🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملاوحامدا::ومصلیا ومسلما

نمازوتبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ

قسط اول

عہد حاضر میں لوگ کہتے ہیں کہ اکثر دیوبندیوں کو دیابنہ کے کفریہ عقائد کا علم نہیں، جب کہ امام احمدرضا قادری کی تحریریں اس کے برخلاف شہادت دیتی ہیں۔اسی طرح امام احمد رضا قادری نے فرمایا تھا کہ سب سے بدتر کافر دیوبندی ہیں،لیکن بعض لوگ اس کے بر عکس عمل میں مبتلا ہوئے۔غیر مقلدوں سے تو دور بھاگتے ہیں،لیکن دیوبندیوں کے لیے کچھ نرم گوشہ رکھتے ہیں، پھرکہتے ہیں کہ آج کے دیوبندیوں کوکچھ معلوم نہیں:واللہ تعالیٰ اعلم

ہندوپاک میں مشہور ومتواتر ہے کہ دیوبندی گستاخ رسول اور کافر ہیں۔بریلی والے گستاخی رسول کی وجہ سے دیوبندیوں کوکافر کہتے ہیں۔ عوا م میں یہ باتیں مشہور ہیں۔

معلوم نہیں کہ ہندوپاک کا وہ کو ن سا علاقہ ہے کہ جہاں کے دیوبندیوں کوکچھ پتہ ہی نہیں۔

واضح رہے کہ شریعت کے بہت سے احکام صرف زبانی اقرارکے سبب بدل جاتے ہیں،خواہ دل میں کچھ بھی عقیدہ ہو۔

جوکہتا ہے کہ ہم مجوسی ہیں،اس کومجوسی سمجھا جائے گا۔

دیوبندیوں کا مکروفریب

جس طرح شیعہ لوگ تقیہ بازی کرتے ہیں۔اپنے غلط عقائد کولوگوں سے چھپاتے ہیں،لیکن ان برے عقائد سے توبہ نہیں کرتے۔اسی طرح دیابنہ بھی اپنے عقائد کو چھپاتے ہیں۔منافقین کے بارے میں قرآن مجیدمیں ہے کہ مسلمانوں کوکہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ کافروں سے کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کو کافر قرار دیا۔

وہابی اورسنی میں فرق کا طریقہ

(الف)امام احمد رضا قادری نے وہابی وسنی میں فرق کرنے کا طریقہ رقم فرمایا:

”ہمارے بعض بھائیوں کا بعض متفنی وہابیہ کے فریب سے دھوکا پاکر یہ عذر باقی ہے کہ یہ احکام توا ن کے لیے ہیں جو مذہب اہل سنت سے خارج ہیں اور وہابی ایسے نہیں۔ فلاں فلاں وہابی تو سنی ہیں۔اس کا جواب اسی قدر بس ہے کہ:

عزیز بھائیو! دین حق کے فدائیو! دیکھو یہ دام درسبزہ ہیں دھوکے میں نہ آئیو،بھلا وہابی صاحب جو چاہیں بکیں۔وہاں نہ خوف خدانہ خلق کی حیاء،مگر پیارے سنیو! تم نے یہ کیوں کر باورکرلیا کہ بعض وہابی اہل سنت ہیں۔عزیزو! کیا یہ اس کہنے سے کچھ زیادہ عجیب تر ہے کہ فلاں رات دن ہے،یافلاں نصرانی،مومن ہے۔
جب سنیت،وہابیت سے صاف مباین ہے تو ان کا اجتما ع کیوں کر ممکن ہے؟

ہاں یوں کہتے تو ایک بات تھی کہ فلاں فلاں لوگ جو وہابی کہلاتے ہیں،وہابی نہیں۔ اہل سنت ہیں۔بہت اچھا،چشم ماروشن دل ماشاد،خدا ایسا ہی کرے۔

اگر واقع اس کے مطابق ہے تو ہمارا کیا ضرر،اورا س فتویٰ پر اس سے کیا اثر۔فتویٰ میں زید وعمر وکسی کی تعیین نہ تھی۔

سائل نے وہابی کی نسبت سوال کیا۔ مجیب نے وہابی کے باب میں جواب دیا۔فلاں اگر وہابی نہیں، سنی ہے۔اس سوال وجواب دونوں سے بری ہے۔فتویٰ کی صحت میں کیا شک پروری ہے۔

پھر عزیز بھائیو! یہ تنزل جواب اس کے تسلیم ادعا پر مبنی ہے،ابھی امتحان کا مرحلہ باقی ودیدنی ہے۔زبان سے کہہ دینا کہ ہم وہابی نہیں، گنتی کے لفظ ہیں،کچھ بھاری نہیں۔

الٓمّٓ اَ حَسِبَ النَّاسُ اَن یُّتْرَکُوا اَن یَّقُولُوا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ
کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اس زبانی کہہ دینے پرچھوڑدئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اوران کی آزمائش نہ ہوگی۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد پنجم:ص 272-نوری دارالاشاعت بریلی شریف)

اس کے بعد امام احمدرضا قادری نے ایسے مشتبہ وہابی کی آزمائش کے لیے آٹھ امور رقم فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ ایسے غیرمقلد وہابی سے ان امور پر دستخط لیے جائیں۔اگر وہ صدق دل کے ساتھ قبول کرلیں تو ٹھیک ہے،ورنہ وہ وہابی ہے۔ آج لوگوں نے اس کے برعکس کردیاہے۔بغیر کسی تفتیش کے خودسے ہی دیوبندیوں کوسنیت ک کی سند تقسیم فرمارہے ہیں۔
امام احمد رضا قادری نے رقم فرمایا:”بہت اچھا جو صاحب مشتبہ الحال وہابیت سے انکار فرمائیں۔امور ذیل پر دستخط فرماتے جائیں۔

ع/ کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں

(1)مذہب وہابیہ ضلالت وگمراہی ہے۔

(2)پیشوایان وہابیہ مثل ابن عبدالوہاب نجدی واسمٰعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی وصدیق حسن بھوپالی اور دیگر چھٹ بھیے آروی،بٹالی، پنجابی،بنگالی سب گمراہ بد دین ہیں۔

(3)تقویۃ الایمان وصراط مستقیم ورسالہ یکروزی وتنویرالعینین تصانیف اسمعیل اور ان کے سوا دہلوی و بھوپالی وغیرہما وہابیہ کی جتنی تصنیفیں ہیں،صریح ضلالتوں گمراہیوں اور کلمات کفریہ پر مشتمل ہیں۔

(4)تقلید ائمہ فرض قطعی ہے۔بے حصول منصب اجتہاد اس سے روگردانی بددین کا کام ہے۔غیر مقلدین مذکورین اور ان کے اتباع واذناب کہ ہندوستان میں نامقلدی کا بیڑا اٹھائے ہیں،محض سفیہان نامشخص ہیں۔ ان کا تارک تقلید ہونا اوردوسرے جاہلوں اور اپنے سے اجہلوں کو ترک تقلید کا اغوا کرنا صریح گمراہی وگمراہ گری ہے۔
(5)مذاہب اربعہ اہل سنت سب رشد وہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اس کا پیرو رہے،کبھی کسی مسئلہ میں اس کے خلاف نہ چلے،وہ ضرور صراط مسقیم پرہے،اس پرشرعًا الزام نہیں۔ان میں سے ہر مذہب انسان کے لیے نجات کوکافی ہے۔تقلید شخصی کو شرک یا حرام ماننے والے گمراہ، ضالین،متبع غیر سبیل المومنین ہیں۔

(6)متعلقات انبیا واولیا علیہم الصلوٰۃ والثنا مثل استعانت وندا وعلم وتصرف بعطائے خدا وغیرہ مسائل متعلقہ اموات واحیا میں نجدی ودہلوی اور ان کے اذناب نے جو احکام شرک گھڑے اورعامہ مسلمین پر بلاوجہ ایسے ناپاک حکم جڑے، یہ ان گمراہوں کی خباثت مذہب اور اس کے سبب انھیں استحقاق عذاب وغضب ہے۔

(7)زمانہ کو کسی چیز کی تحسین وتقبیح میں کچھ دخل نہیں۔امر محمود جب واقع ہو محمود ہے، اگرچہ قرون لاحقہ میں ہو،اور مذموم جب صادر ہو مذموم ہے،اگرچہ ازمنہ سابقہ میں ہو۔

بدعت مذ مومہ صرف وہ ہے جو سنت ثابتہ کے ردوخلاف پر پید ا کی گئی ہو۔جواز کے واسطے صرف اتنا کافی ہے کہ خدا ورسول نے منع نہ فرمایا۔کسی چیز کی ممانعت قرآن وحدیث میں نہ ہو تو اسے منع کرنے والا خود حاکم وشارع بننا چاہتا ہے۔

(8)علمائے حرمین طیبین نے جتنے فتاوے ورسائل مثل: الدرر السنیہ فی الردعلی الوہابیہ وغیرہا رد وہابیہ میں تالیف فرمائے، سب حق وہدایت ہیں اور ان کا خلاف باطل وضلالت۔
حضرات! یہ جنت سنت کے آٹھ باب ہادی حق وصواب ہیں۔جو صاحب بے پھیرپھار،بے حیلہ انکار، بکشادہ پیشانی ان پردستخط فرمائیں تو ہم ضرور مان لیں گے کہ وہ ہر گز وہابی نہیں،ورنہ ہر ذی عقل پر روشن ہوجائے گا کہ منکر صاحبوں کا وہابیت سے انکار نرا حیلہ ہی حیلہ تھا۔مسمے پر جمنا اور اسم سے رمنا،اس کے کیا معنی ؎

ع/ منکر می بودن ودر رنگ مستان زیستن

(فتاویٰ رضویہ:جلد پنجم:ص 273-272-نوری دارالاشاعت بریلی شریف)

عقائد سے ناواقف ہونے کا معنی

(ب)امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا:”جو اشخاص نہ عالم ہیں،نہ دیوبند کے تعلیم یافتہ۔نہ ان سے بیعت وعقیدت رکھتے ہیں۔محض اپنی لاعلمی عقائد کی وجہ سے ان کو کافر نہیں سمجھتے،اوران کے عقائد بھی ایسے بالکل نہیں ہیں،جن پر تکفیر لازم آتی ہے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے،یاتنہا بہتر ہے؟(فتاوی رضویہ جلد نہم جز دوم:ص313۔رضا اکیڈمی ممبئی)

امام احمد رضا قادری نے عقائد سے لاعلمی کا مفہوم بیان کیا کہ لاعلمی سے مراد یہ ہے کہ ان کے کان بھی ان عقائدسے ناآشناہوں،یعنی انہوں نے دیوبندیوں سے متعلق ان کے کفریہ عقائد سنے ہی نہ ہوں،دوسری بات یہ کہ وہ سننے کے بعد حق کوقبول کرلیں۔

نیزفرمایا کہ ایسی صورت واقع ہونا مشکل ہے،کیوں کہ دیوبندیوں کے برے عقائد کا شہرہ چاروں طرف ہے تو جولوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں،وہ فریب دیتے ہیں۔اس مفہوم کو مثال سے بھی آپ نے واضح فرمایا۔مجددموصوف کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے:
”سائل صورت وہ فرض کرتا ہے جو واقع نہ ہوگی۔دیوبندیوں کے عقائد کفر طشت ازبام ہو گئے۔منکر بننے والے اپنی جان چھڑانے کے لیے انکار کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں۔جو منکر ہو،اس سے کہئے۔فتاویٰ موجود وشائع ہیں۔دیکھو کہ کافروں کا کفر معلوم ہو، اور دھوکے سے بچے اور ان کے پیچھے نمازیں غارت نہ کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دشمنی فرض ہے۔اس فرض پر قائم ہو تو کہتے ہیں۔ہمیں کتابیں دیکھنے کی حاجت نہیں۔یہ ان کا کید ہے۔
ان کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت ہوتی تو جن کی نسبت ایسی عام اشاعت سنتے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دشنام دہندہ ہے،اس سے فوراً خود ہی کنارہ کش ہوتے اور آپ ہی اس کی تحقیق کو بے قرار ہوتے۔

کیا کوئی کسی کو سنے کہ تیرے قتل کے لیے گھات میں بیٹھا ہے،اعتبار نہ آئے تو چل تجھے دکھا دوں۔وہ یوں ہی بے پرواہی برتے گا،اور کہے گا۔مجھے نہ تحقیقات کی ضرورت،نہ اس سے احتراز کی حاجت۔تو یہ لوگ ضرور مکار اور بباطن انہیں سے انفار۔یا دین سے محض بے علاقہ و بے زار ہوتے ہیں۔ان کے پیچھے نماز سے احتراز فرض ہے۔

ہاں،اگر واقع میں کوئی نو وارد یا نرا جاہل یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تک یہ آوازیں نہ گئیں اور وہ بوجہ ناواقفی محض انہیں کافر نہ سمجھا،وہ اس وقت تک معذور ہے جب کہ سمجھانے سے فورا ًحق قبول کر لے“۔(فتاوی رضویہ جلد نہم: جز دوم:ص313۔رضا اکیڈمی ممبئی)

جھوٹی قسم کا اعتبار نہیں:

دیوبند ی جانچنے کا طریقہ
امام احمدرضا سے سوال کیا گیا:”ایک شخص بروئے حلف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں وہابی نہیں،اللہ کو ایک جانتا ہوں رسول اللہ کو نبی برحق اور اولیائے عظام کو برابر جانتا ہوں، کرامت کا قائل ہوں،حنفی مذہب کا پابند ہوں،جو لوگ پھر بھی اعتبار نہ کریں تو کیا کیا جائے، قرآن اورا للہ پر یقین نہ کرنے والوں کو کیا کہا جائے؟بینواتوجروا۔
آپ نے رقم فرمایا:”اگر اس میں کوئی بات وہابیت کی نہ دیکھی،نہ کوئی قوی وجہ شبہہ کی ہے تو بلاوجہ شبہہ نہ کیا جائے، بدگمانی حرام ہے،اور اگر اس میں وہابیت پائی تو ثابت شدہ بات اس کی قسموں سے دفع نہ ہوجائے گی۔وہابی اکثر ایسی قسمیں کھایا کرتے ہیں۔
قال اللّٰہ تعالٰی: یَحْلِفُونَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُواکَلِمَۃَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوا بَعْدَ اِسْلامِہِمْ-نہ ان کی قسموں کا اعتبار۔قال اللّٰہ تعالٰی: اِنَّہُمْ لَا اَیمَانَ لَہُم۔

اور اگر کسی وجہ سے شبہہ ہے تو صرف ان قسموں پر قناعت نہ کریں،بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمٰعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی ورشید احمد گنگوہی وقاسم نانوتوی واشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیار الحق وبراہین قاطعہ وتحذیر الناس وحفظ الایمان وبہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہے؟اگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں اور یہ کتابیں کفر وضلالت سے بھری ہوئی ہیں،تو ظاہر یہ ہے کہ وہابی نہیں، ورنہ ضرور وہابی ہے۔ جھوٹوں کی قسم پر اعتبار نہ کرنا قرآن اور اللہ پر اعتبار نہ کرنا نہیں۔

اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُونَ قَالُوا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُولُ اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ انک لرسولہ واللّٰہ یشہد ان المنافقون لکذبون::اتخذوا ایمانہم جنۃ فصدوا عن سبیل اللّٰہ انہم ساء ما کانوا یعملون۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد ششم:ص 79-رضا اکیڈمی ممبئ)

طارق انورمصباحی
روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ:00:جنوری 2021
٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/856671581570028/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک صاحب نے امام حسین پاک کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے آپ کو " سَیِّدُ الشُہَدَا " کہا ، جس پر ایک عالم صاحب معترض ہوئے اور کہنے لگے:

سید الشہدا حضرت امیر حمزہ ہیں ، جنھیں رسول اللہ ﷺ نے سیدالشہدا کہا ہے ، امام حسین پاک کو شہید کہیں ، سید الشہدا نہیں ۔

میں نے عرض کی:

حضرت! بے شک سیدنا حمزہ پاک کو رسول اللہ نے سیدالشہدا کہا ہے ، لیکن امام حسین پاک بھی حضور ہی کے فرمان کی روشنی میں سیدالشہدا ہیں ۔

صحیح حدیث میں ہے :

سيد الشهداء حمزة بن عبد المطلب ، ورجل قام إلى إمام جائر فأمره ونهاه فقتله ۔

سیدالشہدا حضرت حمزہ ہیں ، اور وہ بندہ ( بھی ) ہے جو ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہوکر نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع کرتا ہے تو حاکم اسے قتل کروا دیتا ہے ۔

صحابہ کرام علیھم الرضوان کے جن فضائل کو خود رسول اللہ ﷺ نے خاص نہیں کیا ، ہم‌ از خود کیسے کرسکتے ہیں !!

✍️لقمان شاہد
27-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3075638702716298&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیر سید عرفان شاہ صاحب کی بعض حرکات و سکنات پر " بہت زیادہ " افسوس کرنے والے ، اور ان کی جدائی میں مرثیے پڑھنے والے ایک بھائی کی نذر ؎

اے دلِ بے قرار چُپ ہو جا
جا چکی ہے بہار چُپ ہو جا

اب نہ آئیں گے رُوٹھنے والے
دِیدۂ اشک بار ۔۔۔۔ چُپ ہو جا !

جا چکا کاروانِ لالہ و گل
اُڑ رہا ہے غُبار ، چپ ہو جا

چُھوٹ جاتی ہے پھول سے خوشبو
روٹھ جاتے ہیں یار ، چپ ہو جا

گیت کی ضرب سے بھی اے ساغرؔ
ٹوٹ جاتے ہیں تار ۔۔۔۔۔۔۔ چُپ ہو جا !

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3076207722659396&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ضرورت سے زیادہ امیدیں پریشان کیے رکھتی ہیں ، اور وہ بھی ان لوگوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو امیدوں پر پورا اترنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ۔ ؎

اُن سے اُمّیدِ وفا ہائے تِری نادانی
کیا خبر ان کو ، یہ کِردارِ مُعَظَّم کیا ہے

وہ جو ہیں ہم سے گُریزاں تو بَلا سے اپنی
جب یہی طَورِ جہاں ہے تو بَھلا غم کیا ہے

اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو نہ کسی‌ سے زیادہ توقع رکھیں ،‌ نہ فضول امیدیں باندھیں ۔

آپ کا رب ، آپ سے بہت محبت فرماتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو جو چاہیے ، اس سے مانگا کریں ؛ اور اسی سے ساری امیدیں وابستہ رکھیں ۔ ؎

جَوَّاد وغنی ، بَرتر وبالا وہ ہے
رزَّاقِ جہاں رب تعالیٰ وہ ہے

کیوں مانگ رہاہے مانگنے والوں سے ؟
اللہ سے مانگ ۔۔۔۔۔۔۔ دینے والا وہ ہے !!

✍️لقمان شاہد
30-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3077774842502684&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میرا دوست ہارون ، ایک مولانا صاحب کی تقریریں بڑی دل چسپی سے سنتاہے ، اور بار بار سنتا ہے ؛ پھر آکر مجھے سنانے لگ جاتا ہے ۔

کچھ دن پہلے یوٹیوب پر اُنھی مولانا کی ایک تقریرِ دل پذیر سننے کا مجھے بھی اتفاق ہوا ۔
خطابت اچھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔‌ سامعین سبحان اللہ ، ماشاءاللہ اورواہ واہ بھی کیے جارہے تھے ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ان کی تقریر سن کر ایک واقعہ یاد آگیا ۔

قبلہ استاد صاحب دام ظلہ فرماتے تھے :

ہم طالب علم مدرسے میں ہر جمعرات کو محفل کیا کرتے تھے ، جس میں سارے باری باری تقریریں کرتے ۔
ایک‌دفعہ ہمارا سنگی احمد یار تقریر کررہا تھا کہ اتفاق سے بڑے استاد صاحب ( مولانا محمد نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) نے سن لی ۔

صبح کلاس میں اسے فرمانے لگے:

احمد یارا تقریر سوہنی کرنا اے پر چوٹھ نہ ماریا کر ۔
( یعنی احمد یار تو تقریر اچھی کرتاہے ، بس تقریر میں جھوٹ نہ بولا کر ، مطلب: مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا کر ! )

وہ کہنے لگا:

استاد جی جے چوٹھ نہ ماریے تے نعرے نئی وجدے ۔
( یعنی جھوٹ نہ بولیں تو لوگ داد نہیں دیتے ۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ ! )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خطیب ، وہ واعظ ، وہ مقرر جو اپنی‌تقریر میں غلط بیانی سے کام لیتا ہے ، مبالغہ آمیزی کرتا ہے ، غلط رنگ بھرتا ہے ؛ وہ نہ صرف اپنی ۔۔۔۔۔ بلکہ سامعین کی بھی عاقبت خراب کرتاہے ۔

ایسے خطبا کی اصلاح ہونی چاہیے ، اور ان کی‌اصلاح سامعین سے بہتر شاید کوئی‌ کرسکے !
جب سامعین اوٹ پٹانگ باتوں پر داد دینے کے بجائے قرآن وحدیث پر داد دیں گے تو خطبا کی خود بخود اصلاح ہوتی چلی جائے گی ۔

اللہ کرے ہم اپنا ذوق بدلیں اور ترجیحات کو سمجھیں !

✍️لقمان شاہد
31-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3078731299073705&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مدینہ شریف نبی پاک سرکار کا شہر ہے ، اس کے سب راستے ہی پیارے ہیں ۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ وہ راستہ جس کی نسبت آقاﷺ کے پیارے صدیق سے ہے ، وہ بے حد پیارا لگتاہے ۔

اللہ ﷻ مولا علی پاک کے طفیل ہماری‌ محبتِ صدیق کو دوام بخشے !

✍️لقمان شاہد
1-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3079290232351145&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
صحابہ کرام‌ علیھم الرضوان جب کوئی اچھا خواب دیکھتے تو رسول اللہ ﷺ کو سنایا کرتے تھے ، بلکہ آقا کریم فجر کی نماز کے بعد خود صحابہ سے پوچھتے تھے کہ:

هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ؟

کیا آج رات تم میں سے کسی‌ نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟

( سنن ابوداود شریف ، ر5017 )

اچھا خواب ، اچھی نیت اور پوری سچائی کے ساتھ اپنے احباب کے سامنے ضرور بیان کرنا چاہیے ، البتہ برا خواب صرف معبر کے سامنے ہی بیان کرنا چاہیے ، تاکہ وہ حسبِ حال تعبیر بتاسکے ۔

صحابہ کرام علیھم الرضوان کی پیروی میں اپنا خواب آپ سے بیان کرتاہوں ، اگر آپ میں سے کسی نے آج کی رات اچھا خواب دیکھا ہو تو وہ کمینٹ میں بیان کرسکتے ہیں ۔

" آج رات خواب میں مجھے دو مرتبہ مدینہ پاک کی حاضری نصیب ہوئی ۔ "

دعا فرمائیں رب تعالی حقیقت میں بھی حاضری کی سعادت عطافرمادے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اورجلد وہاں پہنچنے کے اسباب پیدا ہوجائیں ۔ ؎

مرے آقا مدینے میں مجھے بھی اب بلالیجے
ترستی ہیں مِری آنکھیں مجھے روضہ دکھا دیجے

مہکتی ہیں وہ راہیں جن سے آقا آپ ہیں گزرے
مجھے بھی اُن گلی کُوچوں میں رہنے کی جگہ دیجے

✍️لقمان شاہد
2-2-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3079959495617552&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مولا علی پاک یا دیگر صحابہ کرام کا ذکرِخیر کیا جائے تو اللہ کے پیارے رسول خوش ہوتے ہیں ، اور جب صدیق پاک کا ذکر شریف کیا جاتا ہے تو بھی حضور ﷺ بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں ۔

آقا ﷺ کے صدیق نے ہمیشہ اپنے آقا ﷺ ہی کو چاہا ، انھیں ہی سوچا ، انھیں ہی دل میں بسائے رکھا ؎


ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺤﻤﺪ ہے ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﺣﮑﻢِ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺑﮩﺖ ﺟﺎﮔﻨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ہے
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ہے
ﻣِﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻗﺮﺑﺎﻥ ، ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮞ ، ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺭِﺿﺎ ﭘﺮ
ﻣﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣﺮﺍ ﮨﺮ ﻧﻔَﺲ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﻟﻮﭨﻮﮞ ، ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺁﺅﮞ
ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ ، ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ !

ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ

ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺣﯿﺎ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﻓﻘﻂ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ !

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3080330202247148&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 تقریباً 15000 مسائل پر مشتمل 900 سال پہلے لکھا جانے والا فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا

فتاویٰ قاضی خان اردو ترجمہ

پہلی مرتبہ اُردو ترجمہ میں
5 جلدوں میں شائع ہُو چکا ہے!

🌹 امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے اس فتاویٰ میں تحریر کیے جانے والے حواشی جو عربی زبان میں تھے ان کا بھی اردو ترجمہ بنام تعلیقات رضویہ حواشی میں شامل ہے!

🌹 تقریباً 50 سال سے تصنیف و تالیف اور درس و تدریس سے تعلق رکھنے والے عظیم مذہبی سکالرز شیخ الحدیث حضرت علامہ مفتی محمد صدیق ہزاروی دامت برکاتہم العالیہ کے کچھ ضروری حواشی بھی موجود ہیں!

خود بھی اس کو اپنی لائبریری اور مطالعہ میں شامل فرمائیں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں!

گزارش PDF میں مطالعہ کے بجائے اصل کتاب خریدیں! صرف 3300 روپے میں 15000 شرعی مسائل 💐

طالب دعا :
ابو معاویہ قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM