Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
ایک پیر صاحب جو آواگون کا عقیدہ رکھتے تھے ان سے بیعت ہونا کیسا؟ اور ان سے بیعت کرنا کیسا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آواگون کا عقیدہ کفریہ ہندوانہ ہے ایسا شخص تو مسلمان نہیں چہ جائیکہ اسے پیر بنالیا جائے۔
بہارِ شریعت میں ہے:"یہ خیال کہ وہ روح(مرنے کے بعد) کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے،خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں،محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔
(بہار شریعت،جلد 1،ص 103،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وفي ''النبراس''، باب البعث حق، ص213: (التناسخ ھو انتقال الروح من جسم إلی جسم آخر وقد اتفق الفلاسفۃ وأھل السنۃ علی بطلانہ، وقال بحقیقتہ قوم من الضلال، فزعم بعضھم أنّ کل روح ینتقل في مائۃ ألف وأربعۃ وثمانین من الأبدان، وجوّز بعضھم تعلقہ بأبدان البہائم بل الأشجار والأحجار علی حسب جزاء الأعمال السیئۃ، وقد حکم أھل الحق بکفر القائلین بالتناسخ، والمحققون علی أنّ التکفیر لإنکارھم البعث).
وفي ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب السیر، باب التاسع في أحکام المرتدین، ج 2، ص264: (ویجب إکفار الروافض في قولھم برجعۃ الأموات إلی الدنیا وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإلہ إلی الأئمۃ).
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ'' شرح ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج 1،ص304:(ویجب إکفار الروافض في قولھم برجع الأموات) بعد موتھم (إلی الدنیا) أیضا (و) قولھم (بتناسخ الأرواح) أي: انتقالھا من جسد إلی جسد علی الأبد).
ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد رُوح کسی اور انسان یا جانور کے بدن میں چلی جاتی ہے اِس کو آواگون یا تَناسُخ کہتے ہیں۔ یہ عقیدہ سَراسَر غَلَط اور کُفْر ہے۔بعض اوقات عورَتیں غصّہ میں آکر بچّہ کو کہہ دیتی ہیں،کون سے جَنَم میں سُدھرے گا؟ (مَعَاذَ اللّٰہ) یہ ہندوؤں سے سیکھا ہے،کیونکہ اسلامی عقیدے میں ہر ایک کا ایک ہی بار جنم ہوتا ہے۔(نبراس،والبعث حق،ص 213)
(مدنی مذاکروں کے 137 سوالات جوابات،ص 3،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آواگون کا عقیدہ کفریہ ہندوانہ ہے ایسا شخص تو مسلمان نہیں چہ جائیکہ اسے پیر بنالیا جائے۔
بہارِ شریعت میں ہے:"یہ خیال کہ وہ روح(مرنے کے بعد) کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے،خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں،محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔
(بہار شریعت،جلد 1،ص 103،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وفي ''النبراس''، باب البعث حق، ص213: (التناسخ ھو انتقال الروح من جسم إلی جسم آخر وقد اتفق الفلاسفۃ وأھل السنۃ علی بطلانہ، وقال بحقیقتہ قوم من الضلال، فزعم بعضھم أنّ کل روح ینتقل في مائۃ ألف وأربعۃ وثمانین من الأبدان، وجوّز بعضھم تعلقہ بأبدان البہائم بل الأشجار والأحجار علی حسب جزاء الأعمال السیئۃ، وقد حکم أھل الحق بکفر القائلین بالتناسخ، والمحققون علی أنّ التکفیر لإنکارھم البعث).
وفي ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب السیر، باب التاسع في أحکام المرتدین، ج 2، ص264: (ویجب إکفار الروافض في قولھم برجعۃ الأموات إلی الدنیا وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإلہ إلی الأئمۃ).
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ'' شرح ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج 1،ص304:(ویجب إکفار الروافض في قولھم برجع الأموات) بعد موتھم (إلی الدنیا) أیضا (و) قولھم (بتناسخ الأرواح) أي: انتقالھا من جسد إلی جسد علی الأبد).
ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد رُوح کسی اور انسان یا جانور کے بدن میں چلی جاتی ہے اِس کو آواگون یا تَناسُخ کہتے ہیں۔ یہ عقیدہ سَراسَر غَلَط اور کُفْر ہے۔بعض اوقات عورَتیں غصّہ میں آکر بچّہ کو کہہ دیتی ہیں،کون سے جَنَم میں سُدھرے گا؟ (مَعَاذَ اللّٰہ) یہ ہندوؤں سے سیکھا ہے،کیونکہ اسلامی عقیدے میں ہر ایک کا ایک ہی بار جنم ہوتا ہے۔(نبراس،والبعث حق،ص 213)
(مدنی مذاکروں کے 137 سوالات جوابات،ص 3،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کہنے کوحنبلی اور اہلِ حدیث ہیں
قوم کہہ رہی ہے پکے خبیث ہیں
منقول از کتاب "قبہ" صفحہ 64,مؤلف مولانامظہرحسین بی اے منشی فاضل رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921574901455151&id=100008080090753
قوم کہہ رہی ہے پکے خبیث ہیں
منقول از کتاب "قبہ" صفحہ 64,مؤلف مولانامظہرحسین بی اے منشی فاضل رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921574901455151&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصروف ترین قوم
ایک آسٹریلوی سیاح اپنے سفر نامے میں پاکستان کے بارے میں لکھتا ھے کہ
جب میں بلوچستان کا سفر ختم کر کے کراچی کے علاقے شیرشاہ پہنچا,تو ریل گاڑی کا پھا ٹک بندتھا اور اسی دوران ایک شخص سائیکل پر میرے قریب رکا۔لیکن چندسکینڈمیں ہی اپنی سائیکل اپنے کندھے پر اٹھا کر پھاٹک سے چھلانگیں لگاکر اسے کراس کرلیا,اس نے اس ٹرین کی بھی پرواہ نہیں کی,تھوڑے فاصلے پر شور مچاتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی.میں حیران رہ گیا اور سوچا کہ ضرور اس آدمی کو کسی بہت ضروری کام سے جانا ھے اس لیے اس نے اپنے کام کے مقابلے میں اپنی زندگی تک کو اہمیت نہ دی۔
میں نے سوچا کہ اپنے کام سے محبت کرنے والی وقت کی پابند بہادرقوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا,نہ ہی یہ لوگ کسی کے محتاج رہیں گے۔
انہی سوچوں میں گم جب میں شیرشاہ چوک پہنچا تو دیکھا کہ ایک مداری بندر نچارہا ھے اور وہ سائیکل والاشخص اپنی سائیکل کااسٹینڈکھڑا کرکے انتہائی بے فکری کے ساتھ بندر کا تماشہ دیکھ رہا ھے.
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921575591455082&id=100008080090753
ایک آسٹریلوی سیاح اپنے سفر نامے میں پاکستان کے بارے میں لکھتا ھے کہ
جب میں بلوچستان کا سفر ختم کر کے کراچی کے علاقے شیرشاہ پہنچا,تو ریل گاڑی کا پھا ٹک بندتھا اور اسی دوران ایک شخص سائیکل پر میرے قریب رکا۔لیکن چندسکینڈمیں ہی اپنی سائیکل اپنے کندھے پر اٹھا کر پھاٹک سے چھلانگیں لگاکر اسے کراس کرلیا,اس نے اس ٹرین کی بھی پرواہ نہیں کی,تھوڑے فاصلے پر شور مچاتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی.میں حیران رہ گیا اور سوچا کہ ضرور اس آدمی کو کسی بہت ضروری کام سے جانا ھے اس لیے اس نے اپنے کام کے مقابلے میں اپنی زندگی تک کو اہمیت نہ دی۔
میں نے سوچا کہ اپنے کام سے محبت کرنے والی وقت کی پابند بہادرقوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا,نہ ہی یہ لوگ کسی کے محتاج رہیں گے۔
انہی سوچوں میں گم جب میں شیرشاہ چوک پہنچا تو دیکھا کہ ایک مداری بندر نچارہا ھے اور وہ سائیکل والاشخص اپنی سائیکل کااسٹینڈکھڑا کرکے انتہائی بے فکری کے ساتھ بندر کا تماشہ دیکھ رہا ھے.
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921575591455082&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لڑکی بالغ تھی۔ من مرضی سے دوست چنا، معاملات اتنے آگے بڑھے کہ نوبت اسقاط حمل سے آگے موت تک جا پہنچی۔ اس حقیقی المیے کی ابتدا ہی غلط تھی۔ چونکہ غلط تھی لہذا اس جرم میں شریک لڑکا ، آپریشن ٹیبل پر پڑی اپنی ”ساتھی“ کی لاش چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ شوہر ہوتا تو نہ بھاگتا۔ یہ ”میراجسم میری مرضی“ والے اسی طرح بھاگ جاتے ہیں۔ اگر صاحبِ کردار ہوتا تو نہ بھاگتا۔ بزدل تھا ، بے ضمیر تھا ۔۔۔ فرار تو ہونا ہی تھا۔ اب سارے براٸلر لبرل خاموش ہیں۔ کوٸی بھی آگے بڑھ کر یہ کہتا یا لکھتا دکھاٸی نہیں دیا کہ بھٸی ۔۔۔ بھاگے کیوں؟ لڑکی نے ایک دن مرنا ہی تھا ، اسقاط حمل کے ”جہاد“ میں نہ مرتی تو کسی اور وجہ سے مر جاتی ۔۔۔ لیکن تم بھاگے کیوں؟ پتنگ اڑاتے وقت کتنے دعوے اور وعدے کیے ہونگے مگر جب پتنگ کٹ گٸی تو چرخی پھینک کر ہسپتال کی پتلی گلی سے چپکے سے نکل لیے۔
”میرا جسم میری مرضی“ والے آج خاموش ہیں کیونکہ مرنے والی ان میں سے کسی کی بہن یا بیٹی نہیں تھی ۔۔۔ اگر ہوتی بھی تو صرف اتنا ہی روتے کہ بھاگنے سے پہلے ہسپتال کے ڈیوز کیوں نہ دیے۔
اور اس لیے بھی خاموش ہیں کہ بھاگنے والا لڑکا نہ مولوی تھا ، نہ مٶذن اور نہ قاری ۔ شکر ھے اسلام بچ گیا ورنہ لاہور سے یورپ تک واویلا مچ جاتا۔
# تنولیات [ کاپی ]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923409611271680&id=100008080090753
”میرا جسم میری مرضی“ والے آج خاموش ہیں کیونکہ مرنے والی ان میں سے کسی کی بہن یا بیٹی نہیں تھی ۔۔۔ اگر ہوتی بھی تو صرف اتنا ہی روتے کہ بھاگنے سے پہلے ہسپتال کے ڈیوز کیوں نہ دیے۔
اور اس لیے بھی خاموش ہیں کہ بھاگنے والا لڑکا نہ مولوی تھا ، نہ مٶذن اور نہ قاری ۔ شکر ھے اسلام بچ گیا ورنہ لاہور سے یورپ تک واویلا مچ جاتا۔
# تنولیات [ کاپی ]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923409611271680&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لمحہءفکریہ:
علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے پیرکرم شاہ بھیروی کے فوت ہونے کے بعدایک مضمون لکھا.اس مضمون میں واضح طورپریہ بات لکھی ہے کہ پیرکرم شاہ بھیروی صاحب نے اس بات کوتسلیم کیاکہ وہ "حسام الحرمین" میں اکابرِدیوبندپرلگائے گئے فتویٰ کفرسے متفق نہیں ہے.
میثم قادری
27.1.2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923448904601084&id=100008080090753
علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے پیرکرم شاہ بھیروی کے فوت ہونے کے بعدایک مضمون لکھا.اس مضمون میں واضح طورپریہ بات لکھی ہے کہ پیرکرم شاہ بھیروی صاحب نے اس بات کوتسلیم کیاکہ وہ "حسام الحرمین" میں اکابرِدیوبندپرلگائے گئے فتویٰ کفرسے متفق نہیں ہے.
میثم قادری
27.1.2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923448904601084&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیاست صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے.
اگر آپ سیاست کر رہے ہیں یا سیاست میں جانے کی سوچ رہے ہیں تو آپ کو ہندوستان کی تاریخ کے وہ طاقتور آندولن اور احتجاج دیکھنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے حکومتی تختے الٹ گئے یا پھر حکومتوں کو ان احتجاجوں کے آگے جھکنا پڑا ہے۔بڑے بڑے جابر، تانا شاہ بھی عوامی احتجاج کے آگے بے بس نظر آئے ہیں، سیاست میں عوام کے سامنے جو جتنا جھکنے کی صلاحیت رکھے گا وہ اتنی ہی دیر تک سیاست کی باگ ڈور بھی تھامے رکھنے میں کامیاب رہے گا۔سیاست نہ محبت چاہتی ہے اور نہ ہی عقیدت۔سیاست میں نہ رشتے ناطے کوئی اہمیت رکھتے ہیں، نہ ہی سالوں پر محیط خدمت، ہم سیاست میں باپ کو بیٹے کا ، بیٹے کو باپ کا ، بھائی کو بھائی کا ، ماں کو بیٹی کا اور بیٹی کو ماں اور بھائی کو بہن کا قتل کرتے ہوئے بارہا دیکھ چکے ہیں۔سیاست میں آپ اسی وقت تک اپنی پکڑ اور دبدبہ بنائے رکھ سکتے ہیں جب تک آپ سیاسی طاقت رکھتے ہیں۔جس دن آپ کی طاقت کم ہونے کا احساس آپ کے قریبی لوگوں کو ہوگا اسی دن وہ کوئی اور در تلاش لیں گے، بعض ایسے بھی ہونگے جو "گھر کے بھیدی بن کر آپ کی سیاسی لنکا کو ڈھانے کا کام کریں گے" سیاست ٹھیک اس مقولے کے الٹ ہے کہ "یک در گیر محکم گیر" یعنی ایک در مضبوطی سے تھامے رہو، یہاں مقولہ یوں ہو جاتا ہے "آں در گیر چو قوت گیر" وہ در پکڑو جو طاقت ور دیکھو۔
ماضی ہو یا حال، سیاسی "روشن مستقبل" کے لئے آپ کو اپنی طاقت اپنے اور بیگانے سبھی کو دکھاتے رہنے کی ضرورت ہے، ورنہ آپ کی صورت، آپ کی قوم، آپ کی خدمت، آپ کی طاقت، آپ کا دماغ، آپ کے تعلقات سیاسی لوگ استعمال تو خوب کریں گے، لیکن آپ اور آپ کی قوم کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا، بظاہر وہ آپ کو اپنا ہیرو کہیں گے، بھروسے مند کہیں گے، ہر جگہ آپ کو لے کر جائیں گے اور آپ کو اتنے بوجھوں تلے دبا دیں گے کہ آپ خود ہی کہیں گے کہ ابھی کچھ مانگنے کے لئے مناسب وقت نہیں ہے۔
یادوں کے جھروکوں سے۔
میں آپ کو بہت پیچھے لے کر نہیں جاؤں گا کہ جو لکھا جائے اسے سمجھنے کے لیے سیاسی کتابیں خریدنے یا گوگل کرنے کی ضرورت ہو، اگر آپ کو سیاست سے لگاؤ ہے یا آپ ہر روز اخبار دیکھتے ہیں تو آپ کی یادوں کے جھروکوں میں یہ چیزیں پہلے سے ہی اسٹور ہوں گی، بس انھیں دماغ کی اسکرین پر پلے کرنے کی ضرورت ہے.
گجرات میں ہاردک پٹیل کا پاپٹیدار احتجاج، جگنیش میوانی کا" چلو اونا" احتجاج، اور دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کے خلاف" انّا ہزارے" کا احتجاج، دہلی ہی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (. J. N. U) میں فیس بڑھائے جانے کو لے کر طلبہ کا احتجاج، ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کا احتجاج، راجستھان میں گوجروں ریزرویشن احتجاج، دہلی میں سی اے اے، این آر سی کو لے کر مشترکہ احتجاج، فی الحال دہلی بارڈر پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے، ان دھرنا پردرشنوں سے حکومت، ادارے کہیں جھکے ہیں اور کہیں بیک فٹ پر دیکھے گئے ہیں، کہیں انھیں احتجاج کی بنا پر حکومت چلی گئی تو کوئی کرسی پاگیا، مذکورہ احتجاجوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت عوامی طاقت کو ہی اہمیت دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان احتجاجات سے ہم نے کئی لیڈر پائے ہیں جیسے اروند کیجریوال، ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی، کنہیا کمار، چندر شیکھر آزاد وغیرہ وغیرہ________
احتجاج اچانک نہیں ہوتے، یہ کرائے جاتے ہیں یا کئے جاتے ہیں، کبھی حکومتیں کراتی ہیں تاکہ اغیار ان کی طاقت دیکھ سکیں، تو کبھی اپوزیشن سیاسی جماعتیں احتجاج کراتی ہیں کہ حکومت گرے اور ہم تخت نشیں ہوں، کبھی سیاسی جماعتیں نئے لیڈر تلاشنے، اور اپنی سیاسی زمین بچانے کے لیے بھی احتجاج کا سہارا لیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ احتجاجوں کی صدارت کرنے والے یا ان کی پہچان بننے والے افراد کو سیاسی پارٹیاں اپنی جماعت میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں، جیسے ہاردک پٹیل ،کنہیا کمار، جگنیش میوانی وغیرہ....
طاقت ہے تو کیش کرنا سیکھئے.
کہتے ہیں کل کس نے دیکھا ہے اور سیاست میں تو کسی نے پَل بھی نہیں دیکھا، ہر لمحہ نئی بساط بچھائی جاتی ہے اور ہر لمحہ شہ مات کا کھیل جاری رہتا ہے، چند منٹ پہلے وزیر کچھ نہیں ہوتا اور چند لمحوں بعد ہی "شاہ" مات کھا جاتا ہے، صحیح معنوں میں سیاست نپی تلی نظر رکھنے کے ساتھ بروقت حملہ کرنے ہی کا نام ہے، جو یہ سیکھ گیا وہ سیاست سیکھ گیا.... خیر آمدم برسر مطلب اگر آپ کے پاس سیاسی طاقت ہے تو پھر کیش کرنا ضروری ہے کیونکہ سیاست میں کب کیا ہوجائے بھروسہ نہیں، ایسے لوگ ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں جو اپنی طاقت کا استعمال کرتے رہتے ہیں ویسے تو بہت لیڈر ہوے ہیں لیکن ایک لیڈر جسے دنیا "رام ولاس پاسوان"( بانی لوک جن شکتی پارٹی) کے نام جانتی ہے، اس لیڈر کے پاس اتنی طاقت تو نہیں تھی کہ اکیلے اپنی قوم کی بنا پر حکومت بنا سکے، لیکن اس نے اپنی طاقت کو ہمیشہ کھرے داموں میں کیش کیا تھا،(آج وہ نہیں ہیں لیکن انکی سیاسی ہوشیاری کے سبھی قائل ہیں) حکومت کسی کی بنے، لیکن اپنی طاقت کی بنا پر وہ
اگر آپ سیاست کر رہے ہیں یا سیاست میں جانے کی سوچ رہے ہیں تو آپ کو ہندوستان کی تاریخ کے وہ طاقتور آندولن اور احتجاج دیکھنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے حکومتی تختے الٹ گئے یا پھر حکومتوں کو ان احتجاجوں کے آگے جھکنا پڑا ہے۔بڑے بڑے جابر، تانا شاہ بھی عوامی احتجاج کے آگے بے بس نظر آئے ہیں، سیاست میں عوام کے سامنے جو جتنا جھکنے کی صلاحیت رکھے گا وہ اتنی ہی دیر تک سیاست کی باگ ڈور بھی تھامے رکھنے میں کامیاب رہے گا۔سیاست نہ محبت چاہتی ہے اور نہ ہی عقیدت۔سیاست میں نہ رشتے ناطے کوئی اہمیت رکھتے ہیں، نہ ہی سالوں پر محیط خدمت، ہم سیاست میں باپ کو بیٹے کا ، بیٹے کو باپ کا ، بھائی کو بھائی کا ، ماں کو بیٹی کا اور بیٹی کو ماں اور بھائی کو بہن کا قتل کرتے ہوئے بارہا دیکھ چکے ہیں۔سیاست میں آپ اسی وقت تک اپنی پکڑ اور دبدبہ بنائے رکھ سکتے ہیں جب تک آپ سیاسی طاقت رکھتے ہیں۔جس دن آپ کی طاقت کم ہونے کا احساس آپ کے قریبی لوگوں کو ہوگا اسی دن وہ کوئی اور در تلاش لیں گے، بعض ایسے بھی ہونگے جو "گھر کے بھیدی بن کر آپ کی سیاسی لنکا کو ڈھانے کا کام کریں گے" سیاست ٹھیک اس مقولے کے الٹ ہے کہ "یک در گیر محکم گیر" یعنی ایک در مضبوطی سے تھامے رہو، یہاں مقولہ یوں ہو جاتا ہے "آں در گیر چو قوت گیر" وہ در پکڑو جو طاقت ور دیکھو۔
ماضی ہو یا حال، سیاسی "روشن مستقبل" کے لئے آپ کو اپنی طاقت اپنے اور بیگانے سبھی کو دکھاتے رہنے کی ضرورت ہے، ورنہ آپ کی صورت، آپ کی قوم، آپ کی خدمت، آپ کی طاقت، آپ کا دماغ، آپ کے تعلقات سیاسی لوگ استعمال تو خوب کریں گے، لیکن آپ اور آپ کی قوم کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا، بظاہر وہ آپ کو اپنا ہیرو کہیں گے، بھروسے مند کہیں گے، ہر جگہ آپ کو لے کر جائیں گے اور آپ کو اتنے بوجھوں تلے دبا دیں گے کہ آپ خود ہی کہیں گے کہ ابھی کچھ مانگنے کے لئے مناسب وقت نہیں ہے۔
یادوں کے جھروکوں سے۔
میں آپ کو بہت پیچھے لے کر نہیں جاؤں گا کہ جو لکھا جائے اسے سمجھنے کے لیے سیاسی کتابیں خریدنے یا گوگل کرنے کی ضرورت ہو، اگر آپ کو سیاست سے لگاؤ ہے یا آپ ہر روز اخبار دیکھتے ہیں تو آپ کی یادوں کے جھروکوں میں یہ چیزیں پہلے سے ہی اسٹور ہوں گی، بس انھیں دماغ کی اسکرین پر پلے کرنے کی ضرورت ہے.
گجرات میں ہاردک پٹیل کا پاپٹیدار احتجاج، جگنیش میوانی کا" چلو اونا" احتجاج، اور دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کے خلاف" انّا ہزارے" کا احتجاج، دہلی ہی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (. J. N. U) میں فیس بڑھائے جانے کو لے کر طلبہ کا احتجاج، ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کا احتجاج، راجستھان میں گوجروں ریزرویشن احتجاج، دہلی میں سی اے اے، این آر سی کو لے کر مشترکہ احتجاج، فی الحال دہلی بارڈر پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے، ان دھرنا پردرشنوں سے حکومت، ادارے کہیں جھکے ہیں اور کہیں بیک فٹ پر دیکھے گئے ہیں، کہیں انھیں احتجاج کی بنا پر حکومت چلی گئی تو کوئی کرسی پاگیا، مذکورہ احتجاجوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت عوامی طاقت کو ہی اہمیت دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان احتجاجات سے ہم نے کئی لیڈر پائے ہیں جیسے اروند کیجریوال، ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی، کنہیا کمار، چندر شیکھر آزاد وغیرہ وغیرہ________
احتجاج اچانک نہیں ہوتے، یہ کرائے جاتے ہیں یا کئے جاتے ہیں، کبھی حکومتیں کراتی ہیں تاکہ اغیار ان کی طاقت دیکھ سکیں، تو کبھی اپوزیشن سیاسی جماعتیں احتجاج کراتی ہیں کہ حکومت گرے اور ہم تخت نشیں ہوں، کبھی سیاسی جماعتیں نئے لیڈر تلاشنے، اور اپنی سیاسی زمین بچانے کے لیے بھی احتجاج کا سہارا لیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ احتجاجوں کی صدارت کرنے والے یا ان کی پہچان بننے والے افراد کو سیاسی پارٹیاں اپنی جماعت میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں، جیسے ہاردک پٹیل ،کنہیا کمار، جگنیش میوانی وغیرہ....
طاقت ہے تو کیش کرنا سیکھئے.
کہتے ہیں کل کس نے دیکھا ہے اور سیاست میں تو کسی نے پَل بھی نہیں دیکھا، ہر لمحہ نئی بساط بچھائی جاتی ہے اور ہر لمحہ شہ مات کا کھیل جاری رہتا ہے، چند منٹ پہلے وزیر کچھ نہیں ہوتا اور چند لمحوں بعد ہی "شاہ" مات کھا جاتا ہے، صحیح معنوں میں سیاست نپی تلی نظر رکھنے کے ساتھ بروقت حملہ کرنے ہی کا نام ہے، جو یہ سیکھ گیا وہ سیاست سیکھ گیا.... خیر آمدم برسر مطلب اگر آپ کے پاس سیاسی طاقت ہے تو پھر کیش کرنا ضروری ہے کیونکہ سیاست میں کب کیا ہوجائے بھروسہ نہیں، ایسے لوگ ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں جو اپنی طاقت کا استعمال کرتے رہتے ہیں ویسے تو بہت لیڈر ہوے ہیں لیکن ایک لیڈر جسے دنیا "رام ولاس پاسوان"( بانی لوک جن شکتی پارٹی) کے نام جانتی ہے، اس لیڈر کے پاس اتنی طاقت تو نہیں تھی کہ اکیلے اپنی قوم کی بنا پر حکومت بنا سکے، لیکن اس نے اپنی طاقت کو ہمیشہ کھرے داموں میں کیش کیا تھا،(آج وہ نہیں ہیں لیکن انکی سیاسی ہوشیاری کے سبھی قائل ہیں) حکومت کسی کی بنے، لیکن اپنی طاقت کی بنا پر وہ
سب حاصل کیا جو کوئی سیاسی آدمی چاہتا ہے، کیونکہ اس آدمی نے نہ کسی سے عقیدت دکھائی اور نہ ہی کسی سے محبت، جب موقع دیکھا چوکا ہی نہیں چھکا بھی ماردیا، اب ان لیڈروں کی بات کرتے ہیں جو وفاداری کی پُڑیا لیے گھومتے رہے اور آج "جیلوں" میں گھوم رہے ہیں یا پھر حاشیے پر ہیں اور اب کہیں جا بھی نہیں سکتے.
_سب سے پہلے ہم کشمیر سے" غلام نبی آزاد" کو لیتے ہیں جناب پہلے کانگریسی ہوے، پھر محنت کرکے پنجاب، بنگال جیسے علاقوں میں کانگریس کو پہنچایا، پارٹی ترقی کرتی گئی اور کشمیر تنزلی کا شکار ہوتا رہا، فیک انکاؤنٹر ہوتے رہے، کشمیری عوام خون کے آنسو روتی رہی اور آپ وفاداری ہی کرتے رہے، آرٹیکل 370 نافذ ہوگیا،موصوف کو کشمیر نہیں جانے دیا گیا ، محبوبہ مفتی، فاروق عبد اللہ جیل میں سڑتے رہے اور مسلم حمایتی سمجھی جانے والی پارٹی صحیح سے آواز بھی نہ اٹھا سکیں، سب بالاے طاق رکھتے ہوئے پارٹی کی ترقی کے لئے وفاداری کا جوش پھر چڑھا اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ ڈالا، کہ کچھ بدلاؤ ہونا چاہیے ورنہ اپوزیشن میں زندگی بھر بیٹھے رہیں گے، یہ پارٹی کو ہضم نہ ہوا اور اب پارٹی نے سائڈ لائن دکھا دی ہے __اسے ہی کہتے ہیں" گھر کا نہ گھاٹ کا" ...
_انڈین سیاست میں فی الحال سب سے زیادہ سرخیوں میں اتر پردیش کے سماجوادی لیڈر اعظم خان ہیں، اعظم خان وہ لیڈر ہیں جن کے کندھوں پر سوار ہوکر سماجوادی پارٹی کئی مرتبہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر پہنچی، دو چار ہزار اردو کی نوکریاں یا چار سو مدرسوں کو گرانٹ دینے کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اعظم خان صاحب کی ساری زندگی کی محنت یا بدلہ کہیں تو وہ جوہر یونیورسٹی ہے جسے اب سرکاری" تانڈَو" جھیلنا پڑ رہا ہے، اگر یہ چاہتے تو اپنی پارٹی بھی کھڑی کر سکتے تھے، اپنی طاقت کا احساس کراتے تو نائب وزیر اعلیٰ بھی بن سکتے تھے، اعظم خان اتنے طاقت ور تھے کہ کبھی بھی سماجوادی پارٹی کی سرکار گرا سکتے تھے، مگر ایسا نہیں ہوا اور نو بار کے ودھایک،ایک بار راجیہ سبھا ممبر اور فی الحال لوک سبھا کے ممبر ہونے کے باوجود آج ایک سال سے جیل میں ہیں، جو کیس لگائے گئے ہیں، وہ اس بڑے لیڈر کی کھلی بے عزتی ہے، جیسے بکری چوری، مرغی چوری، بھینس چوری وغیرہ وغیرہ.... اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو خبر بھی نہیں لے رہے ہیں، اب جب اویسی صاحب کی ملاقات کی خبر عام ہوئی تو وہی کانگریس جس نے اسی یونیورسٹی کی منظوری کو سالوں لٹکائے رکھا اور منظوری دینے والے گورنر صاحب کو اپنا عہدہ گنوانا پڑا، آج اظہار عقیدت کر رہی ہے، اور یہی سماجوادی پارٹی بھی کر رہی ہے،یعنی دونوں پارٹیاں اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اے کاش! خان صاحب اپنی طاقت دکھاتے یا دکھا دیں تو سماجوادیوں کا وزیر اعلیٰ بننے کا خواب خواب خرگوش ہو سکتا ہے.....
__ سماجوادی پارٹی ہی ایک اور نیتا عتیق احمد الہ آبادی بھی سالوں سے جیل میں ہیں اور بی ایس پی سپریمو مایاوتی جن مختار انصاری کے کندھوں پر سوار ہوکر فرش سے عرش پر پہنچیں، آج وہ بھی کئی سالوں سے جیل میں ہیں، مایاوتی ہی کے دست راست کہے جانے والے "نسیم الدین صدیقی" جنھوں نے پارٹی اور مایاوتی کی عقیدت کے چلتے اپنی بیٹی کی تدفین تک میں شرکت نہ کی، آج وہ بھی سلاخوں میں ہیں، سیوان، بہار سے شہاب الدین کے کندھوں پر سوار ہوکر لالو پرساد یادو "ستّا سُکھ" بھوگ چکے ہیں، وہ شہاب الدین بھی سالوں سے جیل کی ہوا کھارہے ہیں، گجرات کے احسان جعفری، اور گجرات ہی سے کانگریس کے" چانکیہ" کہے جانے والے احمد پٹیل، قوم کو کچھ نہ دے سکے، ان سبھی لیڈروں نے اگر بے جا وفاداری نہ دکھائی ہوتی اپنا اور قوم کا بھلا کیا ہوتا تو آج ہر دل عزیز ہوتے، اور رام ولاس پاسوان کی طرح ہی مزے میں ہوتے، عام آدمی پارٹی کے امانت اللہ خان کی برطرفی اور دہلی دنگوں کو بیلنس کرنے کے لیے انکی واپسی بھی اسی کیٹیگری میں رکھئے،لسٹ تو بڑی لمبی ہے لیکن سمجھنے کے لیے یہی نام کافی ہوں گے ......
بھارتی سیاست میں ہم نے کانگریس، شو سینا، جدیو اور بی جے پی، سماجوادی اور بی جے پی، جنتا دل اور بی جے پی، کانگریس اور بی جے پی، بی ایس پی اور بی جے پی جیسے اتحاد دیکھے ہیں، اور یہ سب اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے ہوے، لیکن مسلم لیڈران پارٹیوں کے ہر فیصلے پر اپنی پارٹیوں کے ساتھ کھڑے رہے اور مسلمانوں کی جلتی لاشیں، لٹتی عزتیں، راکھ میں تبدیل ہوتے مکانات، تباہ ہوتی جائدادیں، گرتی ہوئی مسجدیں، لٹتے ہوے کارواں دیکھتے رہے مگر بے جا وفاداری پر آنچ نہیں آنے دی!
پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں!
خلاصہ
میرا ماننا ہے کہ اگر آپ کسی پارٹی، سیاسی لیڈر سے وابستہ ہیں اور زمینی کام نہیں کرنا چاہتے، اور آپ کی ذات سے پارٹی کو بہت فائدہ نہیں ہے، آپ انکے ساتھ کام سے روزی کمانا چاہتے ہیں تو کوئی بات نہیں، لیکن اگر پارٹی، سیاسی لیڈر کو آپ سے بہت فائدہ ہے تو آپ کا ایک پَیر ہمیشہ پاجامے میں رہنا چاہیے، جب آپ کو
_سب سے پہلے ہم کشمیر سے" غلام نبی آزاد" کو لیتے ہیں جناب پہلے کانگریسی ہوے، پھر محنت کرکے پنجاب، بنگال جیسے علاقوں میں کانگریس کو پہنچایا، پارٹی ترقی کرتی گئی اور کشمیر تنزلی کا شکار ہوتا رہا، فیک انکاؤنٹر ہوتے رہے، کشمیری عوام خون کے آنسو روتی رہی اور آپ وفاداری ہی کرتے رہے، آرٹیکل 370 نافذ ہوگیا،موصوف کو کشمیر نہیں جانے دیا گیا ، محبوبہ مفتی، فاروق عبد اللہ جیل میں سڑتے رہے اور مسلم حمایتی سمجھی جانے والی پارٹی صحیح سے آواز بھی نہ اٹھا سکیں، سب بالاے طاق رکھتے ہوئے پارٹی کی ترقی کے لئے وفاداری کا جوش پھر چڑھا اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ ڈالا، کہ کچھ بدلاؤ ہونا چاہیے ورنہ اپوزیشن میں زندگی بھر بیٹھے رہیں گے، یہ پارٹی کو ہضم نہ ہوا اور اب پارٹی نے سائڈ لائن دکھا دی ہے __اسے ہی کہتے ہیں" گھر کا نہ گھاٹ کا" ...
_انڈین سیاست میں فی الحال سب سے زیادہ سرخیوں میں اتر پردیش کے سماجوادی لیڈر اعظم خان ہیں، اعظم خان وہ لیڈر ہیں جن کے کندھوں پر سوار ہوکر سماجوادی پارٹی کئی مرتبہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر پہنچی، دو چار ہزار اردو کی نوکریاں یا چار سو مدرسوں کو گرانٹ دینے کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اعظم خان صاحب کی ساری زندگی کی محنت یا بدلہ کہیں تو وہ جوہر یونیورسٹی ہے جسے اب سرکاری" تانڈَو" جھیلنا پڑ رہا ہے، اگر یہ چاہتے تو اپنی پارٹی بھی کھڑی کر سکتے تھے، اپنی طاقت کا احساس کراتے تو نائب وزیر اعلیٰ بھی بن سکتے تھے، اعظم خان اتنے طاقت ور تھے کہ کبھی بھی سماجوادی پارٹی کی سرکار گرا سکتے تھے، مگر ایسا نہیں ہوا اور نو بار کے ودھایک،ایک بار راجیہ سبھا ممبر اور فی الحال لوک سبھا کے ممبر ہونے کے باوجود آج ایک سال سے جیل میں ہیں، جو کیس لگائے گئے ہیں، وہ اس بڑے لیڈر کی کھلی بے عزتی ہے، جیسے بکری چوری، مرغی چوری، بھینس چوری وغیرہ وغیرہ.... اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو خبر بھی نہیں لے رہے ہیں، اب جب اویسی صاحب کی ملاقات کی خبر عام ہوئی تو وہی کانگریس جس نے اسی یونیورسٹی کی منظوری کو سالوں لٹکائے رکھا اور منظوری دینے والے گورنر صاحب کو اپنا عہدہ گنوانا پڑا، آج اظہار عقیدت کر رہی ہے، اور یہی سماجوادی پارٹی بھی کر رہی ہے،یعنی دونوں پارٹیاں اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اے کاش! خان صاحب اپنی طاقت دکھاتے یا دکھا دیں تو سماجوادیوں کا وزیر اعلیٰ بننے کا خواب خواب خرگوش ہو سکتا ہے.....
__ سماجوادی پارٹی ہی ایک اور نیتا عتیق احمد الہ آبادی بھی سالوں سے جیل میں ہیں اور بی ایس پی سپریمو مایاوتی جن مختار انصاری کے کندھوں پر سوار ہوکر فرش سے عرش پر پہنچیں، آج وہ بھی کئی سالوں سے جیل میں ہیں، مایاوتی ہی کے دست راست کہے جانے والے "نسیم الدین صدیقی" جنھوں نے پارٹی اور مایاوتی کی عقیدت کے چلتے اپنی بیٹی کی تدفین تک میں شرکت نہ کی، آج وہ بھی سلاخوں میں ہیں، سیوان، بہار سے شہاب الدین کے کندھوں پر سوار ہوکر لالو پرساد یادو "ستّا سُکھ" بھوگ چکے ہیں، وہ شہاب الدین بھی سالوں سے جیل کی ہوا کھارہے ہیں، گجرات کے احسان جعفری، اور گجرات ہی سے کانگریس کے" چانکیہ" کہے جانے والے احمد پٹیل، قوم کو کچھ نہ دے سکے، ان سبھی لیڈروں نے اگر بے جا وفاداری نہ دکھائی ہوتی اپنا اور قوم کا بھلا کیا ہوتا تو آج ہر دل عزیز ہوتے، اور رام ولاس پاسوان کی طرح ہی مزے میں ہوتے، عام آدمی پارٹی کے امانت اللہ خان کی برطرفی اور دہلی دنگوں کو بیلنس کرنے کے لیے انکی واپسی بھی اسی کیٹیگری میں رکھئے،لسٹ تو بڑی لمبی ہے لیکن سمجھنے کے لیے یہی نام کافی ہوں گے ......
بھارتی سیاست میں ہم نے کانگریس، شو سینا، جدیو اور بی جے پی، سماجوادی اور بی جے پی، جنتا دل اور بی جے پی، کانگریس اور بی جے پی، بی ایس پی اور بی جے پی جیسے اتحاد دیکھے ہیں، اور یہ سب اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے ہوے، لیکن مسلم لیڈران پارٹیوں کے ہر فیصلے پر اپنی پارٹیوں کے ساتھ کھڑے رہے اور مسلمانوں کی جلتی لاشیں، لٹتی عزتیں، راکھ میں تبدیل ہوتے مکانات، تباہ ہوتی جائدادیں، گرتی ہوئی مسجدیں، لٹتے ہوے کارواں دیکھتے رہے مگر بے جا وفاداری پر آنچ نہیں آنے دی!
پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں!
خلاصہ
میرا ماننا ہے کہ اگر آپ کسی پارٹی، سیاسی لیڈر سے وابستہ ہیں اور زمینی کام نہیں کرنا چاہتے، اور آپ کی ذات سے پارٹی کو بہت فائدہ نہیں ہے، آپ انکے ساتھ کام سے روزی کمانا چاہتے ہیں تو کوئی بات نہیں، لیکن اگر پارٹی، سیاسی لیڈر کو آپ سے بہت فائدہ ہے تو آپ کا ایک پَیر ہمیشہ پاجامے میں رہنا چاہیے، جب آپ کو
محسوس ہو کہ پارٹی ہماری محنت کے مطابق عہدہ، یا صلہ نہیں دے رہی ہے فوراً انھیں احساس کرائیے کہ آپ سے فائدہ تبھی ممکن ہے جب ہمارا یا ہمارے سماج کا فائدہ ہو، ورنہ دوسرا در بھی ہے، سیاسی لوگ اپنے لوگوں کے سامنے اتنی پریشانیاں سناتے ہیں کہ بندہ خود کچھ نہ کہے، ایسی صورت میں ان ہوشیار لوگوں کو غور سے دیکھیں اگر انکے اور انکی قوم کے کام ہو رہے ہیں تو آپ اپنا مطالبہ بھی رکھ دیں، نہ سننے، یا سمجھانے کی صورت میں آپشن B پر عمل کریں، یا ایسے وقت پر پالا بدلیں کہ آپ کو بے وقوف بنانے کی قیمت سود سمیت موصوف کو ادا کرنا پڑے.....
سیاسی لوگوں کا ایک حربہ اور ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے زمانے میں آپ کو مطلوبہ عہدہ یا شئے نہیں دیتے، جب ایک ڈیڑھ سال کا اقتدار بچتا ہے تب وہ آپ کو مطلوبہ چیز دے دیتے ہیں اور پھر سرکاری کام، آپ جانتے ہی ہیں.... تو یہ ایک ڈیڑھ سال کا زمانہ اپروول یا سرکاری دفاتر کے چکر لگانے میں ہی نکل جاتا ہے، اب آپ اس لیے ساتھ دیتے ہیں کہ حکومت آئی یا یہ بندہ کامیاب ہوا تو ہمارا رکا ہوا کام پورا ہوجائے گا، لیکن کون جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا؟ اور آپ رہ جاتے ہیں، خوش قسمتی سے آپ کی پارٹی یا لیڈر کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو آپ کو اپنا پچھلا کام کراتے ہوے اقتدار کا آدھا زمانہ گزر جاتا ہے، ظاہر ہے آپ تب تک خاموش رہیں گے، اور اگر دوسرا کام چاہیں گے تو کہہ دیا جائے گا بھئی ایک تو پورا کرو، پھر آنا، اور پھر جب آپ جائیں گے تو کہیں گے ارے رکیے صاحب! سارے کام تو ہمارے نہیں ہوتے اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے سارے کام ہوجائیں، ہر چیز تھوڑی ہو سکتی ہے، چلئے پھر دیکھیں گے، نیتا جی کے اتنا کہنے کے بعد آپ خود ہی انکے پاس نہیں جائیں گے، اور پھر اخیر وقت میں آپ کو بلاکر پوچھیں گے اچھا وہ آپ نے ایک کام کے لیے کہا تھا، اب اسے دیکھ لیتے ہیں اور پھر وہی ڈرامہ شروع ہوجاتا ہے....
اس لیے سیاست میں آپ کو صرف فائدہ دیکھنا ہے کہ کیسے ملتا ہے، یہ آپ پر منحصر ہے موقع دیکھتے ہی چوکا مارنا جانتے ہیں تو پھر سیاست کریے، ورنہ صرف غلامی ہوگی سیاست نہیں، ہاں! آپ اسے "نام" جو چاہیں دے سکتے ہیں.
محمد زاہد علی مرکزی (کالپی شریف)
رکن :روشن مستقبل دہلی
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
28 جنوری 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/855090501728136/
سیاسی لوگوں کا ایک حربہ اور ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے زمانے میں آپ کو مطلوبہ عہدہ یا شئے نہیں دیتے، جب ایک ڈیڑھ سال کا اقتدار بچتا ہے تب وہ آپ کو مطلوبہ چیز دے دیتے ہیں اور پھر سرکاری کام، آپ جانتے ہی ہیں.... تو یہ ایک ڈیڑھ سال کا زمانہ اپروول یا سرکاری دفاتر کے چکر لگانے میں ہی نکل جاتا ہے، اب آپ اس لیے ساتھ دیتے ہیں کہ حکومت آئی یا یہ بندہ کامیاب ہوا تو ہمارا رکا ہوا کام پورا ہوجائے گا، لیکن کون جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا؟ اور آپ رہ جاتے ہیں، خوش قسمتی سے آپ کی پارٹی یا لیڈر کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو آپ کو اپنا پچھلا کام کراتے ہوے اقتدار کا آدھا زمانہ گزر جاتا ہے، ظاہر ہے آپ تب تک خاموش رہیں گے، اور اگر دوسرا کام چاہیں گے تو کہہ دیا جائے گا بھئی ایک تو پورا کرو، پھر آنا، اور پھر جب آپ جائیں گے تو کہیں گے ارے رکیے صاحب! سارے کام تو ہمارے نہیں ہوتے اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے سارے کام ہوجائیں، ہر چیز تھوڑی ہو سکتی ہے، چلئے پھر دیکھیں گے، نیتا جی کے اتنا کہنے کے بعد آپ خود ہی انکے پاس نہیں جائیں گے، اور پھر اخیر وقت میں آپ کو بلاکر پوچھیں گے اچھا وہ آپ نے ایک کام کے لیے کہا تھا، اب اسے دیکھ لیتے ہیں اور پھر وہی ڈرامہ شروع ہوجاتا ہے....
اس لیے سیاست میں آپ کو صرف فائدہ دیکھنا ہے کہ کیسے ملتا ہے، یہ آپ پر منحصر ہے موقع دیکھتے ہی چوکا مارنا جانتے ہیں تو پھر سیاست کریے، ورنہ صرف غلامی ہوگی سیاست نہیں، ہاں! آپ اسے "نام" جو چاہیں دے سکتے ہیں.
محمد زاہد علی مرکزی (کالپی شریف)
رکن :روشن مستقبل دہلی
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
28 جنوری 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/855090501728136/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ "امیرِ شام" نہیں، "امیرِ عالَمِ اسلام" اور "امیر المؤمنین" تھے۔ !!
امیرِ معاویہ جب تک ملکِ شام کے گورنر اور حکمراں تھے تب تک وہ ملکِ شام کے امیر و حاکم تھے۔ لیکن مولا علی -کرَّم اللہ وجہہ- کی شہادت کے بعد ان کے شہزادے سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے بشارت نبوی کے مطابق جب امیر معاویہ سے صلح فرمائی تو صلح کے بعد سیدنا معاویہ "امیرِ عالَمِ اسلام" اور "امیر المؤمنین" ہو گئے تھے، اور پھر امتِ محمدی نے آپ کی وفات تک تقریبا ۲۰ سال پورے اتحاد و اتفاق کے ساتھ آپ کو "امیرِ دنیاے اسلام" اور "امیر المومنین" مانا۔ ان میں صحابہ بھی تھے اور اہلِ بیت بھی۔ حتی کہ عشرۂ مبشرہ اور بدری صحابہ جو اس وقت حیات تھے ان سب نے اس مبارک وحدت و اتفاق کا ساتھ دیا اور امیر معاویہ کو "امیرِ عالَمِ اسلام" مانا۔
مگر چوں کہ سیدنا امام حسن نے انھیں "امیرِ شام" سے "امیرِ عالَمِ اسلام" اور "امیر المؤمنین" بنایا تھا, اس لیے امام حسن کے جتنے بھی نئے پرانے دشمن ہیں وہ امیرِ معاویہ کو "امیر المؤمنین" اور "امیرِ عالَمِ اسلام" نہیں مانتے, بلکہ امام حسن کے بنانے سے پہلے وہ جس عہدے پر تھے اسی عہدے "امیرِ شام" کے ساتھ اُن کا ذکر کرتے ہیں.
خدا ہی جانے کہ ان لوگوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک یعنی میرا بیٹا حسن سردار ہے، یہ مسلمانوں کے دو "عظیم" گروہوں میں صلح کرائیگا (حدیث صحیح کی بشارت) سے اور امام حسن سے کون سی دشمنی ہے جو اس فیصلے کو یہ لوگ نہیں مانتے اور ان کے بنائے ہوئے "امیرِ عالَمِ اسلام" کو بطورِ طنز و اہانت "امیرِ شام" کہتے ہیں۔
#نثارمصباحی
۲۸ جنوری ۲۰۲۱ء
fb://photo/855232951713891?set=a.415369752366882
امیرِ معاویہ جب تک ملکِ شام کے گورنر اور حکمراں تھے تب تک وہ ملکِ شام کے امیر و حاکم تھے۔ لیکن مولا علی -کرَّم اللہ وجہہ- کی شہادت کے بعد ان کے شہزادے سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے بشارت نبوی کے مطابق جب امیر معاویہ سے صلح فرمائی تو صلح کے بعد سیدنا معاویہ "امیرِ عالَمِ اسلام" اور "امیر المؤمنین" ہو گئے تھے، اور پھر امتِ محمدی نے آپ کی وفات تک تقریبا ۲۰ سال پورے اتحاد و اتفاق کے ساتھ آپ کو "امیرِ دنیاے اسلام" اور "امیر المومنین" مانا۔ ان میں صحابہ بھی تھے اور اہلِ بیت بھی۔ حتی کہ عشرۂ مبشرہ اور بدری صحابہ جو اس وقت حیات تھے ان سب نے اس مبارک وحدت و اتفاق کا ساتھ دیا اور امیر معاویہ کو "امیرِ عالَمِ اسلام" مانا۔
مگر چوں کہ سیدنا امام حسن نے انھیں "امیرِ شام" سے "امیرِ عالَمِ اسلام" اور "امیر المؤمنین" بنایا تھا, اس لیے امام حسن کے جتنے بھی نئے پرانے دشمن ہیں وہ امیرِ معاویہ کو "امیر المؤمنین" اور "امیرِ عالَمِ اسلام" نہیں مانتے, بلکہ امام حسن کے بنانے سے پہلے وہ جس عہدے پر تھے اسی عہدے "امیرِ شام" کے ساتھ اُن کا ذکر کرتے ہیں.
خدا ہی جانے کہ ان لوگوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک یعنی میرا بیٹا حسن سردار ہے، یہ مسلمانوں کے دو "عظیم" گروہوں میں صلح کرائیگا (حدیث صحیح کی بشارت) سے اور امام حسن سے کون سی دشمنی ہے جو اس فیصلے کو یہ لوگ نہیں مانتے اور ان کے بنائے ہوئے "امیرِ عالَمِ اسلام" کو بطورِ طنز و اہانت "امیرِ شام" کہتے ہیں۔
#نثارمصباحی
۲۸ جنوری ۲۰۲۱ء
fb://photo/855232951713891?set=a.415369752366882
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#مطالعہ_کی_میزسے
سیدنامیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ اورعقیدۂ افضلیت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ
تحریر:بلال احمدنظامی مندسوری،رتلام
افضلیت شیخین (حضرت سیدناصدیق اکبراور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہما)عقیدہ اہل سنت سےہےاور اہل سنت وجماعت کا اس پراجماع قطعی ہےجسےمتقدمین ومتاخرین بزرگوں نےاپنی اپنی کتابوں میں درج فرمایاہےنیزاس کامنکرخارج اہل سنت اور بدعتی ہے۔
جدسادات مارہرہ حضرت سیدمیرعبدالواحدبلگرامی(ولادت 912 یا 915ھ) علیہ الرحمہ نےمشہورزمانہ ومقبول بارگاہ رسالت مآب ﷺ کتاب "سبع سنابل" کےسنبلہ اول میں (جو عقائداہل سنت کےبیان کےلیےمخصوص ہے)افضلیت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ کو حضور اکرمﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وجملہ ائمہ صوفیاکےاقوال سےروشن کرکےبیان فرمایاہےکہ افضلیت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ اہل سنت کےعقائدمیں سےہےاور جواس کاخلاف کرےوہ تفضیلی،گمراہ اوربدعتی ہے۔
#اہل_سنت_کی_پہچان:
اہل سنت وجماعت کی شناخت اور پہچان بیان کرتےہوئے سیدمیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
"امام اعظم ابوحنیفہ کوفی رحمة اللہ تعالی علیہ سےلوگوں نے مذہب اہل سنت وجماعت کےمتعلق پوچھاتو فرمایا۔ وتفضِّل الشَّیخَین وتحب الختنین وتر المسح علی الخفین۔یعنی مذہب اہل سنت یہ ہےکہ تم حضرت ابوبکر صدیق اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہماکو فضیلت دو اور حضرت عثمان غنی اور مولی علی رضی اللہ عنہماسے محبت کرواور موزوں پرمسح کو جائزجانو۔"(پہلاسنبلہ۔ص:60)
صفحہ 61 پر وضاحت کرتےہوئےرقم فرماتےہیں:
"یعنی ان چاروں ہی سےمحبت کرنابھلائی ہےاور شیخین کوفضیلت دینےمیں تیرےانجام کی بہتری۔ان چاروں سےسچی محبت رکھ،لیکن شیخین کی فضیلت زیادہ مان۔اور اگرتیرےدل میں شیخین سےمحبت کم ہےتوسمجھ لےکہ تیری بنیاد رفض(رافضیت) میں مضبوط ہوتی چلی جارہی ہے۔جملہ صحابہ کرام،تابعین،تبع تابعین اور تمام علمائےامت کااسی پراجماع ہے اور یہی اجماع متقدمین ومتاخرین اگلوں اور پچھلوں کی کتابوں میں لکھاہوا اور شائع ہوا ہے۔"(ایضا:61)
بعدازاں سیدمیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ احادیث نبویہ ﷺ سےسیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کےفضائل ومناقب،اولیت وافضلیت تحریرفرمانےکےبعد لکھتےہیں:
"اب مذہب اہل سنت وجماعت بیان کرتاہوں کہ حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمررضی اللہ عنہماکوحضرت عثمان غنی اور حضرت مولی علی رضی اللہ عنہمااور تمام اصحاب پرفضیلت حاصل ہے۔"(ایضا:68)
#افضلیت_شیخین_پرصحابہ_کااجماع:
حضرت سیدمیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ مولی علی مشکل کشاحیدر کرار کرم اللہ تعالہ وجہہ الکریم ودیگراصحاب رسولﷺ علیہم الرضوان کےمناقب وفضائل اور ان کےدلوں کی کشادگی کورقم فرمانےکےبعدلکھتےہیں:
"پس جب صحابہ کااجماع جونبیوں کاوصف رکھتےہیں اس امرپرہواکہ شیخین کوفضیلت حاصل ہے۔اور علی مرتضی خودبھی اس اجماع سےمتفق اور اس میں شریک ہیں توتفضیلی(جومولی علی کوشیخین پرفضیلت دیتےہیں)اپنےاعتقادمیں ضرورغلطی پرہیں۔ارےہماری عزت وآبروتوعلی مرتضی رضی اللہ عنہ کےنام پرقربان،اور ہماری جان اور دل علی مرتضی رضی اللہ عنہ کےقدموں پر نثار،وہ کون ساازلی بدبخت ہےجس کےدل میں علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی محبت نہ ہو۔اللہ تعالی کی بارگاہ کا وہ کوئی راندہ ہواہوگاجوعلی مرتضی رضی اللہ عنہ کی توہین روا رکھےگامگرتفضیلیوں نےیہ ڈھونگ رچایاہےکہ مرتضی رضی اللہ عنہ کےساتھ محبت کانتیجہ صرف یہی ہےکہ انھیں شیخین پر فضیلت دی جائےمگریہ نہیں سمجھتےکہ ان کےساتھ محبت کاتقاضایہ ہےکہ ان کےساتھ موافقت کی جائےنہ کہ مخالفت۔جب خود علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرصدیق،حضرت عمرفاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کی فضیلت کو اپنےاوپرروا رکھااور ان کی اقتداکی اور ان کےزمانہ خلافت میں ان کےحکموں پرعمل کیاتواب محبت کی شرط یہ ہےکہ راہ وروش میں ان سےموافقت رکھیں۔نہ یہ کہ مخالفت برتیں۔"(ایضا:73)
تفضیلیوں کامحبت مولی علی رضی اللہ کی آڑ لیکر اجماع صحابہ اورعقائداہل سنت سے اختلاف اورانحراف پر سیدمیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ ان کے ڈھونگ رچنےکوظاہرکرتےہوئے لکھتےہیں:
"یہ ملعون اور روسیاہ ان صحابہ کےاجماع کےخلاف جرأت کرتاہےاور خدا ورسول ﷺکےفرمان سےباہرنکلتاہےپھربھی یہ گمان کرتاہےکہ میں تومرتضی رضی اللہ عنہ سےمحبت کرتاہوں۔یہ بھی عجیب احمق ہےکہ مرتضی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کو ان کےساتھ محبت سمجھتاہے۔اس لیےکہ اللہ تعالی اور رسول ﷺ کافرمان اور صحابہ کااجماع قبول نہیں کرتااور فاسدعقیدہ،باطل تصور کوامام بنائےپھرتاہے۔یہ سوائےتِہ بہ تِہ کفر اور درپردہ گمراہی کےکچھ نہیں۔وہ روایتیں اور وہ مسئلے جواجماع امت کےمخالف اور مناقض ہیں سراسرغیرمسموع،ناقابل قبول اور محض غلط ہیں۔"(ایضا:74)
سیدنامیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ اورعقیدۂ افضلیت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ
تحریر:بلال احمدنظامی مندسوری،رتلام
افضلیت شیخین (حضرت سیدناصدیق اکبراور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہما)عقیدہ اہل سنت سےہےاور اہل سنت وجماعت کا اس پراجماع قطعی ہےجسےمتقدمین ومتاخرین بزرگوں نےاپنی اپنی کتابوں میں درج فرمایاہےنیزاس کامنکرخارج اہل سنت اور بدعتی ہے۔
جدسادات مارہرہ حضرت سیدمیرعبدالواحدبلگرامی(ولادت 912 یا 915ھ) علیہ الرحمہ نےمشہورزمانہ ومقبول بارگاہ رسالت مآب ﷺ کتاب "سبع سنابل" کےسنبلہ اول میں (جو عقائداہل سنت کےبیان کےلیےمخصوص ہے)افضلیت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ کو حضور اکرمﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وجملہ ائمہ صوفیاکےاقوال سےروشن کرکےبیان فرمایاہےکہ افضلیت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ اہل سنت کےعقائدمیں سےہےاور جواس کاخلاف کرےوہ تفضیلی،گمراہ اوربدعتی ہے۔
#اہل_سنت_کی_پہچان:
اہل سنت وجماعت کی شناخت اور پہچان بیان کرتےہوئے سیدمیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
"امام اعظم ابوحنیفہ کوفی رحمة اللہ تعالی علیہ سےلوگوں نے مذہب اہل سنت وجماعت کےمتعلق پوچھاتو فرمایا۔ وتفضِّل الشَّیخَین وتحب الختنین وتر المسح علی الخفین۔یعنی مذہب اہل سنت یہ ہےکہ تم حضرت ابوبکر صدیق اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہماکو فضیلت دو اور حضرت عثمان غنی اور مولی علی رضی اللہ عنہماسے محبت کرواور موزوں پرمسح کو جائزجانو۔"(پہلاسنبلہ۔ص:60)
صفحہ 61 پر وضاحت کرتےہوئےرقم فرماتےہیں:
"یعنی ان چاروں ہی سےمحبت کرنابھلائی ہےاور شیخین کوفضیلت دینےمیں تیرےانجام کی بہتری۔ان چاروں سےسچی محبت رکھ،لیکن شیخین کی فضیلت زیادہ مان۔اور اگرتیرےدل میں شیخین سےمحبت کم ہےتوسمجھ لےکہ تیری بنیاد رفض(رافضیت) میں مضبوط ہوتی چلی جارہی ہے۔جملہ صحابہ کرام،تابعین،تبع تابعین اور تمام علمائےامت کااسی پراجماع ہے اور یہی اجماع متقدمین ومتاخرین اگلوں اور پچھلوں کی کتابوں میں لکھاہوا اور شائع ہوا ہے۔"(ایضا:61)
بعدازاں سیدمیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ احادیث نبویہ ﷺ سےسیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کےفضائل ومناقب،اولیت وافضلیت تحریرفرمانےکےبعد لکھتےہیں:
"اب مذہب اہل سنت وجماعت بیان کرتاہوں کہ حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمررضی اللہ عنہماکوحضرت عثمان غنی اور حضرت مولی علی رضی اللہ عنہمااور تمام اصحاب پرفضیلت حاصل ہے۔"(ایضا:68)
#افضلیت_شیخین_پرصحابہ_کااجماع:
حضرت سیدمیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ مولی علی مشکل کشاحیدر کرار کرم اللہ تعالہ وجہہ الکریم ودیگراصحاب رسولﷺ علیہم الرضوان کےمناقب وفضائل اور ان کےدلوں کی کشادگی کورقم فرمانےکےبعدلکھتےہیں:
"پس جب صحابہ کااجماع جونبیوں کاوصف رکھتےہیں اس امرپرہواکہ شیخین کوفضیلت حاصل ہے۔اور علی مرتضی خودبھی اس اجماع سےمتفق اور اس میں شریک ہیں توتفضیلی(جومولی علی کوشیخین پرفضیلت دیتےہیں)اپنےاعتقادمیں ضرورغلطی پرہیں۔ارےہماری عزت وآبروتوعلی مرتضی رضی اللہ عنہ کےنام پرقربان،اور ہماری جان اور دل علی مرتضی رضی اللہ عنہ کےقدموں پر نثار،وہ کون ساازلی بدبخت ہےجس کےدل میں علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی محبت نہ ہو۔اللہ تعالی کی بارگاہ کا وہ کوئی راندہ ہواہوگاجوعلی مرتضی رضی اللہ عنہ کی توہین روا رکھےگامگرتفضیلیوں نےیہ ڈھونگ رچایاہےکہ مرتضی رضی اللہ عنہ کےساتھ محبت کانتیجہ صرف یہی ہےکہ انھیں شیخین پر فضیلت دی جائےمگریہ نہیں سمجھتےکہ ان کےساتھ محبت کاتقاضایہ ہےکہ ان کےساتھ موافقت کی جائےنہ کہ مخالفت۔جب خود علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرصدیق،حضرت عمرفاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کی فضیلت کو اپنےاوپرروا رکھااور ان کی اقتداکی اور ان کےزمانہ خلافت میں ان کےحکموں پرعمل کیاتواب محبت کی شرط یہ ہےکہ راہ وروش میں ان سےموافقت رکھیں۔نہ یہ کہ مخالفت برتیں۔"(ایضا:73)
تفضیلیوں کامحبت مولی علی رضی اللہ کی آڑ لیکر اجماع صحابہ اورعقائداہل سنت سے اختلاف اورانحراف پر سیدمیرعبدالواحدبلگرامی علیہ الرحمہ ان کے ڈھونگ رچنےکوظاہرکرتےہوئے لکھتےہیں:
"یہ ملعون اور روسیاہ ان صحابہ کےاجماع کےخلاف جرأت کرتاہےاور خدا ورسول ﷺکےفرمان سےباہرنکلتاہےپھربھی یہ گمان کرتاہےکہ میں تومرتضی رضی اللہ عنہ سےمحبت کرتاہوں۔یہ بھی عجیب احمق ہےکہ مرتضی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کو ان کےساتھ محبت سمجھتاہے۔اس لیےکہ اللہ تعالی اور رسول ﷺ کافرمان اور صحابہ کااجماع قبول نہیں کرتااور فاسدعقیدہ،باطل تصور کوامام بنائےپھرتاہے۔یہ سوائےتِہ بہ تِہ کفر اور درپردہ گمراہی کےکچھ نہیں۔وہ روایتیں اور وہ مسئلے جواجماع امت کےمخالف اور مناقض ہیں سراسرغیرمسموع،ناقابل قبول اور محض غلط ہیں۔"(ایضا:74)