🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
نئے نوٹوں کی کاپی پرانے زیادہ نوٹوں پر خریدنا کیسا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئے نوٹوں کی کاپی پرانے زیادہ نوٹوں پر خریدنا فقہی اعتبار سے جائز ہے،البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ یہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی پرانے نوٹ دے کر نئے نوٹ اسی وقت لے لئے جائیں،اگر ادھا پر ہو تو ناجائز ہے۔
نوٹ اموال ربویہ میں سے نہیں کیونکہ نوٹ عددی شے ہے،اموال ربویہ میں وہ چیزیں شمار ہوتی ہیں جو ناپی اور تولی جاتی ہوں جبکہ نوٹ تول کر یا ناپ کر نہیں بکتا۔
تبیین الحقائق میں ہے”ما لا يكال ولا يوزن لا يكون من الأموال الربوية“
ترجمہ:جو ناپا اور نہ تولا جائے وہ اموال ربویہ میں سے نہیں ہوتا۔
(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق،کتاب البیوع،باب الربا،جلد 4،صفحہ 87، المطبعة الكبرى الأميرية،القاهرة)
المبسوط میں ہے”إن كان من نوع واحد مما لا يكال ولا يوزن فلا بأس به اثنان بواحد يدا بيد“
ترجمہ:اگر ایک ہی قسم ہے جو نہ ناپی جاتی ہے اور نہ ہی تولی جاتی ہے تو ایک کے بدلے میں دو ہاتھوں ہاتھ ہونے میں حرج نہیں۔
(المبسوط،کتاب البیوع،جلد12،صفحہ122،دار المعرفة،بيروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”نوٹ کی بیع اور مبادلہ میں کمی بیشی برضامندی فریقین مطلقا جائز ہے کہ وہ اموال ربویہ سے نہیں۔ہاں سو روپے کا نوٹ قرض دیا جائے اور یہ ٹھہرا لیا جائے کہ پیسہ اوپر سو لیں گے یہ سود اور حرام قطعی ہے،اور اس کے تمام مسائل کی تفصیل اگر درکار ہو تو ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاہم میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔“
(فتاویٰ رضویہ،جلد17،صفحہ605،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
پرانے نوٹوں کے عوض نئے نوٹ کم تعداد میں لینا اگر ادھار ہو تو ناجائزوحرام ہے،البتہ اگر یہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ نقد ہو تو شرعاً درست ہے۔
اس میں تفصیل یہ ہے کہ قوانین شرع کی رو سے سود کی حرمت کی علت قدرمع الجنس ہے۔اگر قدر وجنس دونوں پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حرام ہیں۔اور اگر قدر وجنس دونوں نہ پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں۔اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے،دوسری نہ پائی جائے مثلا جنس پائی جائے لیکن قدر نہ ہو یا قدر پائی جائے لیکن جنس نہ ہو تو اس صورت میں ہاتھوں ہاتھ زیادتی جائز اور ادھار حرام ہے۔نوٹ میں اگرچہ قدر نہیں کہ یہ عددی شے ہے لیکن نوٹ میں جنس موجود ہے۔
دُرِّمختار میں ہے:وَاِنْ وُجِدَ اَحَدُھُمَا اَیِ الْقَدَرُ وَحْدَہُ اَوِ الْجِنْسُ وَحْدَہُ حَلَّ الْفَضْلُ وَحَرُمَ النَسَاءُ
ترجمہ:اور اگر قدر وجنس میں سے کوئی ایک چیز پائی جائے یعنی صرف قدر پائی جائے یا صرف جنس پائی جائے تو اب کمی بیشی جائز ہے اور ادھار حرام ہے۔(درمختار،ج7،ص422)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دس روپے کا نوٹ دے کر بارہ روپیہ عوض میں لینا حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا۔
جواباً آپ علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا:”بیع میں حلال ہے،یعنی دس کا نوٹ بارہ یا بیس کو برضائے مشتری بیچے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ فتح القدیر و رد المحتار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے”لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ“
اگر کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے میں بیچا تو جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں۔اور اصطلاحی طورپر اس کی قیمت معین ہونا بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی کو نہیں روکتا،ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنا مال جو عام نرخ سے دس روپے کا ہو برضائے مشتری سو روپیہ کو بیچے یا ایک ہی پیسہ کو دے دے ۔قال ﷲتعالیٰ﴿الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ﴾اللہ تعالیٰ نے فرمایا:مگر یہ کہ ہو تمہارے درمیان تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے۔ (فتاوٰی رضویہ،جلد17،صفحہ610-611،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
والسلام:نماز جنازہ کی تکرار ہمارے ائمہ کرام رضی ﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک تو مطلقاً ناجائز ونامشروع ہے، مگر جب کہ اجنبی غیر احق نے بلا اذن و بلامتابعت ولی پڑھ لی ہو تو ولی اعادہ کرسکتا ہے۔سیدی اعلیحضرت علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:فی الدرالمختار یقدم فی الصلٰوۃ علیہ السلطان او امیر المصر ثم القاضی ثم امام الحی ثم الولی فان صلی غیرالولی من لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ الولی اعادالولی ولوعلی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لا لاسقاط الفرض ولذا قلنا لیس لمن صلی علیھا ان یعید مع الولی لان تکرارھاغیرمشروع وان صلی من لہ حق التقدم کقاض اونائبہ اوامام الحی اومن لیس لہ حق التقدم وتابعہ الولی لایعید اھ مختصراً۔ترجمہ:درمختار میں ہے: میّت کی نمازپڑھنے میں مقدم بادشاہ یاولیِ شہر ہے پھر قاضی پھر امامِ محلہ پھر ولی اگر ولی کے علاوہ ایسے شخص نے جس کو ولی پر تقدم کا حق حاصل نہیں، نمازِ جنازہ پڑھ لی اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو دوبارہ پڑھ سکتا ہے خواہ قبر پر ہی پڑھے اسے یہ اختیار اپنے حق کے سبب ہے اس لئے نہیں کہ فرضِ جنازہ ادا نہ ہوا تھا، اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ پہلے جو پڑھ چکے تھے وہ ولی کے ساتھ ہوکر دوبارہ نہیں پڑھ سکتے-اس لئے کہ نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں-اور اگر پہلے ایسے شخص نے پڑھی جسے ولی پر تقدم کا حق حاصل ہے جیسے قاضی یا نائب قاضی یا امامِ محلہ یا ایسے شخص نے پڑھ لی جسے حقِ تقدم حاصل نہیں مگر ولی نے اس کی متابعت کر لی تھی تو دوبارہ نہیں پڑھ سکتا۔(فتاوی رضویہ جلد9 ،ص 182) واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
گود لئے ہوئے بچے کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال کرنے کا شرعی حکم:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچہ گود لینا جائز ہے لیکن یہ یاد رہے کہ گود میں لینے والا عام بول چال میں یا کاغذات وغیرہ میں اس کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال نہیں کر سکتا بلکہ سب جگہ حقیقی باپ کے طور پر اس بچے کے اصلی والد ہی کا نام استعمال کرنا ہوگا اور اگر اصلی باپ کا نام معلوم نہیں تو اس کی معلومات کروا کر باپ کے طورپر حقیقی باپ کا نام لکھنا ہو گا اور اگر کوشش کے باوجود کسی طرح اس کے اصلی باپ کا نام معلوم نہ ہو سکے تو گود لینے والا گفتگو میں حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام ہرگز استعمال نہ کرے اور نہ ہی بچہ اسے حقیقی والد کے طور پر اپنا باپ کہے،اسی طرح کاغذات وغیرہ میں سر پرست کے کالم میں اپنا نام لکھے حقیقی والد کے کالم میں ہرگز نہ لکھے،اگر جان بوجھ کر خود کو حقیقی باپ کہے یا لکھے گا تو یہ بھی درج ذیل دو وعیدوں میں داخل ہے،چنانچہ
(1)… حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو کسی غیر کی طرف منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔‘‘
(بخاری،کتاب الفرائض،باب من ادعی الی غیر ابیہ،۴ / ۳۲۶،الحدیث:۶۷۶۶)
(2)… حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص نے خود کو اپنے باپ کے غیر کی طرف منسوب کیا یا جس غلام نے اپنے آپ کو اپنے مولیٰ کے غیر کی طرف منسوب کیا اس پر الله عَزَّوَجَلَّ کی،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو،قیامت کے دن الله عَزَّوَجَلَّ اس کا کوئی فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔‘‘
(مسلم،کتاب الحج،باب فضل المدینۃ ودعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیہا بالبرکۃ۔۔۔ الخ،ص۷۱۱،الحدیث:۴۶۷ (۱۳۷۰))
اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے کہ جو اپنے ہاں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے یا ویسے ہی کسی دوسرے کی اولاد گود میں لیتے ہیں اور اپنے زیرِ سایہ اس کی پرورش کرتے اور اس کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ان کا یہ عمل تو جائز ہے لیکن ان کی یہ خواہش اور تمنا ہرگز درست نہیں کہ حقیقی باپ کے طور پر پالنے والے کا نام استعمال ہو اور نہ ہی ان کا یہ عمل جائز ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا ہے کہ ’’اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ‘‘ (انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔) اور جب اللہ تعالیٰ نے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارنے کاحکم فرما دیا اور اَحادیث میں ایسا نہ کرنے پر انتہائی سخت وعیدیں بیان ہو گئیں تو کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنے رب تعالیٰ کے حکم کے برخلاف اپنی خواہشات کو پروان چڑھائے اور خود کو شدید وعیدوں کا مستحق ٹھہرائے۔الله تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
نوٹ: یاد رہے کہ اَحادیث میں بیان کی گئی وعیدوں کا مِصداق وہ صورت ہے جس میں بچے کا نسب حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے جبکہ شفقت کے طور پر کسی کو بیٹا یابیٹی کہہ کر پکارنا یا کوئی معروف ہی کسی اور کے نام سے ہو تو پہچان کے لئے اس کابیٹا یا بیٹی کہنا ان وعیدوں میں داخل نہیں۔
بچہ یا بچی گود لینے سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ:
بچہ یا بچی گود میں لینا جائز ہے لیکن جب وہ اس عمر تک پہنچ جائیں جس میں ان پر نامحرم مرد یا عورت سے پردہ کرنا لازم ہو جاتا ہے تو اس وقت بچے پر پالنے والی عورت سے اور بچی پر پالنے والے مرد سے پردہ کرنا بھی لازم ہوگا کیونکہ وہ اس بچے کے حقیقی یا رضاعی ماں باپ نہیں اِس لئے وہ اُس بچے اوربچی کے حق میں محرم نہیں،لہٰذا اگر بچہ گود میں لیا جائےتو عورت اسے اپنا یا اپنی بہن کا دودھ پلا دے اور بچی گود میں لی جائے تو مرد اپنی کسی محرم عورت کا دودھ اسے پلوا دے،اس صورت میں ان کے درمیان رضاعی رشتہ قائم ہوجائے گا اور محرم ہو جانے کی وجہ سے پردے کی وہ پابندیاں نہ رہیں گی جو نامحرم سے پردہ کرنے کی ہیں،البتہ یہاں مزید دو باتیں ذہن نشین رہیں،
پہلی یہ کہ دودھ بچے کی عمر دو سال ہونے سے پہلے پلایا جائے اور اگر دو سال سے لے کر ڈھائی سال کے درمیان دودھ پلایا تو بھی رضاعت ثابت ہو جائے گی لیکن اس عمر میں دودھ پلانا ناجائز ہے اور ڈھائی سال عمر ہو جانے کے بعد پلایا تو رضاعت ثابت نہ ہو گی۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
ایک پیر صاحب جو آواگون کا عقیدہ رکھتے تھے ان سے بیعت ہونا کیسا؟ اور ان سے بیعت کرنا کیسا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آواگون کا عقیدہ کفریہ ہندوانہ ہے ایسا شخص تو مسلمان نہیں چہ جائیکہ اسے پیر بنالیا جائے۔
بہارِ شریعت میں ہے:"یہ خیال کہ وہ روح(مرنے کے بعد) کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے،خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں،محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔
(بہار شریعت،جلد 1،ص 103،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وفي ''النبراس''، باب البعث حق، ص213: (التناسخ ھو انتقال الروح من جسم إلی جسم آخر وقد اتفق الفلاسفۃ وأھل السنۃ علی بطلانہ، وقال بحقیقتہ قوم من الضلال، فزعم بعضھم أنّ کل روح ینتقل في مائۃ ألف وأربعۃ وثمانین من الأبدان، وجوّز بعضھم تعلقہ بأبدان البہائم بل الأشجار والأحجار علی حسب جزاء الأعمال السیئۃ، وقد حکم أھل الحق بکفر القائلین بالتناسخ، والمحققون علی أنّ التکفیر لإنکارھم البعث).
وفي ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب السیر، باب التاسع في أحکام المرتدین، ج 2، ص264: (ویجب إکفار الروافض في قولھم برجعۃ الأموات إلی الدنیا وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإلہ إلی الأئمۃ).
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ'' شرح ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج 1،ص304:(ویجب إکفار الروافض في قولھم برجع الأموات) بعد موتھم (إلی الدنیا) أیضا (و) قولھم (بتناسخ الأرواح) أي: انتقالھا من جسد إلی جسد علی الأبد).
ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد رُوح کسی اور انسان یا جانور کے بدن میں چلی جاتی ہے اِس کو آواگون یا تَناسُخ کہتے ہیں۔ یہ عقیدہ سَراسَر غَلَط اور کُفْر ہے۔بعض اوقات عورَتیں غصّہ میں آکر بچّہ کو کہہ دیتی ہیں،کون سے جَنَم میں سُدھرے گا؟ (مَعَاذَ اللّٰہ) یہ ہندوؤں سے سیکھا ہے،کیونکہ اسلامی عقیدے میں ہر ایک کا ایک ہی بار جنم ہوتا ہے۔(نبراس،والبعث حق،ص 213)
(مدنی مذاکروں کے 137 سوالات جوابات،ص 3،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کہنے کوحنبلی اور اہلِ حدیث ہیں

قوم کہہ رہی ہے پکے خبیث ہیں

منقول از کتاب "قبہ" صفحہ 64,مؤلف مولانامظہرحسین بی اے منشی فاضل رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ

میثم قادری

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921574901455151&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصروف ترین قوم

ایک آسٹریلوی سیاح اپنے سفر نامے میں پاکستان کے بارے میں لکھتا ھے کہ
جب میں بلوچستان کا سفر ختم کر کے کراچی کے علاقے شیرشاہ پہنچا,تو ریل گاڑی کا پھا ٹک بندتھا اور اسی دوران ایک شخص سائیکل پر میرے قریب رکا۔لیکن چندسکینڈمیں ہی اپنی سائیکل اپنے کندھے پر اٹھا کر پھاٹک سے چھلانگیں لگاکر اسے کراس کرلیا,اس نے اس ٹرین کی بھی پرواہ نہیں کی,تھوڑے فاصلے پر شور مچاتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی.میں حیران رہ گیا اور سوچا کہ ضرور اس آدمی کو کسی بہت ضروری کام سے جانا ھے اس لیے اس نے اپنے کام کے مقابلے میں اپنی زندگی تک کو اہمیت نہ دی۔
میں نے سوچا کہ اپنے کام سے محبت کرنے والی وقت کی پابند بہادرقوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا,نہ ہی یہ لوگ کسی کے محتاج رہیں گے۔
انہی سوچوں میں گم جب میں شیرشاہ چوک پہنچا تو دیکھا کہ ایک مداری بندر نچارہا ھے اور وہ سائیکل والاشخص اپنی سائیکل کااسٹینڈکھڑا کرکے انتہائی بے فکری کے ساتھ بندر کا تماشہ دیکھ رہا ھے.
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921575591455082&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لڑکی بالغ تھی۔ من مرضی سے دوست چنا، معاملات اتنے آگے بڑھے کہ نوبت اسقاط حمل سے آگے موت تک جا پہنچی۔ اس حقیقی المیے کی ابتدا ہی غلط تھی۔ چونکہ غلط تھی لہذا اس جرم میں شریک لڑکا ، آپریشن ٹیبل پر پڑی اپنی ”ساتھی“ کی لاش چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ شوہر ہوتا تو نہ بھاگتا۔ یہ ”میراجسم میری مرضی“ والے اسی طرح بھاگ جاتے ہیں۔ اگر صاحبِ کردار ہوتا تو نہ بھاگتا۔ بزدل تھا ، بے ضمیر تھا ۔۔۔ فرار تو ہونا ہی تھا۔ اب سارے براٸلر لبرل خاموش ہیں۔ کوٸی بھی آگے بڑھ کر یہ کہتا یا لکھتا دکھاٸی نہیں دیا کہ بھٸی ۔۔۔ بھاگے کیوں؟ لڑکی نے ایک دن مرنا ہی تھا ، اسقاط حمل کے ”جہاد“ میں نہ مرتی تو کسی اور وجہ سے مر جاتی ۔۔۔ لیکن تم بھاگے کیوں؟ پتنگ اڑاتے وقت کتنے دعوے اور وعدے کیے ہونگے مگر جب پتنگ کٹ گٸی تو چرخی پھینک کر ہسپتال کی پتلی گلی سے چپکے سے نکل لیے۔
”میرا جسم میری مرضی“ والے آج خاموش ہیں کیونکہ مرنے والی ان میں سے کسی کی بہن یا بیٹی نہیں تھی ۔۔۔ اگر ہوتی بھی تو صرف اتنا ہی روتے کہ بھاگنے سے پہلے ہسپتال کے ڈیوز کیوں نہ دیے۔
اور اس لیے بھی خاموش ہیں کہ بھاگنے والا لڑکا نہ مولوی تھا ، نہ مٶذن اور نہ قاری ۔ شکر ھے اسلام بچ گیا ورنہ لاہور سے یورپ تک واویلا مچ جاتا۔

# تنولیات [ کاپی ]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923409611271680&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لمحہءفکریہ:

علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے پیرکرم شاہ بھیروی کے فوت ہونے کے بعدایک مضمون لکھا.اس مضمون میں واضح طورپریہ بات لکھی ہے کہ پیرکرم شاہ بھیروی صاحب نے اس بات کوتسلیم کیاکہ وہ "حسام الحرمین" میں اکابرِدیوبندپرلگائے گئے فتویٰ کفرسے متفق نہیں ہے.

میثم قادری
27.1.2021

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923448904601084&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیاست صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے.

اگر آپ سیاست کر رہے ہیں یا سیاست میں جانے کی سوچ رہے ہیں تو آپ کو ہندوستان کی تاریخ کے وہ طاقتور آندولن اور احتجاج دیکھنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے حکومتی تختے الٹ گئے یا پھر حکومتوں کو ان احتجاجوں کے آگے جھکنا پڑا ہے۔بڑے بڑے جابر، تانا شاہ بھی عوامی احتجاج کے آگے بے بس نظر آئے ہیں، سیاست میں عوام کے سامنے جو جتنا جھکنے کی صلاحیت رکھے گا وہ اتنی ہی دیر تک سیاست کی باگ ڈور بھی تھامے رکھنے میں کامیاب رہے گا۔سیاست نہ محبت چاہتی ہے اور نہ ہی عقیدت۔سیاست میں نہ رشتے ناطے کوئی اہمیت رکھتے ہیں، نہ ہی سالوں پر محیط خدمت، ہم سیاست میں باپ کو بیٹے کا ، بیٹے کو باپ کا ، بھائی کو بھائی کا ، ماں کو بیٹی کا اور بیٹی کو ماں اور بھائی کو بہن کا قتل کرتے ہوئے بارہا دیکھ چکے ہیں۔سیاست میں آپ اسی وقت تک اپنی پکڑ اور دبدبہ بنائے رکھ سکتے ہیں جب تک آپ سیاسی طاقت رکھتے ہیں۔جس دن آپ کی طاقت کم ہونے کا احساس آپ کے قریبی لوگوں کو ہوگا اسی دن وہ کوئی اور در تلاش لیں گے، بعض ایسے بھی ہونگے جو "گھر کے بھیدی بن کر آپ کی سیاسی لنکا کو ڈھانے کا کام کریں گے" سیاست ٹھیک اس مقولے کے الٹ ہے کہ "یک در گیر محکم گیر" یعنی ایک در مضبوطی سے تھامے رہو، یہاں مقولہ یوں ہو جاتا ہے "آں در گیر چو قوت گیر" وہ در پکڑو جو طاقت ور دیکھو۔
ماضی ہو یا حال، سیاسی "روشن مستقبل" کے لئے آپ کو اپنی طاقت اپنے اور بیگانے سبھی کو دکھاتے رہنے کی ضرورت ہے، ورنہ آپ کی صورت، آپ کی قوم، آپ کی خدمت، آپ کی طاقت، آپ کا دماغ، آپ کے تعلقات سیاسی لوگ استعمال تو خوب کریں گے، لیکن آپ اور آپ کی قوم کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا، بظاہر وہ آپ کو اپنا ہیرو کہیں گے، بھروسے مند کہیں گے، ہر جگہ آپ کو لے کر جائیں گے اور آپ کو اتنے بوجھوں تلے دبا دیں گے کہ آپ خود ہی کہیں گے کہ ابھی کچھ مانگنے کے لئے مناسب وقت نہیں ہے۔

یادوں کے جھروکوں سے۔

میں آپ کو بہت پیچھے لے کر نہیں جاؤں گا کہ جو لکھا جائے اسے سمجھنے کے لیے سیاسی کتابیں خریدنے یا گوگل کرنے کی ضرورت ہو، اگر آپ کو سیاست سے لگاؤ ہے یا آپ ہر روز اخبار دیکھتے ہیں تو آپ کی یادوں کے جھروکوں میں یہ چیزیں پہلے سے ہی اسٹور ہوں گی، بس انھیں دماغ کی اسکرین پر پلے کرنے کی ضرورت ہے.
گجرات میں ہاردک پٹیل کا پاپٹیدار احتجاج، جگنیش میوانی کا" چلو اونا" احتجاج، اور دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کے خلاف" انّا ہزارے" کا احتجاج، دہلی ہی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (. J. N. U) میں فیس بڑھائے جانے کو لے کر طلبہ کا احتجاج، ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کا احتجاج، راجستھان میں گوجروں ریزرویشن احتجاج، دہلی میں سی اے اے، این آر سی کو لے کر مشترکہ احتجاج، فی الحال دہلی بارڈر پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے، ان دھرنا پردرشنوں سے حکومت، ادارے کہیں جھکے ہیں اور کہیں بیک فٹ پر دیکھے گئے ہیں، کہیں انھیں احتجاج کی بنا پر حکومت چلی گئی تو کوئی کرسی پاگیا، مذکورہ احتجاجوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت عوامی طاقت کو ہی اہمیت دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان احتجاجات سے ہم نے کئی لیڈر پائے ہیں جیسے اروند کیجریوال، ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی، کنہیا کمار، چندر شیکھر آزاد وغیرہ وغیرہ________

احتجاج اچانک نہیں ہوتے، یہ کرائے جاتے ہیں یا کئے جاتے ہیں، کبھی حکومتیں کراتی ہیں تاکہ اغیار ان کی طاقت دیکھ سکیں، تو کبھی اپوزیشن سیاسی جماعتیں احتجاج کراتی ہیں کہ حکومت گرے اور ہم تخت نشیں ہوں، کبھی سیاسی جماعتیں نئے لیڈر تلاشنے، اور اپنی سیاسی زمین بچانے کے لیے بھی احتجاج کا سہارا لیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ احتجاجوں کی صدارت کرنے والے یا ان کی پہچان بننے والے افراد کو سیاسی پارٹیاں اپنی جماعت میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں، جیسے ہاردک پٹیل ،کنہیا کمار، جگنیش میوانی وغیرہ....

طاقت ہے تو کیش کرنا سیکھئے.

کہتے ہیں کل کس نے دیکھا ہے اور سیاست میں تو کسی نے پَل بھی نہیں دیکھا، ہر لمحہ نئی بساط بچھائی جاتی ہے اور ہر لمحہ شہ مات کا کھیل جاری رہتا ہے، چند منٹ پہلے وزیر کچھ نہیں ہوتا اور چند لمحوں بعد ہی "شاہ" مات کھا جاتا ہے، صحیح معنوں میں سیاست نپی تلی نظر رکھنے کے ساتھ بروقت حملہ کرنے ہی کا نام ہے، جو یہ سیکھ گیا وہ سیاست سیکھ گیا.... خیر آمدم برسر مطلب اگر آپ کے پاس سیاسی طاقت ہے تو پھر کیش کرنا ضروری ہے کیونکہ سیاست میں کب کیا ہوجائے بھروسہ نہیں، ایسے لوگ ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں جو اپنی طاقت کا استعمال کرتے رہتے ہیں ویسے تو بہت لیڈر ہوے ہیں لیکن ایک لیڈر جسے دنیا "رام ولاس پاسوان"( بانی لوک جن شکتی پارٹی) کے نام جانتی ہے، اس لیڈر کے پاس اتنی طاقت تو نہیں تھی کہ اکیلے اپنی قوم کی بنا پر حکومت بنا سکے، لیکن اس نے اپنی طاقت کو ہمیشہ کھرے داموں میں کیش کیا تھا،(آج وہ نہیں ہیں لیکن انکی سیاسی ہوشیاری کے سبھی قائل ہیں) حکومت کسی کی بنے، لیکن اپنی طاقت کی بنا پر وہ
سب حاصل کیا جو کوئی سیاسی آدمی چاہتا ہے، کیونکہ اس آدمی نے نہ کسی سے عقیدت دکھائی اور نہ ہی کسی سے محبت، جب موقع دیکھا چوکا ہی نہیں چھکا بھی ماردیا، اب ان لیڈروں کی بات کرتے ہیں جو وفاداری کی پُڑیا لیے گھومتے رہے اور آج "جیلوں" میں گھوم رہے ہیں یا پھر حاشیے پر ہیں اور اب کہیں جا بھی نہیں سکتے.
_سب سے پہلے ہم کشمیر سے" غلام نبی آزاد" کو لیتے ہیں جناب پہلے کانگریسی ہوے، پھر محنت کرکے پنجاب، بنگال جیسے علاقوں میں کانگریس کو پہنچایا، پارٹی ترقی کرتی گئی اور کشمیر تنزلی کا شکار ہوتا رہا، فیک انکاؤنٹر ہوتے رہے، کشمیری عوام خون کے آنسو روتی رہی اور آپ وفاداری ہی کرتے رہے، آرٹیکل 370 نافذ ہوگیا،موصوف کو کشمیر نہیں جانے دیا گیا ، محبوبہ مفتی، فاروق عبد اللہ جیل میں سڑتے رہے اور مسلم حمایتی سمجھی جانے والی پارٹی صحیح سے آواز بھی نہ اٹھا سکیں، سب بالاے طاق رکھتے ہوئے پارٹی کی ترقی کے لئے وفاداری کا جوش پھر چڑھا اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ ڈالا، کہ کچھ بدلاؤ ہونا چاہیے ورنہ اپوزیشن میں زندگی بھر بیٹھے رہیں گے، یہ پارٹی کو ہضم نہ ہوا اور اب پارٹی نے سائڈ لائن دکھا دی ہے __اسے ہی کہتے ہیں" گھر کا نہ گھاٹ کا" ...

_انڈین سیاست میں فی الحال سب سے زیادہ سرخیوں میں اتر پردیش کے سماجوادی لیڈر اعظم خان ہیں، اعظم خان وہ لیڈر ہیں جن کے کندھوں پر سوار ہوکر سماجوادی پارٹی کئی مرتبہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر پہنچی، دو چار ہزار اردو کی نوکریاں یا چار سو مدرسوں کو گرانٹ دینے کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اعظم خان صاحب کی ساری زندگی کی محنت یا بدلہ کہیں تو وہ جوہر یونیورسٹی ہے جسے اب سرکاری" تانڈَو" جھیلنا پڑ رہا ہے، اگر یہ چاہتے تو اپنی پارٹی بھی کھڑی کر سکتے تھے، اپنی طاقت کا احساس کراتے تو نائب وزیر اعلیٰ بھی بن سکتے تھے، اعظم خان اتنے طاقت ور تھے کہ کبھی بھی سماجوادی پارٹی کی سرکار گرا سکتے تھے، مگر ایسا نہیں ہوا اور نو بار کے ودھایک،ایک بار راجیہ سبھا ممبر اور فی الحال لوک سبھا کے ممبر ہونے کے باوجود آج ایک سال سے جیل میں ہیں، جو کیس لگائے گئے ہیں، وہ اس بڑے لیڈر کی کھلی بے عزتی ہے، جیسے بکری چوری، مرغی چوری، بھینس چوری وغیرہ وغیرہ.... اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو خبر بھی نہیں لے رہے ہیں، اب جب اویسی صاحب کی ملاقات کی خبر عام ہوئی تو وہی کانگریس جس نے اسی یونیورسٹی کی منظوری کو سالوں لٹکائے رکھا اور منظوری دینے والے گورنر صاحب کو اپنا عہدہ گنوانا پڑا، آج اظہار عقیدت کر رہی ہے، اور یہی سماجوادی پارٹی بھی کر رہی ہے،یعنی دونوں پارٹیاں اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اے کاش! خان صاحب اپنی طاقت دکھاتے یا دکھا دیں تو سماجوادیوں کا وزیر اعلیٰ بننے کا خواب خواب خرگوش ہو سکتا ہے.....

__
سماجوادی پارٹی ہی ایک اور نیتا عتیق احمد الہ آبادی بھی سالوں سے جیل میں ہیں اور بی ایس پی سپریمو مایاوتی جن مختار انصاری کے کندھوں پر سوار ہوکر فرش سے عرش پر پہنچیں، آج وہ بھی کئی سالوں سے جیل میں ہیں، مایاوتی ہی کے دست راست کہے جانے والے "نسیم الدین صدیقی" جنھوں نے پارٹی اور مایاوتی کی عقیدت کے چلتے اپنی بیٹی کی تدفین تک میں شرکت نہ کی، آج وہ بھی سلاخوں میں ہیں، سیوان، بہار سے شہاب الدین کے کندھوں پر سوار ہوکر لالو پرساد یادو "ستّا سُکھ" بھوگ چکے ہیں، وہ شہاب الدین بھی سالوں سے جیل کی ہوا کھارہے ہیں، گجرات کے احسان جعفری، اور گجرات ہی سے کانگریس کے" چانکیہ" کہے جانے والے احمد پٹیل، قوم کو کچھ نہ دے سکے، ان سبھی لیڈروں نے اگر بے جا وفاداری نہ دکھائی ہوتی اپنا اور قوم کا بھلا کیا ہوتا تو آج ہر دل عزیز ہوتے، اور رام ولاس پاسوان کی طرح ہی مزے میں ہوتے، عام آدمی پارٹی کے امانت اللہ خان کی برطرفی اور دہلی دنگوں کو بیلنس کرنے کے لیے انکی واپسی بھی اسی کیٹیگری میں رکھئے،لسٹ تو بڑی لمبی ہے لیکن سمجھنے کے لیے یہی نام کافی ہوں گے ......
بھارتی سیاست میں ہم نے کانگریس، شو سینا، جدیو اور بی جے پی، سماجوادی اور بی جے پی، جنتا دل اور بی جے پی، کانگریس اور بی جے پی، بی ایس پی اور بی جے پی جیسے اتحاد دیکھے ہیں، اور یہ سب اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے ہوے، لیکن مسلم لیڈران پارٹیوں کے ہر فیصلے پر اپنی پارٹیوں کے ساتھ کھڑے رہے اور مسلمانوں کی جلتی لاشیں، لٹتی عزتیں، راکھ میں تبدیل ہوتے مکانات، تباہ ہوتی جائدادیں، گرتی ہوئی مسجدیں، لٹتے ہوے کارواں دیکھتے رہے مگر بے جا وفاداری پر آنچ نہیں آنے دی!
پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں!

خلاصہ
میرا ماننا ہے کہ اگر آپ کسی پارٹی، سیاسی لیڈر سے وابستہ ہیں اور زمینی کام نہیں کرنا چاہتے، اور آپ کی ذات سے پارٹی کو بہت فائدہ نہیں ہے، آپ انکے ساتھ کام سے روزی کمانا چاہتے ہیں تو کوئی بات نہیں، لیکن اگر پارٹی، سیاسی لیڈر کو آپ سے بہت فائدہ ہے تو آپ کا ایک پَیر ہمیشہ پاجامے میں رہنا چاہیے، جب آپ کو
محسوس ہو کہ پارٹی ہماری محنت کے مطابق عہدہ، یا صلہ نہیں دے رہی ہے فوراً انھیں احساس کرائیے کہ آپ سے فائدہ تبھی ممکن ہے جب ہمارا یا ہمارے سماج کا فائدہ ہو، ورنہ دوسرا در بھی ہے، سیاسی لوگ اپنے لوگوں کے سامنے اتنی پریشانیاں سناتے ہیں کہ بندہ خود کچھ نہ کہے، ایسی صورت میں ان ہوشیار لوگوں کو غور سے دیکھیں اگر انکے اور انکی قوم کے کام ہو رہے ہیں تو آپ اپنا مطالبہ بھی رکھ دیں، نہ سننے، یا سمجھانے کی صورت میں آپشن B پر عمل کریں، یا ایسے وقت پر پالا بدلیں کہ آپ کو بے وقوف بنانے کی قیمت سود سمیت موصوف کو ادا کرنا پڑے.....

سیاسی لوگوں کا ایک حربہ اور ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے زمانے میں آپ کو مطلوبہ عہدہ یا شئے نہیں دیتے، جب ایک ڈیڑھ سال کا اقتدار بچتا ہے تب وہ آپ کو مطلوبہ چیز دے دیتے ہیں اور پھر سرکاری کام، آپ جانتے ہی ہیں.... تو یہ ایک ڈیڑھ سال کا زمانہ اپروول یا سرکاری دفاتر کے چکر لگانے میں ہی نکل جاتا ہے، اب آپ اس لیے ساتھ دیتے ہیں کہ حکومت آئی یا یہ بندہ کامیاب ہوا تو ہمارا رکا ہوا کام پورا ہوجائے گا، لیکن کون جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا؟ اور آپ رہ جاتے ہیں، خوش قسمتی سے آپ کی پارٹی یا لیڈر کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو آپ کو اپنا پچھلا کام کراتے ہوے اقتدار کا آدھا زمانہ گزر جاتا ہے، ظاہر ہے آپ تب تک خاموش رہیں گے، اور اگر دوسرا کام چاہیں گے تو کہہ دیا جائے گا بھئی ایک تو پورا کرو، پھر آنا، اور پھر جب آپ جائیں گے تو کہیں گے ارے رکیے صاحب! سارے کام تو ہمارے نہیں ہوتے اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے سارے کام ہوجائیں، ہر چیز تھوڑی ہو سکتی ہے، چلئے پھر دیکھیں گے، نیتا جی کے اتنا کہنے کے بعد آپ خود ہی انکے پاس نہیں جائیں گے، اور پھر اخیر وقت میں آپ کو بلاکر پوچھیں گے اچھا وہ آپ نے ایک کام کے لیے کہا تھا، اب اسے دیکھ لیتے ہیں اور پھر وہی ڈرامہ شروع ہوجاتا ہے....

اس لیے سیاست میں آپ کو صرف فائدہ دیکھنا ہے کہ کیسے ملتا ہے، یہ آپ پر منحصر ہے موقع دیکھتے ہی چوکا مارنا جانتے ہیں تو پھر سیاست کریے، ورنہ صرف غلامی ہوگی سیاست نہیں، ہاں! آپ اسے "نام" جو چاہیں دے سکتے ہیں.

محمد زاہد علی مرکزی (کالپی شریف)
رکن :روشن مستقبل دہلی
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ

28 جنوری 2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/855090501728136/