🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ضرورت سے زیادہ امیدیں پریشان کیے رکھتی ہیں ، اور وہ بھی ان لوگوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو امیدوں پر پورا اترنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ۔ ؎

اُن سے اُمّیدِ وفا ہائے تِری نادانی
کیا خبر ان کو ، یہ کِردارِ مُعَظَّم کیا ہے

وہ جو ہیں ہم سے گُریزاں تو بَلا سے اپنی
جب یہی طَورِ جہاں ہے تو بَھلا غم کیا ہے

اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو نہ کسی‌ سے زیادہ توقع رکھیں ،‌ نہ فضول امیدیں باندھیں ۔

آپ کا رب ، آپ سے بہت محبت فرماتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو جو چاہیے ، اس سے مانگا کریں ؛ اور اسی سے ساری امیدیں وابستہ رکھیں ۔ ؎

جَوَّاد وغنی ، بَرتر وبالا وہ ہے
رزَّاقِ جہاں رب تعالیٰ وہ ہے

کیوں مانگ رہاہے مانگنے والوں سے ؟
اللہ سے مانگ ۔۔۔۔۔۔۔ دینے والا وہ ہے !!

✍️لقمان شاہد
30-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3077774842502684&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میرا دوست ہارون ، ایک مولانا صاحب کی تقریریں بڑی دل چسپی سے سنتاہے ، اور بار بار سنتا ہے ؛ پھر آکر مجھے سنانے لگ جاتا ہے ۔

کچھ دن پہلے یوٹیوب پر اُنھی مولانا کی ایک تقریرِ دل پذیر سننے کا مجھے بھی اتفاق ہوا ۔
خطابت اچھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔‌ سامعین سبحان اللہ ، ماشاءاللہ اورواہ واہ بھی کیے جارہے تھے ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ان کی تقریر سن کر ایک واقعہ یاد آگیا ۔

قبلہ استاد صاحب دام ظلہ فرماتے تھے :

ہم طالب علم مدرسے میں ہر جمعرات کو محفل کیا کرتے تھے ، جس میں سارے باری باری تقریریں کرتے ۔
ایک‌دفعہ ہمارا سنگی احمد یار تقریر کررہا تھا کہ اتفاق سے بڑے استاد صاحب ( مولانا محمد نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) نے سن لی ۔

صبح کلاس میں اسے فرمانے لگے:

احمد یارا تقریر سوہنی کرنا اے پر چوٹھ نہ ماریا کر ۔
( یعنی احمد یار تو تقریر اچھی کرتاہے ، بس تقریر میں جھوٹ نہ بولا کر ، مطلب: مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا کر ! )

وہ کہنے لگا:

استاد جی جے چوٹھ نہ ماریے تے نعرے نئی وجدے ۔
( یعنی جھوٹ نہ بولیں تو لوگ داد نہیں دیتے ۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ ! )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خطیب ، وہ واعظ ، وہ مقرر جو اپنی‌تقریر میں غلط بیانی سے کام لیتا ہے ، مبالغہ آمیزی کرتا ہے ، غلط رنگ بھرتا ہے ؛ وہ نہ صرف اپنی ۔۔۔۔۔ بلکہ سامعین کی بھی عاقبت خراب کرتاہے ۔

ایسے خطبا کی اصلاح ہونی چاہیے ، اور ان کی‌اصلاح سامعین سے بہتر شاید کوئی‌ کرسکے !
جب سامعین اوٹ پٹانگ باتوں پر داد دینے کے بجائے قرآن وحدیث پر داد دیں گے تو خطبا کی خود بخود اصلاح ہوتی چلی جائے گی ۔

اللہ کرے ہم اپنا ذوق بدلیں اور ترجیحات کو سمجھیں !

✍️لقمان شاہد
31-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3078731299073705&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مدینہ شریف نبی پاک سرکار کا شہر ہے ، اس کے سب راستے ہی پیارے ہیں ۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ وہ راستہ جس کی نسبت آقاﷺ کے پیارے صدیق سے ہے ، وہ بے حد پیارا لگتاہے ۔

اللہ ﷻ مولا علی پاک کے طفیل ہماری‌ محبتِ صدیق کو دوام بخشے !

✍️لقمان شاہد
1-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3079290232351145&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
صحابہ کرام‌ علیھم الرضوان جب کوئی اچھا خواب دیکھتے تو رسول اللہ ﷺ کو سنایا کرتے تھے ، بلکہ آقا کریم فجر کی نماز کے بعد خود صحابہ سے پوچھتے تھے کہ:

هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ؟

کیا آج رات تم میں سے کسی‌ نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟

( سنن ابوداود شریف ، ر5017 )

اچھا خواب ، اچھی نیت اور پوری سچائی کے ساتھ اپنے احباب کے سامنے ضرور بیان کرنا چاہیے ، البتہ برا خواب صرف معبر کے سامنے ہی بیان کرنا چاہیے ، تاکہ وہ حسبِ حال تعبیر بتاسکے ۔

صحابہ کرام علیھم الرضوان کی پیروی میں اپنا خواب آپ سے بیان کرتاہوں ، اگر آپ میں سے کسی نے آج کی رات اچھا خواب دیکھا ہو تو وہ کمینٹ میں بیان کرسکتے ہیں ۔

" آج رات خواب میں مجھے دو مرتبہ مدینہ پاک کی حاضری نصیب ہوئی ۔ "

دعا فرمائیں رب تعالی حقیقت میں بھی حاضری کی سعادت عطافرمادے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اورجلد وہاں پہنچنے کے اسباب پیدا ہوجائیں ۔ ؎

مرے آقا مدینے میں مجھے بھی اب بلالیجے
ترستی ہیں مِری آنکھیں مجھے روضہ دکھا دیجے

مہکتی ہیں وہ راہیں جن سے آقا آپ ہیں گزرے
مجھے بھی اُن گلی کُوچوں میں رہنے کی جگہ دیجے

✍️لقمان شاہد
2-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3079959495617552&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مولا علی پاک یا دیگر صحابہ کرام کا ذکرِخیر کیا جائے تو اللہ کے پیارے رسول خوش ہوتے ہیں ، اور جب صدیق پاک کا ذکر شریف کیا جاتا ہے تو بھی حضور ﷺ بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں ۔

آقا ﷺ کے صدیق نے ہمیشہ اپنے آقا ﷺ ہی کو چاہا ، انھیں ہی سوچا ، انھیں ہی دل میں بسائے رکھا ؎


ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺤﻤﺪ ہے ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﺣﮑﻢِ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺑﮩﺖ ﺟﺎﮔﻨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ہے
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ہے
ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻗﺮﺑﺎﻥ ، ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮞ ، ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺭِﺿﺎ ﭘﺮ
ﻣﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣﺮﺍ ﮨﺮ ﻧﻔَﺲ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﻟﻮﭨﻮﮞ ، ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺁﺅﮞ
ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ ، ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ !

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺣﯿﺎ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﻓﻘﻂ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ !

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3080330202247148&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 تقریباً 15000 مسائل پر مشتمل 900 سال پہلے لکھا جانے والا فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا

فتاویٰ قاضی خان اردو ترجمہ

پہلی مرتبہ اُردو ترجمہ میں
5 جلدوں میں شائع ہُو چکا ہے!

🌹 امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے اس فتاویٰ میں تحریر کیے جانے والے حواشی جو عربی زبان میں تھے ان کا بھی اردو ترجمہ بنام تعلیقات رضویہ حواشی میں شامل ہے!

🌹 تقریباً 50 سال سے تصنیف و تالیف اور درس و تدریس سے تعلق رکھنے والے عظیم مذہبی سکالرز شیخ الحدیث حضرت علامہ مفتی محمد صدیق ہزاروی دامت برکاتہم العالیہ کے کچھ ضروری حواشی بھی موجود ہیں!

خود بھی اس کو اپنی لائبریری اور مطالعہ میں شامل فرمائیں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں!

گزارش PDF میں مطالعہ کے بجائے اصل کتاب خریدیں! صرف 3300 روپے میں 15000 شرعی مسائل 💐

طالب دعا :
ابو معاویہ قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملاوحامدا::ومصلیا ومسلما

نمازوتبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ

قسط دوم

قسط اول میں وہابیوں اوردیوبندیوں کی فریب کاری کا ذکر ہوا۔قسط حاضرمیں دیوبندیوں کے کفریات کلامیہ سے واقف دیوبندی اور کفریات سے ناواقف دیوبندی کا حکم بیان کیا گیاہے،نیز بدمذہبوں سے میل جول اورشعاربدمذہبیت اختیار کرنے کے حکم کابیان ہے۔

اقرار کے سبب حکم میں تبدیلی
نمازوتبلیغ کے نام پر جو لوگ دیوبندیوں کے ساتھ ہوجاتے ہیں۔وہ اگردیوبندیوں کے کفریات کلامیہ سے ناواقف ہیں اورخود کو دیوبندی کہتے ہیں تو ان پر کفر فقہی کا حکم عائد ہو گا۔

چوں کہ فرقہ دیوبندیہ ایک مرتد فرقہ ہے، اس لیے ان پر کفر کلامی کا حکم عائد ہونا چاہئے، لیکن بعض احتمال کے سبب کفرکلامی کا حکم عائد نہیں ہوتا ہے۔جو اسلام کے علاوہ جس فرقہ میں جانے کا قول کیا،یا عزم کیا تووہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ عزم کفر،کفر ہے۔

(۱)مسئلہ:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معاذاللہ یہ کہے کہ میں عیسائی یا وہابی یا کافر ہوجاؤں گا،نام ایک فرقہ کا لیا۔آیا وہ انہیں میں سے ہوگا یا نہیں؟

یا یہ کہے کہ جی چاہتا ہے کہ غیر مقلد ہوجاؤں،یا یہ کہے کہ غیر مقلد ہونے کا جی چاہتا ہے۔یہ قول کیسا ہے؟اگر چہ کسی کوچھیڑنے یامذاق کی غرض سے کہے:بینوا توجروا

الجواب:جس نے جس فرقہ کا نام لیا،اس فرقہ کاہوگیا۔مذاق سے کہے یا کسی دوسری وجہ سے:واللہ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ جلد ششم ص102-رضا اکیڈمی ممبئ)

(۲)ایک عورت چمار قوم سے تھی،پھر وہ مسلمان ہوگئی۔ اس کے بعد اپنے لوگوں کے بہکاوے کے سبب دوبارہ ہندوہونا چاہتی تھی۔چوں کہ عزم کفر ہی کفر ہے،خواہ کفرکرے،یا نہ کرے۔امام موصوف نے فرمایاکہ کافرہونا چاہتی ہے تووہ کافر ہوگئی۔

”جب وہ کافروں میں جاملنا اور کافر ہونا چاہتی ہے تو کافر ہوگئی۔جبراً روک رکھنے سے مسلمان نہیں ہوسکتی۔ہاں، اگر یہ سمجھا جائے کہ اس روکنے سے وہ خواہش کفر اس کے دل سے نکل جائے گی،اور پھر صدق دل سے مسلمان ہوجائے گی تو روکا جائے،ورنہ دورکیا جائے: واللہ تعالیٰ اعلم“۔(فتاویٰ رضویہ جلد ششم:ص 76-رضااکیڈمی ممبئ)

اقرار کی تین صورتیں ہیں:

(1)اپنے لیے کافر جماعت میں ہونے کا اقرارکرنے پر کفر کا حکم عائد ہوتاہے۔

(2)اپنے لیے گمراہ جماعت میں ہونے کا اقرار کرنے پر گمرہی کاحکم عائدہوتاہے۔

(3)اپنے لیے مرتد جماعت میں ہونے کا اقرار کرنے پرکفرکا حکم ہونا چاہئے،لیکن محض اس اقرار کے سبب اس پر حکم کفر عائد نہیں کیا جاتاہے۔

صورت اول میں کفرکا حکم عائدہوتا ہے۔صورت دوم میں ضلالت کاحکم عائد ہوتا ہے اور صورت سوم میں احتمال کے سبب حکم کفرعائد نہیں ہوتا ہے،بلکہ اس کوگمراہ قراردیا جاتا ہے، اورکفر وعدم کفر کا فیصلہ اس کے اعتقادات کی تفتیش کے بعد ہی کیا جاتاہے۔

صورت اول:

چوں کہ کافر جماعتیں اسلام سے بالکل الگ ہیں۔ہر عالم وجاہل کو معلوم ہے کہ ان جماعتوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،پس جس نے مجوسی ہونے کا اقرار کیا،اس نے اسلام سے جداہونے اور ترک اسلام کااقرار کیا۔ترک اسلام کا عزم ہی کفر ہے۔اقرار اس سے سخت ترہے۔اگرچہ لہوولعب کے طورپر اقرار کرے۔

صورت دوم وسوم:

گمراہ جماعت میں ہونے کا اقرار کیا تو گمراہ ہے اور مرتدجماعت میں ہونے کا اقرار کیا تو بھی گمراہ قراردیا جائے گا۔یہاں شبہہ ہے کہ وہ مرتد جماعت کے کفری عقائدسے آشنا نہ ہو،اور چوں کہ مرتد جماعتیں بھی خود کو مسلم جماعت کہتی ہیں تو ممکن ہے کہ عام مسلمان ایک مسلم جماعت سمجھ کر اس مرتدجماعت میں شریک ہوجائے۔اسی قسم کے شبہات اور احتمال کے سبب مرتکب پرکفر کا حکم عائدنہیں ہوتا۔

ہاں، جو اس مرتد جماعت کے عقائدکفریہ سے واقف ہوکر اس جماعت میں ہونے کااقرارکیا تو اس پر حکم کفر عائد ہوگا۔احتمال کے سبب ناواقف سے حکم کفر مسلوب ہوگا۔

شعارکفارومرتدین وضالین کا حکم

اسی طرح شعار کفر،شعاراہل ضلالت وشعارمرتدین کا حکم ہے کہ شعار کفر اختیارکرنا کفر ہے اور شعاراہل ضلالت اختیار کرنا ضلالت ہے،اسی طرح شعار اہل ارتداد اختیارکرنا بھی ضلالت ہے۔شعارمرتدین اختیار کرنے پر ارتداد کا حکم نہیں۔

امام احمدرضا قادری نے رقم فرمایا:”اس قوم کومحبوب ومرضی جان کر اُن سے مشابہت پسند کرے۔یہ بات اگرمبتدع کے ساتھ ہو، بدعت اور کفّار کے ساتھ معاذاللہ کفر۔

حدیث: من تشبہ بقوم فہو منھم۔حقیقۃً صرف اسی صورت سے خاص ہے“۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد نہم، جزاول،ص 90-رضااکیڈمی ممبئ)

توضیح: مذکورہ بالاعبارت میں مبتدع سے گمراہ ومرتد دونوں مرادہیں۔

(1)خود کودیوبندی کہنے والے کا حکم

اگر کوئی خود کو دیوبندی کہتا ہے تو عالم ہویا جاہل۔اس کا شمار دیوبندیوں میں ہوگا۔
اب اگر وہ دیوبندیوں کے کفریات کلامیہ سے واقف ہے تو دیوبندیت کا اقرار کرنے کے سبب کافر کلامی ہوگا۔دیوبندیت کے اقرار کے سبب ان کفر یہ کلامیہ کوماننا ثابت ہو گیا۔

ناواقف دیوبندی کا حکم
دراصل ناواقف دیوبندی پرکفرکلامی کا حکم عائد ہونا چاہئے،اوریہ خارج اسلام ہونا چاہئے،لیکن احتمال کے سبب اس پرکفرکلامی کا حکم عائد نہیں ہوگا۔اس احتمال کا ذکر ماقبل میں ہو گیاکہ مرتدفرقہ کواس نے اسلام کا ایک طبقہ سمجھا ہو،لہٰذااس ناواقف پر کفر فقہی کا حکم عائد ہو گا۔

جو دیوبندی فرقہ دیوبندیہ کے کفریات کلامیہ سے ناواقف ہو،اس پر کفر فقہی کا حکم درج ذیل طریقوں سے عائد ہوگا۔کفر کلامی کا لزوم بھی ثابت ہوگا،لیکن کفر کلامی کا حکم عائد نہیں ہوگا۔ کفر کلامی کا حکم التزام کفر کے وقت عائد ہوتا ہے،لزوم کفر کے وقت نہیں۔

(1)جوبھی دیوبندی ہوگا،وہ اپنے بزرگوں کی کتابوں کو صحیح مانتا ہوگا۔ان کتابوں میں کفر فقہی وکفر کلامی موجودہے۔ایسی صورت میں وہ لزومی طورپر کفر یات فقہیہ وکفریات کلا میہ کا بھی معتقد ہوگا۔ اس لزوم کے سبب کفر کلامی کا حکم عائد نہیں ہوگا،لیکن کفر فقہی کا حکم عائد ہوگا، کیوں کہ لزوم کفر کے وقت کفر فقہی کا حکم عائد ہوتا ہے۔

امام اہل سنت نے الکوکبۃ الشہابیہ میں رقم فرمایا:”یہ نمونہ کفریات امام الطائفہ تھا۔اتباع واذناب کہ اس کے عقائد کوصحیح وحق جانتے،اور اسے امام وپیشوا مانتے ہیں،لزوم کفر سے کیوں کر محفوظ رہ سکتے ہیں“۔(الکوکبۃ الشہابیہ:کفر 69:ص229-فتاویٰ رضویہ:جلد پانزدہم)

(2)جوبھی دیوبندی ہوگا،وہ اپنے مذہب کے بزرگوں کومومن مانتا ہوگا۔ان میں بہت سے کافر کلامی ہوں گے،بلکہ سب ہی اسی طرح ہوں گے۔ایسی صورت میں وہ لزومی طور پر کافرکلامی کومومن اعتقاد کرنے والا ثابت ہوا۔ اس لزوم کے سبب کفر کلامی کا حکم عائد نہیں ہوگا،لیکن لزوم کے سبب کفر فقہی کا حکم عائد ہوگا۔

(3)دیابنہ اور وہابیہ اپنی تقریر وتحریر میں اعلانیہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ پر قادر ہے،ورنہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بندوں کی قدرت سے کم ہوجائے گی۔اللہ تعالیٰ کوجھوٹ یا کسی بھی عیب پر قاد ر ماننا کفر فقہی ہے۔(سبحان السبوح میں تفصیلی حکم مذکور ہے۔)

(4)دیابنہ اوروہابیہ اعلانیہ کہتے ہیں کہ نبی کو علم غیب نہیں ہوتا۔ نبی کو پیٹھ پیچھے کا علم نہیں۔ اس سے حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام کے علم غیب کا انکار ہوجاتا ہے اور یہ کفر فقہی ہے۔ اگر من کل الوجوہ علم غیب کا انکار کردیں تو تکذیب قرآن کریم اور ضروری دینی کا انکار اورکفرکلامی ہوگا۔ (فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم:ص 36-رضا اکیڈمی ممبئ)

(5)حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے بڑے بھائی کی طرح مانتے ہیں۔یہ یہ بھی کفر فقہی ہے۔اپنے جیسا بشر کہتے ہیں۔یہ کفار کا طریقہ ہے۔یہ رتبہ گھٹانا ہے۔

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رسالہ:الاستمداد علیٰ اجیال الارتداد میں وہابیہ اور دیابنہ کے دوسوتیس کفریات کو شمار کرایا ہے،جن میں چند کے علاوہ سب کفر فقہی ہیں۔اسی میں بڑے بھائی کہنے کو کفر فقہی بتایا گیا ہے۔(ص 17-اعلیٰ حضرت نیٹ ورک)

(6)جومومن کو مشرک کہے،وہ کافر فقہی ہے۔وہابیہ اور دیابنہ معمولات اہل سنت وجماعت کو شرک کہتے ہیں تو اس اعتبارسے مومن کومشرک کہنا لازم آیا۔یہ بھی کفر فقہی ہے۔

یارسول اللہ کہنا شرک،میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منانا شرک،روضہ نبوی کی زیارت شرک،روضہ نبوی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا شرک،انبیاواولیاسے مددطلب کرنا شرک، مصیبت کے وقت ان کو پکارنا شرک،چادر چڑھانا شرک،فاتحہ ونیاز شرک،قبروں کی زیارت شرک۔وہابیہ اور دیابنہ کے یہاں شرک کی لمبی فہرست ہے۔

الکوکبۃ الشہابیہ میں کفرنمبر:70میں مومن کومشرک کہنے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔

معمولات اہل سنت کو شرک کہنے کے سبب وہابیہ پرکفرفقہی کا حکم عائد ہوتا ہے،کیوں کہ ان معمولات اہل سنت کو شرک کہنے سے اہل سنت کا مشرک ہونا لازم آتا ہے اور مومن کوتاویل فاسد کے سبب مشرک یا کافر کہنا کفرفقہی ہے۔خوارج اسی سبب سے کافر فقہی قرار پائے۔

واقف ومنکر کا حکم

اگر کوئی کفریات سے واقف وآشنادیوبندی فرقہ دیوبندیہ کے کفریات کلامیہ کونہ مانے،اوراس کی صراحت کر دے۔اسی طرح اشخاص اربعہ کوکافرکلامی مان لے۔ وہ تمام دیوبندی جو اشخاص اربعہ کومومن ماننے کے سبب کافرہیں،ان تمام کو کافرکلامی مان لے تو اس کے لیے وہی حکم ہے جورسالہ: ازالۃ العار میں بیان کردہ قسم ثالث کا حکم ہے کہ وہ کافر فقہی ہے۔

اس واقف دیوبندی اورمذکورہ ناواقف دیوبندی میں فرق یہ ہے کہ ُاس ناواقف پر کفر کلامی کا لزوم ثابت ہے اور ِاس واقف دیوبندی پر کفرکلامی کا لزوم ثابت نہیں،کیوں کہ یہاں کفر کلامی کے انکار کی صراحت ہے،اور یہ کافرکلامی کوبھی کافرکلامی مانتا ہے۔

الحاصل کفر کلامی کے لزوم کے سبب ناواقف دیوبندی کا کفر کچھ شدید ہوگا،گر چہ مذکورہ ناواقف دیوبندی اور مذکورہ واقف دیوبندی دونوں کافر فقہی ہیں۔

قسم ثالث میں وہ واقف دیوبندی شامل ہوگا،جو کفریات کلامیہ کونہ ماننے کی صراحت کردے۔اسی طرح ہر کافرکلامی کونام بہ نام کافرماننے کی صراحت کردے۔
امام احمدرضا قادری نے غیرمقلدوہابیہ سے متعلق رقم فرمایا:”دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسانہ ہوگا جس پر فقہائے کرام کے ارشادات سے کفرلازم نہ ہو۔(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم:رسالہ ازالۃ العار:ص382-381-جامعہ نظامیہ لاہور)

(2)نہ سنی،نہ دیوبندی:

اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم نہ سنی ہیں،نہ دیوبندی تو اس کا حکم یہ ہے کہ سنیت کے انکار کے سبب وہ سنی نہیں ہے۔اس انکارسے ضروریات اہل سنت کا بھی انکار ہوگیا۔جس طرح خود کو غیرمسلم کہنے سے ضروریات دین کا انکار ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو غیر مسلم سمجھا جاتا ہے۔

فقہائے احناف اور ان کے مؤیدین کے یہاں ضروریات اہل سنت کا منکر بھی کافر ہے،لہٰذا یہ کافر فقہی ہوگا،بشرطے کہ اس کے عقائدمیں کوئی کفر کلامی نہ ہو۔اگر اس کے عقائد میں کفر کلامی ہوتو وہ کافر کلامی ہے۔

مذکورہ شخص کو اگر کوئی فقیہ کافرومرتدقراردے تو اس کامفہوم یہ ہے کہ وہ کافر فقہی ہے۔فقہاکافر فقہی کوبھی مرتد کہتے ہیں،لیکن کافر کلامی سے ایک درجہ نیچے رکھتے ہیں۔

طارق انورمصباحی
روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ:01:فروری 2021
٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/858385721398614/
نام بہ نام سے مراد یہ ہے کہ شخصی طورپران لوگوں کوکافرمانے،ورنہ دیوبندی لوگ اعلان کرتے ہیں کہ ہرگستاخ رسول کافرہے،لیکن اپنے درمیان کے گستاخوں کوکہتے ہیں کہ وہ تو عاشق رسول تھے،حالاں کہ ان لوگوں پر کفر کلامی کا صحیح فتویٰ عائدہوچکا ہے۔

سوال:دیوبندیوں کے کفریات سے ناواقف شخص جو خود کودیوبندی کہتا ہے،وہ کافر فقہی ہے اور متکلمین کافرفقہی کو گمراہ کہتے ہیں تو پھر ان لوگوں کومحض گمراہ کہا جائے،کافرفقہی کہنے کی ضرورت کیا ہے؟
جب کہ امام احمدرضا بھی باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر تھے؟

جواب:گمراہ کی دو قسمیں ہیں۔ایک وہ گمراہ جو کافر فقہی نہ ہو۔دوسرا وہ گمراہ جو کافرفقہی ہو۔دونوں کے احکام میں کچھ فرق ہے،اس لیے وضاحت ضروری ہے کہ یہ کون سا گمراہ ہے۔ گمراہ کا لفظ کبھی کافر کلامی پر بھی بولا جاتا ہے۔

جب شرعی احکام بتانا ہو تو وضاحت کردینا مناسب ہے،تاکہ اس سے متعلق شرعی احکام پر عمل کیا جائے۔

رسالہ:ازالۃ العارمیں بیان کردہ اقسام اربعہ

اس رسالہ میں بیان کردہ ہر طبقے سے متعلق کسی امرکے ماننے یا نہ ماننے کا ذکر ہے۔ کسی بھی امر کے اقرار وانکار کا علم خاص اس شخص کے قول یا تحریر سے ہوگا۔ایسا نہیں کہ مفتی اپنے ذہن میں ایک مفروضہ قائم کرلے کہ وہ فلاں امر کو مانتا ہے،یا نہیں مانتا ہے اورپھر اپنے مفروضہ کے اعتبارسے شرعی حکم بیان فرمادے،جیسا کہ عہد حاضر میں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ دیوبندی عوام کو کچھ بھی معلوم نہیں اور اسی مفروضہ کی بنیاد پر حکم شرعی بھی بیان کرنے لگے۔

ہرطبقے سے متعلق جن امور کوماننے یا نہ ماننے کا ذکر ہے،اس کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے،تاکہ مفتی حکم شرعی بیان کرنے سے قبل اس امرپر غور فر مالے۔

قسم اول:

”وہابی ہو یا رافضی جو بد مذہب عقائد کفریہ رکھتا ہے جیسے ختم نبوت حضور پر نور خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا انکار یا قرآن عظیم میں نقص ودخل بشری کا اقرار تو ایسوں سے نکاح با جماع مسلمین بالقطع والیقین باطل محض وزنائے صرف ہے“۔
(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم:رسالہ ازالۃ العارص:377-جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح:قسم اول میں اس شخص کا ذکرہے جو کفریات کلامیہ کومانتا ہوتویہ شخص کافرکلامی ہو گا۔ کفریا ت کلامیہ کو ماننے کا ثبوت اس شخص کے قول یا تحریر سے ہوگا۔ لوگوں کے مفروضہ سے نہیں۔

قسم دوم:

”اور اگر ایسے عقائد خود نہیں رکھتا،مگر کبرائے وہابیہ یامجتہدین روافض خذلہم اللہ تعالیٰ کہ وہ عقائد رکھتے ہیں، انھیں امام وپیشوا یامسلمان ہی مانتا ہے تو بھی یقینا اجماعا خود کافر ہے کہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے یونہی ان کے منکر کو کافر نہ جاننا بھی کفر ہے“۔
(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم:رسالہ ازالۃ العارص:378-جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح:قسم دوم کے بیان میں صراحت ہے کہ یہ ایسافردہے جو خود کفریات کلامیہ سے خالی ہو، لیکن ان کفریات کے قائلین کومومن مانتا ہوتو قائلین کفریات کومومن ماننے کے سبب وہ کافر ہوگا۔کفریات کلامیہ کے قائلین کومومن ماننے کا ثبوت اس شخص کے قول و تحریر ودیگرقرائن سے ہوگا،مثلاً اس کی اقتدا میں نمازاداکرنا۔ لوگوں کے مفروضہ سے نہیں۔

قسم سوم:

”اور اگرا س سے بھی خالی ہے۔ ایسے عقائد والوں کو اگرچہ اس کے پیشوایانِ طائفہ ہوں، صاف صاف کافر مانتا ہے(اگرچہ بد مذہبوں سے اس کی توقع بہت ہی ضعیف اور تجربہ اس کے خلاف پر شاہد قوی ہے)تو اب تیسرا درجہ کفریات لزومیہ کا آئے گا“۔
(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم:رسالہ ازالۃ العار:ص378-جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح:قسم سوم کے بیان میں صراحت ہے کہ یہ ایسافردہے جو خود بھی کفریات کلامیہ سے خالی ہو، اوران کفریات کے قائلین کوکافر مانتا ہوتو کفریات کلامیہ سے خالی ہونے او ر قائلین کفریات کوکافر ماننے کا ثبوت اس شخص کے قول یا تحریر سے ہوگا۔ لوگوں کے مفروضہ سے نہیں۔

قسم چہارم:

”اور اگراس سے تجاوز کرکے کوئی وہابی ایسا فرض کیجئے جوخود بھی ان تمام کفریات سے خالی ہو،اور ان کے قائلین جملہ وہابیہ سابقین ولاحقین سب کو گمراہ وبدمذہب مانتا، بلکہ بالفرض قائلان کفریات مانتا اور لازم الکفر ہی جانتا ہو“۔(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم:رسالہ ازالۃ العار:ص383-382-جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح:قسم چہارم کے بیان میں صراحت ہے کہ یہ ایسافردہے جو خود بھی تمام کفریات سے خالی ہو، اوران کفریات کے قائلین کو گمراہ وبدمذہب،بلکہ قائلین کفرولازم الکفر مانتا ہوتو ان کفریات سے خالی ہونے او ر قائلین کفریات کو گمراہ ولازم الکفر ماننے کا ثبوت اس شخص کے قول یا تحریر سے ہوگا۔ لوگوں کے مفروضہ سے نہیں۔

غیر مقلدوہابیہ کے بنیادی عقائدمیں کفر یات کلامیہ نہیں،اس کے باجود امام احمدرضا قادری نے فرمایا کہ کوئی ایسا غیرمقلدوہابی نہیں ہوگا جوکافر فقہی نہ ہو۔(الا ماشاء اللہ تعالیٰ)

دیوبندی فرقہ کے بنیادی عقائدمیں کفریات کلامیہ ہیں،پھر بھی لوگ دوستی یا رشتہ داری کے سبب نرم گوشہ رکھتے ہیں اور دیوبندیوں کومحض گمراہ یعنی غیرکافر فقہی بتاتے ہیں۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کی تاریخِ ولادت و وصال

تحریر -:- نثار مصباحی
رکن : روشن مستقبل, دہلی

سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کی تاریخِ وصال بیان کرتے ہوئے حافظ ابن سعد (متوفی 230ھ) اپنی مشہور کتاب "الطبقات"(طبقاتِ ابن سعد) میں لکھتے ہیں:
"توفيت ليلة الثلاثاء لثلاث خلون من شهر رمضان سنة إحدى عشرة، و هي ابنة تسع و عشرين سنة أو نحوها"
"آپ کا وصال 3 رمضان 11ھ منگل کی شب میں ہوا. اس وقت آپ کی عمر 29 سال یا اس کے آس پاس تھی."
طبقاتِ ابن سعد سب سے قدیم ماخذ ہے جس میں پوری تحدید کے ساتھ آپ کی تاریخِ وفات بیان کی گئی ہے.

البتہ آپ کی تاریخ ولادت اہلِ سنت کے کسی ماخذ میں مجھے نظر نہیں آئی. ائمۂ تاریخ و سیرت نے عام طور سے یہ بیان کیا ہے کہ اعلانِ نبوت سے 5 سال قبل آپ کی ولادت ہوئی. مگر دن اور تاریخ کی تحدید کے ساتھ کسی سُنی ماخذ میں کوئی تاریخ ہمارے علم میں نہیں.
بعض شیعہ مآخذ میں پوری تحدید کے ساتھ "20 جمادی الآخرہ روزِ جمعہ" کو آپ کی تاریخِ ولادت کہا گیا ہے, مگر یہ رافضیوں کا قول ہے, اہلِ سنت کا نہیں۔ اہلِ سنت کے کسی مستند ماخذ میں ایسا کوئی قول میرے علم میں نہیں۔

سیدہ___زاہرہ___طیبہ___طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

صلی اللہ تعالی علی أبیہا و علیہا وسلم

#نثارمصباحی
3رمضان1441ھ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/858448148059038/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#آل_رسول_سے_آل_ابو_طالب_تک!

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

پچھلے دنوں فیس بک پر ایک قوال کی وائرل ویڈیو نگاہ سے گزری جس میں ایک معروف خانقاہی شیخ اور مشہور خطیب جھومتے اور داد دیتے نظر آرہے ہیں، شعر کچھ یوں تھا:

مٹ گیا نام ونشاں نسل امیر شام کا
بچہ بچہ آج بھی زندہ ابوطالب کا ہے

بعض لوگوں نے پیر صاحب کو دیکھتے ہوئے شبہ ظاہر کیا ممکن ہے ویڈیو ایڈٹ ہو۔کچھ دیر بعد کسی نے قدرے تفصیلی ویڈیو پیش کیا جس سے ایڈٹنگ کا شبہ ختم سا ہوجاتا ہے۔اس ویڈیو میں مزید دو شعر اور بھی شامل ہیں:
کیا بتائیں آپ کو، کیا کیا ابوطالب کا ہے
ہر طرف بٹتا ہوا صدقہ ابوطالب کا ہے
خواجہ اجمیر نے جس کو کہا دین ست حسین
وہ حسین ابن علی پوتا ابوطالب کا ہے

ان اشعار میں بہ کمال عیاری رافضی نظریات پھیلانے کی کوشش کی گئی مگر پیر صاحب اور دیگر شہ نشیں حضرات قوال کو ٹوکنے کی بجائے جھومتے اور داد دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرز عمل کی دو ہی وجہ ہوسکتی ہیں:

1-پیر صاحب اشعار سمجھ نہ پائے ہوں۔(حالانکہ داد دینے کا انداز اس کے خلاف ہے)

2-پیر صاحب خود اسی نظریے کے حامل ہوں۔

وجہ دوم کو ان کے داد دینے کے انداز سے بھی تقویت ملتی ہے اور ان کے والد بزرگوار کے حالیہ تبدیلی موقف سے بھی!
ممکن ہے والد گرامی کے ساتھ موصوف نے بھی موقف تبدیل کرلیا ہو۔

وجہ اول کی صورت میں ہمیں یقین ہے کہ موصوف مطلع ہونے کے بعد آئندہ اپنی محفلوں کو رافضی اثرات سے محفوظ رکھیں گے اور عوام اہل سنت کا خلجان دور کرنے کے لیے وضاحت نامہ بھی جاری کریں گے۔وجہ دوم کی صورت میں ہم چند گزارشات پیش کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ رافضی نظریات کا فساد وبطلان ظاہر ہو اور اہل سنت وجماعت کا نظریہ حق وصداقت سامنے آسکے۔

وجہ فضیلت،نسبتِ رسالت یا نسبتِ ابوطالب؟

یہ بات بدیہی ہے کہ خونی رشتے کی بنا پر جناب ابوطالب حسنین کریمین کے دادا ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ کے کسی دور میں حضور سید عالمﷺ ، حضرت علی المرتضٰی اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم نے فضل وکمال اور تعارف میں دادا کا نام لیا یا نانا وبابا کا نام استعمال فرمایا۔اس سے قبل چند بنیادی باتیں ذہن نشین رکھیں:
(الف) نفس ایمان میں ہر صاحب ایمان برابر ہے۔معیار فضیلت تقوی وپرہیزگاری ہے مگر آقائے کریم ﷺ کے اہل خانہ اور قرابت داروں کو نسبت رسالت کی بنا پر خصوصی شرف وفضیلت حاصل ہے۔

(ب) حضور ﷺ کے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے علاوہ مولائے کائنات علی المرتضٰی، خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہرا اور حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہم بھی شامل ہیں۔

(ج) اس خصوص وشرف میں سیدہ فاطمہ زہرا ممتاز ومنفرد ہیں کہ حضور سید عالم ﷺ نے ان کی اولاد کو اپنی اولاد قرار دیا:
فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَکُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَکُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ۔(سورہ آل عمران:61)
"تو ان سے فرما دو آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔"

اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھ حضرت علی وفاطمہ اور حسنین کریمین کو لیکر حاضر ہوئے۔یعنی حضور نے حسنین کریمین کو اپنا بیٹا قرار دیا۔اس آیت تشریح اس حدیث سے بھی ہوتی ہے:
عَنْ عُمْرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ ﷺ يَقُوْلُ:کُلُّ بَنِي أُنْثَي فَإِنَّ عُصْبَتَهُمْ لِأبِيْهِمْ مَا خَلَا وَلَدِ فَاطِمَة فَإِنِّي أنَا عُصْبَتُهُمْ، وَ أنَا أبُوْهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ۔
(رقم الحديث:13 أخرجه الطبراني في المعجم الکبير،3/ 44، الرقم :2631)

"حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :ہر عورت کے بیٹوں کی نسبت ان کے باپ کی طرف ہوتی ہے ماسوائے فاطمہ کی اولاد کے، کہ میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں۔"

ان مقدمات کی روشنی میں یہ بات مکمل طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے اولاد فاطمہ کو اپنی اولاد قرار دیا۔اور اسے حضرت فاطمہ کی خصوصیت قرار دیا کہ ان کی اولادیں اپنے باپ نہیں نانا کے نام سے پہچانی جائیں گی۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ حضور سید عالم ﷺ چاہتے تو اپنے شفیق چچا اور حضرت علی المرتضٰی کے والد جناب ابوطالب کا نام بھی لے سکتے تھے کیوں کہ وہ رشتے میں حسنین کریمین کے دادا ہوتے ہیں مگر سرکار نے مقام فضیلت میں خود کو ہی اولاد فاطمہ کا حسب ونسب قرار دیا۔

فضائل حسنین اور اسلوب رسول:
ایک موقع پر حضور سید عالم ﷺ نے حسنین کریمین کی فضیلت وبزرگی بیان کرتے ہوئے خود کا اور دیگر اہل خانہ کا تفصیلی تذکرہ فرمایا مگر اپنے مہربان چچا اور حسنین کے دادا کا تذکرہ نہیں فرمایا، الفاظ حدیث ملاحظہ فرمائیں:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ : أيُهَا النَّاس، ألاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ جَدًّا وَ جَدَّة؟ ألاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ عَمًّا وَ عَمَّة؟ أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ خَالًا وَخَالَة؟ ألَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ أبًّا وَأُمًّا؟ هُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، جَدُّهُمَا رَسُوْلُ اﷲِ وَ جَدَّتُهُمَا خَدِيْجَة بِنْتُ خُوَيْلَدٍ، وَأُمُّهُمَا فَاطِمَة بِنْتُ رَسُوْلِ اﷲِ، وَأبُوْهُمَا عَلِيُّ بْنُ أبِي طَالِبٍ وَعَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ أبِيْ طَالِبٍ، وَعَمَّتُهُمَا أُمُّ هَانِي بِنْتُ أبِي طَالِبٍ وَخَالُهُمَا الْقَاسِمُ بْنُ رَسُوْلِ اﷲِ وَخَالَاتُهُمَا زَيْنَبُ وَ رُقَيَة وَ أُمُّ کَلْثُوْمَ بِنَاتُ رَسُوْلِ اﷲِ، جَدُّهُمَا فِي الْجَنَّة وَ أبُوْهُمَا فِي الْجَنَّة وَ أُمُّهُمَا فِي الْجَنَّة عَمُّهُمَا فِي الْجَنَّة وَعَمَّتُهُمَا فِي الْجَنَّة وَخَالَاتُهُمَا فِي الْجَنَّة وَهُمَا فِي الْجَنَّة. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ۔
(أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3/ 66، الرقم:2682)

"حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو (اپنے) نانا نانی کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟
کیا میں تمہیں ان کے بارے نہ بتاؤں جو (اپنے) چچا اور پھوپی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟
کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو (اپنے) ماموں اور خالہ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟
کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو (اپنے) ماں باپ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟
وہ حسن اور حسین ہیں، ان کے نانا ﷲ کے رسول، ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد، ان کی والدہ فاطمہ بنت رسولﷲ، ان کے والد علی بن ابو طالب، ان کے چچا جعفر بن ابو طالب، ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابو طالب، ان کے ماموں قاسم بن رسول ﷲ اور ان کی خالہ رسولﷲ کی بیٹیاں زینب، رقیہ اور ام کلثوم ہیں۔ ان کے نانا، والد، والدہ، چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ (سب) جنت میں ہوں گے اور وہ دونوں (حسنین کریمین) بھی جنت میں ہوں گے۔"

اس حدیث پاک میں انتہائی صراحت کے ساتھ امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کے فضل و کمال بیان کرتے ہوئے حضور نے ان کے جن رشتوں کا ذکر فرمایا وہ اس طرح ہیں:
1- نانا اور نانی
2- والد اور والدہ
3- چچا اور پھوپی
4- ماموں اور خالائیں

یعنی حضور نے حسنین کریمین کا تعارف ان کے نانا نانی سے بھی کرایا اور والدین سے بھی!
ان کے چچا کا ذکر کیا تو پھوپی کو بھی یاد فرمایا۔ان کے ماموں کا نام لیا تو ان کی عزت مآب خالاؤں کو بھی یاد فرمایا۔

*غور فرمائیں*
آخر حضور نے اتنے رشتے گنائے مگر دادا کا نام نہیں لیا؟
حالانکہ عام قاعدہ یہ ہے کہ نانا سے بھی پہلے دادا کا نام لیا جاتا ہے۔مگر اسے بھی حسنین کریمین کی خصوصیت ہی کہا جائے گا کہ ان کا تعارف "عام قاعدہ" کے تحت نہیں بلکہ "خاص قاعدہ" کے تحت کیا جائے۔

حضرت علی کا طرز عمل:

مسند احمد بن حنبل کی روایت کے مطابق جب امام حسن پیدا ہوئے تو حضرت علی نے ان کا نام اپنے چچا حضرت امیر حمزہ کے نام پر "حمزہ" رکھا اور امام حسین کی پیدائش پر ان کا نام اپنے بھائی جعفر طیار کے نام پر "جعفر" رکھا تھا۔حالانکہ بعد میں حضور نے دونوں شہزادوں کے نام تبدیل فرماکر حسن وحسین رکھے۔
(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1/ 159، وأبو يعلي في المسند، 1 : 384، الرقم : 498، و الحاکم في المستدرک، 4 / 308، الرقم : 7734)

یہاں بھی غور کرنے کی بات ہے کہ مولی علی نے اپنے فرزندوں کے نام اپنے چچا اور بھائی کے نام پر تو رکھے لیکن معاملہ فہمی میں مشہور اپنے والد ابوطالب کے نام پر کسی کا نام نہیں رکھا۔حالانکہ عربوں میں بچوں کا نام ان کے داداؤں پر رکھنے کا رواج رہا ہے لیکن پھر بھی مولائے کائنات نے نام رکھنے میں اپنے شیر دل چچا سید الشہدا امیر حمزہ اور اپنے جانباز بھائی حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہما کو ترجیح دی یعنی مولی علی بھی حسنین کے ناموں کے ساتھ دادا کے بھائی اور بیٹے کا نام تو جوڑتے ہیں مگر دادا کا نہیں۔

امام حسین کا طرز عمل:

آقائے کریم ﷺ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بعد سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا طرز عمل بھی ملاحظہ فرمائیں کہ آپ کس طرح اپنی فضیلت وبرتری بیان فرماتے ہیں۔میدان کربلا میں امام پاک یزیدیوں سے اتمام حجت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: