔
ان کے شریروں کو شیطان کہتے ہیں۔۔۔
یہ سب انسان کی طرح ذی عقل اور ارواح و اجسام والے ہوتے ہیں۔۔۔
ان میں توالد و تناسل ہوتا ہے۔( یعنی ان کے یہاں اولاد پیدا ہوتی ہے اور نسل چلتی ہے)
یہ کھاتے،پیتے،مرتے،جیتے ہیں۔۔
ان میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی۔۔۔
مگر ان کے کفار انسان کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔۔۔
اور ان میں مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی۔۔۔
ان کے وجود کا انکار کرنا یا بدی(براٸی) کی قوت کا نام جن یا شیطان رکھنا
کفر ہے
جاری ہے.......
اردو تحریر آفیشل ٹیلی گرام چینل
سبسکرائب کریں اور شیئر کریں
Urdu Tahreer ʸᵒᵘᵀᵘᵇᵉ Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
بہارِ شریعت جلد 1 حصہ اول
✍ سجاد بشیر مدنی صاحب
جن آگ سے پیدا کیے گٸے ہیں
ان میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گٸ ہے کہ جو شکل چاہے بن جاٸیں۔۔۔
ان کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں۔۔۔
ان کے شریروں کو شیطان کہتے ہیں۔۔۔
یہ سب انسان کی طرح ذی عقل اور ارواح و اجسام والے ہوتے ہیں۔۔۔
ان میں توالد و تناسل ہوتا ہے۔( یعنی ان کے یہاں اولاد پیدا ہوتی ہے اور نسل چلتی ہے)
یہ کھاتے،پیتے،مرتے،جیتے ہیں۔۔
ان میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی۔۔۔
مگر ان کے کفار انسان کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔۔۔
اور ان میں مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی۔۔۔
ان کے وجود کا انکار کرنا یا بدی(براٸی) کی قوت کا نام جن یا شیطان رکھنا
کفر ہے
جاری ہے.......
اردو تحریر آفیشل ٹیلی گرام چینل
سبسکرائب کریں اور شیئر کریں
Urdu Tahreer ʸᵒᵘᵀᵘᵇᵉ Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عورتوں کو لِکھنا سِکھانا :
سیدی اعلحضرت نے " سنتِ نصاری" قرار دیا اور اس کے رد میں ایک مفصل فتویٰ لکھا ۔۔۔ اس کے تحت متعدد نصوص ذکر فرمائیں
مفتی نظام الدین دامت برکاتہم العالیہ نے حالات زمانہ کی رعایت ، اسبابِ ستہ کے اصول و قوانین کی روشنی میں اسے جائز و روا رکھا۔۔۔۔
نہ میں اہلِ علم ہوں، نہ مجھے ابحاث و تمحیص آتی ہے میں ابھی اس میدان میں بچہ ہی ہوں اس لئے اہل علم مجھ
سے چشم پوشی فرمائیں
یہ فقہ حنفی سے عدول نہیں بلکہ عدل ہے!
ابنِ حجر
2/2/2021ء
اردو تحریر آفیشل ٹیلی گرام چینل
سبسکرائب کریں اور شیئر کریں
Urdu Tahreer ʸᵒᵘᵀᵘᵇᵉ Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
سیدی اعلحضرت نے " سنتِ نصاری" قرار دیا اور اس کے رد میں ایک مفصل فتویٰ لکھا ۔۔۔ اس کے تحت متعدد نصوص ذکر فرمائیں
مفتی نظام الدین دامت برکاتہم العالیہ نے حالات زمانہ کی رعایت ، اسبابِ ستہ کے اصول و قوانین کی روشنی میں اسے جائز و روا رکھا۔۔۔۔
نہ میں اہلِ علم ہوں، نہ مجھے ابحاث و تمحیص آتی ہے میں ابھی اس میدان میں بچہ ہی ہوں اس لئے اہل علم مجھ
سے چشم پوشی فرمائیں
یہ فقہ حنفی سے عدول نہیں بلکہ عدل ہے!
ابنِ حجر
2/2/2021ء
اردو تحریر آفیشل ٹیلی گرام چینل
سبسکرائب کریں اور شیئر کریں
Urdu Tahreer ʸᵒᵘᵀᵘᵇᵉ Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
https://t.me/SirfUrduTahrir/8107
بیکار کاموں اور باتوں سے خود کو بچائیے - پارٹ 1
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(المؤمنون۔۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف اِلتفات نہیں کرتے۔
اس آیت کے تحت فلاح پانے والے مؤمنین کا وصف تفسیر خازن میں بیان کیا گیا ہےکہ
"ھو كل باطل ولهو"۔ھکذا مفھوم تفسیر البغوی و تفسیر الرازی۔
کہ وہ ہر لہو و باطل سے بچتے ہیں،
تفسیر ابن کثیر میں ہے۔
"ما لا فائدة فيه من الأقوال والأفعال"
ایسی باتیں اور کام کہ جن میں کوئی فائدہ نہ ہو۔
لَغْو سے کیا مراد ہے؟
صراط الجنان میں ہے۔
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’لغو سے مراد ہر وہ قول، فعل اور ناپسندیدہ یا مباح کام ہے جس کا مسلمان کودینی یا دُنْیَوی کوئی فائدہ نہ ہو جیسے مذاق مَسخری،بیہودہ گفتگو،کھیل کود،فضول کاموں میں وقت ضائع کرنا، شہوات پوری کرنے میں ہی لگے رہنا وغیرہ وہ تمام کام جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کو اپنی آخرت کی بہتری کے لئے نیک اعمال کرنے میں مصروف رہنا چاہئے یا وہ اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے بقدرِ ضرورت (حلال) مال کمانے کی کوشش میں لگا رہے۔ ( صاوی، المؤمنون، تحت الآیۃ :۳ ،۴ / ۱۳۵۶-۱۳۵۷ )
(صراط الجنان تحت الآیۃ: 3 المؤمنون)
اَحادیث میں بھی لا یعنی اور بیکار کاموں سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے: جیسے کہ مشکاۃ المصابیح میں ہے۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ» ".
رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَحْمَدُ.
(مشکاۃالمصابیح کتاب الآداب حدیث4840)
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور تاجدارِ رسالت ،شہنشاہِ نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’کسی شخص کے اسلام کی اچھائی میں سے یہ ہے کہ وہ لایعنی چیز چھوڑ دے۔‘‘
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
یعنی جوچیز کار آمد نہ ہو اس میں نہ پڑے، زبان و دل و جوارح کو بے کار باتوں کی طرف متوجہ نہ کرے۔
(بہار شریعت حصہ 16)
قَالَ النَّوَوِيُّ: هَذَا أَحَدُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي عَلَيْهَا مَدَارُ الْإِسْلَامِ۔
امام نووی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن پر اسلام کا دارو مدار ہے۔
(مرقات المفاتیح تحت حدیث 4840)
عبد مجتبیٰ .......... جاری۔۔۔۔۔
Urdu Tahreer YouTube Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
بیکار کاموں اور باتوں سے خود کو بچائیے - پارٹ 1
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(المؤمنون۔۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف اِلتفات نہیں کرتے۔
اس آیت کے تحت فلاح پانے والے مؤمنین کا وصف تفسیر خازن میں بیان کیا گیا ہےکہ
"ھو كل باطل ولهو"۔ھکذا مفھوم تفسیر البغوی و تفسیر الرازی۔
کہ وہ ہر لہو و باطل سے بچتے ہیں،
تفسیر ابن کثیر میں ہے۔
"ما لا فائدة فيه من الأقوال والأفعال"
ایسی باتیں اور کام کہ جن میں کوئی فائدہ نہ ہو۔
لَغْو سے کیا مراد ہے؟
صراط الجنان میں ہے۔
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’لغو سے مراد ہر وہ قول، فعل اور ناپسندیدہ یا مباح کام ہے جس کا مسلمان کودینی یا دُنْیَوی کوئی فائدہ نہ ہو جیسے مذاق مَسخری،بیہودہ گفتگو،کھیل کود،فضول کاموں میں وقت ضائع کرنا، شہوات پوری کرنے میں ہی لگے رہنا وغیرہ وہ تمام کام جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کو اپنی آخرت کی بہتری کے لئے نیک اعمال کرنے میں مصروف رہنا چاہئے یا وہ اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے بقدرِ ضرورت (حلال) مال کمانے کی کوشش میں لگا رہے۔ ( صاوی، المؤمنون، تحت الآیۃ :۳ ،۴ / ۱۳۵۶-۱۳۵۷ )
(صراط الجنان تحت الآیۃ: 3 المؤمنون)
اَحادیث میں بھی لا یعنی اور بیکار کاموں سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے: جیسے کہ مشکاۃ المصابیح میں ہے۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ» ".
رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَحْمَدُ.
(مشکاۃالمصابیح کتاب الآداب حدیث4840)
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور تاجدارِ رسالت ،شہنشاہِ نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’کسی شخص کے اسلام کی اچھائی میں سے یہ ہے کہ وہ لایعنی چیز چھوڑ دے۔‘‘
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
یعنی جوچیز کار آمد نہ ہو اس میں نہ پڑے، زبان و دل و جوارح کو بے کار باتوں کی طرف متوجہ نہ کرے۔
(بہار شریعت حصہ 16)
قَالَ النَّوَوِيُّ: هَذَا أَحَدُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي عَلَيْهَا مَدَارُ الْإِسْلَامِ۔
امام نووی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن پر اسلام کا دارو مدار ہے۔
(مرقات المفاتیح تحت حدیث 4840)
عبد مجتبیٰ .......... جاری۔۔۔۔۔
Urdu Tahreer YouTube Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیکار کاموں اور باتوں سے
خود کو بچائیے پارٹ 2
وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ: «لَيْسَ يَتَحَسَّرُ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَّا عَلَى سَاعَةٍ مَرَّتْ بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهَا» ،
اور حدیث پاک میں آیا ہے اہل جنت کو کوئی حسرت نہیں ہوگی سوائے اس گھڑی کے جس کو انہوں نے گزارا اور اس گھڑی میں اللہ کا ذکر نہیں کیا ۔ آو کما قال
(مرقات المفاتیح کتاب الآداب تحت حدیث 4840)
پیارے بھائیوں!بے کار کاموں میں سے ایک گفتگو کرنا بھی ہے ،
یاد رہے کہ زبان کی حفاظت و نگہداشت اور فضولیات ولَغْویات سے اسے باز رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ زیادہ سرکشی اور سب سے زیادہ فساد و نقصان اسی زبان سے رونما ہوتا ہے اور جو شخص زبان کو کھلی چھٹی دے دیتا اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے تو شیطان اسے ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔زبان کی حفاظت کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے نیک اعمال کی حفاظت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص زبان کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ ہر وقت گفتگو میں مصروف رہتا ہے تو ایسا شخص لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہونے سے بچ نہیں پاتا، یونہی اس سے کفریہ الفاظ نکل جانے کا بہت اندیشہ رہتا ہے اور یہ دونوں ایسے عمل ہیں جس سے بندے کے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔
(صراط الجنان)
حضرت امام حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے کسی شخص نے کہا: اے ابو سعید!فلاں شخص نے آپ کی غیبت کی ہے۔ یہ سن کر آپ نے غیبت کرنے والے آدمی کو کھجوروں کا تھال بھر کر بھیجا اور ساتھ میں یہ پیغام بھیجا:سنا ہے کہ تم نے مجھے اپنی نیکیاں تحفے میں دی ہیں ،تو میں نے بھی چاہا کی تمہیں اس کا بدلہ دے دوں۔
منقول ہے کہ حضرت سید نا ابن مبارک رحمۃ اللہ تعالی کے پاس غیبت کا تذکرہ ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالی نے فرمایا: اگر میں غیبت کرتا تو اپنی ماں کی ضرور کرتا کیوںکہ وہ میری نیکیوں کی زیادہ حقدار ہے۔۔
(ملخصا منھاج العابدین، ص143تا144, مکتبۃ المدینہ)
جاری۔۔۔
عبد مجتبیٰ
اردو تحریر آفیشل ٹیلی گرام چینل
سبسکرائب کریں اور شیئر کریں
Urdu Tahreer YouTube Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
خود کو بچائیے پارٹ 2
وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ: «لَيْسَ يَتَحَسَّرُ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَّا عَلَى سَاعَةٍ مَرَّتْ بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهَا» ،
اور حدیث پاک میں آیا ہے اہل جنت کو کوئی حسرت نہیں ہوگی سوائے اس گھڑی کے جس کو انہوں نے گزارا اور اس گھڑی میں اللہ کا ذکر نہیں کیا ۔ آو کما قال
(مرقات المفاتیح کتاب الآداب تحت حدیث 4840)
پیارے بھائیوں!بے کار کاموں میں سے ایک گفتگو کرنا بھی ہے ،
یاد رہے کہ زبان کی حفاظت و نگہداشت اور فضولیات ولَغْویات سے اسے باز رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ زیادہ سرکشی اور سب سے زیادہ فساد و نقصان اسی زبان سے رونما ہوتا ہے اور جو شخص زبان کو کھلی چھٹی دے دیتا اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے تو شیطان اسے ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔زبان کی حفاظت کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے نیک اعمال کی حفاظت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص زبان کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ ہر وقت گفتگو میں مصروف رہتا ہے تو ایسا شخص لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہونے سے بچ نہیں پاتا، یونہی اس سے کفریہ الفاظ نکل جانے کا بہت اندیشہ رہتا ہے اور یہ دونوں ایسے عمل ہیں جس سے بندے کے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔
(صراط الجنان)
حضرت امام حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے کسی شخص نے کہا: اے ابو سعید!فلاں شخص نے آپ کی غیبت کی ہے۔ یہ سن کر آپ نے غیبت کرنے والے آدمی کو کھجوروں کا تھال بھر کر بھیجا اور ساتھ میں یہ پیغام بھیجا:سنا ہے کہ تم نے مجھے اپنی نیکیاں تحفے میں دی ہیں ،تو میں نے بھی چاہا کی تمہیں اس کا بدلہ دے دوں۔
منقول ہے کہ حضرت سید نا ابن مبارک رحمۃ اللہ تعالی کے پاس غیبت کا تذکرہ ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالی نے فرمایا: اگر میں غیبت کرتا تو اپنی ماں کی ضرور کرتا کیوںکہ وہ میری نیکیوں کی زیادہ حقدار ہے۔۔
(ملخصا منھاج العابدین، ص143تا144, مکتبۃ المدینہ)
جاری۔۔۔
عبد مجتبیٰ
اردو تحریر آفیشل ٹیلی گرام چینل
سبسکرائب کریں اور شیئر کریں
Urdu Tahreer YouTube Channel
https://youtu.be/c86sLyArfkc
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قصیدہ بردہ شریف کی روحانی برکات
’’قصیدہ بردہ شریف ‘‘( مؤلفہ حضرت امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اﷲ علیہ المتوفی695،ہجری )جو عربی زبان میں مدحت مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر مشتمل ، علوم وفنون کا جامع ،عربی ادب کا شاہکار اور زبان وبیان کے لحاظ سے انتہائی فصیح وبلیغ قصیدہ ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ قصیدہ بارگاہ ِ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں مقبول اور اتنا مقبول ہے کہ اِس کے اشعار دربارِ خداوندی میں مستجاب اور روحانی فوائد کا خزینہ ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق کتاب اﷲ کے بعد قصائد میں سب سے زیادہ شرحیں اِس قصیدے کی لکھی گئیں،یہ ایسا قصیدہ ہے کہ فصاحت وبلاغت اور اِخلاص ومحبت کے لحاظ سے حضور علیہ السلام کی نعت میں آج تک اِ س شان کا کوئی قصیدہ نہیں لکھا گیا یہی وجہ ہے کہ اِس قصیدہ کا ایک ایک شعر بلکہ ایک ایک لفظ پُر تاثیر ہے ،بعض شعروں کی تاثیر تو ایسی ثابت ہوئی ہے کہ بڑے بڑے صالحین اور عام لوگوں نے اُس کے مفید ہونے کی متواتر شہادت دی جس کے بارے میں شک کرنا خلاف اِخلاص ہے ۔ یاد رہے کسی بھی عمل یا وظیفہ سے کماحقہ روحانی فیوض و برکات اُس وقت حاصل کئے جاسکتے ہیں جب اُس عمل کو اُس کے تمام آداب واحترام سے بجا لایاجائے ۔شارح قصیدہ بردہ علامہ عمربن احمد الخرپوتی رومی المتوفی1299ہجری نے مکمل طو ر پر فوائد وبرکات حاصل کرنے کی آٹھ شرائط بیان فرمائی ہیں ، وہ یہ ہیں: (1)پڑھنے والا وضو کرکے (2)قبلہ رُو ہوکر (3)صحیح مخارج واِعراب کے ساتھ (4) اِس کے معانی کو سمجھ کر اور اِن میں غور وفکر کرتے ہوئے (5) نظم کے اَنداز میں پڑھتے ہوئے نہ کہ نثر میں ( 6)اِ سے زبانی یاد کرے (7)اِس قصیدہ کو بطور عمل پڑھنے سے قبل کسی عامل کامل بزرگ سے اجازت لے کر (8) ہر شعر کے ساتھ صلوٰۃ وسلام والا پہلا مکمل شعر مَوْلَایَ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّہِمِ(عصیدۃ الشھدۃ شرح قصیدۃ البردہ صفحہ 38) قصیدہ بردہ کے شارحین نے ہرہر شعر کے اثرات وبرکات کا تذکرہ اپنی شروحات میں کیا ہے ۔یہ قصیدہ بے پناہ روحانی خوبیوں کا مخزن ہے جس مکان میں یہ قصیدہ موجود ہوگا وہ ہر بلا سے محفوظ رہے گا اور اِس کا پڑھنا قضائے حاجات اور حل مشکلات کے لئے بے حد نافع ومجرب ہے ۔ شیخ ابراہیم بن محمد باجوری علیہ الرحمۃ المتوفی 1276ہجری اور علامہ عمر بن احمد الخرپوتی المتوفی 1299ہجری نے اِ س قصیدہ کی شرح میں بعض ابیات کے جو فوائد وتاثیرات کو بیان فرمایا ہے اُن کا مختصر اردو ترجمہ نذرقارئین کیا جاتا ہے ۔ان شاء اﷲ اِن اعمال کی برکت سے ہر شخص اپنی مراد کو پہنچے گا۔ (1)قصیدہ بردہ کے پہلے تین اشعار کو ہرن کی کھال پر لکھ کر ایسے شخص کے بازو پر باندھاجائے جس کی زبان میں لکنت کا مرض ہو تو زبان کی لکنت دور ہوجائے گی ۔اشعار درج ذیل ہیں اَمِنْ تَذَکُّرِ جِیْرَانٍ بِذِیْ سَلَمِ مَزَجْتَ دَمْعًاجَرٰی مِنْ مُقْلَۃٍ بِدَمِ اَمْ ھَبَّتِ الرِّیْحُ مِنْ تِلْقَائِ کَاظِمَۃٍ وَاَوْمَضَ الْبَرْقُ فِی الظَّلْمَائِ مِنْ اِضَمِ فَمَا لِعیْنَیْکَ اِنْ قُلْتَ اکْفُفَا ھَمَتَا وَمَا لِقَلْبِکَ اِنْ قُلْتَ اسْتَفِقْ یَھِمِ (2)علامہ خرپوتی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اگر کسی کو ضعف قلب ،سانس کی تنگی یعنی دمہ کامرض ہو تو اِس شعر کے حروف(یعنی ہر حرف کو علیحدہ علیحدہ ل و ل اال ہ وی …الخ کرکے ) سیب پرلکھ کر کھلائیں تو چند دِنوں میں صحت یاب ہوگا ۔ لَوْلَاالْھَوٰی لَمْ تُرِقْ دَمْعًا عَلٰی طَلَل وَلَا اَرِقْتَ لِذِکْرِالْبَانِ وَالْعَلَمِ (3)اہل علم فرماتے ہیں قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو بعد نماز عشا سونے سے قبل پڑھتے رہیں یہاں تک کہ نیند کا غلبہ ہوجائے تو ان شاء اﷲ خواب میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوگی ۔وہ شعر درج ذیل ہے نَعَمْ سَرٰی طَیْفُ مَنْ اَھْوٰی فَاَرَّقَنِیْ وَالْحُبُّ یَعْتَرِضُ اللَّذَّاتِ بِالْاََلَمِ (4) ہر جائز حاجت ومقصد کے لیے قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو تین مرتبہ پڑھ کر وہ کام شروع کریں تو ان شاء اﷲ وہ مقصد وحاجت پوری ہوگی ۔وہ شعر درج ذیل ہے فَکَیْفَ تُنْکِرُ حُبًّا بَعْدَ مَا شَھِدَتْ بِہٖ عَلَیْکَ عُدُوْلُ الدَّمْعِ وَالسَّقَمِ (5)اگر دشمن کا ڈر ہو یا کسی سے تکلیف واذیت پہنچنے کا خوف ہو تو ایک گول کاغذ کے کنارے کنارے اِس شعر کو لکھ کر عمامہ یا ٹوپی میں رکھیں اور یہ شعر پیشانی کی طرف رہے ان شاء اﷲ دشمن ذلیل ورسوا ہوگا۔وہ شعر درج ذیل ہے مَحَضْتَنِی النُصْحَ لٰکِنْ لَّسْتُ اَسْمَعُہٗ اِنَّ الْمُحِبَّ عَنِ الْعُذَّالِ فِیْ صَمَمِ (6) اگر کسی کی دینی ودنیاوی حاجات ہوں اسے چاہیے کہ ایک ہی مجلس میں قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو ایک ہزار مرتبہ پڑھیں تو اﷲ تعالیٰ اُس کی ہر حاجت پوری فرمائے گا ۔وہ شعر درج ذیل ہے ھُوَ الْحَبِیْبُ الَّذِیْ تُرْجٰی شَفَاعَتُہٗ لِکُلِّ ھَوْلٍ مِّنَ الْاَھْوَالِ مُقْتَحِمِ (7) جملہ مصائب سے حفاظت کے لئے قصیدہ بردہ شریف کے اِسشعر کو روزانہ ایک ہزار
’’قصیدہ بردہ شریف ‘‘( مؤلفہ حضرت امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اﷲ علیہ المتوفی695،ہجری )جو عربی زبان میں مدحت مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر مشتمل ، علوم وفنون کا جامع ،عربی ادب کا شاہکار اور زبان وبیان کے لحاظ سے انتہائی فصیح وبلیغ قصیدہ ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ قصیدہ بارگاہ ِ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں مقبول اور اتنا مقبول ہے کہ اِس کے اشعار دربارِ خداوندی میں مستجاب اور روحانی فوائد کا خزینہ ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق کتاب اﷲ کے بعد قصائد میں سب سے زیادہ شرحیں اِس قصیدے کی لکھی گئیں،یہ ایسا قصیدہ ہے کہ فصاحت وبلاغت اور اِخلاص ومحبت کے لحاظ سے حضور علیہ السلام کی نعت میں آج تک اِ س شان کا کوئی قصیدہ نہیں لکھا گیا یہی وجہ ہے کہ اِس قصیدہ کا ایک ایک شعر بلکہ ایک ایک لفظ پُر تاثیر ہے ،بعض شعروں کی تاثیر تو ایسی ثابت ہوئی ہے کہ بڑے بڑے صالحین اور عام لوگوں نے اُس کے مفید ہونے کی متواتر شہادت دی جس کے بارے میں شک کرنا خلاف اِخلاص ہے ۔ یاد رہے کسی بھی عمل یا وظیفہ سے کماحقہ روحانی فیوض و برکات اُس وقت حاصل کئے جاسکتے ہیں جب اُس عمل کو اُس کے تمام آداب واحترام سے بجا لایاجائے ۔شارح قصیدہ بردہ علامہ عمربن احمد الخرپوتی رومی المتوفی1299ہجری نے مکمل طو ر پر فوائد وبرکات حاصل کرنے کی آٹھ شرائط بیان فرمائی ہیں ، وہ یہ ہیں: (1)پڑھنے والا وضو کرکے (2)قبلہ رُو ہوکر (3)صحیح مخارج واِعراب کے ساتھ (4) اِس کے معانی کو سمجھ کر اور اِن میں غور وفکر کرتے ہوئے (5) نظم کے اَنداز میں پڑھتے ہوئے نہ کہ نثر میں ( 6)اِ سے زبانی یاد کرے (7)اِس قصیدہ کو بطور عمل پڑھنے سے قبل کسی عامل کامل بزرگ سے اجازت لے کر (8) ہر شعر کے ساتھ صلوٰۃ وسلام والا پہلا مکمل شعر مَوْلَایَ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّہِمِ(عصیدۃ الشھدۃ شرح قصیدۃ البردہ صفحہ 38) قصیدہ بردہ کے شارحین نے ہرہر شعر کے اثرات وبرکات کا تذکرہ اپنی شروحات میں کیا ہے ۔یہ قصیدہ بے پناہ روحانی خوبیوں کا مخزن ہے جس مکان میں یہ قصیدہ موجود ہوگا وہ ہر بلا سے محفوظ رہے گا اور اِس کا پڑھنا قضائے حاجات اور حل مشکلات کے لئے بے حد نافع ومجرب ہے ۔ شیخ ابراہیم بن محمد باجوری علیہ الرحمۃ المتوفی 1276ہجری اور علامہ عمر بن احمد الخرپوتی المتوفی 1299ہجری نے اِ س قصیدہ کی شرح میں بعض ابیات کے جو فوائد وتاثیرات کو بیان فرمایا ہے اُن کا مختصر اردو ترجمہ نذرقارئین کیا جاتا ہے ۔ان شاء اﷲ اِن اعمال کی برکت سے ہر شخص اپنی مراد کو پہنچے گا۔ (1)قصیدہ بردہ کے پہلے تین اشعار کو ہرن کی کھال پر لکھ کر ایسے شخص کے بازو پر باندھاجائے جس کی زبان میں لکنت کا مرض ہو تو زبان کی لکنت دور ہوجائے گی ۔اشعار درج ذیل ہیں اَمِنْ تَذَکُّرِ جِیْرَانٍ بِذِیْ سَلَمِ مَزَجْتَ دَمْعًاجَرٰی مِنْ مُقْلَۃٍ بِدَمِ اَمْ ھَبَّتِ الرِّیْحُ مِنْ تِلْقَائِ کَاظِمَۃٍ وَاَوْمَضَ الْبَرْقُ فِی الظَّلْمَائِ مِنْ اِضَمِ فَمَا لِعیْنَیْکَ اِنْ قُلْتَ اکْفُفَا ھَمَتَا وَمَا لِقَلْبِکَ اِنْ قُلْتَ اسْتَفِقْ یَھِمِ (2)علامہ خرپوتی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اگر کسی کو ضعف قلب ،سانس کی تنگی یعنی دمہ کامرض ہو تو اِس شعر کے حروف(یعنی ہر حرف کو علیحدہ علیحدہ ل و ل اال ہ وی …الخ کرکے ) سیب پرلکھ کر کھلائیں تو چند دِنوں میں صحت یاب ہوگا ۔ لَوْلَاالْھَوٰی لَمْ تُرِقْ دَمْعًا عَلٰی طَلَل وَلَا اَرِقْتَ لِذِکْرِالْبَانِ وَالْعَلَمِ (3)اہل علم فرماتے ہیں قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو بعد نماز عشا سونے سے قبل پڑھتے رہیں یہاں تک کہ نیند کا غلبہ ہوجائے تو ان شاء اﷲ خواب میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوگی ۔وہ شعر درج ذیل ہے نَعَمْ سَرٰی طَیْفُ مَنْ اَھْوٰی فَاَرَّقَنِیْ وَالْحُبُّ یَعْتَرِضُ اللَّذَّاتِ بِالْاََلَمِ (4) ہر جائز حاجت ومقصد کے لیے قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو تین مرتبہ پڑھ کر وہ کام شروع کریں تو ان شاء اﷲ وہ مقصد وحاجت پوری ہوگی ۔وہ شعر درج ذیل ہے فَکَیْفَ تُنْکِرُ حُبًّا بَعْدَ مَا شَھِدَتْ بِہٖ عَلَیْکَ عُدُوْلُ الدَّمْعِ وَالسَّقَمِ (5)اگر دشمن کا ڈر ہو یا کسی سے تکلیف واذیت پہنچنے کا خوف ہو تو ایک گول کاغذ کے کنارے کنارے اِس شعر کو لکھ کر عمامہ یا ٹوپی میں رکھیں اور یہ شعر پیشانی کی طرف رہے ان شاء اﷲ دشمن ذلیل ورسوا ہوگا۔وہ شعر درج ذیل ہے مَحَضْتَنِی النُصْحَ لٰکِنْ لَّسْتُ اَسْمَعُہٗ اِنَّ الْمُحِبَّ عَنِ الْعُذَّالِ فِیْ صَمَمِ (6) اگر کسی کی دینی ودنیاوی حاجات ہوں اسے چاہیے کہ ایک ہی مجلس میں قصیدہ بردہ کے اِس شعر کو ایک ہزار مرتبہ پڑھیں تو اﷲ تعالیٰ اُس کی ہر حاجت پوری فرمائے گا ۔وہ شعر درج ذیل ہے ھُوَ الْحَبِیْبُ الَّذِیْ تُرْجٰی شَفَاعَتُہٗ لِکُلِّ ھَوْلٍ مِّنَ الْاَھْوَالِ مُقْتَحِمِ (7) جملہ مصائب سے حفاظت کے لئے قصیدہ بردہ شریف کے اِسشعر کو روزانہ ایک ہزار