🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
بظاہر غیر مقلد دیوبندیہ سے بدتر ہیں کہ عقائد کفر و ضلال میں دونوں متحد، اور ان میں انکار تقلید و بدگوئی ائمہ زائد۔خود امام الدیابنہ رشید گنگوہی کے فتاوٰی حصہ دوم صفحہ 21میں 4 گروہ غیر مقلد میں نذیر حسین دہلوی کی نسبت ہے۔ ان کو مردود اور خارج اہل سنت سے کہنا بھی سخت بے جا ہے۔

عقائد میں سب متحد مقلداور غیر مقلد ہیں،اور مفتی سے اگر غیر مقلدین اور دیوبندیہ کے بارے میں سوال ہوگا تو دیوبندیوں پر حکم سخت تردے گا کہ اس کا مطمعِ نظر وصف عنوانی ہے۔ ترک تقلید و بدگوئی ائمہ کو دیوبندیہ کے ان اقوال سے کیا نسبت ہے جو سرگروہانِ دیابنہ گنگوہی،نانوتوی و تھانوی کے ہیں کہ ابلِیس کو علم غیب ہے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے مانے تو صریح مشرک:الخ“۔
(فتاویٰ رضویہ جلدیازدہم:ص 73-رضا اکیڈمی ممبئ)

(3) امام موصوف نے اسی فتویٰ میں رقم فرمایا:”علمائے کرام حرمین شریفین نے فتاوی الحرمین میں غیر مقلد پر یہ حکم فرمایا:ھو من اھل البدعۃ والنار۔وہ بدعتی جہنمی ہے۔اور حسام الحرمین شریف میں دیوبندیوں کی نسبت یوں ارشاد فرمایا:ھٰؤلاء الطوائف کلھم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام۔یہ طائفہ سب کے سب کافر مرتد ہیں باجماع امت اسلام سے خارج ہیں۔

اور تحقیق یہ ہے کہ ان صریح جلی ملعون کفروں کے ایجاد میں دیوبندی پیش قدم ہیں اور ان کے تسلیم میں وہ اور غیر مقلد سب یکساں وہمدم ہیں۔ کوئی وہابی ان لعین کفروں اور اللہ و رسول کو شدید غلیظ گالیوں پر دیوبندیوں کی تکفیر نہ کرے گا،بلکہ اپنی چلتی ساتھ ہی دے گا اور علمائے کرام دیوبندیوں کو فرماچکے:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے،خود کافر ہے۔

تو ملعون کفروں میں سب برابر ہوئے، اور اللہ و رسول جل و علا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان سخت گندی دشناموں کے بعد اس پر کیا نظر کہ اُنہوں نے ائمہ کو بھی بُرا اور تقلید کو ناجائز کہا، اُن عظیم ملعون کفروں کے آگے یہ کیا قابلِ ذکر ہے لہٰذا دونوں گروہ کفر میں برابر اور سگِ زرد و شغال و سگِ سیاہ و خوک سے زیادہ باہم حقیقی برادر ہیں“۔
(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم:ص 75-رضا اکیڈمی ممبئ)

(4)امام احمدرضا قادری نے رقم فرمایا:”بے شک وہابیہ مقلدین وغیر مقلدین یقینا تمام عقائد کفر وضلال میں متحد ہیں“۔(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم ص127-رضا اکیڈمی ممبئ)

(5)امام احمد رضا قادری نے29:محرم الحرام ۹۳۳۱؁ھ کے سوال کے جواب میں وہابیہ کوکافر کلامی لکھا:

”طوائف مذکورین وہابیہ ونیچریہ وقادیانیہ وغیر مقلدین ودیوبندیہ وچکڑالویہ خذلہم اللہ تعالیٰ اجمعین ان آیات کریمہ کے مصداق بالیقین اور قطعا یقینا کفار مرتدین ہیں۔ان میں ایک آدھ اگر چہ کافر فقہی تھا اور صدہا کفر اس پر لازم تھے، جیسے (نمبر)۲: والا دہلوی، مگر اب اتباع واذناب میں اصلاً کوئی ایسا نہیں جو قطعاً یقینا اجماعاً کافر کلامی نہ ہو،ایسا کہ من شک فی کفرہ فقد کفر۔جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے“۔(فتاویٰ رضویہ جلد ششم ص 90-رضا اکیڈمی ممبئ)

توضیح:منقولہ بالا عبارت میں صریح لفظوں میں وہابیہ کو کافر کلامی کہا گیا۔یہاں وہابیہ سے دیابنہ مراد نہیں،کیوں کہ دیابنہ کا مستقل ذکر موجود ہے،بلکہ امام احمدرضا قادری نے صریح لفظوں میں بیان فرمایا کہ اب اسماعیل دہلوی کے تمام متبعین کافر کلامی ہیں۔ دہلوی کے متبعین دیابنہ بھی ہیں اور وہابیہ بھی۔سوال میں غیر مقلد وہابیہ،دیابنہ،نیچریہ وغیرہ کے غلط عقائد کا ذکر ہے۔

(6)امام احمد رضا سے6:شوال ۹۳۳۱؁ھ کوسوال ہواکہ قادیانی،غیر مقلد،اہل قرآن،رافضی وغیرہ وغیرہ علاوہ سنیوں کے جتنے فرقے ہیں،ان کے ساتھ کھانا پینا،سلام علیک کرنا،نوکری کرنا جائز ہے یانہیں؟

امام احمدرضا قادری نے جواب میں رقم فرمایا:”یہ فرقے اور اسی طرح دیوبندی ونیچری غرض جو بھی ضروریات دین میں سے کسی شئ کا منکر ہو،سب مرتد کافر ہیں۔ان کے ساتھ کھانا پینا،سلام علیک کرنا،ان کی موت وحیات میں کسی طرح کا کوئی اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام ہے“۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ششم ص95:رضا اکیڈمی ممبئ)

طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ:30:جنوری 2021
٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/856110758292777/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک جھوٹی حکایت*

مولانا اسد الرحمن چشتی کی تحریر، اور اس پر نثار مصباحی کی دو تعلیقات :

مولانا اسد الرحمن چشتی (پیر محل، پاک) Asad Ur Rehman لکھتے ہیں:

"سیدنا امام حسن و حسین اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کھیل رہے تھے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
*اے ہمارے غلام کے بیٹے!*
ان الفاظ کی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رنجیدہ ہوئے تو اپنے والد محترم کی بارگاہ میں بطورِ شکایت عرض کی کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے مجھے غلام کا بیٹا کہا ہے۔
سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
*امام حسین رضی اللہ عنہ سےیہ بات لکھوا کر لے آؤ تاکہ جب میں فوت ہو جاؤں تو اس کاغذ کو میرے کفن میں رکھ دینا۔*

*اس روایت کوکئی خطباء نے بیان کیا ہے جبکہ اس کا کوئی بھی مستند حوالہ موجود نہیں ہے۔*
*جھوٹی روایت میں اگرچہ کتنی ہی محبت کا درس کیوں نہ ہو لیکن ہے تو من گھڑت۔ اس لیے علماے کرام و خطباے عظام کا حق بنتا ہے کہ مستند روایات ہی عوام الناس تک پہنچائیں۔*"

یہ واقعہ اہل تشیع کی کتاب "چودہ ستارے" از نجم الحسن کراروی کے صفحہ 226 پر موجود ہے۔۔۔ اس واقعہ کا کوئی مستند حوالہ ملے تو ضرور راہنمائی کی جائے تاکہ اپنی اصلاح ممکن ہو۔

_اسدالرحمٰن
5جنوری 2020ء

تعلیقِ اوّل :

حدیثِ صحیح سے ثابت ہے کہ جنگِ بدر کے موقعے پر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما ۱۳ یا ۱۴ سال کے تھے۔ اور اسی وجہ سے جنگ میں شرکت کی انھیں اجازت نہیں ملی۔ اگلے سال جنگِ اُحد میں آپ نے شریک ہونا چاہا۔ مگر بعض روایات میں ہے کہ اس میں بھی جنگ کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ مگر اس وقت آپ کی عمر مکمل ۱۴ سال تھی۔(تقریب التہذیب لابن حجر)
۳ ھ میں جنگِ احد ہوئی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ۳ھ میں اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ۴ ھ میں پیدا ہوئے۔ اس وقت یعنی ۴ھ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی عمر ۱۶ سال تھی۔ ظاہر ہے امام حسین کی جب کھیلنے کی عمر ہوئی ہوگی تب تک سیدنا عبد اللہ بن عمر ۱۹-۲۰ سال کے جوان مجاہد ہو چکے تھے۔ امام ابن عبد البر "الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب" میں معروف تابعی امام مجاہد کا بیان نقل فرماتے ہیں:
*وعن مجاهد ، قال : عبد الله بن عمر شارك يوم فتح مكة وكان عمره عشرين سنة.*
*حضرت عبد اللہ بن عمر فتحِ مکہ میں شریک رہے۔ اس وقت ان کی عمر ۲۰ سال تھی۔*
سب جانتے ہیں کہ فتحِ مکہ ۸ھ میں ہوئی۔ فتحِ مکہ کے وقت امام مجاہد کے بقول: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی عمر ۲۰ سال تھی۔ یعنی ۴ ھ میں ان کی عمر ۱۶ سال تھی، اور ۳ ھ میں ۱۵ سال۔ !((بہر حال معمولی اختلاف کے باوجود یہ طے ہے کہ امام حسین کی ولادت یعنی ۴ھ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی عمر ۱۴-۱۵ سال سے کم نہیں تھی۔ اور جب امام حسین کی عمر مبارک ۴ سال ہوئی یعنی ۸ ھ میں، اس وقت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر امام مجاہد کے بقول ۲۰ سال، اور باختلافِ روایت کم از کم ۱۸-۱۹ سال ضرور تھی۔))

عمر کے اس تفاوت کے بعد یہ کہنا کہ دونوں ایک ساتھ کھیل رہے تھے، یہ کہنا ہی غیر معقول ہے۔ اور ہماری بیان کردہ یہ تفصیل اس فرضی واقعے کی بنیاد ڈھا دینے کے لیے کافی ہے۔

#نثارمصباحی
۳۰ جنوری ۲۰۲۱ء

تعلیقِ دوم :

صحیح البخاری شریف کی حدیث ہے :

2521 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللہ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي..........الحديث

((صحيح البخاري، كتاب الشهادات، باب بلوغ الصبيان و شهادتهم. حديث نمبر : 2521)

بخاری شریف کی اس حدیث میں صراحت ہے کہ جنگِ احد کے وقت (یعنی ۳ ھ میں) حضرت عبد اللہ بن عمر کی عمر شریف ۱۴ سال تھی۔
اسی حدیث میں آگے ہے :
ثُمَّ عَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي.۔ ((یعنی جنگِ خندق کے وقت ان کی عمر ۱۵ سال تھی))

اس پر ایک اشکال ہے کہ جنگِ خندق ۵ ھ میں ہوئی۔ جب جنگ احد کے وقت وہ ۱۴ سال کے تھے تو خندق کے وقت ۱۶ سال ہونا چاہیے کیوں کہ جنگِ خندق ۵ ھ میں ہوئی۔ پھر اس میں کیسے کہا گیا کہ خندق کے وقت مَیں ۱۵ سال کا تھا ؟
اس اشکال کے ۲ جواب دیے گئے ہیں:
۱- جنگِ خندق ۵ھ میں نہیں بلکہ ۴ ھ میں ہوئی۔ جیسا کہ امامِ مغازی موسی بن عقبہ نے کہا ہے۔ (مگر یہ جواب کمزور ہے۔ کیوں کہ تحقیقی قول وہی ہے جو امام ابن اسحاق نے بیان فرمایا ہے کہ جنگ خندق ۵ھ میں ہوئی۔)
پھر اس اشکال کا دوسرا جواب دیا گیا ہے کہ:
۲- جنگِ احد کے وقت وہ تیرہ سال کے تھے اور چودہواں سال چل رہا تھا۔ اس لیے ۱۴ سال کہا۔ اور خندق کے وقت ۱۵ سال مکمل تھے، سولہواں چل رہا تھا، مگر سولہویں کے مہینوں کو نہ گنتے ہوئے صرف ۱۵ سال کہنے پر انھوں نے اکتفا کیا۔ (دیکھیے : فتح الباری شرح بخاری۔ اسی حدیث کی شرح)

بہر حال اتنا طے ہے کہ جنگِ احد کے وقت ان کی عمر ۱۳-۱۴ سال ضرور تھی۔ اس سے کم نہیں تھی۔ اس سے بھی ہمارا مدعا حاصل ہے۔

البتہ یہاں ایک اشکال ہوگا کہ اس حساب سے فتحِ مکہ کے وقت ان کی عمر ۱۸ سال بن رہی ہے۔ پھر "الاستیعاب" کے حوالے سے مذکور قول میں امام مجاہد نے فتحِ مکہ کے وقت ان کی عمر ۲۰ سال کیسے بتائی ؟
اس اشکال کے ۲ جواب ہیں:
۱- پہلا جواب یہ ہے کہ فتحِ مکہ کے وقت ان کی عمر ۱۸ سال تھی، انیسواں سال چل رہا تھا۔ امام مجاہد نے انیس کی جگہ بیس کہہ کر ۲۰ کی تعیین نہیں کی ہے بلکہ ایک تقریبی قول بیان فرمایا ہے یعنی لگ بھگ ۲۰ سال تھی۔ اور ایسا بہت ہوتا ہے کہ ۱۹ سال والے کو موٹے طور پر بیس سال کا کہہ دیا جاتا ہے۔
۲- دوسرا جواب یہ ہے کہ امام مجاہد تک یہی قول پہنچا ہوگا کہ اس وقت ان کی عمر ۲۰ سال تھی۔ اس لیے انھوں نے ۲۰ سال بیان کی۔

بہر حال ان معمولی اختلافات سے ہمارے مدعا پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
چاہے آپ فتحِ مکہ کے وقت ان کی عمر ۱۸ سال مانیں، یا ۱۹ مانیں یا ۲۰ مانیں۔ بہر حال امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر شریف فتحِ مکہ والے سال جب ۴ سال تھی اس وقت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی عمر ۱۸-۱۹ سال ہو چکی تھی۔ اور دونوں کی عمر میں اس تفاوت کے ہوتے ہوئے ساتھ ساتھ کھیلنا متصور نہیں۔

#نثارمصباحی
۳۰ جنوری ۲۰۲۱ء

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/856183334952186/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
افضلیتِ صدیقِ اکبر ــ احادیثِ طیبہ کی روشنی میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

از : فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اہلِ اسلام کے نزدیک ایک جملہ بولا جاتا ہے : "أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق ؛ أمير المؤمنين أبي بكر الصديق " یعنی : یہ بات تحقیق سے ثابت شدہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہیں۔ یہ جملہ دراصل متعدد احادیثِ کریمہ اور تحقیقاتِ فقہا و متکلمین کا نچوڑ ہے. اور اہل سنت وجماعت کے اجماعی عقیدے :" افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ" کی ترجمانی پر مشتمل ہے۔

اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح نبی کریم ﷺ تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر فضیلت رکھتے ہیں، یوں ہی آپ کی امت کو سابقہ تمام امتوں پر فضیلت کا شرف حاصل ہے. پھر تمام امت محمدیہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سب سے افضل قرار پائے، پھر حضرات صحابۂ کرام میں وہ مہاجرین جنھیں سابقین اولین ہونے کا شرف حاصل ہے. پھر ان میں بھی وہ دس خوش نصیب حضرات جنھوں نے زبانِ رسالت مآب ﷺ سے دنیا ہی میں جنتی ہونے کا مژدہ پایا، پھر ان عشرۂ مبشرہ میں حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تمام پر فضیلت حاصل ہے. اور ان چار یاروں میں بھی یارغار حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تمام پر فضیلت حاصل ہے۔ یہ باتیں یوں ہی نہیں کہی جاتیں، بلکہ ان کے پیچھے ٹھوس اور مستحکم دلائل موجود ہیں. تفصیل کے لیے اس موضوع پر موجود سینکڑوں کتب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
الحاصل : *أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق* اسی عقیدۂ اہل سنت کو مختصر لفظوں میں بیان کردیتا ہے۔
آنے والی سطروں میں ہم احادیث کریمہ کی روشنی میں اس پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔

💎 نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ میرے نزدیک "ابو بکر صدیق" سب سے پیارے ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

حضرت عمرو بن العاص رضي الله عنه سے روایت ہے کہ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ سے استفسار کیا کہ
: آپ کے نزدیک مردوں میں سب زیادہ محبوب کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے إرشاد فرمایا : أبوبکر. حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه على جيش ذات السلاسل فأتيته.

فقلت: أي الناس أحب إليك؟
قال ﷺ : "عائشة"

فقلت من الرجال؟
قال ﷺ: "أبوها"

قلت: ثم من؟
قال ﷺ: " ثم عمر بن الخطاب"

فعد رجالاً .[رواہ الشیخان البخاری والمسلم ]

💎حضرت عمر کی شہادت کہ حضرت ابوبکر صدیق ہم میں سب سے بہتر ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

⚡️ حضرت عائشة رضي الله عنها کی روایت ہے کہ سقيفۂ بنی ساعدہ کے موقع پر امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا :
*آپ ہمارے سردار، ہم میں سب سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب زیادہ محبوب ہیں۔*

یہ ایک طویل حدیث ہے جس کے بعض الفاظ ہیں :

وفيه أن أبا بكر قال للأنصار: ( ولكنا الأمراء وأنتم الوزراء هم أوسط العرب دارا، وأعربهم أحسانا، فبايعوا عمر بن الخطاب أو أبا عبيدة بن الجراح.
فقال عمر بل نبايعك أنت ۔
*فأنت سيدنا ، وخيرنا، وأحبنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فأخذ عمر بيده فبايعه وبايعه الناس. (رواہ البخاری )

💎حضرت علی کی شہادت کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر ابو بکر صدیق ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
چوتھے خلیفۂ راشد باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب ان کے صاحبزادے حضرت محمد بن الحنفیہ نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے.؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : *ابوبکر*
حدیث کے متعلقہ الفاظ ہیں :
محمد بن الحنفية قال: *قلت: لأبي: أي الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أبو بكر* قلت: ثم من؟ قال: عمر .(رواہ البخاری )

مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضرت علي رضي الله عنه نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔
حدیث کے الفاظ ہیں :
عن علی رضی اللہ عنه أنه قال لأبي جحيفة: يا أبا جحيفة ألا أخبرك بأفضل هذه الأمة بعد نبيها قال: قلت: بلى ولم أكن أرى أن أحدا أفضل منه، قال: *أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر* وبعد أبي بكر عمر وبعدهما آخر ثالث ولم يسمه .(روى الإمام أحمد بإسناده)

ـــــــ خلاصۂ بحث :
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل اور نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔
بخاری ومسلم شریف کی روایت میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ محبوبیت کا درجہ ابو بکر ہی کو حاصل ہے۔ بخاری شریف ہی کی روایت میں آپ نے پڑھا کہ خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر سب سے افضل اور حضورِ اکرم ﷺ کو سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ اور پھر اس باب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہادت تو سب سے بڑھ کر ہے؛ کہ انہیں کے نام سے انتشار وافتراق پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چناں چہ ابھی ابھی بخاری شریف میں، بلکہ مسند احمد بن حنبل میں بھی حضرت علی کے حوالے سے شہادت گزری کہ *أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر* ۔ اسی لیے تو اہل سنت وجماعت کے افراد آج تک اسی عقیدے پر قائم ودائم ہیں ۔ اور علانیہ کہتے ہیں :
أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق ؛ أمير المؤمنين أبي بكر الصديق " یعنی : تحقیق سے ثابت شدہ موقف ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کرام کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہیں۔

از :
فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
١٦/ جمادی الآخرۃ ١٤٤٢ھ

fb://photo/856379544932565?set=a.415369752366882
fb://photo/856379544932565?set=a.415369752366882
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملاوحامدا::ومصلیا ومسلما

نمازوتبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ

قسط اول

عہد حاضر میں لوگ کہتے ہیں کہ اکثر دیوبندیوں کو دیابنہ کے کفریہ عقائد کا علم نہیں، جب کہ امام احمدرضا قادری کی تحریریں اس کے برخلاف شہادت دیتی ہیں۔اسی طرح امام احمد رضا قادری نے فرمایا تھا کہ سب سے بدتر کافر دیوبندی ہیں،لیکن بعض لوگ اس کے بر عکس عمل میں مبتلا ہوئے۔غیر مقلدوں سے تو دور بھاگتے ہیں،لیکن دیوبندیوں کے لیے کچھ نرم گوشہ رکھتے ہیں، پھرکہتے ہیں کہ آج کے دیوبندیوں کوکچھ معلوم نہیں:واللہ تعالیٰ اعلم

ہندوپاک میں مشہور ومتواتر ہے کہ دیوبندی گستاخ رسول اور کافر ہیں۔بریلی والے گستاخی رسول کی وجہ سے دیوبندیوں کوکافر کہتے ہیں۔ عوا م میں یہ باتیں مشہور ہیں۔

معلوم نہیں کہ ہندوپاک کا وہ کو ن سا علاقہ ہے کہ جہاں کے دیوبندیوں کوکچھ پتہ ہی نہیں۔

واضح رہے کہ شریعت کے بہت سے احکام صرف زبانی اقرارکے سبب بدل جاتے ہیں،خواہ دل میں کچھ بھی عقیدہ ہو۔

جوکہتا ہے کہ ہم مجوسی ہیں،اس کومجوسی سمجھا جائے گا۔

دیوبندیوں کا مکروفریب

جس طرح شیعہ لوگ تقیہ بازی کرتے ہیں۔اپنے غلط عقائد کولوگوں سے چھپاتے ہیں،لیکن ان برے عقائد سے توبہ نہیں کرتے۔اسی طرح دیابنہ بھی اپنے عقائد کو چھپاتے ہیں۔منافقین کے بارے میں قرآن مجیدمیں ہے کہ مسلمانوں کوکہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ کافروں سے کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کو کافر قرار دیا۔

وہابی اورسنی میں فرق کا طریقہ

(الف)امام احمد رضا قادری نے وہابی وسنی میں فرق کرنے کا طریقہ رقم فرمایا:

”ہمارے بعض بھائیوں کا بعض متفنی وہابیہ کے فریب سے دھوکا پاکر یہ عذر باقی ہے کہ یہ احکام توا ن کے لیے ہیں جو مذہب اہل سنت سے خارج ہیں اور وہابی ایسے نہیں۔ فلاں فلاں وہابی تو سنی ہیں۔اس کا جواب اسی قدر بس ہے کہ:

عزیز بھائیو! دین حق کے فدائیو! دیکھو یہ دام درسبزہ ہیں دھوکے میں نہ آئیو،بھلا وہابی صاحب جو چاہیں بکیں۔وہاں نہ خوف خدانہ خلق کی حیاء،مگر پیارے سنیو! تم نے یہ کیوں کر باورکرلیا کہ بعض وہابی اہل سنت ہیں۔عزیزو! کیا یہ اس کہنے سے کچھ زیادہ عجیب تر ہے کہ فلاں رات دن ہے،یافلاں نصرانی،مومن ہے۔
جب سنیت،وہابیت سے صاف مباین ہے تو ان کا اجتما ع کیوں کر ممکن ہے؟

ہاں یوں کہتے تو ایک بات تھی کہ فلاں فلاں لوگ جو وہابی کہلاتے ہیں،وہابی نہیں۔ اہل سنت ہیں۔بہت اچھا،چشم ماروشن دل ماشاد،خدا ایسا ہی کرے۔

اگر واقع اس کے مطابق ہے تو ہمارا کیا ضرر،اورا س فتویٰ پر اس سے کیا اثر۔فتویٰ میں زید وعمر وکسی کی تعیین نہ تھی۔

سائل نے وہابی کی نسبت سوال کیا۔ مجیب نے وہابی کے باب میں جواب دیا۔فلاں اگر وہابی نہیں، سنی ہے۔اس سوال وجواب دونوں سے بری ہے۔فتویٰ کی صحت میں کیا شک پروری ہے۔

پھر عزیز بھائیو! یہ تنزل جواب اس کے تسلیم ادعا پر مبنی ہے،ابھی امتحان کا مرحلہ باقی ودیدنی ہے۔زبان سے کہہ دینا کہ ہم وہابی نہیں، گنتی کے لفظ ہیں،کچھ بھاری نہیں۔

الٓمّٓ اَ حَسِبَ النَّاسُ اَن یُّتْرَکُوا اَن یَّقُولُوا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ
کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اس زبانی کہہ دینے پرچھوڑدئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اوران کی آزمائش نہ ہوگی۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد پنجم:ص 272-نوری دارالاشاعت بریلی شریف)

اس کے بعد امام احمدرضا قادری نے ایسے مشتبہ وہابی کی آزمائش کے لیے آٹھ امور رقم فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ ایسے غیرمقلد وہابی سے ان امور پر دستخط لیے جائیں۔اگر وہ صدق دل کے ساتھ قبول کرلیں تو ٹھیک ہے،ورنہ وہ وہابی ہے۔ آج لوگوں نے اس کے برعکس کردیاہے۔بغیر کسی تفتیش کے خودسے ہی دیوبندیوں کوسنیت ک کی سند تقسیم فرمارہے ہیں۔
امام احمد رضا قادری نے رقم فرمایا:”بہت اچھا جو صاحب مشتبہ الحال وہابیت سے انکار فرمائیں۔امور ذیل پر دستخط فرماتے جائیں۔

ع/ کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں

(1)مذہب وہابیہ ضلالت وگمراہی ہے۔

(2)پیشوایان وہابیہ مثل ابن عبدالوہاب نجدی واسمٰعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی وصدیق حسن بھوپالی اور دیگر چھٹ بھیے آروی،بٹالی، پنجابی،بنگالی سب گمراہ بد دین ہیں۔

(3)تقویۃ الایمان وصراط مستقیم ورسالہ یکروزی وتنویرالعینین تصانیف اسمعیل اور ان کے سوا دہلوی و بھوپالی وغیرہما وہابیہ کی جتنی تصنیفیں ہیں،صریح ضلالتوں گمراہیوں اور کلمات کفریہ پر مشتمل ہیں۔

(4)تقلید ائمہ فرض قطعی ہے۔بے حصول منصب اجتہاد اس سے روگردانی بددین کا کام ہے۔غیر مقلدین مذکورین اور ان کے اتباع واذناب کہ ہندوستان میں نامقلدی کا بیڑا اٹھائے ہیں،محض سفیہان نامشخص ہیں۔ ان کا تارک تقلید ہونا اوردوسرے جاہلوں اور اپنے سے اجہلوں کو ترک تقلید کا اغوا کرنا صریح گمراہی وگمراہ گری ہے۔
(5)مذاہب اربعہ اہل سنت سب رشد وہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اس کا پیرو رہے،کبھی کسی مسئلہ میں اس کے خلاف نہ چلے،وہ ضرور صراط مسقیم پرہے،اس پرشرعًا الزام نہیں۔ان میں سے ہر مذہب انسان کے لیے نجات کوکافی ہے۔تقلید شخصی کو شرک یا حرام ماننے والے گمراہ، ضالین،متبع غیر سبیل المومنین ہیں۔

(6)متعلقات انبیا واولیا علیہم الصلوٰۃ والثنا مثل استعانت وندا وعلم وتصرف بعطائے خدا وغیرہ مسائل متعلقہ اموات واحیا میں نجدی ودہلوی اور ان کے اذناب نے جو احکام شرک گھڑے اورعامہ مسلمین پر بلاوجہ ایسے ناپاک حکم جڑے، یہ ان گمراہوں کی خباثت مذہب اور اس کے سبب انھیں استحقاق عذاب وغضب ہے۔

(7)زمانہ کو کسی چیز کی تحسین وتقبیح میں کچھ دخل نہیں۔امر محمود جب واقع ہو محمود ہے، اگرچہ قرون لاحقہ میں ہو،اور مذموم جب صادر ہو مذموم ہے،اگرچہ ازمنہ سابقہ میں ہو۔

بدعت مذ مومہ صرف وہ ہے جو سنت ثابتہ کے ردوخلاف پر پید ا کی گئی ہو۔جواز کے واسطے صرف اتنا کافی ہے کہ خدا ورسول نے منع نہ فرمایا۔کسی چیز کی ممانعت قرآن وحدیث میں نہ ہو تو اسے منع کرنے والا خود حاکم وشارع بننا چاہتا ہے۔

(8)علمائے حرمین طیبین نے جتنے فتاوے ورسائل مثل: الدرر السنیہ فی الردعلی الوہابیہ وغیرہا رد وہابیہ میں تالیف فرمائے، سب حق وہدایت ہیں اور ان کا خلاف باطل وضلالت۔
حضرات! یہ جنت سنت کے آٹھ باب ہادی حق وصواب ہیں۔جو صاحب بے پھیرپھار،بے حیلہ انکار، بکشادہ پیشانی ان پردستخط فرمائیں تو ہم ضرور مان لیں گے کہ وہ ہر گز وہابی نہیں،ورنہ ہر ذی عقل پر روشن ہوجائے گا کہ منکر صاحبوں کا وہابیت سے انکار نرا حیلہ ہی حیلہ تھا۔مسمے پر جمنا اور اسم سے رمنا،اس کے کیا معنی ؎

ع/ منکر می بودن ودر رنگ مستان زیستن

(فتاویٰ رضویہ:جلد پنجم:ص 273-272-نوری دارالاشاعت بریلی شریف)

عقائد سے ناواقف ہونے کا معنی

(ب)امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا:”جو اشخاص نہ عالم ہیں،نہ دیوبند کے تعلیم یافتہ۔نہ ان سے بیعت وعقیدت رکھتے ہیں۔محض اپنی لاعلمی عقائد کی وجہ سے ان کو کافر نہیں سمجھتے،اوران کے عقائد بھی ایسے بالکل نہیں ہیں،جن پر تکفیر لازم آتی ہے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے،یاتنہا بہتر ہے؟(فتاوی رضویہ جلد نہم جز دوم:ص313۔رضا اکیڈمی ممبئی)

امام احمد رضا قادری نے عقائد سے لاعلمی کا مفہوم بیان کیا کہ لاعلمی سے مراد یہ ہے کہ ان کے کان بھی ان عقائدسے ناآشناہوں،یعنی انہوں نے دیوبندیوں سے متعلق ان کے کفریہ عقائد سنے ہی نہ ہوں،دوسری بات یہ کہ وہ سننے کے بعد حق کوقبول کرلیں۔

نیزفرمایا کہ ایسی صورت واقع ہونا مشکل ہے،کیوں کہ دیوبندیوں کے برے عقائد کا شہرہ چاروں طرف ہے تو جولوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں،وہ فریب دیتے ہیں۔اس مفہوم کو مثال سے بھی آپ نے واضح فرمایا۔مجددموصوف کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے:
”سائل صورت وہ فرض کرتا ہے جو واقع نہ ہوگی۔دیوبندیوں کے عقائد کفر طشت ازبام ہو گئے۔منکر بننے والے اپنی جان چھڑانے کے لیے انکار کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں۔جو منکر ہو،اس سے کہئے۔فتاویٰ موجود وشائع ہیں۔دیکھو کہ کافروں کا کفر معلوم ہو، اور دھوکے سے بچے اور ان کے پیچھے نمازیں غارت نہ کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دشمنی فرض ہے۔اس فرض پر قائم ہو تو کہتے ہیں۔ہمیں کتابیں دیکھنے کی حاجت نہیں۔یہ ان کا کید ہے۔
ان کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت ہوتی تو جن کی نسبت ایسی عام اشاعت سنتے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دشنام دہندہ ہے،اس سے فوراً خود ہی کنارہ کش ہوتے اور آپ ہی اس کی تحقیق کو بے قرار ہوتے۔

کیا کوئی کسی کو سنے کہ تیرے قتل کے لیے گھات میں بیٹھا ہے،اعتبار نہ آئے تو چل تجھے دکھا دوں۔وہ یوں ہی بے پرواہی برتے گا،اور کہے گا۔مجھے نہ تحقیقات کی ضرورت،نہ اس سے احتراز کی حاجت۔تو یہ لوگ ضرور مکار اور بباطن انہیں سے انفار۔یا دین سے محض بے علاقہ و بے زار ہوتے ہیں۔ان کے پیچھے نماز سے احتراز فرض ہے۔

ہاں،اگر واقع میں کوئی نو وارد یا نرا جاہل یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تک یہ آوازیں نہ گئیں اور وہ بوجہ ناواقفی محض انہیں کافر نہ سمجھا،وہ اس وقت تک معذور ہے جب کہ سمجھانے سے فورا ًحق قبول کر لے“۔(فتاوی رضویہ جلد نہم: جز دوم:ص313۔رضا اکیڈمی ممبئی)

جھوٹی قسم کا اعتبار نہیں:

دیوبند ی جانچنے کا طریقہ
امام احمدرضا سے سوال کیا گیا:”ایک شخص بروئے حلف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں وہابی نہیں،اللہ کو ایک جانتا ہوں رسول اللہ کو نبی برحق اور اولیائے عظام کو برابر جانتا ہوں، کرامت کا قائل ہوں،حنفی مذہب کا پابند ہوں،جو لوگ پھر بھی اعتبار نہ کریں تو کیا کیا جائے، قرآن اورا للہ پر یقین نہ کرنے والوں کو کیا کہا جائے؟بینواتوجروا۔
آپ نے رقم فرمایا:”اگر اس میں کوئی بات وہابیت کی نہ دیکھی،نہ کوئی قوی وجہ شبہہ کی ہے تو بلاوجہ شبہہ نہ کیا جائے، بدگمانی حرام ہے،اور اگر اس میں وہابیت پائی تو ثابت شدہ بات اس کی قسموں سے دفع نہ ہوجائے گی۔وہابی اکثر ایسی قسمیں کھایا کرتے ہیں۔
قال اللّٰہ تعالٰی: یَحْلِفُونَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُواکَلِمَۃَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوا بَعْدَ اِسْلامِہِمْ-نہ ان کی قسموں کا اعتبار۔قال اللّٰہ تعالٰی: اِنَّہُمْ لَا اَیمَانَ لَہُم۔

اور اگر کسی وجہ سے شبہہ ہے تو صرف ان قسموں پر قناعت نہ کریں،بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمٰعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی ورشید احمد گنگوہی وقاسم نانوتوی واشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیار الحق وبراہین قاطعہ وتحذیر الناس وحفظ الایمان وبہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہے؟اگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں اور یہ کتابیں کفر وضلالت سے بھری ہوئی ہیں،تو ظاہر یہ ہے کہ وہابی نہیں، ورنہ ضرور وہابی ہے۔ جھوٹوں کی قسم پر اعتبار نہ کرنا قرآن اور اللہ پر اعتبار نہ کرنا نہیں۔

اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُونَ قَالُوا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُولُ اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ انک لرسولہ واللّٰہ یشہد ان المنافقون لکذبون::اتخذوا ایمانہم جنۃ فصدوا عن سبیل اللّٰہ انہم ساء ما کانوا یعملون۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد ششم:ص 79-رضا اکیڈمی ممبئ)

طارق انورمصباحی
روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ:00:جنوری 2021
٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/856671581570028/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک صاحب نے امام حسین پاک کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے آپ کو " سَیِّدُ الشُہَدَا " کہا ، جس پر ایک عالم صاحب معترض ہوئے اور کہنے لگے:

سید الشہدا حضرت امیر حمزہ ہیں ، جنھیں رسول اللہ ﷺ نے سیدالشہدا کہا ہے ، امام حسین پاک کو شہید کہیں ، سید الشہدا نہیں ۔

میں نے عرض کی:

حضرت! بے شک سیدنا حمزہ پاک کو رسول اللہ نے سیدالشہدا کہا ہے ، لیکن امام حسین پاک بھی حضور ہی کے فرمان کی روشنی میں سیدالشہدا ہیں ۔

صحیح حدیث میں ہے :

سيد الشهداء حمزة بن عبد المطلب ، ورجل قام إلى إمام جائر فأمره ونهاه فقتله ۔

سیدالشہدا حضرت حمزہ ہیں ، اور وہ بندہ ( بھی ) ہے جو ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہوکر نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع کرتا ہے تو حاکم اسے قتل کروا دیتا ہے ۔

صحابہ کرام علیھم الرضوان کے جن فضائل کو خود رسول اللہ ﷺ نے خاص نہیں کیا ، ہم‌ از خود کیسے کرسکتے ہیں !!

✍️لقمان شاہد
27-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3075638702716298&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیر سید عرفان شاہ صاحب کی بعض حرکات و سکنات پر " بہت زیادہ " افسوس کرنے والے ، اور ان کی جدائی میں مرثیے پڑھنے والے ایک بھائی کی نذر ؎

اے دلِ بے قرار چُپ ہو جا
جا چکی ہے بہار چُپ ہو جا

اب نہ آئیں گے رُوٹھنے والے
دِیدۂ اشک بار ۔۔۔۔ چُپ ہو جا !

جا چکا کاروانِ لالہ و گل
اُڑ رہا ہے غُبار ، چپ ہو جا

چُھوٹ جاتی ہے پھول سے خوشبو
روٹھ جاتے ہیں یار ، چپ ہو جا

گیت کی ضرب سے بھی اے ساغرؔ
ٹوٹ جاتے ہیں تار ۔۔۔۔۔۔۔ چُپ ہو جا !

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3076207722659396&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ضرورت سے زیادہ امیدیں پریشان کیے رکھتی ہیں ، اور وہ بھی ان لوگوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو امیدوں پر پورا اترنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ۔ ؎

اُن سے اُمّیدِ وفا ہائے تِری نادانی
کیا خبر ان کو ، یہ کِردارِ مُعَظَّم کیا ہے

وہ جو ہیں ہم سے گُریزاں تو بَلا سے اپنی
جب یہی طَورِ جہاں ہے تو بَھلا غم کیا ہے

اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو نہ کسی‌ سے زیادہ توقع رکھیں ،‌ نہ فضول امیدیں باندھیں ۔

آپ کا رب ، آپ سے بہت محبت فرماتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو جو چاہیے ، اس سے مانگا کریں ؛ اور اسی سے ساری امیدیں وابستہ رکھیں ۔ ؎

جَوَّاد وغنی ، بَرتر وبالا وہ ہے
رزَّاقِ جہاں رب تعالیٰ وہ ہے

کیوں مانگ رہاہے مانگنے والوں سے ؟
اللہ سے مانگ ۔۔۔۔۔۔۔ دینے والا وہ ہے !!

✍️لقمان شاہد
30-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3077774842502684&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میرا دوست ہارون ، ایک مولانا صاحب کی تقریریں بڑی دل چسپی سے سنتاہے ، اور بار بار سنتا ہے ؛ پھر آکر مجھے سنانے لگ جاتا ہے ۔

کچھ دن پہلے یوٹیوب پر اُنھی مولانا کی ایک تقریرِ دل پذیر سننے کا مجھے بھی اتفاق ہوا ۔
خطابت اچھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔‌ سامعین سبحان اللہ ، ماشاءاللہ اورواہ واہ بھی کیے جارہے تھے ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ان کی تقریر سن کر ایک واقعہ یاد آگیا ۔

قبلہ استاد صاحب دام ظلہ فرماتے تھے :

ہم طالب علم مدرسے میں ہر جمعرات کو محفل کیا کرتے تھے ، جس میں سارے باری باری تقریریں کرتے ۔
ایک‌دفعہ ہمارا سنگی احمد یار تقریر کررہا تھا کہ اتفاق سے بڑے استاد صاحب ( مولانا محمد نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) نے سن لی ۔

صبح کلاس میں اسے فرمانے لگے:

احمد یارا تقریر سوہنی کرنا اے پر چوٹھ نہ ماریا کر ۔
( یعنی احمد یار تو تقریر اچھی کرتاہے ، بس تقریر میں جھوٹ نہ بولا کر ، مطلب: مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا کر ! )

وہ کہنے لگا:

استاد جی جے چوٹھ نہ ماریے تے نعرے نئی وجدے ۔
( یعنی جھوٹ نہ بولیں تو لوگ داد نہیں دیتے ۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ ! )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خطیب ، وہ واعظ ، وہ مقرر جو اپنی‌تقریر میں غلط بیانی سے کام لیتا ہے ، مبالغہ آمیزی کرتا ہے ، غلط رنگ بھرتا ہے ؛ وہ نہ صرف اپنی ۔۔۔۔۔ بلکہ سامعین کی بھی عاقبت خراب کرتاہے ۔

ایسے خطبا کی اصلاح ہونی چاہیے ، اور ان کی‌اصلاح سامعین سے بہتر شاید کوئی‌ کرسکے !
جب سامعین اوٹ پٹانگ باتوں پر داد دینے کے بجائے قرآن وحدیث پر داد دیں گے تو خطبا کی خود بخود اصلاح ہوتی چلی جائے گی ۔

اللہ کرے ہم اپنا ذوق بدلیں اور ترجیحات کو سمجھیں !

✍️لقمان شاہد
31-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3078731299073705&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM